Baaghi TV

Tag: بشری صاحبہ

  • شاعرہ،ادیبہ اور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن

    شاعرہ،ادیبہ اور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن

    تجھ سے اک راز کی سرگوشی بھی کرنا چاہوں
    پھر وہی راز نگل جانے کو جی چاہتا ہے

    بشری رحمان بلبل پاکستان

    تاریخ پیدائش: 29 اگست
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامور پاکستانی ،ادیبہ،مصنفہ، شاعرہ ، ناول نگار،افسانہ نگار،ڈرامہ نویس،کالم نگاراور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن 29 اگست 1944میں بہاولپور پنجاب میں پیدا ہوئی انہوں نے ابتدائی تعلیم بہاولپور سے اور ایم اے صحافت کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی 1960 میں لاہور کے ایک معروف صنعتکار میاں عبدالرحمن سے شادی ہوئی ۔ بشریٰ رحمن کی 14 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ناول،افسانے، شاعری، ڈرامے اور کہانیاں شامل ہیں ۔ ان کو پی ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے لکھے ڈرامہ سیریل” لازوال” سے شہرت حاصل ہوئی ۔ وہ ایک اخبار میں "چادر چار دیواری اور چاندنی” کے عنوان سے کالم نگاری بھی کرتی تھیں سائرہ ہاشمی کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک ادبی تنظیم ” بزم ہم نفساں ” کا قیام عمل میں لایا جس کے زیر اہتمام وہ ہر ماہ اپنی رہائش گاہ پر ماہانہ مشاعرے کا انعقاد کرتی تھیں جس میں لاہور کے نامور شعراء اور شاعرات شریک ہو کر اپنا کلام پیش کرتے تھے-

    بشری صاحبہ نے ایک ادبی ماہنامہ ” وطن دوست ” کا بھی اجراء کیا تھا ۔ انہوں نے ادب و سیاست اور صحافت کے شعبے میں بڑا نام کمایا۔ وہ دو بار پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی رکن اور دوبارقومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اسمبلی میں ان کی خوش گفتاری اور بہترین فقروں اور الفاظ کے استعمال کی بنا پر انہیں ” بلبل پاکستان” کے خطاب سے نوازا گیا تھا ۔ 7 فروری 2022 کو 78 برس کی عمر میں کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ معروف شاعرہ نیلما ناہید درانی نے ان کی وفات پر بڑے دکھ اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے ان کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا” خوب صورت شخصیت، دلفریب مسکراہٹ، غزالی آنکھوں اور رس بھرے لہجے کی مالک بشری رحمان سے جو بھی ایک بار ملتا وہ اس کا گرویدہ ہو جاتا اور میں بھی ان کے عشق میں مبتلا ہو گئی”. ۔

    بشری صاحبہ کی شائع ہونے والی کتابوں میں ،بت شکن، چپ، پشیمان ، پیاسی،چارہ گری ،خوب صورت ، عشق عشق، قلم کہانیاں ، مولانا ابوالکلام آزاد،ایک مطالعہ، چاند سے نہ کھیلو، بہشت،لازوال،دانا رسوائی ، صندل میں سانسیں چلتی ہیں ،بے ساختہ، کس موڑ پر ملے ہو، الله میاں جی اور ، تیرے سنگ در کی تلاش ” شامل ہیں ان کی آخری تصنیف "سیرت طیبہ صلی الله علیہ وسلم” ہے ۔

    ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے سیرت طیبہ کی کتاب مکمل کر کے وفات پائی ہے امید ہے کہ یہ تصنیف ان کی عاقبت سنوارنے کا باعث بنے گی جبکہ انہوں نے آخری افسانہ "_گیسو” دسمبر 2021 میں لکھا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مرد کو باغی بنانے میں عورت کا کردار زیادہ ہے شادی شدہ خواتین اپنے شوہر کو بلا جواز شک کی نظر سے دیکھتی ہیں اور ان کی ٹوہ میں لگی رہتی ہیں جس کی وجہ سے شوہر تنگ آ کر اپنے گھر سے باہر غیر محرم خواتین سے رابطہ استوار کرنے پر طرف مائل ہو جاتے ہیں ۔ بشریٰ رحمن صاحبہ کو حکومت پاکستان کی جانب سے 2007 میں صدارتی ایوارڈ ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

    چند منتخب اشعار

    تیرے ہاتھوں میں پگھل جانے کو جی چاہتا ہے
    آتش شوق میں جل جانے کو جی چاہتا ہے

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا
    شہر سے دور نکل جانے کو چاہتا ہے

    ہم سے یہ رسم کی زنجیر بھی کب ٹوٹ سکی
    دل کی ضد پر بھی مچل جانے کو جی چاہتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے شہر کے ہر موڑ پر اک یاد بیٹھی ہے
    نظاروں کی یہ برساتیں ہمیں واپس عطا کر دو

    مرے سجدوں کی رعنائی محبت میں نہ کام آئی
    معطر باوضو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو

  • خیبر پختونخواہ  کی پہلی  اردو، پشتو، ہندکو اور انگریزی کی آرٹسٹ  بشری فرخ

    خیبر پختونخواہ کی پہلی اردو، پشتو، ہندکو اور انگریزی کی آرٹسٹ بشری فرخ

    یہ ہم ہیں جو کبھی بشری خود اپنے بھی نہیں تھے
    نہ جانے کس طرح خود کو تمہارا کر لیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خیبر پختونخواہ کی پہلی اردو، پشتو، ہندکو اور انگریزی کی آرٹسٹ

    ترقی پسند اور عوام دوست ادیبہ ، شاعرہ مصنفہ اور کمپیئر

    خیبر پختونخواہ کی پہلی صاحب کتاب نعت گو شاعرہ

    تحریر: آغا نیاز مگسی

    16فروری 1954ء میں پیداہونےوالی بشری صاحبہ کاشمار پاکستان کی صف اول کی ادیبہ، مصنفہ اورشاعرات میں ہوتا ہےوہ خیبر پختونخواہ کی پہلی اور واحد خاتون ہیں جنہیں بیک وقت ادیبہ،شاعرہ،مصنفہ، کمپیئر اور ریڈیو اور پی ٹی وی کے 2000 سے زائد پروگرام کرنے کا اعزاز حاصل ہے انہوں نے 100 سےزائد ایوارڈز حاصل کیے ہیں بشری صاحبہ نے 1979 میں پی ٹی وی کےسینیئرآفیسرفرخ سیر صاحب سے شادی کی جن سے انہیں 4 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

    شادی کے 20 سال بعد ان کے شوہر کی وفات ہو گئی جس کی وجہ سے بچیوں کی تعلیم اور تربیت کی تمام تر ذمہ داریاں ان کے کاندھوں پر آ گئیں جو کہ انہوں نے بہتر طور پر نبھائیں۔ بشری فرخ صاحبہ نے اپنی شاعری کا پہلا شعر اپنے خاوند مرحوم کی قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر لکھا جس کے بعد ان کی شاعری میں مسلسل روانی آتی گئی۔

    بشری صاحبہ ایک ترقی پسند سوچ کی مالک ہیں وہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں عوام کی مشکلات اور مسائل پر انہیں بہت تشویش لاحق رہتی ہے۔ جنوری 2017 میں انہوں نے خواتین لکھاریوں کے لیے ” کاروان حوا لٹریری فورم” کا قیام عمل میں لایا جس سے خواتین لکھاریوں اور شاعرات کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا جا رہا ہے۔

    تصانیف اور ایوارڈز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک قیامت ہے لمحہ موجود (اردوشاعری) ، ادھوری محبت کا پوراسفر (اردوشاعری) ، بہت گہری اداسی ہے (اردوشاعری) ، محبتاں دے مزاج وکھرے (ہندکوشاعری) ، جدائی بھی ضروری ہے (اردوشاعری) ، خمینی کے ایران میں (سفرنامہ) ، ورفعنالک ذکرک (نعتیہ مجموعہ) ، مجھے آواز مت دینا (اردوشاعری) ، توکجا من کجا (نعتیہ مجموعہ)

    بشریٰ فرخ کو ملنےوالے مختلف ایوارڈز کی تعداد ڈیڑھ سو سےزائد ہےچند قابل ذکر ایوارڈز یہ ہیں: سردارعبدالرب نشتر ایوارڈ (گولڈمیڈل) ، ہندکو ورلڈ کانفرنس ایوارڈ، بزم بہارادب سلور جوبلی ایوارڈ، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ایوارڈ، فروغ ادب ایوارڈ، روزن انٹرنیشنل لٹریری ایوارڈ، تانگ وسیب ایوارڈ، خیبرکالج آف کامرس شیلڈ، عظیم ویلفیر سوسائٹی ایوارڈ، پی ٹی وی ایوارڈ (بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ)، اگفاایوارڈ، فرنٹیئر کلچرکلب ایوارڈ، فرنٹیئرآرٹس کونسل ایوارڈ، میر آرٹس سوسائٹی ایوارڈ، پاکستان آرٹسٹ اکویلیٹی ایوارڈ

    بشری فرخ صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بدلاؤ کیسا شہر ستمگر میں آگیا
    وہ صبح خیز شام کے منظر میں آگیا
    ہر اک گزرنے والا کھلے در کو دیکھ کر
    دستک دیے بغیر مرے گھر میں آگیا
    دھندلا گیا تھا پھر مری یادوں کا آئینہ
    اک اشک تھا جو آنکھ کے پتھر میں آگیا
    احساسِ تشنگی کو مٹانے کے واسطے
    جانے کہاں سے قطرہ سمندر میں آگیا
    دل سے نکل چکا تھا مگر گھوم گھام کے
    پھر درد تیرا یاد کے ساگر میں آگیا
    خوش تھا وہ میرے درد کے بخیے ادھیڑ کر
    آنسو کہاں سے چشمِ گل تر میں آگیا
    خود اپنی ذات سے میرا رشتہ بحال تھا
    جو عکس آئینہ ہوا ، پتھر میں آگیا
    بجھنے کے میں قریب تھی بشریٰ کہ یک بیک
    اک آفتاب اتر کے میرے گھر میں آگیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ ہفت آسماں بحروبر چار دن کا
    یہ رشتے یہ ناطے یہ گھر چار دن کا
    گھنی چھاؤں والا شجر چار دن کا
    بنایا تھا پانی پہ گھر چار دن کا
    یہ دنیائے فانی تو ہے آنی جانی
    یہاں آدمی کا گزر چار دن کا
    محبت کبھی راس آئی نہ ہم کو
    کہ جو بھی ملا ہمسفر چار دن کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    موافق نہیں دل کی آب و ہوا بھی
    خوشی ہو کہ غم ،ہے اثر چار دن کا
    یہ شہر ہنرور وہی ہے جہاں پر
    ہنر ور کا دست ہنر چار دن کا
    خرد یا جنوں ہو محبت یا نفرت
    یہ سارا ہی ہے شور و شر چار دن کا
    یہ جبہ و دستار عزت و شہرت
    یہ جتنا بھی ہے کر و فر چار دن کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تمہارا غم خوشی کا استعارہ کر لیا ہے
    گزارا ہی تو کرنا تھا،گزاراکر لیا ہے
    سلگتے موسموں کو ابر پارہ کر لیا ہے
    برا بر ہجر کا ہر گوشوارہ کر لیا ہے
    بقدرِ ظرف بڑھا لی ہے استعداد دل نے
    کسی کی بے وفائی کو گوارا کر لیا ہے
    میں اپنے آپ میں یوں دفن ہوتی جا رہی ہوں
    کہ کچھ مجروح جذبوں کا نظارہ کر لیا ہے
    کسی بھی سانحے کو اب صدا دیتا نہیں یہ
    دلِ شعلہ فشاں کو یوں شرارہ کر لیا ہے
    نہ پوچھو ہم سے احوالِ دروں،کار جنوں میں
    منافع ہونے والا تھا،خسارہ کر لیا ہے
    جو کرب ذیست کی روداد چہرے پر ہے رقصاں
    بتاتی ہے، محبت نے کنارا کر لیا ہے
    تھی غیر آباد جانے کب سے خوابوں کی حویلی
    اِک امکاں کو مکیں اس میں دوبارہ کر لیا ہے
    یہ ہم ہیں ،جو کبھی بشریٰ خود اپنے بھی نہیں تھے
    نہ جانے کس طرح خود کو تمہارا کر لیا ہے