Baaghi TV

Tag: برکنگ

  • لاہور:خواتین کی ویڈیوز بنانے والا ٹریفک کانسٹبیل نوکری سے برخاست

    لاہور:خواتین کی ویڈیوز بنانے والا ٹریفک کانسٹبیل نوکری سے برخاست

    لاہور: سی ٹی او لاہور منتظر مہدی نے خواتین کی ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے والے کانسٹیبل کو نوکری سے فارغ کردیا۔

    ذرائع کے مطابق سی ٹی او لاہور نے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے کاسٹیبل کی شکایت پر دنگ ایکشن لیتے ہوئے کاسٹیبل عمران کو نوکری سے برخاست کردیا۔

    ترجمان ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ٹریفک کانسٹیبل خواتین کی ویڈیوز بناکر ٹک ٹاک پر اپلوڈ کرتا تھا، جس کی شکایت موصول ہونے پر سی ٹی او لاہور نے ایس پی ہیڈکوارٹرز شہزاد خان کو انکوائری کا حکم دیا تھا۔

     

     

    سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کے حوالے سے بتایا گیا کہ عمران نامی ٹریفک پولیس اہلکار دوران ڈیوٹی لڑکیوں کی ویڈیوز بنا بنا کر اپنے ٹک ٹاک اکاونٹ پر شئیر کر تا ہے .

     

     

     

     

    سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ مذکورہ اہلکار کی حرکات دیکھ کر ادارے کو نوٹس لینا چاہیے . پنجاب پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ سی ٹی او لاہور نے ٹریفک اسسٹنٹ کو سڑک سے گزرتی خواتین کی ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر لگانے پر فوری معطل کر کے انکوائری کا آغاز کردیا تھا .انکوائری رپورٹ کی روشنی میں سخت محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی .

     

     

     

    ان کا کہنا تھا کہ فورس کی بدنامی کا باعث بننے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا . خیال رہے کہ لاہور میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے . ایسا ہی ایک واقعہ لاہور کے علاقے شاد باغ میں پیش آیا جہاں نوجوان برقعہ پہن کر ساتھی کے ساتھ مل کر اکیڈمی آنے جانے والی لڑکیوں کو ہراساں کر رہے تھے . برقعہ پوش ملزم جوڑی بنا کر طالبات کو ہراساں کرتے تھے .

     

     

     

    اس حوالے سے سی ٹی او لاہور منتظر مہدی کا کہنا ہے کہ ٹریفک کانسٹیبل عمران بطور لفٹر ڈرائیور مغلپورہ تعینات تھا جس کی انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر کانسٹیبل کو نوکری سے برخاست کردیا گیا۔

  • سنجیدہ طرز عمل نہ اپنایا گیا تو ملک انارکی طرف مزید بڑھے گی۔ سراج الحق

    سنجیدہ طرز عمل نہ اپنایا گیا تو ملک انارکی طرف مزید بڑھے گی۔ سراج الحق

    ملک کی کشتی بھنور میں بری طرح پھنس چکی:اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پاکستان کو اس نہج پر لانے والی تینوں بڑی جماعتیں اور ان کےسرپرست ہیں۔حکمران اوراوراپوزیشن جماعتیں 22کروڑ عوام کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔

    سراج الحق نے کہا ہےکہ اسلام آباد کے ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر سیاست کرنے والے عوام کے ساتھ کھیل کھیل رہے ہیں۔ سراج الحق نے سیاسی جماعتوں‌ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو خبردار کرتا ہوں کہ سری لنکا ایسی صورت حال سے عبرت حاصل کریں۔

    سراج الحق نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی و جمہوری حق ہے۔گرفتاریاں اور سیاسی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے نہ مارے جائیں۔پولیس نوجوان کی شہادت افسوس ناک، اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں۔سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اپنے کارکنوں کے رویوں کا جائزہ لیں۔

    سراج الحق نے اس موقع پر کہا ہے کہ گالم گلوچ کی سیاست نے پاکستان کے کلچر کو تباہ کر دیا۔سیاست دشمنی اور تشدد میں بدل گئی، حکمران جماعتیں برابر کی ذمہ دار ہیں۔سنجیدہ طرز عمل نہ اپنایا گیا تو ملک انارکی طرف مزید بڑھے گی۔

  • اسلام آباد میں پہلی پلاسٹک روڈ پر کام کا آغاز:پلاسٹک روڈ اسفالٹ سے متعلق تفصیلات آگئیں

    اسلام آباد میں پہلی پلاسٹک روڈ پر کام کا آغاز:پلاسٹک روڈ اسفالٹ سے متعلق تفصیلات آگئیں

    اسلام آباد میں پہلی پلاسٹک روڈ پر کام کا آغاز کر دیا گیا،اتاترک ایونیو پر ایک کلو میٹر پلاسٹک روڈ تعمیر کی جا رہی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ایف نائن پارک میں گزشتہ ماہ اس منصوبے پر پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر کام شروع کیا گیا تھا۔پائلٹ پروجیکٹ سے تھرڈ پارٹی انجینئرنگ نتائج حاصل کئے گئے ۔نتائج کامیاب اور حوصلہ افزا ہونے کے بعد اس منصوبے پر اب باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اتاترک ایوینیو پر ایک کلو میٹر پلاسٹک روڈ کو دو دنوں میں مکمل کیا جائے گا ۔ایک کلو میٹر پلاسٹک روڈ پر 170 ٹن پلاسٹک ویسٹ استعمال ہوگا .پلاسٹک روڈ روایتی روڈ کے مقابلے میں زیادہ پائیدار ثابت ہوگی ۔.وزیراعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق پلاسٹک روڈ کی تعمیر سے ماحول پر بھی بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔ملک کے دیگر شہروں میں بھی پلاسٹک روڈ کی تعمیر کے لئے سی ڈی اے معاونت فراہم کرنے کو تیار ہے۔

    سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی روزافزوں ترقی زندگی کے مختلف شعبوں میں تبدیلیوں کا سبب بن رہی ہے۔ ان میں تعمیراتی شعبہ بھی شامل ہے۔ آج چین سمیت چند ممالک میں تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے مکانات اور بلند و بالا عمارات تعمیر کی جارہی ہیں۔

    چند برس پہلے تک کسی کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے ’ چھاپی‘ گئی دیواروں اور چھتوں کو جوڑ کر چند گھنٹوں میں مکان تعمیر کرلیا جائے گا۔ اسی تصور کی بنیاد پر ہالینڈ کی ایک کمپنی نے ’جوڑ دار‘ سڑک بنانے کے پروجیکٹ پر کام شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بڑے بڑے ٹکڑوں کو زمین پر بچھاکر سڑک کی شکل دی جائے گی، مگر خاص بات یہ ہے کہ ٹکڑے اسفالٹ یا کنکریٹ کے نہیں بلکہ پلاسٹک کے ہوں گے!

    وولکر ویسلز نامی تعمیراتی کمپنی کے مطابق ’ پلاسٹک روڈ‘ کی تعمیر کے منصوبے سے ان کا مقصد اسفالٹ سے بنی روایتی سڑکوں کا متبادل پیش کرنا ہے۔ اس کی ضرورت یوں پیش آئی کہ روایتی میٹیریل سے تیار کردہ سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد ان کی مرمت یا نئے سرے سے تعمیر میں خاصا وقت صرف ہوتا ہے۔
    اس کے علاوہ تعمیر و مرمت پر آنے والی لاگت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اکثر ملکوں میں شہری ادارے بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے مرمت کے کام یا نئی سڑک تعمیر نہیں کر پاتے اور لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں تاخیر کی وجہ سے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ ان پر گڑھے پڑ جاتے ہیں جو حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹریفک جام رہتا ہے اور گڑھوں کی وجہ سے گاڑیوں کی باڈی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

    مذکورہ بالا صورت حال کا تدارک کرنے کے لیے ہی ڈچ کمپنی پلاسٹک روڈ کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ منصوبے کے تحت پلاسٹک کی بڑی بڑی ٹائلیں بنائی جائیں گے اور انھیں Lego bricks کی طرح آپس میں جوڑ کر زمین پر بچھایا جائے گا۔ اس منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے مطابق اس طریقے سے تیار کردہ سڑکیں منفرد اور کئی لحاظ سے عام سڑکوں سے مختلف ہوں گی۔ عام سڑکوں کی تیاری میں اسفالٹ یا تارکول استعمال ہوتا ہے۔

    اسے گرم کرنے سے فضا میں آلودگی اور مضر صحت گیسیں خارج ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس پلاسٹک روڈ کے لیے بنائے گئے ٹکڑے ماحول دوست ثابت ہوں گے، کیوں کہ یہ ری سائیکل شدہ پلاسٹک سے بنائے جائیں گے۔ اس طرح ان سے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

    پلاسٹک روڈ کے کسی حصّے کے خراب ہوجانے کی صورت میں صرف اس ٹکڑے کو اکھاڑ کر اس کی جگہ پر نئی ٹائل لگا دی جائے گی۔

    تعمیراتی کمپنی کے مطابق پلاسٹک روڈ ایک کم لاگت منصوبہ ثابت ہو گا۔ اس کے علاوہ کسی وجہ سے نقصان پہنچنے پر اس کی مرمت پر بھی عام سڑکوں کے مقابلے میں اخراجات کم ہوں گے۔ پلاسٹک روڈ کی ایک اور خاصیت شدید درجۂ حرارت میں بھی اس کی شکل و صورت کا برقرار رہنا ہے۔ جب درجۂ حرارت 45 ڈگری سیلسیئس سے بڑھ جاتا ہے تو تارکول سے بنی سڑکیں اپنی شکل و صورت برقرار نہیں رکھ پاتیں۔

    یہ گویا پگھلنے لگتی ہیں اور انھیں اصل حالت میں واپس لانے پر بھی کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس پلاسٹک روڈ کے لیے تیار کی گئی ٹائلیں منفی 40 ڈگری سے لے کر 80 ڈگری سیلسیئس تک درجۂ حرارت برداشت کرسکیں گی۔ علاوہ ازیں ٹائلیں کم وزن ہوں گی، نتیجتاً عام سڑک کے مقابلے میں زمین پر کم بوجھ پڑے گا اور زیرزمین بجلی کی کیبلز اور پانی، گیس اور نکاسی آب کی لائنیں بچھانا بھی آسان ہوگا۔