Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • کوئٹہ میں دستی بم کا دھماکا، متعدد افراد زخمی

    کوئٹہ میں دستی بم کا دھماکا، متعدد افراد زخمی

    کوئٹہ :کوئٹہ میں دستی بم کا دھماکا، متعدد افراد زخمی،اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سبزل روڈ پر دستی بم کا دھماکا ہوا ہے، جس میں خاتون اور بچے سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔ڈی ایس پی صدرشوکت جدون کے مطابق دھماکا پولیس اسٹیشن شہید امیر محمد دستی کے سامنے ہوا، اور ملزمان کا ہدف پولیس اہلکار تھے، تاہم سخت سیکیورٹی کی بدولت دہشت گرد اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکے۔

    ژوب میں آپریشن کے دوران ایک دہشتگرد ہلاک،پاک فوج کا سپاہی شہید

    ڈی ایس پی صدر نے بتایا کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو، پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی کی ٹیمیں طلب کرلی گئیں، اور زخمی ہونے والے افراد کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک اور دستی بم بھی ملا، جسے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنادیا، جب کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کردیا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے آج ضلع ژوب میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں جوان شہید اور دو زخمی ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے ضلع ژوب میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران سپاہی حق نواز شہید جبکہ دو جوان زخمی ہوئے ہیں، مقابلے میں ایک دہشت گرد بھی مارا گیا۔

    روس: اولڈ ہوم میں لگنے والی خوفناک آگ میں 20 معمر افراد ہلاک

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردوں کے سہولت کاروں نے بھی فائرنگ کی، علاقے میں دہشتگردوں اور سہولت کاروں کی گرفتاری کیلئے آپریشن جاری ہے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق آپریشن کا مقصد دہشتگروں کو داخلی راستوں کے استعمال سے روکنا ہے۔

  • معاشی و توانائی بحران کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا

    معاشی و توانائی بحران کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا

    کراچی: بجلی گیس کے بحران، درآمدات پر قدغن، بلند پیداواری لاگت اور سرمائے کی قلت کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کو ارسال کردہ ہنگامی مکتوب میں انڈسٹری کی نمائندہ انجمن نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ سپلائی چین میں تعطل، سرمائے اور توانائی کی قلت ، خام مال ، پلانٹ مشینری، پرزہ جات کی درآمدات میں مشکلات نے ٹیکسٹائل کی صنعت کو بحران سے دوچار کردیا ہے۔

    خط میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل کی صنعت 50فیصد پیداواری گنجائش پر کام کررہی ہے آئندہ ماہ سے ٹیکسٹائل کی ماہانہ برآمدات ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہونے کا خدشہ ہے۔

    ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کو مطلع کیا کہ سیلاب سے کپاس کی فصل شدید متاثر ہوئی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ایک کروڑ40لاکھ کپاس کی گانٹھیں درکار ہیں صرف50لاکھ گانٹھیں دستیاب ہیں، زرمبادلہ کے بحران کی وجہ سے کپاس اور دیگر ان پٹس کی درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے اس غیریقینی صورتحال میں ایکسپورٹرز نئے برآمدی آرڈرز لینے میں تذبذب کا شکا ر ہیں، روپے کی قدر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 60فیصد تک کمی کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سرمائے کی شدید قلت کا سامنا ہے ، ری فنڈز کی بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے انڈسٹری مالی مشکلات کا شکار ہے۔

    اپٹما کے مطابق ان عوامل کی وجہ سے سپلائی چین بری طرح متاثر ہورہی ہے او ر انڈسٹری کی پروڈکشن، آپریشنز اور کیش فلو کو برقرار کھنا دشوار تر ہوگیا ہے۔ ایکسپورٹ انڈسٹری بہت زیادہ دباﺅ کا شکار ہے اور اسے قرضوں کی واپسی میں مشکلات کا سامنا ہے جس سے برآمدی یونٹس کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ہے یہ صورتحال ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ایکسپورٹ کی گنجائش کو کم کرنے کے ساتھ بینکوں کے لیے بھی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

    اپٹما کے مطابق سندھ کی صنعتوں کے مقابلے میں پنجاب کی صنعتوں کو مہنگی آر ایل این جی دی جارہی ہے جس کی وجہ سے پنجاب کی صنعتوں کے لیے مسابقت دشوار ہوگئی ہے جبکہ نئے آر ایل این جی کنکشنز بھی نہیں دیے جارہے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی میں بھی تعطل کا سامنا ہے مینٹی نینس کے نا م پر مہینے میں پانچ سے چھ روز بجلی نہیں مل رہی جس سے بجلی پر چلنے والی صنعتوں کی پیداواری گنجائش 25فیصد تک کم ہوچکی ہے، سندھ کے مقابلے میں پنجاب کی ٹیکسٹائل ملوں کو مہنگی بجلی مل رہی ہے۔ اپٹما نے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں نئے یونٹس لگنے اور توسیعی منصوبوں کے رک جانے کو بھی صنعت اور پاکستان کی معیشت کے لیے ایک خطرہ قرار دیا۔

    خط میں کہا گیا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت نے گزشتہ 2سال کے دوران نئی فیکٹریاں لگانے کے لیے 5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جن میں سے متعدد فیکٹریاں تکمیل کے قریب ہیں اور مزید زیر تکمیل ہیں ان فیکٹریوں کے لیے درآمد کیے جانے والے پلانٹ مشینری پورٹ سے کلیئر نہیں ہورہے جبکہ اسپیئر پارٹس کی درآمد کے لیے لیٹر آف کریڈٹ نہیں کھولے جارہے اور جو یونٹس نئے قائم ہوئے انہں بجلی اور گیس مہیا نہیں کی جارہی۔ بہت سی فیکٹریوں کے لیے مشینری پورٹ پر آچکی ہے جو کلیئر نہ ہونے سے یہ منصوبے تاخیر او ر التوا کا شکار ہورہے ہیں اور ان کی لاگت بڑھ رہی ہے۔

    اپٹما نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ٹیکسٹائل صنعت کے بینکوں سے لیے گئے یکم جولائی 2022سے 30جون 2023تک ادائیگیوں کو معطل کیا جائے۔ پورٹ پر جو پلانٹ مشینری پہنچ چکی ہے اسے فی الفور کلیئر کیا جائے نئے اور توسیع کے پراجیکٹس کے لیے آر سی ای ٹی میں توسیع دی جائے۔ جن منصوبوں کے لیے ایل سی کھل چکی ہیں اور بینکوں سے منظوری مل چکی ہے ان کے لیے طویل مدتی قرضوں کی سہولت مہیا کی جائے۔

    خط میں یہ بھی کہاگیاہے کہ ایکسپورٹ یونٹس کو مساوی بنیادوں پر رعایتی ٹیرف پر بجلی گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بناتے ہوئے توانائی کے مسئلے کے حل کے لیے انڈسٹری کے نمائندوں پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے۔

  • تربیلا ڈیم میں 15 یونٹ بند، بجلی کی پیداوار میں ریکارڈ کمی،ملک میں اکثرجگہ بجلی غائب

    تربیلا ڈیم میں 15 یونٹ بند، بجلی کی پیداوار میں ریکارڈ کمی،ملک میں اکثرجگہ بجلی غائب

    اسلام آباد: ملک میں پن بجلی کی پیداوار میں ریکارڈ کمی، تربیلا ڈیم میں بجلی پیدا کرنے والے 15 یونٹ بند ہو گئے، 10 ہزار میگاواٹ پن بجلی میں سے صرف 500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، تربیلا ڈیم میں بجلی کی پیداوار 325 میگاواٹ رہ گئی۔

    گوجرہ:جعلی ایس ایچ او کے خلاف قانون حرکت میں آگیا

    ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق تربیلا ڈیم میں صرف 2 پاور یونٹ بجلی پیدا کررہے ہیں، تربیلا ٹی فور سے بھی بجلی کی پیداوار نہیں ہو رہی، منگلا ڈیم سے بھی بجلی کی پیدارو بند، 10 ہزار میگاواٹ پن بجلی میں سے صرف 500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، بجلی کا شارٹ فال 3228 میگاواٹ ہے۔

    ڈی آئی خان : آر پی او کا کرسمس کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کیلئے گرجا گھروں کا دورہ

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی مجموعی پیداوار 8 ہزار 772 میگاواٹ جبکہ بجلی کی طلب 12 ہزار میگاواٹ ریکارڈ کی گئی ہے، سرکاری تھرمل پاور پلانٹ سے 1200 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، نجی شعبے کے بجلی گھروں کی پیداوار 5 ہزار میگاواٹ ہے، شمسی توانائی سے 30 میگاواٹ اور بگاس سے 42 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

    ذرائع پاور ڈویژن کا مزید کہنا ہے کہ نیوکلیئر پاور پلانٹس 2 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں، ملک بھر میں 4 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشڈنگ جاری ہے، گیس سپلائی کم ہونے کے باعث بجلی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بجلی کی طلب بڑھنے سے بجلی کے شارٹ فام میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

  • ملک میں کورونا کی نئی قسم سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، قومی ادارہ صحت

    ملک میں کورونا کی نئی قسم سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، قومی ادارہ صحت

    قومی ادارہ صحت (نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ) اسلام آباد نے کورونا کی نئی قسم سے متعلق زیرگردش خبروں کی تردید کردی۔این آئی ایچ کے مطابق کورونا کے نئی قسم سے متعلق غیرمصدقہ خبریں گردش میں ہیں، این سی او سی نے تصدیق کی ہے فی الحال ایسا کوئی خطرہ نہیں۔

    این آئی ایچ کا کہنا ہے کہ کورونا سے متعلق صورتحال پر کڑی نظررکھی ہوئی ہے۔علاوہ ازیں خبر سامنے آئی تھی کہ چین میں پھیلنے والے کورونا کے نئے ویرینٹ کا پاکستان میں بھی آنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے حکام کا کہنا تھا کہ چین میں لاک ڈاؤن کھلنے اور فری ٹریولنگ سے پاکستان میں کورونا کا نیا ویرینٹ آنے کا خطرہ ہے لیکن پاکستان کورونا کے کسی بھی نئے ویرینٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔

    دوسری طرف ہندوستان کی مرکزی وزارت صحت کے مطابق ملک کی دس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام تین علاقوں میں کورونا کے نئے مریضوں کا اندراج کیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا کے نئے مریضوں کا اندراج کیا گیا ہے ان میں دارالحکومت دہلی، راجستھان، پنجاب ، تلنگانہ اور اس ملک کے زیر انتظام جموں و کشمیر شامل ہیں ۔

    ہندوستانی وزارت صحت کے مطابق دہلی میں کورونا کے زیر علاج مریضوں کی تعداد تینتس ہوگئی ہے۔

  • 24 دسمبر مہاجر ثقافت کا دن

    24 دسمبر مہاجر ثقافت کا دن

    برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد کراچی حیدرآباد میں ہندوستان سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ مختلف علاقوں کی ثقافت بھی ساتھ لائے تھے ۔ان کا لباس ۔رہن سہن ۔رسم و رواج۔کھانے ۔زبان مقامی لوگوں سے مختلف تھی جس کا اظہار آج بھی ہوتا ہے

    بریانی بھی ان میں سے ایک ہے کہ یوں تو پورے پاکستان میں بنائی اور کھائی جاتی ہے لیکن کراچی حیدرآباد کے علاؤہ بریانی کے نام پر لوگ دھوکا ہی کھاتے ہیں۔

    بریانی پاکستان کی قومی ڈش نہیں لیکن یہ یقینی طور پر کراچی والوں کے لئے پسندیدہ ترین ہے، جو ہمیشہ مزیدار بریانی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بریانی کی ایک مکمل پلیٹ میں خوشبو دار چاول، گوشت کے پیسز شامل ہوتے ہیں۔ جو بہت ہی مزید اراور لذیذ ہوتے ہیں۔

    بریانی پورے ملک میں یہ شادیوں اور مختلف پروگراموں کے لئے پیش کی جاتی ہے لیکن کھانے پینے کے حوالے سے مشہور تمام شہروں میں کراچی حیدرآباد میں سب بہترین بریانی بنائی جاتی ہے۔ایسا اس وجہ سے ہے کہ کراچی کے لوگ اس حیرت انگیز پکوان کو کھانا پکانا اچھی طرح جانتے ہیں۔بریانی بہترین غذائیت سے بھرپور کھانا ہے۔ یہ پیٹ میں نہیں جاتی بلکہ سیدھے سیدھے دل میں اتر جاتی ہے

    آپ نے خوشبودار، مزے دار اور ذائقہ دار بریانی، کراچی کی مشہور بریانی یا کراچی کی خاص بریانی جیسے بورڈز تو اکثر دکانوں پر دیکھے ہوں گے لیکن کراچی کی اصل بریانی ہر جگہ دستیاب نہیں کیوں کہ صرف نام رکھنے سے اصل بریانی نہیں بن جاتی۔

    پاکستان کے معاشی حب کراچی میں کئی طرح کی بریانی دستیاب ہے جن میں تہ دار بریانی، بیف بریانی، کراچی بریانی، وائٹ بریانی، زعفرانی بریانی، مصالحے دار بریانی، تکہ بریانی، سندھی بریانی اور مکس بریانی قابل ذکر ہیں۔

    کراچی میں بریانی کے مشہور علاقے:

    کراچی کا علاقہ صدر بریانی کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہے پورے شہر میں اس جیسی بریانی کہیں نہیں ملتی۔

    صدر کی مشہور بیف بریانی:صدرکی سب سے مشہور بریانی ، بیف بریانی ہے جس کا اپنا ایک منفرد ذائقہ ہے۔ اب مختلف جگہوں پر چکن یا مٹن بریانی بننے لگی ہے لیکن بیف بریانی ہی اصل بریانی ہوتی ہے۔ مصالحے دار گرم چاولوں کے ساتھ نرم اور چکنے گائے کے گوشت کی مزیدار بوٹیاں، جسے دیکھتے ہی منہ میں پانی آجاتا ہے۔

    صدر کی تہ دار بریانی:صدر کی چکن، مٹن اور بیف کی تہ دار بریانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں پہلے چاولوں کی ایک تہ لگائی جاتی ہے پھر اس پر ذائقے اور لذت سے بھر پور تیار کردہ مصالحے کی ایک اور تہ لگا دی جاتی ہے۔ اسی طرح باری باری چاولوں اور مصالحے کی تہیں لگا کراسے دم دے دیا جاتا ہے۔

    صدر کی مکس بریانی: یہ بھی تہ دار بریانی کی طرح ہوتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس میں زردہ رنگ ملایا جاتا ہے اور چاولوں کے ساتھ مصالحے کی تہیں لگانے کے بعد انہیں مکس کر دیا جاتا ہے۔

    صدر کی وائٹ اور زعفرانی بریانی: صدر میں ایک اور منفرد اور مزیدار بریانی بھی دستیاب ہے جس میں رنگ کے بجائے زعفران کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کہلاتی ہے وائٹ زعفرانی بریانی جس کا مزہ بھی سب سے الگ ہوتا ہے۔

    برنس روڈ کی کراچی بریانی: برنس روڈ، کراچی کی مشہور اور قدیم فوڈ اسٹریٹ پر ویسے تو بریانی کی بہت سی دکانیں ہیں لیکن سب سے مشہور یہاں کی کراچی بریانی ہے۔

    چٹ پٹی بریانی: یہ وہ بریانی ہے جو کراچی کی ہر دوسری گلی میں دستیاب ہے خاص طور پر گلشن اقبال میں اکثر دکانوں پر ملتی ہے لیکن اس کا ذائقہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ خاص طورپر گلشن کےعلاقے موتی محل کی ایک دکان پردستیاب چٹ پٹی بریانی کا اپنا ہی مزہ ہے۔

  • فیفا نے قطر فٹبال ورلڈکپ کے بہترین گول کا اعلان کردیا

    فیفا نے قطر فٹبال ورلڈکپ کے بہترین گول کا اعلان کردیا

    دوحہ:قطر میں ہوئے فٹبال ورلڈ کپ میں اسکور کیے گئے بہترین گول کا اعلان کردیا گیا۔ا،طلاعات کے مطابق فیفا کی جانب سے ’گول آف دی ٹورنامنٹ‘ کیلئے ووٹنگ میں 10 گول شامل تھے مگر شائقین کو سب سے زیادہ برازیل کے ریچارلیسن کا بائی سائیکل کک پر کیا گیا گول پسند آیا۔

    برازیل نے قطر فٹبال ورلڈ کپ مہم کا آغاز سربیا کے خلاف میچ سے کیا اور کھیل 73 ویں منٹ میں ونیش جونیئر کے پاس پر ریچارلیسن نے بائی سائیکل کک مار کر گیند کو جال میں پہنچادیا۔دنیا بھر کے شائقین فٹبال کو یہ گول بھا گیا، ہاٹ فیورٹ برازیل ورلڈ کپ تو نہ جیت سکی لیکن اس گول کا سحر ٹورنامنٹ کے ختم ہونے کے بعد بھی شائقین پر طاری رہا۔

    10 بہترین گول کے درمیان ووٹنگ میں ریچارلیسن کا بائی سائیکل گول سب سے زیادہ مقبول رہا۔ فیفا نے یہ سلسلہ 2006 ورلڈ کپ سے شروع کیا ہے۔

     

    ادھرغیر ملکی میڈیا کے مطابق فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو نے تصدیق کی ہے کہ قطر میں جاری ورلڈ کپ میں چار ٹیموں پر مشتمل گروپ والے فارمیٹ کی کامیابی کے بعد گورننگ باڈی 2026 کے ورلڈ کپ کے فارمیٹ پر نظر ثانی کرے گی۔

    قطر میں جاری ورلڈ کپ میں 32 ٹیمیں شریک تھیں جنہیں 4 ٹیموں پر مشتمل 8 گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اس میں ہر گروپ سے ٹاپ 2 ٹیموں نے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا۔ ورلڈ کپ میں یہ فارمیٹ 1998 سے چلا آرہا تھا۔

    تاہم رواں ورلڈکپ اس فارمیٹ کا آخری ورلڈ کپ ہے کیوں کہ فیفا کی جانب سے پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں شیڈول 2026 کا فٹبال ورلڈ کپ سابقہ عالمی کپ کے ایونٹس سے زیادہ طویل ہوگا کیونکہ اس میں پہلی بار 32 کے بجائے ریکارڈ 48 ٹیمیں شامل ہوں گی۔

     

    فیفا نے ٹیموں میں اضافے کے بعد ہی 2026 کے ورلڈ کپ فارمیٹ کو تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگلے ورلڈ کپ میں 16، سولہ ٹیموں کو تین گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔

    تاہم فیفا کی جانب سے ورلڈ کپ میں 4 ٹیموں کے گروپ والے فارمیٹ کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے 2026 کا ورلڈ کپ بھی اسی فارمیٹ پر کرائے جانے کا امکان ہے۔

     

    رپورٹس کے مطابق جمعہ کو دوحہ میں فیفا کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے فیفا کے صدر نے کہا کہ چار ٹیموں کا گروپ شاندار رہا ہے۔ آخری میچ کے آخری لمحات تک آپ کو معلوم نہیں تھا کہ کون آگے جائے گا جس وجہ سے ٹورنامنٹ میں دلچسپی پیدا ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اگلی میٹنگ میں ورلڈکپ 2026 کے فارمیٹ پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

  • بلوچستان میں سیلاب سے تین لاکھ سے زائد گھروں کونقصان،لاکھوں ایکڑ پرکاشت فصلیں تباہ ہوئیں:سرکاری سروے رپورٹ

    بلوچستان میں سیلاب سے تین لاکھ سے زائد گھروں کونقصان،لاکھوں ایکڑ پرکاشت فصلیں تباہ ہوئیں:سرکاری سروے رپورٹ

    ڈیرہ مراد جمالی ( محبوب مگسی) بلوچستان حکومت کی جانب سے مون سون بارشوں کے دوران بارشوں اور سیلابی ریلو ں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے کروایا جانے والا سروے مکمل ہوگیا صوبے میں مجموعی طور پر 321019 مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ پانچ لاکھ90 ہزار 439ایکٹر پر کھڑی فصلات تباہ ہوئیں، 2لاکھ 92ہزار 526 مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوئے۔

    بھارتی اسٹیٹ بینک سے چوروں نے سرنگ کھود کر کروڑوں روپے مالیت کا سونا چرا لیا

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں رواں سال یکم جون سے 25اگست تک ہونے والی مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ان نقصانات کے ازالے کیلئے بلوچستان حکومت نے محکمہ ریونیو کے زیر اہتمام صوبے کے 32 اضلاع میں جوائنٹ سروے کرایا جس کی رپورٹ مرتب کرلی گئی ہے۔

    اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی 100سے زائد وارداتوں میں ملوث ملزم گرفتار

    رپورٹ کے مطابق تین ماہ کے مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 336افراد جاں بحق جبکہ 187 زخمی ہوئے،صوبے میں مجموعی طور پر 321019 مکانات کو نقصان پہنچا250137 مکانات مکمل طور پر گرے جبکہ 96166کو جزوی نقصان پہنچا،سب سے زیادہ94578 مکانات ضلع نصیر آباد میں نقصان پہنچا جبکہ سب سے کم نقصانات ضلع زیارت میں ہوا وہاں 223مکانات گرے، سروے رپورٹ کے مطابق صوبے میں پانچ لاکھ90 ہزار 439ایکٹر پر کھڑی فصلات تباہ ہوئیں سب سے زراعت کو نقصان ضلع جھل مگسی میں ہواجہاں،ایک لاکھ 73ہزار 908ایکٹر پر فصلات تباہ ہوئیں۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ یوکرین روس جنگ میں‌ اب براہ راست شریک ہوچکا:روس

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 2لاکھ 92ہزار 526 مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوئے جن میں نوے ہزار سے زائد جھل مگسی اور 85ہزار نصیر آباد میں مارے گئے۔محکمہ ریونیو کی جانب سے یہ رپورٹ جلد صوبائی حکومت کو پیش کی جائے گی جس کے بعد متاثرین کی بحالی کاکام شروع کیا جائے گا۔*

  • کرپٹو اسکینڈل؛میرے خلاف تحقیقات جاری ہیں کہ باہرسے پاکستان پیسے کیوں اور کیسے منگوائے؟وقارذکا

    کرپٹو اسکینڈل؛میرے خلاف تحقیقات جاری ہیں کہ باہرسے پاکستان پیسے کیوں اور کیسے منگوائے؟وقارذکا

    کراچی :مشہور ٹی وی میزبان اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ وقار ذکا نے کرپٹو کرنسی اسکینڈل اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے الزامات ک

    نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر بھائیوں نے بھائی کو مار کر سر دھڑ سے کیا الگ

    و مسترد کردیا ہے۔وقار ذکاء نے میڈیا پر چلنے والی خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی نے منی لانڈرنگ کرنی ہوگی تو وہ بینکنگ چینل سے پاکستان میں پیسے کیوں لائے گا؟۔

    وقار ذکا نے ٹوئٹر پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کورٹ آرڈر میں کرپٹو کا کوئی ذکر نہیں، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے یہ کیس بنایا ہے کہ وقار ذکا کے بینک میں باہر سے پیسے آئے ہیں۔ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستانی بینک میں باہر سے پیسے نہیں لانے چاہئیں؟۔وقار ذکا کے مطابق ان کی تمام ٹرانزیکشن ایف بی آر کے پاس ظاہر کی گئی ہیں، ایف آئی اے سائبر کرائم یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ قانونی چینل کے ذریعے پاکستان لائی گئی رقم غلط تھی۔

     

    کراچی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 173 ملین روپے کے کرپٹو کرنسی اسکینڈل میں ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔وقار ذکاء کے خلاف فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کی رپورٹ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کی تھی۔وقار ذکاء نے ٹوئٹر پر ایک صارف کے سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ انہیں عدالت میں پیشی کیلئے کوئی نوٹس یا فون کال موصول نہیں ہوئی۔

    بھارتی اسٹیٹ بینک سے چوروں نے سرنگ کھود کر کروڑوں روپے مالیت کا سونا چرا لیا

    واضح رہے کہ وقار ذکاء اس وقت کرپٹو کرنسی سے متعلق اپنی کمپنی کی رجسٹریشن کے سلسلے میں امریکا میں موجود ہیں۔وقار ذکا نے اپنے خلاف جعلی خبریں پوسٹ کرنے پر تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نجی میڈیا ادارے کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

  • اعتماد کا ووٹ لیکر پنجاب اسمبلی تحلیل کردینگے:سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر ابھی بات نہیں ہوئی::مونس الٰہی

    اعتماد کا ووٹ لیکر پنجاب اسمبلی تحلیل کردینگے:سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر ابھی بات نہیں ہوئی::مونس الٰہی

    لاہور:اعتماد کا ووٹ لیکر پنجاب اسمبلی تحلیل کردینگے،اطلاعات کےمطابق ق لیگ کے رہنما اور چوہدری پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی کہتے ہیں کہ اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد پنجاب اسمبلی تحلیل کردیں گے، جب سے سیاست میں آیا ہوں بتایا گیا کہ شریفوں نے ہمیشہ دھوکا دیا، سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نمبرز پر ابھی تک پی ٹی آئی سے بات نہیں ہوئی۔

    پی سی بی نے پاک نیوزی لینڈ سیریز کیلئے کمنٹری پینل کا اعلان کردیا۔

    نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے مونس الہٰی نے کہا کہ ماضی میں شجاعت حسین اور پرویز الہٰی بتاتے رہے کہ شریفوں نے ہمیشہ دھوکا دیا، ن لیگ نے جو کچھ کیا وہ ان کو الٹا پڑا ہے، سندھ ہاؤس اور اسلام آباد میں جو منڈی لگی وہ سب کو پتہ ہے، ہمارے بندے توڑنے کیلئے منڈی تو ن لیگ نے لگانی ہے۔رہنماء ق لیگ نے کہا کہ ہم اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے تیار ہیں، اعتماد کا ووٹ کب لیں گے یہ فیصلہ عمران خان کریں گے، ہوسکتا ہے 11 جنوری سے پہلے اعتماد کا ووٹ لیں، پنجاب اسمبلی میں ہمارے نمبرز پورے ہیں، کوئی پاگل ایم پی اے ہی ہوگا جو اس صورت حال میں غائب ہوجائے گا۔

    ارجنٹینا:ورلڈ کپ کی جیت:میسی اپنی قوم کا ہیرو:کرنسی نوٹ پرلیونل میسی کی تصویرہوگی

    مونس الٰہی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہدایت ہے کہ اسمبلیاں توڑنی ہیں، ہم نے اپنی رائے دی عمران خان نے اپنا فیصلہ بتایا، اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد اسمبلیاں توڑ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل سیٹلمنٹ اسٹیبشلمنٹ کرواسکتی ہے، اسٹیبلشمنٹ نے ابھی تک مجھ سے رابطہ نہیں کیا، عمران خان سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بات ہوئی جس کیلئے کمیٹی بنائی گئی ہے، سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نمبرز پر ابھی تک پی ٹی آئی سے بات نہیں ہوئی، اس وقت سیاسی لوگ سیاسی لوگوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے بات کر رہے ہیں۔

    قومی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پروہ بھی طعنے دینے لگےجن سےتوقع نہیں تھی

    مونس الہٰی کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں نے 2018ء میں مجھے الیکشن لڑنے نہیں دیا کہ یہ پی ٹی آئی کی نشست ہے، جب الیکشن لڑنے نہیں دیا گیا تو میں نے کہا یہ تو ہمارے خاندان کی سیٹ ہے، مجھے کہا گیا کہ آپ ضمنی الیکشن لڑ لیجئے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ شہبازشریف کے پاس معاشی مسائل کا حل نہیں، بات چیت کے ذریعے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے، جنرل باجوہ کے ساتھ ہماری ڈیل الگ اور عمران خان کی الگ تھی، ہم اور پی ٹی آئی جنرل باجوہ سے تعلقات کے خود ذمہ دار ہیں، اس کنڈیشن پر ہمارا اتحاد نہیں ہوسکتا کہ ہم پی ڈی ایم کے ساتھ بیٹھ جائیں۔

  • عوامی رابطہ مہم کیلئے تحریک انصاف پنجاب کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالے گی

    عوامی رابطہ مہم کیلئے تحریک انصاف پنجاب کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالے گی

    لاہور:دنیاپاکستان تحریک انصاف نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں ریلیاں نکالنے کا فیصلہ کر لیا، پارٹی کے مقامی ذمہ داران ریلیوں کی قیادت کریں گے۔اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف 25 دسمبر کو ملتان، لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ریلیوں کا انعقاد کرے گی، 26 دسمبر کو بہاولپور،27 دسمبر کو شیخوپورہ اور 28 دسمبر کو جہلم، 29 دسمبر کو ساہیوال، 30 دسمبر کو ڈی جی خان، 31 دسمبر کو گوجرانوالہ میں تحریک انصاف ریلیاں منعقد کرے گی۔

    یکم جنوری کو دوبارہ سے ملتان، فیصل آباد، لاہور اور راولپنڈی میں ریلیوں کا انعقاد ہوگا، 2 جنوری کو سیالکوٹ، 3 جنوری اٹک، 4 جنوری جہلم اور 5 جنوری کو ساہیوال، 6 جنوری کو ڈی جی خان،7 جنوری کو شیخوپورہ میں ریلیاں نکالی جائیں گے۔

    8 اور 15 جنوری کو ایک بار پھر ملتان، لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا، 9 جنوری کو سیالکوٹ، 10 جنوری گجرات، 11 جنوری جہلم اور 12 جنوری کو گوجرانوالہ ، 13 جنوری کو ساہیوال اور 14 جنوری کو بہاولپور، 16 جنوری کو سرگودھا میں میں تحریک انصاف کے زیر اہتمام میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میری پیشگوئی ہے عام انتخابات مارچ یا اپریل 2023 میں ہوں گے، حالیہ دہشتگردی سے نمٹنا حکمرانوں کے بس کی بات نہیں، زرداری، پی ڈی ایم کے پاس ارکان کی منڈی لگانے اور گندی سیاست کےعلاوہ کچھ نہیں۔

    سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ ق لیگ کے ساتھ اتحاد کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ساتھ دیا، پرویزالہٰی گروپ ہمارے ساتھ بہتر چل رہا ہے، مجھے ابھی تک ان پر اعتماد ہے، پیر کو قومی اسمبلی اراکین استعفوں کی تصدیق کیلئے جائیں گے، حکومت میں آنے کیلئے کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اداروں میں اس وقت مفاد پرست لوگ موجود ہیں، عدالت نے ہمیں موقع دے دیا ہے کہ جب مرضی اعتماد کا ووٹ لیں، کسی کو موقع نہیں دوں گا کہ اقتدار کیلئے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے، ملک کا سیاسی اور معاشی استحکام نئے الیکشن میں ہی ہے۔