Baaghi TV

Tag: بری

  • احتجاج، توڑ پھوڑ، عمران خان ،شیخ رشید، شاہ محمود قریشی و دیگر بری

    احتجاج، توڑ پھوڑ، عمران خان ،شیخ رشید، شاہ محمود قریشی و دیگر بری

    احتجاج اور توڑ پھوڑ پر بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں درج دو مقدمات کامعاملہ ،بانی پی ٹی آئی عمران خان ،شیخ رشید احمد اور دیگر کو بری کردیاگیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ صہیب بلال رانجھا نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،بانی پی ٹی آئی کی دونوں مقدمات میں بریت درخواست منظور کر لی گئی، تحریک انصاف کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی ، سیف اللہ نیازی، عامر محمود کیانی، پرویز خٹک، شیریں مزاری، فیصل جاوید سمیت گیارہ ملزمان بری کر دیئے گئے

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان و دیگر ملزمان پر لانگ مارچ کے دوران لوگوں کو اکسانے کا الزام ہے، اگر پبلک کو عمران خان و دیگر نے اکسایا تو پراسیکیوشن کو بادی النظر میں ثابت بھی کرنا ہو گا، عمران خان و دیگر کے خلاف کوئی ثبوت عدالت میں جمع نہیں کروایا گیا، ان کے خلاف کیس چلانے کے لیے ریکارڈ ناکافی ہے، پراسیکیوشن کی جانب سے جمع کروایا گیا ریکارڈ عمران خان و دیگر ملزمان پر جرم ثابت کرنے کے لیے مضبوط نہیں، بانی پی ٹی آئی و دیگر ملزمان کو تھانہ بارہ کہو میں درج دو مقدمات میں بری کیا جاتا ہے

    قومی اسمبلی ،سپیکر کیسے غیر قانونی کام کرتے رہے،من پسند افراد کی بھرتیاں، لوٹ مار،سب سامنے آ گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • حنیف عباسی ایک اور مقدمے میں بری

    حنیف عباسی ایک اور مقدمے میں بری

    مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کے خلاف تھانہ سٹی میں درج مقدمے کا عدالت نے 5 سال بعد فیصلہ سنا دیا

    پولیس کی جانب سے 5 سال قبل درج مقدمے میں نامزد ملزم حنیف عباسی کو عدالت نے بری کر دیا گیا،حنیف عباسی پر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے خلاف ریلیاں نکالنے کا الزام تھا ،حنیف عباسی کے خلاف سال 2018 میں راولپنڈی پولیس نے تھانہ سٹی میں مقدمہ درج کیا تھا ،مقدمے میں حنیف عباسی، چوہدری تنویر، دانیال چوہدری، سرفراز افضل اور ملک ابرار شامل تھے ،حنیف عباسی کے علاوہ باقی تمام ملزمان اس سے قبل مقدمے سے بری ہو چکے تھے ،حنیف عباسی کے خلاف درج مقدمے کا فیصلہ دو روز قبل محفوظ کیا گیا تھا ،بریت کی درخواست پر فیصلہ سول جج نوید اختر کی جانب سے سنایا گیا

    عام آدمی کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    جو لوگ غلط فیصلے میں ملوث تھے ان کا احتساب ہونا چاہیئے،بلاول

     بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کوئی چاہے یا نہ چاہے، کوئی نہیں روک سکتا، الیکشن ہوں گے۔

     پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن نوے دن کے اندر ہوں

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

  • نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،مریم اورنگزیب

    نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج احتساب عدالت کا ایک فیصلہ آیا کل آپ کے سامنے حامد خان کی گفتگو رکھی تھی،میاں نواز شریف کا فیصلہ پانامہ سے اقامے میں تبدیل کیا گیا، آج احتساب عدالت لاہور کا بھی فیصلہ آیا، پچھلے چار سال میں میڈیا کا گھلا گھونٹا گیا، فارن ایجنٹ کو میڈیا آپریٹر کا نام دیا گیا

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت لاہور کا فیصلہ کہہ رہا کہ نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،میاں نواز شریف کو میرٹ پر کیس سننے کے بعد بری کیا گیا،لاہور ہائیکورٹ کی اجازت پر نواز شریف ملک سے باہر گئے،جب وہ باہر چلے گئے اس کے بعد یہ کیس ان پر بنا دیا گیا اور پورے عمل میں ان کو اشتہاری کا لقب دے دیا گیا ،آج فریڈم آف ایکسپریشن کا بھاشن دیا جاتا ہے، آج نواز شریف صاحب کو کیس سے بری کر دیا گیا،چور چور کی گفتگو کرکے ذہن سازی کرنے والوں کے لیے آج لمحہ فکریہ ہے، جو کیس 1990 میں جب نواز شریف وزیراعلٰی پنجاب تھے، تب یہ تاثر دیا گیا کہ انہوں نے میر شکیل الرحمن کو پلاٹس کے معاملے میں فیور دی

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے ساتھ تم نے جو بھی کیا آج وہ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھا ہے،تم نے جن کے سیاسی کرئیر تباہ کرنے کی کوشش کی تمہارا سیاسی کرئیر دفن ہوگیا،سازش کی سہولت کاری کرنے والے تمام لوگوں کو اس کا حساب دینا ہوگا،ایون فیلڈ کیس میں دوران سماعت میں کورٹ روم میں موجود تھی جج صاحب نے کہا اس پورے عمل میں ایک کاغذ کا ٹکڑا بھی جرم کو ثابت نہ کر سکا، فیصلے میں لکھا گیا کہ اگر جرم نہیں ہے تو ابیٹنگ کیسی،

    "استحکام پاکستان پارٹی” نام سے متعلق عون چودھری کی وضاحت

    چھینہ گروپ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کو تیار

    جہانگیرترین کی پارٹی کا نام الیکشن میں رجسڑیشن سے پہلے ہی الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ میں چیلنج

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    استحکام پاکستان پارٹی کی پریس کانفرنس، فواد چودھری "منہ” چھپاتے رہے، تصاویر وائرل

    غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس سے بريت کا فیصلہ جاری
    واضح رہے کہ احتساب عدالت لاہور نے نوازشریف کی غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ ریفرنس سے بريت کا فیصلہ جاری کردیا ہے، فیصلے میں عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ریکارڈ بتاتا ہے کہ نوازشریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اس وقت کی حکومت نے نیب حکام کو نوازشریف کا سیاسی کیریئر تباہ کرنے پر مجبور کیا ملک کے تین بار کے وزیراعظم نواز شریف کی ساکھ کو تباہ کیا گیا ریفرنس کےالزامات میں نواز شریف کا کردار شریک ملزموں سے بھی کم ہے

    عدالت نے نوازشریف اور ان کی جائیدادوں کے 27 شیئرہولڈرزکی منجمد جائیدادیں بحال کرنےکا حکم دیتے ہوئے کہا کہ نیب کیس پراپرٹی اپیل کا وقت ختم ہونےکے بعد ریلیز کر دے فیصلے کی کاپی چیئرمین نیب اور ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نیب کو بھیجی جائے سینئر اسپیشل پراسکیوٹر اسداعوان کو حقائق کا علم ہونےکی بنیاد پرعدالتی معاون مقرر کیا گیا سینئر اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کو اشتہاری قراردینا قانون کے مطابق نہیں تھا نئی نیب ترمیم کے مطابق نوا شریف کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی

    احتساب عدالت نے فیصلے میں کہا کہ عدالت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جاتا ہے تعمیل کنندہ کا بیان ریکارڈ نہ کرنے پر اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کی قانونی حیثیت نہیں ہے

    احتساب عدالت کے جج راؤ عبدالجبار خان نے 27 مختلف درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں مسلم لیگ نواز کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو بری کر دیا گیا ہے۔

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • سانحہ ماڈل ٹاؤن،انسداد دہشت گردی عدالت سےعوامی تحریک کے 12 کارکنان بری

    سانحہ ماڈل ٹاؤن،انسداد دہشت گردی عدالت سےعوامی تحریک کے 12 کارکنان بری

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد پولیس اہلکاروں پر تشدد کیس میں نامزد عوامی تحریک کے 12 کارکنان کو بری کر دیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد پولیس اہلکاروں پرتشدد کیس میں نامزد عوامی تحریک کے 12 کارکنان کو ناکافی ثبوتوں کی بناء پر بری کیا۔

    عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دوران ٹرائل ملزمان کیخلاف پراسیکیوشن کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ پراسیکیوٹر کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کے چالیسویں میں شرکت کیلئے آنے والوں کا پولیس سے آمنا سامنا ہوا تھا، کارکنان نے زبردستی رکاوٹیں ہٹائیں اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔

    نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ دوران ٹرائل پولیس عوامی تحریک کے کارکنان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہ کرسکی، تھانہ فیصل ٹاؤن پولیس نے اگست 2014 کے دن کارکنان پر جھوٹی ایف آئی آرز درج کی تھیں،اگست 2014 کے دن پولیس نے ظلم بھی کیا اور بے گناہ کارکنوں پر جھوٹے مقدمات بھی قائم کیے

    نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ کے مطابق مذکورہ کارکنان شہدائے ماڈل ٹاؤن کے منعقد کی جانے والی قرآن خوانی کی محفل میں شرکت کیلئے آئے تھے، کارکنان کے خلاف تھانہ فیصل ٹاؤن لاہور میں 663 نمبر ایف آئی آر کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے، بے گناہ کارکنوں کو بے گناہی ثابت کرنے کے لیے 8 سال لگے، پولیس نے عوامی تحریک کے مرکزی قائدین کے خلاف بھی جھوٹی ایف آئی آرز درج کر رکھی ہیں.

    نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ کے مطابق عدالت سے استدعا کی گئی کہ مقدمہ میں ملوث کیے گئے تمام بے گناہوں کو بری کیا جائے جس پر عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا.

    قبل ازیں عوامی تحریک لاہور کے زیر اہتمام ایوان اقبال لاہور سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی تھی، شہدائے ماڈل ٹاؤن کی 8ویں برسی کے موقع پرکال فار جسٹس ریلی نکالی .ریلی میں شہداکے ورثا،انکے یتیم بچوں اور عوامی تحریک کے ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی تھی،ریلی کی قیادت خرم نواز گنڈاپور،ڈاکٹر سلطان محمود چوہدری،رانا نفیس حسین قادری نے کی

    ریلی سےخطاب کرتے ہوئے خرم نواز گنڈاپور کا کہنا تھا کہ 8سال کے بعد بھی ماڈل ٹاؤن کے مظلوم انصاف سے محروم ہیں ،غیر جانبدار تفتیش کیلئے قائم ہونے والی جے آئی ٹی پر تین سال سے سٹے آرڈر چل رہا ہے،زیر التوا اپیلوں اورسٹے آرڈر کا فائدہ ملزمان کو پہنچ رہا ہے، ریلی میں شریک ہزاروں کارکنان کی چیف جسٹس سپریم کورٹ سے انصاف دینے کی استدعا

    عوامی تحریک لاہور کے زیر اہتمام نکلنے والی ریلی سے تنزیلہ امجد شہید کی بیٹی بسمہ امجد نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ سے مودبانہ سوال ہے میری والدہ کو پولیس نے کیوں قتل کیا؟ 8سال گزر جانے کے بعد بھی مجھے انصاف کیوں نہیں مل رہا؟،ریلی سے علامہ رانا ادریس،مظہر محمود علوی،عرفان یوسف،نورین علوی نے بھی خطاب کیا.

    علاوہ ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کو آٹھ سال گزر جانے کے باوجود قاتلوں کو سزا نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج 17 جون کا دن صرف افسوسناک اور شرمناک سانحہ کی وجہ سے نہیں جانا جاتا بلکہ شریفوں کے ہاتھ 14 بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، شریفوں کو دوبارہ اقتدار مل جانا ساری قوم اور اداروں پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے وارثوں کو انصاف اور قاتلوں کو سزا نہ ملنا بہت بڑا المیہ ہے، جو لوگ شہید ہوئے ان کے لواحقین آٹھ سال گزر جانے کے باوجود آج بھی در بدر ہیں اور انصاف نہ ملنے کی دہائی دیتے ہیں، وہ جب ہماری عدالتوں کے سامنے سے گزرتے ہیں تو ہاتھ اٹھا کر انصاف کیلئے اللہ سے گڑگڑا کر دعا کرتے ہیں، اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں، دیر صرف زمینی انصاف دینے والے اداروں میں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 17 جون کو قانون و انصاف اور انسانی حقوق کا گلا گھونٹا گیا لیکن یہ ضرور ہوا کہ شریفوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پولیس اور افسران کے ذریعے ماورائے عدالت قتل اور انسانیت کا قلع قمع کروانا شریفوں کا نہ صرف طرہ امتیاز ہے بلکہ آج بھی اقتدار ملنے کے بعد انہوں نے وہیں سے کام شروع کیا ہے۔

    قبل ازیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شہیدہ تنزیلہ امجد شہید کی بیٹی بسمہ امجد نے اپنی والدہ کی 8ویں برسی کے موقع پرچیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام کھلے خط میں کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا کہ آپ اپنی والدہ کا تعلیم حاصل کرنے والا خواب پورا کریں انصاف آپ کو ہم دیں گے۔

    ان کے اس دست شفقت سے میری انصاف ملنے کی امید قائم ہو گئی تھی اور میں نے ساری توجہ تعلیم پر مرکوز کر لی تھی۔17جون 2014ء کے دن میں 9ویں جماعت کی طالبہ تھی اب میں نے گریجوایشن کر لی ہے مگر انصاف کا دور دور تک نشان نہیں ہے۔ میاں ثاقب نثار نے غیر جانبدار تفتیش کے لئے جو جے آئی ٹی بنوائی تھی ماتحت عدالت میں وہ فیصلہ بھی ریورس ہو گیا اور تین سال سے سٹے آرڈر چل رہا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کسی بھی ادارے کے سربراہ کی کمٹمنٹ پورے ادارے کی کمٹمنٹ ہوتی ہے۔ جس طرح کسی جج کا دیا ہوا فیصلہ تبدیل نہیں ہوتا اُسی طرح کمٹمنٹس بھی تبدیل نہیں ہوتیں۔

    بسمہ کا کہنا تھا کہ میری چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطاء بندیال سے اپیل ہے کہ میرے ساتھ انصاف کا کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے اور مجھے بتایا جائے میری والدہ کو شہید کر کے مجھے ان کے سائے سے محروم کیوں کیا گیا؟انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے اہم کیس پر لاہور ہائیکورٹ میں تین سال سے سٹے آرڈر چل رہا ہے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ملزم ایک ایک کر کے بری ہورہے ہیں۔ کیااِسے انصاف کہتے ہیں؟۔مظلوموں کی درخواستیں سماعت کے لئے بھی مقرر نہیں ہوتیں اور ملزموں کی درخواستوں پر فیصلے ہو رہے ہیں؟۔ انصاف ہم مانگ رہے ہیں مگر ریلیف ملزموں کو مل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ سے قوم کی ایک مظلوم بیٹی کی اپیل ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے ساتھ ہونے والے قانونی کھلواڑ کا وہ نوٹس لیں اور مظلوموں کے زخموں پر انصاف کی صورت میں مرحم رکھیں۔اگر آج وہ کمزور کی آوازبنیں گے تو ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں اس غریب پروری کا اجرعظیم ملے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ جملہ ہر روز عدالتوں میں بولا جاتا ہے انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے۔ہم 8سال سے انصاف کے منتظر ہیں۔

  • پرائیوٹ پراپرٹی کیس،میر شکیل الرحمان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    پرائیوٹ پراپرٹی کیس،میر شکیل الرحمان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    پرائیوٹ پراپرٹی کیس،میر شکیل الرحمان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    لاہور کی احتساب عدالت نے پرائیوٹ پراپرٹی کیس میں ایڈیٹر انچیف جنگ اور جیو میر شکیل الرحمان سمیت تمام ملزمان کو باعزت بری کردیا ہے

    احتساب عدالت میں نیب حکام نے میر شکیل الرحمان کی بریت کی درخواست پر جواب جمع کرا رکھا تھا اور نیب کے پراسیکیوٹر حارث قریشی نے بھی دلائل مکمل کرلیے تھے گزشتہ ہفتے میر شکیل الرحمان کے وکیل امجد پرویز نے ان کی بریت کی درخواستوں پر دلائل مکمل کیے تھے امجد پرویز ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ قانون کے مطابق شہادتیں ٹھیک نہ ہوں تو میر شکیل الرحمان کو بری کیا جائے کیونکہ شہادتوں میں کچھ شہادتیں نہیں ہیں امجد پرویز کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    احتساب عدالت نے آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو اس کیس میں باعزت بری کردیا ہے ،عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ میر شکیل الرحمان پر جو الزامات تھے ان سے بھی انہیں بری کیا جاتا ہے اور جو چیزیں تحویل میں ہیں وہ میر شکیل الرحمان کو واپس کی جاتی ہیں

    قبل ازیں سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے میر شکیل الرحمان درخواست ضمانت پر سماعت کی تھی سپریم کورٹ نے 9 نومبر 2020 کو جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کی ضمانت منظور کی تھی

    جنگ و جیو گروپ کے ہیڈ میر شکیل الرحمان کی لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی جس پر انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا.جیو جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن کو نیب نے گرفتار کیا تھا،جیو،جنگ پرنواز شریف کی نوازشات، لاہور کی قیمتی ترین 54 کنال اراضی کا تحفہ ،نیب نے میر شکیل کونیب آفس بلایا جہاں وہ سوالات کے جوابات نہ دے سکے جس پرنیب نے میر شکیل الرحمن کو گرفتار کرلیا تھا

    اس سے قبل میر شکیل الرحمان 5 مارچ کو پہلی مرتبہ اس کیس میں پیش ہوئے تھے، میر شکیل نے پہلی پیشی میں تین ملازم اور دو بچے نیب دفتر ساتھ لے جانے کی درخواست کی تھی تاہم ملازم ساتھ لانے کی درخواست مسترد کردی گئی تھی اور بچوں کو نیب دفتر میں داخلے کی اجازت دی گئی۔

    ‏لاہور ہائیکورٹ نے میر شکیل الرحمان کی درخواست ضمانت خارج کردی

    کسی سیٹھ کی مالی معاملات میں ہونے والی گرفتاری کو میڈیا کی‌ آزادی کے ساتھ جوڑنا صحافتی اقدار کی نفی ہے،فردوس عاشق اعوان

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف

    حمزہ شہباز، میر شکیل الرحمان کی رہائی کیلئے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

    نواز شریف کے وارنٹ ،عدالت کا تحریری حکم بھی آ گیا

    میر شکیل الرحمان کیس میں کیا غلط ہوا؟ سنئے مبشر لقمان کا کھرا سچ