Baaghi TV

Tag: بسنت

  • مریم نواز نے بسنت کے وقت میں توسیع کر دی

    مریم نواز نے بسنت کے وقت میں توسیع کر دی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بسنت منانے کا وقت بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اب لاہور میں بسنت رات 12 بجے کے بجائے صبح 5 بجے تک منائی جا سکے گی۔

    اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور میں محفوظ انداز میں بسنت منانے پر شہریوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ لاہور والوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کر کے حکومت کے اعتماد کی لاج رکھ لی ہےآج لاہور خوشیوں میں ڈوبا ہوا ہے اور وہ خود بھی شہریوں کے ذمہ دارانہ رویے پر بے حد خوش ہیں، ان کا کہنا تھا کہ الحمدللہ عوام نے قواعد و ضوابط پر مکمل عمل کرتے ہوئے محفوظ بسنت کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق شہر بھر میں چھتوں پر ایس او پیز کے مطابق بسنت منائی گئی، کھانوں سے لطف اندوز ہوا گیا اور پتنگ بازی کے دوران پیچوں کے دلچسپ مقابلے دیکھنے میں آئے مقررہ سائز اور منظور شدہ ڈور کے علاوہ ممنوعہ ڈور کے استعمال کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، دھاتی تار استعمال نہ ہونے کے باعث شہر بھر میں ٹرانسفارمرز محفوظ رہے، جو انتظامیہ اور شہریوں کی مشترکہ کامیابی ہے حکومت کی جانب سے کیے گئے پیشگی اقدامات اللہ کے فضل و کرم سے مؤثر ثابت ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ لبرٹی، اندرون شہر اور دیگر علاقوں سمیت لاہور بھر میں 200 کلینک آن ویل اور 21 فیلڈ ہسپتال تعینات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکےسیف بسنت کا یہ ماڈل آئندہ لاہور کے بعد دیگر شہروں میں بھی متعارف کروایا جائے گابسنت فیسٹیول کا آج آخری دن ہے اور عوام خوشی کے اس موقع پر بھی احتیاط اور حفاظتی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔

  • نواز شریف بھی دوستوں کے ساتھ بسنت میں شریک

    نواز شریف بھی دوستوں کے ساتھ بسنت میں شریک

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے اندرون لاہور کا دورہ کیا اور دوستوں کے ساتھ بسنت منائی۔

    تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم محمد نواز شریف بسنت کے حوالے سے اپنے قریبی دوستوں اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے گھر پہنچےنواز شریف نے دوستوں کے گھر جاکر چھت پر بیٹھ کر پتنگ بازی کا مشاہدہ کیا اور بسنت سے خوب محظوظ ہوئے،اس کے علاوہ وہ ن لیگ کے سینئر رہنما شیخ روحیل اصغر کے گھر پر بھی گئے۔

    علاوہ ازیں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بسنت کے موقع پر فیملی کے ہمراہ پتنگ اُڑا کر بسنت کی خوشیوں میں شرکت کی، بسنت کی بحالی جرات مندانہ اور مشکل فیصلہ تھا، جس کی وجہ سے 25 سال بعد لاہور کا آسمان رنگ برنگی پتنوں سے سج گیاوزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ہمیشہ عوامی خوشی اور تحفظ کو سامنے رکھ کر مشکل فیصلے کرتی ہیں۔

  • ڈی-8 رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی وفد کی تاریخی پونچھ ہاؤس میں آمد

    ڈی-8 رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی وفد کی تاریخی پونچھ ہاؤس میں آمد

    لاہور: سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ڈی-8 رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی وفد کا تاریخی پونچھ ہاؤس میں پرتپاک استقبال کیا۔

    ڈی-8 مندوبین میں بنگلہ دیش، مصر، ایران، انڈونیشیا، ملائیشیا، نائجیریا، ترکی اور آذربائیجان کے نمائندے شامل تھے جنہوں نے پنجاب کے ثقافتی حسن اور ثقافتی ورثے کے تحفظ و فروغ کے اقدامات کو سراہا،بسنت کی رنگا رنگ ثقافتی تقریب میں ڈی-8 مندوبین پتنگ بازی اور مقامی کھانوں سے لطف اندوز ہوئے، اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت و لائیو اسٹاک سید عاشق حسین کرمانی اور دیگر ملکی و غیر ملکی وفود بھی موجود تھے۔

    دو روزہ قیام کے دوران وفد نے واہگہ بارڈر، شالامار باغ، مزار اقبال، بادشاہی مسجد، حضوری باغ اور شاہی قلعہ کا دورہ کیا، دوروں کے دوران وفد کو تاریخی و ثقافتی اہمیت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، مندوبین نے پنجاب کی مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی، وفد نے دورے کے اختتام پر باہمی خیرسگالی اور دوستانہ تعلقات کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ثقافتی روابط، اقتصادی تعاون اور عوامی سطح پر اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کا اعادہ کیا۔

  • ہزاروں لوگوں کی قصور سے لاہور آمد،سخت تنقید کی گئی

    ہزاروں لوگوں کی قصور سے لاہور آمد،سخت تنقید کی گئی

    قصور
    قصور ضلع بھر و گردونواح سے بسنت منانے کیلئے لاہور پہنچنے والے ہزاروں افراد پر تنقید
    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر سے بسنت کے لئے لاہور جانے والے ہزاروں افراد کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کی روایتی خوشیوں کے ساتھ ساتھ اس تہوار کو کچھ حلقوں نے خونی تہوار قرار دے کر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے
    لاہور کے مختلف علاقوں میں بسنت کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے ہیں
    مگر مقامی شہری اور ماحولیاتی کارکنوں نے پتنگوں اور دھاگوں کی وجہ سے خطرات، پرندوں اور انسانی جانوں کو لاحق نقصان کی بابت تشویش کا اظہار کیا ہے سوشل میڈیا صارفین نے خاص طور پر قصور سے آئے ہوئے افراد کی لاپرواہی پر تنقید کی اور بسنت کو غیر محفوظ اور نقصان دہ قرار دیا ہے
    لاہور شہر کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں تاہم واقعہ کی نوعیت اور مقامی افراد کی رائے نے بسنت کے جشن پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے

  • بسنت کے موقع پر لاہور میں کتنی گاڑیاں داخل ہونے کا امکان ہے؟

    لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول پر لاکھوں گاڑیاں کے داخل ہونے کا امکان ہے۔

    بسنت کے موقع پر شہرِ لاہور میں تقریبا 5 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے داخلے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر پٹرولنگ ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں10 ہزار پولیس اہلکار اور 2500 ٹریفک وارڈنز تعینات ہوں گے چیف ٹریفک آفیسر نے پورے پاکستان کو لاہور میں بسنت منانے دعوت بھی دی ہےشہر کے داخلی راستوں کے علاوہ ریڈ زون میں سیف سٹی کیمروں سے براہِ راست مانیٹرنگ کی جائے گی ٹریفک انتظامات کو حتمی شکل بھی دے دی گئی ہے۔

    چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اطہر وحید کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری جبکہ ریڈ زون کی چھتوں پر کیمرے نصب کر کے آپریشنل کیے جائیں گے جن کی مدد سے براہ راست مانیٹرنگ ہوگی،ایس پی آپریشنز سیف سٹی محمد شفیق کا کہنا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ریسکیو اور پولیس سمیت 15 محکموں کی مشترکہ ٹیمیں متحرک رہیں گی، شہری قانون کی پاسداری یقینی بنائیں تو بسنت فیسٹیول مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا۔

    دوسری جانب سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بسنت فیسٹیول کے دوران موٹرسائیکل پر پابندی ہوگی، شہری فری ٹرانسپورٹ استعمال کریں،بسنت کے دوران شہری کم سے کم گاڑیوں کو سڑکوں پر لائیں اور فری حکومتی ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ آلودگی میں مزید کمی لائی جا سکے، موٹر سا ئیکل پر پابندی ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کہ ان تمام اقدامات کا مقصد بسنت کو محفوظ، منظم اور آلودگی سے پاک ماحول میں منانا ہے، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ڈیٹا کی بنیاد پر سموگ کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے جبکہ اے آئی بیسڈ مانیٹرنگ اور جی ایس میپنگ کے ذریعے آلودگی پر مؤثر کنٹرول کیا جا رہا ہے، لاہور میں فضائی آلودگی کے حوالے سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 173 ریکارڈ کیا گیا ہے، یہ بہتری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شر یف کے انسدادِ سموگ اقدامات اور عوامی تعاون کا نتیجہ ہے جس کے باعث مقامی آلودگی پر مؤثر حد تک قابو پایا جا سکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومتی سیاسی عزم اور عوامی تعاون سے ماحولیاتی صورتحال بہتر ہوئی ہے جبکہ آلودگی کے اسباب کے خاتمے کے لیے جامع ملٹی سیکٹورل ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری ہے، تمام صنعتی چمنیوں کی ای پی اے کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے، سموگ کنٹرول روم مکمل طور پر فعال ہے اور ڈرونز و سی سی ٹی وی کی مدد سے کڑی مانیٹرنگ جاری ہے، بھٹوں، صنعتی یونٹس اور گاڑیوں کے اخراج پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے اور خلاف ورزیو ں پر قانونی کارروائیاں کی جائے گی جبکہ فیلڈ ٹیمیں بھی مکمل طور پر متحرک ہیں حکومت کا ہدف پورا سال بہتر اے کیو آئی برقرار رکھنا ہے، انہوں نے بزرگوں اور بیمار شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

  • بسنت کی تیاریاں:مریم نواز کا لبرٹی چوک کا دورہ ، شہریوں سے براہِ راست ملاقات

    بسنت کی تیاریاں:مریم نواز کا لبرٹی چوک کا دورہ ، شہریوں سے براہِ راست ملاقات

    لاہور میں بسنت کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لبرٹی چوک کا دورہ کیا اور شہریوں سے براہِ راست ملاقات کی۔

    لاہور میں بسنت کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز لبرٹی چوک پہنچ گئیں، جہاں انہیں دیکھتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں،مریم نواز نے اپنی گاڑی روک کر شہریوں کو ہاتھ ہلایا اور ان سے گفتگو کی ،چھوٹے بچوں کو پیار دیااس دوران انہوں نے موٹر سائیکل سوار وں کو حفاظتی اقدامات اپنانے کی ہدایت کی اور ایک موٹر سائیکل سوار کو سیفٹی راڈ لگانے کا کہا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا کہ بسنت کے دوران موٹر سائیکل چلانے پر پابندی نہیں، تاہم سیفٹی راڈ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں موٹر سائیکل بند کر دی جائے گی، حفاظتی اقدامات کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے وزیراعلیٰ کی موجودگی پر شہریوں کی بڑی تعداد موقع پر موجود رہی اور شہریوں نے پنجاب حکومت کے مختلف منصوبوں کو سراہا۔

    آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    بسنت کے باعث لاہور میں فضائی سرگرمیوں کیلئے نوٹم جاری

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

  • بسنت فیسٹیول:لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    بسنت فیسٹیول:لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے محفوظ بسنت منانے کے حوالے سے تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔

    جسٹس ملک اویس خالد نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کر دیا، عدالت نے مزید سماعت 11 فروری تک ملتوی کر دی،عدالت نے بسنت میں ریڈ وزن والے پارکوں میں میڈیکل سہولیات کیمپ قائم کرنے کا حکم دے دیا، بسنت کے فیسٹول کے دوران تمام فریقین عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے، ایمرجنسی صورتحال میں تمام سہولیات کو فعال رکھا جائے، اے ڈی سی جی نے تین اسپتال موبلائزڈ کرنے کی رپورٹ پیش کی۔

    فیلڈ مارشل نے مسئلہ کشمیر پرجس عزم کا اظہار کیا،وہ سچ کردکھایا

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق بسنت کے تہوار کو شہریوں کے لیے محفوظ بنانے کے مقصد سے لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے بھرپور آگاہی مہم شروع کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز کی ہدایت پر شہر بھر میں بسنت سیفٹی مہم زور و شور سے جاری ہے۔

    آگاہی مہم میں اسسٹنٹ کمشنرز، لاہور پولیس، ٹریفک پولیس، میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں بھرپور انداز میں حصہ لے رہی ہیں۔ اندرون شہر کے علاوہ ٹھوکر نیاز بیگ، جلو موڑ، رائے ونڈ، صدر، کینٹ اور ماڈل ٹاؤن سمیت شہر کے تمام علاقوں میں مہم جاری ہے۔

    نواز شریف اورمریم نواز سے ایرانی سفیر کی ملاقات

    شہریوں کو پتنگ بازی کے دوران حفاظتی اقدامات اختیار کرنے، سیفٹی وائر کے استعمال اور دھاتی ڈور سے مکمل اجتناب کی تلقین کی جا رہی ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت کے لیے مختلف مقامات پر سیفٹی راڈز کی تنصیب اور تقسیم بھی کی جا رہی ہے۔

    تمام تحصیلوں میں اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے آگاہی کیمپس قائم کیے گئے ہیں جن کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ مساجد کے پیش اماموں کے ذریعے بسنت سیفٹی ایس او پیز سے متعلق اعلانات بھی کروائے جا رہے ہیں جبکہ شہر کے اہم مقامات پر آگاہی بینرز اور پیغامات آویزاں کیے گئے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ نے خطرناک اور کمزور عمارتوں کی چھتوں پر پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے سخت نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دھاتی ڈور اور دیگر غیر محفوظ سرگرمیوں سے دور رکھیں۔

    بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 سے صالح بھوتانی کامیاب قرار

    ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز نے واضح کیا ہے کہ بسنت کو خونی کھیل بنانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بسنت کے دوران ہوائی فائرنگ، اونچی آواز میں موسیقی اور خطرناک سرگرمیوں سے اجتناب کریں اور محفوظ بسنت منانے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

  • لاہور:بسنت کی تیاریاں،ٹریفک پولیس نے خصوصی اقدامات شروع کر دیئے

    لاہور:بسنت کی تیاریاں،ٹریفک پولیس نے خصوصی اقدامات شروع کر دیئے

    بسنت کی آمد کے موقع پر لاہور میں ٹریفک پولیس نے شہریوں کی سہولت اور سڑکوں پر روانی کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

    سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اطہر وحید کے مطابق، بسنت کی تقریبات کے دوران شہریوں کی موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈ لگانے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 7 لاکھ سے زائد سیفٹی راڈز شہریوں کی موٹرسائیکلوں پر نصب کیے جا چکے ہیں،شہر کے مختلف انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر بھی ٹریفک پولیس کی ٹیمیں تعینات ہیں تاکہ موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈز لگائے جا سکیں اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھا جا سکے،بسنت کے دنوں میں سڑکوں پر آمد و رفت اور گہما گہمی کے پیش نظر جامع ٹریفک پلان ترتیب دیا جا رہا ہے۔

    ڈاکٹر اطہر وحید نے مزید کہا کہ زونل افسران کی نگرانی میں تمام ڈویژنل ایس پیز اور سرکل افسران لمحہ بہ لمحہ ٹریفک کی صورتحال کی رپورٹ فراہم کریں گے، سیف سٹی میں تعینات ٹریفک سٹاف جدید ٹیکنالوجی اور کیمروں کی مدد سے ٹریفک جام کے مقامات کی نشاندہی کرے گا اور فوری ایکشن لیا جائے گا،زیادہ رش والے اوقات میں ٹریفک ریسپانس یونٹ فوری رپورٹ کے ذریعے مسائل کے حل کو یقینی بنائے گا۔ 6، 7اور 8 فروری کو ملک بھر سے لاہور بسنت کی خوشیوں میں شریک ہونے آئیں گے۔

    سی ٹی او لاہور نے شہریوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ بسنت ایس او پیز پر عمل کریں تاکہ وہ بسنت کے رنگوں سے محفوظ اور خوشگوار انداز میں محظوظ ہو سکیں۔

    سانحہ بھاٹی گیٹ کے بعد پنجاب حکومت نے بڑا قدم اٹھالیا، بسنت کے دوران لاہور ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جاری تمام ترقیاتی کام روکنے کا فیصلہ کرلیا گیا، شہر بھر میں تمام پراجیکٹ سائٹس کو "نو گو ایریا” قرار دے دیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ترقیاتی پراجیکٹ سائٹس میں صرف متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی، تمام پراجیکٹ سائٹس کو مکمل کور کرنے اور لائٹس یقینی بنانے کی ہدایات کی گئی ہے پنجاب میں مین ہولز کے ایس او پیز سے متعلق قانون سازی مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف انجینئر ٹیپا کا کہنا ہے کہ بھاٹی چوک سے موہنی روڈ تک 2 دن میں کام مکمل کرلیا جائے گا۔

    ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ واسا کے ترقیاتی کام بسنت کے دوران روک دیے جائیں گے، لاہور میں واسا مین ہولز کی تعداد 3 لاکھ 37 ہزار جبکہ صوبہ بھر میں 12 لاکھ سے زائد ہے۔

    بسنت کے موقع پر لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں سیکیورٹی اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات شروع کر دیے ہیں،کمشنر لاہور مریم خان کے مطابق 6، 7 اور 8 فروری کو ہونے والے بسنت کے تہوار کے لیے ڈرون کیمروں کے ذریعے چھتوں کی انسپیکشن جاری ہے، جبکہ ہر اس چھت کا رجسٹرڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے جہاں پتنگ بازی کی میزبانی کی جائے گی۔

    کمشنر لاہور نے واضح کیا کہ کوئیک ریسپانس ٹیمیں ہر میزبان مقام اور روف ٹاپ پر این او سی کی جانچ کریں گی اور کسی بھی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی،انتظامیہ کے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق صرف وہی چھتیں پتنگ بازی کے لیے رجسٹرڈ ہو سکیں گی جو طے شدہ ضوابط پر پورا اتریں گی،ایس او پیز کے تحت مخصوص تعداد سے زائد افراد کے اکٹھ کے لیے این او سی حاصل کرنا لازمی ہوگا،شہریوں کی جان و مال کا تحفظ انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کا خیال رکھیں۔

    مشنر مریم خان کے مطابق بسنت کے ضابطہ اخلاق اور قوانین سے متعلق تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم بھی جاری ہے تاکہ نوجوان نسل میں ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دیا جا سکے ریڈ زون سمیت لاہور کے تمام علاقوں میں سیل پوائنٹس کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے اور ان کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اب تک 2 ہزار 276 سے زائد سیلرز کو این او سی جاری کیے جا چکے ہیں باشعور اور ذمہ دار شہری، مؤثر انتظامی کاوشوں کے ساتھ مل کر بسنت جیسے خوبصورت تہوار کے محفوظ اور مثبت احیا کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

  • قصور،شیخوپروہ،فیصل آباد اور ملتان میں پتنگ سازی کی اجازت،پتنگ بازی ممنوع

    قصور،شیخوپروہ،فیصل آباد اور ملتان میں پتنگ سازی کی اجازت،پتنگ بازی ممنوع

    قصور
    پنجاب کابینہ نے لاہور کے ساتھ مذید چار اضلاع میں پتنگ بازی کا سامان تیار کرنے کی اجازت دے دی ہے
    لاہور، فیصل آباد، قصور، شیخوپورہ اور ملتان میں اب رجسٹرڈ مینوفیکچررز پتنگ اور ڈور تیار کر سکیں گے لیکن صرف لاہور میں رجسٹرڈ ٹریڈرز کے ذریعے فروخت کی اجازت ہوگی
    یہ فیصلہ پنجاب کابینہ نے بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے محفوظ انتظامات کے لئے کیا ہے
    اس فیصلے پر عوام میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا
    کچھ شہریوں نے اسے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کاروبار کو فروغ ملے گا اور نوجوانوں میں مصروفیت بڑھے گی تاہم اکثر لوگوں نے اس اقدام کی مخالفت کی اور کہا کہ پتنگ بازی کے دوران حادثات اور بچوں کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے لہٰذا اس فعل کو محدود اور سخت نگرانی کے ساتھ ہونا چاہیے
    کابینہ کی جانب سے پابندیاں واضح کی گئی ہیں کہ سامان صرف رجسٹرڈ افراد ہی تیار اور فروخت کر سکیں گے اور بسنت کے مقررہ دنوں تک ہی استعمال کی اجازت ہوگی
    واضع رہے کہ لاہور، فیصل آباد، قصور، شیخوپورہ اور ملتان میں بسنت منانے کی اجازت نہیں ہے بلکہ اُن اضلاع میں صرف پتنگ بازی کا سامان تیار کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے جو بعد میں لاہور میں بسنت کے لیے استعمال ہو گا لہذہ ان شہروں کی عوام محتاط رہے

  • 6سے 8فروری تک لاہور کے اسپتالوں کو ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایات

    6سے 8فروری تک لاہور کے اسپتالوں کو ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایات

    محکمہ صحت پنجاب نے بسنت کی مناسبت سے لاہور کے 13 اسپتالوں کو 6سے 8فروری تک ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

    محکمہ صحت کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق لاہور کے 13 سرکاری اسپتال 6سے8فروری تک ہائی الرٹ رہیں گے اور اسپتال انتظامیہ کو میڈیکل اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی مکمل موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ادویات، ڈرپس، ویکسین اور سرجیکل سامان کی دستیابی ہر صورت مکمل کی جائے جب کہ بسنت کے دوران ممکنہ حادثات کے پیش نظر اسپتالوں میں بیڈز بھی مختص کیے جائیں،محکمہ صحت نے بلڈ بیگز کی دستیابی یقینی بنانے اور خون عطیہ کرنے والے افراد کی فہرستیں تیار رکھنے کا حکم بھی دیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری مدد فراہم کی جا سکے۔

    محکمہ صحت کی جانب سے جاری مراسلے میں اسپتالوں کو ایکسرے، الٹراساونڈ، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشین کو فنکنشل رکھنے کے علاوہ فعال موبائل اور ٹیلی فون کنکشن موجود رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے محکمہ صحت نے تمام متعلقہ اسپتالوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی تیاریوں کا جامع پلان مرتب کرکے فوری طور پر محکمہ صحت کو جمع کروائیں۔