Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • آسیان ریجنل فورم کے موقع پر اسحاق ڈار  سے برطانوی عہدیدارسے ملاقات

    آسیان ریجنل فورم کے موقع پر اسحاق ڈار سے برطانوی عہدیدارسے ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر آج برطانیہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات کی۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر آج برطانیہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور برطانیہ نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور موجودہ علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے ایڈ ملی بینڈ کو ان کی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد دی اور ان کے لیے نیک خواہشا ت کا اظہار کیا،دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

    ملاقات کے دوران برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی مثبت خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی تارکین وطن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال، بالخصوص خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    برطانوی وزیر خارجہ نے حالیہ امریکا ایران کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اس موقع پر دونوں فریقوں نے خطے میں حالیہ کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے مسلسل مذاکرات، سفارت کاری اور تعمیری روابط ناگزیر ہیں۔

  • برطانیہ میں شدید گرمی، جون 142 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ قرار

    برطانیہ میں شدید گرمی، جون 142 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ قرار

    برطانیہ میں جون 2026 شدید گرمی کے باعث غیرمعمولی طور پر گرم ثابت ہوا، جہاں ملک بھر میں اوسط درجۂ حرارت گزشتہ 142 برس کی تاریخ میں جون کا دوسرا گرم ترین ریکارڈ کیا گیا، انگلینڈ میں یہ اب تک کا گرم ترین جون رہا۔

    برطانیہ کے محکمہ موسمیات کے مطابق جون 2026 ملک کی تاریخ کے گرم ترین مہینوں میں شامل رہا، برطانیہ اور ویلز میں گزشتہ ماہ 1884 کے بعد سے دوسرا گرم ترین مہینہ رہا، سرے چارلووڈ میں درجہ حرارت 35.7 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ، 1976 میں جون کے مہینے میں درجہ حرارت 35.6 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    موسمیاتی ادارے کے مطابق جون کے آخری ہفتے میں شدید ہیٹ ویو کے دوران کئی علاقوں میں درجۂ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جبکہ رات کے وقت بھی درجۂ حرارت غیرمعمولی طور پر بلند رہا اور کئی مقامات پر “ٹراپیکل نائٹس” ریکارڈ کی گئیں، جہاں درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ایسے شدید گرمی کے واقعات کو زیادہ بار بار اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما کر رہی ہیں، جس کے باعث صحت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور پانی کی فراہمی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

  • برطانیہ میں 45 ہزار  غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا اعلان

    برطانیہ میں 45 ہزار غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا اعلان

    لندن: برطانوی حکومت نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اپنی پالیسی مزید سخت کرتے ہوئے آئندہ 10 برسوں کے دوران 45 ہزار مزید غیر قانونی تارکین وطن اور غیر ملکی مجرموں کو برطانیہ سے ملک بدر یا بے دخل کرنے کا بڑا منصوبہ سامنے رکھ دیا ہے۔

    حکومتی اعلامیے کے مطابق ملک بدری کے عمل کو تیز، مؤثر اور منظم بنانے کے لیے امیگریشن ریموول سینٹرز (حراستی مراکز) کی گنجائش میں نمایاں اضافہ کیا جائے گااس مقصد کے لیے مختلف حراستی مراکز میں ایک ہزار نئے بستروں کا اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بدری کے منتظر افراد کو زیادہ مؤثر انداز میں حراست میں رکھا جا سکے اور انہیں طویل عرصے تک کمیونٹی میں آزاد رہنے کا موقع نہ ملے۔

    برطانوی حکام کے مطابق اس منصوبے سے خاص طور پر غیر ملکی مجرموں، غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی ایسے افراد کو جلد حراست میں لے کران کی ملک بدری کے عمل کو ممکنہ حد تک مختصر وقت میں مکمل کیا جائے گا، یہ اقدامات ا میگریشن نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور سخت بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سرحدی سلامتی کو مضبوط کرنا، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی حوصلہ شکنی کرنا اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔

    برطانوی حکام نے واضح کیا کہ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے مستقبل میں بھی مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے اور ملک بدری کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے گا تاکہ امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے نئی حکمت عملی کا مقصد برطانیہ میں صرف قانونی اور ضابطے کے مطابق امیگریشن کو فروغ دینا اور غیر قانونی قیام کے امکانات کو کم سے کم کرنا ہے۔

  • شہزادہ ہیری کی فیملی سمیت شاہی محل میں واپسی

    شہزادہ ہیری کی فیملی سمیت شاہی محل میں واپسی

    برطانیہ کے شاہی خاندان میں تعلقات کی بحالی کے آثار ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں، جب شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے اگلے ماہ برطانیہ دورے کی تیاریاں سامنے آئی ہیں-

    برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے اگلے ماہ اپنے بچوں کے ہمراہ برطانیہ کے دورے کے دوران شاہ چارلس سوم کی جانب سے شاہی رہائش گاہ میں قیام کی دعوت قبول کر لی ہے 2022 کے بعد پہلی مرتبہ شہزادہ ہیری ڈیوک آف سسیکس، اور میگھن ڈچس آف سسیکس اپنے دونوں بچوں پرنس آرچی اور شہزادی للی بیٹ کے ہمراہ برطانیہ پہنچیں گے جبکہ 4 سال بعد بچوں کی بھی یہ پہلی آمد ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق شاہی خاندان کی جانب سے سسیکس خاندان کو ماضی میں بھی شاہی اسٹیٹ میں قیام کی پیشکش کی جاتی رہی تاہم پہلی بار ہیری اور میگھن نے یہ دعوت قبول کی ہے، وہ اپنے دورے کے دوران کچھ وقت شاہی رہائش گاہ اور کچھ وقت نجی رہائش گاہ میں گزاریں گے، اس پیش رفت کو شاہی خاندان میں ممکنہ مفاہمت کی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن نے 2020 میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے امریکا کی ریاست کیلیفورنیا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا اس فیصلے کے بعد دونوں نے متعدد انٹرویوز اور ہیری کی خودنوشت میں شاہی خاندان، برطانوی ٹیبلوئڈ میڈیا اور بعض اداروں پر شدید تنقید کی تھی اور شاہی خاندان میں اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔

    میگھن مارکل آخری بار 2022 میں ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے برطانیہ آئی تھیں جبکہ شہزادہ ہیری اپنے والد شاہ چارلس سوم کی 2023 کی تاج پوشی میں اکیلے شریک ہوئے تھے گزشتہ برس ستمبر میں شہزادہ ہیری اور شاہ چارلس کے درمیان تقریباً 19 ماہ بعد کلیرنس ہاؤس میں نجی ملاقات ہوئی تھی یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب شاہ چارلس کینسر سے جنگ لڑ رہے ہیں،حالیہ برسوں میں شاہ چارلس اور شہزادہ ہیری کے درمیان محدود رابطے اور نجی ملاقاتوں نے تعلقات میں بہتری کی امیدیں پیدا کی ہیں، جبکہ شہز ا دہ ولیم کے ساتھ اختلافات اب بھی برقرار بتائے جاتے ہیں، ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران شاہی سیکیورٹی فراہم کیے جانے کا امکان ہے، تاہم انتظامات کی تفصیلا ت سامنے نہیں آئیں۔

    شہزادہ ہیری نے امریکا کی سابق اداکارہ میگھن مارکل سے 19 مئی 2018 کو ونڈسر کیسل کے تاریخی سینٹ جارج چیپل میں شاہی طرز کی تقریب میں شادی کی تھی جس میں دنیا بھر کی معروف شخصیات نے شرکت کی اگرچہ ملکہ الزبتھ دوم نے اس شادی کی باقاعدہ منظوری دی تھی اور میگھن کو شاہی خاندان میں خوش آمدید بھی کہا تھا تاہم ان کے تعلقات بہت زیادہ خوشگوار نہیں تھے۔

    بعد ازاں ہیری اور میگھن کے شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کرکے امریکا منتقل ہونے اور ٹی وی انٹرویوز و ہیری کی کتاب میں شاہی خاندان پر تنقید کے باعث تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے میڈیا میں یہ تاثر ضرور رہا کہ ملکہ الزبتھ ان معاملات سے ناخوش تھیں لیکن انہوں نے کبھی عوامی سطح پر میگھن کے خلاف ذاتی ناراضی کا اظہار نہیں کیا،ملکہ برطانیہ نے 2020 میں شہزادہ ہیری اور میگھن کے شاہی فرائض چھوڑنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دونوں اور ان کے خاندان کے بدستور بہت عزیز ہیں۔

  • اسحاق ڈار سے برطانوی  وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار سے برطانوی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ٹیلی فون پر اس اہم گفتگو کے دوران علاقائی امن و استحکام، سفارتی تعاون اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،برطانوی وزیر خارجہ نے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کی کھل کر تعریف کی۔

    اعلامیے کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا،انہوں نے خاص طور پر پاکستان کی کامیاب ثالثی کا ذکر کیا، جس کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط ممکن ہوئے،برطانیہ نے اسے عالمی سفارت کاری میں پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

    اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک فریقین کے درمیان مذاکرات، سفارت کاری اور تعمیری روابط کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں اسی طرح جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے، دونوں رہنما ؤں نے عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور مستقبل میں بھی اعلیٰ سطح کی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا۔

  • برطانیہ:’لیری دی کیٹ‘  10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے پرانا رہائشی بِلّا

    برطانیہ:’لیری دی کیٹ‘ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے پرانا رہائشی بِلّا

    برطانیہ کا مشہور بِلّا ’لیری دی کیٹ‘ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے پرانا رہائشی بن گیا۔

    مشہور بِلّے ’لیری دی کیٹ‘ کو 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں رہتے ہوئے 15 سال مکمل ہو گئے، اس دوران وزیرِ اعظم آفس میں 6 وزرائے اعظم آئے اور گئے، لیکن یہ بِلّا 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں اپنے ’چیف ماؤزر‘ کے عہدے پر براجمان رہا ’لیری دی کیٹ‘ نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں چیف ماؤزر کے طور پر 6 مختلف وزرائے اعظم کے ساتھ خدمات انجام دیں،اس دوران ’لیری دی کیٹ‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں کی توجہ بھی حاصل کر چکا ہے۔

    اس کو فروری 2011ء میں سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور ان کی اہلیہ سمانتھا نے اپنے بچوں کے لیے پالتو جانور کے طور پر ’بیٹر سی ڈاگز اینڈ کیٹس ہوم‘ سے گود لیا تھااب 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں بطور چیف ماؤزر ’لیری دی کیٹ‘ کی ذمے داری چوہوں کی تعداد کو قابو میں رکھنا ہے۔

    برطانیہ میں 1920ء کی دہائی سے اس سرکاری عہدے پر کوئی نہ کوئی بلی فائز رہتی ہے ، اسی لیے اب یہ 19 سالہ بِلّا اس عہدے پر فائز ہےیہ بِلّا مرکزی لندن میں وزیرِاعظم کے گھر کے دروازے کے باہر بار بار دکھائی دینے کی وجہ سے عوام کی خصوصی توجہ کا مرکز بھی بن گیا ہے اس کا سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ایک آفیشل اکاؤنٹ بھی موجود ہے اور اسے لاکھوں لوگ فالو کرتے ہیں۔

  • کنگ چارلس کا ٹیکس ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    کنگ چارلس کا ٹیکس ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    برطانوی بادشاہ کنگ چارلس نے اپنی ذاتی ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات پہلی بار عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بکنگھم پیلس نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معلومات مالی سال 2024-25 سے متعلق ہوں گی اور جمعرات کو جاری کی جائیں گی یہ اقدام شاہی مالیات سے متعلق سالانہ رپورٹس کا حصہ ہوگا جس کا مقصد شفافیت اور عوامی احتساب کو مزید مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔

    پیلس کے ترجمان کے مطابق بادشاہ نے یہ فیصلہ ذاتی طور پر کیا ہے تاکہ شاہی مالیاتی نظام کو مزید جدید اور قابلِ فہم بنایا جا سکےرپورٹ میں کنگ چارلس کی مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی اور ان پر ادا کیے گئے ٹیکس شامل ہوں گے ان میں ڈچی آف لنکاسٹر سے حاصل آمدن، سینڈرنگھم اور بالمورل کی نجی املاک سے آمدن، ذاتی سرمایہ کاری اور دیگر نجی مالی ذرائع شامل ہیں گزشتہ سال ڈچی آف لنکاسٹر سے بادشاہ کو تقریباً 26.8 ملین پاؤنڈ کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔

    واضح رہے کہ برطانوی بادشاہ قانونی طور پر انکم ٹیکس یا کیپیٹل گینز ٹیکس ادا کرنے کے پابند نہیں ہوتے تاہم کنگ چارلس یہ ادائیگیاں رضاکارانہ طور پر کرتے ہیں، اس بار ان کی مجمو عی ٹیکس ادائیگی کی رقم پہلی مرتبہ عوام کے سامنے ظاہر کی جائے گی ، کنگ چارلس اس سے قبل ولی عہد کی حیثیت میں بھی اپنی ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات جاری کرتے ر ہے ہیں ان کے صاحبزادے اور موجودہ ولی عہد شہزادہ ولیم کو گزشتہ سال ڈچی آف کارنوال سے تقریباً 23 ملین پاؤنڈ آمدن حاصل ہوئی، تاہم وہ اپنی ٹیکس ادائیگیوں کی حتمی رقم ظاہر نہیں کرتے اگرچہ وہ اعلیٰ ترین شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

    یہ مالی تفصیلات شاہی سوورین گرانٹ کی سالانہ رپورٹ کے ساتھ جاری کی جائیں گی، جو شاہی خاندان کے سرکاری اخراجات کی مالی معاونت فراہم کرتی ہے، حالیہ سالوں میں یہ گرانٹ بڑھ کر 137.9 ملین پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے تاہم برطانوی وزارتِ خزانہ کی جانب سے اس میں کمی پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • برطانوی وزیراعظم کا اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا امکان

    برطانوی وزیراعظم کا اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا امکان

    برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کے پیر کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اپنی رخصتی کے طریقہ کار اور نئے لیبر پارٹی لیڈر کے انتخاب کے لیے روڈ میپ بھی پیش کر سکتے ہیں-

    برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنی جماعت لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ قیادت چھوڑنے کے لیے واضح ٹائم ٹیبل دیں ،رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ مبینہ طور پر اس معاملے پر اپنی اہلیہ کے ساتھ چیکرز ریزڈنس میں مشاورت کر رہے تھے،تاہم حکومتی ذرائع نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیئر اسٹارمر اب بھی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور وہ عہدے سے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

    کئیر اسٹارمر پر سیاسی دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب لیبر پارٹی کے سینئر رہنما اینڈی برنہم حالیہ ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے دوبارہ پارلیمنٹ پہنچے، جس کے بعد ان کی قیادت کے لیے حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    رپورٹس کے مطابق کیئر اسٹارمر کو اندازہ ہو چکا ہے کہ پارلیمانی لیبر پارٹی کی بڑی تعداد اب اینڈی برنہم کی حمایت کر رہی ہے برطانوی اخبارات اور سیاسی مبصرین کے مطابق اینڈی برنہم کو تقریباً 300 ارکانِ پارلیمنٹ کی تائید حاصل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ان کے اگلے وزیراعظم بننے کے امکانات مضبوط ہو گئے ہیں،وزیراعظم اسٹارمر نے جمعہ کے روز واضح کیا تھا کہ وہ کسی بھی قیادت کے چیلنج کا مقابلہ کریں گے اور پارٹی کو اندرونی اختلافات سے بچانے کی اپیل بھی کی۔

    سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کیئر اسٹارمر پیر کو مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہیں تو لیبر پارٹی میں قیادت کی منتقلی کا عمل فوری طور پر شروع ہو سکتا ہے اینڈی برنہم اس وقت وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط ترین امیدوار سمجھے جا رہے ہیں اور ان کے حامی ایک منظم اور پُرامن انتقالِ اقتدار کے خواہاں ہیں۔

    دوسری جانب برطانوی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق اینڈی برنہم کی ممکنہ حکومت میں موجودہ وزیر داخلہ شبانہ محمود کو اہم کردار دیے جانے کا امکان ہے اور وہ کابینہ میں برقرار رہ سکتی ہیں، شبانہ محمود امیگریشن نظام میں اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے کی خواہاں ہیں، جبکہ غیرقانونی تارکینِ وطن کے لیے شہریت کے قوانین مزید سخت کیے جانے کی تجاویز بھی زیر غور آ سکتی ہیں۔

    تاہم برطانوی وزیراعظم ہاؤس کے بعض ذرائع کا مؤقف ہے کہ کیئر اسٹارمر تاحال اپنے فرائض پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور انہوں نے باضابطہ طور پر استعفے کا اعلان نہیں کیااس لیے حتمی صورتحال پیر کو متوقع اعلان کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

    واضح رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی تاریخی کامیابی کے بعد اسٹارمر اقتدار میں آئے تھے تاہم بعد ازاں مختلف سیاسی تنازعات اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث ان کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے جس سے حکومت کو عوامی اعتماد کے چیلنج کا سامنا ہے۔

  • برطانیہ میں  16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا اعلان

    برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا اعلان

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان کرتے ہوئے اسے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اقدام قرار دیا ہے۔

    پیر کے روز میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت 16 سال سے کم عمر تمام بچوں کی بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی بند کر دے گی ان کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کی سلامتی اور خوشی پر کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں، اسی لیے یہ پابندی ہر صورت نافذ کی جائے گی پابندی کے تحت کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ آن لائن گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی اجنبی افراد سے بلا نگرانی رابطے کی اجازت نہیں ہوگی ان اقدامات کو انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے ’عالمی معیار کی کارروائی‘ قرار دیا۔

    اس حوالے سے قانون سازی رواں سال کے اختتام تک مکمل کر لی جائے گی جبکہ پابندی کا عملی نفاذ 2027 کے موسمِ بہار سے شروع ہوگا عمر کی تصدیق کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، تاہم یوٹیوب کڈز اور گوگل کلاس روم جیسی بعض تعلیمی سروسز کو استثنی حا صل ہوگا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کو اپنی جانب مسلسل متوجہ رکھیں ان کے بقول ’لامحدود اسکرول‘ جیسی خصوصیات بچوں کو ہوم ورک، مطالعے، کھیل کود اور بروقت آرام سے دور کر دیتی ہیں۔

    دوسری جانب اس فیصلے پر تنقید بھی سامنے آئی ہے اپوزیشن جماعت لبرل ڈیموکریٹس نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے ایک نامکمل اور جلد بازی میں تیار کی گئی پالیسی نافذ کر رہی ہے۔ بعض حکومتی حلقوں میں بھی اس فیصلے کے وقت اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو اپنی جماعت کے اندر سیاسی دباؤ، کابینہ میں استعفوں اور دفاعی اخراجات سے متعلق تنازعات کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ بچوں کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے اور دونوں مقاصد ایک ساتھ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

  • پاک فوج نے برطانیہ میں انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا،تمام بڑے اعزازات پاکستان کے نام

    پاک فوج نے برطانیہ میں انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا،تمام بڑے اعزازات پاکستان کے نام

    پاک فوج نے برطانیہ میں انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج نے عالمی سطح پر ایک اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے برطانیہ میں منعقدہ باوقار انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ میں ہونے والے مقابلے میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی، پاکستانی ٹیم نے نہ صرف مقابلہ جیتا بلکہ تمام بڑے اعزازات بھی اپنے نام کر لیے مقابلے میں بہترین پیس اسٹکر اور بہترین ڈرلر کے ایوارڈز بھی پاکستانی ٹیم نے حاصل کیے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق میجر حیدر گلزار کی قیادت میں 9 رکنی پاکستانی دستہ اس بین الاقوامی مقابلے میں شریک ہوا مقابلے میں مختلف ممالک کی 16 فوجی ٹیموں نے حصہ لیا، یہ کامیابی پاک فوج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت، نظم و ضبط اور غیر معمولی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔