Baaghi TV

Tag: برطانوی حکومت

  • برطانیہ ،سیاسی پناہ گزینوں کے ٹیکسی استعمال پر پابندی کا فیصلہ

    برطانیہ ،سیاسی پناہ گزینوں کے ٹیکسی استعمال پر پابندی کا فیصلہ

    برطانوی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فروری سے سیاسی پناہ گزین میڈیکل اپوائنٹمنٹ کے لیے ٹیکسی استعمال نہیں کرسکیں گے۔

    تحقیقات میں سامنے آیا کہ کچھ پناہ گزین طویل فاصلے طے کرنے کے لیے بھی ٹیکسی استعمال کر رہے ہیں۔ ایک کیس میں پناہ گزین نے ڈاکٹر سے ملاقات کے لیے 250 میل کا ٹیکسی سفر کیا جس پر ہوم آفس کو 600 پاؤنڈ ادا کرنا پڑے۔حکومت کے مطابق پناہ گزینوں کی ٹرانسپورٹ سہولت پر سالانہ 15.8 ملین پاؤنڈ خرچ ہو رہے ہیں، جس کے باعث اس نظام میں تبدیلی ضروری ہو گئی ہے۔ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے بتایا کہ اب پناہ گزین صرف غیرمعمولی حالات میں ٹیکسی استعمال کرسکیں گے۔ البتہ معذور افراد، حاملہ خواتین اور دائمی امراض میں مبتلا پناہ گزین اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کے لیے استعمال ہونے والے ہوٹلز کو بھی بند کرنے کی پالیسی جاری ہے

    فلسطینیوں سے یکجہتی کا عالمی دن، غزہ میں سوگ، کارروائیاں ناقابلِ قبول

    بنگلہ دیش،خالدہ ضیا کے علاج پر فیصلہ میڈیکل رپورٹ سے مشروط

    غزہ میں شہادتیں70 ہزار سے تجاوز ، بیشتر لاشیں ملبے سے برآمد

    چمن اور گردونواح میں 3.6 شدت کا زلزلہ

  • برطانیہ میں تنخواہوں میں بڑا اضافہ، آئندہ اپریل سے نیا اسکیل نافذ

    برطانیہ میں تنخواہوں میں بڑا اضافہ، آئندہ اپریل سے نیا اسکیل نافذ

    برطانوی حکومت نے ملک بھر میں تنخواہوں میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کا اطلاق آئندہ برس اپریل سے ہوگا۔

    حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد کم آمدنی والے افراد کی اجرت کو بڑھتی مہنگائی اور اوسط آمدنی کے معیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔رائٹرز کے مطابق اکیس سال اور اس سے زائد عمر کے ملازمین کی کم از کم فی گھنٹہ اجرت 4.1 فیصد اضافے کے بعد 12.71 پاؤنڈ مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح 18 سے 20 سال کے ورکرز کی اجرت 8.5 فیصد بڑھا کر 10.85 پاؤنڈ فی گھنٹہ جبکہ 16 اور 17 سالہ نوجوان کارکنوں کی تنخواہ 6 فیصد اضافے کے بعد 8 پاؤنڈ فی گھنٹہ کردی گئی ہے۔ اس اقدام سے 24 لاکھ سے زائد بالغ ملازمین اور تقریباً 3 لاکھ نوجوان ورکرز اور اپرنٹس مستفید ہوں گے۔

    فنانس منسٹر ریچل ریوِز کا کہنا ہے کہ کم آمدنی والے افراد کو ان کی محنت کے مطابق معاوضہ ملنا ضروری ہے، اسی لیے اجرت میں اضافہ وقت کی ناگزیر ضرورت تھا۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 2019 سے اب تک ملک میں کم از کم اجرت 60 فیصد سے زیادہ بڑھائی جا چکی ہے، تاکہ اسے اوسط قومی آمدنی کے قریب لایا جا سکے۔

    دوسری جانب برطانیہ کی ہوٹل اور ریستوران کی صنعت نے اس فیصلے پر اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کاروبار پہلے ہی بڑھتے اخراجات سے نبردآزما ہیں اور اجرت میں مزید اضافہ صارفین کے لیے مہنگائی کا باعث بن سکتا ہے۔ کچھ صنعت کاروں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ نوجوان اور کم تجربہ کار ملازمین کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔

    پشاور میں گیس پائپ لائن دھماکے سے آگ بھڑک اٹھی

    بھارتی ہراسانی سے تنگ کشمیری شہری کی خودسوزی، خاندان انصاف کا متقاضی

    اگلے احتجاج میں اجتماعی دم و استخارہ ہوگا، شیر افضل مروت کا انکشاف

  • برطانیہ میں غیر قانونی مہاجرین کی ریکارڈ آمد، حکومتی اقدامات ناکام

    برطانیہ میں غیر قانونی مہاجرین کی ریکارڈ آمد، حکومتی اقدامات ناکام

    برطانوی حکومت تمام تر سخت اقدامات کے باوجود غیر قانونی مہاجرین کی آمد روکنے میں ناکام ہو گئی ہے، صرف ایک روز میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سب سے زیادہ مہاجرین برطانیہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

    برطانوی ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین دنوں میں 23 کشتیوں کے ذریعے تقریباً 1659 تارکینِ وطن برطانوی ساحلوں پر پہنچے، جن میں سے صرف بدھ کے روز ایک ہزار سے زائد افراد نے انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ میں داخلہ حاصل کیا۔اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک 36 ہزار سے زیادہ غیر قانونی مہاجرین برطانیہ پہنچ چکے ہیں، جب کہ حکومت کی "ون اِن، ون آؤٹ” پالیسی بھی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔

    یہ بھی بتایا گیا کہ لیبر پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک تقریباً 59 ہزار غیر قانونی مہاجرین برطانیہ میں داخل ہو چکے ہیں، جس سے حکومت کی مہاجرین کے بحران پر قابو پانے کی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھنے لگے.

    کراچی میں افغان کیمپ کی زمین پر قبضے کا خدشہ،پولیس چیف کو خط

    کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں اور ٹینک تباہ، اہم کمانڈر ہلاک

    سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.4 ریکارڈ

    پاکستان اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب

  • برطانیہ: کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، یویٹی کوپر وزیر خارجہ مقرر

    برطانیہ: کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، یویٹی کوپر وزیر خارجہ مقرر

    برطانوی حکومت نے کابینہ میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں، جس کے تحت موجودہ وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کو وزیر انصاف اور نائب وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا ہے۔

    ڈاؤننگ اسٹریٹ کے اعلامیے کے مطابق یویٹی کوپر برطانیہ کی نئی وزیر خارجہ ہوں گی، جبکہ شبانہ محمود کو وزیر داخلہ اور اسٹیو ریڈ کو وزیر ہاؤسنگ مقرر کیا گیا ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ پیٹ میک فیڈن کو ورک اینڈ پنشن کا وزیر اور پیٹر کائل کو وزیر تجارت بنایا گیا ہے۔ اسی طرح لز کینڈل وزیر سائنس، جبکہ ایما رینولڈز وزیر ماحولیات و زراعت مقرر ہوئی ہیں۔

    مزید برآں ڈگلس الیگزینڈر کو وزیر برائے اسکاٹ لینڈ، جوناتھن رینالڈز کو چیف وہپ، ڈیرن جونز کو برطانوی کابینہ آفس کا وزیر اور ایلن کیمبل کو ہاؤس آف کامنز کا لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔

    بلاول بھٹو کا وزیراعظم سے رابطہ، کسانوں کے لیے ریلیف کا مطالبہ

    12 ربیع الاول پر قیدیوں کی سزاؤں میں 100 دن کمی کی سفارش

    سہ ملکی ٹی20 سیریز: افغانستان نے یو اے ای کو 171 رنز کا ہدف دے دیا

    سہ ملکی ٹی20 سیریز: افغانستان نے یو اے ای کو 171 رنز کا ہدف دے دیا

  • برطانیہ میں غیرقانونی پناہ گزینوں کا کریک ڈاؤن، متعدد فوڈ رائیڈرز گرفتار

    برطانیہ میں غیرقانونی پناہ گزینوں کا کریک ڈاؤن، متعدد فوڈ رائیڈرز گرفتار

    برطانوی حکومت نے سمندر کے ذریعے یا دیگر غیر قانونی طریقے سے آنے والے پناہ گزینوں کو روکنے کیلئے فوڈ رائیڈرز کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے بڑا کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے، برطانیہ بھر میں سینکڑوں گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

    20 سے 27 جولائی کے درمیان مجموعی طور پر 1,780 افراد کو روکا گیا اور ان سے مشتبہ غیر قانونی کام کی سرگرمیوں سے بات کی گئی،اس کے نتیجے میں شمال مغربی لندن میں ہلنگڈن، سکاٹ لینڈ میں ڈمفریز اور برمنگھم سمیت علاقوں میں،تقریباً 280افراد کو گرفتار کیا گیا ،ان میں سے تقریباً 89 کو ملک سے نکالے جانے کے التوا میں حراست میں لیا گیا ہے اور 53 اب ان کی سیاسی پناہ کی حمایت کا جائزہ لے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی حمایت کو معطل یا واپس لیا جا سکتا ہے۔

    ہوم آفس نے آپریشن کو "ملک گیر شدت کے ہفتہ” کے طور پر بیان کیا ہے جس میں غیر قانونی کام کرنے والے ہاٹ سپاٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں گیگ اکانومی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جہاں کام مختصر مدت یا ملازمت کے حساب سے تفویض کیا جاتا ہے،امیگریشن انفورسمنٹ ٹیموں کو بارڈر سیکیورٹی کے لیے پہلے سے اعلان کردہ £100m کی فنڈنگ سے £5m ملیں گے، جس کا مقصد آنے والے مہینوں میں ان علاقوں میں افسران کے دوروں میں اضافہ کرنا ہے۔

    برطانیہ میں سزا یافتہ غیر ملکی مجرموں کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کافیصلہ

    برطانوی ہوم آفس نےایک اہم بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بڑی فوڈ ڈلیوری کمپنیز میں رائیڈرز جعلی ناموں یا دوسروں کے اکاؤنٹس استعمال کرکے کام کررہے ہیں، اس سلسلے میں برطانیہ میں پناہ کے متلاشی (اسائلم سیکرز) اور دیگر غیر ملکیوں کا ڈیٹا ان فوڈ کمپنیوں کو فراہم کیا جائے گا تاکہ اس سلسلے کو روکا جاسکے۔

    رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے ایسے غیر ملکیوں افراد کیخلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے جو غیر قانونی طور پر جعلی اکاؤنٹس سے فوڈ ڈلیوری کا کام کررہے ہیں،اس سلسلے میں پولیس نے بڑے پیمانے پر شہر میں گشت کرنے والے فوڈ ڈلیوری رائیڈرز کو چیک کیا اور شناخت کے بعد انہیں گرفتار کرکے قانونی کارروائی شروع کردی،جن میں سیاسی پناہ کے خواہشمند اور غیر قانونی امیگریشن کے ذریعے ملک میں داخل ہونے والے ملزمان بھی شامل ہیں۔

    لندن : فلسطین کے حق میں مظاہرہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار

    امیگریشن حکام تمام صنعتوں پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں تاہم اس بارانہوں نے زیادہ تر ریسٹورنٹ، ٹیک وے، کیفے اور کھانے پینے کے کاروبار کو نشانہ بنایا جو لوگوں کو غیر قانونی طور پر ملازمت دیتے تھے۔

  • 9 مئی مقدمات میں شہریوں کی سزاؤں پربرطانیہ کاردعمل آگیا

    9 مئی مقدمات میں شہریوں کی سزاؤں پربرطانیہ کاردعمل آگیا

    برطانوی حکومت نے پاکستان میں فوجی عدالتوں سے25 شہریوں کو سزاؤں پر اپنا ردعمل جاری کردیا۔

    غیر ملکی خبرساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کی کارروائی سے شہریوں کے منصفانہ ٹرائل کے حق کو نقصان پہنچتا ہے، حکومت پاکستان شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کو نبھائے۔برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ اپنی قانونی کارروائیوں پر پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت، آزادانہ جانچ پڑتال کا فقدان ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل یورپی یونین نے 25 شہریوں کی فوجی عدالتوں سے سزاؤں پر ردعمل دیتے ہوئے اسے انصاف کے منافی قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا۔یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ شہریوں کی سزاؤں کے یہ فیصلے پاکستان کی شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) سے متصادم ہیں، جسے پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت تسلیم کرچکا ہے۔یورپی یونین کا کہنا تھا کہ آئی سی سی پی آر کے آرٹیکل 14 کے تحت ہر فرد کو منصفانہ اور عوامی مقدمے کی سماعت کا حق حاصل ہے، جس میں آزاد، غیر جانبدار اور اہل شامل ہیں۔مزید برآں، آرٹیکل 14 میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ فوجداری مقدمات کے فیصلے عوامی سطح پر دیے جائیں گے۔

    کراچی کو ٹینکروں کے ذریعے نہیں نلکوں میں پانی دیا جائے ، منعم ظفر خان

    چینی قونصلیٹ لاہور کے زیر اہتمام فرینڈشپ ایوارڈ تقریب 2024 کا انعقاد

    کراچی: رواں سال ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جاری

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

    ایف بی آر کی نئی پاسورڈ پالیسی جاری

    عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

  • برطانیہ کااسرائیلی وزیر خزانہ ،وزیر قومی سلامتی پر پابندیاں لگانے پر غور

    برطانیہ کااسرائیلی وزیر خزانہ ،وزیر قومی سلامتی پر پابندیاں لگانے پر غور

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزرا اِتمیر بین گور اور بیزالل اسموترچ کے خلاف پابندیوں پر غور کررہی ہے۔

    خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا حکومت اسرائیلی وزرا پر پابندیاں لگائے گی؟ کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’ہم اس پر غور کررہے ہیں کیونکہ مغربی کنارے میں انتہائی تشویشناک سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ صریحاً مکروہ بیانات دیے گئے ہیں۔‘اسرائیل کے وزیر قومی سلامتی اِتامیر بین گور اور وزیر خزانہ بیزالل اسموترچ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے قیام کے پر زور حامی ہیں جو کہ عالمی قانون کے تحت غیرقانونی اقدام ہے۔اسرائیلی وزیر خزانہ یہ تجویز دیکر بھی عالمی تنقید کی زد میں آچکے ہیں کہ فلسطین میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کو آزاد کرانے کیلیے غزہ کے 20 لاکھ باشندوں کو بھوک سے مارنا بھی جائز ہوگا۔

    اس سے قبل رواں ہفتے سابق برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے انکشاف کیا تھاکہ سابق قدامت پسند حکومت انتہاپسند سیاستدانوں پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کررہی تھی۔لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے کیئر اسٹارمر کی حکومت منگل کو پہلے ہی اسرائیلی آباد کاروں کی 7چوکیوں اور تنظیموں پر پابندی عائد کرچکی ہے۔گزشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے مغبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی آبادکاروں اور صہیونی فوج کے حملے بڑھ گئے ہیں۔ْبرطانوی وزیراعظم نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ’ انسانی جانوں کا ضیاع روکنے اور غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد پہنچانے کیلیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانا ہوں۔’

    دریں اثنا برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اعلان کیا ہے کہ شمالی غزہ میں 2 ہفتے سے کسی قسم کی خوراک داخل نہ ہونے کی اطلاعات پر برطانیہ، فرانس اور الجیریا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

    فرانس نے اسرائیلی کمپنیوں کو دفاعی نمائش میں شرکت سے روک دیا

    ادھر 2 باخبر ذرائع کا کا کہنا ہے کہ فرانس نے عنقریب منعقد ہونے والے ملٹری نیول ٹریڈ شو میں اسرائیلی کمپنیوں کی شرکت پر پابندی عائد کردی ہے، تازہ ترین پیش رفت دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے کشیدہ تعلقات کی نشاندہی کرتی ہے۔پیرس نے پہلے ہی رواں برس اسرائیلی کمپنیوں کی ملٹری ٹریڈ شو میں شرکت پر پابندی عائد کردی تھی۔ فرانسیسی وزارت دفاع نے اس وقت کہا تھا کہ صدر ایمانیول میکرون کی جانب سے اسرائیل سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیے جانے کے بعد کمپنیوں کیلیے حالات مناسب نہیں رہے ہیں۔وزارت دفاع، وزیر خارجہ ، اسرائیلی سفارتخانے اور 4 سے 7نومبر تک جاری رہنے والی سالانہ بحری نمائش کو منعقد کرنے والی تنظیم یورو نیول نے تبصروں کی درخواستوں پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔برطانوی اور اسرائیلی وزرائے اعظم کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا ہے جب حالیہ ہفتوں میں پیرس نے واشنگٹن کے ساتھ مل کر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 21 روزہ جنگ بندی کو بچانے کیلیے کوششوں کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد طویل مدتی سفارتی حل کیلیے بات چیت کے دروازے کھولنا تھا۔

    جس وقت فرانس اور امریکا یہ سمجھ رہے تھے کہ اسرائیل شرائط پر رضامند ہے، اس نے اگلے روز حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ پر میزائل حملے کرکے انہیں حیرت میں مبتلا کردیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کا کوئی امکان نہیں ہے، پیرس نے لڑائی بند ہونے کے بعد سفارتی حل کے لیے پیرامیٹرز طے کرنے کی کوشش پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔دریں اثنا صدر میکرون نے حالیہ ہفتوں میں کئی مرتبہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اور ان کی حکومت کو ناراض کیا ہے، خاص طور پر جب جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج اسرائیل کراس فائرنگ کی زد آئی تو انہوں نے اسرائیل کو غزہ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔فرانسیسی حکام کے مطابق منگل کو فرانسیسی صدر نے کابینہ سے خطاب میں کہا کہ نتن یاہو کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے ملک کا قیام اقوام متحدہ کے فیصلے کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے، فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل بیروٹ نے بیان کی شدت کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ یہ عام تبصرہ تھا جس کا مقصد اسرائیل کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام کی اہمیت کو یاد دلانا تھا۔

    فرانسیسی صدر کے بیان کے جواب میں نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں فرانسیسی حکوت کے نازی جرمنی سے اشتراک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’اسرائیل کا قیام ہمارے ہیروز کے خون سے لڑی گئی جنگ آزادی کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا، جن میں سے بہت سے ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے تھے جس میں فرانس کی ویچی حکومت بھی ملوث تھی۔‘دو سفارت کاروں کہنا ہے کہ حالیہ بیانات لبنان میں ثالثی کی فرانسیسی کوششوں کیلیے مددگار ثابت نہیں ہوگے، جوکہ آئندہ ہفتے پیرس میں ایک کانفرنس کی میزبانی کرنے جارہا ہے۔نیتن یاہو نے پیرس کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس پر جنوبی افریقہ اور الجزائر کو کیا ہے مدعو کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جو ان کے مطابق ’اسرائیل کو اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم کرنے کیلیے کوشاں ہیں اور حقیقت میں اس کے وجود کے حق کو ہی مسترد کرتے ہیں۔‘

    دوست آن لائن ہیں؟ اب تھریڈز پر یہ جاننا ممکن

    مراد علی شاہ سے اطالوی سفیر کی ملاقات، سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق

    معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

  • برطانوی حکومت کی اپنے شہریوں کیلئے پاکستان میں سفرکےبارے میں نئی ہدایات جاری

    برطانوی حکومت کی اپنے شہریوں کیلئے پاکستان میں سفرکےبارے میں نئی ہدایات جاری

    برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کے لیے پاکستان میں سفر کے بارے میں نئی ہدایات جاری کر دیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی حکومت کیجانب سے اپنے شہریوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ پاکستان میں دہشت گردحملوں کاخطرہ ہےصوبہ خیبرپختونخوا میں باجوڑ، مہمند، خیبر،اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اورجنوبی وزیرستان کے اضلاع کا سفر نہ کریں۔

    ہدایات کے مطابق چارسدہ، کوہاٹ، ٹانک، بنوں، لکی، ڈیرا اسماعیل خان، سوات، بونیر اور لوئر دیر کے اضلاع کے سفر سے بھی گریز کا کہا گیا ہے، جب کہ پشاور شہر اور ضلع مردان رنگ روڈ کے شمال سے ضلع چترال کے کنارے تک N45 روڈ پر سفر سے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔

    ترکیہ نےسویڈن کی نیٹو رکنیت کیلئےحمایت کر دی

    حکومتِ برطانیہ کا کہنا ہے کہ شہری پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے جنوبی ساحل کے علاوہ کسی علاقے میں نہ جائیں پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہے، اس حوالے سے برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کو سیاسی مظاہروں سے دور رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ ہےکچھ سیاسی مظاہروں میں مغرب مخالف جذبات موجود ہیں اسلام آباد، لاہور، کراچی میں دہشت گردی، اغواء، فرقہ وارانہ تشدد کا خطرہ ہے، علاوہ ازیں برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کو شدید گرمی سے بھی خبردار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

    دبئی میں ہونےوالی مشاورت میں پی ڈی ایم کےسربراہ کو کیوں دوررکھا گیا؟ حافظ حمداللہ

  • برطانوی حکومت کا 90 ہزار سرکاری ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے پر غور

    برطانوی حکومت کا 90 ہزار سرکاری ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے پر غور

    برطانوی حکومت اخراجات میں کمی لانے کے لیے 90 ہزار سرکاری ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے پر غور کر رہی ہے-

    باغی ٹی وی : ” دی گارجئین” کے مطابق اس سلسلے میں برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی کابینہ کے وزرا کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں بورس جانسن نے وزرا سے کہا ہے کہ وہ مختلف محکموں سے ملازمین کی تعداد میں کمی لائیں۔

    بورس جانسن کا کہنا کہ ملازمین کی تعداد میں کمی سے حکومتی اخراجات میں واضح کمی آئے گی اور اس سے بچنے والا پیسہ عوام کی فلاح و بہبہود کے لیے خرچ کیا جائے گا۔

    برطانوی وزیراعظم نے کابینہ سے کہا ہے کہ وہ ملازمین کی تعداد میں کمی لانے کیلئے تجاویز ایک ماہ میں پیش کریں سرکاری اخراجات میں کمی لا کر معیارِ زندگی کی بڑھتی قیمتوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    بورس جانسن نے کہا کہ ٹیکس دہندگان سے وصول کیا گیا ہر پائونڈ ترجیحی طور پر عوام پر خرچ کرنا ضروری ہے۔

    عمران خان کے آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے پر عملدرآمد کے پابند ہیں،مفتاح اسماعیل

    ” دی گارجئین ” کے مطابق انہوں نے ڈیلی میل کو بتایا کہ میں زندگی گزارنے کی لاگت کو کم کرنے کے لیے حکومت کی لاگت میں کمی کرنی ہوگی انہوں نے مستقبل میں ٹیکسوں میں کٹوتیوں کا اشارہ دیتے ہوئے تجویز کیا کہ سرکاری ملازمین کی تعداد کو کم کرنے سے بچائے گئے اربوں سے ایسے اقدامات کو فنڈ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس دہندگان سے ہر پاؤنڈ پہلے سے نکالتی ہے وہ رقم ہے جسے وہ اپنی ترجیحات، اپنی زندگیوں پر خرچ کر سکتے ہیں۔

    جانسن نے وزراء کو حکم دیا کہ وہ آنے والے سالوں میں 2016 کے سرکاری ملازمین کی تعداد واپس کریں، عملہ تقریباً 25 فیصد بڑھ کر 475,000 کل وقتی مساوی ملازمتوں تک پہنچ گیا ہے وزراء کے پاس ایک ماہ کا وقت ہوگا کہ وہ اپنے محکموں میں اس کو کیسے حاصل کریں گے اس کے لیے تجاویز پیش کریں۔

    صورت حال انتہائی خطرناک ہوتی جا رہی ہے،اسد عمر

    ایک حکومتی ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم اور وزراء واضح ہیں کہ سول سروس عوام کے لیے ایک شاندار کام کرتی ہے اور حکومت کی ترجیحات میں پیشرفت کو آگے بڑھاتی ہے لیکن جب ملک بھر میں لوگوں اور کاروباری اداروں کو بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے، عوام بجا طور پر توقع کرتے ہیں کہ ان کی حکومت مثال کے طور پر رہنمائی کرے گی اور ہر ممکن حد تک مؤثر طریقے سے چلائے گی۔

    عمران خان کی فول پروف سیکیورٹی دی جائے،شہباز گل نے سیکرٹری داخلہ کو خط لکھ دیا

  • سیکیورٹی کیوں نہیں دی،شہزادہ ہیری برطانوی حکومت کیخلاف عدالت پہنچ گئے

    سیکیورٹی کیوں نہیں دی،شہزادہ ہیری برطانوی حکومت کیخلاف عدالت پہنچ گئے

    برطانیہ: شاہی خاندان کو چھوڑ کر امریکہ منتقل ہونے والے شہزادہ ہیری نے برطانوی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی فراہم نہ کرنے پرعدالت سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی :برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادہ ہیری برطانوی حکومت کی طرف سے سیکورٹی فراہم نہ کرنے کے خلاف عدالت پہنچ گئے شہزادہ ہیری نے سیکورٹی کے اخراجات خود ادا کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن اس کے باوجود برطانوی حکومت نے سیکورٹی فراہم کرنے سے انکارکردیا۔

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ امریکا سے اپنے آبائی ملک انگلینڈ جانا چاہتے ہیں لیکن ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے شہزادہ ہیری کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ہیری اپنے سکیورٹی انتظامات کے اخراجات خود اٹھا نا چاہتے ہیں امریکا میں شہزادہ کی نجی سکیورٹی ٹیم کے پاس بیرون ملک مناسب دائرہ اختیار نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس برطانیہ کی انٹیلی جنس معلومات تک رسائی ہے۔

    بریکنگ، ابوظہبی ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے

    نمائندے کے مطابق ایک عدالتی نظرثانی کا دعویٰ ستمبر میں دائر کیا گیا تھا تاکہ برطانوی حکومت کے سکیورٹی کے طریقہ کار کے پیچھے فیصلہ سازی کو چیلنج کیا جا سکے جولائی میں برطانیہ کے ایک مختصر دورے کے دوران ہیری کی سکیورٹی پر پولیس کی عدم موجودگی کی وجہ سے سمجھوتہ کیا گیا جس کی وجہ سے ایک پروگرام سے نکلتے وقت کئی فوٹوگرافرز نے ان کا تعاقب کیا تھا تاہم اب سکیورٹی کے بغیر شہزادہ ہیری اور ان کے اہل خانہ برطانیہ نہیں جاسکتے۔

    یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو یرغمال بنانےکا واقعہ دہشتگردی ہے:امریکی صدر

    دوسری جانب برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ شہزادہ کی سکیورٹی سخت دوسری جانب برطانوی حکومت کا موقف ہے کہ شہزادہ ہیری کی سکیورٹی سخت اور مناسب ہے تاہم شہزادہ ہیری کی سیکورٹی کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔

    واضح رہے کہ شہزادہ ہیری شاہی خاندان چھوڑکرامریکا منتقل ہوگئے ہیں شہزادہ ہیری 2020 میں شاہی فرائض سے دستبردار ہوگئے تھے اوراس کے بعد سے انہیں پولیس سیکورٹی نہیں دی گئی ہے۔

    نوواک جوکووچ کی ویزا بحال کرنے کی اپیل مسترد،عدالت کا ٹینس اسٹار کو ڈی پورٹ کرنے…