Baaghi TV

Tag: بلا

  • ایک اور سیاسی جماعت کا الیکشن کمیشن سے بلے کے نشان کا مطالبہ

    ایک اور سیاسی جماعت کا الیکشن کمیشن سے بلے کے نشان کا مطالبہ

    اسلام آباد: ٹیکنالوجی موومنٹ پاکستان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بلے کے انتخابی نشان کیلیے درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق بلے کے انتخابی نشان کے حصول کے لیے ایک اور رجسٹرڈ سیاسی جماعت ٹیکنالوجی موومنٹ پاکستان نے الیکشن کمیشن سے عام انتخابات کے لیے بلے کا انتخابی نشان مانگ لیا،اس حوالے سے ٹیکنالوجی موومنٹ پاکستان نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کردی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہےکہ عام انتخابات میں ہمارے امیدوار حصہ لینا چاہتے ہیں، ہماری جماعت کو عام انتخابات کے لیے انتخابی نشان بلا الاٹ کیا جائے،ٹیکنالوجی موومنٹ پاکستان کا ترجیحی فہرست میں دوسرا انتخابی نشان لیپ ٹاپ ہے۔

    اس سے قبل ایک اور سیاسی جماعت ہم عوام پاکستان پارٹی الیکشن کمیشن سے بلےکا انتخابی نشان دینے کا مطالبہ کرچکی ہے۔

    نادرا کی جانب سے تیارکردہ انتخابی فہرستوں میں سنگین خامیاں

    لکی مروت میں دہشتگردوں سے جھڑپ،2 جوان شہیدجبکہ 2 دہشتگرد ہلاک

    یوکرینی صدر کا مغربی ممالک سے شکوہ

  • الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو بلے کا نشان واپس کرنے کا حکم چیلنج کرنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو بلے کا نشان واپس کرنے کا حکم چیلنج کرنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو بلے کا نشان واپس کرنے کا حکم چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات سےمتعلق فیصلہ معطل کرنےکامعاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ختم ہو گیا، الیکشن کمیشن پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کرے گا ،الیکشن کمیشن پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پر حکم امتناع ختم کرنے کی استدعا کرے گا

    عمران خان کے وکیل انتظار حسین نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیٹیشن دائر کرنا ہی آرٹیکل 218 کی صریحاً خلاف ورزی ہے ، الیکشن کمیشن ہر روز عمران خان سے اپنے بغض کو ثابت کرتا ہے اور بقول عمران خان تحریک انصاف پر سپیشل مہربانی ہے ، الیکشن کمیشن کیسے ایک سیاسی جماعت کے خلاف پارٹی بن سکتا ہے ؟؟؟

    دوسری جانب تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست جاری نہ کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے، تحریک انصاف نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست جاری کرنےکاحکم دیاجائے، پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ معطل کیا جاچکا ہے،لاہور ہائیکورٹ سے درخواست پر آج ہی سماعت کی استدعا کی گئی ہے

    الیکشن کمیشن ابھی تک تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر ترجیحی فہرست کا کوئی فیصلہ نہ کر سکا ،الیکشن کمیشن کو عدالت کے مصدقہ فیصلے کی کاپی کا انتظارہے،تحریک انصاف کی قومی، صوبائی اور اقلیتی نشستوں پر امیدواروں کی سکروٹنی کب کرنی ہے؟ ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا  امکان ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • "بلے” کا نشان،الیکشن کمیشن اپیل کرے گا یا نہیں؟ فیصلہ نہ ہو سکا

    "بلے” کا نشان،الیکشن کمیشن اپیل کرے گا یا نہیں؟ فیصلہ نہ ہو سکا

    پشاور ہائیکورٹ کی طرف سے تحریک انصاف کے انتخابی نشان بحالی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنی ہے یا نہیں الیکشن کمیشن فیصلہ نہ کرسکا. کل دوبارہ اجلاس بلالیا گیا ۔

    ذرائع کے مطابق بدھ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ایک طویل میٹنگ ہوئی جس میں پشاور ہائی کورٹ کے پی ٹی آئی کے انتخابی نشان دینے کے فیصلے کے بارے میں غور کیا گیا کمیشن نے اس سلسلے میں کل دوبارہ اہم میٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    الیکشن کمیشن ابھی تک تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر ترجیحی فہرست کا کوئی فیصلہ نہ کر سکا ،الیکشن کمیشن کو عدالت کے مصدقہ فیصلے کی کاپی کا انتظارہے،تحریک انصاف کی قومی، صوبائی اور اقلیتی نشستوں پر امیدواروں کی سکروٹنی کب کرنی ہے؟ ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا، الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن حکام کل حتمی فیصلہ کریں گے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا بھی امکان ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.
    رپورٹ،محمد اویس، اسلام آباد

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کا انتخابی نشان "بلا” بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہونے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم اور پارٹی نشان واپس لینے کے فیصلے کو عبوری معطل کردیا،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا،عدالت نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ ہونے تک الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل ہوگا،پشاور ہائی کورٹ نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ چھٹیوں کے ختم ہونے کے بعد پہلے ڈبل بینچ میں کیس سنا جائے۔

    وکیل تحریک انصاف بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 2 دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کو تسلیم کیا، الیکشن کے انعقاد میں کوئی بے ضابطگی کا نہیں کہا، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست جبکہ اس کے انعقاد کرنے والے پر اعتراض کیا، الیکشن کمیشن نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی سے انتخابی نشان لیا، اب ہم الیکشن میں بطور پارٹی حصہ نہیں لے سکتے،مخصوص نشستیں بھی سیاسی جماعت کو بغیر انتخابی نشان نہیں مل سکتیں، سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کردیا گیا، انتخابی نشان سیاسی پارٹی کی پہچان ہوتی ہے، اسکے بہت سنجیدہ ایشو ہوں گے،انتخابی نشان کے بغیر امیدوار میدان میں نہیں اُترسکتے، ریزرو سیٹ بھی اقلیتی امیدوار کو نہیں مل سکتی ،جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کیلیے جنرل سیکرٹری کے کمیشن بنانے پر اعتراض کیا؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو صحیح جبکہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کیجانب سے کمیشن کی تقرری پر اعتراض کیا ، علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کو سوالیہ نشان بنانے کا اختیار نہیں ،الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ،پولیٹکل پارٹیز ایکٹ اور الیکشن ایکٹ واضح ہے اور ان میں اختیارات کا تعین ہے ،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ میں نے فیصلہ نہیں پڑھا، کیا صرف یہی لکھا ہے کہ الیکشن کرانے والے کی تعیناتی غلط ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل الیکشن کمیشن نے یہی لکھا ہے، الیکشن کمیشن پارٹی میں تعیناتیوں پر سوال نہیں اٹھا سکتا، الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم نہیں کرسکتا، اگر الیکشن کمیشن کو یہ اختیارات دیئے گئے تو آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہوگی۔الیکشن کمیشن کے پاس کسی بھی سیاسی پارٹی کے عہدیدار کی تقرری ، انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں ، الیکشن کمیشن کے پاس کورٹ کی طرح اختیارات نہیں ہیں ، الیکشن کے حوالے سے معاملات سول کورٹ باقاعدہ ٹرائل کے بعد طے کرتا ہے، 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جنہوں نے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض نہیں کیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر سیکرٹری جنرل مستعفی ہوجائے تو کیا ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عہدے سنبھالا لیتا ہےاس وقت عمر ایوب تھے،جسٹس کامران حیات نے کہا کہ کیا اسد عمر نے استعفیٰ دیا اور وہ منظور ہوا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی بالکل ، جنوری میں اسد عمر گرفتار ہوئے اور جب واپس آئے تو استعفیٰ دیا، اسد عمر کے بعد عمر ایوب جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے،

    جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستگزار کون ہیں ؟بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواست عام شہریوں کے طور پر دی گئی ،کسی بھی سیاسی پارٹی کو صرف سپریم کورٹ نکال سکتی ہے الیکشن کمیشن کمیشن نہیں، جسٹس کامران حیات نے استفسار کیا کہ آپ کی پارٹی کے آئین و رولز میں انٹرا پارٹی انتخابات کا کیا طریقہ کار ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کا انتخاب خفیہ بیلٹ پر ہوگا، رجسٹرڈ ووٹرز ہی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں ، ، انٹرا پارٹی انتخابات رولز ہم نے بنائے ہیں ہم ہی اپ ڈیٹ کرینگے،الیکشن کمیشن ڈائریکشن نہیں دے سکتا، جسٹس کامران حیات نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ کہ رہی ہے کہ آئین کے مطابق الیکشن نہیں ہوا،آپ یہ کہنا جاتے ہیں کہ اگر الیکشن نہیں کروائیں گے تو پھر پارٹی جرمانہ ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ یہاں تو اس سے بڑا فیصلہ ہوا ہے اور پارٹی کو الیکشن سے ہی باہر نکال دیا،ایک طرف ہمیں کہا جاتا ہے کہ 20دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں دوسری جانب اعتراض کررہے ہیں ، انٹرا پارٹی کے خلاف 14بندوں نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ایک بھی پارٹی ممبر نہیں تھا، الیکشن کمیشن کو بتایا کہ درخواستگزار پی ٹی آئی ممبر شپ کو کوئی ثبوت دیں ، اگر انتخابی نشان نہیں ملا تو ہمیں اقلیتی اور خواتین کی مخصوص نشستیں نہیں ملے گی، 30دسمبر اسکروٹنی کا آخری دن ہے ہمیں نشان الاٹ کیا جائے،

    جسٹس کامران حیات نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آج نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ ڈویژنل بینچ کا کیس ہے،پی ٹی آئی کی آج ہی درخواست پر فیصلہ کرنے کی استدعا پشاور ہائیکورٹ نے مسترد کر دی،انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کچھ دیر کا وقفہ کر دیا گیا، بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے، عدالت نے کہا کہ سرکاری وکلاء کو وقفے کے بعد سنتے ہیں.

    دوبارہ سماعت ہوئی جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہاکہ آپ ادھر ادھر جاتے ہیں جو سوال کیا ہے اس پر آ جائیں،وکیل نے کہاکہ پارٹی کو نشان تب الاٹ ہوتا ہے جب وہ الیکشن کرائے اور سرٹیفکیٹ جمع کرائے،جسٹس کامران نے کہاکہ الیکشن شیڈول جاری ہو گیا ہے اب تو نشان نہیں روک سکتے،الیکشن شیڈول جاری ہو گیاہے نشان دینا ہوگا،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کوپشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، درخواست میں پی ٹی آئی کے وکلاء نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے استدعا کی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس پارٹی انتخابات کرانے کے طریقے پر فیصلے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے پارٹی ممبر ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان بلا بھی واپس لے لیا ہے،تحریکِ انصاف نے اپنی درخواست میں الیکشن اور انٹرا پارٹی انتخابات کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں کو بھی فریق بنایا ہے،عدالت سے سینئر ججز پر مشتمل بینچ بنانے اور درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے،

    پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ، بیرسٹر علی ظفر
    پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بحال کردیا ہے، عدالت نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ الیکشن کمیشن نے کس شق کے تحت فیصلہ کیا؟ یقین ہے ہر فیصلہ قانون کے مطابق ہوتا ہے، التجا کرتا ہوں کہ آئین و قانون پر یقین رکھیں،پشاور ہائی کورٹ نے ہمیشہ انصاف کا سر اونچا کیا ہے عدالت نے الیکشن کمیشن کے بلے چھیننے کے آرڈر کو معطل کردیا ہے اور کہا کہ بلے کا نشان واپس کیا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا تھا اور بلا ہی رہے گا،بانی پی ٹی آئی چیئرمین تھے اور رہیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں سپریم کورٹ بھی توہین عدالت کا کیس دائر کرنے جا رہے ہیں، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ الیکشن میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا، اس کے خلاف توہینِ عدالت کا مقدمہ ہو گا، پنجاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ پری پول ریگنگ ہو رہی ہے، امیدواروں سے کاغذاتِ نامزدگی تک چھینے گئے

    قبل ازیں تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا پی ٹی آئی کا نشان تھا اور رہے گا،پرویز خٹک کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے، بیٹ کا نشان صرف الیکشن کمیشن ہی آفر کر سکتا ہے،بیٹ کا نشان آفر کرنے کی ضرورت کیوں تھی؟ پرویز خٹک نے تو تحریک انصاف کے مقابلے میں اپنی پارٹی بنائی ہے، پرویز خٹک کے بیان سے ان کے اور الیکشن کمیشن کے تانے بانے ملتے ہیں،بانی پی ٹی آئی نے این اے 32 پشاور سے الیکشن کے لیے مجھے نامزد کیا تھا، اپنے حلقے لکی مروت سے بھی قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں، الیکشن کہاں سے لڑنا ہے یہ فیصلہ پارٹی کرے گی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • بلے کے نشان کی واپسی کیلیے پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

    بلے کے نشان کی واپسی کیلیے پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

    انتخابی نشان بلے کی واپسی کے لئے تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں کل درخواست دائر کرے گی.

    تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان معظم بٹ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی نشان واپس لینے کے خلاف کل پشاور ہائیکورٹ جائیں گے،کیس سے متعلق پٹیشن تیارکرلی ہے، کوشش ہوگی کہ پٹیشن کل ہی سماعت کے لیے مقرر ہو، پٹیشن میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم کرنے کی استدعاکی گئی ہے اور پٹیشن میں مؤقف ہےکہ الیکشن کمیشن نے غیر قانونی فیصلہ کیا ہے، غیر متعلقہ شخص کی درخواست پر انتخابی نشان واپس لینا غیرقانونی ہے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہ کرانے پر بلے کا نشان واپس لے لیا تھا،عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں ، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ان کو بلے کا نشان واپس مل جائے، بلے کا نشان واپس نہ ملنے کی صورت میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑے گا.ایسے میں سب امیدواروں کے انتخابی نشان مختلف ہوں گے.ہم عوام پاکستان پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے بلے کا نشان مانگ رکھا ہے ، وہیں ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بلے کی بجائے گھڑی کا انتخابی نشان دیا جائے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ یہ گھڑی چور ہیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

  • لیول پلینگ فیلڈ،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو یقین دہانی کروادی

    لیول پلینگ فیلڈ،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو یقین دہانی کروادی

    انتخابی عمل میں رکاوٹوں کے حوالے سے شکایات،الیکشن کمیشن کا صوبائی الیکشن کمشنر،آئی جی کو مراسلہ
    پی ٹی آئی کولیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کامعاملہ،الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنرز، چیف سیکرٹریز اور آئی جی سندھ کو مراسلے بھجوا دیئے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے بھجوائے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ انتخابی عمل میں رکاوٹوں کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی ہیں،الیکشن کمیشن نے شکایات کا سختی سے نوٹس لے لیا ،تمام شکایات کا قانون کے مطابق ازالہ کیا جائے ، میڈیا کے ذریعے کاغذات نامزدگی کے حصول اور جمع کرانے دشواریاں کی شکایات ملیں،امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھیننے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں،

    مراسلہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے بھیجا گیا ،الیکشن کمیشن کی جانب سے مراسلہ پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کے بعد جاری کئے گئے،الیکشن کمیشن کے مراسلے میں کہا گیا کہ شفاف الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے مراسلہ تمام آئی جیز کو بھی بھیجا گیا،چیف کمشنر اسلام آباد کو بھی مراسلہ ارسال کیا گیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ کی ہدایت پر پی ٹی آئی وفد کی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات ختم ہو گئی،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق تحریک انصاف کو لیول پلئینگ فیلڈ کی فراہمی،امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے متعلق مشکلات دور کرنے کی یقین دہانی کرا دی،

    ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمشنر سے ملاقات کی اور انہوں نے ہمیں تحمل سے سنا ہے اور یقین دہانی کروائی ہے کہ جن ریٹرننگ آفیسر نے آزاد اور غیر جانبدار انتخابات میں مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی ہے انکے خلاف ایکشن ہوگا۔امید کرتے ہیں چیف الیکشن کمشنر شفاف الیکشن کو یقینی بنائیں گے،ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن میں بلے کے انتخابی نشان کا پوچھا کہ ابھی تک فیصلہ کیوں نہیں آیا؟ الیکشن کمیشن نے کہا کہ رات بارہ سے پہلے فیصلہ جاری کردیا جائے گا، پی ٹی آئی کو بلے کا نشان نہ دینے کی تمام سازشیں ناکام ہوجائیں گی ،آج الیکشن کمیشن سے تحریک انصاف کو بلے کا نشان مل جائے گا،ہم امید کرتے ہیں کہ یہ جانبداری اور سہولت کاری چھوڑ دیں،ہمارے لوگوں کو خفیہ ہاتھ اغوا کررہے ہیں اتنا ظلم پہلے کبھی نہیں دیکھا لیکن خان صاحب کا جیل سے پیغام ہے میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے حقیقی آزادی کی جدوجہد کرتا رہوں گا،

    نیازاللہ نیازی کا کہنا تھا کہ ہماری جنگ کسی ادارے سے نہیں ہے ہماری جنگ صرف یہ ہے کہ الیکشن صاف اور شفاف ہونے چاہئیں

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

  • وزیراعظم نے اے پی سی بلا لی،پی ٹی آئی کو دعوت نہ دینے کا فیصلہ

    وزیراعظم نے اے پی سی بلا لی،پی ٹی آئی کو دعوت نہ دینے کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر کُل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) بلالی۔

    ذرائع کے مطابق کُل جماعتی کانفرنس پیر کی سہ پہر وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد کی جائے گی جس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور اتحادیوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے بلائی جانیوالی اے پی سی میں ملک میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق امور پر مشاورت ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق سیلاب کی صورتحال پربلائی گئی اے پی سی میں پی ٹی آئی کو دعوت نہیں دی گئی۔ یاد رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے عالمی لیڈروں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ سیلاب کی صورتحال میں پاکستان کی مدد کریں . وزیراعظم ملک کے سیلاب سے متاثر علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں اور حکومت سیلاب ذدگان کی بحالی کیلئے کوشاں ہے اور ایسی صورتحال میں بھی پی ٹی آئی کو ملک میں جلسے کرنے اور سیاست کرنے کی سوجی ہے، تاہم پی ٹی آئی کے رویہ کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اے پی سی میں مدعو نہیں کیا گیا.

    خیال رہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی ہوئی ہے اور اب تک 900 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔سیلابی ریلوں نے لاکھوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔پاکستان نے بھی عالمی برادری سے امداد کی اپیل کی ہے.

    اس سے قبل پاکستان میں بارشوں کے بعد سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں. ترک صدر رجب طیب اردوان ، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النیہان اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا ہے اور آفت کے باعث نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعظم کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا۔ شہباز شریف نے پاکستان میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال اور ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے لیے حکومتی کوششوں سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان جون 2022 کے وسط سے ریکارڈ بارشوں کے ساتھ مون سون کا غیر معمولی موسم برداشت کر رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں، ذریعہ معاش اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ بارش سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، حکومت متاثرہ علاقوں تک پہنچنے اور لوگوں کو ان کی نقل مکانی اور امداد کی ترسیل میں مدد کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے۔

    پاکستان نے "اقوام متحدہ کی فلیش اپیل” تیار کی ہے جو 30 اگست کو شروع کی جائے گی اور امید ہے عالمی برادری فلیش اپیل کی فنڈنگ پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے میں کردار ادا کرے گی۔وزیراعظم نے انسانی بنیادوں پر امداد پر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کیا۔

    دوطرفہ تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لیے ترکوں کی غیر متزلزل حمایت پر صدر اردوان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    ترک صدر نے شہباز شریف سے شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر نقصان پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دینگے۔

    ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا ، وزیر اعظم شہباز شریف کو ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے ٹیلی فون کیا۔ وزیر اعظم نے سیلاب کی صورتحال پر ایرانی صدر کی ہمدردی پر شکریہ ادا کیا۔

    شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان مون سون کے شدید موسم کو برداشت کر رہا ہے، بہت سے علاقوں کو 4-5 گنا اور اس سے بھی زیادہ شدید موسم آیا ہے، بڑے پیمانے پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے انسانی جانوں، ذریعہ معاش، مویشیوں، املاک اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔

    وزیراعظم نے زور دیتے ہوئ ےکہا کہ سڑکوں اور پلوں سمیت بنیادی ڈھانچے پر شدید اثرات سے انسانی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے، جو لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور امداد کی ترسیل دونوں میں رکاوٹ ہے۔

    اس سلسلے میں حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ”اقوام متحدہ کی فلیش اپیل” تیار کی ہے جو 30 اگست 2022 کو شروع کی جائے گی۔ امید ہے عالمی برادری فلیش اپیل کی فنڈنگ کی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا حصہ ڈالے گی۔

    ٹیلفونک رابطے کے دوران دوطرفہ تناظر میں وزیراعظم نے تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے ایران کی مسلسل حمایت کو بھی سراہا۔ صدر ابراہیم رئیسی نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام شعبوں میں امدادی امداد میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا اور مون سون کی غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سے سے ملک گیر تباہی کے پر افسوس کا اظہار کیا۔ یو اے ای کے صدر نے سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر ہلاکتیں، زخمی ہونے اور شدید نقصان کے بعد پاکستان کو فوری امداد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    صدر نے بے گھر افراد کے لیے تمام انسانی امدادی خدمات کی فراہمی کا بھی حکم دیا تاکہ وہ درپیش چیلنجوں پر قابو پا سکیں۔ متحدہ عرب امارات کی امداد میں خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ تقریباً 3,000 ٹن خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ٹن طبی اور دواسازی کا سامان بھی شامل ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی حفاظت اور ان کی خوراک، طبی اور رسد کی ضروریات کو یقینی بنانے کی کوششوں سے متعلق پاکستانی اداروں کو ہر قسم کی انسانی امداد بھی فراہم کریں گی۔