Baaghi TV

Tag: بلاول بھٹو

  • کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم پر یقین رکھتی ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں،بلاول بھٹو

    کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم پر یقین رکھتی ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں،بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم پر یقین رکھتی ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں-

    لاڑکانہ میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر مختصر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بتایا کہ کفایت شعاری اور توانائی بچت کے تحت تقریب کو مختصر رکھا گیا، جس میں صرف دو ڈویژن کی تنظمیں شامل ہیں انہوں نے تقریر کے آغاز پر ایران کیخلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای سمیت دیگر کی شہادت اور اسکول پر حملے میں معصوم طالبات کی شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

    بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، لیکن عوام جانتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں انہیں ریلیف دینے کے لیے کام کر رہی ہیں مشکل معاشی حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم پر یقین رکھتی ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں، ایران جنگ نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا اور اب خدشہ ہے کہ یہ جنگ پوری دنیا میں پھیل جائے گی کیونکہ اب اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں ہیں،جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، دعا ہے جلد جنگ ختم ہو اور امن قائم ہو، ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے ایران، فلسطین، لبنان اور دیگر ممالک پر حملہ کرنے والے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔

    انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی مستقبل میں بھی ملک کی ترقی اور دفاع میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔ قائدِ عوام نے ایٹمی بنیاد رکھ کر ملک کو عالمی طاقتوں کے شر سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا پاکستان کو ایٹمی تحفہ دینے پر ذوالفقار علی بھٹو کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گاذوالفقار علی بھٹو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم امہ کے عظیم ترین لیڈر تھے، لاہور میں او آئی سی کانفرنس کا انعقاد شہید بھٹو کی عالمی سفارتی بصیرت کا مظہر تھا۔

    انہوں نے مزید کہاکہ آج مسلم ممالک کے مابین اتحاد کے لیے عالمی سطح پر ذوالفقار بھٹو جیسی قیادت ناگزیر ہے وہ پاکستانی حکومت سمیت ان تمام قوتوں کے لیے دعاگو ہیں جو مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششیں کررہی ہیں قومی پالیسی کی تشکیل اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے باہمی اتحاد ناگزیر ہے، صدر مملکت اعلیٰ سطح کی مشاورت میں تمام صوبوں کے نمائندوں کی شرکت یقینی بنانے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ مشکل حالات میں عوامی ریلیف کیلیے وفاق کی طرح صوبائی حکومتیں بھی فنڈز کی کٹوتی کر کے حصہ ڈال رہی ہیں، سندھ حکومت نے کسان کارڈ کے ذریعے چھوٹے کسانوں کو مالی مدد کا پلان بنایا ہے اور یہ منصوبہ جلد شروع ہوجائے گا آج ملک میں تاریخی مہنگائی اور بحران ہے، جس سے عوام کو بچانے کیلیے صوبائی حکومت کچھ ریلیف فراہم کرے گی، ہم کسانوں اور موٹرسائیکل چلانے والے کو فائدہ دینا چاہتے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے چھوٹے کسانوں اور موٹرسائیکل مالکان پر زور دیا کہ وہ خود کو رجسٹرڈ کروائیں کیونکہ معلوم نہیں یہ صورت حال کب تک جاری رہے گی، اگر ایسے ہی بحران رہا تو ہوسکتا ہے وفاق اور صوبے مل کر عوام کی مدد کرنے کا نیا پلان تشکیل دیں جو موٹرسائیکل نام پر ہے اُسے ریلیف ملے گا، شناختی کارڈ نمبر اور نام پر موٹرسائیکل کروائیں، گاڑی نام کرنے والی ٹرانسفر فیس کو معاف کردیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ معاشی مشکلات میں فیصلہ کیا کہ صوبے میں جوبھی سرکاری یا پرائیوٹ پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات ہیں اور انہیں مالی سپورٹ دی جائے تاکہ کرایے میں اضافہ نہ ہو جبکہ وفاق کے ساتھ مل کر ڈیزل کی قیمت میں اضافے پر ٹرانسپورٹرز کو سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا تمام صوبے اپنے وسائل سے وفاق کے فنڈ میں حصہ ڈالیں گے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو سہولت دی جائے اور کرایے نہ بڑھیں ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ معاشی بحران کے لیے یہ اقدامات ناکافی ہیں کیونکہ عوام سخت مشکلات سے دوچار اور ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔

    پی پی چیئرمین نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں جتنے وسائل ہیں اُن کے مطابق اقدامات کریں گی تاکہ غریب کو ریلیف دیا جائے انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی حکومت کے پاس بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، جس سے چاروں صوبوں میں شفافیت کے ساتھ مالی مدد پہنچائی جارہی ہےعوام کی مدد کیلیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال کیا جائے اور بجٹ کو بڑھایا جائے، اگر اس کیلیے وفاقی حکومت منی بجٹ لاتی ہے تو اُس کی حمایت کریں گے۔

    بلاول نے مشکل حالات میں ساتھ دینے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان میں اتفاق رائے ہونا جبکہ سیاست سے گریز کرنا اچھی بات ہے، ہمیں ایسی صورت حال میں قومی مقصد کو ترجیح دینا چاہیے سہیل آفریدی بھی عوامی ریلیف کیلیے اقدامات کرر ہے ہیں، پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ بھی کررہے ہیں، ہم سب مل کر ان مشکلات کا سامنا کریں گے، پاکستان میں اتفاق ہوگا تو دنیا کی کوئی قوت ہمیں گراسکتی ہے اور نہ توڑ سکتی ہے، ہماری نسل اس امتحان کا مقابلہ کرے گی، انشاء اللہ جیت عوام اور امن کی ہوگی۔

  • کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم پر یقین رکھتی ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں،بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم پر یقین رکھتی ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں-

    لاڑکانہ میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر مختصر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بتایا کہ کفایت شعاری اور توانائی بچت کے تحت تقریب کو مختصر رکھا گیا، جس میں صرف دو ڈویژن کی تنظمیں شامل ہیں انہوں نے تقریر کے آغاز پر ایران کیخلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای سمیت دیگر کی شہادت اور اسکول پر حملے میں معصوم طالبات کی شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ کچھ قوتیں نفرت اور تقسیم پر یقین رکھتی ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں، ایران جنگ نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا اور اب خدشہ ہے کہ یہ جنگ پوری دنیا میں پھیل جائے گی کیونکہ اب اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں ہیں،جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، دعا ہے جلد جنگ ختم ہو اور امن قائم ہو، ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے ایران، فلسطین، لبنان اور دیگر ممالک پر حملہ کرنے والے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ مشکل حالات میں عوامی ریلیف کیلیے وفاق کی طرح صوبائی حکومتیں بھی فنڈز کی کٹوتی کر کے حصہ ڈال رہی ہیں، سندھ حکومت نے کسان کارڈ کے ذریعے چھوٹے کسانوں کو مالی مدد کا پلان بنایا ہے اور یہ منصوبہ جلد شروع ہوجائے گا آج ملک میں تاریخی مہنگائی اور بحران ہے، جس سے عوام کو بچانے کیلیے صوبائی حکومت کچھ ریلیف فراہم کرے گی، ہم کسانوں اور موٹرسائیکل چلانے والے کو فائدہ دینا چاہتے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے چھوٹے کسانوں اور موٹرسائیکل مالکان پر زور دیا کہ وہ خود کو رجسٹرڈ کروائیں کیونکہ معلوم نہیں یہ صورت حال کب تک جاری رہے گی، اگر ایسے ہی بحران رہا تو ہوسکتا ہے وفاق اور صوبے مل کر عوام کی مدد کرنے کا نیا پلان تشکیل دیں جو موٹرسائیکل نام پر ہے اُسے ریلیف ملے گا، شناختی کارڈ نمبر اور نام پر موٹرسائیکل کروائیں، گاڑی نام کرنے والی ٹرانسفر فیس کو معاف کردیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ معاشی مشکلات میں فیصلہ کیا کہ صوبے میں جوبھی سرکاری یا پرائیوٹ پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات ہیں اور انہیں مالی سپورٹ دی جائے تاکہ کرایے میں اضافہ نہ ہو جبکہ وفاق کے ساتھ مل کر ڈیزل کی قیمت میں اضافے پر ٹرانسپورٹرز کو سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا تمام صوبے اپنے وسائل سے وفاق کے فنڈ میں حصہ ڈالیں گے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو سہولت دی جائے اور کرایے نہ بڑھیں ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ معاشی بحران کے لیے یہ اقدامات ناکافی ہیں کیونکہ عوام سخت مشکلات سے دوچار اور ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔

    پی پی چیئرمین نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں جتنے وسائل ہیں اُن کے مطابق اقدامات کریں گی تاکہ غریب کو ریلیف دیا جائے انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی حکومت کے پاس بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، جس سے چاروں صوبوں میں شفافیت کے ساتھ مالی مدد پہنچائی جارہی ہےعوام کی مدد کیلیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال کیا جائے اور بجٹ کو بڑھایا جائے، اگر اس کیلیے وفاقی حکومت منی بجٹ لاتی ہے تو اُس کی حمایت کریں گے۔

    بلاول نے مشکل حالات میں ساتھ دینے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان میں اتفاق رائے ہونا جبکہ سیاست سے گریز کرنا اچھی بات ہے، ہمیں ایسی صورت حال میں قومی مقصد کو ترجیح دینا چاہیے سہیل آفریدی بھی عوامی ریلیف کیلیے اقدامات کرر ہے ہیں، پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ بھی کررہے ہیں، ہم سب مل کر ان مشکلات کا سامنا کریں گے، پاکستان میں اتفاق ہوگا تو دنیا کی کوئی قوت ہمیں گراسکتی ہے اور نہ توڑ سکتی ہے، ہماری نسل اس امتحان کا مقابلہ کرے گی، انشاء اللہ جیت عوام اور امن کی ہوگی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    : وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا –

    ٹیلیفونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا،اس موقعے پر وزیراعظم نے بلاول بھٹو زرداری کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ بلاول بھٹو نے بھی وزیراعظم کے لیے خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز دیگر سیاسی قائدین اور سروسز چیفس سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں عید کی مبارکباد پیش کرنے کے علاوہ مختلف امور پر تبادلہ خیال بھی کیا،وزیراعظم نے اسپیکرقومی اسمبلی ایازصادق ، گورنرپنجاب ،گورنرسندھ، گورنر خیبرپختونخوا اورگورنربلوچستان کو ٹیلیفون کیا اور عید کی مبارکباد دی،انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بھی ٹیلی فون کیا اور عید کی مبارکباد دی۔

    ایران کا بیلسٹک میزائل سے ڈیمونا میں حملے، عمارت تباہ، 20 اسرائیلی زخمی

    وزیراعظم نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ خالد مقبول صدیقی اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان سے ٹیلیفونک گفتگو کی اس کے علاوہ انہوں نے خالد مگسی، علیم خان اور چوہدری سالک حسین سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی، عیدالفطر کی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، وزیراعظم نے فیلڈ مارشل، ائیر چیف مارشل اور نیول چیف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور عید کی مبارکباد دی۔

    بھارتی وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم کی ترکمانستان کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، عیدالفطر کی مبارکباد

  • بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک،تجزیہ   شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک،تجزیہ شہزاد قریشی

    بلاول بھٹو زرداری: وراثت سے ریاستی وژن تک

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید پاکستان کی سیاست کے وہ نام ہیں جنہوں نے صرف اقتدار نہیں کیا بلکہ ایک سیاسی سوچ، ایک نظریہ اور ایک سمت دی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بجا طور پر عالمی سطح کا رہنما اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قومی خودمختاری، عوامی وقار اور خارجہ پالیسی میں خودداری کو ترجیح دی، جبکہ محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے مقابل جمہوریت کو ایک عالمی آواز دی آج بلاول بھٹو زرداری انہی دو فکری روایتوں کے وارث ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس وراثت کو مستقبل کے پاکستان کے لیے کس وژن میں ڈھالتے ہیں۔ پاکستان اس وقت معاشی کمزوری، ادارہ جاتی عدم توازن، سماجی ناانصافی، اور عوام کا نظام سے اعتماد اٹھ جانا ایسے مسائل ہیں جن کا حل وقتی نعروں سے ممکن نہیں۔ بلاول بھٹو کے لیے یہ موقع بھی ہے اور امتحان بھی کہ وہ خود کو صرف ایک جماعتی لیڈر نہیں بلکہ ریاستی سطح کے سیاستدان کے طور پر پیش کریں۔

    پیپلز پارٹی کا بنیادی نظریہ ہمیشہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک مضبوط سماجی معاہدے پر مبنی رہا ہے۔ آج اس معاہدے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے، جہاں ریاست شہری کو تعلیم، صحت اور انصاف فراہم کرے اور شہری ریاست پر اعتماد بحال کرے۔ بلاول بھٹو اگر اس سماجی معاہدے کو اپنی سیاست کی بنیاد بنا لیں تو وہ بھٹو ازم کو محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت بنا سکتے ہیں۔ سیاسی وژن کا تقاضا یہ بھی ہے کہ معیشت کو محض اعداد و شمار کے بجائے انسانی ترقی سے جوڑا جائے۔ روزگار پر مبنی معیشت، زرعی اصلاحات، مقامی صنعت کی سرپرستی اور کمزور طبقات کے لیے سماجی تحفظ—یہ وہ نکات ہیں جو بلاول بھٹو کو دیگر سیاستدانوں سے ممتاز کر سکتے ہیں۔ ایک واضح معاشی بیانیہ ہی عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔

    خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی بلاول بھٹو کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی خوددار اور فعال سفارت کاری کو جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائیں۔ عالمی طاقتوں سے برابری کی بنیاد پر بات چیت اور کشمیر و فلسطین جیسے اصولی مؤقف یہ سب ایک قومی لیڈر کے وژن کا حصہ ہوتے ہیں۔ آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا بلاول بھٹو زرداری سیاست کو صرف اقتدار کی جنگ سمجھتے ہیں یا ریاست کی تعمیر کا عمل؟ اگر وہ وژن، اصول اور عوامی وابستگی کو اپنا راستہ بناتے ہیں تو وہ صرف ایک بڑے نام کے وارث نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی سیاست کا ایک سنجیدہ حوالہ بن سکتے ہیں۔ قوم آج بھی ایک ایسے سیاسی وژن کی منتظر ہے جو ماضی کی عظمت سے سبق لے کر مستقبل کی سمت متعین کرے—اور یہ موقع بلاول بھٹو کے سامنے ہے۔

  • پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آ کر صحت کے شعبے کو ترجیح دی،بلاول بھٹو زرداری

    پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آ کر صحت کے شعبے کو ترجیح دی،بلاول بھٹو زرداری

    اسلام آباد:چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ علاج کی سہولت نہ ہونا کسی کے لیے موت کا پروانہ نہیں بننا چاہیے۔

    اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے 3 ادوارِ حکومت میں صحت کے شعبے میں نمایاں سرمایہ کاری کی گئی اور صحت کے بجٹ کو 2.9 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد تک لے جایا گیا،صوبے بھر میں مفت طبی سہولتیں اور جدید ہیلتھ انفراسٹرکچر قائم کیا گیا، جو نہ صرف مقامی شہریوں بلکہ بین الاقوامی معیار پر بھی پورا اترتا ہے-

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی کا سب سے بڑا اسپتال ہے، جو 18ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق سے صوبے کو منتقل ہوا ماضی میں صحت کے شعبے کو طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا، جس کے باعث ترقی اور سرمایہ کاری کا فقدان رہا، تاہم پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آ کر اس شعبے کو ترجیح دی اور عوام کو بہتر علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران عوامِ سندھ، کراچی کے شہریوں اور مخیر حضرات کے تعاون سے جے پی ایم سی کو مکمل طور پر جدید بنایا گیا صوبائی حکومت کی بھاری سرمایہ کاری کے نتیجے میں یہ ادارہ ملک کے نمایاں اسپتالوں میں شامل ہو چکا ہے اسپتال میں 550 بستروں پر مشتمل جدید سرجیکل کمپلیکس قائم کیا گیا، جبکہ 120 بستروں کا نفسیاتی وارڈ اور 110 بستروں پر مشتمل میڈیکل نیورولوجی وارڈ بھی شامل کیا گیا ہے اس کے علاوہ او پی ڈی میں جدید ترین طبی آلات فراہم کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ جے پی ایم سی میں کینسر کے علاج کے لیے جدید سائبر نائف ٹیکنالوجی دستیاب ہے، جو دنیا کے مہنگے ترین علاجوں میں شمار ہوتی ہے یہ سہولت مریض ایڈ فاؤنڈیشن اور دیگر فلاحی اداروں کے تعاون سے قائم کی گئی اور کراچی میں پہلی بار اس سطح کا علاج ممکن ہواجے پی ایم سی دنیا کا واحد اسپتال ہے جہاں سائبر نائف کے ذریعے کینسر کا علاج مکمل طور پر مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ 2012 میں جے پی ایم سی میں بستروں کی تعداد 1,100 تھی، جو اب بڑھا کر 2,208 کر دی گئی ہے، یوں اسپتال کی گنجائش دوگنی ہو چکی ہے صرف سائبر نائف اور دیگر جدید کینسر علاج کی سہولت سے اب تک 178 شہروں اور 24 ممالک کے مریض مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر لاکھوں مریضوں کو مہنگا ترین علاج بلا معاوضہ فراہم کیا گیا ہے۔

  • ایک سازش کے تحت سندھ کی کردار کشی کی جاتی ہے، بلاول بھٹو زرداری

    ایک سازش کے تحت سندھ کی کردار کشی کی جاتی ہے، بلاول بھٹو زرداری

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آپ کو اپنے وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، جب بے نظیر بھٹو نے کوشش کی تو سازشوں کے تحت اسے ناکام بنادیا گیا۔

    مٹھی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک سازش کے تحت سندھ کی کردار کشی کی جاتی ہے اس جھوٹے بیانیے کا جواب تھرپارکر کی ترقی ہے، جب بھی تھر آتا ہوں تو خوشی ہوتی ہے، یہاں کے عوام پیپلز پارٹی، بے نظیر بھٹو اور شہید بھٹو سے محبت کرتے ہیں، جتنی محنت تھرپارکر کی ترقی کے لیے پیپلز پارٹی نے کی ہے تو ثابت کردیا ہے کہ پارٹی کتنا یہاں کی عوام سے محبت کرتی ہے ہماری بدقسمتی ہے کہ آپ کو اپنے وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، جب بے نظیر بھٹو نے کوشش کی تو سازشوں کے تحت اسے ناکام بنادیا گیا۔

    بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13 فیصد اضافہ

    انہوں نے کہا کہ تھرکول کی وجہ سے معاشی انقلاب آیا،اس کی وجہ سے ہم نے ایک سماجی انقلاب تھرپارکر میں دیکھا ہے، یہاں نہ ڈسپنسری، نہ ہیلتھ یونٹ اور نہ اسپتال ہوتے تھے لیکن اب صحت کا نظام تھرپارکر میں بچھایا گیا ہے، تھرپارکر کی ترقی کے لیے ہم نے تھر فاؤنڈیشن بنائی، تھرپارکر سے حاصل منافع کا ایک حصہ اس فاؤنڈیشن کو دیا جاتا ہے۔

    وفاق نےمتبادل راستوں کے ذریعے کینو اور آلو کی ایکسپورٹ کی اجازت دیدی

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم پورے سندھ میں اسی طریقے سے محنت کررہے ہیں، ہماری حکومت عوام دوست حکومت ہے، ہم صوبے کے عوام کے مفاد میں سوچتے ہیں، ہم نے سندھ میں یونیورسٹیز اور اس کے کیمپس کو دگنا کیا، ہم اسی طرح دیگر صوبوں سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، امید ہے کہ تھرپارکر کے عوام تعلیم حاصل کرکے ہر شعبے میں ترقی کریں گے،مجھے خوشی ہوئی کہ تھرپارکر میں گلگت کے طالب علم بھی تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں-

    کراچی اور لاہور کے درمیان بعض فضائی راستے آج اور کل بند رہیں گے

  • مریم نواز کا  بلاول بھٹو کا پنجاب میں خیرمقدم

    مریم نواز کا بلاول بھٹو کا پنجاب میں خیرمقدم

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے پنجاب دورے کے موقع پر انہیں خوش آمدید کہا ہے۔

    اپنے پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ بلاول بھٹو کا پنجاب میں خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے اور یہ خطہ ہمیشہ ان کا گھر رہے گا، جہاں انہیں عزت اور احترام کیساتھ پذیرائی ملے گی،وزیراعلیٰ نے بلاول بھٹو کے اچھے تبصروں اورمثبت رویے پرشکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کی جانب سے کیے گئے تعریفی اور خیرسگالی کے کلمات کی قدر کرتی ہیں،بلاول بھٹو کے لئے ان کی دلی نیک تمنائیں اوردعائیں ہمیشہ موجود ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پنجاب میں ہردورہ خوش گواراوریادگار رہے۔

    یہ پیغام دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی احترام اور تعلقات کی ایک مثبت جھلک کے طور پردیکھا جا رہا ہے، جس سے سیاسی ماحول میں نرم رویہ اور ہم آہنگی کی عکاسی ہوتی ہے۔

  • بلاول بھٹو  نے فیض حمید کے حوالے سے فوجی عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا

    بلاول بھٹو نے فیض حمید کے حوالے سے فوجی عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا

    پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فیض حمید کے حوالے سے فوجی عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا-

    چینیوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فیض حمید سے متعلق تاریخی فیصلہ ہے تاہم فیض حمید کے خلاف مزید ٹرائل ابھی جاری ہےآج کے فیصلے سے واضح پیغام ہے کہ فیض حمید غیر قانونی کام کر رہے تھے، فیض حمید کے پاس اپیل کے لیے بھی فورمز ہوں گے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنرراج سے متعلق باقاعدہ ڈسکشن نہیں ہوئی، گورنر راج ایک آئینی آپشن موجود ہے، پی ٹی آئی اپنے طرزعمل سے وفاق کو مجبور کر رہی ہے اور پی ٹی آئی کی سیاست خود ایسےحالات پیدا کرنا چاہ رہی ہےپی ٹی آئی دور میں مریم نواز اور فریال تالپور کو ٹارگٹ کیا گیا، آج عمران خان خود جیل میں ہے، یہ مکافات عمل ہے، بانی پی ٹی آئی بطور وزیراعظم طاقت کے نشے میں دھمکیاں دیتے تھے۔

    ناروے کے سفیر کی ایمان مزاری کیس کی سماعت میں شرکت، وزارت خارجہ کا سخت ڈیمارش جاری

    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سیاست میں غلط روایات ڈالیں، نفرت اور انتشار کی سیاست کو پروان چڑھایا،ہم نے آئینی عدالت بھی بنا دی ہے، ہمارے نظریے اورمنشور کی جیت ہے، آئینی عدالت کا قیام پیپلزپارٹی کی بڑی کامیابی ہے سب کو کوشش کرنی چاہیے وفاق کی مشکلات دور کی جائیں، وفاق کی مالی مشکلات دور کرسکتے ہیں اور اس کے لیے پی پی پی تعاون جاری رکھے گی، صوبے کے اختیارات کم کیے بغیر وفاق کی مشکلات کم کرسکتے ہیں عوام کے لیےمعاشی مشکلات ضرور ہیں۔

    خاتون اپنے آشنا کی بیوی سے بچنے کیلئے 10ویں منزل کی بالکونی سے لٹک گئی

  • بعض پالیسیوں پر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کےساتھ ہے،بلاول بھٹو

    بعض پالیسیوں پر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کےساتھ ہے،بلاول بھٹو

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ،بعض پالیسیوں پر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کےساتھ ہے۔

    نوڈیرو میں صاف ستھرا لاڑکانہ و روزگار اسکیم پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 20 لاکھ گھروں پر مشتمل پیپلز ہاؤسنگ اسکیم دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، نوڈیرواور رتوڈیرو میں خواتین کو گھروں کے مالکانہ حقوق دیے ہیں، ان گھروں کے بنانےکیلئے ایک لاکھ تک روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے، چاہتا ہوں یہ منصوبہ ایک دو سال تک مکمل ہو جائے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ماضی میں سندھ کیساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا گیا، بعض پالیسیوں پر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کےساتھ ہے،بلدیاتی نمائندوں کے درمیان کارکردگی کی بنیاد پر حوصلہ افزا مقابلے ہونے چاہئیں، وزیراعلیٰ اچھی کارکردگی کے حامل بلدیاتی نمائندوں کو مزید فائدہ مند سہولیات فراہم کریں۔

    قبل،ازیں،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی وومن ونگ سندھ کی صدر فریال تالپور کے ہمراہ گوٹھ راہوجا کا دورہ کیا بلاول بھٹو نے نو تعمیر شدہ مکانوں کا دورہ بھی کیا اور سیلاب زدگان کے گھروں کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد گوٹھ کی خواتین میں مالکانہ حقوق کی سندیں تقسیم کیں۔ دورے کے موقع پر کمسن طالبعلم سے دلچسپ مکالمہ ہوا۔

    بلاول بھٹو نے طالبعلم حمزہ علی سے سوال کیا کہ آپ بڑے ہوکر کیا بننا چاہتے ہیں، جس پر بچے نے جواب دیا میں بڑے ہوکر پائلٹ بننا چاہتا ہوں۔بلاول بھٹو نے کہا شاباش آپ پائلٹ بن کربھارتی جہاز گرانا دورے کے موقع پر سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (سرسو)کے حکام نے بلاول بھٹو زرداری کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک لاکھ بیس ہزار مکانات میں سے نوے ہزار مکانات کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحقین میں سولر پلیٹیں، پنکھے، انورٹر اور دیگر اشیأ کی تقسیم بھی جاری ہے۔

  • 5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے،بلاول

    5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے،بلاول

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 5 جولائی 1977 پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے جن کے اثرات آج بھی سیاسی، سماجی اور قومی شعور پر واضح ہیں،5 جولائی کوعوامی منتخب حکومت پر شب خون مارا گیا جس نے ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ ہم سب کو مل کر آ مریت کے اندھیروں کا خاتمہ کرنا ہو گا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک روشن، پُرامن اور جمہوری پاکستان دے سکیں، وقت آ گیا ہے کہ نفرت، انتشار اور شخصی اقتد ار کی دلدل سے نکل کر اتحاد، برداشت اور آئین کی بالادستی کو اپنایا جائے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 5 جولائی 1977 پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ اس دن عوام کے منتخب وزیرِاعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت پر مارشل لا مسلط کر کے جمہوریت کو کچلا گیا، شہید بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش درحقیقت عوامی رائے اور جمہوری اصولوں پر حملہ تھی، ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو شعور دیا، آمریت نے اس آواز کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے ہر دور میں آمریت کا جرأت مندی سے مقابلہ کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آج کا دن ہمیں جمہوریت کے تحفظ، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کی یاد دہانی کراتا ہےہم ہر قیمت پر جمہوری اقدار کا دفاع کریں گے آج بھی ملک میں جمہوریت اور سالمیت کے خلاف سازشیں جاری ہیں، ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات اور قربانی کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔