Baaghi TV

Tag: بل

  • جادو ٹونا کرنے اور اس کی تشہیر پر 6 ماہ سے 7 سال قید ، 10 لاکھ تک جرمانہ ہو گا

    جادو ٹونا کرنے اور اس کی تشہیر پر 6 ماہ سے 7 سال قید ، 10 لاکھ تک جرمانہ ہو گا

    سینیٹ نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا جس کے تحت جادو ٹونا کرنے یا اس کی تشہیر پر قید اور جرمانے کی سزا ہو گی۔

    ترمیم میں تعزیرات پاکستان میں نئی دفعہ 297 الف شامل کی گئی اور یہ بل جاود ، جادو ٹونا کی روک تھام سے متعلق ہےبل کے مطابق جو شخص جادو ٹونا یا اس کی تشہیر کرے اسے 6 ماہ سے 7 سال تک قید ہو گی اورجرم کے مرتکب شخص کو 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔

    اس کے علاوہ سینیٹ نے وفاقی نصاب، نصابی کتب سے متعلق بل بھی منظور کر لیا یہ بل سینیٹر عینی مری نے پیش کیا سینیٹر سرمد علی کا پیش کردہ مسلم فیملی لاز ترمیمی بل مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

    میئر کراچی کا شہید فائر فائٹر فرقان کے ورثا کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان

    گُل پلازہ سانحہ: حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا زندہ ثبوت

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

  • لاہور: آئندہ ہفتے کچرا اٹھانے کے بل بھیجے جائیں گے،ایل ڈبلیو ایم سی

    لاہور: آئندہ ہفتے کچرا اٹھانے کے بل بھیجے جائیں گے،ایل ڈبلیو ایم سی

    لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) کی جانب سے آئندہ ہفتے کچرا اٹھانے کے بل بھیجے جائیں گے۔

    ترجمان ایل ڈبلیو ایم سی کے مطابق ابتدائی طور پرپوش علاقوں اور کمرشل مارکیٹس سے فی مرلہ کے حساب سے بل وصول کیے جائیں گے، 9 ٹاؤنز میں مرحلہ وار سینی ٹیشن بل بھیجے جائیں گے، ریونیو اور آپریشنل فیلڈ سپروائزر کے ذریعے شہریوں کو بل بھیجیں جائیں گے، سینی ٹیشن بلوں کی پرنٹنگ جاری ہے، آئندہ ہفتے سے شہریوں کو بل ملنا شروع ہوجائیں گے، شہری بینک اور آن لائن کیش ایپلی کیشنز سے بل ادا کر سکیں گے

    لاہور میں 5 تا 40 مرلہ عمارتوں کو 300 سے 5000 روپے کا بل ملے گا، چھوٹی دکانوں سے اندسٹری تک کےکمرشل بل 500 سے 3 ہزار روپے تک ہوں گے،دیہات میں اس رقبے کی عمارت کا بل 200 سے 400 روپے ہو گاجبکہ دیہی علاقوں میں چھوٹی دکانوں سے انڈسٹری تک کےبل 300 سے 2ہزار روپے تک ہوں گے، سینی ٹیشن بل پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ کیے گئے ہیں۔

    ورلڈ بینک نے پنجاب میں تعلیمی منصوبے کیلئے 47.9 ملین ڈالر گرانٹ منظور کر لی

    ایل ڈبلیو ایم سی نے اس اقدام کو صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کی طرف ایک عملی قدم قرار دیا ہے، تاہم شہری حلقوں کی جانب سے اس اقدام پر ملے جلے ردعمل کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ 7 اگست کو حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں ماہانہ صفائی فیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، رہائشی علاقوں میں فیس 200، جب کہ کمرشل علاقوں میں زیادہ سے زیادہ 5 ہزار روپے تک رکھنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔

    ترجمان محکمہ بلدیات پنجاب نے بتایا تھا کہ شہری اور دیہی علاقوں میں مختلف فیس ہوگی، رہائشی علاقوں میں فیس کم جب کہ کمرشل علاقوں میں فیس زیادہ ہوگی،بلنگ کا سلسلہ ڈیجٹائز ہوگا مگر ابتدائی طور پر 2 ماہ کا بل پرنٹ کرکے دیا جائے گا،شہری آن لائن ایپلی کیشن کے ذریعے فیس ادا کر سکیں گے۔

    دیر بالا :پولیس اور سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن، 5 خوارج ہلاک، 8 پولیس اہلکار معمولی زخمی

  • سندھ اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل منظور

    سندھ اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل منظور

    کراچی:سندھ اسمبلی نے اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

    سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قادر شاہ کی صدارت میں ہوا جہاں صوبائی وزیرپارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے سندھ اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل 2025 پیش کر دیا،وزیرپارلیمانی امور ضیاالحسن لنجار کی جانب سے پیش کیا گیا مذکورہ بل ایوان میں بل کی مرحلہ وار منظوری دی گئی اور تمام اراکین اسمبلی نے بل کی متفقہ حمایت کی۔

    پارلیمانی وزیر ضیاء لنجار نے ایوان میں سندھ بورڈز آف انٹر میڈیٹ و سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیم) بل 2025 ایوان میں پیش کردیا اور کہا کہ یہ بل اس لیے لائیں ہیں کہ 1972کے آرڈیننس میں چیئرمین بورڈ کا عہدہ 20 یا 21 گریڈ کا ہے لیکن اب گریڈ 20 اور 21 کے افسران کو بھی چیئرمین بورڈ لگایا جاسکے گا، اس بل کا مقصد اچھے افسران کو بورڈز میں تعینات کرنا ہے، اس سے بورڈز کی کارکردگی بہتر ہوگی۔

    مودی نے عاصم منیر سے ملاقات سے بچنےکیلئے ٹرمپ کی دعوت قبول نہیں کی، بلوم برگ

    رکن اسمبلی صابر قائم خانی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بورڈز کی حالت بہتر ہونی چاہیے، جب بورڈز کے حوالے سے بات ہوئی تو ہم نے کمیٹی کے اجلاس میں تجاویز دی تھیں لیکن ہماری تجاویز کو اہمیت نہیں دی گئی، بورڈز کی خودمختاری برقرار رکھنی چاہیے اور اس بل کو کمیٹی میں بھیج کر دوبارہ اس پر بحث کرنی چاہیے۔

    ضیا لنجار نے کہا کہ حکومت کو یہ ترمیم لانا ہی اس لیے پڑی کہ اچھے افسران موجود ہیں، انہیں بورڈز میں تعینات کیا جاسکے گااور ایوان نے بل کثرت رائے سے منظور کرلیا، اس بل کے ذریعے ہائی کورٹ کسی ایک شخص کا نام بھیجتا ہے، جج لگانے کا تو ہمیں مشکل کا سامنا ہوتا ہے، ہمارے پاس زیادہ آپشن ہونے چاہئیں جبکہ ریٹائرمنٹ کی عمر 65 ہے لیکن یہاں 72 سال عمر کے جج بھی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج لگے ہوتے ہیں، جس سے ہمیں مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ضیا لنجار نے ایوان میں اینٹی ٹیرازم سندھ ترمیمی بل 2025 پیش کردیا۔

    بھارت روسی تیل کی درآمدات میں کمی کرنے پر آمادہ

  • عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر پابندیوں کابل منظور

    عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر پابندیوں کابل منظور

    امریکی ایوان نمائندگان نے عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر پابندیاں عائد کرنے کا ایک اہم بل منظور کر لیا ہے۔ اس بل کا مقصد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنے والے عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں کو نشانہ بنانا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس بل کو منظور کرنے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان نے یہ اقدام کیا ہے جس کا مقصد عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی کارروائیوں کو محدود کرنا اور اسرائیل کے خلاف جاری قانونی اقدامات کو روکنا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد عالمی انصاف کے عمل کو نقصان پہنچانا ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت کا کردار عالمی سطح پر انسانوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے اور ایسے فیصلے اس عدلیہ کی آزادانہ کارکردگی میں مداخلت ہیں۔

    واضح رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے خلاف غزہ میں کیے گئے قتل عام کے حوالے سے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ آئی سی سی نے ان دونوں رہنماؤں کو جنگی جرائم کے الزام میں مطلوب قرار دیا تھا، جس کے بعد امریکی ایوان نمائندگان نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بل منظور کیا ہے۔

    یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر بڑی تشویش کا باعث بن رہا ہے، اور کئی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بل کو عالمی قوانین اور انصاف کے خلاف سمجھ رہی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے نے عالمی سطح پر سوالات اٹھا دیے ہیں، خاص طور پر ان عدالتوں کی آزادانہ کارروائی پر اثر انداز ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بل سینیٹ میں کیسے پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد عالمی سطح پر اس کے اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عالمی فوجداری عدالت کی کارروائیوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، جس سے عالمی عدلیہ کے آزادانہ کام پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    عمران خان کو رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ،علیمہ خان

    لاس اینجلس میں آگ ،اداکارہ نورا فتیحی کیسے نکلیں؟

  • دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر اہم پیش رفت

    دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر اہم پیش رفت

    اسلام آباد: دینی مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ، صدر آصف علی زرداری نے سوسائٹیز رجسڑیشن ایکٹ 2024 پر دستخط کردیے۔

    باغی ٹی وی: صدرمملکت کے دستخطوں کے ساتھ ہی بل قانون بن گیا، قومی اسمبلی جلد سوسائٹیز رجسڑیشن ایکٹ گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرے گی، قانون کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کے مطابق ہوگی، یہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرلیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل وفاقی کابینہ نے مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے مدارس رجسٹریشن پر صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کی منظوری دی تھی،جمعے کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں حکومت اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان تنازعے کا باعث بننے والے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کے لیے آرڈیننس کی منظوری دی گئی۔

    عطاء اللہ تارڑ نے کے پی حکومت کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کردیا

    مدارس رجسٹریشن کے ترمیمی بل کو پارلیمنٹ نے اکتوبر میں منظور کیا تھا لیکن صدر مملکت آصف علی زرداری نے اعتراضات لگا کر اسے واپس بھیج دیا تھا،صدر آصف علی زرداری نے مدارس کی رجسٹریشن کے لیے پہلے سے موجود قوانین جیسے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ آرڈیننس 2001 اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹوری ٹرسٹ ایکٹ 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان قوانین کی موجودگی میں نئی قانون سازی غیر ضروری ہے۔

    کُرم:گرینڈ قبائلی جرگہ دو روز کیلئے ملتوی،معاہدے کےاہم نکات سامنے آ گئے

    صدر مملکت نے مزید کہا تھا کہ ’نئے بل میں مدرسوں کی تعلیم کو شامل کرنے سے 1860 کے ایکٹ کے بنیادی اصولوں کے ساتھ تضاد پیدا ہو گا اور اس قانون کے تحت مدرسوں کی رجسٹریشن فرقہ واریت کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہےایک ہی سوسائٹی میں متعدد مدرسوں کی تعمیر سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    بعدازاں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بتایا تھا کہ مدارس رجسٹریشن ایکٹ کا مسئلہ 26 ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں حل کر لیا گیا ہے۔

    باباوانگا کے ’اے آئی ورژن‘کی 2025 کے حوالے سے حیران کن پیشگوئی

    ان کے مطابق وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کے ساتھ مل کر مسودے کو حتمی شکل دی گئی ہے اور اب یہ معاملہ مکمل طور پر طے پا چکا ہے ترمیم کے تحت وزارت تعلیم یا سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے ذریعے مدارس کی رجسٹریشن ہو گی، جس سے مدارس کے تمام دھڑوں کے مطالبات پورے ہو جائیں گےپاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس حل کی تصدیق کی تھی اور امکان ظاہر کیا تھا کہ صدر مملکت جلد ہی آرڈیننس کی منظوری دے دیں گے، جس کے بعد باضابطہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔

    ملک میں آزاد اور ذمہ دار صحافت کا فروغ قومی ترقی اور خوشحالی کیلئےضروری ہے،بلاول

  • قومی اسمبلی میں مجوزہ آئینی ترامیم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

    قومی اسمبلی میں مجوزہ آئینی ترامیم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

    قومی اسمبلی میں مجوزہ آئینی ترامیم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں، مجوزہ آئینی ترمیمی بل کا مسودہ سامنے آگیا، جس میں مجموعی طور پر 54 تجاویز شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: اتوار کو قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کے بعد مختصر ترین کارروائی کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا جو آج دوبارہ ہوگا، قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل وفاقی کابینہ سے آئینی ترامیم کی منظوری لی جائے گی۔

    نجی خبررساں ادارے "آج نیوز” کے مطابق مجوزہ آئینی ترمیمی بل کا مسودہ سامنے آگیا، جس میں 54 تجاویز شامل ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں مجوزہ آئینی ترامیم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں،مجوزہ ترمیمی بل میں آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کی تجویز شامل ہے، آرٹیکل 63 اے میں پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے خلاف جانے پر ووٹ شمار کرنے کی ترمیم کی تجویز بھی ہے۔

    آرٹیکل 17 میں ترمیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کی تجویز اور آرٹیکل 175 اے کے تحت ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں بھی ترمیم کی تجویز شامل ہے، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے لیے نام قومی اسمبلی کی کمیٹی وزیراعظم کو دے گی۔

    دستاویز کے مطابق قومی اسمبلی کی کمیٹی3 سینئر ترین ججز میں سے چیف جسٹس کا انتخاب کرے گی، ججز کی تقرری کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی 8 ارکان پر مشتمل ہو گی، کمیٹی ارکان کا انتخاب اسپیکر قومی اسمبلی تمام پارلیمانی پارٹی کے تناسب سے کریں گے، کمیٹی چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے 7 روز قبل سفارشات وزیراعظم کو دے گی۔

    مجوزہ آئینی ترمیمی بل کے مسودے کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہو گی، سپریم کورٹ کا جج وفاقی آئینی عدالت میں 3 سال کے لیے جج تعینات ہو گا بل میں ہائیکورٹس سے سو موٹو لینے کا اختیار واپس لینے اور ہائیکورٹ ججز کی ایک ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ میں تبادلے کی تجویز بھی شامل ہے۔

    دوسری جانب حکومت قومی اسمبلی اور سینیٹ سے عدلیہ سے متعلق آئینی ترمیمی بل منظور کرانے جا رہی ہے، مجوزہ آئینی ترمیم میں 20 سے زائد شقیں شامل کی گئی ہیں۔

  • سینیٹ اجلاس،ججز تعداد بڑھانے سمیت 10 بل پیش،ایک مسترد

    سینیٹ اجلاس،ججز تعداد بڑھانے سمیت 10 بل پیش،ایک مسترد

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ میں 10 بل پیش جو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیئے گئے جبکہ ایک اپوزیشن کا بل مسترد کردیا گیا۔سینیٹ میں 3بل واپس لے لئے گئے جبکہ ایک بل مشترکہ اجلاس کو بھیج دیا گیا،پرامن اجتماع وامن عامہ بل 2024اور سپریم کورٹ ججز کی تعداد ججان بل پیش کرنے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا ۔تحریک انصاف نے بل کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہاکہ کل یہی بل ان کے گلے پڑیں گے۔ حیران کن طور پر پرامن اجتماع وامن عامہ بل کے محرکوں میں اے این پی کے سینیٹر عمر فاروق بھی شامل ہیں ۔رانا محمود الحسن نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبہ بنانے کا بل واپس لے لیا ۔ایمل ولی خان نے کہاکہ باپ کا بل باپ پیش کررہی ہے تو کسی کا باپ بھی روک نہیں سکتا،سینیٹر عبدالقادر نے کہاکہ باپ تو پھر باپ ہوتا ہے۔

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضاگیلانی کی زیر صدارت ہوا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 6 ارکان سینیٹ کو پی اے سی بنانے کی تحریک ایوان میں پیش کی جس کو منظور کرلیا گیا ،چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ پی اے سی میں چاروں صوبوں اور وفاق کی نمائندگی ہوگی۔ تحریک متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔سینیٹ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ممبران کی منظوری دے دی ،پی اے سی کے لیے سینیٹر کے ارکان کے ناموں کی منظوری دی گئی،شبلی فراز، بلال احمد، سلیم مانڈوی والا، افنان اللہ، فوزیہ ارشد اور محسن عزیز ممبران نامزد کئے گئے ہیں، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ تمام صوبوں کو سینیٹ کی جانب سے پی اے سی میں نامزدگی دی گئی ہے،

    اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہاکہ اسلام آباد میں کنٹینرز لگائے گئے ہیں جس کی وجہ سے ممبران کو آنے میں مشکلات ہیں ،چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ کنٹینر ہٹائیں اپوزیشن کو بہت پرابلم ہورہاہے ،چیئرمین سینیٹ نے ارکان کے ٹریفک میں پھنس جانے کی وجہ سے ایجنڈا موخر کیا ۔

    پیپلزپارٹی کے ممبر ضمیر حسین گھمرو نے سول ملازمین ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا جس کی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل کی مخالفت کردی اور کہاکہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے جس پر بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔سینیٹر شہادت اعوان نے پاکستان جنگلی نباتات وحیوانات ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا جو جانداروں پودے پاکستان کی ماحول کے لیے ٹھیک نہیں ہیں ان کی درآمد و بر آمد پر پابندی لگائے جائے گی۔ بل قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا،سینیٹر علی ظفر نے مسلم عائلی قوانین ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا ۔علی ظفر نے کہا کہ یہ قانون 11کروڑ خواتین کے لیے لایا گیا ہے ،وزیر قانون نے کہاکہ اس کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج دیا جائے اس کی رائے اس میں ضروری ہے۔ بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ،سینیٹر فوزیہ ارشد نے دستور ترمیمی بل 2024 دستور کے آرٹیکلز 62،63کی ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا ۔ وزیرقانون نے کہاکہ یہ بی اے پارلیمان کے رکن کے لیے لازمی ہے یہ مارشل لاءمیں ترمیم ہوئی ہے یہ ترمیم آئین کے خلاف ہے ۔ وزیر قانون نے بل کی مخالفت کردی۔قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے کہاکہ جھوٹ اور غلط چیز کے پاؤں نہیں ہوتے ہیں پارلیمان کے لیے کوئی معیار تو ہونی چاہیے ۔ بل کو سینیٹ نے کثرت رائے سے مسترد کردیا۔سینیٹر پلوشہ محمد نے تحفظ اراضی شاملات بل 2024 ایوان میں پیش کیا جس کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔ سینیٹر محسن عزیز نے سٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل 2023 ایوان میں پیش کیا جس کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔سینیٹر عرفان صدیقی نے پرامن اجتماع و امن عامہ بل 2024 ایوان میں پیش کیا ،بل کے محرک میں پیپلزپارٹی سلیم مانڈوی والا،باپ ثمینہ ممتاز زہری مسلم لیگ ن عرفان الحق صدیقی ایم کیو ایم فیصل سبزواری اور اپوزیشن کی جماعت اے این پی کے سینیٹر عمر فاروق ہیں۔وزیر قانون نے بل کی حمایت کردی،احتجاج کے لیے جگہ مختص ہوگی ۔

    قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ بل کے محرک کو بات کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔یہ بل لانے کے پیچھے سوچ غلط ہے اس طرح کی قانون سازی کرکے ہمارے آنکھوں میں دھول نہ ڈالیں ہمیں جلسے کی اجازت ملتی ہے اور ایک دن پہلے اجازت منسوخ کردیتے ہیں یہ قانون سازی کل ان کے گلے پڑے گی ۔ اگر اس ایوان میں رولنگ نہیں آتی تو یہ مباحثہ کا کلب بن جائے گا ۔ یہ بل جمہوریت کے لیے بھی بہتر نہیں ہے ۔ کیا اس قانون کو ہم چھاٹیں۔عرفان صدیقی نے کہاکہ آج اسلام آباد سیاسی جماعت کے احتجاج کی وجہ سے بند نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ کوئی اور ہے ۔احتجاج کے لیے ایک مہذب طریقہ ہونا چاہیے ۔ یہ بل ہمیں اور اپوزیشن کی مدد کرئے گا. ہمیں نے عوام کی زندگی کو بھی آسان کرنا ہوگا ۔اس بل کو فوری طور پر پاس کیا جائے ۔ علی ظفر نے کہاکہ یہ قانون تحریک انصاف کے جلسوں پر پابندی کے لیے لایا گیا ہے تاکہ تحریک انصاف جلسے اسلام آباد میں نہ کرسکیں یہ بدنیتی پر مبنی قانون ہے ۔ہمایوں مہمند نے کہا کہ اس بل کی وجہ تحریک انصاف ہے اس طرح کے بلوں کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ہم جانے و انجانے میں اپنی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں ۔کل کو کوئی اس بل کو اپنے مخالفین کے لیے مزید سخت کردے گا۔

    سینیٹر انوشہ رحمان نے کہاکہ ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان کتنی رہی کہ بل آج پاس ہوسکتا ہے کہ نہیں اور بعد میں وزیر قانون اور عرفان صدیقی کو رپورٹ کرتی رہیں۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اچھے قوانین بھی مس یوز ہوئے ہیں لوگوں کی زندگی آسان رکھنے کے لیے ہر ملک میں اس طرح کے قوانین نافذ ہیں ۔قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے بل کی مخالفت کردی۔ شبلی فراز نے کہاکہ اس ایوان کو عدالیہ پر حملے کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ۔چیئرمین سینیٹ نے بل قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا اور حکم دیا کہ دو دن میں رپورٹ جمع کی جائے۔شبلی فراز نے دو دن کا حکم دینے پر شدید احتجاج کیا کہ اس طرح آپ نے زیاتی کی ہے ۔

    سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے متعلق بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی گئی،سینیٹر عبدالقادر نے بل پیش کرنے کی تحریک پیش کردی اور کہا کہ آئینی کیسز بہت زیادہ سپریم کورٹ آرہے ہیں،جس پر لارجر بنچز بن جاتے ہیں جس کے باعث اربوں ٹیکسز والے مسائل دب جاتے ہیں،پہلے ہی ملک چلانے کیلئے ہزاروں ارب کا قرضہ لے رہے ہیں،ججز کی تعداد کم ہے آہستہ آہستہ آبادی بڑھ رہی ہے ،بل منظور کیا جائے سپریم کورٹ میں مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے،سینیٹر عبدالقادر نے سپریم کورٹ تعداد ججان ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا وزیر قانون نے بل کو قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کا کہا ۔عبدالقادر نے کہاکہ سپریم کورٹ میں ججوں کی کمی ہے کیس کو فکس کرنے کے لئےپہیے لگائے جاتے ہیں میں نے 6 ججوں کے اضافے کی ترمیمی دی ہے.وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ فوزیہ ارشد نے بل لایا تھا ججوں کو بڑھنے کے حوالے سے جو آج وہ واپس لے رہی ہیں ۔سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ سات ججز بڑھانے کا کہا جارہا ہے سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ سات نمبر کہاں سے آیا ہم دو ججز بڑھانے کے حق میں ہیں لیکن سات کے نہیں، عبدالقادر صاحب کی قوم سے محبت بہت ہے لیکن وہ استعمال ہورہے ہیں سات ججز کی تعداد بڑھانے کا مطلب جوڈیشل کو (بغاوت) ہے سینیٹر سیف اللہ آبڑو نے کہاکہ اچانک ججز کی تعداد کو بڑھانے کا کوئی بیک گراؤنڈ ہےپی ٹی آئی کو مخصوص سیٹیں ملنی تھی جس کیلئے یہ سب کیا جارہا ہےآپ پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تو عزت دیں اتنی تعداد بڑھا کر کونسی عدلیہ کو عزت دیں گے اگر اتنی جلدی ہے عدلیہ میں ججز بڑھانے کی تو بنیاد سے تعداد بڑھائیں پہلے مخصوص نشستوں والے فیصلے پر تو عملدرآمد کروا لیں برطانیہ سے سینیٹرز کو ٹوکنے کیلئے بندے ہائر کئے گئے ہیں یہ منڈے ابھی نئے آئے ہیں انکو سمجھ آجائے گی،ناصر بٹ نے کہاکہ چیرمین صاحب انکو کہیں غنڈا لفظ واپس لیں، ارکان نے سمجھیا کہ انہوں نے غنڈا نہیں کہا منڈا کہا ہے.چیئرمین سینیٹ نے سپریم کورٹ تعداد ججان ترمیمی بل 2024 متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔

    ایمل ولی خان نے کہاکہ عدالتی اصلاحات کے ساتھ یہ بل کیوں نہیں آیا جب باپ کا بل ہو گا اور بل باپ پیش کرے گا تو کسی کا باپ بھی اس بل کو روک نہیں سکے گا ۔سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات لے کر الگ آئینی عدالت بنانی چاہیے ۔ججوں کی تعداد سپریم کورٹ میں بڑھانے سے زیادہ نچلے عدلیہ میں اضافہ کیا جائے ۔ سات ججوں سے چیف صاحب کو پاور مل جائے گی ۔پوری قوم کو پتہ ہے سات ججز کی کس کو ضرورت ہے سپریم کورٹ صرف ان کیسوں کو اٹھاتی ہے جن سے ان کو کوریج ملےسپریم کورٹ عوامی مسائل کے کیسز کو ترجیح نہیں دیتی ججز کی تعداد بڑھائیں لیکن سپریم کورٹ میں نہیں لوئر کورٹس میں بڑھائیں۔ ہائیکورٹ میں بھی ججز کی تعداد کو بڑھائیں.

    سینیٹر پلوشہ نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا,سینیٹر محسن عزیز نے نشہ آور اشیاء ترمیمی بل 2023 ایوان میں پیش کیا ۔وزیر قانون نے کہاکہ اے این ایف حکام نے بل کی مخالفت کردی ہے۔ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔سینیٹر پلوشہ نے اسلام آباد تحفظ ماحول وانصرام جنگلی حیات بل 2024 سینیٹر رانا محمود الحسن نے دستور ترمیمی بل 2022 آرٹیکل 1،51،59،106،154،175الف،198اور 218کی ترمیم) اور سینیٹر فوزیہ نے سپریم کورٹ تعداد ججان ترمیمی بل 2023 واپس لیا۔سینیٹر ہدایت اللہ نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بل 2024 کو مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

    وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے ارشد ندیم کے لیے قرارداد ایوان میں پیش کی ۔ قرارداد کے محرکوں میں سید شبلی فراز محمد قاسم، دنیش کمار، فلک ناز سیف الله ابرو، پلوشہ محمد ، سلیم مانڈوی والا فوزیہ ارشد، منظور احمد ،شہادت اعوان، جان محمد، گردیپ سنگھ، عمر فاروق، سید فیصل علی سبزواری، عامر ولی الدین چشتی، پرویز رشید محسن عزیز ، دوست محمد خان، اعظم نذیر تارڑ محمد ہمایوں مہمند ، ناصر محمود، سید محسن رضا نقوی ، کامران مرتضی، سیف اللہ سرور خان نیازی ، ذیشان خانزاده، ایمل ولی خان اور ہدایت اللہ خان تھے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ آف پاکستان ارشد ندیم کو پیرس اولمپکس میں جیویلین تھرو میں طلائی تمغہ جیتنے کی شاندارکامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہے۔یه ایوان تسلیم کرتا ہے کہ ارشد ندیم کی کامیابی محنت و لگن سے منزل مقصود پانے کا ثبوت ہے جس نےپاکستان کے نوجوانوں میں نئی امید پیدا کی ہے۔یہ ایوان حکومت کو تاکید کرتا ہے کہ سکول ، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر نوجوانوں کو کھیلوں کے مختلف شعبوں میں مقابلے کے مواقع فراہم کرے۔یه ایوان ارشد ندیم سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، اور پیرس المپیکس میں طلائی تمغہ جیتنے پر خوشی کا اظہارکرتا ہے، اور ان کی صلاحیتوں پر بھر پور اعتماد کرتا ہے کہ وہ مستقبل میں مزید کامیابیاں سمیٹ کر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرے گا ، جونو جوانوں میں ولولہ پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔اللہ کرے کہ ارشد ندیم کی کامیابی قوم کے لئے بیداری کا باعث بنے اور ہم میں یہ احساس پیدا کرےکہ ہم کھیلوں کے فروغ کو اپنی ترجیح بنائیں اور نو جوان نسل کو عظیم کامیابیاں حاصل کرنے کے مواقع فراہم کریں ۔ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

    ایک نمبر کا بدمعاش اور تلنگا ڈاکٹر ریاض،دہشتگردوں سے تعلق،ایجنسیوں پر الزام

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

  • سینیٹ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    سینیٹ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    سینیٹ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کے بارے میں اپنے گزشتہ اجلاس میں کیو ای ایس سی او کے کرپٹ اہلکاروں کے خلاف کی گئی کارروائیوں کی تفصیلات کے بارے میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد پر غور کیا گیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ کیسکو کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ افسران نے ذاتی تعصب کی بنیادوں پر کچھ ملازمیں کو ٹھوس ثبوت کے بغیر نوکری سے فارغ کردیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک کیس میں ایک ایس ڈی او نے بجلی چوری کے خلاف مہم میں عدم دلچسپی پر ایک فرد کی سروس ختم کر دی تھی لیکن ایک اور کیس میں بدعنوانی پر صرف معمولی جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرپٹ افسران کو ہٹانے کے باوجود کیسکو میں بجلی چوری میں کمی نہیں آئی۔ کمیٹی کے چیئرمین نے پاور ڈویڑن کو ہدایت کی کہ کیسکو کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا مکمل جائزہ لے کر 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کی جائے،

    کمیٹی کو کم ترقی یافتہ علاقوں میں جاری منصوبوں پر بریفنگ بھی دی گئی۔ ایم ڈی نیسپاک، محمد زرغام اسحاق خان نے بتایا کہ نیسپاک خیبرپختونخوا کے سول اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کو خیبرپختونخوا کے 11 اضلاع کی 83 سڑکوں کے لیے تعمیراتی نگرانی کی خدمات فراہم کر رہا ہے، جس میں سابقہ فاٹا کے 7 اضلاع بھی شامل ہیں۔ ان سڑکوں کی لمبائی تقریباً 872.65 کلومیٹر ہے۔ کمیٹی نے نیسپاک کو ہدایت کی کہ وہ تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے نیسپاک کی جانب سے شروع کیے گئے منصوبوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرے جن کا مقصد آئی ڈی پیز کی بحالی ہے۔

    مزید برآں، کمیٹی نے ایف جی ای ایچ اے کی پارک روڈ ہاو سنگ سکیم میں نیسپاک کے کنسلٹنٹ کی جانب سے مبینہ بددیانتی کا معاملہ اٹھایا۔ ایم ڈی نیسپاک نے بتایا کہ نیسپاک نے الزامات کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی ہے اور تین افسران کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ چار افسران کو انکوائری مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔ سینیٹر شاہ زیب درانی نے سوال کیا کہ کیا وزارت ہاو سنگ نے معاملے کی کوئی انکوائری کی؟ ڈی جی ایف جی ای ایچ اے نے بتایا کہ وزارت نے انکوائری کی تھی اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کو قصوروار پایا اور بعد ازاں ملازمت سے برطرف کردیا گیا اور ان کا کیس بھی ایف آئی اے کو بھجوا دیا گیا۔ سینیٹر شاہ زیب درانی نے کہا کہ ایک شخص اکیلے ایک ایسا منصوبہ نہیں بنا سکتا اس میں دیگر حکام کی شمولیت ہو سکتی ہے۔کمیٹی نے وزارت ہاو سنگ کو ہدایت کی کہ وہ وزارت کی جانب سے کی گئی ان ہاو س انکوائری کی رپورٹ پیش کرے۔ مزید برآں کمیٹی نے سیپکو کی جانب سے غیر تسلی بخش بریفنگ کی فراہمی پر برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے سیپکو اور حیسکو کو ہدایت کی کہ وہ اگلے اجلاس میں علاقے میں غیر اعلانیہ مقامی شیڈنگ اور چوری پر قابو پانے کے لائحہ عمل کے ساتھ تفصیلی بریفنگ دیں۔

    عظمی بخاری کے شوہر سمیع اللہ خان بجلی چوری کرتے پکڑے گئے،لیسکو عملے پر تشدد

    بجلی کا بل بنا موت کا پیغام،10ہزارکے بل نے قیمتی جان لے لی

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

  • آج بھی میرا وہی سوال ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟نواز شریف

    آج بھی میرا وہی سوال ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے معلوم ہے مہنگائی اور بجلی کے بلوں کی وجہ سے عوام کس کرب سے گزر رہے ہیں،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ معلوم ہےعوام مہنگائی، بجلی کے زیادہ بلوں سے پریشان ہے، 21 اکتوبر مینارپاکستان جلسے میں بجلی بلوں پرکافی گفتگوکی تھی، میرے زمانے میں بجلی کا بل کتنا تھا اورآج کس قدربڑھ گیا ہے، ہمارے دورمیں بجلی کےبل بہت کم آتے تھے، ہمارے دورمیں آمدنی اخراجات سے زیادہ تھین لیگ کےپیچھلے دورمیں 10، 10 روپے کلو سبزیاں بھی ملتی تھیں،ہ 2013میں ہم نےمعیشت کوٹھیک کیا، ماضی کےاخباردیکھ لیں توکہا جاتا تھا پاکستان معاشی قوت بننے والا ہے، 2013 کی ن لیگ دور میں ہم ڈالر کو 95 روپے پر لیکر آئے تھے، ڈالر 104 روپے 4 سال تک رکھاجب تک مجھے نکال نہیں دیا گیا۔میں اقتدار میں رہتا تو ڈالر 104پر ہی رہتا، نہ بجلی مہنگی ہوتی نہ سبزیوں کے ریٹ بڑھتے،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج بھی میرا وہی سوال ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟ مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکال دیا، عوام مجھے بتائے کیا یہ وجہ سمجھ میں آتی ہے جس کی بنا پر ایک وزیر اعظم کو نکال دیا جائے،جنہوں نے مجھے نکالا انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں؟ مجھے کیوں نکالا، یہ دن دیکھنے کے لئے جو آج سب دیکھ رہے ہیں، اس لئے نکالا کہ غریبوں کا بجلی کا بل زیادہ آئے، 104 والا ڈالر 250 پر پہنچا دیا جائے، اسلئے نکالا کہ لوگ بچوں کو سکول نہیں بھیج پا رہے، مجھے پتہ لگے کیا یہ وجہ مناسب تھی وزیراعظم کو نکالنے کی، کوئی پوچھنے والا نہیں، جنہوں نے ملک کو اس حالت میں پہنچایا، غریبوں کا جینا مشکل کر دیا،مجھے یہ سب دیکھ کر دکھ ہوتا ہے، سمجھ نہیں آتی ان لوگوں کو کیا کہوں، یہ بہت بڑا جرم کیا ان لوگوں نے، ملک کے ساتھ زیادتی کی، مریم جب سے وزیراعلیٰ بنی، شہباز شریف وزیراعظم بنے میں متواتر کہہ رہا ہوں پاکستان سے مہنگائی کا طوفان ختم کریں،مریم نواز نے آتے ہی آٹے کی قیمت کم کی جس کی وجہ سے روٹی سستی ہوئی ہے۔ یہ دن رات تعلیم، صحت، صفائی، ترقی کیلئے دن رات محنت کرتی اور سوچتی ہیں اسکو کیسے بہتر کیا جائے عوام کی حالت بہتر کی جائے،دھوکے میں نا آنا، دکھ میں ہوں اور اپنا دکھ آپ سے کہتا بھی نہیں،2017 میں جو وزیر اعظم کو نکالا گیا تو عوام کو آواز اٹھانا چاہئے تھی،

    پاکستان کی تباہی و بربادی کا سامان کرنے والے قابل معافی نہیں، نواز شریف
    نواز شریف کا کہنا تھا کہ کوئی جواب دے گا عمران خان کس طرح پاور میں آئے؟ یہ سب باتیں سوچنی چاہئیں، میں اقتدار کا خواہشمند انسان نہیں، پلیز آپ سے درخواست کرتا ہوں ان لوگوں کے دھوکے میں نہ آئیں یہ ناقابل معافی لوگ ہیں، جو 1600 والے بل کو 18,00 اور پاکستان کی تباہی اور بربادی کرکے چلے گئے ہیں، آج میرا دل دکھتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کیا کیا گیا، کون تھے وہ لوگ، پاکستان کی تباہی و بربادی کا سامان کرنے والے قابل معافی نہیں، ان لوگوں کے دھوکے میں نہ آئیں،ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا پھر آئی ایم ایف کو کون لےکر آیا جیل میں بیٹھ کر باتیں کرنے والے آئی ایم ایف کو لے کر آئے آج بدترین مہنگائی کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جنہوں نے 2017 میں اس ملک کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی قوم کو چاہیے ان لوگوں کو پہچانیں ان کا حساب ہونا چاہیے۔

    اگست اور ستمبر کے بجلی بلوں میں ریلیف، نواز شریف نے اعلان کر دیا
    پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیراعظم،ن لیگ کے صدرنواز شریف نے اگست اور ستمبر کے دو مہینوں میں 500 یونٹ استعمال کرنے والے پنجاب کے صارفین کو 14 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کر دیا،نواز شریف کا کہنا تھا کہ سولر سکیم کیلئے 700 ارب رکھے جائیں گے،عوام کو فوری ریلیف دینے کی کوشش کی ہے اگست اور ستمبر میں پنجاب کے صارفین کو 14 روپے فی یونٹ کم قیمت پر دیا جائے گا،لوگوں کو ایک بہت بڑا ریلیف ملے گا،پنجاب حکومت نے اپنے اخراجات کو کم کیا ہے، ترقیاتی فنڈ زمیں کٹوتیاں کی ہیں،شاباش مریم، یہ بہت اچھی بات ہے ،جو ہو سکا انہوں نے کیا،انہوں نے آئندہ لوگوں کے لئے مزید ریلیف دینےکا بھی سوچا ہے،

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • لاہور ہائیکورٹ کی مداخلت پربجلی صارفین کےلئے سب سے اچھی خبر

    لاہور ہائیکورٹ کی مداخلت پربجلی صارفین کےلئے سب سے اچھی خبر

    لاہور ہائیکورٹ کی مداخلت پربجلی صارفین کےلئے سب سے اچھی خبر،نیپرا حکام نے پروریٹا بلوں کےخلاف اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر کاروائی کرتے ہوئے فیصلہ سنا دیا

    نیپرانے ڈیسکوز کو پروریٹا بل جاری کرنے سے روک دیا،نیپرا نے اصل یونٹس کے مطابق صارفین کوبجلی بل بھجوانے کا حکم دے دیا،نیپرا نے پروریٹا بنیادپر اپریل سے جون 2024 تک اصل بل کے علاوہ تمام یونٹس صارفین کو واپس کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے پروریٹاکی بنیاد پر جاری ہونے والے بل تاخیر سے جمع کرانے والوں کی اضافی رقم بھی واپس کرنے کاحکم دے دیا،  حکم دیا کہ لیٹ پیمنٹ وصولی کی رقم تیس یوم میں واپس کی جائے۔

    نیپرا نے ڈیسکوز کوواپس کردہ رقم بجلی بلوں میں دوبارہ وصول کرنے سے بھی روک دیا،نیپرا نے تمام ڈیسکوز کو خراب میٹر فوری تبدیل کرنے کا بھی حکم دے دیا،نیپرا نے تمام ڈیسکوز کو صارفین مینوئل کےمطابق بل بھجوانے کاحکم دے دیا،ڈیسکوز کودرست میٹر، ریڈنگ کرنے،میٹرکی تصاویربلوں پرواضع کرنے کا بھی حکم دے دیا گیا،نیپرانے ڈیسکوز کو بلوں کی بروقت درستگی کا بھی حکم دیا،نیپرا کا حکم نامہ سات صفحات پر مشتمل ہے،نیپرا نے حکمنامہ پرفوری عمل درآمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے تیس یوم میں رپورٹ طلب کر لی،حکم عدولی پر ذمہ دار افسروں کےخلاف قانون کےمطابق سخت کاروائی کی جائے گی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس رسال حسن سید نےپروریٹا بلوں کےخلاف اظہر صدیق کی درخواست نیپرا کو بھجوائی تھی,عدالت نے نیپراکو درخواست کا فیصلہ جلد کرنے کاحکم دیاتھا،اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پروریٹا بلنگ آئین کےتحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔پروریٹا بلنگ سے لاکھوں صارفین کو پروٹیکٹڈ کیٹگری سے زبردستی باہر نکالا گیا۔پروریٹابلنگ کی وجہ سے درجنوں شہریوں نے خودسوزی کی۔عدالت پروریٹا بنیادوں پرجاری بلنگ کےعمل کو کالعدم قرار دے۔

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

    عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل کا وزیرا عظم سے بجلی کے معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل