Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف اورپاک فوج کے سربراہ آرمی چیف کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو

    برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف اورپاک فوج کے سربراہ آرمی چیف کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو

    راولپنڈی:برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف اورپاک فوج کے سربراہ آرمی چیف کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ،اطلاعات کے مطابق برطانوی چیف آف ڈیفنس سے گفتگو کرتے ہوئ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ علاقائی امن، خوشحالی کے لیے تمام پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں۔

    دوسری طرف آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف ایڈمرل سر انٹونی ڈیوڈ کے مابین ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ باہمی دلچسپی، فوجی تعاون، علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغانستان میں سلامتی، انسانی بحرانی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ایڈمرل سر انٹونی کو نئی تقرری پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تقرری سے دوطرفہ تعاون مزید مستحکم ہو گا۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ برطانوی ایڈمرل نےافغانستان کی صورتحال میں پاکستان کےکردارکوسراہا ہے ۔برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی علاقائی استحکام کیلئےپاکستان کےکردارکی تعریف اور پاکستان کیساتھ ہرسطح پر سیکیورٹی تعاون کوفروغ دینےکےعزم کااعادہ کیا۔

    اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ادارہ جاتی میکانزم کی تشکیل کی ضرورت ہے، افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

    ادھر دوسری طرف پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے جاپان کے سفیر نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران جاپانی سفیر نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، علاقائی استحکام کے لیے خصوصی کوششوں کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    ملاقات کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں انسانی المئیے کو روکنے کیلئے امداد پہنچانے کے لئے فوری طور پر ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جاپان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کا خواہاں ہے ، علاقائی امن، خوشحالی کے لیے تمام پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کاپرامن حل ضروری ہے۔

  • مسافر طیارہ تباہ:تین نامورشخصیات کی ہلاکت نے چاہنے والوں کوغمگین کردیا

    مسافر طیارہ تباہ:تین نامورشخصیات کی ہلاکت نے چاہنے والوں کوغمگین کردیا

    سانتو ڈومینگو: مسافر طیارہ تباہ:تین نامورشخصیات کی ہلاکت نے چاہنے والوں کوغمگین کردیا ،عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق بہت دور یعنی جزائرغرب الہند کے ملک ڈومینیکن ریپبلک میں ایک افسوسناک فضائی حادثے میں نو لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ یہ مشہور شخصیات کون ہے سن کرانکے چاہنےوالے غمیگن ہوگئے ہیں ،

    ادھرغیرملکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز اس چھوٹے ہوائی جہاز کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی۔ جہاز میں 38سالہ امریکی میوزک پروڈیوسر جوز اینجل ہرنینڈیز، اس کی 31سالہ اہلیہ اور 4سالہ بچہ بھی سوار تھے اور وہ تینوں بھی دیگر مسافروں کے ساتھ موت کے منہ میں چلے گئے۔میل آن لائن کا کہنا ہے کہ امریکی سٹارز کی ہلاکت پران کے چاہنے والوں کودلی صدمہ ہوا ہے

     

    رپورٹ کے مطابق یہ لوگ امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو جا رہے تھے جب حادثہ پیش آیا۔ جہاز میں تین دیگر مسافر 21سالہ کیلیان ہرنینڈیز پینا، 18سالہ یلیانیز جیشلیمر اور 13سالہ جیزل سیلوااور عملے کے 3افراد 47سالہ پائلٹ لوئس سلبرٹو، 32سالہ معاون پائلٹ ایملیو ہریرا اور 26سالہ ایئرہوسٹس ویرونیکا ایسٹریلا سوار تھے۔

     

    بتایا گیا ہے کہ جہاز کے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد ہی اس میں کچھ مسئلہ آ گیا تھا اور پائلٹ نے لاس امیریکاز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی کوشش کی تاہم لینڈنگ سے قبل ہی جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور وہ گر کر تباہ ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس افسوسناک واقعے کے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    یہ بھی یاد رہے کہ فضائی سفر میں بہتری کے باوجود حادثات میں بڑی تیزی سےاضافے ہورہے ہیں اورروزانہ کوئی نہ کوئی جہاز کے تباہ ہونے کی خبروں نے فضائی سروس کے شوقین افراد کے لیے بُری خبربن کرآنا شروع کردیا ہے

  • بھارت فوج نے کل پھرسری نگرکی جامع مسجد میں نماز جمعہ پرپابندی لگا دی

    بھارت فوج نے کل پھرسری نگرکی جامع مسجد میں نماز جمعہ پرپابندی لگا دی

    سری نگر :بھارت فوج نے کل پھرسری نگرکی جامع مسجد میں نماز جمعہ پرپابندی لگا دی،اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نےظلم اورجبر کی روایات کی آج پھر تاریخ دہرا دی ،اطلاعات ہیں کہ بھارتی فوج نےکل سری نگر کی جامع مسجد میں نمازجمعہ پرپابندی لگا دی ہے،

    بھارتی فوج نے مسلمانون کے سخت ردعمل کےبعد کہاہےکہ جمعہ کے علاوہ باقی دنوں میں نماز پڑھی جاسکتی ہے، بھارتی حکام نے مسجد میں حکومت مخالف احتجاج کی وجہ سے پابندی لگا رکھی ہے۔

    سرینگر کی جامعہ مسجد میں 33 ہزار افراد کے نماز پڑھنے کی جگہ ہے اور خاص موقعوں پر یہاں کئی لاکھ مسلمان قریب کی سڑکوں اور گلیوں میں صفیں بچھا کر نماز ادا کرتے ہیں۔

    بھارتی حکام کو یہ مسجد خطرے کا گڑھ لگتی ہے جہاں سے شروع ہونے والے احتجاج اور مظاہرے کشمیر کے متنازع علاقہ میں بھارتی خودمختاری کے لیے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

    کشمیری مسلمانوں کے لیے یہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے ایک مقدس مقام ہے اور ایسا مقام جہاں وہ اپنے سیاسی حقوق کے لیے بھی آواز بلند کرسکتے ہیں۔

    تلخ تنازع کی وجہ سے، کشمیر کے مرکزی شہر میں واقع یہ مسجد پچھلے دو برس سے بند پڑی ہے۔ امام مسجد کو ان کے گھر میں نظربند کردیا گیا ہے اور مسجد کا مرکزی دروازہ زنجیروں اور تالوں سے بند کردیا گیا ہے۔

    مسجد کی بندش نے کشمیر کی مسلم آبادی میں غصے کو مزید بڑھا دیا ہے، بھارتی حکام نے خبر رساں ایجنسی اے پی سے مسجد پر پابندیوں کے حوالے سے بات کرنے سے انکار کردیا۔

    ماضی میں حکومتی عہدیداران کا کہنا تھا کہ مسجد کو جبری طور پر بند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مسجد کی انتظامی کمیٹی اپنے احاطے میں بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے میں ناکام رہی۔

    600 سال پرانی یہ مسجد 2019 میں لگنے والی پابندیوں کی زد میں آئی جب حکومت نے کشمیر کی خودمختار ریاست کی حیثیت ختم کردی۔پچھلے دو سال کے دوران علاقے کی کئی دیگر مساجد اور مزاروں کو بند کیا گیا لیکن اب ان میں سے بیشتر کو مذہبی اجتماعات کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    جامعہ مسجد بدستور جمعہ کی نماز کے لیے بند ہے، حکام نے ہفتے کے باقی 6 دن مسجد کھولنے کی اجازت دے دی ہے لیکن جمعہ کے دن مسجد کو بند رکھا جاتا ہے۔

    علاقے کے مسلمانوں کے لیے مسجد کا بند ہونا ماضی کی درد بھری یادوں کو تازہ کردیتا ہے، سنہ 1819 میں سکھ حکمرانوں نے جامعہ مسجد کو 21 سال تک بند رکھا۔پچھلے 15 سالوں کے دوران یہ مسجد بھارتی حکومت کی جانب سے اکثروبیشتر بندش اور لاک ڈاؤن کا شکار رہی ہے۔

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ون ڈے سیریز ملتوی کرنے کا اچانک اعلان:اہم وجہ سامنے آگئی

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ون ڈے سیریز ملتوی کرنے کا اچانک اعلان:اہم وجہ سامنے آگئی

    لاہور: پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ون ڈے سیریز ملتوی کرنے کا اچانک اعلان:اہم وجہ سامنے آگئی ،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے مابین ون ڈے سیریز کو ملتوی کردیا گیا ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ اور کرکٹ ویسٹ انڈیز کے مشترکہ بیان میں سیریز منسوخی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کیریبین کیمپ میں پانچ مزید کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے۔ بدھ کو ہونے والے ٹیسٹ کے نتائج سامنے آنے کے بعد دورہ پاکستان پر موجود سائیڈ کے کل پازیٹو کیسز کی تعداد نو ہو گئی تھی۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نو دسمبر کو کراچی پہنچی تھی۔

    کرکٹ بورڈز کے مشترکہ بیان کے مطابق جمعرات کو کیے گئے کورونا ٹیسٹوں کے نتائج کے بعد ون ڈے سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز کے پاس موجود محدود آپشنز کی وجہ سے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ سیریز کے حصے کے طور پر کھیلی جانے والی ون ڈے سیریز ملتوی کی جا رہی ہے۔

    ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان ون ڈے سیریز اب جون 2022 کی ابتدا میں کھیلی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں ورلڈ کپ کوالیفائر میچوں کے لیے ویسٹ انڈیز کو بہتر ٹیم تشکیل دینے کا موقع ملے گا۔

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ون ڈے سیریز ملتوی کرنے کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دونوں ٹیمیں کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں تیسرے ٹی20 میچ میں مدمقابل ہیں۔ تین میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کے پہلے دونوں میچوں میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے۔

    دوسری طرف آج کے میچ میں‌ ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں جیت کیلئے 208 رنز کا ہدف دے دیا۔کراچی میں کھیلے جارہے سیریز کے آخری ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

    ویسٹ انڈیز نے پاکستانی بولرز کی ایک نہ چلنے دی اور مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر207رنز بنائے،کپتان نکولس پورن 64 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے بیٹرز نے شروعات سے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر207 رنز بنائے۔کپتان نکولس پورن نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 64 رنز بنائے جبکہ بروکس نے 49 اور برینڈن کنگ نے 43 رنز کی اننگز کھیلی۔

    پاکستان کی جانب سے محمد وسیم نے 2 اور شاہنواز دھانی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

  • او آئی سی اجلاس:اسلام آباد میں 3روز کیلئے تعلیمی ادارے بند:موبائل فون سروس بھی بند رکھنے کا اعلان

    او آئی سی اجلاس:اسلام آباد میں 3روز کیلئے تعلیمی ادارے بند:موبائل فون سروس بھی بند رکھنے کا اعلان

    اسلام آباد:او آئی سی اجلاس:اسلام آباد میں 3روز کیلئے تعلیمی ادارے بند:موبائل فون سروس بھی بند رکھنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق او آئی سی اجلاس کے باعث حکومت نے وفاقی دارالحکومت میں 3روز کے لئے موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق 17،18،19دسمبرکواسلام آبادبھرمیں موبائل فون سروس بندہوگی، وزارت داخلہ نےپی ٹی اےکوموبائل فون سروس بندکرنےکاحکم جاری کردیا ہے۔

    دوسری جانب وزات خارجہ نے20دسمبرکواسلام آبادمیں عام تعطیل دینےکی سفارش کردی ہے ۔ذرائع وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ چھٹی کامقصدوی آئی پی موومنٹ کےدوران فول پروف سکیورٹی کوممکن بناناہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کانفرنس 19 دسمبر کو منعقد کی جائے گی۔

     

     

    اس کانفرنس میں شرکت کے لئے سعودی عرب سمیت تمام اسلامی ممالک نے شرکت کی یقین دہانی کروائی ہے،کانفرنس کا مقصد افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بحث کرنا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے معاون برائے مشرق وسطیٰ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود 18 دسمبر کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے افغانستان میں جاری بحران سے متعلق اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں گے۔

    او آئی سی کا 17واں وزرا خارجہ کا خصوصی اجلاس سعودی عرب کی دعوت پر بلایا جارہا ہے اور اس کی میزبانی پاکستان 19 دسمبر کو کرے گا۔اس اجلاس میں افغانستان میں جاری انسانی بحران اور عنقریب قحط کی صورتحال جیسے معاملات زیر بحث آئیں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، تقریباً دو کروڑ تیس لاکھ افغان آخری درجے کے فاقوں سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

  • کل سے آج تک:فوزیہ عمران کے منفی رویے کومثبت ثابت کرنے کے لیے سرتوڑکوششیں:مگران میں بھی تضادات

    کل سے آج تک:فوزیہ عمران کے منفی رویے کومثبت ثابت کرنے کے لیے سرتوڑکوششیں:مگران میں بھی تضادات

    لاہور:کل سے آج تک:ڈاکٹرفوزیہ عمران کے منفی رویے کومثبت ثابت کرنے کے لیے سرتوڑکوششیں:مگران میں بھی تضادات،اطلاعات کے مطابق کل سے آج تک میڈیا پرایک خبر بہت زیادہ وائرل ہورہی ہے جس میں یہ دعویٰ‌کیا گیا تھا کہ ڈاکٹرفوزیہ عمران نامی خاتون نے وزیراعظم عمران‌ خان کے معاون خصوصی شہبازگل سے اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے سے محض سیاسی وجوہات کی بنا پرانکار کردیا تھا ،

    اس خبر کے بعد ڈاکٹرفوزیہ عمران کی ڈیلیٹ شدہ ٹویٹ کا عکس بھی ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ، دوسری طرف شہباز گل کے ردعمل کو بھی پیش کیا گیا جس میں انہوں نے خاتون کے رویے کو برداشت کرتے ہوئے تنقید نہیں بلکہ یہ کہہ کرنظرانداز کردیا کہ یہ کسی بھی شخص کا حق ہے کہ وہ کسی سے مانوس ہویا نہ

    ادھر کل کی یہ اہم ترین ڈویلپمنٹ ابھی جاری تھی کہ ڈاکٹرفوزیہ عمران کے منفی رویےپرپردہ ڈالنے کےلیے من گھڑت تاویلیں بھی کی گئیں ، مزے کی بات یہ ہےکہ”سیانے سچ کہتے ہیں کہ ایک جھوٹ کو چپھانے کے لیے سوجھوٹ بولنے پڑتے ہیں”اور پھرواقعی ایسے ہی ہورہا ہے

    بعض میڈیا چینلز کو کچھ اس طرح موقف دیا گیا کہ خاتون نے وقت سے پہلے ڈگری حاصل نہ کرنے کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا اور انتظامیہ نے سیکیورٹی اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسے یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روکیں۔ تاہم، انتظامیہ بعد میں اس کا نام فہرست سے خارج کرنا بھول گئی۔

    دوسری طرف یونیورسٹی ترجمان نوید اقبال کہتے ہیں کہ روکنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے ، یہ جھوٹ ہے اورایک غلطی کو چپھانے کے لیے سوبہتان لگائے جارہے ہیں‌

    دوسری طرف یہ بھی تاویلیں پیش کی گئیں‌ کہ ” گورنمنٹ سمن آباد کالج برائے خواتین کی اسسٹنٹ پروفیسر لاہور کالج برائےخواتین یونیورسٹی کی طالبہ ڈاکٹرفوزیہ عمران نے مبینہ طور پروزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے سے انکار کر دیا، سماجی رابطےکی سائٹ پر ان کا پیغام گردش کرتا رہا جس میں انہوں نے لکھا کہ شہباز گل لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی جیسے باوقار ادارےکے کانووکیشن میں مہمان خصوصی بننے کے لائق نہیں، لیکن بعد ازاں یکدم نہ صرف یہ پیغام سائٹ سے غائب ہو گیا ،بلکہ ڈاکٹر فوزیہ عمران نامی کوئی بھی صارف سماجی رابطے کی سائٹ پر نظر ہی نہیں آرہا تھا۔ سمن آباد کالج کی پرنسپل کا کہنا ہےکہ خاتون پروفیسر کا اکاؤنٹ ہیک کیا گیا، انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ لاہور کالج فاروویمن یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ مذکورہ طالبہ پہلے ہی ڈگری وصول کر چکی ہے ، ٹوئیٹر اکاونٹ سے جاری ہونے والے پیغام کی کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن کانووکیشن میں اس خاتون کا نام پکارا گیا مگر وہ اسٹیج پرنہ آئیں

    اگراس بات کو مان لیا جائے تو پرنسپل کی کل کی اس حوالے سے جو معیاری گفتگو تھی تواس کا مطلب ہے کہ وہ بے بنیاد تھی ،

     

    یاد رہے کہ لاہورکالج برائےخواتین یونیورسٹی کے کانووکیشن میں ڈاکٹرفوزیہ نے سیاسی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاون خصوصی وزیراعظم شہبازگل سےڈگری لینےسےانکار دیا۔جس کے بعد اہل علم لوگوں کی طرف ڈاکٹرفوزیہ کے اس رویے پرسخت تنقید کی جارہی ہے

    یاد رہےکہ آج لاہورکالج فار ویمن یونیورسٹی کے16ویں کانووکیشن کا انعقاد کیا گیا جس کے دوسرےروز مہمان خصوصی شہبازگل تھے ۔

    ایسوسی ایٹ پروفیسرپولیٹیکل سائنس سمن آبادکالج ڈاکٹر فوزیہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جانی تھی تاہم ڈاکٹر فوزیہ نے شہباز گل سے ڈگری نہ لینے سے متعلق ٹویٹ کر دیا۔

     

    انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ شہباز گل کانووکیشن کے مہمان خصوصی بننے کے لائق نہیں،اس لئے ان سے ڈگری وصول نہیں کروں گی۔

    خاتون کے ڈگری لینے کے انکار پرسوال کا جواب دیتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر ایک کواپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے،ڈگری لینے سے انکار کرنے والی خاتون خواجہ سعد رفیق کی رشتے دار ہے۔

    لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی وائس چانسلر(وی سی ) بشریٰ مرزا نے کہا کہ میری نظر میں کانووکیشن کے مہمان خصوصی شہباز گل بننے کے اہل ہیں اس لیے انکو بلایا،ہر کسی کا اپنا حق ہے، کسی کو زبردستی کچھ نہیں کہ سکتے۔

    ادھر ذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹرفوزیہ نے سخت عوامی ردعمل کے بعد یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کردی ہے ،

  • افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌

    افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌

    واشگنٹن: افغان طالبان کی جیت کی وجوہات جاننے کے لئےامریکی کمیشن:منظوری کس نے دی یہ تفصیلات بھی آگیں‌اطلاعات کے مطابق افغانستان میں 20 سال کے دوران اربوں ڈالرز اور جدید فوجی ہتھیار استعمال کرنے کے باوجود امریکا اور اتحادیوں کو شکست کی تحقیقات کے لیے امریکی کانگریس کے اراکین پر مشتمل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔

    قائم کردہ کمیشن 768 ارب ڈالر کے سالانہ دفاعی بجٹ کا حصہ ہے جسے ایوان نمائندگان کے بعد امریکی سینیٹ نے بھی منظور کیا، افغانستان پر بنایا جانے والا کمیشن 16 ارکان پر مشتمل ہوگا۔

    دونوں بڑی جماعتوں ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کی طرف سے نامزد کیے جانے والے ارکان کو ایک سال کے اندر طالبان کی فتح کی ابتدائی اور3 سال میں مکمل وجوہات کا پتہ چلانا ہو گا۔

    یاد رہے کہ 20 سال تک افغانستان میں 50 ملکوں کی حمایت سے جنگ لڑنے والا امریکہ جس طرح رسوا ہوکرافغانستان سے نکلا ہے اس منظر نے دنیا سے امریکہ کا خوف ختم کردیا ہے اور اب تو امریکہ کی اپنی ریاستوں نے سراٹھان اشروع کردیا ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان ریاستوں نے الگ حیثیت سے ملک کے طور پردنیا کے نقشنے پرانے کا فیصلہ کرلیا ہے

    اس اثنا میں دوسری طرف چین اور روس سے معاذ آرئی بھی امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ نے زمینی جنگ کی بجائے خلائی جنگ کا منصوبہ بنایا ہے ،

    یہ سارے حالات ایک طرف مگرامریکی جرنیل اس بات پرپریشان ہیں‌کہ چند ہزارنہتے افغان طالبان نے دنیا کے 50 ملکی اتحاد کو کسیے ذلت آمیز شکست دی یہ ایک قابل غور سوال ہے تاکہ آئندہ سے ایسی شکست سے بچا جاسکے ، اسی مقصد کے تحت یہ کمیشن قائم کیا گیا ہے

  • مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ ؛ بوریوں میں بند لاشیں کون دیتا تھا؛ناصر  شاہ

    مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ ؛ بوریوں میں بند لاشیں کون دیتا تھا؛ناصر شاہ

    پی پی رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پی پی پی نے ہمیشہ انسانی حقوق کی بات کی اور احترام کیا ؛ پکا قلعہ سے پی پی پی کا کیا واسطہ تھا ؛ یہ پی پی پی حکومت کے خلاف سازش تھی جس کا ایم کیو ایم حصہ تھی؛

    ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ عامر خان بتائیں کہ مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ کس نے کیے؛ بوریوں میں بند لاشیں کو ن دیتا تھا؛ سٹی کورٹ میں وکیلوں کوزندہ کس نے جلایا؛ ایم کیو ایم کے خلاف تو جنگی جرائم جیسے کیسز چلانے چاہیے تھے؛ کے ایم سی کے اسپتال سندھ حکومت کو جانے سے ایم کیو ایم کے گھوسٹ ملازمین فارغ ہوجائیں گے؛ یہی خوف ایم کیو ایم کو کھائے جارہی ہے؛ ہم نے ایم کیو ایم کو کھلی آفر دی کہ اسمبلی میں بل پر بات کریں لیکن اُن کو سیاست کرنی تھی؛ایم کیو ایم کو تو پی ٹی آئی کے خلاف سیاست کرنی چاہیے جنہوں نے ان سے مینڈیٹ چھینا ؛ جماعت اسلامی کو بھی ایم کیو ایم کے خلاف سیاست کرنی چاہیے جنہوں نے ان سے مینڈیٹ چھینا ؛ مصطفیٰ کمال کو اگر کراچی کے عوام مسترد کررہے ہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور؛ پی پی پی دشمنی میں ایم کیو ایم ، پی ٹی آئی ، پاک سر زمین اور جماعتیں اکھٹی ہوگئی ہیں ؛ حلیم عادل کا صدر کے خط کا جائزہ لے رہے ہیں ؛یہ خط سیڈیشن /غداری کے زمرے میں آتا ہے ؛یہ جماعتیں کچھ بھی کریں کراچی کے عوام ان کو فارغ کردیں گے؛ عامر خان کہتے ہیں جتنی بلاول بھٹو کی عمر ہے اتنی انہوں نے جیل کاٹی ہے ؛ آپ نے تو جیل قتل و غارت ، جلائو گھیرائو میں کاٹی ، کس منہ سے کریڈٹ لے رہے ہیں ؛ایم کیو ایم اب کچھ بھی کرے عوام ان کے مکروہ چہرے دیکھ چکی ہے ؛کراچی کے بلدیاتی اداروں کو تباہ کرنے والے اب دوبارہ وائسرائے بنانا چاہتے ہیں؛

    واضح رہے کہ بلدیاتی قانون پر شروع ہونے والی محاذ آرائی کے بعد سندھ کی سیاسی لڑائی عروج پر پہنچ گئی ہے اور سیاسی ماحول پر پارہ ہائی ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ایک دوسرے پر تنقیدی نشتر چلا دیئے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کیخلاف قرار داد لے آئی۔

    کراچی سے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے یہ اعلان سندھ حکومت کے بلدیاتی قانون کے جبری اطلاق کے بعد کیا ہے ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد سندھ کے عوام سیاسی وڈیروں ، جاگیرداروں اور سیاسی گدی نشینوں سے نجات دلوا کرانکو ایک آزاد شہری بنانے کا اعلان کیا ہے

    کراچی میں نجی یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے الزام لگایا ہے کہ ایم کیو ایم کراچی کی خیرخواہ نہیں ہے، یہ شہر کو پھر ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں، ہم اس شہر کو آگ و خون کی ہولی میں جھونکنے نہیں دیں گے۔ ایم کیو ایم 2008ء میں دھمکیاں دیکر حکومت کا حصہ بنی، تاجروں کو دھمکایا گیا تھا اقتدار میں شامل نہ کیا گیا توکاروبار نہیں کرنے دیں گے، پیپلز پارٹی نے مجبوراً کڑوا گھونٹ پیا

    دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عامر خان نے پی پی رہنماوں کے بیانات پر ایک بہت ہی دلچسپ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول زرداری کی جتنی عمر ہے اتنی تو ہم نے جیل کاٹی ہے۔

    کراچی میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں عامر خان نے پی پی چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلاول زرداری صاحب جتنی آپ کی عمر ہے اتنی ہم نے جیلیں کاٹی ہیں۔ دو عملی سیاست نہیں چلے گی، لاڑکانہ اور دادو سمیت سب کو حق دیا جائے۔ جھوٹی اور جعلی اکثریت سے سندھ کا نیا بلدیاتی قانون پاس کرایا گیا ہے۔ ہم اس کالے قانون کو مسترد کرتے ہیں، صوبے کی اہم جماعتیں اس کالے قانون کو مسترد کرچکی ہیں۔

    ادھرعامر خان نے کہا ہے کہ ہم سندھ کی عوام کوقدامت پسند سیاسی غلامی سے نجات دلوا کررہیں گے اور ایم کیو ایم ہر شہری کوایک باعزت اورقابل احترام مقام دلا کررہے گی

    اُدھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی اسمبلی کے ممبران نے وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ کیخلاف نفرت انگیز تقریر پر قرار داد جمع کروا دی ہے۔ قرارداد خرم شیر زمان، بلال غفار، جمال صدیقی و دیگر نے جمع کرائی۔

    قرار کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے ریاست پاکستان کے خلاف تقریر کی، وزیر اعلیٰ سندھ نے ارکان کو ایوان سے نکال کر باہر پھینکنے کے جملے استعمال کیے، ہمارا مطالبہ ہے وزیر اعلیٰ اپنے نفرت انگیز بیان واپس لیں اور معذرت کریں اور ارکان کا باہر پھینکنے کے جملے سے معافی مانگیں۔

  • ڈاکٹر فوزیہ سیاسی انتہا پسند نکلیں :  شہباز گل سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لینےسے انکار:اہل علم کی سخت تنقید

    ڈاکٹر فوزیہ سیاسی انتہا پسند نکلیں : شہباز گل سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لینےسے انکار:اہل علم کی سخت تنقید

    لاہور: ڈاکٹر فوزیہ بھی سیاسی انتہا پسند نکلیں : شہباز گل سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لینےسے انکار ،اطلاعات کے مطابق لاہورکالج برائےخواتین یونیورسٹی کے کانووکیشن میں ڈاکٹرفوزیہ نے سیاسی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاون خصوصی وزیراعظم شہبازگل سےڈگری لینےسےانکار دیا۔جس کے بعد اہل علم لوگوں کی طرف ڈاکٹرفوزیہ کے اس رویے پرسخت تنقید کی جارہی ہے

    یاد رہےکہ آج لاہورکالج فار ویمن یونیورسٹی کے16ویں کانووکیشن کا انعقاد کیا گیا جس کے دوسرےروز مہمان خصوصی شہبازگل تھے ۔

    ایسوسی ایٹ پروفیسرپولیٹیکل سائنس سمن آبادکالج ڈاکٹر فوزیہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جانی تھی تاہم ڈاکٹر فوزیہ نے شہباز گل سے ڈگری نہ لینے سے متعلق ٹویٹ کر دیا۔

     

    انہوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ شہباز گل کانووکیشن کے مہمان خصوصی بننے کے لائق نہیں،اس لئے ان سے ڈگری وصول نہیں کروں گی۔

    خاتون کے ڈگری لینے کے انکار پرسوال کا جواب دیتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر ایک کواپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے،ڈگری لینے سے انکار کرنے والی خاتون خواجہ سعد رفیق کی رشتے دار ہے۔

    لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی وائس چانسلر(وی سی ) بشریٰ مرزا نے کہا کہ میری نظر میں کانووکیشن کے مہمان خصوصی شہباز گل بننے کے اہل ہیں اس لیے انکو بلایا،ہر کسی کا اپنا حق ہے، کسی کو زبردستی کچھ نہیں کہ سکتے۔

    ادھر ذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹرفوزیہ نے سخت عوامی ردعمل کے بعد یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کردی ہے ،

  • عرب امارات:یہودی بچّوں کے پہلے تربیتی کیمپ کا آغاز:یہودی مذہبی رہنما مشن پرمامور

    عرب امارات:یہودی بچّوں کے پہلے تربیتی کیمپ کا آغاز:یہودی مذہبی رہنما مشن پرمامور

    دبئی:عرب امارات میں اسرائیلی وزیراعظم کی آمد یہودیوں کے لیے بڑی مبارک ثآبت ہوئی :یہودی بچّوں کے پہلے تربیتی کیمپ کا آغازبھی انہیں تعلقات کے پیش خیمے کے طور پر پیش کیا جارہاہے: اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں یہودی بچّوں کے پہلے دس روزہ تربیتی کیمپ کا پیر کے روز سےآغازہوگیا ہے۔ملک مقیم ربی نے اس اقدام کو’’گیم چینجر‘‘قرار دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق الصفا ،دبئی میں واقع منی معجزات یہودی پری اسکول میں منعقدہ کیمپ گان ایزی میں شرکاء کو یہود کی تاریخ اور مذہبی طریقوں کے اسباق پڑھائے جائیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ گیند بازی اور ٹیلنٹ شوزوغیرہ بھی کیمپ کی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات میں مقیم ربی لیوی ڈچمین نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ ’’یہ سب کچھ زبردست ہے۔ یہ ابراہیم معاہدے کا براہِ راست نتیجہ ہے اور ہم اس کے بارے میں بہت پرجوش ہیں‘‘۔

    کیمپ گان ایزی کے آغاز کے موقع پر اتفاق سے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے یواے ای کاتاریخی دورہ کیا تھا۔انھوں نےابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی تھی۔ کسی اسرائیلی رہنما کا متحدہ عرب امارات کا یہ پہلا سرکاری دورہ تھا۔

    کیمپ گان ایزی دنیا بھر میں درجنوں مقامات پر منعقد ہوتا ہےاور وہ متحدہ عرب امارات میں یہودی بچّوں کو ان کے مذہبی ورثے کے بارے میں سکھانے کے لیے امریکا اور فرانس سے کونسلروں کولایا جارہا ہے۔ یہ کیمپ 22دسمبر تک جاری رہے گا۔اس میں شرکت کے لیے 50 سے زیادہ بچّوں نے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔

    واضح رہے کہ ربی ڈچمین خود بھی کیمپ گان ایزی میں ایک نوجوان کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ وہ گذشتہ سات سال سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ڈچمین نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ کیمپ متحدہ عرب امارات میں پرورش پانے والے یہودی بچوں کے لیے’کھیل کا پانسہ پلٹنے والا‘ہے۔

    اس سے انھیں نئے دوستوں سے تعلق داری قائم کرنے اور نئے لوگوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔اس ماحول میں متحدہ عرب امارات میں ایک بچّے کا بڑا ہونا معمول کی بات ہے۔

    ربی نے مزید کہا کہ ’’اگرچہ متحدہ عرب امارات میں یہودی برادری 2020 کے وسط میں اسرائیل اوریواے ای کے درمیان باضابطہ طور پرسفارتی تعلقات کے قیام سے پہلے بھی موجود تھی لیکن معاہدۂ ابراہیم پر دستخط دنیا بھر کے یہودکے لیے ایک اشارہ تھا کہ یو اے ای ان کے لیے ایک اچھا گھر بن سکتا ہے‘‘۔

    انھوں نے کہا کہ یہودی خاندانوں کے لحاظ سے اچانک متحدہ عرب امارات نقشے پرآگیا۔معاہدہ ابراہیم سے پہلے شاید وہ کبھی متحدہ عرب امارات میں آنے پر غور نہیں کرتے تھے کیونکہ انھیں یقین ہی نہیں تھا کہ اماراتیوں کااسرائیل کے بارے میں کیا نقطہ نظر ہوسکتا ہے؟ نیز دوسرے موضوعات پر وہ کیا رائے رکھتے ہیں؟‘‘ لیکن ربی اماراتی رہنماؤں کی جانب سے یہودی برادری کے ساتھ حسن سلوک کی خوب تعریف کی ہے۔

    اس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ دوطرفہ تعلقات معمول پر آنے کے بعد اس شانداربرتاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ’’جب ہم متحدہ عرب امارات میں یہودی زندگی کا احیاء، رواداری اور بقائے باہمی کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ یواے ای میں بچّے ان ہی اقدار کے ساتھ پروان چڑھیں جواماراتی قیادت میں ہیں یعنی رواداری کی اقدار، احترام اور پُرامن بقائے باہمی کی اقداران میں بھی پائی جائیں