Baaghi TV

Tag: برطانوی شہری

  • لاہور کا احمدکال سنٹر کے ذریعے برطانوی شہریوں کو لوٹنے لگا

    لاہور کا احمدکال سنٹر کے ذریعے برطانوی شہریوں کو لوٹنے لگا

    پاکستانی نوجوان کال سنٹر کے ذریعے، فون کا استعمال کر کے برطانوی شہریوں کو لوٹنے لگا
    پاکستان کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے رہائشی احمد نامی نوجوان کی کہانی سامنے آئی ہے جوبرطانوی شہریوں کے ساتھ دھوکہ دہی میں ملوث ہے،احمد نے دھوکہ دہی کے لئے برطانوی شہریوں کو لالچ دیا اور ان کا سب کچھ لے اڑا، احمد اسکے لئے اپنا لیپ ٹاپ، فون استعمال کرتا ہے،

    احمد کال سنٹر کا مالک ہے، وہ اتنی تیزی سے کام کرتا ہے کہ اسے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے،وہ نہیں جانتاکہ بی بی سی کے دھوکہ دہی کو ختم کرنے والے شو کے ہیکر نے اپنی اسکرین تک ریموٹ رسائی حاصل کی اور وہ اپنے کمپیوٹر پر ہونے والی ہر حرکت کو نوٹ کر سکتا ہے،احمد کے کمپیوٹر پر ہر کلک کے ساتھ برطانیہ کے شہریوں میں سے کسی نہ کسی شہری کی محنت کی کمائی کھونے کا خدشہ ہے،

    احمد سرفرازبرطانوی شہریوں کو دھوکہ دینے کے کام کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہے،اس کے کال سنٹر میں کئی لوگ کام کرتے ہیں جو برطانوی نمبروں پر کال کرتے ہیں اور انہیں موبائل فو ن فراہم کرنے والے 02 سے کسٹمر سروس کے عملے کے طور پر اپنا تعارف کرواتے ہیں، اسی دوران دھوکہ دہی سے وہ برطانوی شہریوں کا ای میل ہیک کرتے ہیں اور ہزاروں مالیت پاؤنڈ کے موبائل فونز کا انکے اکاؤنٹ سے ہی آرڈر کر دیتے ہیں،

    منی میل نے اپریل میں اس اسکینڈل کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجائی تھی، لیکن اسکیم انٹرسیپٹرز کے ذریعے چلائی جانے والی ایک نئی تحقیقات نے سب بے نقاب کیا ہے،احمد کے کام کو مانیٹر کرنے کے لئے نو ہفتوں تک کام کیا گیا، نو ہفتوں کی کوشش کے بعد ہیکر احمد کے کام کی نگرانی میں اور فون کال سننے میں کامیاب ہوئے، جس سے اندازہ ہوا کہ احمد اور اسکا کال سنٹر کیسے کام کرتے ہیں اور برطانوی شہریوں کو لوٹتے ہیں

    دھوکہ دہی کے حوالہ سے سرکاری ڈیٹا کے مطابق تمام دھوکہ دہی میں سے 17 فیصد فون کال یا ٹیکسٹ میسج سے شروع ہوتی ہے اور اسکا نقصان زیادہ ہوتا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق ایسے محسوس ہوتا ہے کہ احمد کے جرائم پیشہ گروہ نے بلیک مارکیٹ سے ایک لسٹ خریدی ہے جس میں برطانیہ کے سینکڑوں موبائل فون نمبر ہیں تاہم، وہ نہیں جانتے کہ O2 صارفین کونسے ہیں

    جو صارفین 02 اکاؤنٹ ہولڈ ر ہیں، انکے نمبر چیک کر کے بھیجے جاتے ہیں جس کے بعد احمد کے کال سنٹر سے اس نمبر پر کال کر کے 02 عملے کے طور پر خود کو ظاہر کیا جاتا ہے،کال پر برطانوی شہری کو پروموشنل ڈیل کی پیشکش کی جاتی ہے،جب کال اٹھائی جاتی ہے تو ایک آدمی دوستانہ آواز میں کہتا ہے، ‘ہیلو، صبح بخیر، یہ علی ہے، آپ کو O2 سے کال کر رہا ہے۔ سب سے پہلے، آپ کیسے ہیں؟اسکے بعد کہا جاتا ہے کہ 02 ایک پروموشن چلا رہا ہے، ہم آپ کے ماہانہ بل کم کر نے جا رہے ہیں، چھ ماہ تک بغیر کسی تبدیلی کے صرف سات پونڈ آپ ادا کریں گے،

    احمد کے کالر کی جانب سے دی جانے والی پیشکش پرکشش ہوتی ہے، ساتھ ہی کہا جاتا ہے کہ اسکے لئے آپکے اکاؤنٹ کی تصدیق کرنی ہو گی، علی اکاؤنٹ سے منسلک ای میل لیتا ہے،اسکے بعد کہا جاتا ہے کہ ایک کوڈ آپکے فون پرآئے گا وہ بتانا پڑے گا، تاکہ آپکی تصدیق کی جا سکے، یہ کوڈ اسی صارف کے جی میل اکاؤنٹ کے پاسورڈ بدلنے کا ہوتا ہے، جب صارف کی جا نب سے ای میل ملتا ہے تو کالر وہی اسکا پاسورڈ ری سیٹ کرتا ہے تو کوڈ صارف کے فون پر جاتا ہے،جب کوڈ مل جاتا ہے تو علی اسکے ای میل کا پاسورڈ بدل کر اس تک رسائی حاصل کرتا ہے اور اسکے اکاؤنٹس میں پہنچ جاتا ہے،چند سیکنڈوں میں احمد ان اکاؤنٹس کے پاسورڈ ای میل بدلتا ہے اور پھر انکے اکاؤنٹس سے کئی مہنگے موبائل فونز، ٹیبلیٹس اور سمارٹ گھڑیاں آرڈر کرتا ہے، جن کا بل انہیں ادا کیا جائے گا.

    احمد کی ٹیم کی طرف سے پیش کردہ پروموشنل ڈیل کو لے کر متاثرین کو اکثر بتایا جاتا ہے کہ انہیں فون اپ گریڈ ملے گا۔ تاہم، فون کال کے چند دنوں بعد، انہیں کئی الیکٹرانک آلات موصول ہوتے ہیں جن میں سے کوئی بھی اس جیسا نہیں ہوتا جیسا فون پر کہا گیا ہوتا ہے

    51 سالہ ٹریسی ، جو احمد کی دھوکہ دہی کا شکار بنی ہے ،وہ کہتی ہیں کہ اسے جب کال موصول ہوئی تو وہ بہت خوش ہوئی ، اسے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے ماہانہ بلوں کو کم کرنے اور اپنا فون تبدیل کرنے کے لیے پروموشن کے لیے اہل ہے۔ٹریسی نے پہلے موبائل فون کمپنی میں کام بھی کیا تھا، لیکن وہ دھوکہ کھا گئی،ٹریسی کہتی ہیں کہ مجھے جب کوڈ آیا ،تو ساتھ ہی میسج آیا کہ کسی کو نہیں دینا میں نے دینے سے انکار کیا تو کالر نے کہا کہ ہم نے ابھی آپ کو یہ کوڈ بھیجا ہے، اگر آپ کوڈ نہیں دیں گے تو تو آپ کے نام پر دو موبائل فون اکاؤنٹس قائم ہوں گے اور آپ سے دو بار چارج کیا جائے گا۔کالر کی جانب سے یقین دہانی کے بعد ٹریسی نے کوڈ پڑھا، اسکے فوری بعد ہی اسکے اکاؤنٹس کے پاسورڈ بدلنا شروع ہو گئے

    ٹریسی کے مطابق کچھ دنوں بعد، ایک آئی فون 13 اور ایک آئی پیڈ اس کے گھر پر ڈاک کے ذریعےپہنچا، اسے ان میں سے کسی بھی ڈیوائس کی توقع نہیں تھی۔’جو فون آیا وہ صحیح نہیں تھا اور میں جانتی تھی کہ یہ بہت مہنگا ہے، اس لیے میں نے انہیں کال کے دوران جو نمبر دیا تھا اس پر میسج کیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ان کے پاس ایک ناراض گاہک تھا جس نے میرا فون وصول کیا تھا اور میرے پاس اس کا آرڈر تھا۔ اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے اور کہا کہ اگر میں ان دونوں کو پیک کر کے ڈسٹری بیوشن گودام میں بھیج سکتی ہوں تو وہ میرا نیا فون موصول ہوتے ہی جاری کر دیں گے۔

    ٹریسی کو ناٹنگھم شائر میں پی او باکس نمبر دیا گیا تھا جس پر اسے ڈیوائسز پوسٹ کرنے کو کہا گیا تھا۔اس نے پوسٹ میں فون اور ٹیبلٹ بھیجا اور اپنے پارسل کے آنے کا انتظار کیا – لیکن یہ کبھی نہیں آیا۔ اور اسے جعلی O2 سینٹر پر کی جانے والی کسی بھی کال کاجواب نہیں دیا گیا ٹریسی کا کہنا تھا کہ مجھے تب انکشاف ہوا کہ یہ تو دھوکہ ہو گیا،

    اسکیم انٹرسیپٹرز کے مطابق، حقیقت میں،پی او باکس احمد کے مجرمانہ حلقے کی جانب سے کام کرنے والے شخص کا تھا۔ ایک بار جب انہیں پیکیج مل گیا، تو انہوں نے اسے پاکستان میں لاہور بھیج دیا، جہاں بی بی سی کے شو میں دکھائے گئے فونز کو خود احمد نے کھولااور بازار میں فروخت کیا۔

    سوشل میڈیا پر، احمدنے اپنے شاہانہ طرز زندگی کی تصاویر شیئر کی ہیں،انسٹاگرام پر، اسے مہنگے 4x4s میں دیکھا جا سکتا ہے وہ مہنگے فونز کو ان باکس کرتے ہوئے، کیمرے پر مسکراتے ہوئے اپنی تصاویر پوسٹ کرتا ہے جو اس کے جرائم سے حاصل ہونے والی آمدنی ہوتی ہے۔ تاہم، احمد کا شیخی بگھارنا اس وقت اچانک رک گیا جب اس کا سامنا اسکیم انٹرسیپٹرز ٹیم سے ہوا، جو اس کے عملے کے ایک رکن کی طرف سے کال سینٹر کے دفتر میں آن لائن کھانا ڈیلیوری کے موقع پر انکا پتہ لینے میں کامیاب ہو گئی

    پیر کو شو کے نشر ہونے کے بعد، منی میل کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ گینگ لوکیشن اور فون نمبر تبدیل کر کے دوبارہ اپنا کام شروع کر سکتا ہے۔ایسے گینگ جلدی دوبارہ کام شروع کرتے ہیں،

    ماہرین نے انکشاف کیا کہ برطانیہ کا سب سے بڑا موبائل نیٹ ورک لاکھوں صارفین کو دھوکہ دہی کے ٹیکسٹ میسجز اور کالز سے بے نقاب کر رہا ہے، کیونکہ اس نے اپنے حریفوں کے مقابلے میں اینٹی سپیم شیلڈز کو لاگو کرنے میں کئی برسوں کا وقت لیا ہے جو کہ دھوکہ دہی پیغامات کو موبائل فون صارفین تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔

    کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ: ‘ہم بی بی سی سکیم انٹرسیپٹرز کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے اس انتہائی نفیس، منظم اور بین الاقوامی جرائم کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں مدد کی، جو پیشہ ورانہ جرائم کا استعمال کر رہا ہے۔

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • برطانوی حکومت کی اپنے شہریوں کیلئے پاکستان میں سفرکےبارے میں نئی ہدایات جاری

    برطانوی حکومت کی اپنے شہریوں کیلئے پاکستان میں سفرکےبارے میں نئی ہدایات جاری

    برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کے لیے پاکستان میں سفر کے بارے میں نئی ہدایات جاری کر دیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی حکومت کیجانب سے اپنے شہریوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ پاکستان میں دہشت گردحملوں کاخطرہ ہےصوبہ خیبرپختونخوا میں باجوڑ، مہمند، خیبر،اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اورجنوبی وزیرستان کے اضلاع کا سفر نہ کریں۔

    ہدایات کے مطابق چارسدہ، کوہاٹ، ٹانک، بنوں، لکی، ڈیرا اسماعیل خان، سوات، بونیر اور لوئر دیر کے اضلاع کے سفر سے بھی گریز کا کہا گیا ہے، جب کہ پشاور شہر اور ضلع مردان رنگ روڈ کے شمال سے ضلع چترال کے کنارے تک N45 روڈ پر سفر سے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔

    ترکیہ نےسویڈن کی نیٹو رکنیت کیلئےحمایت کر دی

    حکومتِ برطانیہ کا کہنا ہے کہ شہری پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے جنوبی ساحل کے علاوہ کسی علاقے میں نہ جائیں پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہے، اس حوالے سے برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کو سیاسی مظاہروں سے دور رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ ہےکچھ سیاسی مظاہروں میں مغرب مخالف جذبات موجود ہیں اسلام آباد، لاہور، کراچی میں دہشت گردی، اغواء، فرقہ وارانہ تشدد کا خطرہ ہے، علاوہ ازیں برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کو شدید گرمی سے بھی خبردار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

    دبئی میں ہونےوالی مشاورت میں پی ڈی ایم کےسربراہ کو کیوں دوررکھا گیا؟ حافظ حمداللہ

  • 79 سالہ برطانوی شہری پر بطخیں پالنے پر پابندی

    79 سالہ برطانوی شہری پر بطخیں پالنے پر پابندی

    لندن: حکومت نے 79 سالہ شہری ایلن گوسلنگ پر اگلے ایک سال تک بطخیں پالنے پر پابندی لگا دی ہے-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے "ڈیلی میل” کے مطابق برٹش کاؤنٹی ڈیوون میں رہنے والےگوسلنگ اس فیصلے پر شدید پریشانی کا شکار ہیں لیکن برطانوی محکمہ صحت کا یہ فیصلہ نہ صرف ان کی بلکہ ان کے اہلِ خانہ اور آس پاس رہنے والوں کی صحت کےلیے بھی ضروری تھا۔

    لاپتہ بنگلا دیشی اداکارہ رائمہ کی بوری بند لاش برآمد

    رپورٹ کے مطابق کرسمس سے چند روز قبل گوسلنگ کو شدید زکام ہوگیا تھا اور وہ بیمار ہوگئے تھے۔ مقامی طبّی ادارے کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ برڈ فلو (H5N1) میں مبتلا ہیں جو ماضی میں بھی انسانی وباؤں کا باعث بن چکا ہےجب تفتیش کا دائرہ بڑھایا گیا تو پتا چلا کہ عمر رسیدہ ایلن گوسلنگ نے اپنے فارم پر برسوں سے کئی بطخیں پال رکھی تھیں جن کی تعداد پچھلے سال 160 ہوچکی تھی گوسلنگ کو ان ہی میں سے کسی بطخ سے برڈ فلو ہوا تھا۔

    ایلن گوسلنگ کی بہو نے ’ڈیلی میل‘ کے نمائندے کو بتایا کہ فوری حفاظتی اقدامات کے تحت یہ تمام بطخیں ہلاک کرکے وہاں سے ہٹا دی گئیں اور ساتھ ہی ساتھ اگلے ایک سال تک گوسلنگ کے بطخیں پالنے پر پابندی بھی لگا دی گئی جب گوسلنگ صحتیاب ہوکر گھر واپس آئے اور انہیں یہ خبر سنائی گئی تو وہ بہت اداس ہوگئے’’انہیں ان کے تمام ’دوستوں‘ سے دور کردیا گیا اور اب ان کے پاس کچھ بھی نہیں رہا-

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    گوسلنگ کا ارادہ تھا کہ وہ صحت یاب ہونے کے فوراً بعد مزید بطخیں خرید لائیں گے لیکن پابندی کی یہ خبر ان پر بجلی بن کر گری اور وہ نڈھال ہو کر رہ گئے ایلن گوسلنگ اب بھی اپنی بطخوں کو یاد کرکے اداس ہوجاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان میں سے کئی بطخوں کو انہوں نے خود پالا تھا جبکہ کچھ بطخیں بارہ یا تیرہ سال کی بھی تھیں۔

    دوسری جانب برطانیہ میں نئے برڈ فلو کا پہلا مریض ہونے کی بناء پر صحت کے اداروں نے گوسلنگ پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے کیونکہ ایسے افراد ہی کسی وبا کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ برڈ فلو ایک ہلاکت خیز بیماری ہے جو پرندوں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے ماضی میں کئی بار یہ بیماری وبائی شکل اختیار کرچکی ہے جس کے نتیجے میں کروڑوں پرندوں کے علاوہ درجنوں انسان بھی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اس سے متاثر ہونے والے انسان بھی لاکھوں میں ہیں برڈ فلو کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے H5N1 قسم سے متاثرہ ہونے والے 50 فیصد لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    برطانیہ میں 6 کے بجائے 4 دن کام پر ٹرائل کا آغاز

    1997ء سے قبل کسی پرندے کے وائرس سے انسانوں میں انفلوئنزا پھیلنے کے شواہد نہیں ملے ہیں 1997ء میں H5N1 قسم کے وائرس نے جو قبل ازیں صرف پرندوں کو متاثر ہوئے جن میں سے چھ ہلاک ہوئے۔ پھر 2003ء میں ہانگ کانگ میں اسی وائرس سے دو افراد متاثر ہوئے جن میں ایک ہلاک ہوا۔ اور پھر2004ء میں تھائی لینڈ میں اس وائرس سے 31 افراد متاثر ہوئے جن میں سے 22 ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ایک اور وائرس H7N7نے فروری 2003 میں ہالینڈ میں 83 افراد کو معمولی سا متاثر کیا اور ایک شخص ہلاک ہوا۔ اس کے علاوہ کسی اور قسم کے پرندوں کے وائرس سے کہیں بھی انسانی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔ البتہ پرندوں کے وائرس کی ایک اور قسم H9N2 ہے جو مرغیوں میں بھی معمولی بیماری پیدا کرتی ہے۔ اس سے عموما ہلاکتیں نہیں ہوتیں۔ اس نے ہانگ کانگ میں 1999ء میں ہی چند بچوں کو متاثر کیا مگر وہ سب صحت یاب ہو گئے۔ پرندوں کو متاثر کرنے والے انفلوئنزا وائرس H5N2 نے 1983ء میں امریکا میں بڑے پیمانے پر پولٹری کی صنعت کو متاثر کیا مگر اس سے کسی انسان کے متاثر ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    کورونا ویکسین کے بعد معذور شخص تندرست ہو گیا

    انفلوئنزا کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندوں کے وائرس عموما انسانوں کو متاثر نہیں کرتے۔ 1983ء میں امریکہ میں وائرس سے بڑے پیمانے پر مرغیاں متاثر ہوئیں جنہیں تلف کرنا پڑا۔ ابتدا میں جب H5N2 ظاہر ہوا تو اس سے پرندوں میں بیماری کی شدت میں اضافہ ہو گیا جس کے باعث فوری طور پر مرغیوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس وقت امریکی ڈاکٹر ویپسٹر نے پیشن گوئی کی کہ پرندوں کے وائرس انسانوں میں منتقل ہو کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتے ہیں۔

    1997ء میں پہلی بار ہانگ کانگ میں H5N1 وائرس جو صرف پرندوں کو متاثر کرتا تھا، انسان پر حملہ آور ہوا۔ اس حملے کی زد میں آنے والے افراد میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو پولٹری فارمز پر کام کرتے تھے۔

    بورس جانسن پراستعفے کادباو:بھارتی لابی متحرک بھارتی نژاد رشی سوناک متوقع برطانوی…