Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • لڑکیوں کے خطرناک سیریل کلر چارلس سوبھراج 19 سال بعد رہا

    لڑکیوں کے خطرناک سیریل کلر چارلس سوبھراج 19 سال بعد رہا

    کٹھمنڈو: نیپال میں عدالت نے سیاح لڑکیوں اور لڑکوں کے خطرناک سیریل کلر چارلس سوبھراج کو 19 سال بعد رہا کر دیا۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو نیپال کی سپریم کورٹ نے سیریل کِلر چارلس سوبھراج نامی فرانسیسی شہری کی رہائی کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ قیدی کو مسلسل جیل میں رکھنا انسانی حقوق کے خلاف ہے۔عدالت نے کہا کہ چارلس سوبھراج کے خلاف کوئی اور کیس زیر التویٰ نہیں ہے تو یہ عدالت اس کی رہائی اور 15 دنوں کے اندر اس کی ملک واپسی کا حکم دیتی ہے۔

    واردات کر کے پیسے منشیات میں اڑانے والا ملزم گرفتار

    چارلس سوبھراج کو دنیا بھر میں ’سانپ‘ اور ’بکنی کِلر‘ کے ناموں سے جانا جاتا ہے، اس پر ہالی ووڈ میں فلم اور نیٹ فلیکس سیریز بھی بنی، اس پر ایشیا میں 20 سے زیادہ نوجوان سیاحوں کو قتل کرنے کا الزام تھا، پولیس کا کہنا ہے کہ سوبھراج نے 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں سیاحوں کے مسلسل قتل کیے، آج جمعرات کو اسے کھٹمنڈو کی سینٹرل جیل سے رہا کیا جانا ہے۔

    بدنام زمانہ 78 سالہ قاتل کو نیپال کے دارالحکومت میں ایک امریکی خاتون کونی جو برونزیچ اور اس کے کینیڈین سیاح دوست لارینٹ کیریری کے قتل کے جرم میں 20،20 سال کی دو عمر قیدوں کی سزا ہوئی تھی، خیال رہے کہ نیپال میں عمر قید کی سزا 20 سال ہے۔

    غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیکا کیس،عامر لیاقت کی سابق اہلیہ دانیہ کی درخواست پر…

    چارلس سوبھراج نے پورے ایشیا میں کم از کم 20 نوجوان مغربی سیاحوں کو ان کے کھانے پینے کی چیزوں میں نشہ آور چیز دے کر قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا، تاہم نیپال میں 2004 میں پہلی بار وہ عدالت میں مجرم پایا گیا۔تھائی لینڈ نے سب سے پہلے 1970 کی دہائی کے وسط میں پٹایا کے ساحل پر 6 خواتین کو منشیات دینے اور قتل کرنے کے الزام میں اس کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔

    عمران خان حملہ کیس، مرکزی ملزم کا مزید جسمانی ریمانڈ منظور

    سوبھراج کو ’دی سرپنٹ‘ (سانپ) کے نام سے اس لیے جانا جاتا تھا کیوں کہ وہ پکڑ سے بچنے کے لیے اپنا بھیس بدلنے، جیل سے فرار ہونے، دوسری شناختیں اختیار کرنے، اور نوجوان خواتین کو اپنی جانب راغب کرنے میں بہت ماہر تھا۔ وہ 1980 کی دہائی کے وسط میں بھارت کی ایک جیل سے محافظوں کو نشہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔ بعد میں اسے پکڑا گیا اور 1997 تک نئی دہلی کی سب سے زیادہ حفاظت والی تہاڑ جیل میں قید رکھا گیا، جہاں اس نے 20 سال قید کاٹی۔ اس کے بعد وہ ستمبر 2003 میں کھٹمنڈو کے ایک کیسینو میں دوبارہ سامنے آیا۔

  • ٹیم میں کپتان کی تبدیلی مسائل کا حل نہیں: شاہد آفریدی

    ٹیم میں کپتان کی تبدیلی مسائل کا حل نہیں: شاہد آفریدی

    لاہور:ٹیم میں کپتان کی تبدیلی مسائل کا حل نہیں:اطلاعات کے مطابق سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم میں بابر اعظم کی بطور کپتان تبدیلی حل نہیں بلکہ کپتان کے مائنڈسیٹ کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔

    لاہور قلندرزنے حارث رؤف اور فخر زمان کو بھی گاڑیاں تحفے میں دے دیں

    انگلینڈ سے ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش شکست پر نجی میڈیا سے بات کرتے ہوئےسابق کپتان نے کہا کہ کپتانوں کو ہٹانا مسائل کا حل نہیں ہے، اصل مسئلہ کپتانوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہے اور کپتانوں کا مائنڈ سیٹ ہماری مینجمنٹ تبدیل کرے گی کہ تاکہ واضح ہوجائے کہ ہم اپنے کپتان سے کیسا مائنڈ چاہتے ہیں۔

    رونالڈو ورلڈ کپ کی بدترین الیون میں شامل

    شاہد آفریدی نے کہا کہ اگر مینجمنٹ کو ٹیم کو ٹاپ پر لے کر جانا ہے تو ٹیم کو بابر اعظم کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگاکیوں کہ میرے نزدیک یہ صرف بابر اعظم کی ہی غلطی نہیں یہ کھلانے والی مینجمنٹ اور سینئر کھلاڑی جو اس وقت ٹیم میں موجود ہیں ان کی بھی ہے۔

    شمالی کوریا کی بڑھتی فوجی قوت،امریکہ اورجنوبی کوریا کی جنگی مشقیں،امریکہ نے بی 52…

    سابق کپتان کا کہنا تھا کہ جنہوں نےاس ٹیم کو کھلانا ہے انہوں نے اس حوالے سے پلان بنانا ہے، ایک ایسا پلان جو کپتان کو یہ بتائے کہ ہمیں کس لیول کی کرکٹ کھلاڑیوں سے چاہیے لہٰذا اگر بابر کو اکیلے اس چیز کیلئے مورد الزام ٹھہرایا جائے تو میرے نزدیک غلط ہے۔

  • سپیکرسبطین خان کے دھماکہ خیزانکشاف۔ اسمبلی کب تحلیل ہونگی، نئی تاریخ آگئی

    سپیکرسبطین خان کے دھماکہ خیزانکشاف۔ اسمبلی کب تحلیل ہونگی، نئی تاریخ آگئی

    لاہور:گورنرپنجاب نے جواعتماد کو ووٹ لینے کا کہا ہے اس کی آئینی طور پر کوئی حیثیت نہیں ،اسپیکر پنجاب اسمبلی نے انکشاف کیا ہے کہ پہلے گورنر کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک کا لیٹر ملا اورپھر گورنر کی طرف سے اعتماد کا ووٹ لینے کا پیغام بھی آگیا ،

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے انکشاف کیا کہ جن وجوہات کی بنیاد پر گورنرپنجاب نے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا ہے ان وجوہات کا وجود ہی نہیں ، پنجاب میں آئینی بحران کے حوالے سے گفتگو کرتےہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے بڑے دلچسپ انکشافات کیے ہیں،

    https://www.youtube.com/watch?v=Aupo1yumN0Y

    سینیئرصحافی مبشرلقمان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سبطین خان کا کہنا تھاکہ جن وجوہات کی بنیاد پر گورنر نے اجلاس بلایا ہے ان میں پہلی وجہ یہ بیان کی گئی ہےیہ چونکہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین کے درمیان اب معاملات درست نہیں ہیں ، دونوں ق لیگ کے مرکزی رہنما ہیں اس لیے اب چوہدری پرویز الٰہی کو اعتماد کو ووٹ لینا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ق لیگ ان کے ساتھ کھڑی ہے،سبطین خان نے انکشاف کرتےہوئے کہا کہ کل سب نے دیکھ لیا کہ ق لیگ کے تمام دس کے دس ارکان صوبائی اسمبلی نے چوہدری پرویز الہی پر اعتماد کا بھرپور اظہارکردکھایا،

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے سنیئرصحافی مبشرلقمان کو گورنر کی طرف سے بھیجی گئی ریکوزیشن کی دوسری خامی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد سے ایک صوبائی وزیرہیں جن کی وزارت پر عمران خان خوش نہیں ہیں، اس لیے چوہدری پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لیں، اس کا جواب دیتے ہوئے اسپیکرسطبین خان نے کہا کہ اس جگہ پر بھی گورنر پنجاب کو غلطی لگی ، آئینی اور اخلاقی طور پر اس صوبائی وزیرکو کوئی تحفظات ہیں تو وہ چوہدری پرویزالٰہی سے بیان کریں‌،کابینہ میں‌اپنا مسئلہ رکھیں گورنر تو مجاز نہیں کہ وہ اس قسم کے مسائل کو ڈیل کریں‌، یہ پارٹی کا مسئلہ ہے ،پہلے پارٹی سربراہ یا وزیراعلیٰ سے اپنا مسئلہ بیان کریں ، گورنرکسی پارٹی کے اندرونی معاملات کونہیں چھیر سکتے

     

    https://www.youtube.com/watch?v=Aupo1yumN0Y

    اسپیکر سطبین خان نے کہا کہ تیسرا جواز پیش کیا گیاکہ چونکہ کابینہ اجلاس میں ایک صوبائی وزیرحسنین دریشک اور وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان گرما گرمی ہوگئی تھی اور حسنین دریشک کو چوہدری پرویز الٰہی سے شکوہ تھا ، اس لیے اعتماد کا ووٹ لینا ضروری ہے ، اس کو جواب دیتے ہوئے اسپیکر سبطین خان نے کہا کہ یہ بھی کایینہ کے اجلاس کے دوران بدمزگی پیدا ہوئی ، جس کا اسی وقت ازالہ ہوگیا تھا ، چوہدری پرویز الٰہی نے معاملہ رفع دفع کردیا

    اسیکر سبطین خان نے کہا کہ دوسری دلچسپ کہانی یہ ہے کہ پچھلے دنوں گورنرپنجاب نے ایوان اقبال میں اجلاس بلایا تھا اور ابھی تک وہ اجلاس ریکارڈ پر موجود ہے نیا اجلاس ہی بلایا ، دوسری طرف اس دوران پنجاب اسمبلی میں حکومت کا اجلاس جاری تھی ، وہ اجلاس ختم ہوگیا اور نیا سیشن جاری ہے ، جب تک وہ جاری ہے اس وقت تک گورنر پنجاب نیا اجلاس نہیں بلا سکتے ، یوں یہ سب پہلو ہی غیر آئینی ہیں‌

    سینیئرصحافی مبشرلقمان نے پوچھا کہ اگر گورنر رات کوکچھ کردیں،وزیراعلیٰ‌ کو ڈی نوٹیفائی کردیں تو پھر،اس کا جواب دیتے ہوئے اسپیکر سبطین خان نے کہا کہ پھر ملک میں یہی کچھ ہی چلنا ہے توپھرایسے تو صدر گورنر کو ہٹا دیں‌گے اورپھر ملک میں یہی کچھ رہ جائے گا،

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ چونکہ اب اعتماد کے ووٹ کی ریکوزیشن آچکی ہے اس لیے اب اسمبلی اس معاملے کے بعد تحلیل کردی جائے گی اور یہ یکم جنوری کو بھی ممکن ہے ، کیونکہ گورنر کی طرف سے بھیجے گئے پیغام کےلیے دس دن کا وقت درکار ہوتا ہے ،

    سینیئرصحافی مبشرلقمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ جمعہ کے دن اجلاس ہوگا ، کنیٹینرز کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ ان کو نہیں پتہ کہ کس نے لگائے ہیں‌مگریہ طئے ہےکہ وہ جمعہ کے دن اسمبلی کا جاری سیشن پھر شروع کریں گے اور اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے معاملات کو آگے بڑھائیں گے

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کے موقف پر موقف دیتے ہوئےسابق صدرسپریم کورٹ بار احسن بھون نے کہا کہ پنجاب میں واقعی آئینی بحران ہے اگریہ اسمبلی کےفورم پر حل نہ ہوا تو پھر عدالتیں ہی اس کو حل کرسکتیں‌ہی

  • پنجاب حکومت جانے کی اطلاعات کے باوجود پرویز الہٰی کی رات گئے تک مصروفیات

    پنجاب حکومت جانے کی اطلاعات کے باوجود پرویز الہٰی کی رات گئے تک مصروفیات

    پنجاب میں بدھ کے روز سارا دن جاری رہنے والی سیاسی کشیدگی کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہٰی کی رات گئے تک وزیراعلیٰ آفس میں سرکاری مصروفیات جاری رہیں۔وزیراعلیٰ سے صوبائی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے ملاقاتیں کیں، ملاقاتوں کے دوران چودھری پرویزالہٰی نے اراکین اسمبلی کے مسائل کے حل کیلئے موقع پر احکامات جاری کیے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے سیاسی رفقاء سے بھی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر چودھری پرویزالہٰی نے قانونی و آئینی ماہرین سے بھی مشاورت کی۔

    ایف آئی اے نے اعظم خان کیخلاف کارروائی کیلئے خط کیوں لکھا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    اس سے پہلے مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں چودھری پرویزالہٰی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر دیا گیا۔ممبر پنجاب اسمبلی ساجد بھٹی کی زیر صدارت مسلم لیگ قائداعظم کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ہم عمران خان کے ساتھ دل و جان سے ہیں اور ساتھ دیتے رہیں گے۔

    پارلیمانی پارٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کو دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ق کے تمام پارٹی ارکان تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی صورت میں وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہٰی، سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان اور ڈپٹی سپیکر واثق قیوم کو ووٹ دیں گے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کی قیادت میں مسلم لیگ قائداعظم کی پارلیمانی پارٹی متحد اور یکجان ہے۔ ارکان پارلیمانی پارٹی سیسہ پلائی دیوار کی طرح وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہٰی ہمارے لیڈر ہیں۔

    پاکستان کی معاشی صورت حال کوبہتر کرنےکےلیے کوششیں جاری رکھیں‌گے:چینی سفیر

    اس موقع پر ق لیگ کے پارلیمانی لیڈر ساجد بھٹی نے کہا کہ مسلم لیگ قائداعظم پوری پارلیمانی، سیاسی اورعوامی قوت کے ساتھ چودھری پرویزالہٰی کے شانہ بشانہ ہے، اختلافات کا پراپیگنڈہ کرنے والوں کے مزموم عزائم ناکام ہوں گے۔اجلاس کے دوران چودھری پرویز الہٰی نے کہا کہ مسلم لیگ قائداعظم متحد ہے اور متحد رہے گی، افواہیں پھیلانے والے مخصوص ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔

    مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ایم پی اے ساجد بھٹی، حافظ عمار یاسر، شجاعت نواز، محمد عبداللہ وڑائچ، محمد رضوان، احسان الحق، محمد افضل، خدیجہ عمر اور باسمہ چودھری نے شرکت کی جبکہ ممبر قومی اسمبلی حسین الہٰی بھی اجلاس میں موجود تھے۔

  • محمد عامر ذوالفقارآئی جی پولیس پنجاب تعینات:نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

    محمد عامر ذوالفقارآئی جی پولیس پنجاب تعینات:نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

    وفاقی حکومت نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی اور نئی آئی جی کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔نوٹیفیکیشن کے مطابق محمد عامر ذوالفقار آئی جی پولیس پنجاب تعینات کردیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےعامرذوالفقارکی تعیناتی کانوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

     

    گریڈ21 کے عامرذوالفقار ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اے این ایف تعینات تھے۔ عامرذوالفقارآئی جی پولیس اسلام آبادبھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔

    خیال رہے کہ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے گزشتہ روز اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا ہے، انہوں نے طویل چھٹی کے بعد چارج چھوڑنے کی سمری سیکرٹری سروسز کو ارسال کردی ہے۔فیصل شاہکار کو اقوام متحدہ نے بطور ایڈوائزر پولیس نامزد کیا تھا اور اب فیصل شاہکار ایڈوائزر پولیس کا عہدہ سنبھالیں گے۔

     

    دوسری طرف وفاقی حکومت نے سیاسی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پنجاب بھر میں رینجرز اور ایف سی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی اقدام کے تحت وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے امن وامان اور صوبے میں آئین اور قانون کی عملداری سے متعلق امور سرانجام دیں گے۔

     

     

     

    ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو امن وامان قائم رکھنے، عوام کے جان ومال کی حفاظت اور اپنے فرائض آئین اور قانون کے مطابق ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    متعلقہ حکام کو وزارت داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ کوئی بھی سرکاری افسر یا اہلکار آئین کے برعکس کسی بھی عمل کا حصہ نہ بنے۔

  • گورنر پنجاب کا وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ

    گورنر پنجاب کا وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ

    لاہور:گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن کچھ دیر میں جاری کردیا جائے گا۔ بلیغ الرحمان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے سے متعلق معاملے پر رولنگ مسترد کردی۔

    ایف آئی اے نے اعظم خان کیخلاف کارروائی کیلئے خط کیوں لکھا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے پی ڈی ایم کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی تھی، جس کیلئے 21 دسمبر شام 4 بجے اجلاس بلایا گیا تھا۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اعتماد کے ووٹ سے متعلق گورنر کی ایڈوائس نظر انداز کرتے ہوئے رولنگ دی اور اسمبلی اجلاس جمعہ تک ملتوی کردیا تھا۔گورنر پنجاب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی رولنگ کو مسترد کرتے ہوئے اس کا جواب دیدیا۔

     

    جواب میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت گورنر کے پاس تمام اختیارات ہیں جس کے تحت وہ اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتے، بطور اسپیکر پنجاب اسمبلی آپکو آئین کی شق کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب کو اعتماد کے ووٹ کا کہنا تھا۔گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ آپ (اسپیکر) کی رولنگ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، آپ نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ہے، آپ اس سے انحراف نہیں کرسکتے۔

    بلیغ الرحمان کا جواب میں کہنا ہے کہ آئین میں کہیں نہیں کہ اجلاس کے ہوتے ہوئے اعتماد کا ووٹ نہ لیا جا سکے، اسمبلی رولز 209 اے کے تحت اگلا سیشن فوری بلا سکتے ہیں۔

    ق لیگ پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے10 ارکان کا چوہدری پرویز الٰہی پراظہاراعتماد

     

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ گورنر پنجاب اسپیکر کی رولنگ مسترد نہیں کرسکے، اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کسٹوڈین ہوتا ہے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس گورنر پنجاب کا بلایا ہوا نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب وزیراعلیٰ پنجاب کو ڈی نوٹیفائی نہیں کرسکتے، اگر ایسا ہوا تو پھر صدر بھی گورنر کو گھر بھیج سکتے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب اپنی اکثریت ثابت کریں گے، تحریک عدم اعتماد کو اور اعتماد کے ووٹ کو بھی ڈیل کریں گے۔سبطین خان نے کہا کہ جو بھی آئین کے مطابق چلے گا وہ جیت جائے گا، ہر کوئی کہتا ہے کہ ہم آئین کے ساتھ چل رہے ہیں، اب دیکھنا ہوگا کہ آئین کس کے ساتھ چل رہا ہے۔

  • پنجاب کا آئنی بحران:گورنر پنجاب کی طرف سے12بج کرایک منٹ کے بعد اہم اقدام اٹھانے کا فیصلہ

    پنجاب کا آئنی بحران:گورنر پنجاب کی طرف سے12بج کرایک منٹ کے بعد اہم اقدام اٹھانے کا فیصلہ

    لاہور:گورنر پنجاب کی ايڈوائس نظر انداز کردی گئی۔ پنجاب اجلاس ہوا نہ وزیراعلیٰ نے اعتماد کا ووٹ لیا پرويزالہٰی وزيراعليٰ ہيں يا نہيں؟ آئيني اور قانونی سوال اٹھ گئے۔دوسری طرف وزير داخلہ رانا ثناء اللہ کہتے ہيں پرويزالہٰی کو اعتماد کا ووٹ تو لينا ہی پڑے گا۔ غیرآئینی اقدام پر پرویزالہٰی چیف منسٹرنہیں رہیں گے۔ گورنر ڈیکلریشن میں کہہ سکتے ہیں کہ آپ منتخب وزیراعلیٰ نہیں رہے۔

    ٹھٹھہ : 24 گھنٹے عوام کی خدمت کیلئے میرے دروازے کھلے ہیں -منظور احمد خشک

    دوسری جانب گورنرہاؤس لاہور میں اپوزیشن جماعتوں کا مشاورتی اجلاس ہوا،جس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے اعتماد کاووٹ نہ لینے کے معاملے پر مختلف قانونی نکات پرمشاورت کی گئی۔پی ڈی ایم ذرائع کے مطابق رات 12 بج کر ایک منٹ کے بعد گورنر پنجاب کسی بھی وقت وزیراعلی پنجاب پرویزالہیٰ کوڈی نوٹی فائی کرسکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ مقررہ وقت گزرتا جارہا ہے لیکن ایوان کا اجلاس نہ ہو سکا، پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ رہیں گے یا نہیں؟ تمام نظریں گورنر ہاؤس پر مرکوز ہیں، ایوان وزیر اعلیٰ لاہور کے باہر کنٹینرز بھی پہنچا دیئے گئے ہیں۔

    رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو اعلان کردہ ہدف سے3 یا 4فیصد سے کم رہے گی.رپورٹ

    دریں اثنا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کہتے ہیں کہ گورنر پنجاب کے فیصلے کا انتظار ہے، اس کے بعد اگلا لائحہ عمل دینگے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس قانونی آپشن موجود ہیں۔

    اس سے قبل گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے سپیکر پنجاب اسمبلی کا خط مسترد کر دیا، گورنر کی جانب سے اعتماد کے ووٹ کیلئے دوبارہ ایڈوائس جاری کئے جانے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر ہاﺅس میں اپوزیشن اتحاد کا اجلاس جاری ہے، گورنر بلیغ الرحمن نے سپیکر پنجاب اسمبلی کا خط مسترد کر دیا، گورنر کی جانب سے دوبارہ ایڈوائس جاری کئے جانے کا امکان ہے جبکہ اجلاس میں تمام قانونی اور آئینی نکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ کو آج شام 4 بجے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا تھا، سپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر بلیغ الرحمن کی ایڈوائس کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

  • ایف آئی اے نے اعظم خان کیخلاف کارروائی کیلئے خط کیوں لکھا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    ایف آئی اے نے اعظم خان کیخلاف کارروائی کیلئے خط کیوں لکھا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سائفر کیس کی تحقیقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے خلاف کارروائی کیلئے خط لکھ دیا۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے عدم پیشی پراعظم خان کے خلاف کارروائی کیلئے خط اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لکھا۔

    ننکانہ : باباگورونانک یونیورسٹی میں کلاسز کی افتتاحی تقریب کا انعقاد

    ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے نے اعظم خان کو پیشی کیلئے کم و بیش دو بار خط لکھا لیکن اعظم خان نے ایف آئی اے مراسلوں کے باوجود تفتیش کا حصہ بننے سے گریز کیا۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم خان بیرون ملک چھٹی پر گئے مگر ابھی تک واپس نہیں آئے۔

    کہ وزیراعظم آفس سے غائب ہونے والا سائفر آخری مرتبہ عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے وزیراعظم کو دکھانے کے لئے وصول کیا تھا اور پھر ان تک پہنچا بھی دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد وہ غائب ہو گیا اور اب تک اس کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔

    ٹھٹھہ : 24 گھنٹے عوام کی خدمت کیلئے میرے دروازے کھلے ہیں -منظور احمد خشک

    عمران خان کی وزارت عظمٰی کے آخری دنوں میں پراسرار طور پر غائب کر دیئے جانے والے سائفر بارے میں کی جانے والی تحقیقات کے دوران پتہ چلا ہے کہ اس سال مارچ کے دوسرے ہفتے میں پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے سائفر کی کاپیاں پانچ اہم حکومتی اور ریاستیں شخصیات کو بھیجی گئی تھیں لیکن سوائے وزیراعظم آفس کے دیگر تمام لوگوں نے سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کے مطابق ایک ماہ کے اندر دستاویز فارن آفس کو واپس کر دی تھیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر کے نامزد جوائنٹ سیکرٹری کو، جو کہ ایسی حساس دستاویزات وزیر اعظم کو دکھانے کے بعد انہیں واپس اپنی تحویل میں رکھنے کا مجاز ہے، اسے سائفر کی کاپی واپس نہیں کی گئی تھی۔ پی ایم آفس کی فائلوں میں بھی اس سائفر کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جسے تب کے وزیراعظم عمران خان کو انکے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے دیا تھا۔

    واضح رہےکہ ایف آئی اے عمران خان کی اعظم خان سے سائفر پر گفتگو سے متعلق انکوائری کررہی ہے۔ عمران خان کے دور میں اعظم خان ان کے سیکرٹری کے طور پر فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں۔

  • پاکستان کی معاشی صورت حال کوبہتر کرنےکےلیے کوششیں جاری رکھیں‌گے:چینی سفیر

    پاکستان کی معاشی صورت حال کوبہتر کرنےکےلیے کوششیں جاری رکھیں‌گے:چینی سفیر

    اسلام آباد: چین نےپاکستان کو مسلسل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ چینی حکومت پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔اطلاعات کے مطابق عوامی جمہوریہ چین کے سفیر رونگ نونگ نے بدھ کووفاقی وزیر خزانہ اور ریونیو سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی،وزیر خزانہ نے جمہوریہ چین کے سفیر کا خیرمقدم کیا،اس موقع پر دوطرفہ تعلقات بالخصوص اقتصادی اور مالیاتی شعبوں میں مزید وسعت دینے کے دستیاب مواقعوں پر غور کیا گیا۔

     

    صدرمملکت عارف علوی سےاوآئی سی کے نمائندہ برائےسائنسی تکنیکی تعاون کی ملاقات

    چینی سفیر نے حکومت کی جانب سے مالیاتی اور اقتصادی استحکام کو برقرار رکھنے اور بڑھانے کے لیے کیے جانے والے پالیسی اقدامات کی تعریف کی۔انہوں نے چینی حکومت کی جانب سے پاکستان کو مسلسل تعاون کا یقین دلایا اور مزید کہا کہ چین کی حکومت پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔

     

     

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملاقات کے اختتام پر چینی سفیر کے مسلسل تعاون اور معاونت پر شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور مضبوط دوستانہ تعلقات کو سراہا۔

    ننکانہ : باباگورونانک یونیورسٹی میں کلاسز کی افتتاحی تقریب کا انعقاد

     

    دوسری طرف ینک دولت پاکستان نے مالی سال 2021-22ء کے لیے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر اپنی سالانہ رپورٹ آج جاری کردی۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 22ء میں پاکستان کی معیشت نے مسلسل دوسرے سال لگ بھگ 6 فیصد کی حقیقی جی ڈی پی نمو حاصل کی۔ یہ نمو وسیع البنیاد تھی کیونکہ زراعت اور صنعت دونوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کے اثرات شعبہ خدمات تک پھیل گئے۔ تاہم نمو کا منبع چونکہ بدستور صَرف پر انحصار رہا اور پیداواریت میں بہتری سست رہی اس لیے پاکستان عالمی معیشت کے منفی حالات سے اثر پذیر رہا۔ لہٰذا مالی سال 22ء کے دوران منفی عالمی اور ملکی حالات کے نتیجے میں معاشی عدم توازن دوبارہ نمودار ہوا۔

  • فون پردوستی،وہ بھی خاتون سے:سندھ پولیس نے وارننگ جاری کردی

    فون پردوستی،وہ بھی خاتون سے:سندھ پولیس نے وارننگ جاری کردی

    سندھ پولیس کی جانب سے شہریوں کو خبردار کیا گیا ہےکہ وہ فون پر دوستی کے لیے کسی خاتون کی آواز کے جھانسے میں نہ آئیں اور خود کو اغوا ہونے سے بچائیں۔سندھ پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ مہم زور و شور سے چلائی جا رہی ہے جس میں شہریوں کو آگاہ کیا گیا ہےکہ وہ واٹس ایپ، فیس بک یا فون پر کسی خاتون کی آواز کے جھانسے میں آکر اس سے ہرگز دوستی نہ کریں۔

    کراچی:پولیس پر ڈاکووں کی فائرنگ،کانسٹیبل شہید،ایس ایچ او بن قاسم زخمی

    شہریوں کو خبردار اور ہوشیار کرتے ہوئے آگاہی مہم میں کہا گیا ہےکہ عورت کی آواز میں فون یا سوشل میڈیا کال پر اگر وہ کسی عورت سے دوستی کرتے ہیں اور وہ انہیں ملنے کے لیے سندھ کے علاقوں سکھر،گھوٹکی، شکارپور یا کشمور آنےکا کہے تو ایسا ہرگز نہ کریں اور خود کو اغوا ہونے سے بچائیں۔

    کندھ کوٹ کے قریب مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد قتل

    سندھ پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ اگر کوئی شخص کسی شہری سے فون، فیس بک یا سوشل میڈیا کال پر دوستی کرتا ہے یا کسی کاروباری سلسلے میں گاڑی، ٹریکٹر، ٹرک، موٹرکار یا تیتر اور دیگر پرکشش جانور وغیرہ کی خرید و فروخت کے سلسلے میں بات کرتا ہے اور اسے سکھر، گھوٹکی، شکارپور یا کشمور بلائے تو ہرگز نہ جائیں۔

     

    پوسٹ میں ملک بھر کے شہریوں کو یہ بھی آگاہی دی گئی ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے سندھ کے ان شہروں کا بلاوجہ رخ نہ کریں اور خود کو اغوا ہونے سے بچائیں۔