بسنت کی آمد کے موقع پر لاہور میں ٹریفک پولیس نے شہریوں کی سہولت اور سڑکوں پر روانی کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اطہر وحید کے مطابق، بسنت کی تقریبات کے دوران شہریوں کی موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈ لگانے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 7 لاکھ سے زائد سیفٹی راڈز شہریوں کی موٹرسائیکلوں پر نصب کیے جا چکے ہیں،شہر کے مختلف انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر بھی ٹریفک پولیس کی ٹیمیں تعینات ہیں تاکہ موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈز لگائے جا سکیں اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھا جا سکے،بسنت کے دنوں میں سڑکوں پر آمد و رفت اور گہما گہمی کے پیش نظر جامع ٹریفک پلان ترتیب دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر اطہر وحید نے مزید کہا کہ زونل افسران کی نگرانی میں تمام ڈویژنل ایس پیز اور سرکل افسران لمحہ بہ لمحہ ٹریفک کی صورتحال کی رپورٹ فراہم کریں گے، سیف سٹی میں تعینات ٹریفک سٹاف جدید ٹیکنالوجی اور کیمروں کی مدد سے ٹریفک جام کے مقامات کی نشاندہی کرے گا اور فوری ایکشن لیا جائے گا،زیادہ رش والے اوقات میں ٹریفک ریسپانس یونٹ فوری رپورٹ کے ذریعے مسائل کے حل کو یقینی بنائے گا۔ 6، 7اور 8 فروری کو ملک بھر سے لاہور بسنت کی خوشیوں میں شریک ہونے آئیں گے۔
سی ٹی او لاہور نے شہریوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ بسنت ایس او پیز پر عمل کریں تاکہ وہ بسنت کے رنگوں سے محفوظ اور خوشگوار انداز میں محظوظ ہو سکیں۔
سانحہ بھاٹی گیٹ کے بعد پنجاب حکومت نے بڑا قدم اٹھالیا، بسنت کے دوران لاہور ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جاری تمام ترقیاتی کام روکنے کا فیصلہ کرلیا گیا، شہر بھر میں تمام پراجیکٹ سائٹس کو "نو گو ایریا” قرار دے دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ترقیاتی پراجیکٹ سائٹس میں صرف متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی، تمام پراجیکٹ سائٹس کو مکمل کور کرنے اور لائٹس یقینی بنانے کی ہدایات کی گئی ہے پنجاب میں مین ہولز کے ایس او پیز سے متعلق قانون سازی مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف انجینئر ٹیپا کا کہنا ہے کہ بھاٹی چوک سے موہنی روڈ تک 2 دن میں کام مکمل کرلیا جائے گا۔
ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ واسا کے ترقیاتی کام بسنت کے دوران روک دیے جائیں گے، لاہور میں واسا مین ہولز کی تعداد 3 لاکھ 37 ہزار جبکہ صوبہ بھر میں 12 لاکھ سے زائد ہے۔
بسنت کے موقع پر لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں سیکیورٹی اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات شروع کر دیے ہیں،کمشنر لاہور مریم خان کے مطابق 6، 7 اور 8 فروری کو ہونے والے بسنت کے تہوار کے لیے ڈرون کیمروں کے ذریعے چھتوں کی انسپیکشن جاری ہے، جبکہ ہر اس چھت کا رجسٹرڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے جہاں پتنگ بازی کی میزبانی کی جائے گی۔
کمشنر لاہور نے واضح کیا کہ کوئیک ریسپانس ٹیمیں ہر میزبان مقام اور روف ٹاپ پر این او سی کی جانچ کریں گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی،انتظامیہ کے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق صرف وہی چھتیں پتنگ بازی کے لیے رجسٹرڈ ہو سکیں گی جو طے شدہ ضوابط پر پورا اتریں گی،ایس او پیز کے تحت مخصوص تعداد سے زائد افراد کے اکٹھ کے لیے این او سی حاصل کرنا لازمی ہوگا،شہریوں کی جان و مال کا تحفظ انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کا خیال رکھیں۔
مشنر مریم خان کے مطابق بسنت کے ضابطہ اخلاق اور قوانین سے متعلق تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم بھی جاری ہے تاکہ نوجوان نسل میں ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دیا جا سکے ریڈ زون سمیت لاہور کے تمام علاقوں میں سیل پوائنٹس کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے اور ان کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اب تک 2 ہزار 276 سے زائد سیلرز کو این او سی جاری کیے جا چکے ہیں باشعور اور ذمہ دار شہری، مؤثر انتظامی کاوشوں کے ساتھ مل کر بسنت جیسے خوبصورت تہوار کے محفوظ اور مثبت احیا کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔