Baaghi TV

Tag: بلاگ

  • متنازع ترین "پرموشن بورڈ”   تحریر:ملک محمد سلمان

    متنازع ترین "پرموشن بورڈ” تحریر:ملک محمد سلمان

    متنازع ترین "پرموشن بورڈ”

    جناب شہباز شریف میں جب کبھی بھی آپ کے حوالے سے کالم لکھتا تھا تو سب سے زیادہ فیڈبیک بیوروکریسی کی طرف سے آتا تھا اگر کوئی پہلو ڈسکس نہیں ہوتا تھا تو یہی افسران تفصیل سے اگاہ کرتے کہ شہباز صاحب یہ اصلاحات اور کام بھی کررہے ہیں اگلی دفعہ ان اقدامات کو لازمی مینشن کریے گا۔ جب سے ہائی پاور اور سینٹرل سلیکشن بورڈ ہوا ہے ہر طرف خاموشی ہے، جواب میں اداس ایموجیز کا ہی ریپلائی ملتا ہے۔ مایوسی اور نا امیدی کی یہ لہر صرف ترقی سے محروم افسران تک محدود نہیں رہی بلکہ بیوروکریسی کی اکثریت شدید پریشان ہے اور ایسی بے توقیر اور بے یقینی والی نوکری سے رخصت لیکر بیرون ملک جانے کا سوچ رہے ہیں۔ ہائی پاور بورڈ سے لیکر سینٹرل سلیکشن بورڈتک “پک اینڈ چوز“ نے اہم ترین بورڈز کو ”سلاٹر ہاؤس“ میں بدل دیا۔

    جن افسران کو ناحق ترقی سے محروم کیا گیا ہے وہ سخت اذیت اور صدمے میں ہیں۔ بیوروکریسی کی اکثریت چہہ مگوئیاں کرتی پھر رہی ہے کہ شہباز شریف نے بیوروکریسی کو فلاں سابق افسر کو ٹھیکے پر دے دیا ہے۔ جناب شہباز شریف آپ جیسا باخبر، ذہین اور میرٹ پسند حاکم پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کی حامل بیوروکریسی کے معاملات کو چند افراد کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ جناب وزیراعظم آپ کے بارے تو بیوروکریسی کا پختہ یقین رہا ہے کہ شہباز شریف کے ہوتے ہوئے ہمیشہ میرٹ کا بول بالا ہوتا ہے۔

    جناب شہباز شریف جب آپ ناحق قید تھے تو افسران کو آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے اور ثبوت فراہم کرنے کے بدلے اچھی پوسٹنگ آفر ہوتی تھیں تو یہ وہی افسران ہیں جو اصولی مؤقف پر ڈٹ گئے تھے کہ جب شہباز شریف نے انہیں کبھی خلاف میرٹ کوئی کام کہا ہی نہیں تو وہ صرف اچھی پوسٹنگ کے حصول کیلئے پنجاب کی تعمیروترقی کے ریکارڈ قائم کرنے والے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف کیونکر بیان دیں، اگر حکومت کو پوسٹنگ دینی ہے تو قابلیت کی بنیاد پر دیں، وہ میرٹ پر بہترین کام کرکے دکھائیں گے۔

    آج ان تمام افسران کو اس اصول پسندی کا یہ صلہ ملنا تھا؟
    جناب وزیراعظم آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بننے والے افسران کی پی ٹی آئی حکومت میں رپورٹس خراب کیں گئیں۔ اس وقت کی رپورٹ کی بنیاد پر آج ان افسران کا پرموشن لسٹ میں نہ ہونا وفاداری کرنے والوں کیلئے بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے. کچھ افسران کی ”ٹارگٹ کلنگ“ کیلئے نئی رپورٹس کی بجائے پرانی رپورٹس پیش کی گئیں جو اس گریڈ میں ترقی کیلئے ریلیوینٹ ہی نہیں تھیں جبکہ کچھ افسران کو ترقی سے محروم کرنے کیلئے خود سے”فرمائشی رپورٹیں“ تیار کروائی گئیں۔ بیوروکریسی کا یہ مطالبہ ہے کہ فرضی اور جعلی رپورٹس کی بجائے سب کو قابل قبول سپیشل ویٹنگ ایجنسی کے طور پر آئی ایس آئی کی رپورٹ پر فیصلہ کریں۔

    ڈی جی آئی بی فواد اسد اللہ کے حوالے سے بیوروکریسی کے گروپس میں شدید بحث اور تنقید کی جارہی ہے بیوروکریسی نے وزیر اعظم اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ہائی پاور سلیکشن بورڈ اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلوں پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہوئے متنازع ترین ڈی جی آئی بی اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ایسے حالات میں جب وطن عزیز کو معاشی اور ملکی سلامتی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل سے نمٹنے کیلئے یہی بیوروکریسی ہراول دستہ ہیں۔

    جناب وزیراعظم اگر افسران خود ترقی سے محروم ہوں گے تو عام عوام کیلئے خلوص نیت سے کیسے کام کر سکیں گے؟ جناب وزیراعظم، پاکستان کی تاریخ کے متنازع ترین پرموشن بورڈ کا ”ریویو“ کیے بنا یہ بورڈ سیاست اور سول سروس کے نام پر کلنک کا داغ بن کر رہ جائے گا۔

    وزیر اعظم کو مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سول سروس اور پاکستان کو تباہی سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
    ملکی باگ ڈور چند افراد کے حوالے کرنے کی بجائے ہر کسی کے اختیارات کا تعین کیا جائے۔ پختہ شواہد کے بغیر کسی کو بھی ترقی سے محروم نہ کیا جائے۔ صوبائی سروس کے افسران کی بیچارگی بھی ختم کرنا ہوگی جو ٹریننگ مکمل کرنے کے باوجود پرموشن بورڈ کی راہ تک رہے ہیں۔

    چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم پاکستان کو ترقی و کامیابی کی منزلوں پر لے جانے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں خدارا! چیف آف آرمی سٹاف کی کوششوں کو رائیگاں نہ کریں۔

    پی ٹی آئی کا قریبی ہونے جیسے بیہودہ الزامات لگا کر پرموشن اور پوسٹنگ سے محروم رکھنا، ارباب حکومت کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت بھی فیصلہ سازی سے لیکر کمائی والی تمام سیٹوں پر تو بزدار حکومت میں اہم سیٹوں پر رہنے والے براجمان ہیں پھر پرموٹ نہ ہونے والے، او ایس ڈی اور کھڈے لائن کیے افسران کا کیا قصور ہے؟

    حالیہ تعیناتیوں میں ٹریفک پولیس سمیت جو افسران فرائض سے غفلت برت رہے ہیں اور کرپشن کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں انکو عہدے سے کیوں نہیں ہٹایا جارہا۔ جو کرپٹ ہے اس کی سزا صرف ترقی نہ دینا کیوں؟ کرپٹ افراد کو نہ صرف نوکری سے نکالا جائے بلکہ لوٹی ہوئی رقم جرمانہ سمیت واپس لی جائے۔

    ملک محمد سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • بن تیری دید کیسی عید ، تحریر : ملک سلمان

    بن تیری دید کیسی عید ، تحریر : ملک سلمان

    بن تیری دید کیسی عید

    آج عید کا دن ہے لیکن ابو،بہن بھائی کسی کو بھی کوئی اکسائٹمنٹ نہیں ہے، یہ عید بھی خاموشی سے گزر جائے گی سحری کیلئے اٹھانی والی شفیق ماں کی آواز نہیں آئی، جب ماں کی آواز نہ سنائی دی تو سحری کیلئے بھی دل نے ساتھ نہ دیایوں رمضان کے 29روزے بغیر سحری کے رکھے،سحری کے وقت اٹھ کر ایک گلاس پانی پی لینا۔

    امی کے رحلت کے بعد ایک دوست نے پوچھا کہ ماں جی کہ کتنی عمر تھی تو منہ سے فی البدیہہ نکلا کہ ”ماں کی کوئی عمر نہیں ہوتی، ماں تو ماں ہوتی ہے“پیدائش سے بچپن اور جوانی تک ماں کا ایک ہی روپ دیکھا،ماں ایسی ہستی ہے جسے ہم کسی بھی عمر میں کسی صورت کھونا نہیں چاہتےاگر اللہ آپشن دیتا کہ اخروی جنت چاہئے یا دنیاوی جنت تو فوراً سے پہلے ماں کے قدموں کو ترجیح دیتا،میں نے کبھی ”مدرڈے“ پر کوئی پوسٹ نہیں لگائی کیونکہ ہر دن اور ہر لمحہ ماں کی ہی بدولت ہے۔

    گھر میں داخل ہوتے ہی دروازہ کھولنے والے کی بجائے بھی بھاگ کر سب سے پہلے امی سے ملنے کی عادت تھی کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ماں کے بغیر بھی رہنا یا جینا پڑ سکتا ہے ہم بہن بھائی خود غرضی کی حد تک ماں سے پیار کرتے ہیں، ہم جتنے بھی بڑے ہوگئے لیکن امی کے پاس جاکر اندر کا بچہ جاگ جاتا اور ان کے گرد ہی رہنا۔

    تمہارے بعد کبھی یہ نہیں کہا ہم نے
    ہمارے پاس خدا کا دیا سب کچھ ہے

    با کردار، حیا دار، پیکر ایثار، عبادت گزار، خدمت گزار، غریب پرور اور بلند عزائم سے سرشار، ہر خوبی ان کی ذات میں موجود، وہ آئیڈیل، قابل تقلید اور عظیم ماں تھیں خاندان یا کسی بھی جاننے والی خواتین نے گھر آکر امی سے کوئی مسئلہ ڈسکس کرنا تو انہوں نے تب تک چین سے نہیں بیٹھنا جب تک اس کا مسئلہ حل نہ ہوجائے۔

    امی کی کال آتی کہ بیٹا وہ فلاں عورت گھر آئی ہے اسکا فلاں کام ہے وہ کروا دو، اگر فوری مسئلہ حل ہو جاتا تو شاباش دیتی کہ اس عورت نےہمیں کتنی دعائیں دیں،نہیں تو دوبارہ کال آجاتی کہ پتر تو سہی طرح نہی آکھیا ہوئے گا پتر لوکاں دے کم کریاں اللہ راضی ہوندا اے،
    جو بھی مدد کے لئے آیا اسے خالی ہاتھ نہ جانے دیا، محلے میں کسی خاتون یا بزرگ کی تیمارداری کیلئے جانا وہاں دیکھنا کہ اگر ان کے پاس ایک جیسے برتن نہیں تو واپس آتے ہی گھر میں موجود باکس پیک ڈنڑ سیٹ بھیج دینا۔

    اکتوبر 2005کے زلزلے میں گھر کا نصف سے زائد سامان زلزلہ زدگان کیلئے دے دیا۔ رحم دلی اور شفقت گھر سے لےکر ہسپتال میں آخری سانسوں تک ان کا خاصہ رہی ان کو اپنے ساتھ والے مریض اور اس کے لواحقین کی بھی فکر ہوتی کہ یہ دور سے آئے مسافر اور پریشان لوگ ہیں ان کیلئے بھی کھانا لےکر آیا کرو، ان سے پوچھو کہ کسی کو رہائش کا مسئلہ تو نہیں۔

    گذشتہ رات سوشل میڈیا پر معصوم جانور کے ساتھ ظلم کی ویڈیو دیکھی تو ماں یاد آئی انہوں نے سختی سے حکم دیا ہوتا تھا کہ جانور بے زبان ہوتے ہیں ان کا خیال رکھنا چاہئےجانور معصوم تے اللہ دے پرونے ہوندے نے “ جانوروں کے ساتھ برا سلوک کرو گے تو یہ اللہ کو شکایت لگائیں گے۔ امی نے بہت سارے پرندے رکھے ہوئے تھے ان کا بہت زیادہ خیال رکھتی تھیں۔

    گھر کی دوسری اور تیسری منزل پر امی نے درجنوں کونڈے رکھے ہوئے ہیں جن میں باقاعدگی سے باجرہ، مکئی، گندم اور پانی ڈالا کرتی تھیں کہ یہاں سے گزرنے والے پرندوں کو خوراک مل جائے۔

    بچپن میں ہمارا پرانا گھر کافی بڑا اور کشادہ تھا جس میں بہت سارے پھل دار پودے اور سبزیاں بھی لگی ہوتی تھیں، گھر کے سہن میں روٹیاں پکاتے وقت پرندے آتے تو امی ان کو آٹے اور روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈالتیں ہمارا گھر چڑیوں کوؤں اور رنگ برنگے پرندوں کا مسکن ہوتا امی کے دیکھا دیکھی ہم نے بھی امی سے دو روٹیاں لینی اور جتنی خود کھانی ہوتی کھالیتے اور باقی پرندوں کو ڈال دیتے۔

    زبان اور دل آج بھی ان سے دوری کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔

    لاکھ اپنے گرد حفاظت کی لکیریں کھینچوں
    ایک بھی ان میں نہیں ماں کی دعاؤں جیسی

    ہمیشہ دعا گو رہنے والی ماں کو اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے۔ آمین

    ملک محمد سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • 17 مارچ  تاریخ کے آئینے میں

    17 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    17 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    1672ء انگلینڈ نے ہالینڈ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا، 1824ء انگلینڈ اور ہالینڈ کے درمیان تجارتی معاہدہ طے ہوا۔

    1911ء۔۔قائداعظم کی پارلیمانی زندگی کے اوائل میں مسلم اوقاف کے بل کی منظوری کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بل 17 مارچ 1911ء کو امپیریل لیجسلیٹو کونسل میں پیش کیا تھا اور دو سال کی جدوجہد کے بعد یہ بل 1913ء میں منظور کروایا تھا۔ قائداعظم نے یہ بل ایک وکیل کی طرح پیش کیا اور پرزور الفاظ میں مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے مسائل کے لیے اسلامی شرع نافذ کی جائے اور مسلمان شہری اپنی شرع کے مطابق اپنی جائیداد اپنی اولاد کو وقف کرسکیں، اسلامی شرع کے مطابق وقف شدہ جائیداد خاندان کے کسی ایک فرد کے اسراف یا نااہلی کی وجہ سے برباد نہیں ہوسکتی اور اس کے مالک نسلاً بعد نسلاً اس کے مستفید ہوتے رہتے ہیں، یہ بل 1913ء میں منظور ہوا۔ قانون سازی میں یہ قائداعظم کی پہلی ذاتی کامیابی تھی، ان کی اس کامیابی پر داد دیتے ہوئے مسز سروجنی نائیڈو نے کہا: ’’اس کارنامے کے باعث پہلی مرتبہ مسٹر جناح کو سارے ملک کے مسلمانوں کا اعتراف میسر آیا۔ ان کے اکثر ہم مذہب انہیں راسخ العقیدہ مسلمان نہیں سمجھتے لیکن ان کے اس کارنامے کے کچھ ہی عرصے بعد وہ سیاسی مشورے اور رہنمائی کے لیے ان سے رجوع کرنے لگے۔

    1932ء میں جرمن پولیس نے ہٹلر کے ہیڈ کوارٹر پر چھاپا مارا۔

    1984ء۔۔ پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اسکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان کی تصویر سے مزین ایک خوب صورت ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔3 روپے مالیت کا یہ یادگاری ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔ جہانگیر خان سے پہلے ہاکی کے مشہور کھلاڑی اسد ملک کی تصویر 30 جنوری 1969ء کو میکسیکو اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے کی خوشی میں جاری ہونے والے یادگاری ڈاک ٹکٹ پر شائع ہوچکی تھی تاہم اس ٹکٹ پر ان کا نام طبع نہیں ہوا تھا۔ واضح رہے کہ اسد ملک اور جہانگیر خان کے علاوہ عمران خان کی تصویر بھی پاکستان کے ڈاک ٹکٹ پر طبع کی جاچکی ہے۔

    1996ء قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے عالمی کرکٹ کپ کے فائنل میں سری لنکا نے آسٹریلیا کو 7 وکٹ سے ہرا دیا۔

    2008ء نو منتخب قومی اسمبلی نے 1973ء کےآئین کے تحت حلف اٹھا لیا۔

    2008ء مینگورہ پولیس لا‎ئنز میں مبینہ خودکش حملہ، 3 اہلکار شہید اور 6 زخمی ہو گئے۔

    2009ء افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول جج بحال ہو گئے۔

    2009ء ۔۔ وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستانی طالب علم علی معین نوازش سے ملاقات کی۔ علی معین نوازش نے گزشتہ برس کیمبرج یونیورسٹی کے اے لیول کے24 مضامین میں سے 22 مضامین میں اے گریڈ حاصل کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ علی معین نوازش راولپنڈی روٹس کالج انٹرنیشنل کے طالب علم تھے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے علی معین نوازش سے ملاقات کے دوران انہیں دس لاکھ روپے نقد اورصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی دینے کا اعلان کیا جو انہیں 23 مارچ 2009ء کو پیش کیا گیا۔

    2013ء۔۔عزیر بلوچ نے لیاری میں ارشد پپو کو قتل کرنے کے بعد اس کے سر سے فٹ بال کھیلی تھی۔

    تعطیلات و تہوار :
    ۔””””””””””””””

    سینٹ پیٹرک ڈے

    1861ء اٹلی نے آزادی کا اعلان کیا۔

  • 16 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    16 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    16 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    37ء تیبیریس سیزر دیوی آگسٹی ببمعروف لوئیس قیصر ، (18 تمبر 14ء تا 16 مارچ 37ء) دوسرا رومی شہنشاہ (پیدائش : 16 نومبر 42 قبل مسیح روم )

    716ء حضرت حسن مثنیٰ یا الحسن المثنی بن حسن بن علی بن ابی طالب الہاشمی القرشی رضوان اللہ علیہ اجمعین ، حضرت امام حسن بن علی بن ابی طالب رضوان اللہ علیہ اجمعین کے فرزند ہیں۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ انہی کی اولاد میں سے ہیں۔ (پیدائش: 19 مئی 650ء)

    1291ء مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیر ، صوفی عالم ، بادشاہ دو جہاں مخدوم شیخ سید علاء الدین علی احمد صابر کلیری مستند روایت میں حضرت امام جعفر صادق کی اولاد میں سے ہیں۔ والدہ کی طرف سے آپ امام محمد باقر کی اولاد ہونے کے سبب سے باقری ہیں اور حضرت گنج شکر کے حقیقی بھانجے اور داماد بھی ہیں۔ (پیدائش: 21 فروری 1196ء)

    1914ء ایڈورڈ سنگلٹن ہوکڈن، امریکی ماہرِ فلکیات (پیدائش : 1846ء)

    1935ء جان جیمز رکرڈ میکللاؤڈ ، نوبل انعام برائے فزیالوجی و طِب (1923ء) یافتہ برطانوی ماہر فعلیات اور حیاتیاتی کیمیاء دان، طبیب، موجد و استاد جامعہ ، انھوں نے اپنے کام کا زیاداہ توجہ کاربوہائی ڈریٹ کے ہضم ہونے کے عمل کی جانب مرکوز رکھا۔ (پیدائش : 6 ستمبر 1876ء)

    1937ء سر جوزف اسٹن چیمبرلین ، نوبل امن انعام (1925ء) یافتہ برطانوی سیاست دان (پیدائش: 16 اکتوبر 1863ء)

    1940ء سلما لاگرلف ، نوبل انعام برائے ادب (1909ء) یافتہ سویڈش لکھاری ، یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی خاتوں تھیں۔ (پیدائش: 20 نومبر 1858ء)

    1946ء استاد اللہ دِیا خان ، ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کےآگرہ گھرانہ کی شاخ جے پور- اتراؤلی گھرانہ سے تعلق رکھنے والے گلوکار تھے۔اُن کی وجہ شہرت بیشتر نادر و نایاب راگوں کو ازسر نو ترتیب دیے جانے کی وجہ سے ہے۔اُنہیں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے اصناف دھروپد، خیال، دھمر پر عبور حاصل تھا۔ (پیدائش: 10 اگست 1855ء)

    1971ء تھامس ای ڈیوی ، امریکی وکیل، پراسیکیوٹر، مصنف اور سیاست دان ، (1 جنوری 1943ء تا 31 دسمبر 1954ء) گورنر نیویارک (پیدائش: 24 مارچ 1902ء)

    1998ء ڈیرک ہارولڈ رچرڈ بارٹون بمعروف ڈیریک بارٹون ، نوبل انعام برائے کیمیاء (199ء) یافتہ برطانوی نژاد امریکی نامیاتی کیمیاء دان و استاد جامعہ (پیدائش : 8 ستمبر 1918ء)

    2003ء ریچل کوری ، امریکی روزنامچہ نگار، سوانح نگار، جنگ مخالف کارکن، مصنفہ ، عالمی اتحاد تنظیم کی امریکی رکن تھی، جو مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینی گھر کو منہدم کرتے ہوئے بُل ڈوزر کو روکنے کے لئے اس کے سامنے کھڑی ہو گئی، مگر اسرائیلی بلڈوزر اس کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس پر چڑھ دوڑا اور ریچل نے اپنے احتجاجی مظاہرے میں بہادری سے جان دے دی۔ یورپی ممالک میں ریچل کی موت پر ملاجلا ردّ عمل رہا۔ البتہ ریچل کے وطن امریکا میں شاید ہی کوئی آواز کھلے بندوں اس کے حق میں اُٹھی۔ نہ صرف یہ بلکہ الٹا اسے دہشت گرد کہا گیا اور اس کے والدین کو نفرت انگیز پیغامات بھیجے گئے، جس میں اس کے کچلے جانے پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ وہ اسی انجام کی حقدار تھی۔ (پیدائش : 10 اپریل 1979ء)

    2007ء منجور الاسلام رانا بمعروف قاضی منجورالاسلام ، بنگلہ دیشی کرکٹر (پیدائش: 4 مئی 1984ء)

    2012ء عبد الرحمن بارکر پیدائشی نام فلپ بارکر ، امریکی ماہر لسانیات،عالم، پروفیسر و مصنف وہ اردو اور جنوبی ایشیا کے پروفیسر تھے اور ایمپائر آف دی پیٹل تھرون نامی پہلی رول پلیئنگ گیم بنائی۔ اس کے علاوہ فینٹیسی/سائنس فینٹسی پر کئی ناول لکھے جو اس کی تخلیاتی دنیا ٹیکومل سے متعلق تھے۔ (پدائش: 3 نومبر 1929ء)

    2007ء منظور الاسلام، بنگلہ دیشی کرکٹر

    16 مارچ 1990ء کو پاکستان کے نامور صداکار اور اداکار ایس ایم سلیم امریکا کے شہر ہیوسٹن میں وفات پاگئے۔ ایس ایم سلیم 18 اگست 1929ء کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے فنی زندگی کا آغاز آل انڈیا ریڈیو سے کیا اور قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان لاہور اور کراچی سے وابستہ رہے۔ ریڈیو پاکستان سے ان کا پروگرام دیکھتا چلا گیا ریڈیو کے مقبول ترین پروگراموں میں شامل تھا۔ ریڈیو پاکستان سے ان کے یادگار ڈراموں میں رستم اور سہراب کا نام سرفہرست تھا۔ اس ڈرامے میں رستم کا کردار زیڈ اے بخاری نے اور سہراب کا کردار ایس ایم سلیم نے ادا کیا تھا۔ ایس ایم سلیم نے پاکستان ٹیلی وژن کے لئے بھی متعدد ڈراموں میں کام کیا جن میں انسان اور آدمی اور منٹوراما کے نام سرفہرست ہیں۔ منٹو راما میں انہوں نے سعادت حسن منٹو کا کردار ادا کیا تھا۔

    1406ءابن خلدون ٭ دنیا کے مشہور مؤرخ اور عالم ابن خلدون 27 مئی 1332ء کو تیونس میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام عبدالرحمن اور کنیت ابو زید تھی بہت کم عمری میں انہوں نے متعدد علوم پر دسترس حاصل کرلی، ان کی شہرت سے متاثر ہو کر مختلف حکمرانوں نے انہیں اپنے درباروں سے وابستہ کیا مگربہت جلد انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کی اور تاریخ عالم اور اس کا مقدمہ لکھنا شروع کیا، اس مقدمے نے ابن خلدون کو بام عروج پر پہنچا دیا اور انہیں فلسفہ تاریخ کا بانی تسلیم کیا گیا، ابن خلدون کا یہ مقدمہ دس سال کی مدت میں مکمل ہوا جسے تکمیل کر کے انہوں نے 1377ء میں سلطان عبدالعزیز کی خدمت میں پیش کیا، سلطان نے انہیں گراں بہا انعامات سے نوازا، 16مارچ 1406ء کو انہوں نے قاہرہ میں وفات پائی۔

  • بیچارہ استاد

    بیچارہ استاد

    بیچارہ استاد

    خانپور میں آج ایک استاد کو بچے کو مارنے پہ لاک اپ میں بند کر دیا گیا۔ کیا باپ اپنے بچوں کو غلطی پہ سزا نہیں دیتا۔میں بچوں کو سخت سزا دینے کا قائل نہیں مگر جب سے انگریزوں کے قوانین کو فالو کیا گیا ہے تعلیم کا کباڑہ ہو گیا ہے اسلام میں جزا سزا کا تصور موجود ہے ایک حدیث کے مطابق جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز پڑھنے کا کہا جائے اور جب دس سال کا ہو جائے اور پھر بھی نماز نہ پڑھے تو اسے مارا جائے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معلم سے فرمایا : ’’إیّاک أن تضرب فوق الثلاث فإنک إذا ضربتَ فوق الثالث اقتص اللّٰہُ منک۔
    تین ضرب سے زیادہ مت مارو، اگر تم تین ضرب سے زیادہ ماروگے تو اللہ تعالیٰ تم سے قصاص لے گا۔

    امام غزالی رح نے بھی شاگرد کو ہلکی سی سزا دینے کی حمایت کی ہے ان کی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ استاد بچے کی غلطی پہ اسکی سرزنش کر سکتا ہے اور چھڑی کا استعمال کر کے ہلکی سزا دے سکتا ہے اُنھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ کس جگہ پہ مارنا ہے اور کتنا مارنا ہے آج سے پندرہ بیس سال پیچھے جائیں تو استاد کو بچے کی بہتر تربیت کرنے کے لیے تمام اختیارات حاصل تھے اور ان دنوں تعلیمی معیار بھی بہت اعلیٰ تھا حالانکہ ان دنوں معروضی سوالات نہیں ہوتے تھے پڑھائی کافی مشکل تھی مگر پھر بھی معیار تعلیم بہت اعلیٰ تھا جب سے مار نہیں پیار کا سلوگن آیا ہے تعلیم کا زوال شروع ہو گیا ہے یہ سب ایک دم نہیں ہوا بلکہ اس میں بہت سے عوامل کا عمل دخل ہے۔ جس میں سب سے اہم مار نہیں پیار کا سلوگن ہے۔ ایک بچہ مندرجہ ذیل وجوہات کی وجہ سے پڑھے گا۔

    1.اگر اسے پڑھائی کا شوق ہوگا۔
    2. اگر فیل کا خوف ہوگا۔
    3. اگر مار کا خوف ہوگا۔
    4. اگر والدین بچوں پہ توجہ دیں تو۔

    دیہاتی سکولوں میں والدین کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے اور شہروں میں جو والدین بچوں پہ توجہ دیتے ہیں وہ بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں بھیجتے ہیں۔

    آپ بتائیں اگر بچہ غلطی کرے ساتھیوں کے ساتھ لڑائی کرے اور بار بار سمجھانے کے باوجود بھی نتیجہ وہی رہے تو استاد بیچارہ کیا کرے۔ جب بچے کو پتہ ہو گا کہ مجھے فیل نہیں کیا جائے گا تو وہ کیوں پڑھے گابچے کو نہ فیل کا خوف ہوگا نہ مار کا ڈر ہو گا تو وہ کیوں پڑھے گا اوپر سے اساتذہ کے ہاتھ باندھ کر انھیں تیرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے یہاں تک کہ استاد بچے کو غصے سے گھور بھی نہیں سکتاجب ایک استاد اتنا مجبور ہے تو بچے کے رزلٹ پہ استاد کو سزا کیوں؟-

    میرا مقصد سزا کی حمایت نہیں ہے بلاشبہ سزا سے بچے کی پوشیدہ صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں مگر اس صورتحال کا آخر حل کیا ہے؟

    ازقلم: مجیب الرحمٰن بھٹو

  • امرتا  پریتم؛ تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

    امرتا پریتم؛ تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

    تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

    امرتا پریتم

    پنجابی زبان کی معروف ناول نگار ، ادیبہ اور شاعرہ

    تاریخ وفات : 31 اکتوبر 2005ء

    بیسویں صدی کی پنجابی زبان کے ادب میں شہرت پانے والی خواتین میں امرتا پریتم کا نام سب سے نمایاں ہے ۔امرتا پریتم پنجابی زبان کی شاعرہ ناول نگار اور افسانہ نویس تھیں ۔ وہ واحد خاتون شاعرہ ہیں جو پاک و ہند میں یکساں طور پر مقبول ہیں ۔انہوں نے 100 سے زیادہ کتابیں شاعری ۔افسانوں ناول پنجابی فوک گیتوں پر لکھیں ۔ ان کی کتابوں کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ۔

    ان کی پیدائش 31 اگست 1919 کو گوجرانوالا میں ھوئی ۔آپ کا اصل نام امرتا کور تھا آپ کی والدہ کا بچپن میں ھی انتقال ھو گیا اس وقت آپ کی عمر 11 سال تھی ۔آپ اور آپ کے والد اس کے بعد لاھور منتقل ھو گئے ۔جہاں آپ نے پاکستان بننے تک قیام کیا۔ 1947ء کے بعد آپ انڈیا منتقل ھو گئیں ۔ انہوں نے بچپن سے ھی لکھنا شروع کر دیا تھا ۔ ان کی نظموں کی پہلی کتاب امرت لہریں 1936ء میں چھپی جب آپ کی عمر صرف 16 سال تھی ۔ اسی سال آپ کی شادی پریتم سنگھ سے ھو گئی اور یوں آپ امرتا کور سے امرتا پریتم ھو گئیں ۔1936 ء سے 1943ء کے دوران آپ کی نظموں کی بہت سی کتابیں منظر عام پر آئیں ۔ امرتا پریتم کو لاہور میں ساحر لدھیانوی سے محبت ہو گئی تھی جس کی خاطر انہوں نے اپنے سکھ شوہر سے علیحدگی اختیار کی تھی مگر وائے قسمت کہ ان کی اور ساحر کی شادی نہیں ہو سکی تھی حالانکہ یہ دونوں پاکستان سے ہندوستان منتقل ہو گئے تھے ۔

    امرتا نے سیاست میں بھی فعال کردار ادا کیا یہی وجہ ہے کہ وہ بھارتی ایوانِ بالا کی رکن رہی ہیں اور انہیں پدم شری کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور دیگر اعزازات بھی حاصل ہو ئے جن میں پنجابی ادب کے لیے گیان پیتھ ایوارڈ بھی شامل ہے۔ ساحر لدھیانوی کے ساتھ ان کا معاشقہ ادبی دنیا کے مشہور معاشقوں میں شمار ہوتا ہے جس کی تفصیل تھوڑی بہت ان کی کتاب رسیدی ٹکٹ میں موجود ہے۔

    امرتا پریتم کی سب سے شہرہ آفاق نظم ‘اج آکھاں وارث شاہ نوں’ ہے، اس میں انہوں نے تقسیم ہند کے دوران ہوئے مظالم کا مرثیہ پڑھا ہے۔ کچھ اشعار ذیل میں درج ہیں۔

    شاہ مکھی متن:

    اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتوں قبراں وچوں بول
    تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ کھول
    اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لِکھ لِکھ مارے وَین
    اَج لَکھاں دھیآں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کَیہن
    اٹھ دردمنداں دیا دردیا تک اپنا دیس پنجاب
    اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب
    کسے نے پنجاں پانیاں وچ اج دتی زہر رلا
    تے اوہناں پانیاں نوں دتا دھرت نوں لا
    جتھے وجدی پھوک پیار دی او ونجلی گئی گواچ
    رانجھے دے سب ویر اج بھل گئے اوس دی جاچ
    دھرتی تے لہو وسیا تے قبراں پیّئاں چون
    پریت دیاں شہزادیاں اج وچ مزاراں رون
    اج تے سبے کیدو بن گئے حسن عشق دے چور
    اج کتھوں لیآئیے لبھ کے وارث شاہ اک ہور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • نرملا دیش پانڈے؛  عدم تشدد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریہ کی چمپئین

    نرملا دیش پانڈے؛ عدم تشدد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریہ کی چمپئین

    پیدائش:19 اکتوبر 1929ء
    ناگپور
    وفات:01 مئی 2008ء
    نئی دہلی
    رہائش:ناگپور
    شہریت:بھارت
    برطانوی ہند
    مادر علمی:ساورتی بائی پھالے پونہ یونیورسٹی
    اعزازات:
    ستارۂ امتیاز
    پدم وبھوشن

    تحریک آزادی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نرملا دیش پانڈے بہت کم عمری میں جنگ آزادی کی تحریک سے جڑ گئی تھیں اور تیئس برس کی عمر ميں جنگ آزادی کے عظیم مجاہد ونوبھا بھاوے کی ’ بھودان تحریک‘ (رضاکارانہ طور زمین عطیہ کرنے کی تحریک) سے منسلک ہوئی ہيں اور ملک کے مختلف حصوں میں چالیس ہزار کلومیٹر کا مارچ کیا۔
    عدم تشدد کا فروغ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پانڈے نے تاعمر امن، عدم تشدد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریہ کو فروغ دیا، پورے جنوبی ایشیاء میں اس کی تشہیر کی اور جنوب ایشیائی ممالک کے درمیان باہمی دوستی کو قائم کرنے کے لیے کام کیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان باہمی رشتوں میں تلخی کو کم کرنے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ غیر شادی شدہ رہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    کئی کتابوں کی مصنفہ نرملا دیش پانڈے نے ناول، ڈرامے اور سفر نامے بھی لکھے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    انہيں تین یونیورسٹیوں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی۔ نرملا کو پہلے 1997ء اور پھر 2004ء میں دوسری مرتبہ راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا اور اعلٰی شہری اعزاز ’پدم وبھوشن‘ اور راجیو گاندھی سدبھاؤنا ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ یکم مئی 2008 کو 79 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ پاکستانی حکومت نے بھی ان کو اعلیٰ شہری اعزاز نشان امتیاز سے نوازا۔

  • جھوٹی تعریف سے لگتا ہے بہت ڈر ” مونا”

    جھوٹی تعریف سے لگتا ہے بہت ڈر ” مونا”

    جھوٹی تعریف سے لگتا ہے بہت ڈر ” مونا”
    میٹھی باتوں نے ہی شیشے میں اتارا ہے بہت

    ایلزبتھ کورین مونا

    اصل نام : ایلزبتھ
    تخلص: مونا
    تاریخ پیدائش :18 اکتوبر 1949ء
    جائے ولادت:حیدر آباد، تلنگانہ
    پتا:93, Methodist Colony
    ۔ Opp.Kunwar Rani Flats
    ۔ Begumpet,Hyderabad-500016

    مونا کی مادری زبان ملیا لم ہے۔ ہندی، اردو، تیلگو اورانگریزی پر عبور ہے۔ انگریزی اوراردو میں شاعری کرتی ہیں اور نثر بھی لکھتی ہیں۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے فاصلاتی کورس کے ذریعہ اردو لکھنا اور پڑھنا سیکھی۔ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی حیدر آباد سے تحسین غزل کا کورس کیا۔ غزل کہنے کی بنیادی تعلیم کمل پرساد کمل سے لی۔ علم عروض بمبئ میں آرپی شرما مہرش سے سیکھا۔ انھوں نے 2019 میں بہ زبان انگریزی غزل کی تفہیم اورعروض سے متعلق ایک کتاب شائع کی۔ ”The Art and Science of Ghazal“ جس کا اجراء جشن ریختہ میں ہوا تھا اور جشن کے خواتین کے مشاعرے میں بھی مونا شامل تھیں۔

    اردو مطبوعات: کہکشاں، غزل انتھالوجی (یوپی اور آندھرا پردیس اردو اکادمی سے انعام یافتہ)۔ محبت کے سائے (تلنگانہ اردو اکادمی سے انعام یافتہ)۔ ذوق جستجو اور قوس قزح۔ دیگر زبانوں کی مطبوعات : Beyond Images(انگریزی شاعری)۔ سپنے مروشتل میں (ہندی شاعری)۔ حسن غزل (منتخب غزلیں دیوناگری اور رومن خط میں بمع انگریزی ترجمہ) اور ایک کتاب ملیالم زبان میں ہے۔

    مونا نے اردو اور ہندی سے انگریزی میں کچھ شاعروں کے تراجم بھی کیے ہیں۔ مریم غزالہ کی ہندی اور اردو نظموں کا ترجمہ”mirror of soul“ ڈاکٹر رام برایا کی ہندی نظمیں ”Termor“۔ نصرت محی الدین کی نظمیں”waiting a new season“اور ڈاکٹر اہلیہ مسرا کی نظمیں’ شوس سے شبد تک‘۔
    ان کی انگریزی نظموں کی کتاب کا فرنچ زبان میں ترجمہ سپرتک سین نے اور تامل میں این وی سبرامنیم نے کیا ہے اور اس کتاب میں پن اور انک سے اسکیچز کھٹمنڈو نیپال کے سوشیل تھاپا نے بنائے ہیں۔ ملیالم کے مصنف آر کے پراکاداو کے افسانچوں کا اردو ترجمہ اور کرامت علی کرامت کی اردو شاعری کا انگریزی ترجمہ زیر ترتیب ہے۔
    مونا نے ریزرو بینک آف انڈیا، بمبئ کی منیجر کی ملازمت سے قبل از وقت ریٹائر منٹ لے کر خود کو علم و ادب کے لیے وقف کردیا ہے۔ حیدر آباد میں سکونت پذیر ہیں۔ ان کی شاعری اور مضامین رسائل اور الٹرونک میڈیا میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مختلف زباانوں کی ادبی انجمنوں میں سرگرم رہتی ہیں۔ ادبی فیسٹیولز اور مشاعروں میں حصہ لیتی ہیں۔ ملٹی لینگول ادبی گروپ ساہتیہ سنگم انٹرنیشنل کی سکریڑی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت
    رات تاریک سہی ایک ستارا ہے بہت
    درد اٹھتا ہے جگر میں کسی طوفاں کی طرح
    تب تری یادوں کے دامن کا کنارہ ہے بہت
    ظلم جس نے کئے وہ شخص بنا ہے منصف
    ظلم پر ظلم نے مظلوم کو مارا ہے بہت
    راہ دشوار ہے پگ پگ پہ ہیں کانٹے لیکن
    راہ رو کے لئے منزل کا اشارہ ہے بہت
    اس کو پانے کی تمنا ہی رہی جیون بھر
    دور سے ہم نے مسرت کو نہارا ہے بہت
    فاصلے بڑھتے گئے عمر بھی ڈھلتی ہی گئی
    وصل کا خواب لئے وقت گزارا ہے بہت
    ہونٹ خاموش تھے اک آہ بھی ہم بھر نہ سکے
    بارہا دل نے مگر تم کو پکارا ہے بہت
    جھوٹی تعریف سے لگتا ہے بہت ڈر موناؔ
    میٹھی باتوں نے ہی شیشے میں اتارا ہے بہت

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اے غم دل یہ ماجرا کیا ہے
    درد الفت سے واسطہ کیا ہے
    رہنے دو ان حسین وعدوں کو
    جھوٹے وعدے ہیں سب نیا کیا ہے
    جام و مینا کو چھوڑ کر دیکھو
    چشم ساقی کا یہ نشہ کیا ہے
    شعلۂ غم کو اور بھڑکائے
    کون سمجھے کہ یہ ہوا کیا ہے
    چھن گیا ہے سکون بھی میرا
    عاشقی نے مجھے دیا کیا ہے
    چارہ گر کوئی بھی نہ جان سکا
    موت اور عشق کی دوا کیا ہے
    کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
    جانے تقدیر میں لکھا کیا ہے
    چشم پر نم مگر لبوں پہ ہنسی
    دل میں موناؔ ترے چھپا کیا ہے

  • بیسویں صدی کے مشہور ترین امریکی مصنف   آرتھر ملر کا یوم ولادت

    بیسویں صدی کے مشہور ترین امریکی مصنف آرتھر ملر کا یوم ولادت

    آرتھر ملر بیسویں صدی کے چند مشہور ترین امریکی مصنفین میں سے تھے جو اپنی تحریروں کے ذریعے امریکی اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کرتے تھے، آرتھر ملر17 اکتوبر 1915ء میں نیو یارک میں پیدا ہوئے اور ان کے والد اگرچہ ایک کپڑوں کی فیکٹری کے مالک تھے لیکن 1929 میں امریکی معیشت میں آنے والی بدحالی سے متاثر ہوئے۔
    آغا نیاز مگسی
    آرتھر ملر نے ذاتی محنت سے صحافت کے شعبے میں اپنی تعلیم کے اخراجات برداشت کیے اور وہ ایک ریڈیکل مصنف کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ وہ اپنے لبرل خیالات کی وجہ سے جلد ہی امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ملک میں شروع کی جانے والی کمیونسٹ مخالف مہم میں زیر اعتاب آئے لیکن تفتیش کے دوران اپنے کمیونسٹ دوستوں کے نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت
    محمد بن سلمان کا سعودی عرب،پہلی بار ہو رہا”ریاض فیشن ویک”
    حنیف عباسی کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،فیصلہ محفوظ
    ان کی شہرت کی ایک اور وجہ 1956 میں مشہور امریکی اداکارہ مارلن منرو سے ان کی شادی بھی تھی۔ ایک سنجیدہ دانشور اور مصنف کے ایک فلمسٹار کے ساتھ اس ملاپ پر کئی لوگوں کو بہت حیرانی بھی ہوئی تھی، آرتھر ملر کو 1949 میں تینتیس برس کی عمر میں ’ ڈیتھ آف دی سیلز مین‘ لکھنے پر ادب کا پلٹزر انعام ملا تھا، آرتھر ملر کے دیگر مشہور ڈراموں میں ’ اے ویو فرام اے برج‘ اور ’دی لاسٹ یانکی‘ شامل ہیں۔
    10فروری 2005 کو ان کا انتقال ہوا۔ آرتھر ملر کی اسسٹنٹ جولیا بولس کے مطابق ان کا انتقال کنکٹیکٹ میں ان کی رہائشگاہ پر ہوا۔ ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی۔

  • ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز

    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز

    اس نے کہا تھا جو بھی ، مانا اسی کو سب نے
    اس کی وجہ سے اب تو شہرت بدل گئی ہے

    مسرت ناز

    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری

    اردو ، پنجابی اور انگریزی کی معروف ادیبہ و شاعرہ مسرت ناز صاحبہ کا تعلق گجرانوالہ پنجاب (پاکستان)سے ہے ۔ ان کے والد محترم کا نام عطا محمد، والدہ محترمہ کا نام صفیہ نور اور خاوند محترم کا نام بابر محمود ہے ۔ وہ 6 بہن بھائی ہیں جن میں وہ چوتھے نمبر پر ہیں ۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے ۔ ایف اے تک تعلیم حاصل کی ہے اور شادی کے بعد امور خانہ داری میں مصروف ہو گئیں ۔

    ماشاء اللہ ایک بیٹی کی ماں ہیں ۔ ان کے خاندان میں عورت کے شعر و شاعری کو معیوب سمجھا جاتا ہے اس لیئے انہوں نے اپنے گھر والوں سے چھپ کر لکھنا شروع کیا۔ لکھنے کا عمل انہوں نے 13 سال کی عمر سے کیا۔شاعری میں انہوں نے پہلے علامہ ماجد الباقری صاحب اور بعد میں جان کاشمیری صاحب سے بھی اصلاح لی ۔ مسرت ناز صاحبہ حمد ، نعت، گیت، غزل، ملے نغمے ، افسانے اور بچوں کی کہانیاں لکھتی ہیں۔

    ان کے یہاں 20 کتابوں کا مواد موجود ہے جن میں سے اب تک ان کی 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 1 روحانی دعائیں (اسماء الحسنی پر مشتمل)2 ۔ میری سوچ (اقوال زریں پر مشتمل)3 . من کی راکھ (شعری مجموعہ)4 . عطائے نور(نعتیہ کلام پر مشتمل) 5 ۔ گلدستہ(بچوں کی کہانیوں پر مشتمل) شامل ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ وہ پاکستان کی پہلی خاتون لکھاری ہیں کہ جن کی 10 کتابیں ” ون لائن” کے تحت لکھی گئی ہیں اور گیارہویں لکھ رہی ہیں ۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان کی بقیہ 15 کتابوں کے مسودے تیار ہیں اور ان شاء اللہ جلد شائع ہو کر مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی۔ مسرت ناز بھی دیگر اکثر ادباء اور شعراء و شاعرات کی طرح پاکستان کے سرکاری ادبی اداروں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں ۔ وہ مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں اس کی وجہ شاید گھریلو مصروفیات اور کتابیں لکھنے کا عمل ہے۔

    غزل

    غم کھا گئے ہیں دل کو صورت بدل گئی ہے
    دیوار پر لگی جو مورت بدل گئی ہے

    چڑیوں کے گیت سن کر گانے لگے تھے ہم بھی
    سوچا یہی تھا شاید قسمت بدل گئی ہے

    اس نے کہا تھا جو بھی مانا اسی کو سب نے
    اس کی وجہ سے اب تو شہرت بدل گئی ہے

    زخم جگر کو سی کر کرنا ہمیں کیا اب ہے
    دن رات اپنی کیسے حاجت بدل گئی ہے

    اس کو سنوار کر ہم ٹوٹے ہیں اپنے ہاتھوں
    اس کی ہماری پل میں حالت بدل گئی ہے

    ہیں انتظار کرتیں اب بھی حوائیں مل لو
    کہتے ہیں لوگ اب تو عورت بدل گئی ہے

    نظروں میں ہم تھے اس کی دنیا ہمیں سے روشن
    جو بھی جڑی تھی ہم سے راحت بدل گئی ہے

    چپ چاپ مدتوں تک نفرت چھپا کے پھرنا
    وہ تو نہیں ہیں بدلے چاہت بدل گئی ہے

    بستے ہیں پتلیوں میں اب بھی وہی جو کل تھے
    الزام دے رہے ہیں نیت بدل گئی ہے

    لالی جو چھا رہی ہے آنکھوں کے آسماں پر
    پھولوں کی جیسے ساری رنگت بدل گئی ہے

    وہ بے وفا ہے لیکن یہ مانتے نہیں وہ
    نسبت ملی جو ان کی تہمت بدل گئی ہے

    رزق حلال دیتا ہے ان کو جو نہ مانے
    خالق نہیں ہے بدلا خلقت بدل گئی ہے

    اشکوں سے دوستی کی اپنی سزا ہے نازی
    بچھڑے وہ جب کے ہم سے وقعت بدل گئی ہے

    مسرت ناز