Baaghi TV

Tag: بلاول

  • تین پریس کانفرنسیں، منظر نامہ واضح،ن لیگ کا وزیراعظم

    تین پریس کانفرنسیں، منظر نامہ واضح،ن لیگ کا وزیراعظم

    عام انتخابات، کو ن بنے گا وزیراعظم، آج تین سیاسی جماعتوں کی پریس کانفرنسوں سے منظر نامہ واضح ہو گیا ، مسلم لیگ ن حکومت بنائے گی تو وہیں تحریک انصاف اپوزیشن میں بیٹھے گی

    سابق وزیراعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزاد امیدواروں کو حکومت بنانے کی دعوت دی اور ساتھ کہا کہ اگر وہ نہیں بنا سکتے تو ہم سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر حکومت بنائیں گے، تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے، اسکے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری میدان میں آئے، بلاول نے سیاسی چھکا مارا اور وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے، بلاول کا کہنا تھا کہ ہمیں اس فیصلے سے نقصان ہو گا لیکن ہم نے ملک کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا، ملک میں استحکام چاہئے، بلاول پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کی سیٹوں پر حیران نظر آئے اور ساتھ پیغام بھی دیا کہ کراچی میں امن اور ترقی پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا، تحریک انصاف بارے بلاول کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کیساتھ بات نہیں کریں گے اسکا مطلب تحریک انصاف کی حکومت بننے کا امکان ختم ہو گیا،افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پی ٹی آئی آج بھی ایسے فیصلے لے رہی جو جمہوریت کے حق میں نہیں، لوگوں نے ووٹ اس لئے دیا کہ مسائل حل کر سکیں، بات چیت تو کرنی پڑے گی، سنے بغیر اگر وہ اپنے کام کریں گے تو بسم اللہ کریں، لیکن اس کا نقصان ہو گا،

    bilawal

    آٹھ فروری کو ملک بھر میں انتخابات ہوئے، کوئی بھی جماعت نہ تو اکثریت حاصل نہ کر سکی، نہ ہی اس پوزیشن میں دو پارٹیاں ملکر حکومت بنا لیں، اگر آزاد امیدوار اور پیپلز پارٹی مل جاتے تو حکومت بن سکتی تھی تاہم تحریک انصاف نے ہٹ دھرمی دکھائی اور میں نہ مانوں والی کی بات پر قائم رکھی، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے ن لیگ کی حمایت کا فیصلہ کر لیا،اب وزیراعظم مسلم لیگ ن کا ہو گا، ایم کیو ایم بھی مسلم لیگ ن کی حمایت کرے گی اور کابینہ میں بھی شامل ہو گی، جمعیت علماء اسلام کا ابھی تک کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آ سکا

    پنجاب میں ن لیگ حکومت بنائے گی تو سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت بنائے گی، بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ حکومت بنائے تو وہیں ن لیگ بھی حکومت بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جے یو آئی جس پارٹی کا ساتھ دے گی اسکی حکومت بلوچستان میں بن جائے گی،خیبر پختونخوا میں آزاد امیدوار حکومت بنائیں گے،

    وزیراعظم ن لیگ کا ہو گا، لیکن ہو گا کون؟ نواز شریف یا شہباز شریف؟اس حوالہ سے قوی امکان ہے کہ وزیراعظم شہبا ز شریف ہوں گے،الیکشن سے ایک د ن قبل شہباز شریف نے کہا تھاکہ اگر سادہ اکثریت ملی تو نواز شریف وزیراعظم ہوں گے او ر سادہ اکثریت نہ ملی تو پھر پارٹی مشاورت کرے گی،اب ن لیگ نے فیصلہ کرنا ہے کہ وزیراعظم کا امیدوار کون ہو گا،

    پنجاب میں مریم نواز وزارت اعلیٰ کی امیدوار ہیں، قوی امکان ہے کہ وہی وزیراعلیٰ نامزد ہوں گی، مریم نواز قومی اسمبلی کی سیٹ چھوڑ دیں گی جس پر دوبارہ ضمنی الیکشن ہوں گے،سندھ میں سابق وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور فریال تالپور کا نام سامنے آ رہا ہے،خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے علی امین گنڈا پور کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا ہے، بلوچستان میں کون وزیراعلیٰ آتا ہے اس بارے ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا ،پیپلز پارٹی کی جانب سے سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کانام وزیراعلیٰ کے طور پر سامنے آ سکتا ہے.

    تحریک انصاف کے آزاد امیدوار اس وقت قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ ہیں،تحریک انصاف ہٹ دھرمی نہ دکھاتی تو پیپلز پارٹی کے ساتھ ملکر حکومت بنا سکتی تھی اور مستقبل میں کیسز ختم کروا سکتی تھی تا ہم تحریک انصاف نے غلط فیصلہ کیا اور ایسے لگ رہا کہ آنیوالے دنوں میں اب تحریک انصاف کے خلاف مزید کریک ڈاؤن ہوں گے اور مزید سختیاں آنیوالی ہیں، عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس اور نومئی کے مقدمات کا فیصلہ آنا بھی باقی ہے.

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    عام انتخابات 2024 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 93 نشستیں لے کر سب سے آگے ہیں جب کہ مسلم لیگ ن 75 اور پیپلز پارٹی نے اب تک 54 نشستیں حاصل کی ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 17، دیگر آزاد امیدوار 8، مسلم لیگ (ق) 3، جمعیت علمائے اسلام 4، استحکام پاکستان پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے 2، 2 نشستیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ ضیا، نیشنل پارٹی، پشتونخوا نیشل عوامی پارٹی پاکستان، بلوچستان عوامی پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین کے حصے میں ایک ایک نشست آئی۔

  • میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کا امیدوار نہیں ہوں جس کا مینڈیٹ ہے اس کا حق ہے

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس وفاق میں حکومت بنانے کیلئے مینڈیٹ نہیں ہے،خود کو وزیر اعظم کیلئے پیش نہیں کرسکتا،فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کا ساتھ دینا ہے، وقت آ گیا ہے ہم آج بھی کھپے کا نعرہ لگائیں،مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد میں نہیں جاسکتےپیپلز پارٹی کیبنٹ کا حصہ نہیں ہوگی البتہ ن لیگ کے وزیراعظم کو ووٹ دیں گے ، مسلم لیگ ن کے حوالہ سے کمیٹی اجلاس میں دوستوں نے کافی اعتراض کئے، لوگوں نے شکایات کیں کہ انکے کام نہیں ہوئے اٹھارہ ماہ کی حکومت میں، ہم کمیٹی بنا رہے ہیں جو مسلم لیگ ن ، دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کرے گی، اس الیکشن میں بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، ایگزیکٹو کمیٹی میں اراکین نے اعتراض شیئر کئے، لیول پلینگ فیلڈ کی بات ہے،تو اس پر ایک یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی احتجاج کے ساتھ تمام نتائج ملک کے لئے قبول کرے گی،ماضی کی طرح بھی الیکشن رزلٹ پر سوالات اٹھائے ،اگر کوئی سیاسی جماعت حکومت نہ بنا سکی تو دوبارہ انتخابات جانا پڑے گا،پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ ہم پیپلز پارٹی کیساتھ بات نہیں کریں گے اسکا مطلب تحریک انصاف کی حکومت بننے کا امکان ختم ہو گیا مسلم لیگ ن واحد جماعت ہے جس نے نیشنل اسمبلی میں ہم سے زیادہ سیٹیں لی ہیں،

    سیاسی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے،میرا نہیں خیال کہ اپوزیشن لیڈر بن سکوں، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سازی کے لیے ن لیگ کو ووٹ دیں گے ،صرف مسلم لیگ نے ہی ہم سے رابطہ کیا ہے،سیاسی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے،اس وقت کوئی بھی سیاسی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں،دوبارہ الیکشن کی طرف نہیں جانا چاہتے اگر جائیں گے تو پہلے بھی ہمارے لوگ شہید ہوئے، دوبارہ الیکشن نظر ہو گئے تو بھی کوئی سیاسی جماعت قبول نہیں کرے گی، پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ملکر کام کریں،افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پی ٹی آئی آج بھی ایسے فیصلے لے رہی جو جمہوریت کے حق میں نہیں، لوگوں نے ووٹ اس لئے دیا کہ مسائل حل کر سکیں، بات چیت تو کرنی پڑے گی، سنے بغیر اگر وہ اپنے کام کریں گے تو بسم اللہ کریں، لیکن اس کا نقصان ہو گا، پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جو ملک کے حالات ہوں عوام پیپلز پارٹی کی طرف دیکھیں ،آج پیپلز پارٹی پاکستان کھپے کا نعرہ لگا رہی ہے، پیپلز پارٹی حکومت میں وزارتیں نہیں لے گی، پیپلز پارٹی اپنے منشور پر عمل کروائے گی اور اہم معاملات پر حکومت کا ساتھ دے گی، اپوزیشن لیڈر میرا نہیں خیال کہ میں بن سکوں،

    صدر زرداری اگلے صدر مملکت پاکستان کے امیدوار ہوں گے، بلاول
    بلاول کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کوشش کریں گے کہ پیپلز پارٹی حکومت بنائے، پی ڈی ایم پارٹ ٹو اب نہیں بنے گا، پیپلز پارٹی بجٹ و دیگر معاملات پر حکومت کا ساتھ دے گی، پیپلز پارٹی صدر، چیئرمین سینیٹ، سپیکر شپ کے لئے اپنے امیدوار کھڑے کرے گی، ن لیگ یا کسی بھی جماعت کا وزیراعظم کا امیدوار، وہ انکا ہی فیصلہ ہے،ہمارے فیصلے متفقہ ہوں گے، خواہش ہیں کہ صدر کے الیکشن ہوں تو صدر زرداری حصہ لیں اور صدر بنیں، پاکستان جل رہا ہے اگر کوئی صلاحیت رکھتا ہے اس آگ کو بجھانے کی تو وہ آصف زرداری نہیں ، اس ملک کے لئے ضروری ہے کہ آصف زرداری وفاق کا عہدہ سنبھالیں،

    ن لیگ، تحریک انصاف سمیت سب سیاسی جماعتیں اپنا نہیں ملک کا سوچیں، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہیں گے کہ پارلیمنٹ مدت مکمل کرے اور وزیراعظم بھی اپنا ٹرم مکمل کرے،اگر جو بھی ن لیگ کا وزیراعظم کا امیدوار ہے اگر وہ پرانی سیاست کرے گا، نفرت ،تقسیم کی سیاست کرنی ہے تو میرا خیال ہے بہت مشکل ہو گا، اب بہت ضروری ہے کہ نہ صرف مسلم لیگ بلکہ تمام سیاسی جماعتیں، تحریک انصاف بھی اپنے لئے نہ سوچیں، پاکستان کی فکر کریں، جو ماحول بن رہا ہے اس ماحول کا فائدہ ملک کے دشمن اٹھانا چاہیں گے،ہم سیاست کریں ، سیاست کے دائرے میں رہ کر سیاست کریں انتہا پسندی کی سیاست چھوڑیں، ذاتی انتقام کی سیاست چھوڑنی پڑے گی، الیکشن مہم کے دوران تنقید کرنی پڑتی ہے، ن لیگ کے خلاف جو مہم چلائی وہ چلانی پڑتی ہے، تنقید کرنا یہ جمہوریت کا حصہ ہے، الیکشن کے دوران ذمہ داری ہے کہ دوسروں کی کوتاہیاں سامنے لائیں، عوام کو بتائیں،اب اگر ن لیگ یا پی ٹی آئی کو بلیک میل کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے ، ہم نے جو فیصلہ کیا اس سے ہمیں ضرور نقصان ہو گا، اس فیصلے میں میرا سیاسی نقصان ہوسکتا ہے لیکن ملک کی بربادی نہیں ہونی چاہیےہم نے پاکستان کے عوام کی خاطر فیصلہ کیا میرے کارکنان، خاندان نے شہادتیں دیں،پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ایک سازش کے تحت ہرایا گیا،پیپلز پارٹی کے ساتھ اس الیکشن میں جو ہوا اس کا فیصلہ کرنا پڑے گا، بار بار ہم جمہوریت کی خاطر قربانی دیتے رہیں اور ہمارے ساتھ یہ سلوک ہوتا رہے، آج فارم 45 کیوں ملتے ہیں، بینظیر نے مشرف کے دور میں یہ فارم 45 والا کام کروایا،کس نے کہا پی ٹی آئی کومیدان چھوڑے، آپ چاہتے ہو پیپلز پارٹی انتہا پسندی کی سیاست کرے، وہ نہیں ہو سکتا، میں نے اپنی مہم اور سیاست میں ثابت کر دیا کہ باقی سیاستدان عمر میں ضرور بڑے ہوں گے لیکن میں نے ملک کے لئے اچھا فیصلہ کیا،

    ایم کیو ایم کو 18 سیٹیں دیں یا 50 ،کراچی کی ترقی اور امن پر کمپرومائز نہیں کریں گے، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کو چلانا ہے اور اسےاستحکام دلانا ہے،پاکستان کی سیاسی جماعتیں ایسا الیکٹورل سسٹم بنائیں کہ اس پر کوئی بھی انگلی نہ اٹھا سکے،تحریک انصاف آج بھی ایسے فیصلے کررہی ہے جو جمہوریت کے حق میں نہیں ،پیپلز پارٹی ایک سنجیدہ جماعت ہے جو پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے،ایم کیو ایم کو 18 سیٹیں؟میرا بھی یہ سوال ہے، ہمارے اعتراض ہیں انکا جواب چاہئے، جو دہشت گردی میں ملوث لوگ ہیں مجھے بتایا گیا کہ جو انکے دہشت گرد لوگ تھے انکو بھی الیکشن میں آزاد کروایا گیا ہمارے لوگوں پر حملے ہوئے، فائرنگ ہوئی، آپ انکو 18 سیٹ دیں یا 50 دیں ہم کراچی کے امن اور ترقی پر کمپرومائز نہیں کریں گے، انکو پیغام دیں گے کہ نفرت کی بنیاد پر شہر کو تقسیم نہ کریں،پیپلز پارٹی ملک میں مزید افرا تفری نہیں چاہتی.

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

  • میں اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی فیصلے کااعلان کرسکوں،بلاول بھٹو

    میں اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی فیصلے کااعلان کرسکوں،بلاول بھٹو

    لاہور: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ وفاق،بلوچستان اورپنجاب میں پیپلزپارٹی کےبغیرحکومت نہیں بن سکتی۔

    باغی ٹی وی : بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام چاہتے ہیں، پہلے مکمل نتائج سامنے آجائیں اس کے بعد سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس بلاکر مل کر اتفاق رائےسےفیصلہ کریں گے،میں اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی فیصلے کااعلان کرسکوں،جوہونا تھا وہ ہوچکا، ملک کےمفاد میں ہےکہ سیاسی طورپر اتفاق پیداکرنے کی کوشش کریں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اکیلے تو حکومت نہیں بناسکوں گا مگر وفاق،بلوچستان اورپنجاب میں پیپلزپارٹی کے بغیرحکومت نہیں بن سکتی، انہوں نے کہا کہ آزاد امیدوار کیا فیصلے کرتے ہیں،اس پر بھی عوام کی نظر ہے سیاسی عدم استحکام کو حل کیے بغیر بننے والی حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے میں مشکل ہوگی، ہم نےاسپتال،اسکول پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کےتحت قائم کیے، میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پریقین رکھتاہوں۔

  • پیپلز پارٹی کا مستقبل روشن ہے،آصف زرداری

    پیپلز پارٹی کا مستقبل روشن ہے،آصف زرداری

    نواب شاہ ۔سابق صدر آصف زرداری نے ووٹ کاسٹ کر دیا
    سابق صدر آصف علی زرداری نے پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول ایل بی او ڈی کالونی میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا،آصف علی زرداری کاووٹر لسٹ میں سلسلہ نمبر 41,گھرانہ نمبر 11 ہے ، آصف علی زرداری کی پولنگ اسٹیشن آمد پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے، ووٹ کے وقت آصف علی زرداری کے سیکیورٹی پر مامور عملے نے پولنگ اسٹیشن و پولنگ بوتھ کو اپنے سیکیورٹی حصار میں لے رکھا تھا،سابق صدر آصف علی زرداری لوگوں کے نعروں کا جواب دیتے رہے،پولنگ اسٹیشن کے باہر پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالوں نے سابق صدر آصف علی زرداری کو دیکھ کر جئے بھٹو کے پرجوش نعرے لگائے.

    اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ پیپلز پارٹی کلین سوئپ کرے گی، پیپلز پارٹی کا مستقبل روشن ہے، پیپلز پارٹی نے عوام دوست منشور دیا ہے،پیپلز پارٹی کے سوا کسی جماعت نے عوام دوست منشور نہیں دیا

    قبل ازیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی نوڈیرو کے مچھی مارکیٹ محلہ میں قائم گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول تھری میں ووٹ کاسٹ کر دیا،اس موقع پر بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام سے درخواست ہے کہ ووٹ کے لئے باہر نکلیں اور اپنا ووٹ کاسٹ کریں،

    واضح رہے کہ عام انتخابات، پاکستان بھر میں پولنگ کا عمل جاری ہے ووٹ حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، ملک بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ، پولنگ کا عمل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

  • بلاول کا موبائل فون سروس بحالی کا مطالبہ

    بلاول کا موبائل فون سروس بحالی کا مطالبہ

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے موبائل سروس کی فوری بحالی کا مطالبہ کردیا

    پیپلزپارٹی نے موبائل فون سروس بحالی کے لیے الیکشن کمیشن اور عدالت سے فوری رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بلاول کا کہنا ہے کہ موبائل فون سروس فورا بحال کی جائے ،پارٹی کوہدایت کی ہے کہ فوری عدالت سے رجوع کریں ،پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کا کہنا تھا کہ الیکشن کے دن موبائل بند کرنا درست عمل نہیں ، الیکشن کمیشن سے درخواست ہے کہ فوری موبائل سروس بحال کی جائے،موبائل بند کرنا غیر دانشمندانہ عمل ہے کوئی حادثہ ہوجائے تو کسی سے رابطہ بھی ممکن نہیں ہوسکتا.

    موبائل سروس کی بندش، پیپلز پارٹی کا چیف جسٹس کو خط
    پیپلزپارٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ دیا،پیپلزپارٹی کے الیکشن سیل انچارج سینیٹر تاج حیدر کی جانب سے خط لکھا گیا ہے ،خط میں موبائل سروس بند ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے،پیپلزپارٹی کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان سے تمام تر معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے ،خط میں پولنگ کے دن سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2018 کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے ،خط میں کہا گیا ہے کہ موبائل سروس اور انٹرنیٹ بند ہونے سے ووٹرز ،امیدواروں اور انتخابی عملے کو مشکلات کا سامنا ہے ،ووٹرز کو اپنے پولنگ اسٹیشن سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں دشواری ہو رہی ہے ،جن علاقوں میں سیکورٹی کے خدشات ہیں وہاں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں مسائل کا سامنا ہے ،سیکورٹی کے عدم موجودگی کے باعث میر پور خاص میں ہمارا ایک کارکن بھی شہید ہوا ہے ،پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتیں موبائل سروس کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہیں،موبائل سروس بند ہونے انتخابی ٹرن آؤٹ بھی متاثر ہوگا ،الیکشن کمیشن کو موبائل سروس کی بحالی سے متعلق ہدایات جاری کی جائیں

    پیپلزپارٹی نے موبائل فون سروس بحال کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا
    خط سینیٹر تاج حیدر کی جانب سے لکھا گیا، خط میں کہا گیا کہ ملک بھر میں موبائل فون سگلنز کی غیر اعلانیہ بندش باعث تشویش ہے،موبائل فون کی بندش انتخابات پر بری طرح اثرانداز ہو رہی ہے،ووٹرز کو اپنے پولنگ سٹیشن سے متعلق معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے،ووٹرز کے ساتھ ساتھ امیدوار اور پولنگ عملہ بھی پریشانی میں مبتلا ہے،موبائل نیٹ ورک کی بندش سے ٹرن آئوٹ پر شدید اثر پڑے گا، صاف اور شفاف انتخابات کے لیے موبائل سروس فوری بحال کی جائے،

    موبائل سروس بندش پر سینیٹر مشاہد حسین کا ردعمل
    مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ موبائل فون بندش سے لگتا ہے کہ کوئی غیر معمولی حالت بنی ہوئی ہے، یہ الیکشن پراسس ہے اور یہ معمول کا دن ہے، انتظامات اچھے ہیں، سکون سے ووٹ کاسٹ کیا ہے، سب کے پولنگ ایجنٹس موجود ہیں، پولنگ سے پہلے جو ہوا سب ہی کو علم ہے، 8 فروری آہی گیا، خدا خدا کر کے الیکشن ہو رہے ہیں،پہلے کافی ابہام تھا، لیول پلیئنگ فیلڈ تو نہیں دی گئی، پھر بھی تیسری دنیا میں لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع ملتا ہے

    الیکشن کے دن موبائل فون سروس کا بند کرنا شدید شکوک و شبہات کا باعث ہے،پیپلز پارٹی
    پی پی پی خیبرپختونخوا کے صدر سید محمد علی شاہ باچہ نے موبائل فون سروس بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں موبائل فون بند کرنا الیکشن دھاندلی کی مترادف ہے، موبائل سروس متاثر ہونے پر شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، دھونس اور دھاندلی کے الیکشنز کسی صورت منظور نہیں کیئے جائیں گے، عوام کے ووٹ پر ڈاکہ کسی صورت برداشت نہیں کرینگے، الیکشن کے دن موبائل فون سروس کا بند کرنا شدید شکوک و شبہات کا باعث ہے،نگراں حکومت موبائل فون سروس فورا بحال کرے،

    موبائل سروس کی بندش ،دھاندلی کی ابتدا ہے،حامد میر
    سینئر صحافی حامد میر کہتے ہیں کہ سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ الیکشن تک انٹرنیٹ سروسز کو معطل نہ کیا جائے لیکن عدالت کے حکم کو اپنے بوٹ تلے مسلتے ہوئے انٹرنیٹ سروسز اور موبائل فون سروس معطل کر دی گئی 8300 کی سہولت بیکار ہو گئی یہ سب دھاندلی کی ابتدا ہے لیکن آپ اپنا ووٹ ضرور ڈالیں

    موبائل سروس بند کرنا دھاندلی کی ابتدا ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر
    انتخابات کے روز ملک بھر میں موبائل سروس بند ہونے پر مصطفی نواز کھوکھر خاموش نہ رہ سکے، کہتے ہیں کہ ملک بھر میں موبائل فون بند کرنا، دھاندلی کی ابتدا ہے، اسلام آباد کے دو حلقوں این اے 47، 48 سے آزاد امیدوار مصطفی نواز کھوکھر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ امیدواروں کا اپنے ایجنٹس اور انتخابی مشینری سے رابطہ کاٹنا سرا سر زیادتی ہے، کچھ عرصہ سے پولیس گردی کا بھی سامنا ہے، جب کہیں سے اطلاع آئے گی دیر ہو چکی ہو گی، دھونس اور دھاندلی کے الیکشنز نا منظور

    واضح رہے کہ نگران حکومت اپنے وعدوں سے مکر گئی، کہا جا رہا تھا کہ انتخابات کے روزموبائل سروس کو بند نہیں کیا جائے گا تاہم ملک بھر میں موبائل سروس بند کر دی گئی، جس سے ووٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، پشاور اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کی سروس بند ہو چکی ہے،ترجمان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ملک میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے،امن و امان قائم رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

  • نواز شریف نے اخبارات میں اشتہار دئیے کہ وہ خود ساختہ وزیراعظم ہیں،پلوشہ خان

    نواز شریف نے اخبارات میں اشتہار دئیے کہ وہ خود ساختہ وزیراعظم ہیں،پلوشہ خان

    پیپلز پارٹی کی رہنما پلوشہ خان نے کہا کہ بلاول بھٹوزرداری نے گزشتہ دن دو ٹوک بات کی کہ کسی مینڈیٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے ،

    پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ مینڈیٹ چوری کیا گیا تو ان پیچھا کریں گے کہ وہ بیرون ملک چلے جائیں گے ، نواز شریف کا ووٹ شیر پر نہیں عقاب کو جائے گا ،ن لیگ نواز شریف کے خود ساختہ نعرے سے وزیراعظم کا نعرہ لگا رہے ہیں ، ن لیگ کی فتح کے اعلان کو مسترد کرتے ہیں ، ن لیگ آج تک پنجاب سے باہر نہیں نکلی ، ن لیگ پنجاب کو مشکل میں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، جو بڑے بڑے نعرے لگا رہے ہیں ان سے پوچھئے کے جمہوریت بہترین انتقام ہے، سب جماعتیں کمپین میں مصروف تھی کی میاں نواز شریف نے اخبارات میں اشتہار دئیے کہ وہ خود ساختہ وزیراعظم ہیں، معاملات پہلے سے طے ہونے کے ثبوت ہیں تاثر دے رہے ہیں پنجاب ان کے ساتھ ہے، پنجاب کسی کی جاگیر نہیں آپ دو بار اس کو چھوڑ کر وطن سے باہر گئے ہیں، وہ شخص جس نے پی آئی اے کا بیڑہ غرق کیا وہ کس منہ سے بات کر رہا ہے، ایک سیاسی جماعت پاکستانی اداروں کو خراب کرنے کا سوچ رہی ہے، آنے والے کل میں کوئی بدمعاشی برداشت نہیں کریں گے،الیکشن والے دن انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے تو خدشہ ہے کوئی ورادت ڈالیں گے ، الیکشن والے دن نیٹ کی بندش نا قابلِ قبول ہے ،

    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ن لیگ کی طرف سے دیے گئے اشتہار کا نوٹس لے ،کل کسی قسم کی دھاندلی اور دھونس کو قبول نہیں کیا جائے گا.گا نو مئی والے آج ن لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں،مسلم لیگ نون کی طرف سے اشتہاری مہم عوام کو گمراہ کرنے کی چالاکی ہے ،مسلم لیگ نون نے جعلسازی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ،نواز شریف کو جتنی جلدی ملک چھوڑ کر بھاگنے کی تھی اتنی ہی وزیراعظم بننے کی

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

  • بلاول کی انتخابی اہلیت الیکشن سے دو دن قبل سپریم کورٹ میں چیلنج

    بلاول کی انتخابی اہلیت الیکشن سے دو دن قبل سپریم کورٹ میں چیلنج

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی انتخابی اہلیت الیکشن سے دو دن قبل سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلاول پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین ہیں جس کا انتخابی نشان تلوار ہے، بلاول بھٹو انتخابات میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے ٹکٹ پر تیر کے نشان پر حصہ لے رہے ہیں، کوئی شخص بیک وقت دو جماعتوں کا ممبر نہیں رہ سکتا،شاہ محمد زمان نامی شہری نے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے قانون کا درست جائزہ نہیں لیا۔اپیل میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی،اپیل میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ بلاول بھٹو کو تیر کے نشان پر الیکشن لڑنے سے روکا جائے

    واضح رہے کہ بلاول زرداری لاہور کے حلقہ این اے 127 اور لاڑکانہ سے الیکشن لڑ رہے ہیں، لاہور میں ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ بلاول کے مقابلے میں ہیں،بلاول نے پاکستان بھر میں پیپلز پارٹی کی بھر پور انتخابی مہم چلائی ہے، این اے 127 میں ن لیگ نے بلاول پر ووٹ خریدنے کا الزام بھی عائد کیا ہے، وہیں پیپلز پارٹی کے دفاتر پر ن لیگی رہنما عطا تارڑ کی جانب سے حملہ بھی کیا گیا، جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا ہے.

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، کے پی میں جرمانے، وارننگ نوٹس

  • مخالفین کے حملوں سے یقین ہوتا ہے بلاول  جیت چکے ہیں، شیری رحمان

    مخالفین کے حملوں سے یقین ہوتا ہے بلاول جیت چکے ہیں، شیری رحمان

    سابق وفاقی وزیر ، پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کسی پارٹی میں تفریق نہ کرے ، مستونگ سے لے کر یہاں تک جو پی پی پر حملے ہورہے ہیں انکا نوٹس لیں ،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ این اے 127 مین ہمارے دفتر پر حملہ ہوا قانون اسکی اجازت نہیں دیتا ،دھونس دھمکی کے ساتھ الیکشن نہیں ہوتے پیپلز پارٹی ایسے ہتھکنڈوں سے کبھی نہیں ڈری ،لاہور کسی کی ملکیت اور جاگیر نہیں ہے پاکستان بھی کسی کی جاگیر نہیں ہے ،لوگوں کو ووٹوں کا حق دیں یہ انکا قانونی حق ہے،یہ الیکشن ہے چناو ہے یہ دنگل نہیں ہے،ہم نے شہادتیں دیں ہیں ہم ڈرتے نہیں ہیں،ہم نفرت اور سیاست کی تقسیم نہیں چاہتے ، این اے127 میں عطاتارڑ کے چیلے بار بار حملے کر رہے ہیں،پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم کامیابی سے جاری ہے، بلاول بھٹو نفرت اور تقسیم کی سیاست ختم کرنا چاہتے ہیں، ملک میں تقسیم کی سیاست سے گریز کریں،مخالفین کے حملوں سے یقین ہوتا ہے بلاول بھٹو جیت چکے ہیں۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ لاہور کے لوگ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جیسی نئی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں،عوام نئی سوچ اور نئے نظریہ کی طرف دیکھ رہے ہیں،نفرت، تقسیم اور گالم گلوچ کی سیاست نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا ہے،مجھے یقین ہے 8 فروری کو این اے 127 کی باشعور عوام روایتی نہیں بلکہ نئی سوچ کا انتخاب کرے گی،

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، کے پی میں جرمانے، وارننگ نوٹس

  • بلاول شادی کب کر رہے؟ خود ہی بتا دیا

    بلاول شادی کب کر رہے؟ خود ہی بتا دیا

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کے نامزد امیدوار بلاول زرداری نے اپنی شادی بارے خود ہی خبر دے دی

    نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں بلاول نے اپنی شادی بارے سوالات کے جوابات دیئے،بلاول زرداری سے جب انکی شادی کے بارے میں سوال کیا گیا تو پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ "اس وقت شادی کا امکان نہیں، کم از کم الیکشن تک تو میری شادی نہیں دیکھ سکتے” بلاول سے جب محبت بارے سوال کیا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا آپکو کبھی محبت ہوئی، بلاول نے جواب دیا ” یہ چیز تو ابھی آگے جا کر ہونی ہے”۔

    بلاول زرداری نے عمران خان بارے سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان کو نفرت کی سیاست چھوڑ کر جمہوری سیاست کی طرف آنا چاہئے، پاکستانی قوم اس وقت جن مسائل اور مشکلات میں مبتلا ہے، اس کو دیکھ کر میرا دل بہت دکھی ہوتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات سب سے زیادہ مایوس کن ہیں

    واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر 2023 میں یہ خبر آئی تھی کی بلاول کے لئے دلہن تلاش کر لی گئی ہے ، انکی منگنی کراچی یا یو اے ای میں ہو گی،تاہم حتمی امکان سامنے نہیں آ سکا، یہ کہا گیا تھا کہ بلاول کے لئے دلہن انکی بہنوں آصفہ اور بختاور نے پسند کی ہے،بختاور کے سسر محمود نے بھی اس ضمن میں مدد کی ،یہ بھی کہا گیا تھا کہ بلاول کی ہونیوالی بیوی کا تعلق سندھ سے ہے اور لڑکی کا خاندان متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے،تاہم ا ب دیکھتے ہیں بلاول وزیراعظم کے خواہشمند ہیں وہ پہلے وزیراعظم کی شیروانی پہنتے ہیں یا دلہا کی؟

    واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان نے 2019 میں پیشگوئی کی تھی کہ بلاول وزیر اعظم بننے کے بعد شادی کر لیں گے۔

    اس سے قبل 2016 میں بلاول بھٹو نے اپنی ہونے والی دلہن کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ  میری شادی اس لڑکی سے ہوگی جو سب سے پہلے میری بہنوں کا دل جیتے، مجھے اس حوالے سے بہنوں کو اعتماد میں لینا ہوگا‘جبکہ میری بہنوں کا دل جیتنا کسی بھی لڑکی کے لیے کافی مشکل کام ہوگا۔

    جبکہ جے یو آئی ف کے رہنما اور سینیٹر حافظ حمداللہ نے 2016 میں بلاول بھٹو کو شادی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بلاول بھٹو جتنی جلدی شادی کر سکتے ہیں کرلیں، نکاح مولانا فضل الرحمان سے پڑھوائیں انہوں نےکہا تھا کہ بلاول بھٹوسوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کیونکہ شادی عمرانی معاہدہ ہے، وہ 4 چیزوں نسب، مال، خوبصورتی اور دین داری کو سامنے رکھ کر شادی کریں۔

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    عمران بشریٰ شادی،عمران جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے، سب سامنے آ گیا

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، کے پی میں جرمانے، وارننگ نوٹس

  • وزیر اعظم بن کر بلوچستان کے لاپتا افراد کا مسئلہ حل کروں گا۔بلاول

    وزیر اعظم بن کر بلوچستان کے لاپتا افراد کا مسئلہ حل کروں گا۔بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے خضدار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک بار پھر بلوچستان کی سرزمین پر کھڑا ہوں،آج خضدار میں بلوچ بھائیوں اور بہنوں کے درمیان کھڑا ہوں

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ کچھ قوتیں پاکستان پیپلزپارٹی کو نشانہ بنائے ہوئےہیں ،وہ قوتیں نہیں چاہتیں کہ پیپلزپارٹی بلوچستان میں حکومت بنائے،وہ قوتیں نہیں چاہتیں کہ پیپلزپارٹی وفاق میں حکومت بنائے،وزیراعظم، وزیراعلیٰ بلوچستان جیالہ بنتا ہے تو ان کی سازشیں ناکام ہوں گی،وہ جانتے ہیں کہ میری رگوں میں بلوچ کا خون دوڑتا ہے،جس طرح میں بلوچستان کا دکھ درد سمجھتا ہوں یہ احساس کسی اور سیاستدان میں نہیں،وہ جانتے ہیں میں بینظیر کا بیٹا ہوں اور بلوچستان کے شہدا کا دکھ سمجھتا ہوں،وہ جانتے ہیں میں بلوچستان کے عوام کے مسائل جانتا ہوںموہ جانتے ہیں دہشت گردوں کا مقابلہ اور لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل بھی نکال سکتا ہوں،بلوچ عوام، وفاق میں دراڑیں ڈالنے کی سازش بھی بلاول ناکام کرے گا،وہ جانتے ہیں ہم نفرت کی سیاست نہیں کرتے، بلاتفریق خدمت کرتے ہیں،تمام قوتوں کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں مگر عوام کے حق پر سودا نہیں کرسکتے،وہ جانتے ہیں پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جو بلوچستان کو حق دلا سکتی ہے،وہ جانتے ہیں پیپلزپارٹی بلوچستان میں غربت، بیروزگاری کا خاتمہ کرسکتی ہے،نفرت، تقسیم، دہشت گردی کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں یہ بچہ ہے ڈر جائے گا.

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیموں نے پیپلز پارٹی امیدواروں پر حملے کیے، مستونگ، بولان، تربت میں میرے امیدواروں پر حملے ہوئے،ہمارا کارکن شہید ہوا، کوئٹہ میں پی پی صوبائی صدر پر حملہ ہوا،خضدار میں بھی ہمارے امیدوار پر حملہ ہوا،ان کا خیال تھا پیپلزپارٹی کے جیالے اور ہم حملوں سے خوفزدہ ہوجائیں گے لیکن ہم ڈرنے والے نہیں،اگر صدر زرداری کی اٹھارویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور آغاز حقوق بلوچستان پر عمل ہوتا تو آج پکنے والی تمام سازشیں ختم ہو جاتیں،ہم عوام کی طاقت سے تمام قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن عوام کے حق پر سودا نہیں کریں گے۔ بندوق کے زور پر تمام مسئلے حل نہیں کر سکتے تمام مسائل کا حل خود نکال لوں گا،آپ اپنی سیاست کریں ،پر امن طریقے سے تحریکیں چلائیں ،وزیر اعظم بن کر بلوچستان کے لاپتا افراد کا مسئلہ حل کروں گا۔دہشت گردی کا سر اٹھ رہا ہے ،میں خود دہشت گردوں کا سر کاٹوں گا،ان کی حرکتوں کی وجہ سے سب کچھ مہنگا ہوچکا صرف عوام کا خون سستا ہے ،وزیر اعظم بنا تو بلوچستان کے عوام کو معلوم ہوگاکہ ان کا نمائندہ وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھا ہے ،8 فروری کو بلوچستان میں تیروں کی بارش ہو گی ،اگر میں لاہور سے الیکشن لڑ رہا ہوں تو آپ کا نمائندہ بن کر الیکشن لڑ رہا ہوں ،ہمارا سر کٹ تو سکتا ہے لیکن کسی دہشت گرد کے سامنے جھک نہیں سکتا ،

    عمران خان کیخلاف بات کرنے پر پی ٹی آئی رہنما نے امام مسجد کو منافق کہہ دیا

    میں وعدے کر کے یوٹرن نہیں لیتا تھا، نواز شریف

    خیبر پختونخوا والو، آپ بھی جھوٹے شخص کے جھانسے میں آگئے؟ نواز شریف کا سوال

    مریم نواز کے جلسے میں پارٹی پرچم پھاڑنے والے طالب علموں پر مقدمہ درج

     نواز شریف کے مخالف عبرت ناک انجام کو پہنچ رہے ہیں

    پاکستان کو نواز دو کے سلوگن سے مسلم لیگ ن نے انتخابی منشور جاری 

    ہم ووٹ مانگنے جاتے تو لوگ خواجہ سرا سمجھ کر 50 کا نوٹ دیتے، نایاب علی

     پرانے سیاستدان عوامی خدمت کے بجائے ذات کیلئے سیاست کررہے ہیں