Baaghi TV

Tag: برطانوی نشریاتی ادارہ

  • برطانوی ٹی وی میزبان کی اہلیہ نےفحش تصاویر اسکینڈل میں ملوث شوہرکوبےنقاب کردیا

    برطانوی ٹی وی میزبان کی اہلیہ نےفحش تصاویر اسکینڈل میں ملوث شوہرکوبےنقاب کردیا

    ملکہ الزبتھ دوم کی موت کے اعلان تک کیلئے شہرت رکھنے والے برطانوی نشریاتی ادارے کے پریزینٹر ہوو ایڈورڈزپر ایک نوجوان سے پیسوں کے بدلے عریاں تصاویر مانگنے کے الزامات ہیں۔

    باغی ٹی وی: برطانوی ٹی وی کے میزبان ہوو ایڈورڈز کی اہلیہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا شوہر ہی وہ شخص ہے جو لڑکیوں کی فحش تصاویر کے اسکینڈل کا مرکزی کردار ہے۔

    ہوو ایڈورڈز کی اہلیہ وکی فلینڈ نے تصدیق کی ہے کہ ان کا شوہر ہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کمسن لڑکی کو 35 ہزار پاؤنڈ دینے کے بدلے فحش تصاویر لی تھیں، اس وقت ہیو ایڈورڈز ذہنی مسائل سے دوچار ہیں اور اسپتال میں زیر علاج ہیں نہوں نے شناخت ”بنیادی طور پر ذہنی صحت اور ہمارے بچوں کی حفاظت کے لئے فکر مند ہونے کی وجہ سے ظاہر کی ۔

    برطانوی ملکہ کی وفات کی خبر دینے اور بعد ازاں پوری ٹرانسمیشن کو لیڈ کرنے سمیت تاریخی اہمیت کے واقعات پر میزبانی کرنے والے ٹی وی اینکر پر اب اسی برطانوی ٹی وی میں کام کرنے والی کئی خواتین نے بھی نامناسب میسیجز بھیجنے کا الزام لگا دیا ہے،ادارے کی 3 جونیئر اسٹاف کا کہنا ہے کہ 61 برس کے ہیو ایڈورڈز نے انہیں بھی نامناسب میسیجز بھیجے تھے تاہم انہوں نے ادارے کو شکایت نہیں کی تھی۔ برطانوی ٹی وی نے ہیو ایڈورڈز کو معطل کردیا ہے۔

    سمجھ سکا نہ کوئی آج تک کہ کیا ہوں میں، ہوا کےدوش پہ جلتا ہوا …

    ستمبر2022 میں ملکہ الزبتھ کے انتقال کا اعلان کرنے والے ایڈورڈ نے صدی کے آغاز کے بعد سے برطانیہ میں ہونے والے تمام اہم یونٹس کی کوریج کی قیادت کی ہے جن میں انتخابات، شاہی شادیاں اور 2012 کے اولمپکس بھی شامل ہیں۔

    برطانوی اخبار ’دی سن‘ نے دعوی کیا تھا کہ ہوو ایڈورز نے نوجوان فرد کو عریاں تصاویر کے لیے پیسوں کی ادائیگی کی تھی تاہم پولیس کے مطابق 61 سالہ ایڈورڈز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اخبار نے انکشاف کیا کہ بی بی سی کے معروف پریزینٹر نے نوجوان لڑکی کو 3 سال تک فحش تصاویر کے لیے 35 ہزار پاؤنڈ (45 ہزار ڈالر) ادا کیے۔

    لڑکی کی والدہ نے برطانوی اخبار کو بتایا تھا کہ اس کی بیٹی 17 سال کی تھی جب سے ٹی وی شخصیت سے رابطے میں تھی اوراب اس کی عمر 20 برس ہے لڑکی کی والدہ کے مطابق فحش تصاویر کے بدلے بھیجی گئی رقم اس کی بیٹی کوکین کا نشہ کرنے کیلئے استعمال کرتی رہی، نتیجہ یہ نکلا کہ کبھی خوش وخرم رہنے والی بیٹی اب نشے میں دھت بد روح بن گئی ہے۔

    یوکرین کو نیٹو کا رکن بنایا جانا مستقبل قریب میں نہیں ہوگا،امریکا

    خبرکی اشاعت کے بعد بی بی سی نے میزبان کو معطل کردیا لیکن ان کا نام سامنے نہیں لایا گیاتھا اور میزبان کے خلاف ادارتی تحقیقات کا اعلان کیا تھا تاہم ٹی وی کی جانب سے میزبان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا جس کے بعد ٹی وی سے وابسطہ کئی میزبانوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے وضاحت کرنا شروع کر دی تھیں کہ اس جنسی اسکینڈل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ہیو ایڈورڈ کی اہلیہ نے اپنے شوہر کا نام ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اب میڈیا میں اس خبر کے حوالے سے گردش کرتی افواہیں دم توڑ جائیں گی اور برطانوی ٹی وی کے دیگر میزبانوں کو درپیش مشکلات ختم ہو جائیں گی۔

    ان کے خاندان کا کہناہے کہ ہو کی صحت بہتر ہونے کے بعد وہ خود الزامات کا جواب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اہلیہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ خبروں کے بعد یہ ہمارے خاندان کیلئے مشکل پانچ دن تھے، میں اپنے شوہر کی جانب سے یہ بیان دے رہی ہوں جس کی وجہ میرے شوہر کی ذہنی صحت سے جڑے خدشات اور ہمارے بچوں کی حفاظت ہے۔

    ترک ناول نگار ، کالم نگار فاطمہ عالیہ ٹوپوز

    بیان میں بتایا گیا کہ ہوو ایڈورڈز ذہنی صحت کے سنجیدہ مسائل سے متاثر ہونے کے باعث حالیہ برسوں میں شدید ڈپریشن کا علاج کرواتے رہے ہیں۔ حالیہ واقعات کے بعد ان کی طبیعت خراب ہونے کے بعد ان کا سپتال میں علاج جاری ہے جہاں وہ کچھ عرصہ تک رہیں گے۔

    ساؤنڈ ریڈیو اسٹیشن میں کیریئر کا آغاز کرنے کے بعد ایڈورڈز نے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے 1984 میں ایک ٹرینی کی حیثیت سے بی بی سی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ دو سال کے اندر پارلیمانی نامہ نگار بن گئے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک ویسٹ منسٹر پر رپورٹنگ کی۔

    واضح رہے کہ انگلینڈ میں جنسی تعلقات کیلئے رضامندی کی عمر 16 سال ہے تاہم 18 سال سے کم عمر کے کسی شخص کی تصاویر کو چائلڈ پورنوگرافی قراردیا جاسکتا ہے لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے الزامات کی جانچ مکمل کرلی ہے. میٹ پولیس کے خصوصی کرائم ڈویژن کے ڈیٹیکٹیو اس نیتجے پر پہنچے ہیں کہ ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں کہ کوئی جرم ہوا ہے۔

    وزن کم کرنے والے انجیکشن کا استعمال خود کشی کا سبب بن سکتا ہے؟

    بیان میں کہا گیا کہ پولیس اسی فرد کے خلاف مزید الزامات سے آگاہ ہے لیکن نئے الزامات کے بارے میں کوئی معلومات یا تفصیلات نہیں ملیں ایسی کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔

    ہووایڈورڈ گزشتہ سال تنخواہ میں اضافہ حاصل کرنے والے کچھ افراد میں سے ایک ہیں۔ کارپوریشن کے سالانہ اکاؤنٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی تنخواہ 25,000 پاؤنڈ سے بڑھ کر 435,000 پاؤنڈہکردی گئی تھی جس سے وہ بی بی سی کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے صحافی بن گئے ہیں بی بی سی کا کہنا ہے کہ الزامات کی تفتیش جاری رہے گی۔ اس سے قبل پولیس کی درخواست پر بی بی سی کی تفتیش روک دی گئی تھی۔

    وزن کم کرنے والے انجیکشن کا استعمال خود کشی کا سبب بن سکتا ہے؟

  • برطانوی نشریاتی ادارے کی شائع ہونے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی اس پی آر

    برطانوی نشریاتی ادارے کی شائع ہونے والی خبر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے، آئی اس پی آر

    آئی ایس پی آر نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رات کے واقعات پر خبر کو گمراہ کن قرار دے دیا-

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کا کہنا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی آج شائع ہونے والی خبر سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ عام پروپیگنڈہ کہانی میں کوئی معتبر، مستند اور متعلقہ ذریعہ نہیں ہے اور یہ بنیادی صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق بی بی سی کی 9، 10 اپریل کی درمیانی شب کے واقعات پر گمراہ کن جعلی کہانی میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور جو بھی واضح طور پر ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ لگتا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ معاملہ بی بی سی حکام کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے 9، 10 اپریل کی درمیانی شب کے واقعات پرایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔

    سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے۔لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا تھا-

    عمران خان کی نشانی جو علی محمد قومی اسمبلی سے جاتے وقت ساتھ لے گئے

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کیا تھا کابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔

    بی بی سے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔اس ملاقات میں کیا بات ہوئی باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔

    نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت…

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔ان ذرائع کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ‘انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔ سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا۔

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ‘ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے۔

    بی بی سی نے رپورٹ میں کہا تھا کہ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی-

    تاہم آئی ایس پی آرنےبرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رات کے واقعات پر مبنی مذکورہ خبر کو گمراہ کن قرار دے دیا ہے-

    تاریخ رقم،عمران خان سابق وزیراعظم ، عدم اعتماد کامیاب