Baaghi TV

Tag: بلاول

  • عوام کی امید، ملک کے روشن مستقبل کی نوید،بلاول 36 برس کے ہو گئے

    عوام کی امید، ملک کے روشن مستقبل کی نوید،بلاول 36 برس کے ہو گئے

    سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو ،صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے صاحبزادے، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، 37 ویں سابق وزیرِ خارجہ، بلاول بھٹو زرداری کی آج سالگرہ منائی جا رہی ہے، بلاول زرداری 36 برس کے ہو گئے ہیں

    بلاول کی سالگرہ پر انہیں ان کی بہنوں، پارٹی رہنماؤں، کارکنان کی جانب سے مبارکباد دی گئی ہے، بلاول زرداری کو بختاور اور آصفہ نے بھی مبارکباد دی ہے، بلاول قومی اسمبلی کے رکن بھی ہیں، آصفہ بھی قومی اسمبلی کی رکن ہیں،بختاور بھٹو نے انسٹاگرام اسٹوری پر بھائی اور بیٹے کی ایک خوبصورت ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 36ویں سالگرہ مبارک بلاول بھٹو زرداری، خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو نے بھی بھائی کے اعزاز میں کی گئی ایک پوسٹ کو انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کیا ، پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کے حوالے سے بھی پوسٹ شیئر کی گئی ہے،پوسٹ کے کیپشن میں لکھا ہے کہ عوام کی امید، ملک کے روشن مستقبل کی نوید، عوامی حقوق کی جدوجہد کے علم بردار اور جمہوریت کے محافظ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو ان کی سالگرہ مبارک،

    بلاول بھٹو21ستمبر 1988کو کراچی میں پیدا ہوئے، ان کی پیدائش کے تین ماہ بعد ہی ان کی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔بلاول بھٹو کی سالگرہ کی مناسبت سے پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر بلاول کو سالگرہ کی مبارکباد دی جا رہی ہیں،اس ٹرینڈ کا استعمال کرتے ہوئے صارفین، پیپلز پارٹی کے ارکان، اور بلال بھٹو کے مداح انہیں سالگرہ کی مبارکباد دے رہے ہیں اور ساتھ ہی بینظیر کی یاد بھی تازہ کر رہے ہیں۔بلاول کو مبارکباد دیتے ہوئے کارکنان کا کہنا ہے کہ عوام کی امید، ملک کے روشن مستقبل کی نوید، عوامی حقوق کی جدوجہد کے علمبردار اور جمہوریت کے محافظ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو انکی سالگرہ مبارک،

    پیپلزپارٹی ضلع وسطی کی جانب سے چیئرمین بلاول زرداری کی سالگرہ کے موقع پر نارتھ ناظم آباد میں عظیم الشان تقریب کا اہتمام کیا گیا۔تقریب میں قوالی پروگرام ،آتش بازی کا مظاہرہ اور چیئرمین بلاول کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔تقریب میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی

    بلاول کی سالگرہ کے موقع پر آج ملک بھر میں تقریبات منعقد کی جائیں گی اور پیپلز پارٹی کارکنان اپنے چیئرمین کی سالگرہ پر کیک کاٹیں گے، ان کی درازی عمر کی دعائیں کریں گے

  • صوبوں میں مشورہ کرکے الگ عدالت کیوں نہیں بنا سکتے؟ بلاول

    صوبوں میں مشورہ کرکے الگ عدالت کیوں نہیں بنا سکتے؟ بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ عدالت سے سیاست کی امید رکھیں گے تو جمہوریت اور عوام کا نقصان ہوگا،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ جب سی او ڈی پر دستحط ہوئے تو افتخار چوہدری مشرف کا چیف جسٹس تھا ،بے نظیر بھٹو نے اس وقت کہا تھا کہ ملک میں آئینی عدالتیں ہونی چاہئیں ،پی پی وکلا نے ہر آمریت کے دور میں صف اول کا کردار ادا کیا ،پیپلزلائز فورم کی وجہ سے ضیا کی آمریت کے بعد جمہوریت بحال کی ،وکلا کی محنت سے ہی ہم آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے ، ہم آمریت کو ختم کرکے جمہوریت واپس لائے ،ججز کی تقرری کے عمل میں شفافیت بینظیر بھٹو کا مطالبہ تھا ،وکلا نے ہمیشہ آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، عدالتی نظام درست کرنے کیلئے آئینی عدالت ضروری ہے،پاکستان میں روایت چلی آرہی ہے کہ آپکی رشتہ داری ہے تو آپ جج بنیں گے ،نواز شریف کوسمجھایا تھا کہ 58 ٹو بی کا غلط استعمال ہوگا اور پھر وہ خود اس کا شکار ہو ئے ،کیا یہ مناسب نہیں کہ جو 50 فیصد کیس 90 فیصد وقت لیتے ہیں ان کیلئے الگ بینچ یا عدالت ہو،چوری اورقتل کے مقدمے میں کیا لوگوں کو 50،50 سال انتظار کرنا پڑیگا، کیا ہم ہاتھ باندھ کر کھڑے رہیں گے ؟ یس مائی لارڈ، وفاق میں آئینی عدالت بنا سکتے ہیں تو صوبوں میں مشورہ کرکے الگ عدالت کیوں نہیں بناسکتے،شکر ہے کہ 50 سال بعد فیصلہ دیا گیا کہ بھٹو کیخلاف عدالتی کارروائی یکطرفہ تھی،مجھے اتنا انتظار کرنا پڑا تو سوچیں عام آدمی کو کتنا انتظار کرنا پڑتا ہے ،

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

  • جنرل ایوب کا پوتا پیپلز پارٹی کو جمہوریت اور اس کے اقدار نہ سکھائے،شازیہ مری

    جنرل ایوب کا پوتا پیپلز پارٹی کو جمہوریت اور اس کے اقدار نہ سکھائے،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما،شازیہ مری نے کہا ہے کہ جنرل ایوب کا پوتا پیپلز پارٹی کو جمہوریت اور اس کے اقدار نہ سکھائے،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی جمہوریت کیلئے قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، مارشل لاء کا خواب دیکھنے والے شکست خوردہ رہیں گے، سیاسی مکالمے سے آمروں کے پیروکار پریشان ہو رہے ہیں،بلاول بھٹو زرداری اپنی پارٹی منشور کے تحت آئینی اصلاحات پر کام کررہے ہیں،بلاول بھٹو کو پچاس سال لگے، اپنے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا انصاف لینے میں،عام پاکستانی کو انصاف کے حصول کیلئے کتنا ٹائم لگے گا اس کا اندازہ لگایا جاسکتاہے،سپریم کورٹ میں آنے والے دس فیصد کیسز آئینی کیسز ہوتے ہیں، مگر وہ نوے فیصد ٹائم لے جاتے ہیں،پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ ہائی کورٹ ہو یا سپریم کورٹ اس میں عام آدمی کو جلد ریلیف ملے، بلاول بھٹو زرداری چاہتے ہیں کہ چارٹر آف ڈیموکریسی پر عملدرآمد ہو،

    وسیم ،کامران،ایاز،شمائلہ،ماہ نور،سرٹیفائڈ فراڈیئے،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    5 سے 7 ارب کا فراڈ،لاہور کا پراپرٹی سیکٹر لرز اٹھا

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

  • 9 مئی کے حملوں میں عمران خان کا کردار،حکومت تفصیلات دے،بلاول

    9 مئی کے حملوں میں عمران خان کا کردار،حکومت تفصیلات دے،بلاول

    الگ الگ نجی ٹیلی ویژن چینلز پرانٹرویو دیتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئینی ترامیم کا مبینہ مسودہ اصل مسودہ نہیں ہے ، پیپلز پارٹی اپنے منشور میں جن اصلاحات کا وعدہ کیا ہے اسے آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ آرٹیکل 63-A کے غیر آئینی فیصلے نے ارکان پارلیمنٹ کو اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا ہے۔ وہ اگر پارٹی پالیسی کے خلاف اپنا ووٹ دیں گے تو وہ نہ صرف اپنی رکنیت کھو دیں گے بلکہ ان کا ووٹ بھی نہیں گنا جائے گا۔ ضروری ہے کہ کم از کم اتفاق رائے ہو، جس کے لیے مولانا فضل الرحمان کی حمایت بہت ضروری ہے۔

    چیئرمین پی پی پی بلاول زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وعدوں کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس وقت جو مسودہ زیر بحث ہے وہ عارضی یعنی کچا مسودہ ہے اور مولانا فضل الرحمان یا دیگر اتحادیوں کی حمایت کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا۔ اسے سب کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے، اتفاق رائے پیدا کرنے، کابینہ سے منظوری حاصل کرنے اور اسے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے بعد ہی پیش کیا جا سکتا ہے۔ پی پی پی کا شروع ہی سے موقف اصولی رہا ہے اور وہ ایک جامع مسودہ پیش کرنا چاہتی ہے۔ ماضی میں، ہمیں اسی طرح کی تبدیلیوں کی کوشش میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اب پی پی پی آئینی اصلاحات سے متعلق اپنا اصل مسودہ جے یو آئی کے ساتھ شیئر کرنے پر کام کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کو شامل کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن ان کے بعد چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس پر خطرناک اور اشتعال انگیز حملہ کیا گیا، جس سے مذاکرات کا موقع ختم ہوگیا۔ دو تہائی اکثریت کے بغیر ترامیم منظور نہیں ہوں گی۔ ہر پاکستانی اس بات سے واقف ہے کہ ہماری سیاست، پارلیمنٹ اور عدالتی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان اور پارٹی کو انصاف کے حصول کے لیے پچاس سال انتظار کرنا پڑا اور عام آدمی کی صورت حال اب اور بھی سنگین ہے۔ اصولی طور پر ملک میں عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ آئینی ترامیم کے لیے حکومت کی خواہشات کے حوالے سے، وہ جتنا چاہیں پرجوش ہو سکتے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی کا مفاد، اپنے منشور اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے 2006 کے وعدے کے مطابق، میثاق جمہوریت میں تجویز کردہ بقیہ اصلاحات سے جڑا ہوا ہے۔ پی پی پی کا موقف ہے کہ ان وعدوں کو پورا کرنے سے نہ صرف عام لوگوں کو انصاف مل سکتا ہے بلکہ ہمارے عدالتی نظام کے مسائل کو بھی حل کیا جا سکتا ہے۔دنیا میں کوئی ایس مثال نہیں ملتی کہ کسی عدالت نے ڈیم بنائے ہوں یا کسی چیف جسٹس نے اپنے بچپن کے تصورات کے مطابق شہر کو تبدیل کر دیا ہواور عمارتوں کو گرا کر، یا پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں مقرر کیں۔ اس لیے ملک کے لیے عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

    وقت اور طریقہ کارسے متعلق سوال کے جواب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود 1973 کا آئین اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ 18ویں ترمیم میں پیپلز پارٹی کے پاس سادہ اکثریت نہیں تھی پھر بھی ہم نے اتفاق رائے کرکے اٹھارہویں ترمیم منظور کی۔ موجودہ سیاسی صورتحال انتہائی پولرائزیشن میں سے ایک ہے، سیاست دان ہاتھ ملانے کو تیار نہیں۔ ہم نے ایک کمیٹی بنانے کے لیے پہل کی جو تمام سیاستدانوں کو شامل کرے گی، جیسا کہ ہماری خواہش تھی کہ پی ٹی آئی مثبت کردار ادا کرے۔ تاہم اس کوشش کے اگلے ہی روز پی ٹی آئی رہنما نے ایک خطرناک بیان دیا جس نے پیش رفت کو سبوتاژ کر دیا۔ یہ بیان نہ صرف توہین عدالت بلکہ بغاوت تھی۔ پی ٹی آئی نے ابھی بھی یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ بیان ان کے رہنما کی طرف سے آیا ہے۔اس طرح پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے لیے پی ٹی آئی کی شمولیت سے اس ترمیم کو پاس کرنا مشکل ہے۔ مثالی طور پر، ہم اپوزیشن کے ان پٹ کا خیرمقدم کریں گے، لیکن موجودہ حالات ایسا نہیں کرنے دیتے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے زور دے کر کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی تصدیق کے بغیر آئینی ترمیم کا پاس ہونا ناممکن ہے۔ اس سے ایک رات پہلے مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کو خاصے اعتراضات تھے۔ پیپلز پارٹی نے بھی واضح اور جامع عدالتی اصلاحات کے لیے اپنے تحفظات کے حوالے سے حکومت کے ساتھ بات چیت کی۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مشاورت کا مقصد اسی طرز پر عمل کرنا تھا، عارضی مسودے کے حوالے سے کمیٹی کے تمام اراکین کے ان پٹ پر غور کیا جا رہا تھا۔ تب ہی ترمیم منظور ہونی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بہر حال، انتظار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتفاق رائے بہت ضروری ہے۔گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کا اصل مسودہ جے یو آئی کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، جب کہ جے یو آئی اپنے مسودے پر کام کرے گی۔ اگران مسودوں پر اتفاق رائے ہو جائے تو آئینی ترامیم کو دو تہائی سے منظور کرانا ممکن ہو جائے گا۔ اگرچہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ عمل تیزی سے آگے بڑھے، لیکن ہماری ترجیح اپنے مقاصد کو حاصل کرنا ہے۔ اس میں ایک یا دو ماہ سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے، لیکن مولانا کی خواہش ہے کہ پی ٹی آئی بھی اس عمل میں شامل ہو۔

    چیئرمین پی پی پی نے واضح کیا کہ پی پی پی کے مسودے میں ججوں کی عمر کے متعلق نہ کوئی بات کی اور نہ ہی پارٹی نے اس پر کوئی توجہ مرکوز کی جبکہ حکومت ججوں کی عمر کے متعلق تبدیلیاں چاہتی تھی۔ پیپلز پارٹی نے ججوں کی ملازمت کی ابتدا کی عمر کی حد کم کرنے کی حمایت کی جس پر حکومت نے اتفاق کیا اور اسے مسودے میں شامل کر لیا۔ حکومت نے چیف جسٹس کی زیادہ سے زیادہ عمر 3 سال کے ساتھ 67 سال کرنے کی تجویز دی تھی۔ جے یو آئی نے موجودہ عمر کی حد 65 سال برقرار رکھنے کی تجویز دی۔ ہماری جماعت کا خیال ہے کہ عمر کی حد مقرر کرنا، چاہے 65 ہو یا 67، کو انفرادی طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس کا مقصد کسی کوکسی عہدے سے باہر رکھنا نہیں۔ اس لیے پی پی پی کے مسودے میں عمر کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، بجائے اس کے کہ آئینی عدالتوں کے لیے مدت پر مبنی حدیں تجویز کی جائیں۔آئینی عدالتوں کا مقصد عام آدمی کے لیے انصاف کی فراہمی میں تیزی لانے اور ہمارے نظام کو جدید دور کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کی تجاویز کی بنیاد پر اب اتفاق رائے ہونا ہے۔ موجودہ عدالتی تقرری کے طریقہ کار کو "ججوں کا، ججوں کے لیے، ججوں کے ذریعے” کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ عدلیہ کی جانب سے اپنے ارکان کی تقرری کی عالمی نظیر نہیں ملتی۔

    چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ عدلیہ میں اصلاحات کی سابقہ کوششوں کو چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ناکام بنایا، جنہوں نے آئین کوختم کرنے کی دھمکیاں دے کر حکومت کو بلیک میل کیا۔ اس کے بعد سے پیپلز پارٹی مسلسل ان تبدیلیوں کی وکالت کرتی رہی ہے۔ میرا آج کا مشورہ یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کی طرف واپس آو ۔ مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے تقرری کمیٹی میں عدلیہ کو پارلیمنٹ کے نمائندوں کے ساتھ ضم کرنے کی تجویز دی تھی۔ پیپلز پارٹی کو اس تجویز پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔چیئرمین پی پی پی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مسودے میں پی پی پی کا ان پٹ اس تفہیم کے ساتھ دیا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان پہلے ہی حکومت کے ساتھ منسلک ہیں۔ پیپلز پارٹی کی طرح مولانا فضل الرحمان نے عارضی مسودے پر اہم اعتراضات اٹھائے تھے۔ پیپلز پارٹی اب جے یو آئی کے ساتھ متفقہ دستاویز تیار کرنے کے لیے مسودوں کا تبادلہ کرے گی۔ چیف جسٹس کی ابتدائی تقرری ایک وقتی عمل کی ضرورت ہوگی۔ اس کے بعد نئے چیف جسٹس دیگر سینئر ججوں کے ساتھ مل کر مستقبل کا طریقہ کار وضع کر سکتے ہیں۔ 1996 سے پہلے، وزیر اعظم کے پاس چیف جسٹس کی تقرری کا اختیار تھا، جو بعد میں سپریم کورٹ میں چلا گیا۔ ایک تجویز یہ ہے کہ یہ اختیار وزیر اعظم کو واپس کیا جائے لیکن پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ موجودہ تناظر میں یہ فیصلہ صدر اور عدلیہ یا جوڈیشل کمیشن کی مشاورت سے ہونا چاہیے۔چیئرمین پی پی پی نے یہ کہتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ اگرچہ سیاسی ارادے مختلف ہوسکتے ہیں، پی پی پی اور جے یو آئی کے درمیان اتفاق رائے اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں جماعتیں پی ٹی آئی یا مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں کم متعصب ہیں، آئینی ترامیم پر معاہدہ کرنے کے لیے زیادہ جگہ فراہم کرتی ہیں۔ ترامیم فرد یا عمر کے لحاظ سے نہیں ہونی چاہئیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور منصور علی شاہ قابل احترام شخصیات ہیں، دونوں شہید ذوالفقار علی بھٹو کیس کے بینچ کا حصہ تھے، انہیں متنازعہ نہ بنایا جائے۔ چیئرمین بلاول نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جسٹس منصور علی شاہ اگلے چیف جسٹس ہوں گے۔ قاضی فائز عیسیٰ پہلے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے اپنے اختیارات میں کمی کی اور پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ پر اتفاق کیا کیونکہ یہ پارلیمنٹ کی مرضی تھی، جیسا کہ صدر زرداری نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کیے تھے۔ جہاں تک عام شہریوں کے لیے فوجی ٹرائلز کا تعلق ہے، اس سلسلے میں دو تجاویز تھیں۔ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کے حوالے سے اصولی موقف رکھتی ہے اور ان کی حمایت نہیں کرتی۔ تاہم، ایسی مثالیں موجود ہیں جب پیپلز پارٹی نے ایسے اقدامات کی حمایت کی ہے۔ پیپلز پارٹی اس وقت ایسے اقدامات کی حمایت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس لیے جہاں تک فوجی عدالتوں کا تعلق ہے، حکومت کے پاس آئینی ترمیم کے لیے ضروری اکثریت نہیں ہے۔ جہاں تک فوجی تنصیبات پر حملوں کا تعلق ہے، ہم ان تحفظات پر غور کرنے کے لیے تیار تھے جن کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ تاہم جے یو آئی سے بات کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ آرٹیکل 8 میں ترمیم کے لیے سیاسی موقع کی کمی ہے۔ اگر حکومت واقعی اس حوالے سے قانون سازی ضروری سمجھتی ہے تو پیپلز پارٹی مطالبہ کرے گی کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ قومی سلامتی اجلاس بلایا جائے۔ تاہم ایسی تبدیلیوں کو موجودہ عدالتی اصلاحات کے ساتھ جوڑنا پیپلز پارٹی کے خیال میں ممکن نہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت 9 مئی کے حملوں میں عمران خان کے کردار کی تفصیلات پیش کرے۔

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

  • مولانا کافی چیزوں پر رضامند ہیں،بلاول

    مولانا کافی چیزوں پر رضامند ہیں،بلاول

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کوشش ہے کہ آئینی ترامیم پر سب کا اتفاق رائے ہو جائے

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم پر مزید اتفاق رائے کی ضرورت ہے، مولانا کافی چیزوں پر رضامند ہیں ان کی کوشش ہے کہ 18 ویں ترمیم کی طرح یہ ترمیم بھی متفقہ ہو،جمہوری اتفاق رائے کے لئے یہ سب چلتا ہے ،مولانا فضل الرحمان چاہتے ہیں متفقہ آئینی ترمیم ہو 18 وی ترمیم کی طرح ، اگر ایک دن مزید تاخیر ہوجائے توکوئی حرج نہیں،ہم نے پارلیمنٹ میں ماحول سازگار بنانے کیلئے خصوصی کمیٹی 2روز پہلے تشکیل دی، ہم تو 2006ء سے کوشش کر رہے ہیں کہ میثاق جمہوریت پر مکمل عمل درآ مد ہو،مولانا صاحب کافی چیزوں پر راضی ہیں، اگر آئینی ترمیم کیلئے ایک دن اور انتظار کرنا پڑا تو کر لیں گے، ہماری کوشش ہے کہ آئینی ترامیم پر اکثریت کا اتفاق رائے ہو،اسمبلی میں ماحول خراب تھا ہم نے اس کو بہتر کیا، ایک سیاسی جماعت کے قائد نے عدلیہ اور آرمی چیف پر حملہ کیا، ان کو جواب دینا ہو گا، ادارے کے ہیڈ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی، ہم میثاق جمہوریت کو مکمل کرنا چاہتےہیں ایک دن اور انتظار کرنا پڑا تو کوئی بڑی بات نہیں.

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    دوسری جانب مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے قومی اسمبلی، سینیٹ اور وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہو گا،گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کے فوری بعد ہی ملتوی کر دیا گیا تھا،اب قومی اسمبلی کا اجلاس آج دن ساڑھے 12 بجے دوبارہ طلب کیا گیا ہے سینیٹ کا اجلاس بھی آج ساڑھے 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا، مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے ایوان بالا کا اجلاس آج دن ساڑھے 12 بجے دوبارہ شروع ہو گا

    دوسری جانب پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں نے آئینی عدالت کی مشروط حمایت کردی،ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی، جے یو آئی اور حکومتی اتحاد کی جماعتیں آئینی عدالت پر مشروط رضامند ہیں،اجلاس میں بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے،ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بل پر مزید مشاورت کرنے کی تجویز دی جبکہ پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ جلد بازی میں قانون سازی نہ کی جائے۔

    آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری کے لیے جمعیت علماء اسلام ف کا کردار اہمیت اختیار کر گیا ہے، چند روز کے دوران وزیراعظم شہباز شریف دو مرتبہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر چکے ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی سربراہ جے یو آئی سے ملاقات کر کے آئینی ترمیم میں ساتھ دینے کی درخواست کی تھی، گزشتہ رات پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائشگاہ پر جا کر ملاقات کی تھی،بعد ازاں بلاول زرداری نے بھی مولانا سے ملاقات کی تھی اور واپسی پر وکٹری کا نشان بنایا تھا،سابق وزیراعظم نواز شریف کی بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے،

  • قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہو گیا

    این اے 171 سے کامیاب ہونے والی پیپلزپارٹی کے طاہر رشید نے قومی اسمبلی میں حلف اٹھا لیا اس کے بعد آیئنی ترمیم کے لئے ایک اور حکومتی ووٹ کا اضافہ ہو گیا.قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ملتان کا ضمنی الیکشن ہو یا رحیم یار خان کا، میرے سپاہی ڈرتے نہیں، جُھکتے نہیں، وہ ہر فتنے کا مقابلہ کر کے، جھوٹ اور گالم گلوچ کی سیاست کا مقابلہ کر کے عوام اور ووٹ کی طاقت سے منتخب ہو کر یہاں پہنچے ہیں، پاکستان کے عوام قیدی نمبر 804 کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں، پاکستان کے عوام گالم گلوچ کی سیاست کے ساتھ نہیں ہیں، جتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کیا ہے.ہمارے کارکن ہر فتنہ کا مقابلہ کرتے ہیں، عوام کی طاقت سے منتخب ہو کر یہاں پہنچے، رحیم یار خان کا ہمارا امیدوار ہر پولنگ اسٹیشن کا فارم 45 دکھا سکتا ہے،

    بلاول بھٹو نے عمران خان کے ٹویٹ کی قومی اسمبلی میں وضاحت مانگ لی
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی سٹیٹمنٹ ملک اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر وضاحت کریں ۔عمران خان کا اکاونٹ کون چلا رہا ہے؟ اس کی وضاحت آنا بہت ضروری ہے،کل قیدی نمبر 804 نے ایک بیان میں اپنے اپ کو فائدہ پہنچانے کے جمہوریت ہر حملہ کیا ، عمران خان کے اس بیان کے نتائج ہوں گے ، اگر انھوں نے یہ بیان دیا ہے تو ان کے لیےان کی جماعت کے لیے مسائل بنیں گے ۔

    بلاول بھٹو زرداری کی قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران اپوزیشن نے نعرے بازی کی، قیدی نمبر 804 کے نعرے لگائے.

    ابھی فارم 45 اور فارم 47 کے پراپیگنڈے پر بھی بہت بڑی کہانی سامنے آنے والی ہے،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ چیف جسٹس کے خلاف بھی توہین عدالت کی گئی، انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کیسز میں ریلیف لینے کے لیے ہر آئینی ادارے پر حملہ کیا ہے،آرمی چیف پر بھی سیاسی الزامات لگائے گئے، اؑرمی چیف نے ڈی جی آئی ایس آئی ہوتے ہوئے عمران خان کی کرپشن پکڑی بعد میں انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ،عمران خان نے جنرل عاصم منیر کی تعیناتی کےخلاف سازش رچائی، میڈیا اینکرز اور سیاستدانوں کو لانچ کر کے اپنے ہی آرمی چیف کیخلاف لانچ کیا گیا، ابھی فارم 45 اور فارم 47 کے پراپیگنڈے پر بھی بہت بڑی کہانی سامنے آنے والی ہے،قیدی نمبر 804 نے اپنے بیان میں سیاست چمکانے کے لیے، ذاتی کیسز میں ریلیف لینے کے لیے ہر آئینی ادارے پر حملہ کیا، تحریک انصاف تحقیقات کرے واقعی بانی پی ٹی آئی کا بیان تھا، کل تک ہم بہت مثبت سمت میں چل رہے تھے، ہم نے ایسا فورم بنایا تھا کہ ہم جمہوریت اور اداروں کے فائدے کے لے قانون سازی کریں گے،کل رات ایک حملہ کیا گیا، جو ایک بار پھرجمہوریت پر حملہ ہے،موجودہ چیف جسٹس کے خلاف توہین عدالت کیا گیا، عہدے کو متنازع بنانے کے لیے آرمی چیف پر الزامات لگائے گئے،

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

  • ساری رات گنڈا پور کوہسار کمپلیکس میں معافیاں مانگتا رہا،خواجہ آصف

    ساری رات گنڈا پور کوہسار کمپلیکس میں معافیاں مانگتا رہا،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو نے پارلیمنٹ کی کاروائی کے لیے کمیٹی بنانے کی بہترین تجویز دی،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سپیکر نے کمیٹی تشکیل دی تا کہ کاروائی کو بہتر چلایا جا سکے،ہاوس کے تقدس کو بہتر بنانا مقصد تھا، لیکن یہ کمیٹی میں ایسا لگا کہ تحریک انصاف کے تحفظات کے لیے بنائی گئی ہے،دو روز قبل واقعے کی مذمت بھی کی اور یکجہتی کا ثبوت بھی دیا، پارلیمنٹ پر حملے کی کسی شخص نے بھی ایوان میں حمایت نہیں کی، تحفظات سے متعلق بھی بے شک کمیٹی بنا دی جائے،میں نے وہاں بھی احتجاج کیا اور پارٹی کو کہہ دیا کہ میں کمیٹی کا حصہ نہیں رہ سکتا، یہ کمیٹی ہاوس کی عزت اور وقار میں اضافے کے لیے بنائی گئی،کمیٹی ہاوس اور قانون سازی کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی، ان کےتحفظات اور شکایات کے لیے کمیٹی بے شک تشکیل دے دی جائے،نواز شریف اپنی اہلیہ کی بیماری کے دوران بات کروانے کی درخواست کرتے رہے، لیکن بات نہ کروائی گئی اور نواز شریف کی اہلیہ وفات پا گئی،ماضی میں ہمیں انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا گیا،کیا آپ لوگ اس کی مذمت کریں گے؟ ہمارے دور میں کسی شخص کے خلاف نیب کو استعمال نہیں کیا گیا،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں علی امین گنڈاپور دو نمبر آدمی ہے، اس پر بھروسہ نہ کریں، ایوان کمزور نہیں تھا، آپ نے ایوان اسٹیبلشمنٹ کے پاس گروی رکھا تھا، ساری رات گنڈا پور کوہسار کمپلیکس میں معافیاں مانگتا رہا-ہم نہیں پوچھتے یہ خود ہی پوچھ لیں وہ کیا کرتے رہے ساری رات وہاں کیاکرتا رہا،

    زلفی بخاری کی شیخ رشید پر تنقید ،کہا کئی کشتیوں کے سواروں کے ساتھ یہی ہوتا

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    عمران خان، فرح گوگی،زلفی بخاری،ملک ریاض کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش

    بشریٰ ،زلفی بخاری آڈیو لیک،بشریٰ بی بی نے درخواست دائر کر دی

  • این اے 171،ضمنی انتخابات،تیر چل گیا،پیپلز پارٹی فاتح

    این اے 171،ضمنی انتخابات،تیر چل گیا،پیپلز پارٹی فاتح

    رحیم یار خان/ حلقہ این اے 171 ،غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج مکمل ہوگئے۔

    حلقہ این اے 171 کے ٹوٹل 301 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج مکمل ہو گئے،پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا،پیپلز پارٹی کے مخدوم طاہر رشید الدین 116429ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے،پی ٹی آئی حسان مصطفیٰ 58251 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے،تیسرے نمبر پر آنے والے تحریک لبیک کے امیدوار کو 3522 ووٹ ملے

    پیپلز پارٹی کے امیدوار کی کامیابی پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری سمیت دیگر نے امیدوار کو مبارکباد دی ہے

    این اے 171 میں پولنگ کا عمل صبح 8 سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا تھا، حلقہ این اے 171 سے پیپلزپارٹی کے مخدوم طاہر رشید الدین اور پی ٹی آئی کے حسان مصطفیٰ کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع تھی،حلقے میں 301 پولنگ اسٹیشن ہیں جن کی سکیورٹی کیلئے 2700 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے،یہ نشست پی ٹی آئی کے ایم این اے ممتاز مصطفیٰ کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی اور اس حلقے میں کل ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 26 ہزار 973 ہے۔

    درگاہ رکن الدین میانوالی قریشیاں کا سجادہ نشین خاندان 16 سال بعد قومی اسمبلی نشست جیتنے میں کامیاب ہو گئے، پیپلز پارٹی کے کامیاب ہونے والے امیدوار مخدوم طاہر رشید الدین کے والد مخدوم شہاب الدین نے آخری مرتبہ 2008 میں الیکشن جیتا تھا۔ مخدوم شہاب الدین پیپلز پارٹی کے دور میں وزیراعظم بنتے بنتے رہ گئے تھے۔ مخدوم طاہر کے ماموں مخدوم الطاف نوے کی دہائی میں پنجاب کے اہم وزیر ہوا کرتے تھے۔

    صحافی وقار ستی کہتے ہیں کہ رحیم یار خان کے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی شرمناک شکست نے یہ ثابت کر دیا کہ عمران خان کی پالیسیاں اور جھوٹے وعدے اب زیادہ دیر نہیں چل سکتے۔ تبدیلی کے نام پر لوگوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ جو جماعت کبھی انقلاب کا دعویٰ کرتی تھی، آج عوامی حمایت تیزی سے کھوتی جا رہی ہے۔ خان صاحب کے دور میں صرف نعروں کی سیاست ہوئی، اس کے بعد انہوں نے ملک میں صرف فساد اورنفرت پھیلائی۔آج عوام نے انہیں مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    Translate post

  • وزیراعلیٰ بلوچستان کی بلاول زرداری سے ملاقات

    وزیراعلیٰ بلوچستان کی بلاول زرداری سے ملاقات

    اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بلوچستان کے وزیراعلی سرفراز بگٹی کی زرداری ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے،

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعلی سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر اور اس پر قابو پانے کے اقدامات سے متعلق بریفنگ دی،ملاقات کے دوران سیاسی سیاسی صورتِ حال پر بات چیت ہوئی۔پی پی پی کے چیئرمین بلاول زرداری کو سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں بارشوں کے بعد کی سیلابی صورتِ حال اور اس پر قابو پانے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

    قبل ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ مقدس پاکستانیوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا،پنجاب کے معصوم شہریوں کو بسوں سے اُتارکر شہید کیا گیا، کسی بلوچ نے نہیں دہشت گردوں نے پاکستانی شہید کیے، دہشت گردوں کا کوئی مہذب نہیں، بلوچ روایات میں بچوں اور خواتین کا احترام کیا جاتا ہے۔ ریاست مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے، دہشت گردوں سکیورٹی رعایت نہیں ہو گی۔ بی ایل اے نے9 مقامات پرحملے کیے تھے، شہداء کے لواحقین کو 20 لاکھ دیں گے، گاڑیوں کے نقصانات بھی حکومت بلوچستان پورا کرے گی، یہ ناراض بلوچ نہیں ان کو دہشت گرد کہا جائے، بلوچستان میں ہر صورت حکومت کی رٹ برقرار رکھیں گے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچائیں گے بلوچستان میں کوئی آرمی آپریشن نہیں ہو رہا، ایف سی، پولیس، لیویز اپنا کام کر رہی ہے، سوات طرز کے آپریشن کی ضرورت ہو گی تو ضرور کیا جا سکتا ہے۔

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

  • بلاول نے  مفت سولر ہوم سسٹم کی تقسیم کے عمل کا افتتاح کردیا

    بلاول نے مفت سولر ہوم سسٹم کی تقسیم کے عمل کا افتتاح کردیا

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ بجلی کے بلوں میں غریب عوام کو ریلیف دیں

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے ہوم سولرسسٹم پروگرام کا سوئچ آن کرکے افتتاح کردیا۔ آج کراچی اور لاڑکانہ میں 2 لاکھ سولر سسٹم غریب گھرانوں کو دیئے گئے،سولرسسٹم میں 80 تا 100 واٹ کی سولرپلیٹ، 18 اے ایچ کی لیتھیم بیٹری، ایک پنکھا، 3 بلب اور موبائل چارجر شامل ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھاکہ انتخابی منشور میں ہماری سوچ تھی کہ اگر عوام ہمیں منتخب کریں تو ملک بھر میں غریب طبقات کی مدد کریں گے، خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمیں دیکھ کر پورا ملک اس سوچ پر متفق ہے کہ ہمیں غریب عوام کو مفت بجلی دینی ہے،پاکستان پیپلز پارٹی ایسے مسائل کو سوچتی ہے جن کا حل ممکن ہو۔سندھ حکومت کینجھر جھیل پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سولر انرجی پارک بنائے گی ۔وفاق سے بجلی لیتے ہیں تو مہنگی ملتی ہے، خواہش ہے کہ سندھ حکومت کی طرف سے عوام کو کم قیمت پر بجلی دیں، جب پالیسی پر عمل ہونا ہوتا ہے تو اچانک اعلان نہیں کرتے ٹائم لگتا ہے، سندھ حکومت کے پاس یہ مینڈیٹ ہے کہ اپنے بجٹ ،وسائل کے تحت آج منصوبہ شروع کیا ہے،جو آج کراچی کے عوام کو اور لاڑکانہ کے عوام کے لئے شروع کر رہے ہیں،جلد سارے سندھ کے عوام کو سولر پہنچائیں گے،ہمارا ویژن عوام کے لیے ہے،

    بلاول زرداری کا مزید کہناتھا کہ جو غریب ترین طبقہ ہے ہم ٹارگٹ کر کے انکی بجلی کی مد میں مدد کریں گے، 200 سے کم یونٹ جو بجلی استعمال کرتے ہیں انکو سبسڈی پہنچائیں،

    بلاول کا مزید کہنا تھا کہ جب لانگ مارچ لے کر نکلے تھے تو عمران خان کی ٹانگیں کانپے اور کانپیں ٹانگنا شروع ہوگئی تھی،خان صاحب نے اعلان کیا کہ پٹرول کی قیمت میں کمی لےکر آئیں گے، عام آدمی بہت خوش، لیکن پھر انہوں نے معیشت پر حملہ کیا، اس کا خمیازہ آج بھی ہم بھگت رہے ہیں،

    پی آئی اے نجکاری، ملازمین کو 5 سال کی جاب گارنٹی دی جائے،سفارش

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن