Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • اسلام اباد ہل کررہ گیا :وفاقی بیورکریسی میں اعلیٰ سطح پر اکھاڑ پچھاڑ ،سیکرٹری خزانہ بھی  تبدیل

    اسلام اباد ہل کررہ گیا :وفاقی بیورکریسی میں اعلیٰ سطح پر اکھاڑ پچھاڑ ،سیکرٹری خزانہ بھی تبدیل

    اسلام آباد،اسلام اباد ہل کررہ گیا :وفاقی بیورکریسی میں اعلیٰ سطح پر اکھاڑ پچھاڑ ،سیکرٹری خزانہ بھی تبدیل ،اطلاعات کے مطابق آج کا دن اس حوالے سے اہم ہے کہ آج وفاقی دارالحکومت میں بڑے بڑے فیصلوں کے اثرات اور ثمرات نے سب کو ہلا کررکھ دیا ہے ، ادھر ذرائع کے مطابق وفاقی بیورکریسی میں اعلیٰ سطح پر اکھاڑ پچھاڑ ،سیکرٹری خزانہ یوسف خان کوتبدیل کردیا گیا ،

     

     

     

    ادھر کے مطابق وفاقی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر ترقیاں و تبادلے کئے گئے ہیں جن کے تحت وفاقی حکومت نے سیکرٹری خزانہ یوسف خان کو تبدیل کر کے گریڈ21کے ایڈیشنل سیکرٹری حامد یعقوب شیخ کو انچارج سیکرٹری خزانہ تعینات کردیا جبکہ یوسف خان کو سیکرٹری مشترکہ مفادات کونسل لگا دیا گیا ،

     

     

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی احمد سمیت گریڈ20کے 12افسران کو گریڈ21میں ترقی دے دی گئی ،ترقی پانے والوں میں سیکرٹریٹ گروپ کے پانچ اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے سات افسران شامل ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سیکرٹری خزانہ یوسف خان کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے گریڈ21کے حامد یعقوب شیخ کو ایڈیشنل سیکرٹری انچارج خزانہ تعینات کردیا ۔

     

     

    اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یعقوب شیخ وزارت منصوبہ ترقی واصلاحات میں بطور ایڈیشنل سیکرٹری فرائض سرانجام دے رہے تھے جبکہ عبدالعزیز عقیلی کوایڈیشنل سیکرٹری انچارج وزارت منصوبہ بندی لگا دیا گیا ۔سیکرٹریٹ گروپ کے جن افسران کو گریڈ20سے گریڈ21 میں ترقی دی گئی ہے ان میں حسن رضا سعید، مسز صبینہ قریشی،علی اصغر ،محمد طاہر نور اور محمد شعیب اکبر شامل ہیں ۔

     

     

    یہ بھی کہا گیاہے کہ ایڈمنسٹریٹو سروس کے جن افسران کو گریڈ20سے21میں ترقی دی گئی ہے ان میں بلوچستان میں تعینات علی طاہر ، پنجاب میں تعینات کیپٹن ریٹائرڈ اسد اللہ خان ، محمد حسن اقبال ، فواد ہاشم ربانی،چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی احمد ،اوورسیز پاکستانیز ڈویژن میں تعینات زاہد علی عباسی اور کے پی کے میں تعینات فلائٹ لیفٹیننٹ ریٹائرڈ افتخار علی ساہو شامل ہیں۔

  • بھارت میں پھر صورت حال خراب ہونے لگی: Omicron ویرینٹ کے پہلے دو کیسز کا اعلان کیا۔

    بھارت میں پھر صورت حال خراب ہونے لگی: Omicron ویرینٹ کے پہلے دو کیسز کا اعلان کیا۔

    نئی دہلی: ہندوستان نے جمعرات کے روز انتہائی متعدی Omicron COVID-19 قسم کے اپنے پہلے دو کیسوں کا اعلان کیا، مہینوں بعد وائرس کی تباہ کن لہر نے ملک بھر میں 200,000 سے زیادہ لوگوں کی جان لے لی۔

    وزارت صحت کے اعلیٰ اہلکار لو اگروال نے کہا کہ جنوبی ریاست کرناٹک کے دو مردوں، جن کی عمریں 66 اور 46 سال ہیں، نے اس قسم کے لیے مثبت تجربہ کیا ہے۔انہوں نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ پروٹوکول کے مطابق ان کے تمام بنیادی اور ثانوی رابطوں کا سراغ لگایا گیا ہے اور ان کی جانچ کی جا رہی ہے۔

    ہندوستان نے ابھی تک نئی بین الاقوامی سفری پابندیاں عائد نہیں کی ہیں لیکن پیر کے روز وزارت صحت نے “خطرے میں پڑنے والے ممالک” سے آنے والے تمام مسافروں کو دوسرے بین الاقوامی آنے والوں کی بے ترتیب جانچ کے ساتھ ساتھ آنے کے بعد COVID-19 کی لازمی جانچ کرانے کا حکم دیا۔

    ملک کے سب سے بڑے شہر ممبئی نے بدھ کے روز خطرے سے دوچار ممالک سے آنے والے تمام مسافروں کے لیے سات دن کا قرنطینہ لازمی قرار دے دیا۔

    اومیکرون، جو پہلی بار جنوبی افریقہ میں دریافت ہوا، اس وبائی مرض سے لڑنے کی عالمی کوششوں کے لیے ایک تازہ چیلنج کی نمائندگی کرتا ہے جس میں متعدد ممالک پہلے ہی دوبارہ پابندیاں عائد کر چکے ہیں جن کی امید تھی کہ بہت سے لوگ ماضی کی بات ہیں۔

    یہ وبائی مرض کے آغاز کے بعد سے ابھرنے والا تازہ ترین کورونا وائرس کا تناؤ ہے، جس میں فی الحال غالب ڈیلٹا ویرینٹ بھی شامل ہے، جس کا پہلی بار ہندوستان میں اکتوبر 2020 میں پتہ چلا تھا۔

  • آہ :پاکستان پر یہ وقت بھی آنا تھا:بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد تبصرےشروع

    آہ :پاکستان پر یہ وقت بھی آنا تھا:بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد تبصرےشروع

    کراچی:کوالالمپور میں کھیلی جانے والی ایشین اسکواش چیمپئن شپ میں پاکستان کو بدھ کو بھارت کے ہاتھوں 2-1سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، دوسرے میچ میں پاکستان نے عراق کو 3- 0سے ہرایا، پاکستان کے طیب، ناصر اور احمد نے اپنے اپنے میچز جیت لئے، بھارت کے خلاف ناصر اپنا میچ جیتنے میں کامیاب ہوگئے، عاصم خان اور طیب کو اپنے حریفوں سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

    اسی پریشانی پر بات کرتےہوئے محسن علی نامی شہری نے کہا ہے کہ واہ کیا بات تھی پاکستان کی اسکواش کے کھیل کے میدان میں ، جب پاکستان کے مقابلے میں کوئی ملک ٹھہر نہیں سکتا تھا مگرافسوس اب یہ دور بھی آگیا ہےکہ اب ہماری ٹیم بھارت کے سامنےٹھہر ہی نہ سکی اور بری طرح ہار گئی

    اسی طرح سنیئر سپورٹس رپورٹر نزیرخان کہتے ہیں کہ کسی کو تکلیف ہو یا نہ ہو مجھے تو بہر کیف ضرور ہوئی ہے کہ اسکواش کی دنیا کا ایک نام پاکستان بھارت کے ہاتھوں بُری طرح ہار گیا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ پھر سے پاکستان کو فاتح اور کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں

     

     

    یاد رہے کہ اسکواش کی دنیا میں سے اگر پاکستان کانام نکال دیاجائے تو شاید کچھ باقی نہیں رہ جاتاہے پاکستان نے اسکواش کے کھیل میں جہاں چیمپین بننے کا اعزاز کیا ہے وہیں روشن خان،ہاشم خان،اعظم خان، جہانگیر خان،جان شیر خان کے نام اسکواش کی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھے گئے ہیں۔اسکواش فٹنس کے لحاظ سے مشکل ترین کھیلوں میں شمار ہوتا ہے اس لیے کم ہی لوگ اس کھیل کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پاکستان اس کھیل میں کافی نمایاں مقام رکھتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں یہ کھیل پاکستان میں زوال پزیر ہے۔

    1967میں عالمی اسکواش فیڈریشن قائم ہوئی جس میں اس وقت 175رکن ممالک شریک ہیں۔عالمی اسکواش فیڈریشن کی گورننگ باڈی اگرچہ انٹرنیشنل ولمپک کمیٹی سے تسلیم شدہ ہے لیکن اس کے باوجود، تاحال یہ کھیل اولمپک گیمز کا حصہ نہیں بن سکا۔1950 تک اس پر یورپ ، آسٹریلیااور امریکا کو دست رس حاصل تھی لیکن بعد ازاں پاکستانی کھلاڑیوں نے اس میں کارہائے نمایاں انجام دیئے اور نصف صدی سے زائدعرصے تک عالمی اسکواش پر اپنی حکم رانی قائم رکھی اور عالمی چیمپئن شپ، برٹش اوپن، ایشین چیمپئن شپ سمیت کئی بین الاقومی اعزازات طویل عرصے تک اپنے پاس رکھے۔ شاید اسی خوف کی وجہ سے اس کھیل کو اولمپک مقابلوں کا حصہ نہیں بنایا جا سکا۔

    1982 سے 1997 تک کا 16 سال کا عرصہ بلاشبہ اسکواش کے میدان میں پاکستان کا سنہری ترین دور تھا۔ 1982 سے 1991 تک پاکستان کے اسکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان نے لگاتار 10 برس برٹش اوپن چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت کر اسکواش کے ماضی کے تمام تر ریکارڈ روند ڈالے۔ 1992 میں پاکستان ہی کے ایک اور عظیم کھلاڑی جان شیر خان نے برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ میں اپنے ہم وطن جہانگیرخان کی کامیابیوں کا سلسلہ توڑا اور یہ اعزاز اپنے نام کیا۔ 1992 سے 1997 تک لگاتار 6 برس جان شیرخان نے یہ اعزاز اپنے پاس رکھا اور یوں اپنے ہم وطن ہاشم خان کا ریکارڈ برابر کردیا۔پاکستان 14 بار ورلڈ اوپن جیتنے کا منفرد ریکارڈ رکھتا ہے، 8 بار جان شیر خان اور 6 بار جہانگیر خان نے ملک کو سرخرو کیا۔ پاکستانی کھلاڑی ایونٹ میں 9 بار رنرز اپ بھی رہے، قمر زمان 4 مرتبہ فائنل ہارے، جہانگیر خان 3، جان شیر خان اور محب اللہ خان ایک ایک فیصلہ کن معرکہ میں ناکام رہے۔ 14 مرتبہ ایسا ہوا کہ ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے والے دونوں کھلاڑی پاکستانی تھے۔

    آج سے کوئی 67 برس پہلے 9 اپریل 1951 کو لندن میں پاکستان کے کھلاڑی ہاشم خان نے مصر کے کھلاڑی محمود الکریم کو پہلی مرتبہ ہرا کر برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ہاشم خان نے 1951 سے 1955 تک لگاتار 5 مرتبہ یہ چیمپین شپ جیت کر مصر کے کھلاڑی محمود الکریم کا 4 مرتبہ لگاتار یہ ٹورنامنٹ جیتنے کا ریکارڈ توڑ دیا۔1956 میں چھٹی مرتبہ لگاتار برٹش اوپن اسکواش چیمپین شپ جیت کر انہوں نے اپنا ریکارڈ مزید بہتر بنا لیا۔ ہاشم خان 1958 تک اسکواش کے افق پر چھائے رہے۔ اس دوران انہوں نے صرف ایک مرتبہ 1957 میں فائنل میں روشن خان سے شکست کھائی۔ انہوں نے 7 مرتبہ برٹش اوپن اسکواش چیمپیئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔1959 میں یہ بیڑہ اٹھایا اعظم خان نے، جنہوں نے 1962 تک لگاتار 4 برس یہ اعزاز اپنے نام کیا۔ 1963 میں ان سے یہ اعزاز اپنے ہی ہم وطن محب اللہ خان سینئر نے چھینا۔ اگلے 12 برس پاکستان یہ ٹائٹل جیت تو نہ سکا مگر ہمارے کھلاڑی آفتاب جاوید، گوگی علاؤالدین، محب اللہ سینئر اور محب اللہ جونیئر مسلسل اس ایونٹ کا فائنل میں کھیلتے رہے۔ 1975 میں ایک مرتبہ پھر پاکستانی کھلاڑی قمر زمان نے برٹش اوپن چیمپئن شپ کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ 1976 سے 1981 تک پاکستانی کھلاڑی گوگی علاؤالدین، محب اللہ جونیئر، قمر زمان اور جہانگیر خان نے برٹش اوپن چیمپین شپ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔

    جہانگیر خان اورجان شیر خان کا نام تو بہت سنا ہے اور دیکھا بھی لیکن اسکواش کے کھیل سے وہی نوجوان واقف ہیں جن میں اس کا جنون کوٹ کوٹ کر بھرا ہے پاکستان نے اگر کبھی عالمی سطح میں کھیلوں کی دنیا میں بنایا ہے تو شاید وہ اسکواش واحد کھیل ہے ۔نوجوان نسل شاید نہیں جانتی کہ پاکستان میں کھیلوں کی دنیا کا پہلا اعزاز کرکٹ یا ہاکی نے نہیں بلکہ اسکواش نے دلوایا تھا اور المیہ یہ ہے کہ ملک میں اسکواش کا زوال بھی ہاکی اور کرکٹ سے پہلے ہی آیا۔

    بلاشک و شبہ جہانگیر خان پاکستان کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ ان کی اسکواش کے میدان میں حاصل کی گئی کامیابیاں ایسی ہیں کہ دنیا کوئی دوسرا کھلاڑی شاید ہی ان تک پہنچ سکے،بحثیت پروفیشنل اسکواش کھلاڑی جہانگیر خان نے ورلڈ اوپن کا ٹائٹل چھ مرتبہ اور برٹش اوپن کا ٹائٹل ریکارڈ 10 مرتبہ اپنے نام کیا۔1981 میں 17 سالہ جہانگیر خان ورلڈ اوپن جیتنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بنے، اس کامیابی کے بعد جہانگیر خان کی جیت کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو کہ پانچ سال تک برقرار رہا اور وہ مسلسل ناقابل شکست رہے۔اس دوران انہوں نے 555 میچز جیتے، ان کامیابیوں کا سلسلہ 1986 میں اس وقت رکا جب انہیں فرانس میں ورلڈ اوپن کے فائنل میں روس نورمن سے شکست ہوئی۔ جہانگیر خان دنیا کھیل سے سب سے بہترین کھلاڑی ہیں۔ ان کا مسلسل 555 میچز جیتنے کا ریکارڈ ایسا ہے کہ جسے ٹوٹنے میں شاید صدیاں لگ جائیں۔جہانگیر خان نے اپنی کتاب ’’وننگ اسکواش‘‘ میں بتاتے ہیں کہ کیسے انہیں اپنے کیرئیر کے شروع میں ہی مایوس کرنے کی کوشش کی گئی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ مجھے بتایا گیا کہ میں کبھی عالمی چیمپئن نہیں بن سکوں گا،میں اپنے خاندان کا میں سب سے کم عمر، کمزور اور بیمار بچہ تھا۔ ڈاکٹر اور میرے والد کو بالکل بھی یقین نہیں تھا کہ میں کبھی اسکواش کا اچھا کھلاڑی بھی بن سکتا ہوں۔ ‘‘

    جان شیر خان کے دو بھائی محب اللہ اور اطلس خان اسکواش کے معروف کھلاڑی تھے، جنہوں نے جان شیر کو اس کھیل میں تربیت دی۔ 1986میں انہوں نے آسٹریلیا میں عالمی جونئیر اسکواش چیمپئن شپ کے مقابلے میں شرکت کی اور مذکورہ ٹائٹل جیتا جب کہ 1987میں سینئر عالمی چیمپئن شپ میں کرس ڈٹمار کو شکست دی۔ 1988میں اسکاٹ لینڈ میں ہونے والے مقابلے میں بھی عالمی جونئیر اسکواش چیمپئن کا اعزاز انہی کے پاس رہا۔ 1992 میں انہوں نیاپنے ہم وطن لیجنڈ کھلاڑی کو برٹش اوپن اسکواش چیمپئن شپ میں شکست سے دوچار کرکے مذکورہ اعزاز حاصل کیا، 1993میں جہانگیر خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد 1997 تک لگاتار 6 برس تک جان شیرخان نے یہ اعزاز اپنے پاس رکھا اور ہاشم خان کاچھ مرتبہ کے برٹش اوپن چیمپئن رہنے کا ریکارڈ برابر کردیا، جب کہ آٹھ مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے فاتح رہے۔ انہوں نے اپنے اسکواش کیریئر میں99میچز میں فتح حاصل کی،آخری مرتبہ 1997میں برٹش اوپن کا مقابلہ جیت کر برطانیہ میں سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ 6 اپریل 1998 کووہ اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں اسکاٹ لینڈ کے کھلاڑی پیٹر نکول سیہارگئے۔جس کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کا اسکواش کے کھیل میں زوال شروع ہوا اور اس کی ساٹھ سالہ اجارہ داری ختم ہوگئی۔جہانگیر خان اور جان شیر خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی پاکستانی کھلاڑی ٹاپ ٹین تک کے مرحلے میں بھی نہیں پہنچ پایا۔

    پاکستان میں اسکواش جیسے مشہور کھیل کا زوال بیسویں صدی کے آخر ہی میں ہوگیا تھا جس کوانتظامیہ اور ناقص پالیسی کی وجہ سے نظر انداز کردیا گیااور آج نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس نوجوان پلئیرز تو بہت ہیں مگر چیمپینز کی کمی ہے۔

  • صدرپاکستان ڈاکٹر عارف الرحمن علوی نے انتخابی اصلاحات بل پردستخط کرکے پاکستانیوں کے دل جیت لئے

    صدرپاکستان ڈاکٹر عارف الرحمن علوی نے انتخابی اصلاحات بل پردستخط کرکے پاکستانیوں کے دل جیت لئے

    اسلام آباد:صدرپاکستان ڈاکٹر عارف الرحمن علوی نے انتخابی اصلاحات بل پر دستخط کرکے پاکستانیوں کے دل جیت لئے،اطلاعات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ انتخابی اصلاحات بل پر دستخط کردیئے۔

    اس سلسلےمیں دستخطوں کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، وفاقی وزیر تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ظہیر الدین بابر اعوان اور وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے شرکت کی۔

    صدر مملکت کی جانب سے دستخط کے بعد انتخابی اصلاحات بل قانون بن گیا ہے۔ اس کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی ووٹ کا حق دیا گیا ہے جبکہ آئندہ انتخابات میں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے پہلے ہی الیکٹرانک ووٹنگ مشین تیار کی ہے۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ انتخابی اصلاحات کا سہرا وزیراعظم عمران خان کے سر ہے کیونکہ انہوں نے اس کیلئے انتھک محنت کی۔ ووٹ ڈالنے والوں کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال میں کوئی مشکلات درپیش نہیں ہوں گی کیونکہ انھیں یقین ہے کہ ووٹر آسانی کے ساتھ اس نئے نظام کو سمجھ لیںگے۔

    آئی ووٹنگ کے بارے میں صدر نے کہاکہ یہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا حق ہے کہ وہ اپنا ووٹ کاحق استعمال کریں۔

    دوسری طرف پردیس میں 90 لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتےہوئے کہا ہے کہ اب ان کو بھی اپنے دیس میں اپنے وطن کی بہتری بھلائی اور خوشحالی کےلیے اپنا حق استعمال کرنے کا موقع مل جائے گا ، جس سے سابقہ حکومتوں نے محروم رکھا ہوا تھا

     

  • ویسٹ انڈیز کیخلاف ہوم سیریز کیلئےقومی اسکواڈ کا اعلان:4 اہم کھلاڑیوں کا فیصلہ بھی ہوگیا

    ویسٹ انڈیز کیخلاف ہوم سیریز کیلئےقومی اسکواڈ کا اعلان:4 اہم کھلاڑیوں کا فیصلہ بھی ہوگیا

    لاہور: ویسٹ انڈیز کیخلاف ہوم سیریز کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان، ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز کیلئے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا۔ 4 اہم کھلاڑی شامل نہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق سلیکٹرز نے ٹی 20سیریز کے لئے 15 رکنی جبکہ ون ڈے سیریز کے لئے 17 کھلاڑیوں کا اعلان کیا ہے ،عبداللہ شفیق بطور ٹریول ریزرو سکواڈ کے ساتھ رہیں گے ۔

    تین ٹی 20انٹرنیشنل میچز کے لیے اعلان کردہ سکواڈ کی قیادت بابر اعظم کریں گے دیگر کھلاڑیوں میں نائب کپتان شاداب خان، آصف علی، فخر زمان، حیدر علی اور حارث رؤف ،افتخار احمد، خوشدل شاہ، محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان ،وسیم جونیئر ،شاہین شاہ آفریدی، شاہنواز دھانی اور عثمان قادر بھی ٹیم میں شامل ہیں ۔

     

    قومی ون ڈے سکواڈ میں شامل 17 کھلاڑیوں میں کپتان بابر اعظم اور نائب کپتان شاداب خان شامل ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں آصف علی، فخر زمان، حیدر علی ،حارث رؤف ،افتخار احمد، امام الحق، خوشدل شاہ، محمد نواز ،محمد رضوان ،محمد وسیم جونیئر، محمد حسنین، سعود شکیل، شاہین شاہ آفریدی،شاہنواز دھانی اور عثمان قادر ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

    پی سی بی کے مطابق منصور رانا کو منیجر اور ثقلین مشتاق کو عبوری ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ہے ،نجیب سومرو ٹیم ڈاکٹر اور احسن افتخار ناگی ٹیم کے میڈیا اینڈ ڈیجیٹل منیجر مقرر کیے گئے ہیں ۔

    چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کہا کہ قومی ٹی 20سکواڈ متوازی ہے،سکواڈ کی تعداد کم کرنے کی وجہ سے شعیب ملک، سرفراز احمد ،عماد وسیم اور نان سٹاپ کرکٹ کھیلنے والے حسن علی کو ان کی مشاورت سے آرام دیا گیا ہے۔

    دیگر کھلاڑیوں میں نائب کپتان شاداب خان، آصف علی، فخر زمان، حیدر علی، حارث رؤف، افتخار احمد، خوشدل شاہ، محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان ، محمد وسیم جونیئر، شاہین شاہ آفریدی، شاہنواز دھانی اور عثمان قادر شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی اور 3 ایک روزہ میچوں کی سیریز کا آغاز 13 دسمبر سے ہو گا اور تمام میچز کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

     

     

  • کامیابیوں کا سفر جاری :ایرانی شہر مشہد سے کراچی کیلئے براہ راست پروازوں پر اتفاق

    کامیابیوں کا سفر جاری :ایرانی شہر مشہد سے کراچی کیلئے براہ راست پروازوں پر اتفاق

    کراچی:کامیابیوں کا سفر جاری :ایرانی شہر مشہد سے کراچی کیلئے براہ راست پروازوں پر اتفاق،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان فضائی سروس کا ایک زبردست معاہدہ سامنے آیا ہے ،اسی سلسلے میں‌ قومی ایئرلائن کے چیف ایگزیٹو آفیسر ایئر مارشل اشد ملک سے ایرانی سفری محمد علی حسینی نے ملاقات کی اس دوران ایرانی شہر مشہد سے کراچی کیلئے براہ راست پروازوں پر اتفاق ہوا۔

    تفصیلات کے مطابق ایئر مارشل ارشد ملک اور ایران کے سفیر محمد علی حسینی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران ہوا بازی کے شعبے میں دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایران اور پاکستان نے مشہد سے کراچی کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان عوام کے درمیان روابط اور سیاحت کو فروغ دینا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ پی آئی اے جنوری 2022 سے شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے کراچی کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرے گی۔

    ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ کراچی سے مشہد کی براہ راست پروازوں کے آغاز سے دونوں ہمسایہ ممالک کے مختلف گروپوں کی ایک دوسرے کے ممالک میں نقل و حرکت میں اضافہ ہوگا، جس میں ایران میں مقدس مقامات کی زیارت اور تجارتی و تجارتی وفود کا تبادلہ بھی شامل ہے۔

    قومی ایئرلائن کے ترجمان نے مزید کہا کہ پی آئی اے زائرین کی سہولیات کے لئے شام، عراق اور ایران کے سیکٹر پر پروازوں میں اضافہ پر بہت زیادہ توجہ دے رہا ہے تمام مقدس مقامات پی آئی اے کے نیٹ ورک میں آجائیں گے۔

  • بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    اسلام آباد:، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا قائمہ کمیٹی میں انکشاف،اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا انکشاف، قائمہ کمیٹی تعلیم کے رکن ممبر قومی اسمبلی حامد حمید نے معاملہ کو آئندہ کمیٹی اجلاس میں اٹھانے کا عندیہ دے دیا۔

     

     

    ممبر قومی اسمبلی چوہدری حامد نے گزشتہ روز قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ ہاسٹل میں مقیم طالبات ہاسٹل کا وقت ختم ہونے کے بعد باہر نکلتی ہیں، یونیورسٹی اس معاملہ کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی، میں یہ معاملہ اگلے اجلاس میں بھی لے کر آؤں گا۔

     

     

    دوسری طرف ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ترجمان اسلامی یونیورسٹی ناصر فرید نے بتایا کہ یہ خبرسراسر غلط اور بے بنیاد ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یونیورسٹی نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں ہراسانی کے حوالے سے خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے،

     

     

    ترجمان اسلامی یونیورسٹی ناصر فرید کا کہنا تھا کہ مذکورہ بے بنیاد واقعے کے بابت نہ تو اس کمیٹی کو کوئی اطلاع یا شکایت کی گئی اور نہ ہی سکیورٹی آفس کو اطلاع دی گئی ہے، ایسی کسی بھی قسم کی شکایت یا واقعے پر سخت ایکشن لیا جاتا ہے اور جامعہ کی انتظامیہ کیمپس میں طلباو طالبات کے جان و مال کی حفاظت کے ضمن میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی میں 30 ہزار طلبا و طالبات کے لیے اعلی معیاری تعلیم اور اسلامی و اخلاقی اقدار کی روشنی میں ان کی تربیت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے تاہم کسی بھی منفی سرگرمی کو جامعہ میں برداشت نہیں کیا جاتا ہے۔

     

     

    ترجمان جامعہ نے امید ظاہر کی کہ جامعہ میں شروع ہونے والی داخلہ مہم کو متاثر ہونے سے بچانے میں میڈیا بھرپور کردار ادا کرے گا اور اس موقع پر ایسی غلط فہمی پر مبنی خبروں سے اجتناب کیا جائے گا۔

  • بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    سری نگر : بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں‌ بھارتیوں کوکشمیریوں‌ کی زمینیں‌ چھین کردی جارہی ہیں ، اس حوالے سے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب لوگوں سے انکی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 370اور 35اے کی دفعات کی بحالی کی لڑائی میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گی ۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے بھدرواہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یوں سے انکی زمینیں چھیننے کا مقصد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ زمینیں تو برسہا برس سے یہاں کے لوگوں کے تصرف میں ہیں تو آج یہ ان سے کیوں چھینی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کو ہند مسلم سکھ اتحاد ورثے میں ملا ہے جبکہ یہاں کچھ سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو ہمیشہ اسی تاک میں رہتی ہیں کہ کسی طرح لوگوں میں جھگڑے پیدا کیے جائیں تاہم ہمیں ان کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور اپنے بھائی چارے کو قائم و دائم رکھنا ہے۔

    انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے کہ جب کشمیر میں حالات مکمل طور پر ٹھیک ہو جائیں گے تب ریاست کا درجہ واپس دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بتائے کہ گزشتہ اڑھائی برس میں یہاں کون سا امن قائم ہوا جبکہ الٹا امن کے ماحول کو بگاڑ دیا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کو یونین ٹیری ٹری میں تبدیل کر کے یہاں کون سی بہتری آئی ہے ، کہاں امن قائم ہوا، کس کو روزگار ملا، کہاں سرمایہ کاری ہوئی ، کس جگہ پر نئی یونیورسٹی یا کالج بنا اور کون سا نیا منصوبہ شروع ہوا۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت کے اس سب جھوٹ اور فریب کا جواب کون دے گا۔

    دیں اثنا انڈین نیشنل کانگریس کی مقبوضہ علاقے کی شاخ کے رہنما غلام نبی آزاد نے جموں خطے کے ضلع راجوری میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعدجموںوکشمیر 30برس پیچھے چلا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر کو خراب اور بہت ہی غریب کر دیا گیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموںوکشمیر کو بھارت میں ضم کرنے سے پہلے جموں خطے میں تیرہ ہزار کے لگ بھگ صنعتی کارخانے تھے جن میں سے اب ساڑھے سات ہزار کارخانے بند ہو گئے ہیںجبکہ وادی کشمیر میں تما م کارخانے بند پڑے ہیں۔

     

     

  • بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

    بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

     

    نئی دہلی:بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم,اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج میں خودکشی کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے اور ہر روز کسی فوجی جوان اور افسرکی خودکشی کی خبر آرہی ہے ، ادھر اسی حوالے سے بھارت نے فورسز میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے وزارت داخلہ کے سینئر افسروں مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کر لی ہے۔

     

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ٹاسک فورس کی سربراہی بھارتی سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ سنگھ کر رہے ہیں جب کہ بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، سی آئی ایس ایف، ایس ایس بی اور آسام رائفلز کے خصوصی یا ایڈیشنل ڈی جی فورس کے رکن کے طور پر کام کریں گے۔ٹاسک فورس انفرادی سطح پر متعلقہ خطرے کے عوامل اور حفاظتی عوامل کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے گی۔

     

     

     

    بھارتی حکومت کی طرف سے اگست تک اپ ڈیٹ کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں بھارتی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) یا مرکزی نیم فوجی دستوں کے 680 اہلکاروں نے خودکشی کی۔وزارت داخلہ کی طرف سے ٹاسک فورس سے کہا گیا ہے کہ وہ خطرے والے عوامل کی نشاندہی کرے جیسے فورسز اہلکار کی طرف سے ماضی میں خودکشی کی کوشش، شخصیت کی خاصیت کے طور پر جذباتیت، ذہنی بیماری، شراب یا منشیات کا استعمال، جارحانہ رجحانات، شدید جذباتی بحران، شدید جسمانی بیماری یا دائمی جسمانی بیماری۔

     

     

    بھارتی وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ٹاسک فورس فورسز میں خودکشیوں کے مسئلے کو جامع طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر ے گی

  • افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا

    افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا

    کابل، تہران: افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا ،اطلاعات کےمطابق افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دونوں جانب سے بھاری اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی طالبان فورسز اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، یہ جھڑپ مغربی افغانستان کے صوبہ نمروز کے سرحدی ضلع کُنگ میں ہوئی ہے۔

     

     

    افغان صحافیوں نے بتایا کہ طالبان اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپ نمروز کے سرحدی ضلع میں بدھ کی شام 5 بجے شروع ہوئیں۔ لڑائی کے دوران طالبان کی جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ بھاری اسلحہ کا بھی استعمال کیا گیا۔

     

    مقامی میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے تین سرحدی چوکیوں پر قبضہ کا دعوی کیا گیا ہے، جبکہ طالبان نے مزید فوجی کمک بھی طلب کرلی ہے۔مقامی افغان صحافیوں کے مطابق جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ایران کی جانب سے سرحد پر چیک پوسٹ کی تعمیر کی جارہی تھی۔

    طلوع نیوز کے مطابق امارت اسلامی کے نائب ترجمان بلال کریمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبہ نمروز کے سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جھڑپیں اب بند ہوچکی ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بلال کریمی نے جھڑپوں کی وجوہات کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ لڑائی کے دوران بعض طالبان فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے، لیکن ایران کی جانب کسی زخمی یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد افغان اور ایرانی سرحد پر یہ پہلی جھڑپ ہے۔دوسری طرف ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران کی چیک پوسٹ پر قبضے کی خبریں غلط ہیں، طالبان نے غلط فہمی کی بنیاد پر ایرانی کسانوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔