Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • امریکہ نےایران پرمزید پابندیاں عائد کیں توچین نےمذمت کردی

    امریکہ نےایران پرمزید پابندیاں عائد کیں توچین نےمذمت کردی

    واشنگٹن:امریکہ نے بدھ کے روز ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔دوسری طرف چین نے بھی اس امریکی رویے کی شدید مذمت کی ہے پارس ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارت خارجہ نے امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کی شدید مخالفت کی ہے۔

     

     

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژائو لیجیان نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ چین ہمیشہ ہی امریکہ کے یکطرفہ اور غیر قانونی پابندیوں کا مخالف رہا ہے اور واشنگٹن سے ہم نے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ پابندیوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اپنی غلط روش اور پالیسی کو ترک کر کے ایران کے جوہری معاہدے پر عمل در آمد کیلئے مثبت کردار ادا کرے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی قوانین کے دائرے میں بیجنگ کے تہران کے ساتھ تعلقات ہیں اور ہمارے یہ تعلقات مثبت اور قانونی ہیں اور اس سے کسی بھی فریق کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا ہے۔

     

     

    واضح رہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے بدھ کے روز ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے 2 ایرانی شخصیات ،13 ایرانی اداروں اور 2 تیز رفتار بحری جہاز(ships) کو اپنی غیر قانونی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔

    امریکہ کے اس اقدام کو 2015 کے ایران جوہری معاہدے کی بحالی پر بات چیت کے دوران تہران پر دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات کو آگے بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

     

     

    بائیڈن انتظامیہ نے یہ پابندیاں ایسے میں عائد کی ہیں جب کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسیوں کی ناکامی کا بار بار اعتراف کر چکے ہیں۔ لیکن امریکی سیاستدان، ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں، پابندیوں کے اتنے عادی ہیں کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہمیشہ دباؤ اور پابندیوں کا سہارا لیتے رہنے پر مجبور ہیں۔

     

     

    امریکی محکمۂ خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے افراد اور اداروں کے ایک ایسے بین الاقوامی نیٹ ورک کا پتہ لگایا ہے جس نے کروڑوں ڈالر مالیت کی ایرانی پیٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل اور فروخت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے فرنٹ کمپنیوں کے ویب کا استعمال کیا ہے۔

  • قطر:فٹبال ورلڈ کپ:12 لاکھ شائقین کی روایتی ٹینٹوں میں میزبانی کرنے کے لیے تیار

    قطر:فٹبال ورلڈ کپ:12 لاکھ شائقین کی روایتی ٹینٹوں میں میزبانی کرنے کے لیے تیار

    دوحہ:فٹبال ورلڈ کپ:12 لاکھ شائقین کی روایتی ٹینٹوں میں میزبانی کرنے کے لیے تیارقطر،اطلاعات کے مطابق رواں سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں 12 لاکھ شائقین کی میزبانی کرے گا اور ایک لاکھ روایتی ٹینٹوں میں ان کو ٹھہرانے کا انتظام کیا گیا ہے۔

    قطر میں ٹورنامنٹ کی اعلیٰ انتظامی کمیٹی میں رہائش کے انتظامات کے ذمے دار عہدیدار عمر الجبر نے بتایا کہ شائقین کو خیموں میں ٹھہرانے کے آپشن کی آئندہ دو ہفتوں میں آزمائش شروع کر دی جائے گی۔

    انہوں نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ یہ شائقین کو کیمپنگ کا مزہ دے گی، ہم لوگوں کو روایتی بدوی انداز میں صحرا اور ٹینٹ کے تجربے سے لطف اندوز کرانا چاہتے ہیں، اس ٹینٹ میں پانی، بجلی اور باتھ روم کا انتظام بھی ہوگا البتہ شدید گرم موسم کے حامل اس ملک میں ٹینٹ میں ایئرکنڈیشنر کا کوئی انتظام نہ ہوگا۔

    عالمی کپ رواں سال 21 نومبر سے 18 دسمبر تک قطر میں منعقد ہوگا اور یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ورلڈ کپ جون, جولائی کے روایتی سیزن کے بجائے سردیوں کے موسم میں منعقد ہو رہا ہے کیونکہ اکثر کھلاڑی جون اور جولائی میں عرب ملک میں کھیلنے سے انکار کر چکے تھے جہاں اکثر درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے۔عمر الجبر کے مطابق ٹورنامنٹ کے موقع پر رہائش کے لیے ایک لاکھ کمرے دستیاب ہوں گے۔

  • لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کردیں:ٹی وی چینلز کی ریٹنگ بھی متاثر

    لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کردیں:ٹی وی چینلز کی ریٹنگ بھی متاثر

    لاہور:لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کردیں:ٹی وی چینلز دیکھنے والے بھی کم ہونے لگے،اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں شدید لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے جہاں ہرشخص پریشان ہےوہاں دیگرشعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بھی سخت پریشان دکھائی دیتے ہیں

    اس حوالے سے ایک رپورٹ سوشل میڈیا پروائرل ہوئی ہے جس سے صاف پتہ چلتا ہےکہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ٹی وی صارفین کی تعداد میں بھی کمی آنے لگی ہے یہ کمی بہت زیادہ ہے ، اس حوالے سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چند دنوں میں ٹی وی دیکھنے والوں کی تعداد میں 12 فیصد سے زائد کمی آگئی ہے

    اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹی وی چینل اے آر وائی کی ریٹنگ میں بھی کمی آئی ہے اور ایسے ہی جیو دنیا نیوز سمیت دیگرٹی وی چینلز کا بھی یہی حال ہے

    اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیاہے کہ علاقائی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اسلام آباد اور راولپنڈی میں یہ کمی بڑھ کر22 فیصد تک چلی گئی ہے اوراس کے بعد لاہور میں 17 فیصد جبکہ کراچی میں 12 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے

    اس رپورٹ میں لوگوں کے طبقات کے حوالے سے بھی مشاہدہ کیا گیا ہے جس میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے جو طبقے زیادہ متاثرہوئے ہیں انکی نشاندہی کی گئی ہے جن کے مطابق انٹرٹینمنٹ کا شعبہ زیادہ متاثر ہوا ہے ،

    اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مختلف بینڈز بھی بہت زیادہ متاثرہوئے ہیں اورلوڈشیڈنگ کی وجہ سے ان پرمنفی اثرات پڑے ہیں

    ادھر اس وقت ملک میں شدید لوڈ شیڈنگ جاری ہے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس وقت ملک میں بجلی کا شارٹ فال تقریباً 7500 میگاواٹ ہے جس کی وجہ سے بڑے شہروں میں 8 گھنٹے اور چھوٹے شہروں میں 12 گھنٹے جبکہ دیہات میں 12 سے 15 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے ،

  • ڈیلی ویجزملازمیں عید پربھی تنخواہیں نہ مل سکیں

    ڈیلی ویجزملازمیں عید پربھی تنخواہیں نہ مل سکیں

    راولپنڈی محکمہ سوئی گیس کے ڈیلی ویجز ملازمین کو عید پر بھی تنخواہیں نہ مل سکیں،اطلاعات کے مطابق ڈیلی ویجز ملازمین کو تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین پریشانی کا شکار ہوگئے، ملازمین کی عید کی خوشیاں بھی خاک میں مل گئیں

    ذرائع کے مطابق اس محکمہ سوئی گیس میں 60 سے زائد ملازمین ڈیلی ویجز طور پر کام کر رہے ہیں،ملازمین کا کہنا ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں تنخواہ سرکاری مقرر کردہ مقدار سے بھی کم ہے، ملازمین کاکہنا ہے کہ 18 سے 22 ہزار روپے تنخواہوں میں گزارہ مشکل ہے وہ بھی عید جیسے موقع پر نہیں دی جا رہی،

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ انتظامیہ فنڈ نہ ہونے کا بہانہ کر کے تنخواہیں دینے سے انکاری ہے، ملازمین کا کہنا ہے کہ جو کوئی اس معاملے پر آواز اٹھاتا ہے اس کو نوکری سے فارغ کی دھمکیاں دی جاتی ہیں،

    ملازمین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ہمارے حال پر رحم کھا کر محکمے کو تنخواہیں ادا کرنے کا حکم دیں،

    ادھر ملتان میں واسا ملتان کے مالی بحران نے ملازمین کی عید کی خوشیاں ماند کردی ہیں، جولائی کے6 روز گزرنے کے باوجود بھی سیکڑوں ریگولر اور ڈیلی ویجز ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں،محکمہ واسا کی واٹر سپلائی اور سیوریج کے بلوں کی ریکوری نہ بڑھنے کی وجہ سے مالی بحران بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے،

    جولائی کے6روز گزرنے کے باوجود واسا کے سیکڑوں ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں جبکہ عید الاضحیٰ میں صرف4 روز باقی ہیں تاہم تنخواہیں تاخیر کا شکار ہونے سے ملازمین کو گھر چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے جو بچوں کیلئے عید کی شاپنگ سے بھی محروم ہیں بلکہ ان کے لئے سنت ابراہیمی کی ادائیگی بھی انتہائی مشکل ہو گئی ہے، واسا ملازمین کا کہنا ہے کہ چھوٹے ملازمین ہر ماہ تنخواہ کے انتظار میں رہتے ہیں تاہم تنخواہ گزشتہ کچھ ماہ سے مسلسل تاخیر کا شکار ہو رہی ہے ، ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تنخواہیں جاری کی جائیں۔

  • قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی استحقاق نےعمران خان اور شیخ رشید کوطلب کرلیا

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی استحقاق نےعمران خان اور شیخ رشید کوطلب کرلیا

    اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی استحقاق نے عمران خان اور شیخ رشید کو طلب کرلیا،اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق نے سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔

     

     

    سابق وزیراعظم اور وزیرداخلہ کو پارلیمنٹ لاجز میں جے یو آئی کے ایم این اے کے فلیٹ پر پولیس چھاپے کے معاملے پر طلب کرلیا۔سابق وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف تحریک استحقاق رکن قومی اسمبلی صلاح الدین نے جمع کرائی تھی۔

     

    چیئرمین کمیٹی رانا قاسم نون کا کہنا تھا کہ تمام افراد کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں حاضری یقینی بنائیں جبکہ آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی کو بھی متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

     

     

    خیال رہے کہ 11 مارچ کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی قرارداد جمع کرائے جانے کے بعد جب اپوزیشن کے قانون سازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مدعو کی گئی تو جمعیت علمائے اسلام کی رضاکار فورس کے ارکان کو نکالنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری نے پارلیمنٹ لاجز پر چھاپہ مارا تھا۔

     

     

    سابق وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو پارلیمنٹ لاجز میں جمعیت علامہ اسلام ف کے ممبر قومی اسمبلی صلاح الدین ایوبی کے فلیٹ پر پولیس کے چھاپے کے خلاف جمع تحریک استحقاق کے سلسلے میں طلب کیا گیا ہے۔آپریشن کے دوران پولیس نے کم از کم اراکین اسمبلی سمیت انصار الاسلام کے 2 درجن رضا کاروں کو گرفتار کیا گیا تھا جنہیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔

  • مانیٹری پالیسی جاری، شرح سود میں 1.25 فیصد اضافہ

    مانیٹری پالیسی جاری، شرح سود میں 1.25 فیصد اضافہ

    کراچی: اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے شرح سود میں 1 اعشاریہ 25 فیصد کا اضافہ کردیا۔

    ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا جس میں شرح سود میں 1 اعشاریہ 25 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد بنیادی شرح سود 14 فیصد ہوگئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ عمومی مہنگائی غیر متوقع طور پر اپریل میں دو سال کی بلند ترین سطح 15 فیصد تک پہنچ گئی، مہنگائی دیہی اور شہری علاقوں میں مزید بڑھ کر بالترتیب 11.5 فیصد اور 11.1 فیصد ہوگئی، جب کہ زری پالیسی کمیٹی مہنگائی، مالی استحکام، اور نمو کے وسط مدتی امکانات پر اثر انداز ہونے والی تبدیلیوں کی محتاط نگرانی برقرار رکھے گی۔

    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مانیٹری اور اقتصادی پالیسی سے طلب کو پائیدار کرنا ہوگا، مہنگائی کی توقعات اور بیرونی خدشات کم کرنے کی ضرورت ہے، مہنگائی کی صورتحال بیرونی اور اندرونی حالات سے متاثر ہوئی ہے، رواں مالی سال کی اقتصادی پالیسی، انرجی سبسڈی پیکیج سے طلب بڑھی۔

  • دنیا خشک سالی کا شکارہوگئی: اٹلی میں پانی کا سنگین بحران

    دنیا خشک سالی کا شکارہوگئی: اٹلی میں پانی کا سنگین بحران

    اٹلی :دنیا کوخشک سالی کا سامنا ہے یہ خشک سالی ان ملکوں میں بھی بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے جہاں کبھی پانی کے کم ہونے کا تصور بھی نہیں تھا ، دنیا بھر میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں کہیں بارشیں بہت زیادہ یا کم اور موسم میں نمایاں فرق آیا ہے جس کے سبب کچھ علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے تو دوسری جانب خشک سالی کا مسئلہ درپیش ہے۔

    عالمی اداروں نے خبردارکیا ہے کہ دنیا بھرمیں موسمیاتی تبدیلیوں نے گہرے اثرات چھوڑے ہیں‌، ادھر اس حوالے سے غیرمعمولی طور پر گرم موسم، موسمیاتی تبدیلیوں نے اٹلی کے شمالی حصے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جہاں 70سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

    شمالی اٹلی میں انتہائی کم بارشوں کے سبب 5 علاقے بری طرح خشک سالی کا شکار ہوگئے، حکومت کی جانب سے آرائشی فواروں کو بند، گاڑیاں دھونے اور پودوں کو غیرضروری پانی نہ دینے کی ہدایات کی گئی ہے۔

    اٹلی کے شمال میں واقع امیلیا، روماگرا، فریوللی ونیزیا، لومبرڈی، پیڈمونٹ، وینٹو ودیگر علاقوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، خشک سالی سے نمٹنے کے لئے حکومت کی جانب سے 36 ملین یورو کے فنڈز جاری کر دیئے گئے ہیں۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یورپی ملک اٹلی کو ستر برس میں سب سے زیادہ موجودہ وقت میں قحط اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس خشک سالی کے باعث خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اٹلی کی30 فیصد سے زائد زرعی پیداوار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ کچھ روزقبل شدید موسمی تبدیلیوں کے باعث اٹلی کے انتہائی شمال میں ایلپس پہاڑی سلسلے میں گلیشیئر ٹوٹ گیا تھا جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

  • والدین کی آپس کی لڑائی اولاد کا مستقبل تباہ کردیتی ہے:مبشرلقمان

    والدین کی آپس کی لڑائی اولاد کا مستقبل تباہ کردیتی ہے:مبشرلقمان

    لاہور:والدین کی لڑائی اولاد کا مستقبل تباہ کردیتی ہے:صوفیہ مرزا کی بیٹیوں کی مبشرلقمان سے دُکھ بھری گفتگو،اطلاعات کے مطابق سینئرصحافی مبشرلقمان سے اداکارہ ماڈل صوفیہ مرزا کی بیٹیوں نے اپنے والدین کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعے پرگفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ والدین کی لڑائی نے ہماری زندگی اجیرن کردی ہے، ہم نے بہت دُکھ سہے ہیں لیکن اب برداشت سے معاملات باہرہوتے جارہے ہیں‌

    اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ وہ بحیثیت باپ بچیوں کی اپنی والدہ سے دوری پربہت دُکھی تھے ، ایک وقت وہ بھی تھا جب میں نے صوفیہ مرزا کے کہنے پریہ معاملہ اٹھایا اوراس سارے معاملے کا ذمہ داربچیوں کے باپ کوٹھہرا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ صوفیہ مرزا نے بہرکیف مجھے غلط گائیڈ کیا جو کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا

     

    https://www.youtube.com/watch?v=ZgLrw94oEuI

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اب معاملات مختلف اندازسے سامنے آرہے ہیں ، سابق حکومت کے اہم رُکن شہزاد اکبر نے بھی اس معاملے کو صوفیہ جس طرح بیان کرتی رہی ہیں حل کرنے کی کوشش کی لیکن اس وقت آیف آئی اے کو بھی غلط معلومات دی گئی تھیں

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس دوران انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب بہتر یہی ہے کہ صوفیہ مرزا اورسابق شوہر کی باتوں کوبنیاد بنانے کی بجائے بچیوں سے ہی بات کرلیں کہ اس سارے معاملے کا کون ذمہ دارہے تو صوفیہ کی بچیوں زینب اورزنیرہ نے اس سارے واقعہ اورحادثے میں اپنی والدہ محترمہ صوفیہ مرزا کو قصورٹھہرایا اور کہا کہ بہرکیف صوفیہ انکی والدہ محترمہ ہیں لیکن والدہ کوایسا نہیں کرنا چاہیے تھا جو وہ کررہی ہیں یا کچھ عرصے سے کرتی چلی آرہی ہیں

    اس سلسلے میں مبشرلقمان نے جب صوفیہ مرزا کی بیٹیوں سے بات چیت کی توان کا کہنا تھاکہ ان کی والدہ نے سوشل میڈیا پرآکرمسلسل غلط بیانی کررہی ہیں ، ہم اپنی مرضی سے والد کے ساتھ رہتی ہیں۔

    ماڈل صوفیہ مرزا کی بیٹیوں کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ کے اس بیان میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ والد نے ہمیں ہماری مرضی کے خلاف زبردستی اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے، ہم سے صرف والد نے ہی نہیں عدالت نے بھی کئی بار پوچھا کہ ہم اپنے والد کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں یا نہیں؟ ہم نے ہمیشہ اپنی مرضی سے والد کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی والدہ کو بھی کئی بار بتا چکی ہیں کہ ہم ان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ہیں لیکن انہوں نے ہمیں مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر جھوٹا ڈرامہ بنایا ہوا ہے، وہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے لڑ رہی ہیں لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے، ہم خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ نہیں رہتے۔

    اداکارہ صوفیہ مرزا کی بیٹیوں زینب اورزنیرہ کا مزید کہنا تھا کہ والدہ کے ساتھ سوشل میڈیا پر کافی مرتبہ بات چیت ہوئی ہے لیکن کبھی خوشگوار بات چیت نہیں ہو پائی، وہ ہمیشہ ہمیں انفلوئنس کرکے والد کے خلاف کرنا چاہتی ہیں، اُن کی اس بات میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی کہ ہم کیا ہیں اور ہم کیا چاہتی ہیں۔

    بچیوں سے گفتگو کرنے کے بعد مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پرخود بہت پریشان ہیں کہ والدین کی باہمی لڑائی کس طرح اولاد کوتباہ کردیتی ہے ، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ‌سب کے والدین کے درمیان محبت اورایک دوسرے کے احترام کی توفیق دے تاکہ اولاد اپنے والدین کے حُسن سلوک سے تربیت پاکرایک بہترانسان بن سکیں

  • یوگنڈا میں 120 کھرب ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر دریافت:سونا نکالنے کا ٹھیکہ چین کومل گیا

    یوگنڈا میں 120 کھرب ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر دریافت:سونا نکالنے کا ٹھیکہ چین کومل گیا

    بوسیا:یوگنڈا میں 120 کھرب ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر دریافت:سونا نکالنے کا ٹھیکہ چین کومل گیا ،اطلاعات کے مطابق یوگنڈا کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 120 کھرب ڈالرز مالیت کے 31 ملین میٹرک ٹن سونے کے ذخائر دریافت کر لیے ہیں۔

    یوگنڈا کی وزارت توانائی و معدنیات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کروائے گئے مختلف سرویز کے نتیجے میں ملک کے اندر 120 کھرب ڈالرز مالیت کے 31 ملین میٹرک ٹن سونے کے ذخائر دریافت کیے گئے ہیں جو مائننگ کے منتظر ہیں۔

    یوگنڈا حکومت کی جانب سے ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ضلع بوسیا میں سونے کی مائننگ کے حقوق کی نیلامی کے بعد چین کی ویگاگئی گولڈ مائننگ کمپنی کو لائسنس جاری کر دیا گیا ہے۔ کمپنی نے ضلعے میں مختلف مراحل میں سونا نکالنے کے لیے اپنی گولڈ ریفائنری بنانے کے کام کا آغاز بھی کر دیا ہے۔

    یوگنڈا کے صدر یووری موسے وینی نے کہا ہے کہ سونے کے ذخائر کی دریافت اور اس کی مقامی سطح پر ریفائننگ سے علاقے میں روزگار کے نئے مواقع کے ساتھ علاقائی ترقی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

    ادھرپاکستان میں ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں آج معمولی اضافہ ہوا ہے۔سندھ صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 100 روپے بڑھنے کے بعد ایک لاکھ 43 ہزار روپے ہوگئی ہے۔

    10 گرام سونے کی قدر 86 روپے اضافے سے 122600 روپے ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قدر 40 ڈالر کم ہوکر 1763 ڈالر فی اونس ہے۔

  • چین کا افغانستان کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کے منصوبوں کا باضابطہ اعلان

    چین کا افغانستان کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کے منصوبوں کا باضابطہ اعلان

    بیجنگ:چینی سفیر نے افغانستان کے لیے تجارتی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کردیا جو طالبان کی حکومت میں کاروبار کرنے کے لیے عالمی سطح پر کسی ملک کی جانب سے توثیق ہے ۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں طالبان انتظامیہ کے قائم مقام وزیر برائے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چینی سفارت کار وینگ یو نے اسی لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم 22 جون کے زلزلے کے ریلیف کی مد میں دی جائے گی۔

    اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ انسانیت کے لیے ہنگامی امداد کے علاوہ گزشتہ سال سیاسی تبدیلی اور زلزلے کے بعد ہمارے پاس اقتصادی تعمیرِ نو کے طویل المدتی منصوبے ہیں، جس میں تجارت کو ترجیح دی جائے گی۔ بعدازاں، سرمایہ کاری اور زراعت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

    طالبان حکومت کو تا حال کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔

    اس حوالے سے مغربی ممالک کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پابندیاں اسی صورت میں ہٹائی جا سکتی ہیں جب یہ گروپ ہماری شرائط پورا کرے جن میں خواتین اور لڑکیوں کو حقوق دینا شامل ہے۔

    Advertisement

    مغربی ممالک کی جانب سے افغانستان پر عائد پابندیوں میں غیرملکی اربوں ڈالر کے ذخائر منجمد کرنا بھی شامل ہے۔

    مغربی بینکوں میں افغانستان کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وینگ یو کا کہنا تھا کہ چین ہمیشہ سمجھتا ہے کہ یہ پیسہ افغانستان کے عوام کا ہے، چین ہمیشہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ منجمد فنڈز جاری کیے جائیں

    پریس کانفرنس کے موقع پر چینی سفیر وینگ یو کا کہنا تھا کہ کان کنی کے دو بڑے منصوبوں پر مذاکرات جاری ہیں، جس میں جنوبی افغانستان میں تانبے کی ایک کان ‘میس عینک’ بھی شامل ہے، اس کے حقوق چین کی سرکاری کمپنی کے پاس ہیں، جس کا معاہدہ گزشتہ افغان حکومت کے ساتھ ہوا تھا۔افغانستان معدنی ذخائر سے مالا مال ہے، جس میں لوہے اور تانبے کے بڑے ذخائر بھی شامل ہیں۔

    یاد رہے، چین کے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے، وہ اپنے بڑے منصوبے ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ پر سرمایہ کاری کے حوالے سے ہمسایہ ممالک میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

    ڈیجیٹل چائنا کنسٹرکشن سمٹ کی پریس کانفرنس میں چین کے نیشنل انٹرنیٹ انفارمیشن آفس کے انچارج نے کہا کہ 2017سے 2021 تک ، چین کی ڈیجیٹل اکانومی کا حجم 27 ٹریلین سے 45 ٹریلین تک پہنچ گیا، جو دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ڈیجیٹل اکانومی کے کل جی ڈی پی کا تناسب انتالیس اعشاریہ آٹھ فیصد تک ہو گیا ہے۔

    “جدت نئی تبدیلیاں لاتی ہے، اور ڈیجیٹل نئے انداز کا رہنما ہے” کے موضوع پر پانچویں ڈیجیٹل چائنا کنسٹرکشن سمٹ 23 سے 24 جولائی تک صوبہ فوجیان کے شہر فو زو میں منعقد ہو گی ۔

    “چینی وزارتِ خارجہ اطلاعات کے مطابق پانچ جولائی کوحکومت سندھ اور پاکستان کےمحکمہِ انسداد دہشت گردی نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ جامعہ کراچی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے اہم ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ “بلوچ لبریشن فرنٹ” اور “بلوچ لبریشن آرمی” جیسے کئی دہشت گرد گروپ اپنے رابطے مضبوط کر رہے ہیں، اور ان کے پیچھے غیر ملکی قوتیں ہو سکتی ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چیاؤ لی جیان نے چھ جولائی کو منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چین ، کراچی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ پر دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات میں پیش رفت پر بھرپور توجہ دیتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ فی الحال اس کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور امید ہے کہ پاکستان سچائی کا پتہ لگائے گا اور مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی ۔

    عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کا اعلیٰ سطحی فورم بیجنگ میں شروع ہو گیا ۔ افتتاحی تقریب میں صدر شی جن پنگ نے فورم کے نام مبارکباد کا خط بھیجا جس میں عالمی ترقی کو فروغ دینے کی صورتحال اور درپیش چیلنجز کی وضاحت کی گئی ہے اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کو عملی جامہ پہنانے کے تصورات اور تجاویز کا واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے ۔ بلاشبہ، ہنگامہ خیز اور بدلتی ہوئی دنیا اور اقتصادی ترقی کی سست روی کے پیشِ نظر، صدر شی کی طرف سےپیش کردہ جی ڈی آئی یقیناً بنی نوع انسان کی مشترکہ ترقی کے حصول کے لیے جستجو کی عکاسی کرتا ہے۔چین اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے اپنی دانشمندی اور چینی حل کے ذریعے عالمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا ایک نیا دروازہ کھول رہا ہے ۔

    بد ھ کے روز چینی میڈ یا کےمطابق ترقی ہر ملک کا اندرونی تقاضا ہے اور عالمی ترقی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے، اس لیے عالمی ترقی دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ مشن ہے۔ گزشتہ سال 21 ستمبر کو صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی 76ویں جنرل اسمبلی میں جی ڈی آئی پیش کیا، اس کے بعد انہوں نے متعدد مواقع پر عالمی مشترکہ ترقی کے لیے چین کے تصور ات اور تجاویز کو واضح کیا، اور ترقی کو بین الاقوامی ترجیحی ایجنڈے میں شامل کرنے پر زور دیا۔ ا س سے ایک بڑے ملک کے احساس ذمہ داری کو ظاہر کیا گیا ہے ۔

    اہداف مقرر کئے گئے ہیں اور تقاضوں کو بھی واضح کیا گیا ہے،تو اب سب سے اہم چیز اسے عملی جامہ پہنانا ہے، جیسا کہ موجودہ “عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کے اعلیٰ سطحی فورم میں زور دیا گیا ہے۔ چین نے ہمیشہ مشترکہ ترقی، تعاون اور جیت جیت پر مبنی نئے بین الاقوامی تعلقات کے قیام پر زور دیا ہے ۔

    چین عالمی مشترکہ ترقی پر مبنی انیشیٹو پیش کرنے والا ہے اور ساتھ ہی عمل کرنے والا بھی ہے۔ چین نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر نوول کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے بھر پور کوششیں کیں اور دوسرے ممالک کے لیے ویکسین اور وبا سے بچاؤ کے سازو سامان کی فراہمی جیسی ہر ممکنہ مدد کی ہے ۔چین نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنسوں میں سرگرمی سے شرکت کی ہے ۔چین ماحولیاتی ترجیحات ، سبز اور کم کاربن کی حامل ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔

    چین نے اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اقدامات اور سرگرمیوں میں گرم جوشی سے حصہ لیا ہے اور عالمی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ چین نے نہ صرف اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر پزیرائی حاصل کرنے والی کامیابیاں سمیٹی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے “غربت مٹاؤ اتحاد” میں بھی بانی رکن کی حیثیت سے شرکت کی ہے، جس سے عالمی سطح پر انسداد غربت کو مزید آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں میزبان ملک کی حیثیت سے چین میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کا بنیادی نچوڑ بھی عالمی ترقی ہے۔چین ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر نئے عالمی ترقیاتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام اور نئے عہد میں پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مل کر کام کرنے پر آمادہ ہے ۔

    جی ڈی آئی کا مقصد دنیا کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا حصول ہے ، اور یہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کی خواہشات و توقعات کے عین مطابق ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کچھ ممالک اپنے ذاتی مفادات کے لیے تسلط پسندی اور طاقت کی سیاسی سوچ سے چمٹے ہوئے ہیں، اور دنیا کو ایک نئی سرد جنگ کے خطرے کا سامنا ہے۔

    اس تناظر میں جی ڈی آئی کی اہمیت اور بھی زیادہ نمایاں ہو گئی ہے ۔ لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس انیشیٹو کے نفاذ کے دوران مختلف چیلنجز کا سامنا ہو گا ۔ یہ ایک ہموار راستہ نہیں ہے اور اس کے لیے لمبا سفر کرنا پڑے گا ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ جب تک بین الاقوامی برادری مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے جی ڈی آئی کے نفاذ کو مستقل طور پر آگے بڑھانے، اور مشترکہ طور پر ایک عالمی ترقیاتی برادری کی تعمیر کے لیے ٹھوس اور بھر پور کوشش کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے ، تو کثیرالجہتی اور عالمی تعاون کو مزید قوت محرکہ ملے گی اور ایک بہتر اور روشن مستقبل کا آغاز ہو گا ۔