Baaghi TV

Tag: بغداد

  • بغداد، امریکی سفارتخانے میں خطرے کے سائرن بج گئے

    بغداد، امریکی سفارتخانے میں خطرے کے سائرن بج گئے

    بغداد، امریکی سفارتخانے میں خطرے کے سائرن بج گئے،ادھر اسی حوالے سے عراقی ذرائع نے بغداد میں  امریکی فوج سے متعلق فوجی چھاؤنی سے خطرے کے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دینے کی خبر دی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سائرن کی یہ آوازیں عراق کے دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں واقع امریکی فوجیوں کی چھاؤنی کے اندر سے آ رہی تھیں۔ ابھی اس کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

    کچھ دنوں پہلے عراقی میڈیا نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کے اندر سے خطرے کا سائرن بجنے اور سی ریم ایئرڈیفنس سسٹم کا تجربہ کئے جانے اور اس کے نتیجے میں سفارتخانے کے قریب کی بستیوں میں خوف و ہراس پھیل جانے کی رپورٹ دی تھی۔

    کراچی: شوہرنے بیوی کو دیگ میں ڈال کر کیوں پکایا؟ کہانی سامنے آ گئی،مقدمہ درج

    بغداد کے گرین زون میں واقع امریکی سفارتخانے میں اکثر و بیشتر سیکورٹی تجربات اور مشقیں انجام دی جاتی ہیں جس کے باعث دفاعی سسٹم اور خطرے کا سائرن فعال ہوجاتا ہے اور اس سفارتخانے کے قریب واقع رہائشی علاقوں کے باشندوں میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

    کورونا وبا: ملک بھر میں 236 نئے کیس رپورٹ

    اس صورتحال پر عراق کے مختلف سیاسی گروہوں کو سخت اعتراض ہے کیونکہ بغداد کے رہائشی علاقوں میں امریکی دفاعی سسٹم کے تجربے اور مشقیں اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین کے منافی شمار ہوتی ہیں۔ بغداد میں امریکی سفارت خانے کا رقبہ ایک سو ستر مربع کلومیٹر ہے اور یوں امریکی سفارت خانہ دنیا میں سب سے بڑا سفارتخانہ شمار ہوتا ہے اور اس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ بغداد میں امریکی سفارتخانہ ہزاروں امریکی جاسوسوں کا اڈہ ہے جہاں سے جاسوسی کی کارروائیاں انجام دی جاتی ہیں۔

    اس کے باوجود عراقی حکومت نے اب تک بغداد کے مرکز میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے فائرنگ، نشانے بازی اور دیگر سیکورٹی مشقوں خاص طور سے سی ریم ایئرڈیفنس سسٹم کے تجربات انجام دیئے جانے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں اس ملک کی پارلیمنٹ میں بل منظور ہونے کے بعد  امریکی فوج کے کارروانوں کو تسلسل کے ساتھ حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    عراقی عوام اور استقامتی گروہوں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ اگر ملک میں امریکی فوجی قابض رہے تو انہیں جارح اور غاصب فوجیوں کا مقابلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

  • بغداد میں قاسم سلیمانی کی برسی پرامریکی ڈرونز کا حملہ:دوڈرون مارگرائے گئے

    بغداد میں قاسم سلیمانی کی برسی پرامریکی ڈرونز کا حملہ:دوڈرون مارگرائے گئے

    بغداد :بغداد میں قاسم سلیمانی کی برسی پرامریکی ڈرونز کا حملہ:دوڈرون مارگرائے گئے،اطلاعات کے مطابق عراقی سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پیر کے روز دو مسلح ڈرونز کو مار گرایا گیا جب وہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے عراقی فوجی اڈے کے قریب پہنچے، انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور عراق میں اس کے اتحادیوں نے اعلیٰ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی دوسری برسی منائی۔

    عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ میجرجنرل قاسم سلیمانی اورشیعہ ملیشیا کے رہ نما ابومہدی المہندس کی ہلاکت کی دوسری برسی کے موقع پر سیکڑوں افراد نے ریلی نکالی ہے۔انھوں نے امریکا مخالف شدید نعرے بازی کی ہے۔

    مظاہرین نےعراق میں موجود باقی امریکی افواج کو نکالنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈزاٹھا رکھے تھے،جن پرلکھا تھا:’’ہم آپ کوآج کے بعد شہیدوں کی سرزمین پر نہیں رہنے دیں گے‘‘۔امریکی اور اسرائیلی جھنڈے زمین پر بکھرے پڑے تھے اور ریلی کے دوران میں لوگ انھیں پامال کررہے تھے۔

    ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے تحت القدس فورس کے سربراہ میجرجنرل قاسم سلیمانی تین جنوری 2020ء کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ان کے ساتھ الحشدالشعبی کے نائب سربراہ ابومہدی المہندس بھی مارے گئے تھے۔

    ان کے ڈرون حملے میں اہدافی قتل نے ایران اور امریکا کو ایک ہمہ گیر تنازع میں دھکیل دیا تھا اورعراق میں اشتعال پیدا کردیا تھا جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ نے کئی روز بعد ایک غیرپابند قرارداد منظور کی جس میں عراق سے تمام غیر ملکی فوجیوں کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    امریکا نے بعد میں عراق میں اپنا جنگی مشن ختم کردیا تھا اور مستقبل قریب میں قریباً ڈھائی ہزار فوجی تعینات رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔وہ عراقی افواج کی تربیت کے لیے مشاورتی کردار جاری رکھیں گے۔عراقی ملیشیاؤں کے بعض رہ نما تمام امریکی فوجیوں کے انخلا پراصرار کررہے ہیں۔

    ایران کے اتحادی کے سربراہ ہادی العامری نے کہا کہ ہم اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے امریکی فوج کے مکمل انخلا سے کم کچھ بھی قبول نہیں کریں گے۔