Baaghi TV

Tag: برما

  • میانمار:مسلمانوں کے سیکڑوں گھر نذر آتش: فوج لوگوں کوقتل کرنے لگی

    میانمار:مسلمانوں کے سیکڑوں گھر نذر آتش: فوج لوگوں کوقتل کرنے لگی

    رنگون:مسلمانوں پر ایک بار پھر عرصہ حیات تنگ کردیاگیا ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ میانمار کی فوج نے ایک گاؤں پر چھاپے کے دوران کم از کم 10 افراد کو ہلاک اور سینکڑوں مکانات کو نذر آتش کردیا۔

    عالمی میڈیا ذرائع کے مطابق میانمار کے ایک گاوں کے ایک مسلمان رہائشی نے بتایا کہ گاؤں ’’کی سو“ کے مسلم کوارٹرز میں تقریباً 400 مکانات جل کر خاکستر ہوگئے اور ایک مسجد کو آگ سے جزوی نقصان پہنچا۔

    مقامی میڈیا نے بتایا کہ کم از کم 10 جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں جن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور کی سو میں سینکڑوں گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے، اے ایف پی دور دراز کے علاقے سے موصول ہونے والی اطلاعات کی تصدیق نہیں کرسکی۔

    مقامی لوگوں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق شمال مغربی ساگانگ کے علاقے میں گزشتہ سال بغاوت کے بعد سے شدید لڑائی اور خونریز جھڑپیں جاری ہیں، جنتا فوج کے دستے مقامی “پیپلز ڈیفنس فورس” کی مزاحمت کو کچلنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    ایک مقامی رہائشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ 18 جولائی کو کیسو گاؤں کے قریب فوجیوں کو دو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اتارا گیا اور تقریباً 100 لوگوں کو فوج نے قید کرلیا، بوڑھے مردوں کو اگلے دن رہا کر دیا گیا تھا جبکہ کم عمر افراد کو وہاں رکھا گیا تھا۔

    ایک اور رہائشی نے بتایا کہ فوجیوں کے جانے کے بعد 20 جولائی کو واپس آنے پر گاؤں والوں کو 10 افراد کی لاشیں ملیں جن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، ایک اور مقامی نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ 10 لاشیں ملی ہیں اور ان میں سے نو کی شناخت خاندان کے افراد نے کی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں کے کم از کم 30 لوگ لاپتہ ہیں۔

    مقامی لوگوں اور میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ساگانگ میں فوجیوں کے ذریعہ قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ وہ پچھلے سال آنگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ الٹنے والی بغاوت کی مخالفت کو کچلنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

     

  • آنگ سان سوچی کو ایک اور کیس میں سزاسنادی گئی

    آنگ سان سوچی کو ایک اور کیس میں سزاسنادی گئی

    نیپیداو:آنگ سان سوچی کو ایک اور کیس میں سزاسنادی گئی،اطلاعات کے مطابق میانمار کی فوجی عدالت نے آنگ سان سوچی کو بدعنوانی کا کیس ثابت ہونے پر پانچ سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سوچی پر یانگون شہر کے سابق وزیر اعلیٰ فایو من تھیئن سے چھ لاکھ روپے نقد اور گیارہ کلو گرام سونا بطور رشوت لینے کے الزامات تھے۔

     

     

    فایو من ایک وقت میں سوچی کے انتہائی بااعتماد اور قریبی ساتھی رہ چکے ہیں تاہم انہوں نے اکتوبر دو ہزار اکیس میں سوچی کو مذکورہ رقم اور سونا دینے کا اعتراف کیا تھا۔

     

     

    میانمار کی معزول رہنما آنگ سان سوچی نے ان الزامات کو بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے، میانمار کی فوجہ عدالتیں آنگ سان سوچی کو پہلے بھی چھ سال قید کی سزا سنا چکی ہیں، نئے فیصلے کے بعد آنگ سانگ سوچی کی قید کی سزا کا دورانیہ گیارہ سال ہو گیا ہے۔

     

     

     

     

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سوچی پر قانون کی خلاف ورزی کے متعدد الزامات عائد کیے ہیں ان میں سرکاری رازوں اور انتخابی قوانین کی خلاف ورزی سے لے کر بدعنوانی تک کے الزامات شامل ہیں، ان پر جتنے الزامات لگائے گئے ہیں اس کے تحت مجموعی طورپر ڈیرھ سو برس سے زیادہ کی قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

     

     

     

    اس سے قبل انہیں ملک میں کرونا وائرس وبا کے ضابطوں کی خلاف ورزی اور غیر قانونی طور پر واکی ٹاکی درآمد کرنے کا قصور وار پایا گیا تھا اور چھ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

  • بنگلہ دیش میں بے گھرروہنگیائی مسلمانوں کے لیے سعودی عرب کا ہاؤسنگ پروجیکٹ

    بنگلہ دیش میں بے گھرروہنگیائی مسلمانوں کے لیے سعودی عرب کا ہاؤسنگ پروجیکٹ

    ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں بے گھرروہنگیائی مسلمانوں کے لیے سعودی عرب کا ہاؤسنگ پروجیکٹ اس قدر شہرت پا گیا کہ دنیا بھرسے بے گھر مسلمان مہاجرین سعودی عرب کو دعائیں دینے لگے،سعودی عرب نے بنگلہ دیش میں میانمار سے مجبوراً نقل مکانی کرنے والی مسلم اقلیت روہنگیا کے لیے بڑے رہائشی منصوبے کے پہلے مرحلے پر کام شروع کر دیا۔

    شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات نے بنگلہ دیش میں روہنگیا کے مسلمانوں کےلیے 500 مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کا افتتاح کردیا۔ سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق ڈھاکہ میں متعین سعودی سفیر عیسی بن یوسف الدحیلان نے بنگلہ دیشی وزیر داخلہ اسد الزمان خان اور رکن پارلیمنٹ ابو رضا ندوی کی موجودگی میں پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔

     

    الدحیلان نے کہا کہ سعودی عرب انسانیت نواز خدمات کے شعبے میں دنیا کے سامنے مثالی خدمات پیش کرنے والا ملک ہے۔ سعودی عرب دنیا کے مختلف ملکوں میں متاثرین کی مدد کی پالیسی پر گامزن ہے ۔

    الدحیلان نے توجہ دلائی کہ مملکت نے شاہ سلمان مرکز برائے امداد وانسانی خدمات اورسعودی ترقیاتی فنڈ کے پلیٹ فارم سے متعدد ملکوں میں انسانیت نواز منصوبے نافذ کیے ہیں۔

    الدحیلان نے مزید کہا کہ شاہ سلمان مرکز نے 2021 کے دوران ’کوکس‘ بازار میں ضیافت اور روہنگیا اقلیت کےلیے راشن پیکٹ تقسیم کرائے ۔ مملکت نے بنگلہ دیش کو 15 لاکھ کورونا ویکسینیں فراہم کیں ۔سعودی عرب کی جانب سے اس قسم کےفلاحی و امدادی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔

  • میانمار کی فوج جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے : جواب دینا ہوگا : اقوام متحدہ

    میانمار کی فوج جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے : جواب دینا ہوگا : اقوام متحدہ

    جنیوا:اقوام متحدہ نے میانمار میں گزشتہ برس فوجی بغاوت کے بعد انسانی حقوق کے حوالے سے پہلی جامع رپورٹ شائع کی ہے۔ فوجی بغاوت کے بعد میانمار میں انسانی زندگی کی شرمناک توہین اور انسانیت کے خلاف جرائم کے واضح شواہد ملے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق میشیل بیچلیٹ نے منگل کے روز پیش کردہ رپورٹ میں کہا کہ گزشتہ برس کی فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار میں فوج انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیو ں میں مصروف ہے۔ ان میں سے بعض جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔

    انہوں نے رپورٹ سے متعلق ایک بیان میں کہا کہ بہت سے لوگوں کو سر میں گولیاں ماری گئیں، زندہ جلا کرمار ڈالا گیا، کسی الزام کے بغیر گرفتار کیا گیا، اذیتیں دی گئیں یا انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اس کے خلاف ”بامعنی کارروائی” کرنے کی اپیل کی۔

    بیچلیٹ نے کہا، "میانمار کے عوام کے ساتھ جس طرح کی زیادتی کی جارہی ہے اور بین الاقوامی قانون کی جس بڑے پیمانے پر اور کھلے عام خلاف ورزی کی جارہی ہے وہ ایک ٹھوس، متحد اور سخت بین الاقوامی کارروائی کا متقاضی ہے۔” میانمار آرمی کا کہنا ہے کہ امن اور سکیورٹی کو یقینی بنانا اس کی ذمہ داری ہے۔

    اس نے کسی بھی طرح کی زیادتی سے انکار کیا اور "دہشت گردوں” کو بدامنی پھیلانے کے لیے مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ فروری 2021 میں آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کو برطرف کرنے کے بعد سے فوج اب تک اقتدار کو مستحکم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ فوجی بغاوت کے بعد سے فوج کی مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔ عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لیے فوج کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں کے بعد مغربی ملکوں نے فوج پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ متاثرین کے ساتھ بات چیت نیز عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہے۔

    اس میں تصاویر اور مصدقہ ملٹی میڈیا فائلز اور اوپن سورس سے دستیاب اطلاعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ فوج کو ملک کے دیہی علاقوں میں برطرف حکومت سے وابستہ ملیشیا کی جانب سے مسلسل مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار کی فوج نے سگینگ خطے میں بڑے پیمانے پر قتل عام کیا۔

    ہلا ک ہونے والے بہت سے لوگوں کے ہاتھ اور پاوں بندھے ہوئے ملے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کایاہ ریاست میں عورتوں اور بچوں کی جلی ہوئی لاشیں پائی گئیں۔ ان میں سے بعض کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ انہوں نے بچنے کی کوشش کی تھی لیکن زندہ جلا دیے گئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتار شدگان کو پوچھ گچھ کے دوران اذیتیں دی گئیں، انہیں چھت سے الٹا لٹکایا گیا، بجلی کے جھٹکے دیے گئے، منشیات کے انجکشن دیے گئے اور ریپ سمیت جنسی زیادتی کا شکار بنایا گیا۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی ترجمان روینا شمداسانی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، "ہمیں گزشتہ برس ایک پیٹرن کا پتہ چلا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب کچھ منصوبہ بند، منظم اور مربوط حملے تھے۔

    اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ یہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔” خیال رہے کہ گزشتہ برس میانمار آرمی نے اقوام متحدہ اور اس کے آزاد ماہرین کی سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ غیرمعتبر اطلاعات اور مخالف گروپوں کے بیانات پر انحصار کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کم از کم 1600 لوگوں کو ہلاک کردیا جب کہ 12500 سے زائد قید میں ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق کم از کم 440000 افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ ایک کروڑ 40لاکھ کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ لیکن فوج نے نئے اور سابقہ ضرورت مند علاقوں تک رسائی بڑی حد تک روک رکھی ہے۔ سن 2021 میں فوجی بغاوت سے پہلے بھی میانمار میں انسانی حقوق کا ریکارڈ اچھا نہیں رہا ہے۔

    ملک کی روہنگیا مسلم اقلیت کی ایک بڑی آبادی کو سن 2017 میں ملک چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس وقت آنگ سان سوچی کی حکومت تھی۔ ان کی حکومت میں فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے متعدد گاوں جلا دیے اور شہریوں کو ہلاک کردیا۔

    اقوام متحدہ نے میانمار فوج کی اس کارروائی کو "نسلی تطہیر کی مثال” قرار دیا تھا۔