Baaghi TV

Tag: برطانہ

  • برطانیہ میں پاکستانی ملازمین کی شدید ضرورت، ویزوں کا اعلان

    برطانیہ میں پاکستانی ملازمین کی شدید ضرورت، ویزوں کا اعلان

    برطانوی حکومت نے غیر ملکی سیزنل ورکرز کے لیے 43 ہزار ویزے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تمام ویزے ہارٹیکلچر سیکٹر کے لیے ہوں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نئے سال میں پولٹری سیکٹرکے لیے اضافی دوہزار ویزے جاری کیے جائیں گے۔ان ویزوں سے پاکستانی محنت کش بھی مستفید ہوسکتے ہیں۔ دی نیشنل فارمرز یونین(یو کی)نے ویزوں کے اجرا کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبے کو محنت کشوں کی ضرورت ہے اس لیے افرادی قوت کی درآمد ناگزیر ہوچکی ہے۔نیشنل فارمرز یونین نے کئی سال تک افرادی قوت کی درآمد کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے کو موسمی یا عارضی ورکرز کی ضرورت رہتی ہے۔نیشنل فارمرز یونین کے صدر ٹام بریڈشا نے اس سلسلے میں سابق شیڈو وزیرِداخلہ یویٹ کوپر سے بھی ملاقات کی تھی۔ رواں سال لیبر پارٹی کے اقتدار میں آنے پر انہوں نے ماحول، خوراک اور دیہی امور کے وزیرِمملکت اسٹیو ریڈ سے بھی ملاقات کی اور اپنے شعبے کی مشکلات سے آگاہ کیا۔رائے عامہ کے چند حالیہ جائزوں کے مطابق برطانیہ میں عارضی ویزے پر کام کرنے والے غیر ملکی محنت کشوں میں سے 91 فیصد نے برطانیہ میں کام کرنے کو ایک اچھا تجربہ قرار دیا ہے اور 95 فیصد نے دوبارہ آنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

    کراچی، لاپتا 6 بلوچ طلبہ واپس گھر پہنچ گئے

    کائونٹر پر آکر ٹرین چلنے کا وقت کیوں پوچھا ، کراچی اسٹیشن عملے کا نوجوان پر تشدد

    اللہ کی رضا کیلئے نتاشا کو معاف کیا‘ کارساز واقعے کے ورثا کا حلف نامہ جمع

    بھارتی افواج کےظُلم نے ناپاک عزائم کا پردہ چاک کر دیا ہے، خالد مقبول صدیقی

  • گوروں کولذیذ ترین کھانوں کا چسکا دینے والےپاکستانی نژاد ’موجد‘ علی احمد وفات پاگئے

    گوروں کولذیذ ترین کھانوں کا چسکا دینے والےپاکستانی نژاد ’موجد‘ علی احمد وفات پاگئے

    برطانیہ: چکن تکہ مصالحہ نامی ڈش کے پاکستانی نژاد ’موجد‘ علی احمد چل بسے،برطانیہ کے شہر گلاسگو میں رہنے والے پاکستانی نژاد شیف جنھیں چکن تکہ مصالحہ کا مؤجد کہا جاتا ہے 77 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔علی احمد اسلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے یہ ڈش 1970 کی دہائی میں تیار کی تھی جب انھیں ایک گاہک نے کہا تھا کہ کیا کوئی ایسا کوئی طریقہ ہو سکتا ہے کہ جس سے ان کا چکن تکہ کم خشک ہو۔

    انھوں نے اس کا حل ٹماٹر ساس کی مدد سے نکالا۔ انھوں نے ٹماٹر سوپ کے کین کی مدد سے بھی یہ ڈش مختلف انداز میں تیار کی، جسے بہت پسند کیا گیا۔اُن کی موت کی خبر شیش محل نامی اس ریسٹورنٹ نے دی ہے جہاں وہ کام کرتے تھے۔ ان کی موت کے سوگ میں شیش محل ہوٹل کو 48 گھنٹوں کے لیے بند کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

    دوستوں اور گاہکوں میں ’مسٹر علی‘ کے نام سے پہچان رکھنے والے علی احمد اسلم پاکستان میں پیدا ہوئے تھے مگر اپنے نوجوانی کے دنوں میں اپنے خاندان کے ہمراہ برطانیہ چلے گئے تھے، جہاں انھوں گلاسگو کے مغربی کنارے پر سنہ 1964 میں ’شیش محل‘ کے نام سے ریسٹورنٹ کھولا۔

    اس سے پہلے انہوں اے ایف پی کو ایک انٹریو بھی دیا تھا ، جس میںانھوں نے اس لمحے کی تفصیلات بتائیں جب انھوں نے گلاسکو کی پسندیدہ ترین ڈشز میں سے ایک متعارف کرائی۔انھوں نے چکن تکہ مصالحہ بنانے کے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ چکن تکہ مصالحہ کی ڈش اُن کے ریستوران میں ایجاد ہوئی تھی۔ ان کے مطابق ہم یہاں چکن تکہ بناتے تھے اور ایک دن ایک گاہک آئے اور کہا کہ وہ اس کے ساتھ کچھ ساس حاصل کرنا چاہیں گے کیونکہ یہ کچھ ڈرائی یعنی خشک ہے۔

    ان کے مطابق ہم نے یہ سوچا کہ ہم چکن ساس کے ساتھ بہتر تیار کر سکتے ہیں۔ یہاں سے ہی پھر ہم نے چکن تکہ ساس کے ساتھ بنانا شروع کر دیا جس میں دہی، کریم اور مصالحے موجود تھے۔ان کے مطابق یہ ایک ایسی ڈش تھی جو ہمارے گاہکوں کے ذائقے کے معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی۔ ان کے مطابق عموماً وہ ’ہاٹ کری‘ کو ترجیح نہیں دیتے لہٰذا ہم نے اس ڈش کو دہی اور کریم کے ساتھ تیار کرنا شروع کیا۔

    گلاسگو سے سابق رکن پارلیمان محمد سرور ایک بار ہاؤس آف کامنز میں یہ قرارداد بھی لائے تھے کہ اس ڈش کو ’گلاسویگین ڈیلیکیسی‘ یعنی گلاسگو کی خاص ڈش قرار دیا جائے۔سوشل میڈیا پر سینکڑوں صارفین نے مسٹر علی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ان صارفین نے وہ وقت یاد کیا جب وہ اس ریستوران کا رخ کرتے تھے۔ انھوں نے مسٹر علی کو ایک انتہائی انسان دوست شخصیت قرار دیا۔سرویز میں اکثر چکن تکہ مصالحہ کو برطانیہ کی ایک بہترین ڈش قرار دیا اگرچہ چکن قورمہ نے بھی اس معیار پر پورا اترنے کی کوشش کی ہے۔

  • برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلس کا قوم سے پہلے خطاب میں آنجہانی ملکہ کو زبردست خراج عقیدت

    برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلس کا قوم سے پہلے خطاب میں آنجہانی ملکہ کو زبردست خراج عقیدت

    لندن:برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلس سوئم نے قوم سے اپنا پہلا خطاب کرلیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد برطانیہ کے نئے بادشاہ بننے والے چارلس سوئم نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ میں بہت زیادہ دکھی احساسات کے ساتھ آپ سے بات کر رہا ہوں، ملکہ برطانیہ الزبتھ ایک متاثرکن شخصیت تھیں، انہوں نے اپنی زندگی لوگوں کی خدمت کے لیے وقف رکھی۔

    ویڈیو خطاب میں بادشاہ چارلس نے آنجہانی والدہ ملکہ الزبتھ دوم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکہ نے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے بہت قربانیاں دیں ، ان کی لگن اور محنت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔

    انہوں نے کہا کہ ملکہ کو روایات سے پیار تھا،میں اپنی والدہ کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتاہوں، میری والدہ کا ان کی قربانیوں، لگن کا بہت شکریہ۔ اس کے علاوہ بادشاہ چارلس نے بیٹے ولیم اور بہو کیٹ کو پرنس اینڈ پرنسس آف ویلز بنانے کا اعلان بھی کیا۔گزشتہ روز برطانیہ پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئی تھیں۔ انہوں نے 70 سال تک برطانیہ پر حکمرانی کی۔

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد ان کے سب سے بڑے بیٹے چارلس برطانیہ کے نئے بادشاہ بنے ہیں۔

     

     

     

     

     

    یاد رہے کہ ملکہ کے انتقال کا اعلان بکنگھم پیلس نے پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے کیا۔بکنگھم پیلس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آج دوپہر ملکہ الزبتھ سکاٹ لینڈ میں واقع بیلموریل پیلس میں انتقال کر گئیں۔‘ملکہ کے انتقال پر برطانوی حکومت نے ملک بھر میں 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔بی بی سی کے مطابق جمعرات کو ہی ملکہ کے خاندان کے افراد سکاٹ لینڈ میں واقع بلموریل پیلس میں کو جمع ہوگئے تھے۔ملکہ الزبتھ 1952 میں تحت نشین ہوئیں اور اس دوران انہوں نے کئی سماجی تبدیلیاں دیکھیں۔

     
    شاہی خاندان کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے صاحبزادے کنگ چارلس سوئم اور ان کی اہلیہ کمیلا پارکر جمعرات بیلموریل پیلس میں گزاریں گے اور جمعے واپس لندن آئیں گے۔
    واضح رہے کہ ملکہ گزشتہ کچھ عرصے سے سکاٹ لینڈ میں واقع بیلموریل پیلس میں مقیم تھیں۔
    ملکہ الزبتھ کے دور اقتدار کا دورانیہ جنگ عظیم دوم کے بعد کفایت شعاری کی مہم، بادشاہت سے دولت مشترکہ میں منتقلی، سرد جنگ کے خاتمے اور برطانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت اور پھر علیحدگی پر مشتمل تھا۔
    ان کے دوراقتدار میں ونسٹن چرچل سے لزٹرس تک 15 وزرائے اعظم آئے۔ چرچل 1874 میں پیدا ہوئے تھے جب کہ الزبتھ کے دور بادشاہت کے آخری وزیراعظم لز ٹر کی پیدائش 101 سال بعد 1975 میں ہوئی جن کو ملکہ نے رواں ہفتے وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ملکہ الزبتھ نے اپنے دور اقتدار میں وزائے اعظم کے ساتھ ہفتہ وار ملاقائیں جاری رکھیں۔
     
    ملکہ الزبتھ 21 اپریل 1926 کو مے فیر لندن میں پیدا ہوئیں۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ الزبتھ برطانیہ کی ملکہ بن جائیں گی لیکن دسمبر 1936 میں ان کے چچا ایڈورڈ ہشتم نے دو مرتبہ کے طلاق یافتہ امریکی خاتون ویلس سیمپسن سے شادی کے لیے تخت سے دستبردار ہوگئے۔ جس کے بعد الزبتھ کے والد جارج ششم بادشاہ بن گئے اور 10 سال کی عمر میں الزبتھ جو جو کہ اس وقت لیلیبٹ کے نام سے خاندان میں مشہور تھیں ولی عہد بن گئی۔
    اس کے تین سال بعد برطانیہ اور نازی جرمنی کے درمیان خلاف جنگ چھڑ گئی۔ جنگ کے دوران کا زیادہ عرصہ الزبتھ اور ان کی چھوٹی بہن پرنس مارگریٹ نے ونڈسر پیلس میں گزاریں جب ان کے والدین نے انہیں کینیڈا بھیجنے سے انکار کیا۔
    اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد الزبتھ نے آکزیلیری ٹیریٹوریل سروس سے بنیادی ڈرائیونگ کی تربیت حاصل کی۔ملکہ الزبتھ  کے وفات پر برطانوی وزیراعظم لز ٹرس نے کہا کہ ملکہ نے ہمیں استحکام اور طاقت فراہم کی جس کی ہمیں ضرورت تھی۔’زندگی میں انہوں نے 96 سے زیادہ ملکوں کے دورے کیے اور کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بدلیں۔‘

     

    وزیراعظم نے کہا کہ جیسا ایک ہزار سے زائد سالوں سے ہوتا آیا ہے آج تاج ہمارے نئے بادشاہ اور ریاست کے نئے سربراہ کنگ چارلس سوم کو منتقل ہوگا۔ ہم کنگ چارلس سے ان کی والدہ کی موت پر تعزیت کرتے ہیں۔‘دوسری جانب ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر دنیا بھر کے سربراہان حکومت اور اہم شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
  • یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    لندن:یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا،اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کے لیے یوکرینی فوج کی جنگی بنیادوں پر ٹرینگ دینے کافیصلہ کیاہے ،ادھر یوکرینی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے روس کے حملے کے بعد یوکرین کے دوسرے دورے کے موقع پر صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات میں یوکرین کی افواج کے لیے فوجی تربیتی پروگرام شروع کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    بورس جانسن کو زیلنسکی نے ایک ’عظیم دوست‘ کے طور پر خوش آمدید کہا اور اس کے بعدبورس جانسن نے یوکرینی صدر کے ساتھ اپنی ایک تصویر ٹوئٹر پر پوسٹ کی جس میں کہا گیا تھا کہ محترم صدر ولادیمیر، کیف میں دوبارہ آ کر اچھا لگ رہا ہے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ملاقات میں یوکرین کی افواج کے لیے ایک بڑا تربیتی فوجی پروگرام شروع کرنے کی پیشکش کی ہے جس میں 120 دن میں 10ہزار فوجیوں کو تربیت دینے کی صلاحیت موجود ہے۔

    برطانوی ویر اعظم نے کہا کہ آج میرا اس جنگ کے دوران دورے کا مقصد یوکرین کے عوام کو ایک واضح اور سادہ پیغام دینا ہے، برطانیہ آپ کے ساتھ ہے اور جب تک کہ آپ غالب نہیں آتے ہم آپ کے ساتھ رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے میں نے صدر ولادمیر زیلنسکی کو ایک نئے فوجی تربیتی پروگرام کی پیشکش کی ہے جو اس جنگ کی صورتحال کو تبدیل کر سکتا ہے اور کہا کہ جیت کے لیے سب سے زیادہ طاقت ور چیز یوکرین کے عوام کی جیت کا عزم ہے۔

    روس کے یوکرین پر حملے کے بعد برطانوی وزیراعظم کا غیر اعلانیہ دورہ یوکرین اور ولادمیر زیلنسکی کی حمایت کے حوالے سے بورس جانسن کے عزم کا تازہ ترین مظہر ہے۔انہوں نے یہ دورہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور رومانیہ کے رہنماؤں کے کیف کے سفر کے ایک دن بعد کیا گیا جنہوں نے یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت اور رکنیت کے امیدوار کی حیثیت کی توثیق کی۔

    ولادمیر زیلنسکی نے مزید کہا کہ اس جنگ کے متعدد ایام نے ثابت کیا ہے کہ یوکرین کے لیے برطانیہ کی حمایت پختہ اور پرعزم ہے، ہمارے ملک کے عظیم دوست بورس جانسن کو دوبارہ کیف میں دیکھ کر ہمیں خوشی ہوئی۔

    یوکرین کے صدر نے مختصر بیان میں کہا کہ انہوں نے محاذ جنگ پر صورتحال اور بھاری ہتھیاروں کی ترسیل میں اضافے اور یوکرین کے فضائی دفاع کو بڑھانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک مشترکہ نقطہ نظر ہے کہ کس طرح فتح کی طرف بڑھنا ہے کیونکہ یوکرین کو بالکل اسی کی ضرورت ہے کہ ہماری ریاست کیسے فتح حاصل کرتی ہے۔

  • کورونا وائرس کےساتھ ساتھ امریکا اور یورپ میں بچوں میں پراسرار وائرس کا پھیلاؤ

    کورونا وائرس کےساتھ ساتھ امریکا اور یورپ میں بچوں میں پراسرار وائرس کا پھیلاؤ

    واشنگٹن :ایک طرف کورونا وائرس کی تباہ کاریاں تو دوسری طرف امریکا اور یورپ میں بچوں میں پراسرار وائرس کا پھیلاؤ،اطلاعات کے مطابق امریکا اور یورپ میں بچوں میں پراسرار قسم کا ہیپاٹائٹس پھیل رہا ہے جس نے ماہرین کو تشویش زدہ کردیا ہے۔

    بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق یورپ کے چند ممالک اور امریکا میں بچوں میں ہیپاٹائٹس کی پراسرار قسم کی تشخیص کے بعد ماہرین نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے بیماری کا سراغ لگانے پر کام شروع کردیا ہے۔

    ابتدائی طور پر کچھ ہفتے قبل برطانیہ کے درجنوں بچوں میں ہیپاٹائٹس کی پراسرار قسم کی تشخیص ہوئی تھی، جس سے ملک میں پریشانی کا عالم پیدا ہوگیا تھا۔

    تاہم اب امریکا سمیت یورپ کے دیگر پانچ ممالک کے بچوں میں بھی اسی طرح کی ہیپاٹائٹس کی پراسرار قسم کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے بعد کئی بچوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہیپاٹائٹس کی پراسرار قسم سے بچوں کے جگر میں تیزابیت کی مقدار زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مذکورہ وائرس پھیلنے کے کیا اسباب ہیں؟

    تقریباً ایک ہی طرح کی ہیپاٹائٹس کی پراسرار قسم کے کیسز برطانیہ، امریکا کے علاوہ ڈنمارک، آئرلینڈ اور نیدرلینڈ میں بھی ریکارڈ کیے گئے۔ مذکورہ قسم کے حوالے سے برطانوی ماہرین نے بتایا تھا کہ یہ روایتی ہیپاٹائٹس سے مختلف ہے۔

    یورپین سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (ای سی ڈی سی) کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مذکورہ پراسرار قسم نے کتنے بچوں کو متاثر کیا ہے، تاہم فوری طور پر یہ قسم چار یورپی ممالک میں ریکارڈ ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی کہا ہے کہ ابھی تک ہیپاٹائٹس کی مذکورہ قسم سے آئرلینڈ میں 5 سے بھی کم کیسز جب کہ اسپین میں 3 کیسز سامنے آ چکے ہیں مگر خیال کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔

    امریکی ریاست الاباما کے ماہرین کے مطابق اب تک ایک سے 6 سال کی عمر کے 9 بچوں میں مذکورہ پراسرار قسم کی تشخیص ہو چکی ہے، جس میں سے دو بچوں کا ہنگامی بنیادوں پر جگر کا ٹرانسپلانٹ بھی کرنا پڑا۔

    یاد رہے کہ ہیپاٹائٹس کا وائرس جگر کو متاثر کرتا ہے اور مرض بڑھ جانے سے ہیپاٹائٹس کینسر میں تبدیل ہوجاتا ہے، مذکورہ پراسرار وائرس بھی بچوں کے جگر کو سخت متاثر کر رہا ہے، تاہم اس وائرس پھیلنے کی وجوہات کا فوری طور پر علم نہیں ہو سکا۔

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی

  • دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    ماسکو :دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا ،اطلاعات ہیں‌ کہ یوکرائنی تنازعے پر جینوا میں ہونے والے روس امریکا کے اعلی سطح مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے،

    دوسری طرف معتبر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگریہ معاملات درست نہ ہوئے تو روس اورامریکہ ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں جس کا نتیجہ دنیا کی تباہی کے سوا کچھ نہیں ،امریکہ اور روس کو معاملات بہم رضامندی سے حل کرنے چاہیں

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سلامتی کی ضمانتوں پر روس امریکہ کی مشاورت کے بعد کہا کہ روس اور امریکہ نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے معاملات پر کسی پیش رفت تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف اپنے وفد کے ہمراہ جنیوا میں قائم امریکی سفارتی مشن کے دفتر پہنچے جہاں ان کے امریکی نائب وزیر خارجہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا۔

    نیٹو کے سربراہ نے اپنے حالیہ بیان میں روس کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسے یوکرائن پر حملے کی صورت میں سنگین قیمت چکانی پڑے گی۔

    روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا نے یوکرین کو نیٹو کی ممبرشپ نہ دینے کی ضمانت نہیں دی، روس کو مضبوط ضمانت چاہیے کہ یوکرین کو کبھی نیٹو کا حصہ نہیں بنایا جائے گا جبکہ روس یوکرائن پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ روس12 اور13 جنوری کو نیٹو اور او ایس سی ای کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد سلامتی کی ضمانتوں پر مزید اقدامات پر غور کرے گا۔