Baaghi TV

Tag: بشار الاسد

  • بشارالاسد مشکل میں،اقتدار جانے کے بعد بیوی بھی جانے کو تیار

    بشارالاسد مشکل میں،اقتدار جانے کے بعد بیوی بھی جانے کو تیار

    شام کے معزول صدر بشار الاسد کی اہلیہ، برطانوی نژاد اسماء الاسد نے روس کی عدالت میں طلاق کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔

    ترک اور عرب میڈیا کے مطابق اسماء الاسد اس وقت ماسکو میں خوش نہیں ہیں اور وہ لندن واپس جانا چاہتی ہیں۔ واضح رہے کہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد بشار الاسد اپنے خاندان کے ہمراہ روس فرار ہو گئے تھے، جہاں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں سیاسی پناہ دی تھی۔اسماء الاسد نے روس کی عدالت میں طلاق کی درخواست کے ساتھ ساتھ ماسکو چھوڑنے کی خصوصی اجازت کی درخواست بھی دائر کی ہے۔ ان کی درخواست پر روسی حکام غور کر رہے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اسماء کے پاس برطانیہ اور شام کی دوہری شہریت ہے، اور وہ لندن میں شامی والدین کے یہاں پیدا ہوئیں۔ وہ 2000 میں شام گئی اور اسی سال 25 سال کی عمر میں بشار الاسد سے شادی کی تھی۔

    اگرچہ روس نے بشار الاسد کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول کر لی ہے، لیکن وہ اب بھی سخت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بشار الاسد کو ماسکو چھوڑنے یا کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ روسی حکام نے بشار الاسد کی جائیداد اور رقم بھی ضبط کر لی ہے، جس میں 270 کلو سونا، 2 بلین ڈالر اور ماسکو میں 18 اپارٹمنٹس شامل ہیں۔سعودی اور ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشار الاسد کے بھائی مہر الاسد کو روس میں سیاسی پناہ نہیں دی گئی ہے اور ان کی درخواست کا ابھی تک جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مہر الاسد اور اس کا خاندان اس وقت روس میں نظر بند ہیں۔

    یہ پیش رفت اس بات کا غماز ہے کہ بشار الاسد اور ان کے خاندان کے لیے صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے۔ روس میں سیاسی پناہ کی درخواستیں اور ان کے ساتھ جڑے مسائل عالمی سطح پر اس بات کا اشارہ ہیں کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت اور ان کے خاندان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسماء الاسد کی طرف سے طلاق کی درخواست نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کی نیت رکھتی ہیں، جس سے مزید سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

    اسعد الشیبانی شام کے عبوری وزیر خارجہ منتخب

    امریکا نے شامی باغی رہنما کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا

    13 سال بعد گھر آیا تو والدہ سجدے میں تھیں،شامی نوجوان کی کہانی

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

  • بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    شام کے سابق صدر بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد ایران کی مشرق وسطیٰ میں پوزیشن مزید کمزور ہو گئی ہے، اور اسرائیل اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی اہم اور حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں بشارالاسد کے شام سے فرار کی کہانی اور اس کے بعد اسرائیل کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشارالاسد نے اپنے ملک چھوڑنے سے قبل اپنے معاونین، قریبی رشتہ داروں اور فوجی حکام کو بھی اپنی اصل صورتحال سے لاعلم رکھا۔ حتیٰ کہ اپنے چھوٹے بھائی ماہر الاسد اور فوجی کمانڈروں کو بھی ان کی روانگی کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔ایک اہم رپورٹ کے مطابق، بشارالاسد نے ملک چھوڑنے سے کچھ گھنٹے پہلے اپنے فوجی افسران سے ملاقات کی اور روس سے فوجی مدد آنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی دوران، بشارالاسد نے اپنے دفتر کے منیجر کو بتایا کہ وہ اپنے گھر جا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہو گئے، جہاں سے وہ روسی ایئر بیس پہنچے اور وہاں سے ماسکو روانہ ہو گئے۔

    شام کے حکمران بشار الاسد کی اپنے ملک سے فرار کی تفصیلات اب منظر عام پر آچکی ہیں، جس کے مطابق ان کا یہ فرار روسی حمایت سے عمل میں آیا اور اس کی منصوبہ بندی مکمل طور پر خفیہ رکھی گئی تھی، یہاں تک کہ ان کے قریبی معاونین اور اہل خانہ بھی اس سے لاعلم تھے۔جب باغی فوجیں دمشق کے قریب پہنچنا شروع ہوئیں اور اس بات کا امکان بڑھا کہ بشار الاسد کا اقتدار ختم ہونے والا ہے، تو ماسکو نے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں شام سے باہر نکالا جا سکے۔اس منصوبے کے بارے میں کسی کو بھی اطلاع نہیں دی گئی، اور 8 دسمبر کی صبح جلدی بشار الاسد نے دمشق کے ایئرپورٹ سے اپنے نجی طیارے میں سوار ہو کر سفر شروع کیا۔ طیارہ سمندر کی سمت میں روانہ ہوا اور پھر اچانک غائب ہوگیا، امکان ہے کہ طیارے کے پائلٹس نے فلائٹ ٹریکنگ سسٹم کو بند کر دیا تھا تاکہ ان کی پوزیشن کا پتہ نہ چل سکے۔یہ طیارہ شام کے شہر حمص کے اوپر ایک یو ٹرن لینے کے بعد غائب ہوگیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طیارہ روسی فضائی اڈے "حمیمیم” کی طرف جا رہا تھا، جو شمال مشرقی شام کے شہر لاذقیہ کے قریب واقع ہے۔یہ نجی طیارہ بعد ازاں حمیمیم ایئر بیس پر پہنچا، جہاں بشار الاسد کو روسی فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا اور ماسکو کے لیے پرواز کی گئی۔

    اسد کا فوری خاندان، بشمول ان کی برطانوی نژاد بیوی اسماء اور تین بالغ بچے، پہلے ہی ماسکو پہنچ چکے تھے، جہاں انہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے پناہ دی گئی تھی۔اس کے فوراً بعد، اسلامی گروہ "حیات تحریر الشام” کی قیادت میں باغیوں نے دمشق پر قبضہ کر لیا اور اسد کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بشار الاسد اور ان کے خاندان کا 50 سالہ حکومتی دور اور 24 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا، جس نے شام میں جاری خونریز 13 سالہ خانہ جنگی کو بھی ایک نیا موڑ دیا۔باغیوں نے اسد کے محلوں اور ذاتی گھروں پر دھاوا بول دیا، اور لوٹ مار کے دوران ان کے ذاتی سامان اور عیاشی کی زندگی کی تصاویر سامنے آئیں۔ ایک ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ اسد کے گھر میں پکایا ہوا کھانا چولہے پر رکھا تھا، جبکہ خاندانی فوٹو البمز اور دستاویزات بھی بکھری ہوئی تھیں۔

    سات دن بعد اسد نے اپنی خاموشی توڑی اور اپنے پریسیڈنشل ٹیلی گرام چینل پر ایک حیران کن بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے شام چھوڑنے کے اپنے آخری لمحات کی تفصیلات دی۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ 8 دسمبر کی صبح دمشق سے حمیمیم کی طرف روانہ ہوئے، لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ شام چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے کیونکہ روسی فضائی اڈہ ڈرون حملے کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں روس نے ان کی ایمرجنسی ایواکیوشن کا حکم دیا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے شام چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے انہیں اقتدار چھوڑنے یا پناہ گزینی کی تجویز دی۔ "میں دمشق میں اپنے فرادی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا تھا اور دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا”، اسد نے اپنے آپ کو ایک محب وطن رہنما اور خاندان کے فرد کے طور پر پیش کیا جو اپنے عوام کے ساتھ جنگ کے دوران موجود رہا، حالانکہ ان کی افواج، جو روس، حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ساتھ تھی، ہزاروں شہریوں کے قتل کی ذمہ دار تھیں۔

    ہفتہ کے روز، جب بشار الاسد ماسکو کے لیے روانہ ہو رہے تھے، انہوں نے دفاعی وزارت میں تقریباً 30 فوجی اور سیکیورٹی افسران سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ روسی فوجی مدد جلد پہنچنے والی ہے اور فورسز کو دباؤ کا سامنا کر کے لڑنے کی ہدایت دی۔ ایک افسر کے مطابق اس ملاقات کے دوران اسد نے اپنی فوجیوں کو ہمت دی تھی۔اسد کے دفتر کے اسٹاف کو بھی ان کے فرار کے منصوبے کی خبر نہیں تھی۔ اس کے ایک معاون نے بتایا کہ اسی رات اسد نے اپنے میڈیا مشیر بثینہ شعبان کو گھر آنے اور ان کے لیے خطاب لکھنے کو کہا، لیکن جب وہ پہنچیں تو وہاں کوئی نہیں تھا۔اسد کے آخری وزیر اعظم، محمد جلالی نے اس ہفتے سعودی ٹی وی "العربیہ” کو بتایا کہ انہوں نے 8 دسمبر کی رات اسد سے بات کی تھی، اور اسد نے ان سے کہا تھا: "کل ہم دیکھیں گے، کل، کل۔”جلالی کے مطابق، اسد کا آخری جملہ یہی تھا، اور جب انہوں نے اگلے دن صبح اسد کو دوبارہ کال کرنے کی کوشش کی، تو ان کا فون بند تھا۔

    بشارالاسد کے فرار کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کا اقتدار اب ختم ہو چکا تھا۔ شامی حکومت کے اہم عہدے داروں اور ایرانی حکام سے مل کر بشارالاسد نے اپنا بچاؤ کرنے کی کوشش کی، لیکن جب روس نے ان کی فوجی مداخلت کی درخواست کو نظرانداز کیا، تو وہ مجبور ہو گئے کہ ملک چھوڑ کر روس چلے جائیں۔اسرائیل کی فوج نے شام میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا اور اس نے شام کی اہم دفاعی تنصیبات کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ اسرائیل کی فضائیہ نے شام کے فضائی دفاع کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور اس کے بعد اسرائیلی فورسز نے شامی سرحد کے بفر زون کو پار کر لیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے اہم اسٹریجک پہاڑی "ماؤنٹ حرمن” کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔اسرائیل کی دفاعی افواج کا خیال ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے اور ایران کے پراکسیز کی کمزوری کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا موقع میسر آ چکا ہے۔ اسرائیل کی فضائیہ اس وقت ایران پر حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید مستحکم کر رہی ہے، اور اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا ہے۔

    بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کو سب سے بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ شام ایران کا اہم اتحادی تھا اور اس کی حکومت کے تحت ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کا اہم نیٹ ورک قائم تھا۔ ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں میں حزب اللہ، حماس اور یمن کے حوثی باغی شامل ہیں جو اسرائیل اور دیگر عرب ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج تھے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کو امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دیا ہے اور اس میں شام کے ہمسایہ ممالک خاص طور پر ترکی کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، ایران کی اس سازش میں کامیابی کے باوجود اسرائیل نے شام میں اپنی پوزیشن مضبوط کی اور ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کر دیں۔

    شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد باغیوں نے عبوری حکومت قائم کر لی ہے، جس کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، جو ماضی میں القاعدہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد، شام میں ایران کا اثر و رسوخ تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور اسرائیل نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔شام کے نئے حکومتی ڈھانچے کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، اور انہوں نے دمشق کی مسجد امیہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فتح خطے میں نئی تاریخ رقم کرے گی۔ شام میں اس وقت ایک نئی عبوری حکومت قائم ہو چکی ہے، اور اس کے ساتھ ہی شامی شہری بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد اب اپنے وطن واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، باغیوں کی کامیاب پیش قدمی کے بعد بے گھر شامی افراد اپنے گھروں کی طرف واپس آ رہے ہیں، اور اب تک لاکھوں افراد نے اپنے ملک واپس جانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد شام میں ایران کا اثر و رسوخ کم ہو چکا ہے، اور اس کا فائدہ اسرائیل نے بھرپور انداز میں اٹھایا ہے۔ اسرائیل نے شام میں اپنی فضائی برتری قائم کرتے ہوئے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید تیز کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، شام میں باغیوں کی حکومت کا قیام اور شامی مہاجرین کی واپسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ ابھر رہا ہے۔

  • بشارالاسد حکومت گرانے کےپیچھے ترکی کا ہاتھ ہے، ٹرمپ

    بشارالاسد حکومت گرانے کےپیچھے ترکی کا ہاتھ ہے، ٹرمپ

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے پیچھے ترکیہ کا ہاتھ ہے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ شام کے مستقبل کی کنجی اب انقرہ کے پاس ہے.ترکیہ شام کو چاہتا تھا اور اردوان کی ذہانت نے اسے کامیاب بھی کردیا، ترکیہ نے جانی نقصان کے بغیر شام کو فتح کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے والوں کا کنٹرول ترکیہ کے پاس ہے اور یہ ٹھیک ہے. نومنتخب امریکی صدرٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور ترکیہ کی تعریف کی، ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ بڑی فوجی قوت ہے لیکن شام میں جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، ترکیہ شام کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گا۔ واضح رہے کہ شام میں شار الاسد کا طویل اقتدار گزشتہ ہفتے اختتام پذیرہو گیا تھا جب سابق شامی صدر استعفی دینے کے بعد ملک سے فرار ہوکر روس میں چلے گئے.

    ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ ایک سال میں کرنے کی پابند ہوگی، ترامیم منظور

    دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

    سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

  • شام کے معزول صدر بشار الاسد کا ملک سے مفروری کے بعد پہلا بیان جاری

    شام کے معزول صدر بشار الاسد کا ملک سے مفروری کے بعد پہلا بیان جاری

    ماسکو: شام کے معزول صدر بشار الاسد نے گزشتہ ہفتے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ بیان جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : العربیہ کے مطابق بشار الاسدنے اپنے بیان میں شام سے کسی "منصوبہ بند”روانگی کی تردید کی ہے،شام کے سابق مفرور صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ماسکو نے ان کی شام سے انخلا کی درخواست کی تھی۔

    یہ بیان شامی صدارت کے ٹیلیگرام چینل پر پیر کو ماسکو سے جاری ہوا ہے جس میں بشار الاسد نے کہا کہ انہیں 8 دسمبر کی شام حمیمیم بیس سے اس وقت روس منتقل کیا گیا جب اس پر ڈرون حملے ہو رہے تھے، روس نے ان کے انخلا کی درخواست کی تھی ، جب دہشت گردی پورے شام میں پھیل گئی اور بالآخر ہفتہ، 7 دسمبر 2024 کی شام دمشق تک پہنچ گئی، تو صدر کے انجام اور موجودگی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔

    بشار الاسد نے کہا کہ یہ ایسے وقت میں ہوا جب جھوٹے بیانیے اور غلط معلومات کا سیلاب آیا ہوا تھا، جن کا مقصد بین الاقوامی دہشت گردی کو شام کی آزادی کی تحریک کے طور پر پیش کرنا تھا،شام سے میری روانگی نہ تو کسی منصوبہ بندی کے نتیجے میں تھی اور نہ ہی یہ لڑائی کے آخری لمحات میں ہوئی ماسکو نے 8 دسمبر، اتوار کی شام ہنگامی طور پر روس روانگی کی درخواست کی اس روز میں پہلے ہی لاذقیہ منتقل ہوچکا تھا،جب ایک ریاست دہشت گردی کا گڑھ بن جائے اور اس کے خلاف کچھ کرسکنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تو اس کے بعد کوئی بھی پوزیشن بے معنی ہوتی ہے۔

    بشار الاسد نے انکشاف کیا کہ وہ 8 دسمبر کو دمشق سے اس وقت روانہ ہو گئے تھے جب اپوزیشن فورسز نے دارالحکومت میں پیش قدمی کی ان کا روس منتقل ہونا اس وقت ممکن ہوا جب لاذقیہ میں روس کے زیرِ کنٹرول حمیمیم ایئر بیس پر ڈرون حملے ہوئے بشارالاسد نے بتایا کہ انہوں نے دمشق سے فرار کے بعد لاذقیہ سے جنگی کارروائیوں کی نگرانی کی، لیکن تسلیم کیا کہ تمام فوجی پوزیشنز ختم ہو چکی تھیں۔

    بشار الاسد نے کہا کہ جب بیس چھوڑنے کا کوئی قابل عمل ذریعہ باقی نہ رہا، تو ماسکو نے بیس کی کمانڈ سے 8 دسمبر، اتوار کی شام فوری انخلا کے انتظامات کرنے کی درخواست کی یہ واقعہ دمشق کے سقوط اور آخری فوجی پوزیشنز کے خاتمے کے ایک دن بعد پیش آیا، جس کے نتیجے میں ریاست کے باقی تمام ادارے مفلوج ہو گئے،ان واقعات کے دوران میں نے کبھی استعفیٰ دینے یا پناہ لینے کا نہیں سوچا، نہ ہی کسی فرد یا جماعت کی طرف سے ایسا کوئی مشورہ دیا گیا واحد راستہ یہی تھا کہ دہشت گرد حملے کے خلاف لڑائی جاری رکھی جائے۔

    شامی سابق مفرور صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ بشارالاسد انتہائی خاموشی کے ساتھ دمشق سے فرار ہوئے انہیں روس کی مدد حاصل تھی اور انہوں نے اپنی روانگی سے پہلے اپنے قریبی ساتھیوں اور رشتے داروں کو بھی اندھیرے میں رکھا وہ روس کے جہاز میں ماسکو کیلئے روانہ ہوئے ان کی روانگی کو خفیہ رکھنے کیلئے راستے میں طیارے کا ٹرانسپونڈر بھی بند کردیا گیا تھا تاکہ ان کا پتا نہ چلایا جاسکے۔

    واضح رہے کہ بشار الاسد اپنے والد کے بعد سن 2000 میں اقتدار میں آئے تھے، ان کے والد حافظ الاسد نے تقریباً تین دہائیوں تک شام پر آہنی ہاتھوں سے حکومت کی کبھی ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے بشارالاسد کا اقتدار 8 دسمبر کو اس وقت ختم ہو گیا جب ایک تیز رفتار حملے کی وجہ سے ان کی حکومت کو دھچکا پہنچا یہ حملہ حیات تحریر الشام نامی گروپ، جو پہلے القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کے نام سے جانا جاتا تھا، اور اس کے اتحادی دھڑوں کی قیادت میں کیا گیا۔

  • شام میں تعلیمی ادارے کھل گئے، طلبا کا جشن

    شام میں تعلیمی ادارے کھل گئے، طلبا کا جشن

    شام میں دمشق یونیورسٹی سمیت تمام تعلیمی ادارے کھل گئے، جامعہ دمشق کے طلبہ نے جشن مناتے ہوئے بشار الاسد کا بڑا مجسمہ سڑک پر گھسیٹا۔

    الجزیرہ کے مطابق شام کی عبوری حکومت کی جانب سے دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ اسکول اور یونیورسٹیاں بھی دوبارہ کھل گئی ہیں، جس کے بعد دمشق یونیورسٹی کے اندر تہوار کا ماحول دیکھا گیا، اور ہزاروں طلبہ نے جشن منایا۔سوشل میڈیا پر دمشق یونیورسٹی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں طلبہ کا ہجوم بشار الاسد کا ایک بہت بڑا مجسمہ گرا کر رسیوں سے باندھ کر سڑک پر گھسیٹ رہے ہیں، طلبہ نے مجسمے پر کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ دیگر نعرے لگاتے رہے۔طالب علم عمر نورالدین نے میڈیا کو بتایا ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیمپس ہر شعبے کے طلبہ سے بھرا ہوا ہے، یہ روشنی ہم 50 سال کی آمریت کے بعد محسوس کر رہے ہیں، ہم پورے کیمپس میں جشن منا رہے ہیں۔طالب علم نے کہا ’’ہم سب حکومت کے جانے کا خواب دیکھ رہے تھے، لیکن ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ اس طرح چند ہی دنوں میں گر جائے گی۔ میں ہمیشہ ملک چھوڑنے کا خواب دیکھتا تھا، لیکن اب میں سوچتا ہوں کہ مجھے اپنے ملک میں رہنا چاہیے اور اس کی تعمیر نو میں مدد کرنی چاہیے۔طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام سے باہر بہت سے شامی باشندے فوری طور پر وطن واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب شام اپنے پیروں پر کھڑا ہے۔ایک اور طالبہ فاطمہ سلیمان نے کہا ’’میں تعلیمی ادارے میں واپسی پر خوش ہوں، مثبت تبدیلی آئی ہے، اور میں بغیر کسی جانبداری اور اقربا پروری کے اپنے کام میں مشغول ہو سکتی ہوں، اور اپنی آواز بھی اٹھا سکتی ہوں۔‘‘

  • آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

    آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

    جرمنی میں شامی پناہ گزینوں کی خوشیاں اس وقت زائل ہو گئیں جب اتوار کو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے گرنے پر شامی پناہ گزینوں کے جشن کے بعد جرمن سیاستدانوں نے انہیں واپس اپنے وطن بھیجنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔

    اتوار کے دن، جب جرمنی کے مختلف شہروں میں شامی پناہ گزین جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکلے، تو جرمنی کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کی رہنما ایلس ویڈل نے اعلان کیا کہ جو لوگ "آزاد شام” کا جشن مناتے ہیں، انہیں اب یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے کہا، "ایسے افراد کو فوراً شام واپس جانا چاہیے۔”

    دوسری جانب، جرمن وزیر اور قدامت پسند سیاستدان ینس اسپان نے کہا کہ جو شامی واپس جانا چاہتے ہیں، انہیں جرمنی خصوصی پرواز فراہم کرے گا اور 1,000 یوروز (تقریباً 824 برطانوی پاؤنڈ) کا ابتدائی فنڈ بھی دیا جائے گا۔یہ خیالات صرف دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے نہیں بلکہ بائیں بازو کی سیاستدانوں نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

    شامی پناہ گزینوں کی تعداد اور ان کے جرمنی میں قیام کی قانونی حیثیت
    2015 میں، جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے شامی جنگ سے متاثر افراد کے لیے جرمنی کے دروازے کھول دیے تھے، جس کی وجہ سے ملک میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ مرکل کے اس فیصلے کو اس وقت سراہا گیا تھا، لیکن آج یہ پناہ گزینوں کے مستقبل کے حوالے سے تنازعے کا باعث بن چکا ہے۔ جرمنی میں اس وقت تقریباً 975,000 شامی پناہ گزین موجود ہیں، جو یورپ میں کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ ہیں۔

    اتوار کو شام میں ایک نیا موڑ آیا جب اسلام پسند گروپ "حیات تحریر الشام” نے دمشق پر قبضہ کر لیا، اور اس کے اگلے ہی دن شامی صدر بشار الاسد روس کی جانب فرار ہو گئے۔ اس تبدیلی کے بعد جرمنی اور دیگر یورپی ممالک نے شامی پناہ گزینوں کی پناہ گزینی کی درخواستوں پر فیصلہ روک دیا، اور اس صورتحال کے واضح ہونے تک ان کی درخواستوں پر مزید فیصلے نہیں کیے جائیں گے۔جرمنی کے وزیر داخلہ نینسی فیزر نے کہا کہ یہ فیصلہ صحیح ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس اتار چڑھاؤ کی حالت میں شامی پناہ گزینوں کی واپسی کے بارے میں قیاس آرائی کرنا "غیر سنجیدہ” ہوگا۔

    شامی پناہ گزینوں کے لیے ان تجویزوں نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ انیس مدامانی، جو 2015 میں جرمنی آئے تھے اور اب برلن میں مقیم ہیں، نے کہا، "میں اس خیال کو انتہائی برا سمجھتا ہوں۔ شام میں ابھی بھی حالات اتنے خطرناک ہیں جتنے پہلے تھے۔ برلن اب میرا دوسرا گھر بن چکا ہے، اور میں یہاں رہنا چاہوں گا۔”شامی پناہ گزینوں کی واپسی یا ان کے قیام کا معاملہ اب جرمنی میں ایک سنگین سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس پر مختلف جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل آ رہا ہے، اور ملک میں اگلے سال ہونے والے انتخابات کے پیش نظر یہ مسئلہ ایک بڑا انتخابی موضوع بن سکتا ہے۔

    شامی پناہ گزینوں کی جرمنی میں موجودگی اور ان کے مستقبل کے بارے میں مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے متضاد بیانات آ رہے ہیں۔ جرمنی کے کئی سیاستدان، خواہ وہ دائیں بازو سے ہوں یا بائیں بازو سے، یہ سمجھتے ہیں کہ اب شام میں حالات بدل چکے ہیں، اور شامی پناہ گزینوں کا جرمنی میں قیام غیر قانونی ہے۔ لیکن شامی پناہ گزینوں کے لیے ان تجاویز کو قبول کرنا آسان نہیں ہے، اور یہ معاملہ مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

    شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

  • روس میں الاسد کی نئی زندگی،ماسکو میں کتنی جائیدادیں خریدیں؟

    روس میں الاسد کی نئی زندگی،ماسکو میں کتنی جائیدادیں خریدیں؟

    ماسکو: شامی صدر اسد، ان کی برطانوی اہلیہ اور ان کے تین بالغ بچے اپنے شامی محلات کو چھوڑ گئے ہیں ولادیمیر پوتن کی طرف سے سیاسی پناہ ملنے کے بعد روس میں نئی ​​زندگی کا آغاز کریں گے۔

    باغی ٹی وی: شام کے دارالحکومت دمشق پر اپوزیشن فورسز کے قبضے سے قبل ہی سابق صدر بشار الاسد اپنے خاندان کے ساتھ روس فرار ہوگئے تھےاس منتقلی کے بعد شام پر الاسد خاندان کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا، بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے پر شامی عوام کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا، اب بشار الاسد برطانوی اہلیہ اور 3 بچوں کے ساتھ روس میں سیاسی پناہ لے کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔

    ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق لندن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کی بیٹی اسما الاسد نے صدر بشار الاسد سے 2000 میں شادی کی تھی، اس جوڑے کی 3 اولادیں ہیں، بشارالاسد کی اہلیہ نے ڈکٹیٹر شوہر کے دور حکومت میں عیش وعشرت بھری زندگی گزاری، اسماا لاسد نے اپنے شوہر کے دور حکومت میں گھریلو اشیاء اور کپڑوں پر لاکھوں ڈالر اڑائے
    syria
    امریکی محکمہ خارجہ کا تخمینہ ہے کہہ اس خاندان کی مجموعی دولت کی مالیت 2 بلین ڈالر ہے،جس میں ان کے بیشتر اکاؤنٹس، شیل کمپنیز اور آف شور ٹیکس ہیونز سمیت رئیل اسٹیٹ پورٹ فولیو شامل ہیں،اب امکان ہے کہ بشارالاسد اپنی روس منتقلی کے بعد عیش وعشر ت بھری زندگی گزارنے کیلئے ان اثاثوں کو استعمال کریں گے۔

    ڈیلی میل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بشار الاسد نے حال ہی میں 20 اپارٹمنٹس خریدے ہیں جن کی مالیت 30ملین پاؤنڈ سے زائد ہے،جو اس قبیلے کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر روس کی حیثیت کو واضح کرتی ہے-

    کریملن نے آج تصدیق کی ہے کہ اس خاندان کو پوٹن کے براہ راست حکم پر سیاسی پناہ دی گئی تھی ماسکو نے مزید تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا، صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے آج نامہ نگاروں کو بتایا: ‘ ہم اسد کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے، مسز اسد کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی اور دو بیٹوں کے ساتھ اپنے شوہر کے شام سے فرار ہونے سے کچھ دن پہلے ماسکو پہنچی تھیں۔

  • شام سے فرار ہونیوالے بشار الاسد طیارہ حادثے میں جاں بحق،عالمی میڈیا کا دعویٰ

    شام سے فرار ہونیوالے بشار الاسد طیارہ حادثے میں جاں بحق،عالمی میڈیا کا دعویٰ

    دمشق: عالمی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دمشق سے فرار ہونے کے لیے شامی صدر بشار الاسد جس طیارے پر سوار ہوئے وہ کہیں گر کر تباہ ہوگیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد کو لے جانیوالا IL-76 دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پہلے ٹیک آف کرنے کے بعد یا تو گر کر تباہ ہو گیا ہے یا حمص کے مغرب میں ہنگامی لینڈنگ کر چکا ہے جس کے بعد سوار افراد کی حفاظت کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے۔

    دنیا کی مختلف پروازوں کو ٹریک کرنے والی فلائٹ ٹریڈر 24 ویب سائٹ کے مطابق شامی ایئرلائن کا ایک طیارہ دمشق ہوائی اڈے سے اسی وقت روانہ ہوا جب باغی فوجیوں نے شہر کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا تھا طیارہ شام کے ساحل کی طرف جا رہا تھاتاہم طیارے نے اچانک اپنا رخ بدلا اور چند منٹوں کے لیے دوسری سمت کی طرف جانے لگا بعد ازاں کچھ ہی دیر بعد یہ حمص شہر کے قریب ریڈار سے غائب ہو گیا۔
    location
    رپورٹ میں کہا گیا کہ پرواز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ طیارہ غائب ہونے سے قبل تیز رفتار کے ساتھ اونچائی سے زمین پر گرا یہ تاحال واضح نہیں ہے کہ طیارہ آخر گیا کہاں؟ لیکن شامی صدر کی پرواز کے راستے میں اچانک تبدیلی اور سگنل اچانک غائب ہونے سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یا تو انہیں حملے میں مار دیا گیا یا ان کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طیارہ شام کے شہر لطاکیہ میں ایک روسی ایئربیس کی طرف جا رہا تھا، جسے اسد کے لیے محفوظ مقام سمجھا جاتا ہے یہ ایئربیس روسی افواج کے زیر کنٹرول ہے اور شام کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں باغیوں نے قبضہ نہیں کیا تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    دوسری جانب ترک میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ طیارہ مبینہ طور پر گر کر تباہ ہوا، شاید اسے باغیوں نے مار گرایا، کیونکہ ان کے پاس طیارہ شکن نظام بہت زیادہ ہے، شامی فوج نے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا ایک ورژن یہ بھی ہے کہ ہوائی جہاز نے ٹرانسپونڈر کو بند کر دیا تاکہ اسے ٹریک نہ کیا جا سکے اس وقت طیارہ گرنے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی لیکن اس کی تردید بھی نہیں کی جا رہی۔