Baaghi TV

Tag: برطانوی فوج

  • برطانوی فوج کے سربراہ کا مستعفی ہونیکا فیصلہ

    برطانوی فوج کے سربراہ کا مستعفی ہونیکا فیصلہ

    برطانوی فوج کے سربراہ نے اعلیٰ افسر کی جانب سے تنقید کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے

    برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر پیٹرک سینڈرز چیف آف اسٹاف کے عہدے پر فائز ہیں ،میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف آف آرمڈ فورسز ایڈمرل سرٹونی نے سر پیٹرک سینڈرز پرتنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو کام وہ کرتے ہیں اسے توکوئی نیول افسر بھی کر لے گا

    جنرل سر پیٹرک سینڈرز بری فوج کی تعداد میں غیرمعمولی کمی پر ناراض تھے اور انہوں نے خریدے جانے والے جنگی سامان کو بھی دقیانوسی قراردیا تھا ،برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر پیٹرک سینڈرز نے گزشتہ سال جون میں عہدہ سنبھالا تھا وہ کسی بھی وقت مستعفیٰ ہو سکتے ہیں،

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • برطانوی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف پاکستان کا پانچ روزہ دورہ کریں گے

    برطانوی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف پاکستان کا پانچ روزہ دورہ کریں گے

    برطانوی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف پاکستان کا پانچ روزہ دورہ کریں گے,

    برطانوی ہائی کمشن کے مطابق جنرل پیٹرک سینڈرز، چیف آف آرمی سٹاف پاکستان جنرل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات کریں گے, برطانوی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف کے سی بی، سی بی ای، ڈی ایس او، اے ڈی سی(جنرل)، آج پانچ روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے,یہ دورہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان طویل عرصے سے موجود دفاعی معاہدے کے تحت ہو رہا ہے, ببرطانوی جرنیل دفاعی امور سے متعلق دیگر ملاقاتوں اور سرگرمیوں میں بھی شریک ہوں گے, پاک-برطانیہ دفاعی تعلقات اور دوستی کی گرم جوشی اور وسعت برطانیہ کے لیے خصوصی اہمیت کی حامل ہے, پاک-برطانیہ دفاعی تعلقات اور دوستی کی گرمجوش مشترکہ تاریخ اور برطانیہ میں مقیم تاریکین وطن کی بنیاد پر قائم ہے,

    برطانوی ہائی کمشن کے مطابق پاکستانی افسران برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ، ایڈوانسڈ کمانڈ اینڈ سٹاف کورس اور رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز میں تربیت حاصل کرتے ہیں,جنرل پیٹرک سینڈرز پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے قریب ایک برس بعد پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں,اس سیلاب کے نتیجے میں ملک کا ایک تہائی علاقہ زیرآب آ گیا تھا, تباہ کن سیلاب تین کروڑ تیس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے, برطانوی وزارت دفاع نے امدادی کارروائیوں میں معاونت کی تھی،

     پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

    ،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں

    عمران خان ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے.

  • برطانوی سکھ سپاہیوں کے 12 رکنی وفد کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات

    برطانوی سکھ سپاہیوں کے 12 رکنی وفد کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات

    راولپنڈی : برطانوی سکھ سپاہیوں کے 12 رکنی وفد کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات،اطلاعات کے مطابق برطانوی سکھ سپاہیوں کے 12 رکنی وفد نے جی ایچ کیوکا دورے کے دوران آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات کی

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے برطانوی وفدکی ملاقات کے دوران آرمی چیف نے کہا ہے کہ پاکستان تمام مذاہب کا احترام کرتا ہےاس ملاقات میں برطانوی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں مذہبی سیاحت کےفروغ کی ضرورت کوتسلیم کرتےہیں

    میجر جنرل سیلیا جے ہاروی کی سربراہی میں ڈپٹی کمانڈر فیلڈ سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ کرتار پور راہداری پاکستان کی مذہبی آزادی اور ہم آہنگی کے لیے غیر متزلزل عزم کا عملی مظہر ہے۔ وفد نے لاہور کا دورہ کیا جہاں معززین نے واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب دیکھی۔ وفد نے شاہی قلعہ لاہور، علامہ اقبال کے مزار اور بادشاہی مسجد کا دورہ کیا۔

    اطلاعات کے مطابق کے دوران برطانوی سکھ فوجیوں نے ملک میں کئی مذہبی مقامات کا دورہ کیا جن میں دربار حضرت میاں میر، حویلی نونہال سنگھ، گوردوارہ جنم استھان گرو رام داس، سمادی رنجیت سنگھ، گودوارہ ڈیرہ صاحب، کرتار پور کوریڈور، ننکانہ صاحب اور ڈیرہ پنجہ صاحب شامل تھے۔اا

    آئی ایس پی آر کے مطابق برطانوی فوج کے سکھ وفد نے ضلع اورکزئی کا بھی دورہ کیا اور سمانہ قلعہ، لاک ہارٹ فورٹ اور سارہ گڑھی یادگار کا مشاہدہ کیا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں 1897 میں برطانوی مہم کے ایک حصے کے طور پر 21 سکھ سپاہیوں نے اپنی جانیں دی تھیں اور سکھوں کے لیے اس کی تاریخی اہمیت ہے۔
    وفد نے سارہ گڑھی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ وفد نے قبائلی اضلاع میں امن اور معمول پر لانے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کی کوششوں کو سراہا۔