Baaghi TV

Tag: بسنت

  • لاہور میں  5 روزہ خصوصی تعطیلات کا اعلان

    لاہور میں 5 روزہ خصوصی تعطیلات کا اعلان

    لاہور: پنجاب حکومت نے لاہور میں 4 فروری سے 8 فروری تک 5 روزہ خصوصی تعطیلات کا اعلان کر دیا۔

    صوبائی حکومت کے اعلامیہ کے مطابق تعطیلات کا آغاز 4 فروری کو شب برات سے ہو گا۔ جبکہ 5 فروری کو یوم کشمیر کے موقع پر قومی تعطیل ہو گی اس کے بعد 6 سے 8 فروری تک بسنت کی تقریبات منعقد کی جائیں گی جس کے نتیجے میں شہریوں کو مسلسل 5 دن کی چھٹیاں میسر آئیں گی، ان تعطیلات کے دوران اسکول، کالجز اور سرکاری دفاتر بند رہیں گے تاکہ شہری بسنت کی تقریبات میں شرکت کے ساتھ اہلخانہ کے ساتھ وقت گزار سکیں۔

    حکام نے بسنت کے دوران خصوصی طور پر پتنگ بازی سے متعلق حفاظتی اقدامات پر زور دیا کیونکہ ماضی میں اس موقع پر ہجوم اور حادثات کے خدشات سامنے آتے رہے ہیں،طویل تعطیلات کا مقصد لاہور کی ثقافتی روایات کا احترام، عوام کو تفریحی مواقع فراہم کرنا اور سماجی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہےمقامی منتظمین کی جانب سے بسنت کو محفوظ انداز میں منانے کے لیے مختلف تقریبات اور پروگرام ترتیب دیئے جا رہے ہیں جن میں موسیقی کی محفلیں، پتنگ بازی کے مقابلے اور کمیونٹی سرگرمیاں شامل ہوں گی۔

  • اندرون لاہور کی 300 سے زائد عمارتیں غیر محفوظ قرار

    اندرون لاہور کی 300 سے زائد عمارتیں غیر محفوظ قرار

    لاہور: والڈ سٹی اتھارٹی نے اندرون لاہور کی 300 سے زائد عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دے دیا۔

    والڈ سٹی اتھارٹی نے پتنگ بازی کی اجازت کے خلاف درخواست میں رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروادی، جس میں بتایا گیا ہے کہ بسنت سے قبل اندرون لاہور کی خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے اندرون لاہور کی 346 خستہ حال عمارتوں میں سے 183 عمارتیں ناقابل مرمت قرار دی گئی ہیں جبکہ انتہائی خستہ حال 92 عمارتیں خالی کروا لی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 254 خطرناک عمارتیں تاحال آباد ہیں جو خطرےکے باوجود خالی نہیں کرائی جا سکیں، آباد عمارتوں میں103 عمارتیں ناقابل مرمت اور 151 قابل مرمت قرار پائی ہیں جبکہ خالی کرائی گئی عمارتوں میں 80 عمارتیں قابل مسمار اور 12 قابل مرمت قرار دی گئی ہیں، خطرناک عمارتوں کی چھتیں بسنت سرگرمیوں کے لیے غیرمحفوظ ہیں، جس کیلئے والڈسٹی اتھارٹی کے وارننگ نوٹسز اور آگاہی بینرز آویزاں کیےجا رہے ہیں۔

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 کے تحت مختلف پابندیاں عائد کردیں،حکومت پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کیلئے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے، کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں سمیت 30 روز کیلئے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری و خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے بسنت کے دوران بغیر تصویر والی یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، خلاف قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے-

  • بسنت کیلئے سکولوں کی چھتیں دینے کی تیاریاں،  این او سی جاری

    بسنت کیلئے سکولوں کی چھتیں دینے کی تیاریاں، این او سی جاری

    بسنت 2026 کے موقع پر اسکولوں کی چھتیں استعمال کے لیے دینے کی تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے –

    ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی (ڈی ای اے) لاہور نے 15 میں سے 2 سرکاری اسکولوں کی چھتوں کے لیے این او سی جاری کر دی ہے جس میں گورنمنٹ وکٹوریہ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول اور گورنمنٹ اسکول دہلی گیٹ کی چھتوں کو بسنت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، دونوں اسکولوں کی چھتیں اسکول کونسل کی منظوری کے بعد نیلام کی جائیں گی،ابتدائی مرحلے میں اسکول کونسل کی جانب سے نیلامی کے لیے اشتہارات جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد مقررہ طریقہ کار کے تحت چھتوں کی نیلامی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈی ای اے لاہور نے دیگر سرکاری اسکولوں کی چھتوں کی نیلامی کے لیے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ سے اجازت طلب کر لی ہے۔ اجازت ملنے کے بعد مزید اسکولوں کو بھی این او سی جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

  • بسنت کے دوران  لاہور میں دفعہ 144 نافذ

    بسنت کے دوران لاہور میں دفعہ 144 نافذ

    حکومت پنجاب نے بسنت کے دوران لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے،یہ اقدام مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے-

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق جاری احکامات کے تحت پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، کسی مذہبی یا سیاسی شخصیت کی تصاویر لگانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگیں بھی ممنوع قرار دی گئی ہیں، 30 روز کے لیے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی ہو گی، تاہم بسنت کے دوران بغیر تصویر یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈا اور پتنگ استعما ل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    بیان کے مطابق خلافِ قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم ہو گا۔ بسنت کے موقع پر اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے مذہبی یا سیاسی علامات کے استعمال کا اندیشہ تھا، جس کے پیشِ نظر یہ اقدامات کیے گئے۔ دفعہ 144 کے تحت احکامات فوری نافذ العمل ہوں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

    ترجمان کے مطابق حکومت پنجاب نے لاہور میں 6 سے 8 فروری تک محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر لاہور نے پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت بسنت 2026 کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے حکومت کے مطابق بسنت کو ایک تفریحی تہوار کے طور پر منانے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم کسی قسم کی قانون شکنی برداشت نہیں کی جائے گی، پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ مقررہ تاریخوں سے قبل پتنگ بازی کرنے پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ، جبکہ ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے-

  • بسنت کی اجازت نہیں،پولیس نے ملزم بمعہ پتنگوں کے،گرفتار کر لیا

    بسنت کی اجازت نہیں،پولیس نے ملزم بمعہ پتنگوں کے،گرفتار کر لیا

    قصور
    تھانہ سٹی اے ڈویژن قصور پولیس نے ایس ایچ او مشتاق حیدر کی سربراہی میں تھانہ کی حدود میں کائیٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے پتنگ بازی کے سامان کی بڑی کھیپ برآمد کر لی

    تفصیلات کے ایس ایچ او تھانہ سٹی اے ڈویژن مشتاق حیدر کی سربراہی میں پولیس نے کائیٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کو ناکام بنا دیا
    تھانہ کی حدود نفیس کالونی کے قریب ایس آئی ظفر اقبال نے دورانِ گشت ایک مشکوک شخص کو روک کر تلاشی لی
    تلاشی کے دوران ملزم کے قبضے سے 100 عدد پتنگیں،گڈیاں برآمد ہوئیں
    ملزم نے ابتدائی پوچھ گچھ پر اپنا نام عدنان علی ولد جاوید قوم ملک، سکنہ محلہ کوٹ رکن دین قصور بتایا
    پولیس کے مطابق ملزم کی جانب سے کائیٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر اس کے خلاف کائیٹ ایکٹ 2025 کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی اور اس سے متعلقہ سامان کی فروخت و ترسیل کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی، تاکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے
    قصور پولیس نے اس سے قبل کئی بار واضع کیا ہے کہ قصور میں بسنت کی کوئی اجازت نہیں لہذہ شہری خلاف ورزی سے باز رہیں

  • پنجاب:  بسنت، ہارس اینڈ کیٹل شو، میلہ چراغاں، بسنت اور مختلف مذہبی تہواروں کی بحالی کا فیصلہ

    پنجاب: بسنت، ہارس اینڈ کیٹل شو، میلہ چراغاں، بسنت اور مختلف مذہبی تہواروں کی بحالی کا فیصلہ

    حکومت پنجاب نے بسنت، ہارس اینڈ کیٹل شو، میلہ چراغاں، بسنت اور مختلف مذہبی تہواروں کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے-

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ بسنت ایک 800 پرانا تہوار ہے جو پچھلے کئی سالوں سے نہیں منایا گیا، بسنت بہار کی آمد اور نئی شروعات کی علامت ہے حکومت پہلی بار سرکاری سطح پر بسنت کا انعقاد کرے گی، جو 6، 7 اور 8 فروری کو منعقد ہوگا۔

    مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ہارس اینڈ کیٹل شو، میلہ چراغاں، رمضان کی تقریبات ہوں یا عید کی خوشیاں، کرسمس اور ہولی سمیت دیگر تہوار بھی جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ پنجاب کو ہر کسی کا صوبہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں ہر مذہب، عقیدے اور فرقے کے لوگوں کو برابر کا حصہ ملتا ہے اور ان کے تہواروں کو بھی عزت و وقار کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بسنت کا سلسلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بند تھا، مگر اس تہوار کی تاریخ تقریباً 800 سال پر محیط ہے اور اسے بسنت پنچمی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،یہ صرف ایک تہوار نہیں بلکہ بہار کے آغاز، زندگی کی تازگی اور تجدید کی علامت ہے، پنجابی ثقافت نہ صرف پنجاب بلکہ دنیا بھر میں اپنی رنگینی اور خوشی کے جشن کے طور پر پہچانی جاتی ہے، اور اسی ثقافتی ورثے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے حکومت نے بسنت کے دوبارہ منانے کا فیصلہ کیا ہے،ہر شہری کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ اس دھرتی کا اہم حصہ ہے۔

  • پتنگ بازی پرمکمل پابندی کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

    پتنگ بازی پرمکمل پابندی کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

    حیدرآباد میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ، اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق کمشنرحیدرآباد نے ضلع بھر میں آج سے دفعہ 144 نافذ کردی،جس میں کہا گیا ہے کہ پتنگ اُڑانے،ڈورکی خریدو فر وخت، تیاری اورذخیرہ اندوزی پرپابندی ہوگی،پتنگ بازی سےمتعلق کسی بھی قسم کی سرگرمی یااجتماع کی اجازت نہیں ہوگی،خلاف ور زی کی صورت میں متعلقہ تھانےکاانسپکٹر کارروائی کامجازہوگا۔

    پتنگ بازی کےباعث بڑھتےحادثات کے سبب پابندی عائد کی گئی ،اطلاق یکم جنوری سے 31 مارچ 2026تک ہوگا۔

    کراچی : نیب نے 250 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرا لی

    قبل ازیں گزشتہ روز پنجاب حکومت نے مشروط بسنت سے قبل صوبے بھر میں پتنگ سازی اور پتنگ بازی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا –

    واضح رہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے صرف 6، 7 اور 8 فروری کو مشروط طور پر پتنگ بازی کی اجازت دی گئی ہے تاہم ان مقررہ دنوں کے علاوہ کسی بھی مقام پر پتنگ اڑانے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی،سیکریٹری داخلہ پنجاب نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی انہوں نے مخصوص دنوں کے علاوہ پتنگ بازی کے واقعات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ پابندی کے باوجود پتنگ بازی کیسے ہو رہی ہے۔

    پہلا ملک جہاں چار صدیوں بعد سرکاری ڈاک سروس کا مکمل خاتمہ

    اس حوالے سے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو پتنگ بازی کے مکمل تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار ہے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گاکمشنرز کو پابندی پر فوری اور ہر صورت عملدرآمد کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ نے پابندی پر سختی سے عملدرآمد کے لیے تمام اضلاع کو باقاعدہ مراسلے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، خلا ف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کو غیر رجسٹرڈ پتنگ فروشوں اور ڈور بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔مہنگائی سے متعلق دسمبر 2025 کی ماہانہ رپورٹ جاری1

  • لاہور میں  تین دن کے لیے بسنت منانے کی اجازت

    لاہور میں تین دن کے لیے بسنت منانے کی اجازت

    لاہور: صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا ہے کہ لاہور میں صرف تین دن کے لیے بسنت منانے کی اجازت دی جائے گی، تاہم اس دوران سخت حفاظتی اور قانونی ضوابط لاگو ہوں گے۔

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کے مطابق حکومت نے مینوفیکچررزکو مخصوص معیار کے مطابق پتنگ اورڈور تیار کرنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ پتنگ کا ایک سائزمقررکردیا گیا ہے اس سے بڑی پتنگ تیاریا فروخت نہیں کی جا سکے گی، پتنگ اور ڈور صرف مخصوص پوائنٹس پر دستیاب ہوں گی، انہیں ہرجگہ فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اس اقدام کا مقصد غیر قانونی سرگرمیوں اور خطر ناک مواد کے استعمال کو روکنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ محکموں سے مکمل پلان طلب کرلیا گیا ہے تاکہ بسنت کے دوران شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے حکومت کی کوشش ہے کہ ان تین دنوں کے دوران لوگ کم سے کم موٹر سائیکل استعمال کریں جبکہ کچھ حساس علاقوں میں موٹر سائیکلوں کے داخلے پرمکمل پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے، بسنت کے موقع پرعام تعطیل کا فیصلہ بھی جلد کیا جائے گا۔

    وبائی امراض پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں:مریم نواز

    عظمیٰ بخاری نےواضح کیا کہ جو افراد طے شدہ قوانین پر عمل نہیں کریں گے انکے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی، اگر کوئی بچہ پتنگ اڑاتے ہوئے پایا گیا تو اس کے والدین کو جوابدہ ہونا پڑے گا، اور قانون کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

    سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر چل بسیں

  • لاہور: بسنت کے لئے رجسٹریشن فیس کی تفصیلات جاری

    لاہور: بسنت کے لئے رجسٹریشن فیس کی تفصیلات جاری

    لاہور:شہر میں بسنت کیلئے ڈور اور پتنگ بنانے والوں کو ایک ہزار روپے رجسٹریشن فیس ادا کرنا ہوگی۔

    ضلعی انتظامیہ نے بسنت کے لئے رجسٹریشن فیس کی تفصیلات جاری کر دیں،حکام ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈور،پتنگ مینوفیکچررزکی رجسٹریشن فیس ایک ہزار روپے مقرر کی گئی ہے،کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کی فیس5ہزارروپے مقرر کی گئی،پتنگ سازوں،ڈورمینوفیکچررز رجسٹریشن کیلئےفارم اے،کائٹ ایسوسی ایشن فارم سی بھریں گے،پنجاب حکومت نے 6سے8فروری تک بسنت منانے کی مشروط اجازت دی ہے۔

    واضح رہے کہ انتظامیہ نے رجسٹریشن کے لیے چار کیٹیگریز کے خصوصی فارم جاری کیے ہیں پتنگ ساز اور ڈور تیار کرنے والے افراد فارم "اے” کے تحت رجسٹر ہوں گے,رجسٹریشن کے بعد سرکاری سرٹیفکیٹ فارم "بی” کے ساتھ جاری کیا جائے گا، جس پر کیو آر کوڈ درج ہوگا,فارم "بی” میں جاری ہونے والا کیو آر کوڈ پتنگ اور ڈور پر لازمی طور پر چسپاں کیا جائے گا,یہی کوڈ پتنگ و ڈور فروشوں کی دکانوں اور بینرز پر بھی آویزاں ہوگا,دکان کے اندر فارم "بی” کا سرٹیفکیٹ نمایاں جگہ پر لگانا لازم قرار دیا گیا ہے۔

    انتظامیہ نے پتنگ اور ڈور کے سائز، میٹریل اور معیار کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں ،پتنگ کا سائز 40 انچ سے زائد نہیں ہوگا،”گڈا” کی چوڑائی 30 انچ سے زیادہ نہیں ہو گی،ڈور کاٹن دھاگے سے تیار کی جائے گی،مانجا میں صرف گلو، سادہ رنگ، آٹا اور کمزور شیشہ استعمال کیا جا سکے گا،ڈور کے لیے صرف پنے کی اجازت ہوگی، چرخی کی تیاری ممنوع ہے،تیز مانجا، تندی، دھاتی تار اور کیمیکل مانجا مکمل طور پر ممنوع قرار دیے گئے ہیں،جبکہ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن فارم "سی” اور "ڈی” پر کی جائے گی۔

  • بسنت سے قبل پنجاب حکومت کا نیا ضابطہ کار جاری

    بسنت سے قبل پنجاب حکومت کا نیا ضابطہ کار جاری

    لاہور:پنجاب میں بسنت کے تہوار سے قبل پتنگ اور ڈور بنانے والوں، فروخت کنندگان اور کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی باضابطہ رجسٹریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے پتنگ سازی، ڈور سازی اور ان کی خرید و فروخت کے لیے جامع ضابطہ کار تشکیل دے دیا ہے، جس کے تحت تمام افراد اور اداروں کے لیے مخصوص فارم لازمی قرار دیئے گئے ہیں، پتنگ یا ڈور بنانے، بیچنے یا خریدنے کے لیے فارم اے جمع کرانا ضروری ہوگا جبکہ تصدیق شدہ افراد کو سرکاری سرٹیفکیٹ فارم بی کے ساتھ جاری کیا جائے گا،جبکہ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کے لیے فارم سی اور فارم ڈی مقرر کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ان کی سرگرمیوں، ارکان اور انتظامی ڈھانچے کی مکمل تفصیل حاصل کی جائے گی۔

    محکمہ داخلہ حکام کے مطابق ڈوراور پتنگ کا سائز، میٹریل اورمعیارشیڈول ون کے مطابق مقررکیا جائے گا جبکہ غیر معیاری، کیمیکل یا دھاتی ڈور کی تیاری اورفروخت مکمل طورپرممنوع ہوگی، رجسٹرڈ ایسوسی ایشنز ضلعی انتظامیہ خصوصاً ڈپٹی کمشنرکی نگرانی میں بسنت کے انتظامات میں معاونت کریں گی تاکہ تہوارمحفوظ اورمنظم اندازمیں منایا جا سکے، ضابطہ کارکی خلاف ورزی پررجسٹریشن منسوخ کرنے کیساتھ ساتھ قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے،محفوظ بسنت کے لئے ضابطہ کار کے پہلے مرحلے کو مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ اگلے مراحل پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔

    چین:سرکاری ادارے کے سابق اعلیٰ عہدیدار کو رشوت لینے پر سزائےموت

    اوکاڑہ: ستھرا پنجاب مہم کے تحت صفائی انتظامات کی چیکنگ، اسسٹنٹ کمشنر کا متعدد علاقوں کا دورہ

    سیالکوٹ: وزیر اعلیٰ اعزازیہ پروگرام کیلئے 2500 آئمہ کرام کی رجسٹریشن مکمل، امن کمیٹی اجلاس میں اہم فیصلے