Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • برطانیہ میں  16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا اعلان

    برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا اعلان

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان کرتے ہوئے اسے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اقدام قرار دیا ہے۔

    پیر کے روز میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت 16 سال سے کم عمر تمام بچوں کی بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی بند کر دے گی ان کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کی سلامتی اور خوشی پر کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں، اسی لیے یہ پابندی ہر صورت نافذ کی جائے گی پابندی کے تحت کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ آن لائن گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی اجنبی افراد سے بلا نگرانی رابطے کی اجازت نہیں ہوگی ان اقدامات کو انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے ’عالمی معیار کی کارروائی‘ قرار دیا۔

    اس حوالے سے قانون سازی رواں سال کے اختتام تک مکمل کر لی جائے گی جبکہ پابندی کا عملی نفاذ 2027 کے موسمِ بہار سے شروع ہوگا عمر کی تصدیق کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، تاہم یوٹیوب کڈز اور گوگل کلاس روم جیسی بعض تعلیمی سروسز کو استثنی حا صل ہوگا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کو اپنی جانب مسلسل متوجہ رکھیں ان کے بقول ’لامحدود اسکرول‘ جیسی خصوصیات بچوں کو ہوم ورک، مطالعے، کھیل کود اور بروقت آرام سے دور کر دیتی ہیں۔

    دوسری جانب اس فیصلے پر تنقید بھی سامنے آئی ہے اپوزیشن جماعت لبرل ڈیموکریٹس نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے ایک نامکمل اور جلد بازی میں تیار کی گئی پالیسی نافذ کر رہی ہے۔ بعض حکومتی حلقوں میں بھی اس فیصلے کے وقت اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو اپنی جماعت کے اندر سیاسی دباؤ، کابینہ میں استعفوں اور دفاعی اخراجات سے متعلق تنازعات کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ بچوں کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے اور دونوں مقاصد ایک ساتھ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

  • پاک فوج نے برطانیہ میں انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا،تمام بڑے اعزازات پاکستان کے نام

    پاک فوج نے برطانیہ میں انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا،تمام بڑے اعزازات پاکستان کے نام

    پاک فوج نے برطانیہ میں انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج نے عالمی سطح پر ایک اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے برطانیہ میں منعقدہ باوقار انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ میں ہونے والے مقابلے میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی، پاکستانی ٹیم نے نہ صرف مقابلہ جیتا بلکہ تمام بڑے اعزازات بھی اپنے نام کر لیے مقابلے میں بہترین پیس اسٹکر اور بہترین ڈرلر کے ایوارڈز بھی پاکستانی ٹیم نے حاصل کیے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق میجر حیدر گلزار کی قیادت میں 9 رکنی پاکستانی دستہ اس بین الاقوامی مقابلے میں شریک ہوا مقابلے میں مختلف ممالک کی 16 فوجی ٹیموں نے حصہ لیا، یہ کامیابی پاک فوج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت، نظم و ضبط اور غیر معمولی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔

  • برطانوی نیوز چینل ‘اسکائی’ کا یو اے ای کے ساتھ  پارٹنر شپ ختم کرنے کا اعلان

    برطانوی نیوز چینل ‘اسکائی’ کا یو اے ای کے ساتھ پارٹنر شپ ختم کرنے کا اعلان

    برطانیہ کے مشہور میڈیا گروپ ’اسکائی‘ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ اپنے ٹی وی نیوز کے مشترکہ منصوبے ’اسکائی نیوز عربیہ‘ سے الگ ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے.

    اسکائی نے اپنے اماراتی پارٹنر ’آئی ایم آئی‘ کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اب وہ اس 24 گھنٹے چلنے والے عربی نیوز چینل کی تمام اسٹریٹجک اور آپریشنل ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے گا، تاہم ایک کثیر السالہ برانڈ لائسنسنگ معاہدے کے تحت یہ چینل اپنا پرانا نام برقرار رکھ سکے گا.

    یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوڈان جنگ کے دوران اس چینل کی کوریج پر شدید تنقید کی جا رہی تھی اور اس پر نسل کشی کے حقائق چھپانے کے الزامات عائد کیے جا رہے تھےابوظہبی سے نشر ہونے والا یہ چینل 2010 میں الجزیرہ اور بی بی سی عربی کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جس نے 2012 میں باقاعدہ نشریات کا آغاز کیا تھا.

    اس اہم تبدیلی کے موقع پر اسکائی نیوز گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین ڈیوڈ روڈز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آئی ایم آئی کے ساتھ ہماری شراکت داری کے ذریعے برسوں کے دوران بہت کچھ تیار کیا گیا اور پورے خطے میں ایک نمایاں شناخت بنائی گئی، اس تبدیلی کے لیے یہ بالکل مناسب وقت ہے اور ہم اسکائی نیوز عربیہ کے اگلے مرحلے میں اپنے تعلقات کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں.

    تاہم برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نےاندرونی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسکائی کےاعلیٰ حکام خطے کی خبروں پر اسکائی نیوز عربیہ کی پالیسی پر کافی عرصے سے فکر مند تھےخاص طور پر متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے سوڈان میں مبینہ مظالم کی کوریج پر سوالا ت اٹھائے جا رہے تھے.

    اسی وجہ سے نومبر میں سوڈان کی حکومت نے اسکائی نیوز عربیہ پر اپنے ملک میں کام کرنے پر پابندی بھی لگا دی تھی کیونکہ چینل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہاں انسانی صورتحال مستحکم ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی رپورٹ میں وہاں اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور نسل کشی کے واضح ثبوتوں کا ذکر کیا تھا، اگرچہ متحدہ عرب امارات ان مظالم میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے.

    اسکائی نیوز کا مشرق وسطیٰ میں خبروں کی فراہمی سے پیچھے ہٹنے کا یہ فیصلہ آسٹریلیا میں کیے گئے ایسے ہی ایک فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں امریکی کمپنی کامکاسٹ نے آسٹریلیا میں اسکائی نیوز کا برانڈ لائسنس تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد وہ چینل اب نیوز ٹوئنٹی فور کے نام سے کام کرے گا.

  • برطانیہ میں مئی کے درجہ حرارت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

    برطانیہ میں مئی کے درجہ حرارت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

    میٹ آفس کے مطابق، جنوبی لندن کے کینلے ایئر فیلڈ میں رات کا کم از کم درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، جو کہ مئی کے مہینے میں برطانیہ کی تاریخ کی بلند ترین کم از کم یومیہ درجہ حرارت کی تصدیق شدہ مثال ہے۔

    موسمیاتی اصطلاح میں، کسی بھی ایسی رات کو ٹرپیکل نائٹ کہا جاتا ہے جس میں درجہ حرارت سے نیچے نہ گرے। اس ریکارڈ ساز رات نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں اس سے قبل پیر کے روز، کیو گارڈنز (جنوب مغربی لندن) میں دن کے اوقات کا درجہ حرارت کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا، اس نے پچھلے تقریباً 80 سالہ مئی کے دن کے درجہ حرارت کا ریکارڈ دو مکمل ڈگریوں سے بھی زیادہ کے فرق سے توڑا۔

    موسماتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پورے ہفتے یورپ بھر میں شدید گرمی کا یہ سلسلہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مغربی یورپ پر ہائی پریشر سسٹم (زیادہ ہوا کے دباؤ کے نظام) کے تحت شمالی افریقہ سے آنے والی گرم ہواؤں کا ایک ’’ہیٹ ڈوم‘‘ بن چکا ہے، جو کہ عام طور پر شدید ترین گرمیوں (جولائی یا اگست) میں دیکھے جانے والے اعلیٰ درجہ حرارت کی اصل وجہ ہے۔ رواں ہفتے کے آخر میں اسپین میں درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل مئی کا یومیہ ریکارڈ تھا، جو 1922 اور 1944 میں قائم ہوا تھا برطانیہ کے قومی موسمیاتی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ موسم بہار میں اتنی شدید گرمی موسمیاتی تبدیلیوں (گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج) کا براہ راست نتیجہ ہے-

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ منگل کو پارہ مزید بلند ہو سکتا ہے، اس کے ساتھ جنوبی برطانیہ کے الگ تھلگ علاقوں میں 35 ° C یا 36 ° C تک پہنچنے کا امکان ہے اس سے پہلے کہ شام کے بعد مقامی طور پر گرج چمک کے ساتھ طوفان اٹھے-

  • برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کااسکینڈل، 7 افغان باشندے گرفتار

    برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کااسکینڈل، 7 افغان باشندے گرفتار

    برطانیہ کی نورفولک پولیس نے ایک بڑے آپریشن کے دوران غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے افغان گروپ کے 7 ارکان کو بچوں کے جنسی استحصال کے سنگین الزامات میں حراست میں لے لیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق پولیس نے ان ملزمان کو ناروچ اور ڈمبرٹن کے مختلف پتوں پر چھاپے مار کر گرفتار کیا ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پولیس کی اس کارروائی کا تعلق 2 لڑکیوں سے ہے جو ان جرائم کے وقت نابالغ تھیںان مظلوم لڑکیوں کے ساتھ اگست 2023 اور مئی 2025 کے دوران ناروچ کے علاقوں میں یہ گھناؤنے واقعات پیش آئے تھےملزمان کو عدالت میں جج کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے ان کے غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونے کے طریقوں سے پردہ اٹھایا۔

    ہونے والے ملزمان 5 چھوٹی کشتیوں کے ذریعے، ایک لاری میں چھپ کر اور ایک بندرگاہ کے راستے غیر قانونی طور پر برطانوی حدود میں داخل ہوئے تھے پولیس نے یہ بھی واضح کیا کہ ان ملزمان میں سے کوئی بھی نورفولک میں قائم پناہ گزینوں کی سرکاری رہائش گاہوں میں مقیم نہیں رہا ہے۔

    خواتین کے تحفظ کی برطانوی وزیر نٹالی فلیٹ نے ان واقعات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں انتہائی گھناؤنا قرار دیا اور متاثرہ لڑکیوں اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ان ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ غیر ملکی مجرموں کے لیے برطانیہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

  • برطانوی ریڈیو نے غلطی سے شاہ چارلس کے انتقال کی خبر نشر کردی

    برطانوی ریڈیو نے غلطی سے شاہ چارلس کے انتقال کی خبر نشر کردی

    برطانیہ کے معروف ریڈیو اسٹیشن ’ریڈیو کیرولائن‘ نے کمپیوٹر خرابی کے باعث غلطی سے شاہ چارلس سوم کی وفات کا اعلان نشر کرنے پر معذرت کرلی۔

    ریڈیو کیرولائن کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ منگل کی دوپہر مشرقی ایسکس کے شہر مالڈن میں قائم مرکزی اسٹوڈیو میں کمپیوٹر خرابی کے باعث یہ غلط اعلان نشر ہوا۔

    اسٹیشن منیجر پیٹر مور کے مطابق تکنیکی خرابی کے نتیجے میں وہ خصوصی طریقۂ کار متحرک ہوگیا جو برطانیہ کے تمام نشریاتی ادارے بادشاہ یا ملکہ کی وفات کی صور ت میں استعمال کے لیے تیار رکھتے ہیں، اگرچہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس کی ضرورت پیش نہ آئے، مذکورہ پروٹوکول فعال ہونے کے بعد ریڈیو کی نشریات بھی وقتی طور پر معطل ہوگئیں، جس سے انتظامیہ کو صورتحال کا علم ہوا، بعد ازاں نشریات بحال کرکے آن ایئر معذرت نشر کی گئی۔

    پیٹر مور نے کہا کہ ریڈیو کیرولائن کو ماضی میں ملکہ الزبتھ دوم اور اب شاہ چارلس کے کرسمس پیغامات نشر کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے اور ادارہ مستقبل میں بھی یہ روایت جاری رکھنے کا خواہاں ہےہم اس غلطی سے ہونے والی پریشانی پر شاہ معظم اور اپنے سامعین سے معذرت خواہ ہیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب شاہ چارلس اور ملکہ کیملا شمالی آئرلینڈ کے دورے پر تھے، جہاں انہوں نے ایک آئرش فوک میوزک گروپ کی پرفارمنس میں شرکت بھی کی، ریڈیو اسٹیشن کی ویب سائٹ پر منگل کی دوپہر تقریباً 2 بجے سے شام 5 بجے تک کی نشریات بعد میں دستیاب نہیں تھیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ غلطی کتنی دیر بعد سامنے آئی۔

    واضح رہے کہ ریڈیو کیرولائن 1964 میں بی بی سی کی نشریاتی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا یہ ریڈیو اسٹیشن ابتدا میں برطانوی ساحل کے قریب سمندر میں موجود جہازوں سے نشریات نشر کرتا تھا 1967 میں قانون سازی کے بعد متعدد پائریٹ ریڈیو اسٹیشن بند ہوگئے، تاہم ریڈیو کیرولائن مختلف وقفوں سے نشریات جاری رکھتا رہا اور بالآخر 1990 میں اس کی سمندری نشریات ختم ہوگئیں۔

  • ناز شاہ برطانوی پارلیمان میں  کنگ کے  خطاب پر  تجویزپیش کرنیوالی پہلی مسلم خاتون بن گئیں

    ناز شاہ برطانوی پارلیمان میں کنگ کے خطاب پر تجویزپیش کرنیوالی پہلی مسلم خاتون بن گئیں

    برطانوی پارلیمانی تاریخ میں 13 مئی 2026 کو ایک اہم تاریخی سنگ میل عبور کیا گیا، جب بریڈ فورڈ ویسٹ سے لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ ایوانِ عوام (House of Commons) میں بادشاہ (کنگ چارلس سوئم) کے خطاب پر ’وفادار خطاب‘ (Loyal Address) کی تجویز پیش کرنے والی پہلی مسلم خاتون بن گئیں۔

    ناز شاہ نے برطانوی پارلیمان میں "Humble Address” یا "Loyal Address” پیش کیا، جو بادشاہ کے خطاب (King’s Speech) کے جواب میں پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (House of Commons) میں ہونے والی بحث کا آغاز کرتا ہے۔

    ناز شاہ پارلیمانی تاریخ میں اس اعلیٰ ترین روایت کو نبھانے والی پہلی مسلمان ہیں ناز شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ "یہ میری زندگی کا اعزاز ہے کہ میں وفادار خطاب پیش کر رہی ہوں یہ لمحہ بریڈ فورڈ ویسٹ کے لوگوں کا ہے میں ایوان میں یہ تجویز پیش کرنے والی پہلی مسلمان ہوں-

    یہ تقریب برطانیہ میں پارلیمانی سیشن کے آغاز پر ہوتی ہے جہاں بادشاہ حکومت کے ایجنڈے کا خاکہ پیش کرتے ہیں، ناز شاہ نے برطانوی پارلیمنٹ کی روایت کے مطابق اس خطاب میں مزاح اور سنجیدگی کا امتزاج پیش کیا۔

    واضح رہے کہ ناز شاہ نے اس تاریخی موقع پر بادشاہ چارلس کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے امریکہ کے حالیہ ریاستی دورے اور ان کی بلاغت کی تعریف بھی کی جبکہ یہ واقعہ برطانوی سیاست میں تنوع (Diversity) اور مسلم نمائندگی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔

  • برطانیہ نے ایران سے وابستہ 12 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں

    برطانیہ نے ایران سے وابستہ مبینہ نیٹ ورک کے 12 افراد اور اداروں پر برطانیہ اور دیگر ممالک میں حملوں کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق برطانوی دفترخارجہ نے بتایا کہ پابندیوں کا نشانہ بننے والے افراد اور ادارے ایران سے منسلک ایک مبینہ مجرمانہ نیٹ ورک سے تعلق رکھتے ہیں، جسے “زندشتی نیٹ ورک” کے نام سے بیان کیا گیا ہے ان افراد اور اداروں پر عائد پابندیوں کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بیرونِ ملک دشمنانہ سرگرمیوں اور برطانیہ کے خلاف مبینہ خطرات کو روکنا ہے۔

    برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد پر حملوں کی منصوبہ بندی، خفیہ کارروائیاں اور ایسے گروہوں کی مالی معاونت شامل ہے جن پر عدم استحکام پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں کچھ افراد براہ راست حملوں میں شریک رہے جب کہ دیگر نے مالی خدمات یا معاونت فراہم کی عائد کی گئی پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندیاں اور بعض افراد کے لیے کمپنی ڈائریکٹر بننے پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

    برطانیہ کے موجودہ قوانین کے تحت برطانوی شہریوں، کمپنیوں اور اداروں کو پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا تنظیموں کو مالی یا تجارتی سہولت فراہم کرنے سے منع کیا گیا ہے یہ کارروائی ایران سے منسلک نیٹ ورکس اور پراکسی گروہوں کی سرگرمیوں کے خلاف کی گئی ہے جن پر یورپ میں حملوں اور خفیہ آپریشنز میں ملوث ہونے کے شبہات ہیں۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمز نے بتایا کہ ان کی حکومت پہلے ہی ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے خلاف سخت قانون سازی پر غور کر رہی ہےان کے بقول ان قوانین کے تحت ایران سے منسلک پراکسی گروہوں کو غیر ملکی خفیہ نیٹ ورکس قرار دے کر ان کے لیے کام کرنے والوں کو 14 سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔

    واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں برطانیہ میں یہودی عبادت گاہوں، کمیونٹی مراکز اور دیگر مقامات پر حملوں اور آتش زنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جن کے پیچھے بعض ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کا شبہ ظاہر کیا گیا برطانوی حکومت اس قبل متعدد بار اعتراض اُٹھا چکی ہے کہ ایران سے وابستہ عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کو بھرتی کرکے تخریب کاری، جاسوسی اور حملوں کی کوششیں کر رہے ہیں۔

  • برطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا،کنگ چارلس

    برطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا،کنگ چارلس

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس نے کہا ہے کہ برطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا،بلکہ بدلتے حالات کے مطابق اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا-

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانیہ کے شاہ چارلس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک اپنے عوام کے تحفظ اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے متحد ہیں، اس موقع پر ملکہ کمیلا بھی ان کے ہمراہ تھیں،خطاب کے دوران کنگ چارلس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو پر تنقید، یوکرین جنگ میں امریکی حمایت کی اہمیت اور تنہائی پسندی کے خطرات کا بالواسطہ حوالہ دیا۔

    شاہ چارلس نے کہا کہ یورپ اور امریکا کی شراکت داری کو آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم قرار دیا اور کہا کہ جو اتحاد نائن الیون کے بعد نظر آیا اس کی آج یوکرین کے دفاع کیلئے ضرورت ہےبرطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا، بلکہ بدلتے حالات کے مطابق اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، یوکرین میں قیامِ امن کے لیے یورپی اتحاد کا برقرار رہنا نہایت ضروری ہے موجودہ جنگ دراصل نیٹو کے عزم کا امتحان ہے اور اس صورتحال میں یوکرین کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کی ضرورت ہے-

    شاہ چارلس نے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوران پیش آنے والے حملے کی بھی سخت مذمت کی، ان کا کہنا تھا کہ تشدد کا یہ عمل کبھی کامیاب نہیں ہوگا اور جمہوری ممالک اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے متحد رہیں گے خطاب کے دوران انہوں نے ماحولیاتی تحفظ، انسانی ہمدردی اور مذاہب کے احترام کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا کہا کہ موجودہ غیر یقینی دور میں رواداری، آزادی اور دیگر جمہوری اقدار کا دفاع پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں عشائیے کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کنگ چارلس بھی اس مؤقف سے متفق ہیں، تاہم بادشاہ نے اپنے خطاب میں ایران یا جاری جنگ پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا،یہ خطاب ایسے وقت میں ہوا جب امریکا اور برطانیہ کے تعلقات میں ایران سے متعلق جنگ کے معاملے پر تناؤ پایا جاتا ہے، اور امریکی صدر کیئر اسٹارمر پر تعاون نہ کرنے کی تنقید کرتے رہے ہیں۔

  • امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں  ہے،برطانوی سفیر

    امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں ہے،برطانوی سفیر

    امریکا میں برطانیہ کے سفیر سر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ امریکا کا خصوصی تعلق برطانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر صرف اسرائیل کے ساتھ ہے،امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں –

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک لیک ہونے والی آڈیو میں برطانوی سفیر نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان قریبی تعلق ضرور موجود ہے، خاص طور پر دفاع اور معیشت کے شعبوں میں، تاہم عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی صورتحال کے مطابق نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا یورپ اب مکمل طور پر امریکا کے سکیورٹی نظام پر انحصار نہیں کر سکتا، اس وقت امریکا کا خاص تعلق صرف ایک ملک کے ساتھ ہے اور وہ ملک اسرائیل ہےبرطانوی سفیر نے موجودہ دور میں مغربی اتحادی ممالک کو اپنے تعلقات اور ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سفیر کی ذاتی رائے اور خیالات ہیں اور حکومت کی سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے۔