Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • بچوں کے فحش مواد پر امریکی سفارت کار کی خفیہ منتقلی

    بچوں کے فحش مواد پر امریکی سفارت کار کی خفیہ منتقلی

    لندن میں امریکی سفارت خانے میں تعینات ایک امریکی سفارت کار کے خلاف بچوں سے متعلق فحش مواد کے الزامات سامنے آنے کے بعد امریکی حکام نے اسے برطانیہ سے خفیہ طور پر امریکا منتقل کر دیا –

    برطانوی اخبار ’دی سن‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے مذکورہ سفارت کار کے بھائی کی امریکا میں جاری ایک تفتیش کے سلسلے میں الیکٹرانک آلات کا معائنہ کیا تو یہ مواد دریافت ہوا، جس کے بعد گزشتہ ماہ کے آخر میں امریکی میرینز نے لندن میں سفارت کار کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔

    رپورٹ کے مطابق، برطانیہ کی پولیس اور اعلیٰ حکام کو اس وقت خبر دی گئی جب سفارت کار کو ملٹری طیارے کے ذریعے برطانیہ کی حدود سے باہر منتقل کیا جا چکا تھا، جس کے بعد برطانیہ نے اپنی سرزمین پر اس آپریشن کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں،اس کارروائی کے لیے ایک خصوصی امریکی ملٹری جہاز شکاگو سے برطانیہ میں قائم ایک امریکی ایئر بیس پہنچا اور بعد میں سفارت کار کو لے کر واپس امریکا روانہ ہو گیا۔

    اس خفیہ منتقلی پر برطانوی پارلیمنٹ میں سخت تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، کنزرویٹو پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ بین اوبیس جیکی نے اس عمل پر شدید تنقید کر تے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکی میرینز کی جانب سے برطانوی سرزمین پر ایسا چھاپہ مارنا جس کی ان کے پاس کوئی قانونی اجازت نہیں تھی، اور پھر اپنے سفارت کار کو نکالنے کے لیے عسکری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے امریکا لے جانا بالکل ناقابلِ قبول ہے۔

    اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ برطانیہ میں موجود تمام غیر ملکی سفارت کاروں سے مقامی قوانین کی پاسداری کی توقع کی جاتی ہے، تاہم امریکا میں جاری تفتیش کی وجہ سے انہوں نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

    لندن میں موجود امریکی سفارت خانے نے بتایا کہ وہ اپنے عملے سے متعلق ان الزامات سے واقف ہیں اور تمام اہلکاروں کے لیے اعلیٰ اخلاقی معیار برقرار رکھنا ضروری ہے،دوسری طرف ایک امریکی سفارتی ذرائع نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام نے طویل سفارتی عمل اور قانونی تاخیر سے بچنے کے لیے یہ قدم تیزی سے اٹھایا۔

  • پاکستان سمیت 8 ممالک کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کے اقدام کا خیرمقدم

    پاکستان سمیت 8 ممالک کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کے اقدام کا خیرمقدم

    پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، مقطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدا ت پر پابندی کے برطانوی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق آٹھوں ممالک نے برطانیہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی اور ان بستیوں سے منسلک خدمات پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

    مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کا اقدام عالمی برادری کو متحرک کرنے اور غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری میں ملوث بستیوں، اداروں اور افراد کو جوابدہ بنانے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے آٹھ ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھی بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے ہی ٹھوس اقدامات کرے۔

    بیان میں کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کا بھی خیرمقدم کیا گیا ہے، جس میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارتی اشیا کی خرید و فروخت پر قومی یا یورپی سطح پر پابندیوں کے اقدامات کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    آٹھ ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسے تمام ٹھوس اقدامات اختیار کرے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی معاونت یا انہیں برقرار رکھنے والی سرگرمیوں کا خاتمہ یقینی بنا سکیں،اسرائیلی آبادکاری کی پالیسی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے متصادم ہے۔

    بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 اور 19 جولائی 2024 کی عالمی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام ریاستوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے سے پیدا ہونے والی غیر قانونی صورتحال کو تسلیم نہ کریں اور اس صورتحال کو برقرار رکھنے میں معاونت یا مدد فراہم نہ کریں۔

    آٹھوں ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی اور آبادیاتی خدوخال تبدیل کرنے والی آبادکاری سمیت تمام اقدامات واپس لیے جائیں پاکستان سمیت آٹھ ممالک نے اسرائیل کے متنازع ’ای ون‘ (E1) آبادکاری منصوبے اور مشرقی یروشلم کے قریب اس سے متعلق سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    مشترکہ مؤقف کے مطابق ای ون منصوبہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرسکتا ہے اور مستقبل میں ایک خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ ای ون منصوبہ فوری طور پر روکا جائے اور اس سے متعلق تمام اقدامات منسوخ کیے جائیں۔

    اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ دو ریاستی حل ہی منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے حصول کا قابل عمل راستہ ہے۔ آٹھ ممالک نے ایک آزاد، خودمختار، متصل اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جو 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ہو اور جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

    بیان میں غزہ کو بھی مقبوضہ فلسطینی علاقے کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے پر مکمل اور فوری عملدرآمد، انسانی صورتحال سے نمٹنے، تعمیر نو اور دیرپا امن کی بنیاد رکھنے پر زور دیا گیا ہے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھی زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق، خصوصاً حقِ خودارادیت کے تحفظ اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

  • برطانیہ:بچوں کی جنسی بلیک میلنگ روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ

    برطانیہ:بچوں کی جنسی بلیک میلنگ روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ

    برطانوی حکومت نے بچوں کو آن لائن جنسی استحصال اور بلیک میلنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق حکومت جلد ایسا قانون متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت بچوں کے زیر استعمال موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے عریاں تصاویر بنانے اور شیئر کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا جائے گابرطانیہ میں زیادہ تر اسمارٹ فونز کے آپریٹنگ سسٹم تیار کرنے والی کمپنیوں ایپل اور گوگل کو جون میں 3 ماہ کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے زیر استعمال آلات پر عریاں تصاویر تک رسائی روکنے کے مؤثر اقدامات کریں۔

    تاہم برطانوی وزیرِ ثقافت لیزا نینڈی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ دونوں کمپنیوں کی جانب سے کیے گئے اہم وعدوں کے باوجود موجودہ اقدامات مسئلے کی سنگینی سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہیں، مجوزہ قانون کے تحت نہ صرف موبائل فونز بلکہ بچوں کے زیر استعمال ایپس میں بھی عریاں تصاویر کو بلاک کرنے کے لیے حفاظتی نظام متعارف کرانا ہوگا،اس اقدام کا مقصد آن لائن ماحول میں بچوں کو جنسی استحصال، گرومنگ اور بلیک میلنگ سے بچانا ہے۔

    ٹیکنالوجی کمپنیاں پہلے ہی اس حوالے سے کچھ اقدامات کرچکی ہیں، ایپل نے 2021 میں ’کمیونیکیشن سیفٹی‘ فیچر متعارف کرایا تھا، جو بچوں کو عریاں تصاویر دیکھنے یا شیئر کرنے سے روکنے میں مدد دیتا ہے اس نظام کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔ گوگل نے بھی بچوں کے تحفظ اور بغیر رضامندی کے نجی تصاویر کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اپنی کوششوں کا دفاع کیا ہے۔

    بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم این ایس پی سی سی نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے موبائل فونز سے بنائی جانے والی تصاویر بعض اوقات آن لائن گرومنگ، جنسی بلیک میلنگ اور دیگر جرائم کا آغاز بن سکتی ہیں۔

    برطانوی پولیس حکام بھی ماضی میں خبردار کرچکے ہیں کہ بچوں کے آلات سے عریاں تصاویر بنانے یا شیئر کرنے کی صلاحیت محدود کرنا ’سیکسٹورشن‘ کے خلاف ایک اہم قدم ہوسکتا ہے اس جرم میں بچوں کو پہلے ایسی تصاویر شیئر کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے اور بعد ازاں انہیں انہی تصاویر کی بنیاد پر بلیک میل کیا جاتا ہے مجوزہ قانون بالغ افراد کو عریاں تصاویر تک رسائی سے نہیں روکے گا، تاہم بچوں کے لیے پابندی نافذ کرنے کی خاطر صارف کی عمر کی تصدیق کا نظام درکار ہوسکتا ہے۔

    ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس عمل سے پرائیویسی متاثر ہوسکتی ہے، تاہم حکومت نے نگرانی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی مقصد بچوں کا تحفظ ہے۔

  • شہزادہ ہیری اور میگھن شاہی خاندان کے غیر فعال ارکان ہی رہیں گے،کنگ چارلس

    شہزادہ ہیری اور میگھن شاہی خاندان کے غیر فعال ارکان ہی رہیں گے،کنگ چارلس

    برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس سوم نے واضح کر دیا ہے کہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل شاہی خاندان کے غیر فعال ارکان ہی رہیں گے اور برطانیہ واپسی کے باوجود شاہی فرائض انجام نہیں دیں گے۔

    رپورٹ کے مطابق شاہی محل کی جانب سے اعلیٰ حکام کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ہیری اور میگھن 2020 میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کے بعد طے پانے والے انتظامات کے مطابق شاہی خطابات کو سرکاری فرائض کیلئے استعمال نہیں کریں گے،خط میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ جوڑا کسی فلاحی سرگرمی میں حصہ لیتا ہے تو وہ اسے نجی حیثیت میں انجام دے گا۔

    شہزادہ ہیری اور میگھن کی سیکیورٹی سے متعلق فیصلے متعلقہ حکومتی اور پولیس اداروں کے اختیار میں رہیں گے ہیری طویل عرصے سے برطانیہ میں پولیس سیکیورٹی کی فراہمی کے معاملے پر قانونی جدوجہد کرتے آئے ہیں،شاہی محل کے اس اقدام کا مقصد ہیری اور میگھن کی موجودہ حیثیت سے متعلق کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کرنا بتایا گیا ہے۔

  • سینکڑوں پاکستانی درخواست دہندگان کاہم جنس پرستوں سے تعلقات کا دعویٰ ،برطانیہ ہوم آفس

    سینکڑوں پاکستانی درخواست دہندگان کاہم جنس پرستوں سے تعلقات کا دعویٰ ،برطانیہ ہوم آفس

    برطانیہ کے ہوم آفس (Home Office) کے ایک وِسل بلور نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے سیاسی پناہ (asylum) کے نظام میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی ہو رہی ہے اور صرف ایک فیصد پناہ گزینوں کے دعوے ہی حقیقی ہیں،یہ الزامات برطانوی میڈیا میں منظرِ عام پر آئے ہیں، جس کے بعد پناہ گزینوں کے نظام کی شفافیت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے-

    اہلکار، جو اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے صرف "J” کے نام سے جانا جاتا ہے، نے ہوم آفس کے فیصلہ ساز کے طور پر کام کرتے ہوئے کئی سال گزارے ہیں اور پناہ کی ہزاروں درخواستوں کا جائزہ لیا ہے،ٹائمز سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا: "بہترین طور پر 1 فیصد پناہ گزین حقیقی ہیں پناہ کے نظام کا تقریباً کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جو یا تو بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا شکار نہ ہو یا واقعی غیر فعال ہو۔ کچھ بھی کام نہیں کرتا جیسا کہ اسے کرنا چاہیے۔”

    جے نے دعویٰ کیا کہ عہدیداروں کا باقاعدگی سے سامنا ہوتا ہے جس کے عملے نے "پیکیج کلیمز” کا نام دیا ہے، جہاں پناہ گزین مبینہ طور پر اپنی درخواستوں کی حمایت کے لیے نمایاں طور پر ملتے جلتے اکاؤنٹس جمع کراتے ہیں،انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جس طرح سے درخواستوں پر کارروائی کی جاتی ہے اس سے حکام کے لیے ممکنہ طور پر من گھڑت کہانیوں کو بے نقاب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    پناہ کے متلاشیوں کو مزید تفصیلی انٹرویو سے پہلے ابتدائی اسکریننگ سے گزرنا پڑتا ہے، جو مہینوں بعد ہو سکتا ہے جے نے کہا کہ ابتدائی مرحلے کے دوران درخواست دہندگان "انتہائی مبہم” ہو سکتے ہیں، تاخیر کا دعویٰ کرنا پھر بے ایمان درخواست دہندگان کو اپنا کیس بنانے کا موقع فراہم کرتا ہےاس سے انہیں تیاری کرنے، مشورہ لینے اور یہ دیکھنے کا وقت مل جاتا ہے کہ تفصیلی انٹرویو کے دوران کسی خاص بیان یا کہانی پر کاربند ہونے سے پہلے وہ کس قسم کے جعلی شواہد حاصل کر سکتے ہیں۔”

    جے (J) نے اس بات پر زور دیا کہ درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہونا چاہیے کہ وہ شروع ہی سے تفصیلی بیان فراہم کریں؛ انہوں نے کہا: "اس عمل میں تاخیر سے انہیں تیاری کا مزید وقت مل جاتا ہے، حالانکہ انہیں تیاری کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ واقعات ان کے ساتھ پہلے ہی پیش آ چکے ہوتے ہیں۔”

    انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سسٹم حکام کو درخواستیں منظور کرنے کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ کیس دینے میں "آدھا گھنٹہ سب سے اوپر” لگ سکتا ہے، جب کہ مسترد ہونے کے لیے درخواست دہندگان کے دعووں کو حل کرنے کے لیے گھنٹوں کام کرنا پڑ سکتا ہے۔

    وسل بلور نے اس عمل کو "بچپن” کے طور پر بیان کیا اور دعوی کیا کہ عملے کو مینیجرز نے پناہ کے متلاشیوں کو "گاہک” کے طور پر حوالہ کرنے کی ہدایت بھی کی تھی یہ "ان کو خدمت فراہم کرنے کے کلچر کی عکاسی کرتا ہے، ملک کی خدمت نہیں”۔

    عملے کی جانب سے بے نقاب کیے جانے والے مبینہ واقعات کے سلسلے میں ایسے سینکڑوں عراقی کرد شامل تھے جن کا دعویٰ تھا کہ ان کے کردستان ریجن کے وزیرِاعظم کی بیٹی کے ساتھ رومانوی تعلقات رہے ہیں،یہ بار بار دہرائی جانے والی کہانی محکمے کے اندر ایک "مذاق” (یا عام لطیفہ) بن چکی تھی کیونکہ حکام کو ایسے ہی بہت سے واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سینکڑوں پاکستانی درخواست دہندگان نے ایک ہی شخص کے ساتھ ہم جنس پرستوں کے تعلقات میں ہونے کا دعوی کیا ہے، جس نے "سیکڑوں کی تعداد میں بہت واضح طور پر جعلی حمایت کے خطوط فراہم کیے ہیں،آپ کو یہ تصاویر ملیں گی اور وہاں دس پاکستانی لڑکے ہوں گے جو کلب میں بے لباس ہو کر ایک دوسرے کے گرد بازو باندھے کھڑے ہوں گے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں۔”

    ہوم آفس دھوکہ دہی پر مبنی جنسیت پر مبنی پناہ کے دعووں کی تحقیقات کر رہا ہے جب بی بی سی کی خفیہ تحقیقات میں امیگریشن مشیروں کو بے نقاب کیا گیا جو مبینہ طور پر لوگوں کو جھوٹے مقدمات بنانے میں مدد کرنے کی پیشکش کرتے ہیں۔

    جے نے یہ بھی دعوی کیا کہ بنگلہ دیشی درخواست دہندگان نے بار بار عوامی لیگ سے روابط پر ظلم و ستم کا حوالہ دیا تھا، جس نے 2024 میں اقتدار کھو دیا تھا، جبکہ پارٹی کے بارے میں سوالات کا جواب دینے کے لیے جدوجہد کی تھی،جب حکومت گری تو انہیں صرف اس جماعت کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت تھی جس سے وہ خوفزدہ تھے، معاون شواہد میں "جعلی پولیس دستاویزات” بھی شامل تھیں جن میں وہی نام اور مقامات بار بار ظاہر ہوتے تھے۔

    سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جون 2026 کو ختم ہونے والے سال میں ابتدائی فیصلے کے مرحلے پر پناہ کی منظوری کی شرح 38 فیصد رہی؛ یہ شرح ایک سال قبل 48 فیصد اور ستمبر 2022 کو ختم ہونے والے سال میں 77 فیصد (جو کہ بلند ترین سطح تھی) کے مقابلے میں کم ہے۔

    گزشتہ سال کے دوران، ابتدائی فیصلے کے مرحلے پر تقریباً 42,394 افراد کو پناہ گزین کے طور پر تحفظ یا قیام کی دیگر اجازت دی گئی، جبکہ 73,478 افراد کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں،ہوم آفس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پناہ کی ہر درخواست پر تربیت یافتہ فیصلہ سازوں کی جانب سے دستیاب شواہد کی روشنی میں انفرادی طور پر غور کیا جاتا ہے۔

    محکمے کے ترجمان نے کہا کہ دھوکہ دہی کی نشاندہی کے لیے طے شدہ طریقہ کار موجود ہیں، جبکہ رازداری سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریاں حکام کو اس بات سے روکتی ہیں کہ وہ پناہ کے متلاشی کے بیان کی تصدیق کے لیے اس کے آبائی ملک سے رابطہ کریں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم گمنام بریفنگز پر تبصرہ نہیں کرتے۔ ہوم سیکرٹری کا موقف واضح ہے کہ جو لوگ برطانیہ میں قیام کے لیے برطانوی عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے، ان کی درخواست مسترد کر دی جائے گی اور انہیں برطانیہ سے باہر جانے والی یک طرفہ پرواز کے ذریعے واپس بھیج دیا جائے گا۔

  • شہزادہ ہیری اور میگھن کی 6 سال بعد بچوں سمیت امریکا سے برطانیہ واپسی

    شہزادہ ہیری اور میگھن کی 6 سال بعد بچوں سمیت امریکا سے برطانیہ واپسی

    ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس، پرنس ہیری اور میگھن، اپنے بچوں آرچی اور للی بیٹ کے ہمراہ برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق خاندان نجی پرواز کے ذریعے امریکی ریاست کیلیفورنیا سے برطانیہ پہنچا اور دوپہر سے کچھ دیر قبل برمنگھم میں لینڈ کیا،سسیکس خاندان کی برطانیہ آمد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی تاہم ان کے ترجمان نے معاملے پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسی بات نہیں جس پر وہ کوئی تبصرہ کرنا چاہیں گے۔

    رپورٹس کے مطابق ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی شاہی خاندان کی سرکاری ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالنے کے لیے نہیں ہے دونوں مستقبل میں بھی شاہی خاندان کے فعال ارکان کی حیثیت سے سرکاری فرائض انجام نہیں دیں گے بلکہ غیر سرکاری حیثیت میں برطانیہ میں رہائش اختیار کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق جوڑا لندن سے باہر واقع کوٹس وولڈز کے علاقے میں موجود اپنی نجی رہائش گاہ کو برطانیہ میں اپنا مرکزی ٹھکانہ بنا سکتا ہے۔ ان کے دونوں بچوں کے اسکول میں داخلے سے متعلق انتظامات بھی مکمل کیے جاچکے ہیں اور نئے تعلیمی سال کا آغاز اگلے ہفتے متوقع ہے۔

    شہزادہ ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ دونوں تقریباً چھ سال قبل شاہی خاندان سے اختلافات کے بعد امریکا منتقل ہوگئے تھے۔

    دونوں نے 2020 میں شاہی خاندان کے سینئر ارکان کی حیثیت سے اپنے سرکاری فرائض سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد امریکا منتقل ہوگئے تھے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ شہزادہ ہیری اور میگھن نے تقریباً چھ سال بعد مستقل یا طویل مدتی بنیادوں پر برطانیہ واپس آنے کا فیصلہ کیوں کیا اور اس فیصلے میں شاہی خاندان کے کسی فرد کا کوئی کردار ہے یا نہیں۔

  • شہزادہ ہیری اور میگھن کا چھ سالہ جلاوطنی کے بعد رواں ماہ برطانیہ واپسی کا پلان

    شہزادہ ہیری اور میگھن کا چھ سالہ جلاوطنی کے بعد رواں ماہ برطانیہ واپسی کا پلان

    شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل رواں ماہ اپنے دونوں بچوں، شہزادہ آرچی اور شہزادی لِلی بیٹ، کے ہمراہ برطانیہ منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہیری، میگھن، آرچی اور لِلی بیٹ کیلیفورنیا سے برطانیہ منتقل ہوں گے میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جوڑا امریکا منتقل ہونے کے تقریباً چھ سال بعد برطانیہ میں ایک طویل عرصے کے لیے قیام کرے گا، جبکہ دونوں بچوں کی تعلیم بھی ستمبر سے برطانیہ میں شروع ہونے کی توقع ہے،تاہم، شہزادہ ہیری کےترجمان اور بکنگھم پیلس نےان رپورٹس پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم جوڑے کے ایک قریبی ذریعہ نے ان خبروں کی تصدیق کی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق ہیری اور میگھن شاہی محل میں نہیں رہیں گے اور شاہی خاندان کے فعال ارکان کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کریں گے، دونوں نے 2020 میں شاہی فرائض سے دستبردار ہونے کے وقت ملکہ الزبتھ دوم کے ساتھ طے کیے گئے انتظامات کے تحت غیر فعال شاہی حیثیت برقرار رکھی تھی۔

    ہیری اور میگھن کی شادی 2018 میں ونڈسر کاسل میں ہوئی تھی سابق امریکی اداکارہ میگھن سے ہیری کی شادی کو اس وقت برطانوی شاہی خاندان کے لیے ایک نئے دور کی علامت قرار دیا گیا تھا، تاہم شادی کے کچھ عرصے بعد ہی جوڑے کے شاہی خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ تعلقات میں اختلافات سامنے آنے لگے۔

    مارچ 2020 میں ہیری اور میگھن نے اعلان کیا کہ وہ شاہی فرائض سے دستبردار ہو رہے ہیں اور برطانیہ چھوڑ کر امریکا منتقل ہو رہے ہیں، اس خود ساختہ جلا وطنی کے بعد انہوں نے کیلیفورنیا کے مونٹی سیٹو علاقے میں گھر بنایا، جہاں وہ اپنے بچوں کے ساتھ رہتے رہے اس گھر کی قیمت تقریباً ایک کروڑ 47 لاکھ ڈالر تھی۔

    امریکا منتقل ہونے کے بعد ہیری اور میگھن نے مختلف ٹی وی انٹرویوز، ایک نیٹ فلکس دستاویزی سیریز اور ہیری کی کتاب ”اسپیئر“ کے ذریعے شاہی خاندان اور شاہی نظام کے بارے میں اپنے تجربات بیان کیے، ان بیانات نے برطانوی شاہی خاندان کے اندر موجود اختلافات کو عوامی سطح پر نمایاں کر دیا۔

    2021 میں امریکی میزبان اوپرا ونفری کو دیے گئے ایک انٹرویو میں میگھن نے کہا تھا کہ شاہی خاندان کے ایک فرد نے ان کے بیٹے آرچی کی جلد کے رنگ کے بارے میں سوال کیا تھا، اس معاملے نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی، شہزادہ ولیم نے اس کے بعد شاہی خاندان کے نسل پرست ہونے کی تردید کی تھی۔

    شہزادہ ہیری نے اپنی کتاب اور دیگر مواقع پر اپنے والد، بادشاہ چارلس، اور بڑے بھائی شہزادہ ولیم کے بارے میں بھی سخت باتیں کیں، اس کے نتیجے میں دونوں بھائیوں کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی اور ان کے درمیان رابطہ انتہائی محدود ہوگیا۔

    ہیری اور برطانوی حکومت کے درمیان بھی سکیورٹی کے معاملے پر اختلاف رہا ہے شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کے بعد ان کی سرکاری سکیورٹی میں تبدیلی کی گئی، جس پر ہیری نے اعتراض کیا، ان کا مؤقف رہا ہے کہ برطانیہ میں خودکار پولیس تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو وہاں لانے کے بارے میں فکرمند تھے۔

    تاہم حالیہ مہینوں میں ہیری اور ان کے والد بادشاہ چارلس کے تعلقات میں کچھ بہتری کے آثار نظر آئے ہیں، گزشتہ ستمبر میں دونوں نے تقریباً 20 ماہ بعد مختصر ملاقات کی تھی چارلس کو 2024 میں کینسر کی ایک قسم کی تشخیص ہوئی تھی اور بعد میں انہوں نے بتایا کہ علاج کے نتیجے میں ان کی صحت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    گزشتہ ماہ ہیری، میگھن اور ان کے بچے برطانیہ آئے تھے، جہاں بادشاہ چارلس نے اپنے پوتے آرچی اور پوتی لِلی بیٹ سے ملاقات کی یہ ملاقات 2022 کے بعد بچوں اور ان کے دادا کے درمیان پہلی ملاقات تھی تاہم رپورٹس کے مطابق بادشاہ کو ہیری اور میگھن کے برطانیہ واپس آنے کے منصوبے کا علم صرف اتوار کے روز ہوا۔

    ہیری اور میگھن کے تعلقات میں بادشاہ چارلس کے ساتھ بہتری کے باوجود شہزادہ ولیم کے ساتھ ان کے تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں رپورٹس کے مطابق دونوں بھائیوں کے درمیان معمول کے مطابق بات چیت نہیں ہو رہی۔

    امریکا میں رہتے ہوئے ہیری اور میگھن نے کئی کاروباری اور میڈیا منصوبے بھی شروع کیے انہوں نے اسپاٹی فائی کے ساتھ پوڈکاسٹ اور نیٹ فلکس کے ساتھ مختلف پروگراموں کے لیے بڑے مالی معاہدے کیے۔ میگھن نے ایک طرز زندگی سے متعلق شو کی میزبانی بھی کی، تاہم ان منصوبوں کے نتائج یکساں نہیں رہے۔

    ہیری کی خودنوشت ”اسپیئر“ بہت زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ثابت ہوئی، لیکن جوڑے کا اسپاٹی فائی معاہدہ ختم ہوگیا جبکہ میگھن کے نیٹ فلکس شو کو تیسرے سیزن کے لیے توسیع نہیں دی گئی۔

    ہالی ووڈ سے متعلق جریدے ڈیڈ لائن کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ڈومینک پیٹن کے مطابق ہیری اور میگھن شاید وہ عالمی شہرت حاصل نہ کر سکے جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی، لیکن انہوں نے اس کے باوجود عوام کی دلچسپی برقرار رکھی۔

    ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب شاہی خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات میں مکمل مفاہمت تو نظر نہیں آتی، لیکن بادشاہ چارلس کے ساتھ رابطے میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے بچوں کا برطانیہ میں اسکول شروع کرنا اس بات کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے کہ خاندان آئندہ کچھ عرصہ امریکا کے بجائے برطانیہ میں زیادہ وقت گزارنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

  • نیتن یاہو کے’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کہنے پر برطانیہ کا سخت ردعمل

    نیتن یاہو کے’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کہنے پر برطانیہ کا سخت ردعمل

    برطانوی حکومت نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ قرار دینے والے بیان کو ’’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئےسخت ردِعمل کا اظہار کیا ہےجبکہ، یہ معاملہ اسرائیلی حکومت کے سامنے باضابطہ طور پر اٹھایا گیا ہے۔

    نیتن یاہو نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران برطانیہ کی موجودہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی میں برطانوی صحافیوں نے 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے بارے میں مثبت رپورٹنگ کی، تاہم ان کے بقول آج کے برطانیہ میں ایسا رویہ نظر نہیں آتا، انہوں نے برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ سے تشبیہ دی، جس پر برطانوی حکومت نے شدید اعتراض کیا۔

    اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے بعد میں برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو کے بیان کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی،کہا کہ وزیراعظم دراصل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ماضی میں دیے گئے ایک تبصرے کا حوالہ دے رہے تھے،وینس نے 2024 میں برطانیہ کے حوالے سے اسی نوعیت کا ایک متنازع بیان دیا تھا، جس میں انہوں نے ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی اور سماجی رجحانات کو اسلام پسندی سے جوڑا تھا۔

    نیتن یاہو اس سے قبل بھی یورپ میں مسلم آبادی میں اضافے کو اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی سیاسی مخالفت سے جوڑتے رہے ہیں دوسری جانب برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں-

    نیتن یاہو کا تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی جنگ اور فلسطینی ریاست کے معاملے پر اختلافات میں اضافہ ہوا ہے،برطانیہ سمیت بعض یورپی ممالک نے گزشتہ سال فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا، جس پر اسرائیلی حکومت نے سخت ناراضی کا اظہار کیا،برطانوی قیادت کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر بھی وقتاً فوقتاً تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔

    برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھی اسرائیل کے حوالے سے اپنی حکومت کی پالیسی کو زیادہ سخت بنانے کے اشارے دیے ہیں،انہوں نے ماضی میں کہا تھا کہ برطانیہ اسرائیلی مقبوضہ علاقوں کی بستیوں سے آنے والی بعض اشیا کی تجارت پر پابندی کے امکان پر غور کرسکتا ہے۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے یورپی ممالک میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے اختلافات بڑھتے گئے ہیں،جہاں امریکا اسرائیل کا اہم اتحادی رہا ہے، وہیں کئی یورپی حکومتوں نے غزہ میں انسانی صورتحال، فلسطینی ریاست اور اسرائیلی پالیسیوں پر زیادہ کھل کر تنقید کی ہے۔

  • ملک کو ‘قومی ہنگامی صورتحال’ کا سامنا ہے،برطانوی فائر فائٹرز یونین کے سربراہ کاانتباہ

    ملک کو ‘قومی ہنگامی صورتحال’ کا سامنا ہے،برطانوی فائر فائٹرز یونین کے سربراہ کاانتباہ

    برطانیہ میں شدید گرمی کی لہر کے دوران فائر فائٹرز یونین کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو قومی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے اس موسمی شدت سے فائر سروسز پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

    ملک بھر میں درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہےخشک سالی اور گرمی سے آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہواہے،فائر فائٹرز عملے اور وسائل پر کام کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے،ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔

    برطانیہ کے کچھ حصے 38 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید گرمی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، جبکہ فائر فائٹرز کی یونین کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو جنگل کی آگ کے باعث "قومی ہنگامی صورتحال” کا سامنا ہے۔

    کچھ علاقے موسمِ گرما کی پانچویں ہیٹ ویو (شدید گرمی کی لہر) کی زد میں ہیں، کیونکہ محکمہ موسمیات نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ میں اب تک کی ریکارڈ کی جانے والی سب سے گرم گرمیاں متوقع ہیں محکمہ موسمیات کی جانب سے لندن اور جنوب مشرقی، ایسٹ مڈلینڈز، ایسٹ آف انگلینڈ، ویسٹ مڈلینڈز اور ساؤتھ یارکشائر کے کچھ حصوں کے لیے جمعرات کو صبح 9 بجے سے نصف شب تک "شدید گرمی” کی نایاب ‘ایمبر’ (amber) وارننگ جاری کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ جمعرات کو اس کے بڑھ کر 37 یا 38 ڈگری سینٹی گریڈ کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کا امکان ہے-

    میٹ آفس کے چیف پیش گوئی کرنے والے کرس بلمر نے کہا: جبکہ چوٹی کی گرمی حالیہ ہیٹ ویوز کے مقابلے میں زیادہ قلیل مدتی ہوگی، جمعرات کو درجہ حرارت 30 کی دہائی کے وسط تک بڑھنے سے کچھ لوگوں کے لیے اثرات کا امکان ہے، اسی لیے میٹ آفس کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

  • برطانیہ میں گرمی  کی پانچویں شدیدلہر ، بلیو الرٹ جاری

    برطانیہ میں گرمی کی پانچویں شدیدلہر ، بلیو الرٹ جاری

    برطانیہ میں رواں سال گرمی کی پانچویں لہر نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ملک کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت مسلسل 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر رہا ہے۔

    برطانیہ میں شدید گرمی کی لہر کے دوران وزیرِ اعظم اینڈی برنہم (Andy Burnham) نے بدھ 12 اگست 2026 کو ہنگامی سرکاری کمیٹی ‘کوبرا’ (COBRA) کے اجلاس کی صدارت کی، ملک میں درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا خدشہ ہے جبکہ جنگلات کی آگ اور خشک سالی کے باعث قومی سطح پر ہنگامی حالات پیدا ہو چکے ہیں-

    موسم کی موجودہ صورتحال اور اثرات:

    درجہ حرارت بدھ کو 33 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ جمعرات کو 38 ڈگری تک جانے کی پیشگوئی ہےرواں موسم گرما کی یہ پانچویں ہیٹ ویو ہے، اور ملک گرم ترین موسم گرما کے راستے پر ہےانگلینڈ کا 71 فیصد سے زائد حصہ ‘فلیش ڈراؤٹ’ یعنی اچانک خشک سالی کی زد میں ہےنیو فارسٹ اور دیگر مقامات پر جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    اجلاس میں وزراء، سرکاری حکام اور مختلف ایجنسیوں کے نمائندے شریک ہوئےمحکمہ ماحولیات (Defra)، ہوم آفس، اور محکمہ صحت کے وزراء نے شرکت کی۔فائر فائٹرز، کسانوں اور این ایچ ایس (NHS) کے عملے کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا گیاحکومت نے قومی سطح پر فائر فائٹنگ کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے 97 ملین پاؤنڈز کی نئی فنڈنگ کا اعلان کیا ہے۔

    1995 میں برطانیہ میں مجموعی طور پر 34 دن ایسے تھے جب درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا تھا تاہم 2026 میں یہ تعداد بڑھ کر 35 دن ہوچکی ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو ایسٹ اینگلیا اور ساؤتھ ایسٹ کے علاقوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے اور درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

    شدید گرمی کے پیش نظر ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے لندن، ایسٹ مڈلینڈز، ویسٹ مڈلینڈز، یارکشائر اور ہمبر کے لیے بلیو الرٹ جاری کردیا ہے، برطانیہ میں شدید گرمی کے ساتھ خشک سالی کی صورتحال بھی برقرار ہے جس کے باعث مختلف علاقوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق گرمی کی موجودہ لہر نے برطانیہ میں غیر معمولی گرم موسم کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش بڑھا دی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت اور موسم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔