Baaghi TV

Tag: برطانوی شاہی خاندان

  • بس ہوگئی ،شہزادہ ہیری شاہی خاندان سے صلح کے خواہشمند

    بس ہوگئی ،شہزادہ ہیری شاہی خاندان سے صلح کے خواہشمند

    ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری دوبارہ برطانوی شاہی خاندان کا حصہ بننے کے لیے تیار ہوچکے ہیں.

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی شہر کیلفورنیا میں شہزادے ہیری نے کہا کہ وہ برطانیہ سیکورٹی ایشوز کے حوالے سے کیس کو ہار چکے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ جو اختلافات ان کے اپنے خاندان سے رہے ہیں وہ ختم ہونے چاہیں ،انہوں نے کہا، "میرے اور میرے خاندان کے کچھ لوگوں کے درمیان بہت سے اختلافات رہے ہیں، لیکن اب میں نے انہیں "معاف” کر دیا ہے۔

    شہزادہ ہیری نے کہا ہے کہ "میں اپنے خاندان کے ساتھ صلح کرنے کو پسند کروں گا۔ مزید لڑائی جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، زندگی قیمتی ہے،”اس حفاظتی سامان کی وجہ سے مجھ سے بات نہیں کریں گے”، لیکن یہ کہ وہ مزید لڑنا نہیں چاہتے اور وہ نہیں جانتے کہ میرے والد کو کتنا عرصہ باقی ہے”۔شہزادہ اپنی سیکیورٹی میں ان تبدیلیوں کو ختم کرنا چاہتا تھا جو 2020 میں متعارف کرائی گئی تھیں جب وہ ایک ورکنگ رائل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے اور ریاست ہائے متحدہ چلے گئے۔انہوں نے اپنی عدالتی شکست کو "اچھی پرانی طرز کی اسٹیبلشمنٹ کی سلائی” قرار دیا اور شاہی گھرانے کو اپنی سیکیورٹی کو کم کرنے کے فیصلے کو متاثر کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

    پرنس ہیری نے کہا کہ وہ صرف تب ہی بحفاظت برطانیہ واپس آسکتے ہیں جب شاہی خاندان کی طرف سے مدعو کیا جائے – کیونکہ ان حالات میں انہیں کافی سیکیورٹی ملے گی۔شہزادے نے کہا کہ 2020 میں اس کی سیکیورٹی کی حیثیت میں ہونے والی تبدیلیوں نے نہ صرف اس پر بلکہ اس کی بیوی اور بعد میں اس کے بچوں کو بھی متاثر کیا۔انہوں نے مزید کہا: "ہر کوئی جانتا تھا کہ وہ ہمیں 2020 میں خطرے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں امید تھی کہ میں اس خطرے کو جان کر ہمیں واپس آنے پر مجبور کر دے گا۔

    شہزادے سے پوچھا گیاکہ کیا وہ برطانیہ کو یاد کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا: "میں اپنے ملک سے محبت کرتا ہوں، میں نے ہمیشہ کیا ہے، اس کے باوجود کہ اس ملک کے کچھ لوگوں نے کیا کیا ہے. اور مجھے لگتا ہے کہ یہ واقعی بہت افسوسناک ہے کہ میں اپنے بچوں کو اپنا وطن نہیں دکھا سکوں گا۔”شہزادہ ہیری نے کہا کہ وہ مزید قانونی چیلنج نہیں مانگیں گے، یہ کہتے ہوئے کہ جمعہ کے فیصلے نے "یہ ثابت کر دیا ہے کہ عدالتوں کے ذریعے اسے جیتنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے”۔ اس لیے وہ اپنے خاندان سے صلح کرکے برطانیہ واپس آنا چاہتے ہیں .

    بھاری جارحیت ہوئی تو دفاع کے جائز حق کا استعمال کریں گے،پاکستانی مندوب

    مشرق وسطی کے ممالک کو برآمدات میں اضافہ

    اسحٰاق ڈار کا یورپی یونین سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ہارورڈ یونیورسٹی کی ٹیکس سے مستثنیٰ حیثیت ختم کرنے کا اعلان

    اسمگلنگ سے ملک کو سالانہ کھربوں روپے کا نقصان ہونے کا انکشاف

  • برطانوی شاہی خاندان میں شادی کیلئے خواتین کو تولیدی صحت کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے

    برطانوی شاہی خاندان میں شادی کیلئے خواتین کو تولیدی صحت کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے

    لندن: مصنف ٹام کوئن کی کتاب ’گلڈڈ یوتھ‘ میں انکشاف کیا ہے کہ برطانوی شاہی خاندان میں شادی کیلئے خواتین کو تولیدی صحت کا ٹیسٹ کرانا ہوتا ہے-

    باغی ٹی وی: شہزادہ ہیری کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب نے بھی شاہی خاندان کے سربستہ رازوں سے پردہ اُٹھایا ہے اور اب ایک اور نئی کتاب کے چرچے ہیں جس میں شاہی خاندان میں شادی سے متعلق انکشافات کیے گئے ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مصنف ٹام کوئن نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ شہزادہ ولیم سے شادی کے قبل کیٹ مڈلٹن کو ’تولیدی صحت‘ کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑا تاکہ معلوم ہوسکے کہ شاہی خاندان میں آنے والی دلہن بچے پیدا کرنی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    مصنف یہ بھی لکھا کہ 1981 میں پرنس چارلس کی ڈیانا کی شادی سے قبل بھی جوڑے کے ٹیسٹ کرائے گئے تھے اس حوالے سے لیڈی ڈیانا نے بھی بتایا تھا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ تولیدی صحت سے متعلق ٹیسٹ ہے۔

    شاہی خاندان سے متعلق نئی کتاب میں کہا گیا ہے کہ اگر کیٹ مڈلٹن تولیدی صحت کا ٹیسٹ پاس نہ کرپاتیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی شہزادہ ولیم سے شادی نہ ہوتی۔

    ٹام کوئن کے مطابق لیڈی ڈیانا کے برعکس کیٹ مڈلٹن کو علم تھا کہ شادی سے قبل ان کا کرایا گیا ٹیسٹ تولیدی صحت سے متعلق ہے تاہم انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔

    کتاب میں یہ واضح نہیں کہ اس ٹیسٹ سے شاہی خاندان سے باہر سے آنے والی دلہنوں کو گزرنا پڑتا ہے یا یہ شرط شاہی خاندان کی خواتین کے لیے بھی ہے۔

  • برطانوی شاہی خاندان میں اختلافات سامنے آگئے

    برطانوی شاہی خاندان میں اختلافات سامنے آگئے

    لندن : قدیم روایات کا حامل دنیا میں شاہی نظام توڑپھوڑ کا شکار ہونے لگا، اطلاعات کےمطابق برطانوی شہزادہ ہیری نے اپنے بڑے بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات میں دراڑ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں بھائی الگ راستوں پر چل رہے ہیں۔

    لاہورمیں 30 ہزار سیکورٹی اہلکار، 94 ہزار293 واقعات،عوام سوال کرتی ہے !

    برطانوی شہزادے ہیری کی جانب سے یہ اعتراف ایک برطانوی ٹی وی کے دستاویزی فلم کے دوران دیے گئے انٹرویو میں کیا گیا۔یہ انٹرویو شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے گذشتہ ماہ دورہ افریقا کے دوران دیا گیا تھا۔

    لاہورمیں بھی دھرنے کی دھمکی دے دی گئی

    شہزادہ ہیری کا کہنا ہے کہ بھائیوں میں اچھے برے دن آتے رہتے ہیں،فی الوقت دونوں کے راستے الگ ہیں تاہم وقت پڑنے پروہ ہمیشہ شہزادہ ولیم کی مدد کیلئے موجود ہوں گے اور انہیں معلوم ہے کہ شہزادہ ولیم بھی ایسا ہی کریں گے۔

    پہلے حکومت کرنے دی جائے ، مذہبی جماعت کا مطالبہ سامنے آگیا

    برطانوی شہزادے کا کہنا ہے کہ شاہی خاندان کا حصہ ہونے کی حیثیت سے اپنا کردار اور ذمہ داریاں نبھانے کے دوران نہ چاہتے ہوئے بھی بہت سی چیزیں ہوجاتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں بھائی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، دونوں اب بہت مصروف ہیں ، ولیم سے اتنی ملاقات نہیں ہوتی جنتا ہم پہلے ملا کرتے تھے لیکن اپنے بھائی سے وہ بہت پیار کرتے ہیں۔