Baaghi TV

Tag: برطانوی عدالت

  • برطانوی عدالت سے جمائما گولڈ اسمتھ کو ایک ہزار پاؤنڈ جرمانے کی سزا

    برطانوی عدالت سے جمائما گولڈ اسمتھ کو ایک ہزار پاؤنڈ جرمانے کی سزا

    پاکستان کے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کو گاڑی کی حد رفتار کی خلاف ورزی کے کیس میں میٹروپولیٹن پولیس کو بروقت جواب نہ دینے پر عدالت نے ایک ہزار پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔

    52 سالہ جمائما گولڈ اسمتھ کے نام پر رجسٹرڈ منی کلب مین گاڑی کو شمالی لندن میں مقررہ رفتار سے تجاوز کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا، پولیس کی جانب سے بھیجے گئے خطوط کا بروقت جواب نہ دینے پر معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق گاڑی 28 اگست کو ہیمپسٹڈ کے علاقے میں اے ون شاہراہ پر 40 میل فی گھنٹہ کی حد کے بجائے 46 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلائی جارہی تھی بعد ازاں جمائما نے انتھونی ریلی نامی شخص کو ڈرائیور کے طور پر نامزد کیا جو سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہے، تاہم ان کا جواب پولیس کی آخری تاریخ گزرنے کے 6 دن بعد، 4 نومبر کو موصول ہوا۔

    آپریشن غضب للحق:پاک فوج کی کارروائی میں ننگرہار خوگانی بیس تباہ

    ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ کو لکھے گئے خط میں جمائما گولڈ اسمتھ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے کینزنگٹن میں واقع ایک کروڑ پاؤنڈ مالیت کے گھر میں جاری تعمیراتی کام کے باعث ابتدائی خط مزدوروں کے ہاتھوں گم ہوگیا اور انہیں اس کا علم اکتوبر میں ہوااسی ماہ ان کی والدہ لیڈی اینابیل گولڈ اسمتھ کا 91 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا جس کے باعث وہ امور پر مکمل توجہ نہ دے سکیں۔

    خیبر پختونخوا حکومت کا کریک ڈاؤن:1000سے زائد غیر قانونی مقیم افغان باشندے گرفتار

    مجسٹریٹ گلیڈیز فاموریو نے انہیں ڈرائیور کی شناخت سے متعلق معلومات فراہم نہ کرنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے ایک ہزار پاؤنڈ جرمانہ، لائسنس پر چھ پینلٹی پوائنٹس، 130 پاؤنڈ عدالتی اخراجات اور 400 پاؤنڈ اضافی سرچارج ادا کرنے کا حکم دیا-

  • برطانوی عدالت  نے حسن نواز کے مؤقف کو درست قرار دیا ہے،ترجمان شریف فیملی

    برطانوی عدالت نے حسن نواز کے مؤقف کو درست قرار دیا ہے،ترجمان شریف فیملی

    لاہور: شریف خاندان کے ترجمان نے برطانوی عدالت کی جانب سے حسن نواز کی کمپنی کو دیوالیہ قرار دینے پر ردعمل دیاہے-

    نواز شریف خاندان کے ترجمان نے برطانوی عدالت سے حسن نواز کی کمپنی کو دیوالیہ قرار دینے کی خبر پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کو دیوالیہ کرنے کے عمل کا آغاز 1972 سے ہوا جب پہلی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے زمانے میں صنعتوں کو نیشنلائز کیا گیا جس میں شریف خاندان بھی شامل تھا۔

    ترجمان نے کہا کہ پھر جنرل (ر) پرویز مشرف نے یہی کام کیا، ظلم کی انتہا کرتے ہوئے شریف خاندان کے ذاتی گھروں پر قبضہ کر لیا اور فیکٹریاں سیل کی گئیں، اس کے بعد ثاقب نثار اینڈ کمپنی نے اپنے دور ستم میں یہ ظلم دہرایا اور شریف خاندان کی انڈسٹری کو تباہ و برباد کر دیا۔

    انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کو صرف سزا دینے کے لیے ان کے خاندان کے کاروبار کو چار بار دیوالیہ کرایا جا چکا ہے، شریف خاندان کے لیے یکے بعد دیگرے آنے والے ایسے اتار چڑھاؤ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ملک وقوم اور اصولوں کی خاطر شریف خاندان نے برسوں کی محنت سے چلنے والے نجی کاروبار کے نقصانات اور ذاتی دکھ برداشت کیے ہیں، کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کے عرصے کے دوران ٹیکس نہیں دیا جاتا، برطانوی عدالت نے حسن نواز کے اسی موقف کو درست قرار دیا ہے۔

  • آج کابینہ کی خصوصی کمیٹی 41 ارب روپے منتقلی کا جائزہ لے گی

    آج کابینہ کی خصوصی کمیٹی 41 ارب روپے منتقلی کا جائزہ لے گی

    وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی آج کو برطانیہ سے پاکستان رقم منتقلی کا جائزہ لے گی۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ سے 41 ارب روپے پاکستان منتقل کیے گئے۔

    خصوصی کمیٹی کا اجلاس وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں ہوگا، جب کہ وزیر خزانہ، قانون و انصاف، داخلہ اور مواصلات کے وفاقی وزراء، وزیر مملکت خارجہ امور اور وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر بھی شریک ہوں گے۔ اٹارنی جنرل، گورنر اسٹیٹ بینک، سیکریٹری خارجہ، سیکرٹری کابینہ اور سیکریٹری داخلہ کو آج ہونے والے اجلاس کے دعوت نامے بھجوائے گئے ہیں۔
    سماء ٹی وی کے مطابق: آج ہونے والے خصوصی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں احمد علی ریاض اینڈ فیملی اور بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس منجمد ہونے کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ کابینہ اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ فنڈز برطانیہ سے پاکستان کے کس اکاؤنٹ میں منتقل اور کہاں استعمال ہوئے؟۔ کابینہ کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ مذکورہ رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ میں کیوں جمع کرائی گئی؟
    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے کابینہ اجلاس کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے رقم پاکستان منتقلی کی ڈیل سے متعلق خفیہ دستاویز منظر عام پر لاتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔
    واضح رہے کہ سابق حکومت نے اس رقم کے حصول کیلئے کوئی کوشش نہیں کی تھی تاہم ایسٹ ریکووری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر نے اس بات کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالا تھا اور کہا تھا کہ ملک ریاض پر 460 ارب روپے کا جو جرمانہ عائد ہوا تھا یہ وہ رقم تھی جو سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی، کیوں کہ سپریم کورٹ بھی ریاست کا حصہ ہے۔
    قصہ 190 ملین پاؤنڈز کا
    ملک رياض سے جڑے 190 ملين پاؤنڈ کے تصفيے کے تذکرے نئے نہيں۔ دسمبر سال 2019 ميں غير ملکی اخبار دی گارجين نے اپنی خبر ميں لکھا تھا کہ پاکستانی بزنس ٹائيکون ملک رياض 190 ملين پاؤنڈز کی رقم اور اثاثے برطانوی حکام کے حوالے کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ دی گارجين کی خبر کے مطابق ملک رياض کيخلاف ہونے والی تحقيقات ميں 190 ملين پاؤنڈز سے زائد اثاثے ضبط کيے گئے۔
    دی گارجين کے مطابق جائیداد اور رقوم غیرقانونی ذرائع سے حاصل کیے جانے کے الزام ميں برطانیہ کی نيشنل کرائم ايجنسی نے 9 اکاؤنٹس بھی فريز کيے۔ جس ميں ايک سو چاليس ملين پاؤنڈز کے فنڈ موجود تھے۔ اخبار کا کہنا تھا کہ يہ رقم اور ضبط کيے گئے اثاثے رياست پاکستان کو لوٹا ديے جائيں گے۔ جہاں ملک رياض کے خلاف فراڈ اور کرپشن کا کيس چل رہا ہے۔
    برطانوی نيشنل کرائم ايجنسی نے سب سے پہلے سال 2018 ميں ملک رياض کی بيس ملين پاؤنڈ کی رقم منجمد کردی تھی۔ جس کے بعد اگست 2019 میں اسی تحقیقات کے سلسلے میں 8 بینک اکاؤنٹ منجمد کیے گئے تھے جن میں رقم موجود تھی، جو کہ اُس وقت کسی بھی اکاؤنٹ کی منجمد ہونے والی سب سے بڑی رقم تھی
    عدالتی اپیل
    برطانيہ ميں منجمد کی گئی بھاری رقوم کا کيس برطانوی عدالت میں چلا تھا، جس کے بعد برطانوی عدالت نے ملک رياض اوران کے بيٹے کے برطانوی ويزے منسوخ کرديئے تھے، جب کہ دس سال تک برطانيہ میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ ملک رياض نے فيصلے کے خلاف اپيل دائر کی تھی جو نومبر دو ہزاراکيس ميں مسترد کردی گئی تھی۔

    برطانوی عدالتی فیصلے میں پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلوں، احکامات نیب انکوائریز اور بحریہ ٹاؤن سے منسلک جے آئی ٹی رپورٹ کا بھی ذکر کيا گيا۔ فیصلے میں کہا گيا کہ کراچی بحریہ ٹاؤن کيس میں ملک ریاض نے سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے دینے کی حامی بھری ، جس سے بحریہ ٹاؤن کے غیر قانونی اقدامات میں ملوث ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔

  • شہبازشریف کےکرپشن کیسزکےمتعلق مرتضیٰ علی شاہ        کی خبردرست ثابت ہوئی:زبردست رپورٹنگ ہے:مبشرلقمان

    شہبازشریف کےکرپشن کیسزکےمتعلق مرتضیٰ علی شاہ کی خبردرست ثابت ہوئی:زبردست رپورٹنگ ہے:مبشرلقمان

    لندن :شہبازشریف کے متعلق کرپشن کیسزکے متعلق سید مرتضیٰ علی شاہ کی خبردرست ثابت ہوئی:زبردست رپورٹنگ ہے:اطلاعات کے مطابق سینئرصحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے سینئرصحافی مرتضیٰ علی شاہ کو زبردست رپورٹنگ پران کو خراج تحسین پیش کیا ہے ہے

    سینئر صحافی مبشرلقمان نے مرتضیٰ علی شاہ کے کام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے جو حقائق پیش کیے تھے آج ان کی تصدیق ہوگئی ہے اور یہ چیز ثابت کرتی ہے کہ آپ واقعی ایک تحقیقاتی جرنلزم کے ماہر ہیں

    مبشرلقمان نے بھی برطانوی ادارے کی رپورٹ کے متعلق کہاہے کہ میاں شہباز شریف کو NCA نے کسی بھی مجرمانہ سرگرمی یا منی لانڈرنگ سے بری کر دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے دو چیزیں اب واضح ہوچکی ہیں ; ایک یہ کہ شہباز شریف بطور ملزم مجرم نہیں اور دوسرا یہ کہ شہزاد اکبر کو ان کے کرتوتوں اور جھوٹے الزامات کا جوابدہ ہونا چاہیے۔

     

     

    یاد رہے کہ سید مرتضیٰ علی شاہ نے گزشتہ سال نومبر میں خبر دی تھی کہ این سی اے نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے سلیمان کے خلاف منی لانڈرنگ کی بڑی تحقیقات مجرمانہ طرز عمل، منی لانڈرنگ اور عوامی عہدے کے غلط استعمال کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر مزید کارروائی اور اثاثوں کو غیر منجمد کئے بغیر ختم کردی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سرکاری عدالتی کاغذات کے مطابق برطانیہ کی سپر اینٹی کرپشن فورس نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے 19 دسمبر 2019 کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کی عدالت کو بتایا تھاکہ اسے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے بیٹے سلیمان شریف کے خلاف منی لانڈرنگ، فراڈ، بدعنوانی اور عوامی عہدے کے غلط استعمال میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کو ’ثابت یا غلط ثابت‘ کرنے کے لیے ہائی پروفائل تحقیقات شروع کرنے کے لیے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات (اے ایف اوز) کی ضرورت تھی۔ انکشافات عدالتی کاغذات میں موجود ہیں جو کہ اب تک منظر عام پر نہیں آئے۔

     

    اس کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف تحقیقات کا حصہ نہیں تھے کیونکہ ان کا نام اے ایف اوز کو الگ کرنے والے آرڈر کا حصہ نہیں تھا۔

    نئے کاغذات سے واضح طور پر ثابت ہوگیا ہے کہ ساری تفتیش شہباز شریف اور ان کے بیٹے اور ان کے دوست ذوالفقار احمد پر مرکوز تھی جنہوں نے کارٹر رک میں شہباز شریف کے وکلاء کو ادائیگی کی تھی۔

    این سی اے نے شہباز شریف کی ملکیت والے دو فلیٹس، ان کے متعلقہ بینک اکاؤنٹ اور سلیمان کے اکاؤنٹس میں تقریباً 700000 پاؤنڈز کی منی ٹریل کی چھان بین کی جسے ایجنسی کے خیال میں شہباز شریف نے پاکستان سے منتقل کیا تھا۔

    شہزاد اکبر اور ڈیوڈ روز نے جولائی 2019 میں ڈیلی میل کے مضمون میں اعلان کیا تھا کہ این سی اے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ این سی اے کا کہنا تھا کہ شریفوں کے برطانیہ کے فنڈز پاکستان میں مجرمانہ طرز عمل سے حاصل ہونے کا شبہ ہے۔

    این سی اے نے ڈیلی میل کے الزامات، نیب ریفرنس، ایف آئی اے کی ایف آئی آر اور منی لانڈرنگ کے ثبوت کے طور پر اثاثوں کی بازیابی یونٹ (اے آر یو) کی جانب سے دیے گئے دیگر شواہد پر انحصار کیا جبکہ شہباز شریف سے آف شور اکاؤنٹس کے لیے آف شور علاقوں میں بھی تفتیش کی۔

    این سی اے نے غلط کام، منی لانڈرنگ یا مجرمانہ طرز عمل کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر شہباز اور بیٹے کے خلاف فوجداری تفتیش ختم کردی تھیں ۔ کسی قابل بازیافت اثاثے کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔ شہباز شریف کے خلاف این سی اے کی تحقیقات تقریباً دو سال تک جاری رہیں اور مجرمانہ طرز عمل یا دھوکہ دہی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

    نومبر 2021 میں تحقیقات کو بند کر دیا گیا جب این سی اے یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ شہباز شریف اور ان کا خاندان کسی بھی قسم کے غلط کام میں ملوث ہے۔ شہباز شریف کو مؤثر طریقے سے کلین چٹ دے دی گئی۔

    یہ ثابت کرنے میں ناکام ہونے کے بعد کہ نقد رقم اور اثاثے مجرمانہ منی لانڈرنگ سے حاصل کیے گئے تھے،تقریباً دو سال تک تحقیقات کے بعد این سی اے نے کیس خارج کر دیا اور شریفوں کے تمام اثاثے جاری کر دیئے۔