Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • نیٹوکےارادے بتا رہےہیں کہ روس کےخلاف بڑی جنگ لڑی جانےوالی ہے:روس

    نیٹوکےارادے بتا رہےہیں کہ روس کےخلاف بڑی جنگ لڑی جانےوالی ہے:روس

    ماسکو:نیٹوکےارادے بتا رہےہیں کہ روس کےخلاف بڑی جنگ لڑی جانےوالی ہے:اس حوالے سے روسی نیشنل سیکیورٹی کے نائب سربراہ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سیاسی شکست کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو ایٹمی تباہی اور تیسری عالمی جنگ سے دنیا کو بچانے کے لئے ہر کام کرے گا۔روسی نیشنل سیکیورٹی کے نائب سربراہ دیمیتری مدودف نے اخبار روسیسکا گازتا میں لکھتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب کی نیٹو کے پھیلاؤ کی تیاری کا معنیٰ ماسکو کے ساتھ جنگ کی تیاری ہے۔

    یوکرین نے روس کو فروری میں مشروط امن مذاکرات کی پیشکش کر دی

    مدودف نے اپنے مقالے میں لکھا کہ ابھی واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اینگلوساکسن ممالک کے ساتھ دنیا کے آزاد ممالک کے تعلقات میں اعتماد، شراکت داری، شائستگی کی امید اور خود انہی کی زبان اور اصولوں کے لحاظ سے بات کرنا اب بے معنی باتیں ہیں اور اس موضوع پر تو اب بات نہیں ہوسکتی، اب روس کے پاس ایسا کوئی عنوان اور موضوع نہیں کہ جس کی وجہ سے وہ مغربی ممالک سے مذاکرات کرنا چاہے اور اس کی کوئی دلیل بھی موجودنہیں ہے۔

    مدودف نے مزید لکھا کہ آج روس اور مغربی ممالک کے درمیان اتحاد کے بجائے دوری ہے۔ گزشتہ سال اس حوالے سے بہت اہم تھا اور اس میں جو واقعات ہوئے، ان کی وجہ سے باہمی اعتماد اور احترام کی گفتگو اور مذاکرات کا موقع ختم ہو گیا ہے، مغربی ممالک کے سابقہ اور موجودہ سربراہوں کے کردار اور اعمال سے ان کی مایوسی دیکھنے والی ہے، وہ ایک خونی جنگ کی شروعات کی تیاری کر چکے تھے۔

    سیاحت کی ترقی کیلئے سعودی عرب کے 10 نئے ضوابط جاری

    سابق روسی صدر نے روس اور مغربی ممالک کے درمیان اعتماد کی کم ترین سطح کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک پر اعتماد کا بحران اب آشکار ہو گیا ہے جو روسی اپنے ممالک میں روسی املاک پر قبضہ کر رہے ہیں اور اس پر نئی پابندیاں لگا رہے ہیں، شاید آنے والی کئی دہائیوں تک ہم مغربی ممالک کے ساتھ معمول کے مطابق تعلقات کی بحالی کو فراموش کردیں اور یہ ہمارا انتخاب نہیں ہے۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ مغربی ممالک کا ایک قطبی دنیا کا خواب پورا نہیں ہو سکا جس میں ایک شخص حکومت اور اپنی ارادہ دوسروں پر تھونپ سکتا ہے۔ جدید حالات میں اب مغرب کے پاس کوئی نیا آئیڈیا بھی نہیں ہے جو وہ دنیا کے سامنے پیش کرکے انسانیت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکے اور اس طریقے سے دنیا کی مشکلات اور اجتماعی امن و امان کے مسئلے کو حل کر سکے۔

    شہباز شریف کا عمران خان کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعوی،سماعت ملتوی

    سابق روسی صدر نے کہا کہ روس دنیا کو ایٹمی تباہی اور تیسری عالمی جنگ سے بچانے کے لئے ہر کام کرے گا، اگر ہمیں روس کے امن و امان کی ضمانت نہ ملی تو کشیدگی غیرمعینہ مدت کے لئے جاری رہے گی اور دنیا تیسری عالمی جنگ اور ایٹمی تباہی کی جانب بڑھتی چلی جائے گی۔اس سے پہلے روسی وزیر خارجہ نے کرنسی لین دین میں ڈالر کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جلد ہی مغربی ممالک اپنی اقتصاد کو کنٹرول کرنے اور اس میدان میں دنیا کی رہبری کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

  • بھارت نے پاکستان اور چین کی سرحدوں پر”خاص”میزائل نصب کردیئے

    بھارت نے پاکستان اور چین کی سرحدوں پر”خاص”میزائل نصب کردیئے

    نئی دہلی :چین اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد کشیدہ ہوتے حالات میں بھارت نے چینی اور پاکستانی سرحدوں پر ’’پرالے بلیسٹک میزائل‘‘ نصب کرنے کی منظوری دے دی ہے، پرالے کا معنی قیامت یا بہت شدید تباہی بتایا جارہا ہے۔

    ہند چین حالیہ سرحدی تنازعے کے بعد بھارت نے پرالے بلیسٹک میزائل چینی پاکستانی سرحدوں پر نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی طور پر تیار کردہ زمین سے زمین تک مار کرنے والا یہ میزائل 100سے 120 کی تعداد میں بھارتی فوج کے حوالے کیا جائے گا۔

    بیرونی اشاروں پر آنیوالی حکومت کے نتائج سے پہلے خبردار کیا تھا،عمران خان

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اعلی سطحی وزارت دفاع کے اجلاس میں پرالے میزائل فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پہلے مرحلے میں یہ میزائل بھارتی فضائیہ کے حوالے کئے جائیں گے۔ گزشتہ سال اس میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا۔

    بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے بلیسٹک میزائل کو ٹیکٹکل امور میں استعمال کرنے کی دی جانے والی منظوری کا پہلا واقعہ ہے۔ یہ میزائل 150سے 500 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ بھارت، پاکستان اور چین تینوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک ہیں اور تینوں ممالک کے پاس ایک دوسرے پر حملہ، جوابی کاروائی کے لئے فضائی، بحری اور میزائل صلاحیت موجود ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے ان ممالک کے تعلقات میں کشیدگی چلی آرہی ہے اور کسی ایک فریق کی جانب سے چھوٹی سی غلط فہمی خطے کے اربوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

    پاکستانی لالہ چمن لعل کا منفرد اعزازبین الاقوامی فیلوشپ کی ڈگری لینے والے پہلے…

    کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس 165، بھارت کے پاس 160 اور چین کے پاس 350 ایٹم بم موجود ہیں جو نہ صرف ان ممالک بلکہ آس پاس کے ممالک کو بھی ناقابل برداشت تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں۔

  • یوکرین سے روس کی ک جنگ :مغربی ممالک نے مذاکرات کی روسی پیشکش ٹھکرا دی

    یوکرین سے روس کی ک جنگ :مغربی ممالک نے مذاکرات کی روسی پیشکش ٹھکرا دی

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین کی جنگ میں شامل تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن کیف اور اس کے مغربی حمایتیوں نے بات چیت کرنے سے انکار کر دیا۔غیر ملکی خبر رساں اداروں ’اے ایف پی‘ اور ’رائٹرز‘ کے مطابق روس کے فروری 2022 میں یوکرین پر حملے نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یورپ میں سب سے بڑے تنازع کو جنم دیا اور 1962 میں کیوبا میزائل بحران کے بعد سے ماسکو اور مغرب کے درمیان سب سے بڑا تصادم جاری ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگ کے خاتمے کا امکان کم نظر آتا ہے۔کریمیلن کا کہنا ہے کہ وہ مقاصد حاصل کرنے تک لڑائی جاری رکھیں گے جبکہ کیف نے کہا کہ اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک ہر روسی فوجی کو اپنے تمام علاقوں سے بے دخل نہیں کردیتے، جس میں کریمیا بھی شامل ہے جس پر روس نے 2014 میں قبضہ کیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق روسی صدر نے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم قابل قبول حل کے لیے ہر ایک کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں، ہم نہیں بلکہ وہ مذاکرات سے انکار کر رہے ہیں۔ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس یوکرین میں صحیح سمت میں کام کر رہا ہے کیونکہ امریکا کی قیادت میں مغرب روس کو الگ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

    صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ہمارے مخالفین کی پالیسی کا مقصد روس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے، وہ ہمیشہ ’تقسیم اور فتح‘ کی کوشش کرتے ہیں، ہمارا مقصد روس کے لوگوں کو متحد کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم درست سمت کی طرف جا رہے ہیں، ہم اپنے قومی مفادات، اپنے شہریوں اوراپنے لوگوں کا دفاع کررہے ہیں، ہمارے پاس اپنے شہریوں کی حفاظت کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

    ولادیمیر پیوٹن نے مزید بتایا کہ وہ 100 فیصد پُراعتماد ہیں کہ ان کی فورسز پینٹاگون کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیں گی، جسے امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔روسی صدر نے پیٹریوٹ میزائل بیٹری کے حوالے سے کہا کہ ظاہر ہے، ہم اسے تباہ کر دیں گے، 100 فیصد!

  • نیوزی لینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ: رضوان کو آرام دیکر سرفراز کو کھلائے جانے کا امکان

    نیوزی لینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ: رضوان کو آرام دیکر سرفراز کو کھلائے جانے کا امکان

    کراچی :پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ آج کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہوگا۔ذرائع کے مطابق نیوزی لینڈ کےخلاف کراچی ٹیسٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم میں تین تبدیلیوں کا امکان ہے۔

    لاہور: نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے پلیئنگ الیون فائنل

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں محمد رضوان کو آرام دیا جائے گا،ان کی جگہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم میں تقریباً چار سال بعد سرفراز احمد کی واپسی کا امکان ہے،سرفراز جنوری 2019 کے بعد ٹیسٹ میچ کھیلیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فاسٹ بولر میر حمزہ کی بھی چار سال بعد ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق نسیم شاہ کے ان فٹ ہونے پر میر حمزہ ٹیسٹ کھیلیں گے جبکہ آف اسپنر ساجد خان کو بھی موقع دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں بیس سال بعد پاک سرزمین پر ٹیسٹ کھیلنے کےلیے تیار ہیں،گزشتہ روز نیشنل اسٹیڈیم میں دونوں ٹیموں نے بھرپور پریکٹس کی، ٹیسٹ کے لیے تیار پچ کو اسپنرز کے لیے موزو قرار دیا جا رہا ہے ۔

    سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی آفر قبول کرلی

    نیوزی لینڈ کے کرکٹر ڈیرل مچل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس متعدد ٹاپ کلاس کرکٹرز ہیں جو نیوزی لینڈ کیلئے مسائل پیدا کرسکتے ہیں، ماضی میں کیا ہوا یہ نہیں دیکھیں گے، پاکستان کے ساتھ سیریز کیلئے پرجوش ہیں۔

    نیوزی لینڈ کی جانب سے 12 ٹیسٹ کھیلنے والے آل راؤنڈر ڈیرل مچل نے کہا کہ بطور گروپ پہلی بار پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے کیلئے نیوزی لینڈ کے کرکٹرز کافی پرجوش ہیں، پاکستانی قوم کرکٹ کو کافی پسند کرتی ہے اور نیوزی لینڈ یہاں سیریز کیلئے تیار ہے، امید ہے اچھی کرکٹ ہوگی۔

  • اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی: رانا ثنااللہ کا ورکرز کنونشن سے خطاب

    اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی: رانا ثنااللہ کا ورکرز کنونشن سے خطاب

    فیصل آباد:وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا ہےکہ اسمبلیاں توڑنے کے عمل کو غیر جمہوری اور غیر آئینی سمجھتے ہیں، اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی، 2023 کے الیکشن کی انتخابی مہم کی قیادت نواز شریف کریں گے۔

    فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے ورکرز کنونشن سےخطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت صوبے سے 7،8 ماہ سے غائب ہے، پولیس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، یہ ایک چیز بتا دیں جو انہوں نے ملک کی بہتری کے لیےکی ہو، ہم سی پیک لےکر آئے انہوں نے بند کیا، اگر سی پیک پر عمل درآمد ہوچکا ہوتا تو ملک میں کوئی بے روز گار نہ ہوتا۔

    قیام پاکستان سے ابتک توشہ خانہ میں کون سےتحائف آئےبتایا جائے:درخواست سماعت کےمقرر

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے گھر میں بیٹھی مرشد کے ساتھ مل کر توشہ خانہ چوری کیا، یہ جب ہم پر جھوٹے مقدمات درج کرا رہا تھا، اس وقت خود توشہ خانہ چوری کر رہا تھا ، ان کے خلاف اب کیسز بنیں گے۔

    وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ اگر یہ اسمبلیاں توڑتے ہیں تو پھر ہم بھرپور طریقے سے الیکشن لڑیں گے، الیکشن اکتوبر 2023 میں ہوں گے، اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی، 2023 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن اکثر یت حاصل کرےگی۔

    مستحق فنکاروں کیلیے امداد 25 ہزار:چوہدری پرویز الٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰہی نے اعلان…

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کو دیوالیہ اور عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں، عمران خان کا وجود ایک فساد و فتنہ ہے، ووٹ کی طاقت سے اس کا قلع قمع کرنا چاہیے، عمران خان نے قوم کو نفرت اور گالیوں کا کلچر سکھایا، اس فتنے کے ہوتے جمہوریت کیسے آگے بڑھ سکتی ہے، اس فتنے کو عوام اپنی ووٹ کی طاقت سے مائنس کرے۔

  • میری زوجہ محترمہ کا کوئی سوشل میڈیا اکاونٹ نہیں‌ہے:حارث روف

    میری زوجہ محترمہ کا کوئی سوشل میڈیا اکاونٹ نہیں‌ہے:حارث روف

    لاہور:میری زوجہ محترمہ کا کوئی سوشل میڈیا اکاونٹ نہیں‌ہے:حارث روف بھی شرپسندوں کے رویے سے تنگ اگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے فاسٹ بولر حارث رؤف ہفتے کو اپنی کلاس فیلو مزنا مسعود ملک سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ایک طرف ان کوشادی کی مبارکباد کا سلسلہ شروع ہے تو دوسری طرف کچھ شرپسندوں نے ان کی اہلیہ کے حوالے سے پراپیگنڈہ شروع کردیا

    بتایا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا پیجز پرحارث روف کی اہلیہ مزنا مسعود کے نام سے فیک اکاونٹ شیئر کرکے ان کی کردر کشی کی کوشش کی گئی تھی ، حارث روف نے اس قسم کا پراپیگنڈہ کرنے والوں کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خدارا اس کو چھوڑ دیں،ان کی اہلیہ اس قسم کی نہی جس قسم کا تصورپیش کیا جارہاہے

     

    بعد ازاں اتوار کو حارث رؤف نے بیگم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے صارفین کو خبردار کیا۔

    سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے حارث رؤف نے کہا کہ ‘ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میری بیگم مزنا مسعود ملک سوشل میڈیا پر نہیں ہیں ،ان کا کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کوئی آفیشل اکاؤنٹ موجود نہیں ہے،کسی بھی دھوکے سے محتاط رہیں’۔

    یاد رہے کہ حارث رؤف کا نکاح اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوا، جس میں ان کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں نے شرکت کی۔

  • اٹل بہاری واجپائی ،شاعربھی وزیراعظم بھی،ادبی شخصیت

    اٹل بہاری واجپائی ،شاعربھی وزیراعظم بھی،ادبی شخصیت

    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہم جنگ نہ ہونے دیں گے

    اٹل بہاری واجپائی

    پیدائش:25 دسمبر 1924ء
    آگرہ
    وفات:16 اگست 2018ء
    آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس، نئی دہلی
    وجۂ وفات:ذیابیطس
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:انڈین، برطانوی ہند
    جماعت:بھارتیہ جنتا پارٹی (1980-2018)
    جن سنگھ
    مادر علمی:چھاتراپتی شاہو جی مہاراج
    پیشہ:سیاست داں، شاعر، صحافی
    اعزازات:
    بھارت رتن (2015)
    نمایاں ماہرِ پارلیمانی امور اعزاز (1994)
    بنگا بیبھوشن (1994)
    پدم وبھوشن
    وزیر خارجہ بھارت
    1977 – 1979
    وزیر اعظم ہند
    16 مئی 1996 – 1 جون 1996
    19 مارچ 1998 – 19 مئی 2004

    ایک تھے اٹل بہاری واجپئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیدہ مہرافشاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    آزاد ہند کی ایک قدآورسیاسی شخصیت، سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی ایک مدت صاحبِ فراش رہنے کے بعد آزادی کی 71ویں سالگرہ پر زندگی کی قید سے آزاد ہوگئے۔یہ ان کے جسم کی موت ہوئی۔ ورنہ پارٹی نے تو 2009 کے پارلیمانی چناؤ میں شکست کے بعد ہی ان کوکنارے کردیا تھا اورلوہ پرش کوآگے بڑھادیا تھا۔اس دوران بیشک جسم و جان کی دیکھ بھال تو ہوئی مگران کی سوچ اورطورطریقوں کی پامالی ہی پامالی ہوئی۔ تھے تو وہ بھی سنگھی مگران میں جووضعداری اورسیاسی دوراندیشی تھی، اس کی جھلک بھی موجودہ میں نظر نہیں آتی۔ البتہ ان کی شخصیت کو بھنانے کیلئے ان کے استھی کلش اٹھائے گھوم رہے ہیں۔

    چندسال کے علاوہ اٹل جی کی سیاسی زندگی اپوزیشن میں گزری۔ مگر جواہر لعل نہروسے لے کرڈاکٹرمن موہن سنگھ تک سب نے ان کو مان سمان دیا۔ جب ان کی پارٹی سمٹ کر دوممبران تک رہ گئی تھی تب بھی ان کی بے قدری نہیں ہوئی، جیسا اب اپوزیشن کے ساتھ ہورہا ہے۔ اس لئے سنگھی ہونے کے باوجود باجپئی جی مختلف تھے۔وہ کسی بڑے گھرانے سے نہیںآئے تھے، مگر کبھی پریوار کے پس منظرکو ووٹوں کیلئے بھنایا نہیں۔ہمیشہ سادہ زندگی گزاری ۔ چاہتے تو برانڈڈ کپڑے وہ بھی پہن سکتے تھے اورروز ودیش جاسکتے تھے۔

    ہم نے ان کی خوش مزاجی کے قصے سنے ہیں۔ وہ جب تقریر کرتے توتنقید کا کوئی پہلو چھوڑتے نہیں تھے، مگرکسی پر ذاتی حملہ ان زبان پر کبھی نہیں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سیاسی نظریہ کے مخالف بھی ان کااحترام کرتے ۔ ان کے ہر لفظ، ہر جملے کی داد دیتے تھے۔وہ سیاسی فائدے کیلئے نہ جھوٹ کا سہارالیتے اورنہ سبزباغ دکھاتے۔ ان کی متانت اورسوجھ بوجھ نے ان کو مقبول عام لیڈربنادیا تھا۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے ان کو دنیا خراج عقیدت پیش کررہی ہے۔

    اٹل جی 1924میں گوالیار میں ایک برہمن گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ’’سرسوتی ششومندر، گوالیار‘‘ سے ہوئی۔انگریزی، ہندی اورسنسکرت میں ڈسٹنکشن کے ساتھ بی اے کیا اورسیاسیات میں فرسٹ ڈویزن میں ایم اے کیا۔ برہمن ہونے کے باوجود و ہ آریہ سماج سے جڑے اورعہدیدار بنے۔ 16سال کی عمرمیں آرایس ایس سے وابستہ ہوگئے ۔ اس کے کارکن (سیوم سیوک) اورمبلغ (پرچارک )رہے۔اسی لئے ان کا نام جہاد آزادی میں نہیں آتا کہ آرایس ایس اس میں حصہ دارنہیں تھی۔ہندستان چھوڑوتحریک کے دوران وہ اپنے گاؤں بٹیشورمیں گرفتارہوگئے مگرجلد ہی معذرت پیش کرکے چھوٹ گئے۔ انہوں نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے ہندی ماہنامہ ’’راشٹردھرم‘‘ سے صحافت شروع کی۔ کئی دوسرے اخباروں میں بھی کام کیا اورجب آزادی کے بعد آرایس ایس کے سیاسی بازوکے طور پر ڈاکٹرمکھرجی نے بھارتیہ جن سنگھ بنائی تواس کے بانی ممبروں میں شامل ہوگئے ۔ یہی جن سنگھ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی بنی۔ مرتے دم تک ان کا یہ رشتہ قائم رہا۔ وہ کوئی چالیس سال پارلیمنٹ کے ممبررہے۔ لوک سبھا کے دس چناؤ جیتے اوردوبارراجیہ سبھا میں گئے۔مرارجی دیسائی کی جنتادل سرکار میں وزیرخارجہ بنے تو چین کے ساتھ رشتوں کی نئی بنیاد ڈالی۔ بحیثیت وزیراعظم انہوں نے پاکستان سے تعلقات بہترکرنے اورکشمیر مسئلہ کو حل کرنے کی جو جرأتمندانہ کوششیں کیں ان کی دوسری مثال نہیں ۔ ان کے نظریہ سے اختلاف کے باوجودان کی ان خدمات کا اعتراف ہونا چاہئے اوربھاجپاکی موجودہ قیادت کویاددلانا چاہئے کہ ’راج دھرم ‘ پرکاربندرہنے کی انکی نصیحت پر کان دھرے۔صرف استھی کلش لئے پھرناکوئی معنی نہیں رکھتا۔

    بیشک انہوں نے پوری لگن سے آرایس ایس کیلئے کام کیا۔ان کاکہنا تھا کہ مرتے دم تک سنگھ کا سیوم سیوک رہوں گا۔سنگھ کا مقصد ہے بھارت کو خالص ہندو راشٹربنانا۔مگرموجودہ سرکار ہندستان کی گنگاجمنی تہذیب اور آپسی بھائی چارہ کو ملیا میٹ کرکے جس طرح کاراشٹربنانا چاہتی ہے،جس میں انسانی جانوں اور قانون کی پامالیوں کی پرواہ نہیں، اٹل جی ہوتے توایسا چاہتے۔اگروہ ایسا چاہتے ہوتے توپاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ نہ بڑھاتے۔ جس کیلئے وہ خود لاہورگئے۔ لاہوردہلی بس سروس ان کی ہی دین ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام میں اعتماد کی روح پھونکی۔ گجرات 2002کے فساد پر انہوں نے کہا تھا’ہم ودیشوں میں کیا منھ دکھائیں گے۔‘ان کا یہ کہنا ظاہر کرتا ہے کہ ان کیلئے ایک امن پسند ہندستان کو سب سے زیادہ ترجیح حاصل تھی۔

    بزرگ صحافی جناب حفیظ نعمانی نے لکھا ہے، ’’اٹل جی اگرآرایس ایس کی گرفت میں نہ ہوتے تو پنڈت نہروجیسے قدآورسیکولر ہوتے۔‘اور یہ کہ ’2004میں انہوں نے مسلمانوں کو آواز دی،لیکن موقع پرستوں کے علاوہ کوئی نہیں آیا۔ کیونکہ بات اصل بھاجپا کی تھی، وہ اگراپنے ان آقاؤں کوچھوڑ کر آتے تومسلمان قوم بڑی سیدھی اورجذباتی قوم ہے، وہ ان کو قائد اعظم بنا دیتی۔‘‘

    سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں کیلئے یہ رہی کہ باجپئی جی نے ایڈوانی جی کی رام رتھ یاترااوررام مندرتحریک کی خاموش تائید کی جس نے ملک کی سیکولربنیادوں کو ہلادیا۔ آپسی بھائی چارے پر کاری ضرب لگائی۔ ٹھیک ویسی ہی ضرب جیسی سردارپٹیل کی پہل اورگاندھی جی کی تائید پر ملک کی تقسیم پر آمادہ ہوکرکانگریس نے لگائی تھی۔ہم اجودھیا سانحہ کیلئے باجپئی جی کو کیا دوش دیں کہ تھے تووہ بھی سیوم سیوک ہی، جس پران کو فخر تھا۔ بی جے پی کو توفسادی ہندوواد چاہئے جس نے ملک کے ماحول کوزہر آلود کررکھا ہے۔ کسی بھی مذہب کاپیروکار خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہا ہے۔ اگرایسا ہی چلتا رہا اور2019 میں تبدیلی نہیں آئی تواندیشہ ہے ایک مرتبہ پھرتقسیم وطن کے دور کی سیاہ تاریخ دوہرائی جائیگی۔ یہ سب کچھ بے لگام ستا کیلئے ہورہا ہے۔ یہ نہیں سمجھتے کہ ہٹلر اور سکندر نہیں رہے،اسٹالن اورمسولینی نہیں رہے تو تم کیا رہوگے؟بقول راحت اندوری:
    جو آج صاحب مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
    کرایہ دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے
    انسان کو اقتدار کی ہوس اندھا بنادیتی ہے۔لیکن وہ وقت بھی آتا ہے جب پرچھائی بھی ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ کوئی دل سے رونے والابھی نہیں ملتا۔
    اٹل جی کی زندگی کا ایک رومانی پہلو بڑادلچسپ ہے ۔ انہوں نے سنگھ پرچارک کے اصول پر عمل کیا اورزندگی بھرشادی نہیں کی۔ کربھی لیتے تو مودی جی کی طرح ہوسکتا ہے چھوڑ دیتے ۔ ان کے بارے میں ایک دلچسپ داستان عشق کا ذکرآتا ہے ۔ طالب علمی کی زمانے میں اٹل جی اپنی ایک خوبصورت ہم جماعت راجکماری ہکسرسے قریب ہوگئے۔ یہ قربت دلی تعلق میں بدل گئی۔ جوبات زبان پر نہ آتی وہ انہوں نے خط سے کہی جس کا جواب اگرراجکماری نے لکھا تو، مگراٹل جی کونہیں ملا۔ بات آگے نہیں بڑھی۔ وہ دورتھا ہی ایسا۔ اگرچہ دونوں برہمن تھے مگرراجکماری کا خاندان کشمیری تھا اوراپنے آپ کو زیادہ اعلیٰ برہمن تصورکرتا تھا۔

    1947میں راجکماری کے والدین دہلی آگئے اور راجکماری کی شادی برج نارائن کول سے کردی جو دہلی یونیورسٹی میں فلاسفی پڑھاتے تھے۔ لیکن شادی کے باوجود دوستی کا رشتہ برقرار رہااوربڑھا۔مسزکول اپنے بچوں کے ساتھ اٹل جی کے ساتھ ان کے گھر کی منتظمہ کی طرح رہنے لگیں ۔ ان کی بڑی بیٹی کو اٹل جی نے منھ بولی بیٹی بنا لیا ۔یہ تعلق ایسا تھا جس پرپروفیسرکول نے بھی نہ کبھی اعتراض کیا اورنہ کسی نے چھپایا۔ ابتدائی دورکی محبت کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ البتہ شادی کے بعد اس کو نبھانا مشکل ہوتا ہے۔ اٹل جی اور راجکماری نے یہ کردکھایا۔باجپئی کی اس پریم کہانی میں آج کل کے مجنوؤں کیلئے ایک سبق ہے۔ عشق اور محبت کا رشتہ شادی کے رشتہ سے زیادہ پاکیزہ ہوتا ہے۔ سماج کے تانے بانے کو توڑے بغیراوررنجشیں پھیلائے بغیردوستی کے رشتہ کو نبھایا جاسکتا ہے۔

    مجھے اکثر قارئین کے دلی جذبات کا احساس ہے۔ مگرمیں کہتی ہوں اچھا اخلاق، اچھا رویہ اوراچھی تعلیم جہاں سے ملے وہ ہماراگم شدہ اثاثہ ہے۔ اس کو لے لیجیے۔ گلاب کا پھول جس ٹہنی پرلگاہوتاہے، اس میں کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی وجہ سے پھول کو ٹھکرانہیں دیتے۔ ہمارے دین کی تلقین اورمصلحت کا تقاضا ہے کہ غیروں میں جہاں کچھ اچھا ہے اس کا اعتراف کیجئے ۔ اس لئے ہم اٹل جی کی خوبیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ وہ یقینابھاجپا کی موجودہ قیادت سے لاکھ درجہ بہترتھے۔ ان کیلئے بھی اس میں بڑا سبق ہے۔

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    آؤ پھر سے دیا جلائیں
    ۔۔۔۔۔۔
    بھری دوپہری میں اندھیارا
    سورج پرچھائیں سے ہارا
    انترتم کا نیہ نچوڑیں بجھی ہوئی باقی سلگائیں
    آؤ پھر سے دیا جلائیں
    ہم پڑاؤ کو سمجھے منزل
    لکچھ ہوا آنکھوں سے اوجھل
    ورتمان کے موہ جال میں آنے والا کل نہ بھلائیں
    آؤ پھر سے دیا جلائیں
    آہوتی باقی یگیہ ادھورا
    اپنوں کے وگھنوں نے گھیرا
    انتم جے کا وجر بنانے نو ددھیچی ہڈیاں گلائیں
    آؤ پھر سے دیا جلائیں

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ۔۔۔۔۔۔
    ہم جنگ نہ ہونے دیں
    وشو شانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
    کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
    کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
    آسمانوں پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
    ایٹم سے ناگا ساکی پھر نہیں جلے گا
    یدھ وہین وشو کا سپنا بھنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا
    منہ میں شانتی بغل میں بم دھوکے کا پھیرا
    کفن بیچنے والوں سے کہہ دو چلا کر
    دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرہ
    کامیاب ہو ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہمیں چاہیے شانتی زندگی ہم کو پیاری
    ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری
    ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے
    آگے آ کر ہاتھ بٹائے دنیا ساری
    ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
    پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
    تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
    روسی بم ہو یا امریکی خون ایک بہنا ہے
    جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی:عشرت آفرین کی شاعرانہ زندگی

    انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی:عشرت آفرین کی شاعرانہ زندگی

    انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ
    بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی

    عشرت آفرین

    تاریخ پیدائش :25دسمبر 1956ء
    | کراچی، سندھ
    رشتہ دار:علی سردار جعفری (خسر)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عشرت آفرین کا شمار پاکستان سے تعلق رکھنے والی معروف ترین شاعرات میں ہوتا ہے۔ وہ شاعری میں اپنے تانیثی خیالات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کی پیدائش ۲۵ دسمبر ۱۹۵۶ کو کراچی کی ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں ہوئی۔ کراچی یونیورسٹی سے اردو ادبیاب میں ایم اے کیا۔
    ٍ عشرت آفرین نے اوئل عمری سے لکھنا شروع کر دیا تھا، ان کی تخلیقات چودہ برس کی عمر سے شائع ہونے لگی تھیں۔ اس کے بعد ان کا یہ شعری سفر تیزی سے آگے بڑھتا گیا۔ اب تک ان کے دو شعری مجموعے ’کنج پیلے پھولوں کا‘ اور ’دھوپ اپنے حصے کی‘ شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تخلیقات ہند و پاک سے شائع ہونے والے اہم ادبی جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔
    عشرت آفرین نے ان پیج میں شامل اردو خط نوری نستعلیق کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔ ان دونوں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ امریکہ میں مقیم ہیں اور یونیورسٹی آف ٹیکساس میں اردو شعبہ سے وابستہ ہیں۔ عشرت آفرین کو ان کی ادبی خدمات کے لیے کئی اہم ادبی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یہ نازک سی مرے اندر کی لڑکی
    عجب جذبے عجب تیور کی لڑکی

    یوں ہی زخمی نہیں ہیں ہاتھ میرے
    تراشی میں نے اک پتھر کی لڑکی

    کھڑی ہے فکر کے آذر کدے میں
    بریدہ دست پھر آذر کی لڑکی

    انا کھوئی تو کڑھ کر مر گئی وہ
    بڑی حساس تھی اندر کی لڑکی

    سزاوار ہنر مجھ کو نہ ٹھہرا
    یہ فن میرا نہ میں آذر کی لڑکی

    بکھر کر شیشہ شیشہ ریزہ ریزہ
    سمٹ کر پھول سے پیکر کی لڑکی

    حویلی کے مکیں تو چاہتے تھے
    کہ گھر ہی میں رہے یہ گھر کی لڑکی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وحشت سی وحشت ہوتی ہے
    زندہ ہوں حیرت ہوتی ہے
    جل بجھنے والوں سے پوچھو
    غم کی کیا حدت ہوتی ہے
    رہن نہ رکھ دینا بینائی
    اس کی بھی مدت ہوتی ہے
    سارے قرض چکا دینے کی
    کبھی کبھی عجلت ہوتی ہے
    دل اور جان کے سودے جو ہیں
    ان میں کب حجت ہوتی ہے
    خود سے جھوٹ کہاں تک بولیں
    تھوڑی سی خفت ہوتی ہے
    اپنے آپ سے ملنے میں بھی
    اب کتنی دقت ہوتی ہے
    خود سے باتیں کرنے کی بھی
    اب کس کو فرصت ہوتی ہے
    کچھ کہہ لو روکھی سوکھی میں
    اپنے ہاں برکت ہوتی ہے
    سونا سی مٹی کے گھر میں
    کب ہم سے محنت ہوتی ہے
    دھان ہمارے چڑیا کھائیں
    چڑیوں کو عادت ہوت ہوتی ہے
    بچوں سے کیا شکوہ کرنا
    مٹی میں الفت ہوتی ہے
    سبز کواڑوں کی جھریوں میں
    جگنو یا حیرت ہوتی ہے
    ٹاٹ کے مٹ میلے پردوں میں
    کیا اجلی رنگت ہوتی ہے
    پھٹی پرانی سی چنری میں
    کیا بھولی صورت ہوتی ہے
    چاول کی پیلی روٹی میں
    کیا سوندھی لذت ہوتی ہے
    رلی کے ایک اک ٹانکے میں
    پوروں کی چاہت ہوتی ہے
    جاڑے اوڑھ کے سو جانے میں
    کب کوئی زحمت ہوتی ہے
    شام کو تیرا ہنس کر ملنا
    دن بھر کی اجرت ہوتی ہے

  • کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و  رقص کی اسکالر تھیں

    کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں

    تاریخ ولادت: 25 دسمبر 1928ء
    دہلی
    تاریخ وفات:16 ستمبر 2020ء
    دہلی
    والدین:رام لال ملک
    ستیہ وتی ملک
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    مشی گن یونیورسٹی
    بنارس ہندو یونیورسٹی

    25 دسمبر 1928 کو دہلی میں پیدا ہونے والی کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں۔ انھوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی اور امریکہ کے مشی گن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ کپیلا جی، جو سنگیت ناٹک اکیڈمی کی فیلو رہ چکیں تھیں، ممتاز ڈانسر شمبھو مہاراج اور مشہور مورخ واسودیو شرن اگروال کی شاگردہ بھی تھیں۔

    وہ راجیہ سبھا کے لئے 2006 میں نامزد رکن مقرر کی گئی تھیں اور فائدہ کے عہدے کے تنازع کی وجہ سے انہوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ راجیہ سبھا کی رکن نامزد کی گئیں۔ واتسیاین نیشنل اندرا گاندھی آرٹ سینٹر کی بانی سکریٹری تھیں اور انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کی لائف ٹائم ٹرسٹی بھی تھیں۔ انھوں نے ہندوستانی ناٹیاشاسترا اور ہندوستانی روایتی فن پر سنجیدہ اور علمی کتابیں لکھیں۔ وہ ملک میں ہندوستانی فن کی سرکاری اسکالر کے طور پر سمجھی جاتی تھیں۔

    واتسیاین ہندی کی مشہور مصنفہ ستیہ وتی ملک کی بیٹی تھیں اور ان کے بھائی کیشیو ملک ایک مشہور انگریزی شاعر اور فن نقاد تھے۔ انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں محکمہ تعلیم میں سکریٹری کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کی شادی سچدآنند ہیرآنند واتسیاین سے ہوئی تھی لیکن چند برسوں کے بعد ان سے طلاق ہوگئی اور اس کے بعد وہ تنہا زندگی گزارتی رہیں۔

  • جاپان میں شدیدبرفباری:مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد14ہوگئی

    جاپان میں شدیدبرفباری:مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد14ہوگئی

    ٹوکیو: جاپان کے شمالی اور مغربی علاقوں میں شدید برفباری کے باعث مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 14 ہوگئی۔سردی کے اس طوفان کے متعلق جاپانی میڈیا کا کہنا ہےکہ جاپان میں برفباری سے ہونے والے حادثات میں 87 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    نیگاتا ریجن کے دیہی علاقوں میں 20 سینٹی میٹر سے ایک میٹر تک برف پڑ چکی ہے، خراب موسم کی وجہ سے علاقے میں بلیک آؤٹ ہے اور دو ہزار صارفین گذشتہ روز سے بجلی سے محروم ہیں۔حکام نے لوگوں کو پیر تک احتیاط برتنے اور گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    خیال رہےکہ جاپان کے شمالی اور مغربی ساحلی علاقوں میں 17 دسمبر سے شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔

    امریکا کو کئی دہائیوں بعد موسم سرما کے بدترین طوفان کا سامنا ہے جس سے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے بڑے حصے میں نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا میں برف باری کے باعث مختلف حادثات میں اموات کی تعداد 22 ہوگئی ہے جبکہ ملک بھر میں تقریباً ساڑھے 5 لاکھ افراد کو بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

    نارتھ کیرولائنا اور دیگر ریاستوں کےکچھ شہروں میں بجلی کی طلب بڑھنے پر بلیک آؤٹ ہو چکا ہے، اس کے علاوہ امریکا کی مختلف ریاستوں میں 2800 پروازیں منسوخ اور 6600 سے زائد تاخیر کا شکار ہیں۔