Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • برطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا،کنگ چارلس

    برطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا،کنگ چارلس

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس نے کہا ہے کہ برطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا،بلکہ بدلتے حالات کے مطابق اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا-

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانیہ کے شاہ چارلس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک اپنے عوام کے تحفظ اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے متحد ہیں، اس موقع پر ملکہ کمیلا بھی ان کے ہمراہ تھیں،خطاب کے دوران کنگ چارلس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو پر تنقید، یوکرین جنگ میں امریکی حمایت کی اہمیت اور تنہائی پسندی کے خطرات کا بالواسطہ حوالہ دیا۔

    شاہ چارلس نے کہا کہ یورپ اور امریکا کی شراکت داری کو آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم قرار دیا اور کہا کہ جو اتحاد نائن الیون کے بعد نظر آیا اس کی آج یوکرین کے دفاع کیلئے ضرورت ہےبرطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا، بلکہ بدلتے حالات کے مطابق اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، یوکرین میں قیامِ امن کے لیے یورپی اتحاد کا برقرار رہنا نہایت ضروری ہے موجودہ جنگ دراصل نیٹو کے عزم کا امتحان ہے اور اس صورتحال میں یوکرین کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کی ضرورت ہے-

    شاہ چارلس نے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوران پیش آنے والے حملے کی بھی سخت مذمت کی، ان کا کہنا تھا کہ تشدد کا یہ عمل کبھی کامیاب نہیں ہوگا اور جمہوری ممالک اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے متحد رہیں گے خطاب کے دوران انہوں نے ماحولیاتی تحفظ، انسانی ہمدردی اور مذاہب کے احترام کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا کہا کہ موجودہ غیر یقینی دور میں رواداری، آزادی اور دیگر جمہوری اقدار کا دفاع پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں عشائیے کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کنگ چارلس بھی اس مؤقف سے متفق ہیں، تاہم بادشاہ نے اپنے خطاب میں ایران یا جاری جنگ پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا،یہ خطاب ایسے وقت میں ہوا جب امریکا اور برطانیہ کے تعلقات میں ایران سے متعلق جنگ کے معاملے پر تناؤ پایا جاتا ہے، اور امریکی صدر کیئر اسٹارمر پر تعاون نہ کرنے کی تنقید کرتے رہے ہیں۔

  • امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں  ہے،برطانوی سفیر

    امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں ہے،برطانوی سفیر

    امریکا میں برطانیہ کے سفیر سر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ امریکا کا خصوصی تعلق برطانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر صرف اسرائیل کے ساتھ ہے،امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں –

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک لیک ہونے والی آڈیو میں برطانوی سفیر نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان قریبی تعلق ضرور موجود ہے، خاص طور پر دفاع اور معیشت کے شعبوں میں، تاہم عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی صورتحال کے مطابق نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا یورپ اب مکمل طور پر امریکا کے سکیورٹی نظام پر انحصار نہیں کر سکتا، اس وقت امریکا کا خاص تعلق صرف ایک ملک کے ساتھ ہے اور وہ ملک اسرائیل ہےبرطانوی سفیر نے موجودہ دور میں مغربی اتحادی ممالک کو اپنے تعلقات اور ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سفیر کی ذاتی رائے اور خیالات ہیں اور حکومت کی سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے۔

  • برطانیہ کا مسترد افغان پناہ گزینوں کو  افغانستان بھیجنے کے امکانات پر غور ، طالبان سے رابطوں کا انکشاف

    برطانیہ کا مسترد افغان پناہ گزینوں کو افغانستان بھیجنے کے امکانات پر غور ، طالبان سے رابطوں کا انکشاف

    برطانیہ کا مسترد افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے طالبان سے رابطوں کا انکشاف ہوا ہے-

    برطانیہ نے اپنی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے ایسے افغان شہریوں کو دوبارہ افغانستان بھیجنے کے امکانات پر غور شروع کردیا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں اس سلسلے میں کابل میں برطانوی حکام اور طالبان نمائندوں کے درمیان ابتدائی رابطوں اور بات چیت کا انکشاف ہوا ہے، جس نے برطانیہ سمیت عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    افغان وزارت داخلہ کے ترجمان مفتی عبدالمتین غنی نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت واپس بھیجے جانے والے اپنے شہریوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے برطانوی حکام کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے بھی حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ ان افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے تمام قانونی اور عملی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے جن کے پاس برطانیہ میں قیام کا اب کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا۔

    ماہرین اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس ممکنہ فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کی پامالی، آزادیِ اظہار پر پابندیوں اور غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر پناہ گزینوں کی جبری واپسی ایک انتہائی خطرناک اور متنازع قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 7 ہزار 330 افغان شہریوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کی گئیں، لیکن سیکیورٹی اور سفارتی پیچیدگیوں کے باعث صرف 135 افراد کو ہی رضاکارانہ یا جبری طور پر واپس بھیجا جاسکا-

  • پاکستانیوں سمیت دیگر کا برطانیہ میں رہائش کیلئے خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرنے کا انکشاف

    پاکستانیوں سمیت دیگر کا برطانیہ میں رہائش کیلئے خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرنے کا انکشاف

    بی بی سی کی خفیہ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ قانونی مشیر پناہ گزینوں کو ہم جنس پرستوں کے طور پر سیاسی پناہ حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

    بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کچھ مشیر اور وکیل پناہ گزینوں کو سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے ہم جنس پرست ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے کی ترغیب اور مدد دیتے ہیں یہ پناہ کے قوانین کو غلط استعمال کرنے کی ایک کوشش ہے۔

    تحقیقات میں سامنے آیا کہ پناہ کے متلاشی افراد کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ حکام کو بتائیں کہ انہیں ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے اپنے ملک میں خطرہ ہے، یہ مسئلہ ان پناہ کے متلاشیوں کے لیے قانونی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے جو واقعی خطرے کا شکار ہیں، برطانوی حکومت نے پناہ کے طریقہ کار میں سختی کی ہے، جس سے اس طرح کے معاملات پر مزید نظر رکھی جا رہی ہے۔

    اس کے بعد وہ ہم جنس پرست ہونے کا دعوی کرتے ہوئے پناہ کی درخواست دیتے ہیں اور اگر وہ پاکستان یا بنگلہ دیش واپس لوٹتے ہیں تو انہیں اپنی جانوں کا خطرہ ہے بی بی سی کی اس رپورٹ کے جواب میں ہوم آفس نے کہا کہ "جو کوئی بھی نظام کا استحصال کرنے کی کوشش کرتا پایا گیا اسے قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا، بشمول برطانیہ سے اخراج بھی۔”

    برطانیہ کا سیاسی پناہ کا عمل ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو اپنے آبائی ممالک واپس نہیں جا سکتے کیونکہ وہ خطرے میں ہوں گے، مثال کے طور پر پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں جہاں ہم جنس پرستوں کا جنسی تعلق غیر قانونی ہے جن میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی تھی،پاکستانی طالب علم اور وزٹ ویزا رکھنے والے، وکلاء کی مدد سے، پناہ کے دعوے کرنے کے لیے "شواہد” جمع کرتے ہیں کہ وہ ہم جنس پرست ہیں-

    لیکن بی بی سی نیوز کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ قانونی مشیروں کی طرف سے اس عمل کا منظم طریقے سے استحصال کیا جا رہا ہے جو ملک میں رہنے کے خواہشمند تارکین سے فیسیں لے رہے ہیں یہ اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے سٹوڈنٹ، ورک یا سیاحتی ویزے کی میعاد ختم ہو چکی ہوتی ہے، بجائے اس کے کہ وہ لوگ جو چھوٹی کشتیوں پر یا دوسرے غیر قانونی راستوں سے ملک میں پہنچے ہوں یہ گروپ اب تمام سیاسی پناہ کے دعووں کا 35% بناتا ہے، جو 2025 میں 100,000 سے اوپر تھا۔

    رپورٹ کے مطابق ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کے بعد، بشمول ٹپ آف، خفیہ رپورٹرز کو یہ تحقیق کرنے کے لیے بھیجا کہ امیگریشن ایڈوائزر کس طرح لوگوں کو پناہ کے جھوٹے دعوے کرنے میں مدد کرنے کے لیے تیار تھےرپورٹرز نے خود کو پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی طلباءظاہر کیا جن کے ویزے ختم ہونے والے تھے۔

    تحقیقات نے دریافت کیا ایک قانونی فرم نے سیاسی پناہ کا من گھڑت دعویٰ لانے کے لیے 7,000 پاؤنڈ تک چارج کیا اور وعدہ کیا کہ ہوم آفس کی طرف سے انکار کا امکان "بہت کم” ہے جعلی سیاسی پناہ کے متلاشی اپنے کیسوں کو تقویت دینے کے لیے طبی ثبوت حاصل کرنے کے لیے افسردہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے جی پیز کے پاس گئے، یہاں تک کہ ایک نے ایچ آئی وی پازیٹیو ہونے کا جھوٹ بھی بولا۔

    ایک امیگریشن ایڈوائزر نے فخر کیا کہ اس نے جعلی دعوے لانے میں مدد کرنے میں 17 سال سے زیادہ کا وقت گزارا ہے اور کہا کہ وہ کسی کو یہ دکھاوا کرنے کا بندوبست کر سکتی ہے کہ اس کے کسی کلائنٹ کے ساتھ ہم جنس پرستوں کے جنسی تعلقات ہیں خفیہ رپورٹر کو یہاں تک کہا گیا کہ وہ برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے بعد اپنی بیوی کو پاکستان سے لا سکتا ہے اور پھر وہ ہم جنس پرست ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

    ایک اور فرم سے منسلک ایک وکیل نے ایک خفیہ رپورٹر کو بتایا کہ اس نے لوگوں کو ہم جنس پرست یا ملحد ہونے کا بہانہ کرنے میں کامیابی سے پناہ حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔ اس نے £1,500 کی فیس کے لیے جعلی دعوے میں مدد کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ ثبوت بنانے کے لیے مزید £2,000-£3,000 خرچ ہوں گے جبکہ یہاں کوئی بھی ہم جنس پرست نہیں ہے’.

    مشرقی لندن کے بیکٹن کے ایک پُرسکون کونے میں واقع ایک کمیونٹی سنٹر میں منگل کی شام، 175 سے زیادہ لوگ ایک تقریب کے لیے جمع ہوئےکچھ نے Worcester LGBT کے زیر اہتمام ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے ساؤتھ ویلز، برمنگھم اور آکسفورڈ تک کا سفر کیا ہے، جو خود کو ہم جنس پرستوں اور ہم جنس پرست پناہ گزینوں کے لیے ایک معاون گروپ کے طور پر بیان کرتا ہے۔

    گروپ کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ صرف حقیقی ہم جنس پرستوں کو ہی پناہ دی جاتی ہے لیکن سب کچھ ویسا نہیں ہے جیسا لگتا ہےفہر نامی ایک شخص کا کہنا ہے کہ "یہاں زیادہ تر لوگ ہم جنس پرست نہیں ہیں ذیشان نامی شخص نے کہا کہ "یہاں کوئی بھی ہم جنس پرست نہیں ہے۔ 1٪ بھی ہم جنس پرست نہیں ہیں۔ 0.01٪ بھی ہم جنس پرست نہیں ہیں۔”

  • برطانیہ  آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا،برطانوی میڈیا

    برطانیہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا،برطانوی میڈیا

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔

    ایک بیان میں ترجمان برطانوی حکومت نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور ہرمز کھلنے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ عالمی معیشت پر اور ملک میں مہنگائی کا دباؤ کم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے آبنائے ہرمز کے لیے کوئی ٹول عائد نہیں ہونا چاہیے، برطانیہ فرانس اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ آزاد جہاز رانی کے تحفظ کے لیے وسیع اتحاد بنانے پر کام کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور ایران کو ٹول ادا کرنے والے جہازوں کو بھی روکا جائے گا ،تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں تک محدود ہوگی جو ایران سے متعلق ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی۔ ناکہ بندی کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 10 بجے پا کستانی وقت کےمطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی آج شام 7 بجے سے شروع ہوگی ناکہ بندی کا عارضی نفاذ جہازوں کی ایرانی پورٹس میں آمدورفت پر ہوگا ناکہ بندی کا نفاذ خلیج عرب اور خلیج عمان میں ایرانی پورٹس سے آنے جانے والےجہازوں پربھی ہوگا۔دیگر ملکوں کے پورٹس سے جہازو ں کی آمدورفت کی ناکہ بندی نہیں ہوگی۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

  • برطانیہ میں فلسطین کے حق میں مظاہرے،سینکڑوں افراد گرفتار

    برطانیہ میں فلسطین کے حق میں مظاہرے،سینکڑوں افراد گرفتار

    برطانیہ میں فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے پر سینکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    برطانوی پولیس کے مطابق فلسطین ایکشن کی حمایت میں لندن میں ہونے والے مظاہرے میں کم از کم 523 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے،کُل 523 افراد کو ایک کالعدم تنظیم کی حمایت ظاہر کرنے پر گرفتار کیا گیا پولیس نے مزید کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کی عمریں 18 سے 87 کے درمیان ہیں، یہ گرفتاریاں ڈیفنڈ آور جیوریز کی طرف سے منعقدہ احتجاج کے سلسلے میں کی گئی ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں جنگ مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں ہزاروں افراد نے تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل کر امن کا مطالبہ کیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق تل ابیب کے حبیمہ اسکوائر میں ہونے والے بڑے احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جبکہ پولیس کی جانب سے اجازت نامے میں صرف ایک ہزار افراد کی حد مقرر کی گئی تھی۔ مظاہرین نے حکومت کی جنگی پالیسیوں اور لبنان و خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کے خلا ف نعرے لگائے۔

  • پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت،وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور اتحادی ممالک کے مشکور

    پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت،وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور اتحادی ممالک کے مشکور

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت کی۔

    وزیرِ اعظم نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اپنے دوستوں اور شراکت داروں، بشمول برطانیہ، کے ساتھ مل کر خطے اور دنیا میں مستقل امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے-

    برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی خوش آئند ہے اور اب مقصد جنگ کا پائیدار خاتمہ ہونا چاہیےبرطانیہ اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔

    بدھ 8 اپریل 2026 کو جاری مشترکہ بیان میں برطانیہ سمیت فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز، اسپین، یورپی کمیشن، یورپی کونسل اور جاپان نے اس 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان سمیت تمام شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا۔

    بیان میں کہا گیا کہ اب مذاکرات کے ذریعے جنگ کا جلد اور پائیدار خاتمہ ضروری ہے، اور یہ صرف سفارتی ذرائع سے ممکن ہے، جنگ بندی ایران کے شہریوں کے تحفظ، خطے میں سیکورٹی کی بحالی اور عالمی توانائی بحران کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اہم ہے، تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ جنگ بندی پر عمل درآمد کریں، جس میں لبنان بھی شامل ہے، اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی شراکت دار تعاون جاری رکھیں گے۔

  • برطانوی وزیراعظم کی  محمد بن سلمان سے اہم ملاقات

    برطانوی وزیراعظم کی محمد بن سلمان سے اہم ملاقات

    ریاض : برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا دورہ سعودی عرب، ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان سے اہم ملاقات ہوئی۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا اس موقع پر خطے کی مجموعی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

  • آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے برطانیہ میں آج  30 سے زائد ممالک کا اجلاس

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے برطانیہ میں آج 30 سے زائد ممالک کا اجلاس

    برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ وہ 35 ممالک کے ساتھ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے بات چیت کریں گے۔

    دنیا کے تقریباً 35 ممالک جمعرات کے روز ایک اہم ورچوئل اجلاس میں شرکت کریں گے، جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی جنگ کے باعث بند ہونے والی اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھانا ہے۔

    امریکی خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ یہ اجلاس برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کی سربراہی میں منعقد ہوگا، جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح مؤثر سفارتی اور سیاسی اقدامات کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی بحال کی جا سکتی ہے، پھنسے ہوئے جہازوں اور ملاحوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، اور ضروری اشیاء کی ترسیل کو دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے –

    اسٹارمر نے کہا کہ گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا آسان نہیں ہوگا، لیکن تمام ممکنہ سفارتی اور سیاسی اقدامات پر غور کیا جائے گا تاکہ جہازوں اور عملے کی حفاظت کے ساتھ اہم اشیا کی ترسیل دوبارہ شروع کی جا سکے وہ اجلاس میں شامل ممالک جو پہلے ہی محفوظ راستے کے لیے تعاون کرنے پر تیار ہیں، اس ہفتے کی بات چیت میں حصہ لیں گے اجلاس کے بعد برطانیہ اپنے عسکری منصوبہ سازوں کے ساتھ بھی حکمت عملی تیار کرے گا تاکہ ہرمز کی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔

    عالمی رہنما ایران کی جانب سے اس سمندری راستے کے بند ہونے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں، کیونکہ یہاں سے دنیا کے پانچویں حصہ تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہےاس بندش کے بعد عالمی توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور کئی ممالک نے اپنی اسٹراٹیجک تیل اور گیس کے ذخائر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ بحران کم کیا جا سکے۔

  • برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی میں خطرناک وبا ، 2 طالب علم ہلاک، 11 شدید بیمار

    برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی میں خطرناک وبا ، 2 طالب علم ہلاک، 11 شدید بیمار

    برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی، کینٹربری میں میننجائٹس کے ایک نایاب اور جارحانہ مرض کے پھیلاؤ کے بعد 2 افراد ہلاک اور 11 شدید بیمار ہو گئے ہیں۔

    یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق متاثرہ طلبا کو اینٹی بایوٹکس فراہم کی ہیں تاکہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے، اس مہلک بیماری کے 13 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو میننجائٹس اور سیپسس (خون میں انفیکشن) پر مشتمل ہیں یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے اور دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود سیال کو متاثر کرتی ہے، جس سے شدید بخار، سر درد، گردن کا سخت ہونا، قے، اسہال، جوڑوں اور پٹھوں میں درد، روشنی سے حساسیت، ٹھنڈے ہاتھ اور پیر، دورے، الجھن اور شدید نیند جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

    بھارت: اسپتال میں آتشزدگی، آئی سی یو کے 10مریض ہلاک

    یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ کسی بھی شخص میں ان علامات کے ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنا جان بچا سکتا ہے انہوں نے طلبہ اور عملے سے کہا کہ وہ بیماری کی ابتدائی علامات پر توجہ دیں کیونکہ یہ عام نزلہ، فلو یا نشے کے اثرات سے آسانی سے مغالطہ ہو سکتی ہیں۔

    کینٹ یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا کہ ہمیں شدید افسوس ہے کہ ہمارے طالب علم کا انتقال ہوا، ہمارے خیالات اور دعائیں متاثرہ خاندان، دوستوں اور یونیو رسٹی کمیونٹی کے ساتھ ہیں، طلبا اور عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔

    مشرق وسطیٰ جنگ: پاکستان کے مختلف ایئر پورٹس سے 90 پروازیں منسوخ

    حکام نے طلبا اور عملے پر زور دیا کہ وہ علامات پر محتاط رہیں کیونکہ یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے اور شدید نتائج مرتب کر سکتی ہےیونیورسٹی کے طلبا اور نوجوان بالغ اس بیماری کے زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ وہ قریبی معاشرتی ماحول میں رہتے، پڑھتے اور میل جول کرتے ہیں، جس سے بیکٹیریا آسانی سے پھیلتا ہے۔