Baaghi TV

Tag: بلاگز

  • ایلزا بیتھ  بشپ کا یوم وفات

    ایلزا بیتھ بشپ کا یوم وفات

    ایلزا بیتھ بشپ (امریکی شاعرہ و کہانی نویس)
    یوم وفات : 6 اکتوبر 1979
    بیسویں صدی کی انگریزی کی معروف امریکی شاعرہ اور کہانی نویس ایلزا بیتھ بشپ 8 فروی 1911 میں وارسٹر میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والدین کے نام گرٹڈ مے بلمر اور ولیم تھامس تھا۔ انہوں نے وارسر کالج نیو یارک سے گریجویشن کیا ۔ وہ ایک روشن خیال ادیبہ اور شاعرہ تھیں ۔ ان کی ادبی نگار شات اور شاعری کی اشاعت کا آغاز امریکہ کے ایک معروف ادبی رسالے Trile Balanc میں چھپنے سے ہوا۔

    ایلزا بیتھ بشپ کی کہانیوں اور شاعری میں خواتین کے حقوق اور ان حسن و جمال کی اہمیت کا تذکرہ زیادہ تھا جس کی وجہ سے کچھ حلقوں کی جانب سے ایلزابیتھ پر ہم جنس پرستی کے الزامات بھی لگائے گئے لیکن ایلزابیتھ بشپ کی جانب سے ان الزامات کے متعلق کسی بھی قسم کی وضاحت یا تصدیق و تردید نہیں کی گئی شاید انہوں نے اس بارے میں کسی قسم کی وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں کی یا مناسب نہیں سمجھا۔ ایلزابیتھ نے خواتین کے حقوق کے لیے فعال کردار ادا کیا ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارتی فوجی میجر نے اپنے ہی افسران پر فائر کھول دیئے
    انڈیا میں‌پاکستانی فنکاروں کی بہت قدر کی جاتی ہے روبی انعم
    ایلزا بیتھ بشپ کا یوم وفات
    ان کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں جو کہ کہانیوں اور شاعری پر مشتمل ہیں ۔ ایلزابیتھ بشپ کی اہمیت اور حیثیت کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک معروف امریکی فلمساز بابرا ہوکر نے ان کی شخصیت پر This House on Elzabeth Bishop کے نام سے ایک فلم بنائی ۔انہیں متعدد ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا خاص طور پر 1976 میں عالمی ادبی ایوارڈ دیا گیا جبکہ وہ واشنگٹن میں شعر و ادب کے شعبے کی سرکاری مشیر کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔ امریکہ کی اس خوب صورت کہانی نویس اور شاعرہ ایلزابیتھ بشپ کا انتقال 6 اکتوبر 1979کو واشنگٹن میں ہوا۔

  • کوئی باقی رہ گیا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    کوئی باقی رہ گیا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    کوئی باقی رہ گیا؟ تجزیہ :شہزاد قریشی
    سیاسی انتشار کیساتھ معاشی زوال ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، فیصلہ ساز اداروں پر سوالیہ نشان ہے ۔ اس معاشی زوال کا ذمہ دار کسی فرد واحد، سیاسی جماعت یا فیصلہ ساز اداروں کو نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے ذمہ دار سب ہیں۔ موجودہ بے ہودہ شور شرابے کی کیفیت میں معاشی زوال مزید تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ اس معاشی زوال کی ایک وجہ سیاسی انتشار اور محاذ آرائی ہے۔ ریاست کے حالات اور کردار کا دارومدار معاشی نظام پر ہوتا ہے۔ آج ملک معاشی زوال کی جس نہج پر کھڑا ہے غریب عوام کے معاشی قتل ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بالادست طبقے کی لڑائی نے ملک و قوم کو بلی چڑھا دیا ہے۔ سالوں سے پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ان سیاستدانوں نے ملکی وسائل پر توجہ ہی نہیں دی اورنہ ہی فیصلہ ساز اداروں نے ان کی توجہ کا مرکز آئی ایم ایف ، چین، عرب ممالک عالمی مالیاتی ادارے رہے جن سے قرض در قرض لے کر ملک چلاتے رہے۔

    موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو موجودہ معاشی بحران کا ذمہ دار قرار دے کر قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے یہ پرانا وطیرہ ہے ڈان لیکس میں جس طرح پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنایا گیا اور ان کو سینٹ سے باہر کر دیا گیا قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین اور جمہوریت کی آواز بلند کرنے والے کو نوازشریف کے وفادار ساتھی کو دیوار سے لگا دیا گیا۔ یہ پارلیمنٹ ماضی کے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے اے ٹی ایم لینڈ مافیا کی پشت پناہی، چینی مافیا کی پشت پناہی کرنے والوں کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ جس پارلیمنٹ ہائوس میں بے نظیر بھٹو، نوابزادہ نصر اللہ، قاضی حسین احمد، مولانا عبدالستار خان نیازی، ولی خان اور ان جیسے دیگر سیاستدان اپوزیشن کا کردار ادا کرتے آج اس پارلیمنٹ ہائوس میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہیں پارلیمنٹ ہائوس اور آج کی جدید جمہوریت پر سوالیہ نشان ہے؟

    سینئر سے سینئر ترین کہلوانے والے صحافی کرکٹ جو نوجوانوں کا کھیل ہے چیئرمین کے عہدوں پر فائز ہو چکے ہیں پڑھے لکھے نوجوان خاکروبوں کی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نام نہاد ماہرین، فیصلہ ساز اداروں، سیاستدانوں کی لایعنی اور گری ہوئی گفتگو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ موجودہ نظام کے رکھوالوں کے پاس معاشرے کو درپیش سنگین مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔ ملک کے وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف اور آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن اور دیگر پی ڈی ایم والوں سے گزارش ہے کہ اگر کوئی باقی رہ گیا ہے تو اسے بھی وزیر اہر مشیر بنا دیں تاکہ قوم کے لئے خزانے میں کچھ بھی نہ بچے۔

  • سیاستدان، عوام، تاجر،خود حکمران بھی سراپا احتجاج کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاستدان، عوام، تاجر،خود حکمران بھی سراپا احتجاج کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتوں میں سیاستدان کم مخبروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے البتہ بے نقاب بھی ہورہے ہیں۔ سیاستدانوں کی لڑائیاں اب سیاسی نہیں ذاتی دشمنی پر اتر آئی ہیں۔ پارلیمنٹ کی بالادستی‘ آئین اور قانون کی حکمرانی کے نعرے باقی رہ گئے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے تنازعات میں ایک دوسرے کو ننگا کررہی ہیں۔ ان حرکات سے جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔ عالمی دنیا اپنے مفادات کی جنگ لڑرہی ہے ہمارے سیاستدان ریاست اور عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال کر اقتدار کی جنگ میں مصروف عمل ہیں دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے۔ سیاسی تماشائیوں میں عوام کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ ملکی اداروں کو متنازعہ بنا دیا گیا یا متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن سے لیکر تمام اداروں کو متنازعہ بنا کر ہم اس ملک کی کونسی خدمت کررہے ہیں۔

    سیاستدان سراپا احتجاج‘ عوام سراپا احتجاج‘ تاجر سراپا احتجاج‘پی ڈی ایم میں شامل خود سیاسی جماعتیں سراپا احتجاج‘ صحافی سراپا احتجاج۔ آخر انہیں کس نے اتنا مجبور کردیا ہے کہ سب سراپا احتجاج ہیں؟تمام سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ملک میں نہ آئین ہے نہ آئین اور قانون کی حکمرانی ہے نہ کوئی انسانی حقوق ہیں۔ ان حالات میں پنجاب اور کے پی کے کے الیکشن بھی مشکوک ہوگئے ہیں۔ آئین تو انتخابات کا راستہ دکھاتا ہے اگر موجودہ حکومت نے پنجاب اور کے پی کے میں بروقت انتخابات نہ کروائے تو معاملہ عدالتوں میں چلا جائے گا۔ اگر وفاق انتخابات نہیں کرواتا تو پھر یہ آئین سے روگردانی ہوگی۔ امید تو یہی ہے کہ وفاق ایسا نہیں کرے گا اگر ایسا کیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں۔

    ملک اور عوام کے مفاد میں مقتدر حلقوں اور قومی سلامتی کمیٹی کو مل کر سیاسی خلفشار کو کم کرنے کی راہ نکالنی چاہئے اور تمام سیاسی جماعتوں کا ڈآئیلاگ اور اس کے ساتھ ساتھ معاشی گرداب سے ملک کو نکالنے کے لئے وطن عزیز کے تمام اعلیٰ پائے کے معیشت دانوں کے ساتھ بامقصد کانفرنس کرکے تجاویز لی جائیں اور قابل عمل راہ اختیار کی جائے۔ تمام سیاسی مصلحتوں اور پسند ناپسند سے بالاہو کر حکومت اور مقتدر حلقوں کو خلوص کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ معاشی بحران پاکستان ہی نہیں امریکہ سمیت عالمی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ خود ڈیفالٹ ہونے کے قریب تر ہے تاہم ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے امریکی سیکرٹری خزانہ جانیٹ پالین نے کانگریس سے درخواست کی ہے کہ وہ قرض کی حد از جلد بڑھا دے تاکہ تاکہ ڈیفالٹ کے خطرے کو ٹالا جاسکے۔

  • بندر کے ہاتھ میں ماچس ،تحریر از :عمر یوسف

    بندر کے ہاتھ میں ماچس ،تحریر از :عمر یوسف

    خیال ایک کوند کی مانند دماغ میں آتا ہے۔ پھر انسان کا اختیار ہوتا ہے کہ اس خیال کو کیچ کرے اور اس پر سوچ و بچار شروع کردے ۔ بہت سارے خیال آرہے ہوں اور کسی کو بھی پکڑنا دشوار ہو تو اسے ذہنی انتشار کا نام دیا جاتا ہے ۔سوشل میڈیا کی متنوع زندگی نے انسان کو اتنے خیال دینا شروع کردیے ہیں کہ انسان کے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے کہ وہ کس پر سوچ و بچار کرے ۔ گویا ذہنی انتشار شدت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ یہ ایک تشویشناک صورت حال ہے ۔ موجودہ مسائل میں اس کو بھی شمار کیا جاسکتا ہے ۔ سوشل میڈیا کا استعمال جس شدت سے فروغ پا رہا ہے انہیں نفسیاتی مسائل کے باعث ممکنہ طور پر مستقبل میں ماہر نفسیات کافی زیادہ ہوجائیں گے یا یوں کہہ لیں کہ ماہرین نفسیات کی مانگ بہت بڑھ جائے گی ۔کیونکہ اس کیفیت کو کنٹرول کرنے کے لیے اعلی ذہنی شعور درکار ہے ۔ اگر شعور نہ ہو تو یہ صورت حال سنبھالنا خاصا مشکل کام ہے ۔پاکستان کے تناظر میں بات کی جائے تو یہاں شرح خوندگی کافی حد تک کم ہے ۔گویا شعور کی سطح بھی کم ہے ۔

    اس لیے ایسے معاشرے میں ڈیجیٹل گیجٹ اور سوشل میڈیا کے متوازن استعمال کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ نیا دور ترقیوں کے ساتھ مسائل بھی لے کر آیا ہے اور بڑے شدید قسم کے مسائل ہیں جو انسانیت کو درپیش ہیں۔ ایسی صورت حال میں باشعور افراد خود اپنی عادات و اطوار کو طے کریں اور ماتحت لوگ جیسے گھریلو سطح پر اولاد و دیگر خاندانی افراد اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ طلباء کی اس عادت کو کنٹرول کریں اس کے علاوہ کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔ نفسیاتی مسائل کے علاوہ گردن ، آنکھوں کی بینائی اور کانوں کی سماعت کے مسائل کی ذمہ داری بھی ان گیجٹ پر ڈالی جاسکتی ہے ۔ ظاہر ہے زیادہ ذمہ داری تو اسے جانوروں کی طرح استعمال کرنے والے پر ہی آئے گی ۔ گویا بندر کے ہاتھ ماچس آئی تو اس نے جنگل جلا دیا اور اسی کے بھائیوں کے ہاتھ موبائل آیا تو انہوں نے خود کا بیڑا غرق کرلیا ۔

  • سوال در سوال اور بال کی کھال، تحریر:عمر یوسف۔

    سوال در سوال اور بال کی کھال، تحریر:عمر یوسف۔

    بچپن تو سب کا ہی اچھا گزرتا ہے اور جوانی کے بعد عموما لوگ اپنے بچپن کو خصوصی یاد کرتے ہوئے جلتے دل کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ ماضی بھی سب کو ہی خوب بھاتا ہے اور یاد ماضی بھی اکسیر کا کام دیتے ہوئے ذہن انسانی کو تسکین بخشتی ہے ۔ ہم نے بھی بچپن سے ہی جن رسالوں اور کتابوں کو پڑھا ان میں بھی ماضی بڑا خوشگوار کرکے پیش کیا گیا ۔ گویا ہمیں شروع سے ہی یہ سکھایا گیا کہ گزرا وقت اچھا ہوتا ہے ۔ رہی سہی کسر بڑے بوڑھوں نے نکال دی جنہوں نے حال کی خوب خبر لی اور ماضی کی تعریفات میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے۔ عموما یہ لوگ یوں کہتے نظر آتے ہیں کہ "ہون تے زمانہ ٹھیک ای نئی ریا ساڈے ویلیاں وچ تے بہاراں سی”
    ابھی وقت اچھا نہیں رہا ہمارے وقتوں میں تو خوب بہاریں ہوتی تھیں ۔
    پھر ہم نے نفسیات پڑھی جس میں یہ بتایا گیا کہ یاد ماضی کی خوسنمائی دراصل انسان کے نفسیاتی واہمے ہیں اور وقت سارے ہی خوب صورت ہوتے ہیں ۔ انسان دراصل آرام پسند ہے اور اس کا ماضی اور بچپن بے فکری میں گزرتا ہے اسی نسبت سے جب حال کی تلخیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ خوشحال ماضی کو یاد کرکے روتا ہے ۔
    اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد ہم اس قابل ہوگئے کہ سبھی وقتوں کو اچھا کہنے لگے اور ساتھ ساتھ ماضی کی یاد کو ایک فضول چیز سمجھنے لگے ۔

    زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ پھر نفسیات نے انکشاف کیا کہ ماضی کو یاد کرنا انسان کی ڈپریشن کو کم کرتا ہے ۔ ایک بار پھر نئے مخمصے اور عجیب صورت حال تھی ۔ اور پھر سائنس نے رہی سہی کسر نکال دی ۔ اور انسان کے تمام جذبات کو کیمیکل ری ایکشن کا نام دیا ۔ اگر کیمیکل ری ایکشن ہی ساری مصیبتوں کی جڑ ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ حقیقت کچھ نہیں ہے ۔ اور ان ری ایکشنز کو میڈیسن کے ذریعے سے بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ ادبی، نفسیاتی اور سائنسی انکشافات کے بعد صورت حال یہ ہے کہ ادب کی بنیاد پر ہم ماضی کو یاد کرتے ہیں تو خیال آتا ہے نفسیات کی رو سے ماضی کو یاد کرنا فضول بات ہے اور پھر نفسیات ہی نفسیات کا رد کرتی ہے کہ ماضی کو یاد کرلینا بھی اچھی بات ہے اور اگلے ہی لمحے ہمیں خیال آتا ہے کہ سائنسی رو سے تو ہمارے وجود اقدس میں کیمیکل ری ایکشن ہورہے ہیں جس کی بنیاد پر ہمیں اداسی محسوس ہورہی اور جذبات کا حقائق سے نہیں بلکہ جسم سے تعلق ہے ۔ ایک کے بعد ایک سوال اور خیال کے بعد خیال ہمیں مزید چکرانے والے ہی ہوتے ہیں کہ ہم ان سوالوں اور خیالوں کو چکر دے کر کوئی کتاب کھول کر نئے خیالات کی جستجو میں لگ جاتے ہیں ۔
    ماضی بھی اچھا ہے لیکن ماضی کی حسین یادوں کو سوچا نہیں جاسکتا ۔ حال بھی ڈستا ہے لیکن حال کے زہریلے پن سے بھاگا نہیں جاسکتا۔ ایک شعر کے مصداق حالت کچھ یوں ہے کہ ؛
    نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ہم
    نہ خدا ملا نہ وصال صنم

  • نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    کیا آپ جانتے ہیں کہ 14 ملین پاکستانی تھوڑے سے درمیانے درجے کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں؟ تاہم، اس طرح کی تعداد اس وسیع آبادی کا سایہ بنی ہوئی ہے جو اس ذہنی پریشانی کی اطلاع دینے یا اسے تسلیم کرنے سے بھی انکار کرتی ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ اس آبادی کا ایک وسیع حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔

    گلوبل ہیومن رائٹس ڈیفنس کی 2015 میں کی گئی تحقیق کے مطابق پاکستان کی 10 سے 16 فیصد آبادی نفسیاتی پریشانی یا الجھنوں کا شکار ہے۔ جس میں ڈپریشن، شیزوفرینیا اور مرگی جیسے امراض شامل ہیں۔

    حال ہی میں میری ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو کہ اسلام آباد میں ایک یونیورسٹی میں ایم ایس پروگرام میں زیر تعلیم ہے۔ لڑکی کی عمر لگ بھگ اٹھائیس سے تیس سال ہے اور معاشرتی رویوں نے اسے شدید دباؤ کا شکار کر رکھا ہے۔ عاصمہ نے مجھے بتایا کہ کس قدر مشکلوں کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے ایبٹ آباد سے اسلام آباد پہنچی ہے۔ گھر میں تعلیم حاصل کرنے سے لے کر ایک بے جوڑ شادی اس کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کر رہے تھے۔ اس لڑکی کو لگتا ہے کہ اسے با اختیار ہونا چاہیئے ، وہ اپنی تعلیمی قابلیت کو معاشرے میں بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس کے خوابوں کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کے والدین ہیں ، جو اس سے پیار کرنے کے دعویدار تو ہیں لیکن اپنی اولاد کو بہت سے رشتے داروں کے تعنوں سے بچنے، اور رشتے داروں کے روٹھنے خوف سے، ان کی مرضی کے بنا ہی شادی کرنے لیے آمادہ ہیں۔

    ابھی کل ہی کی بات ہے ، ایک سہیلی کے ریفرنس سے طیبہ سے ملاقات ہوئی، جو کہ آج کل فری لانسر ہے۔ بیس منٹ کی ملاقات میں طیبہ کے مسائل سننا اور اس سے اس کی جنگ میرے لیے اب شاید روز کی بات ہے ۔

    طیبہ، نے اس مختصر سی ملاقات میں کافی کے ساتھ دو سگریٹ سلگائے ۔ اس کی شادی انیس سال کی عمر میں ایک وکیل سے ہوئی تھی، تقریباً پینتیس سالہ، طیبہ کے تین بچےہیں، جن کی کفالت کی وہ اکیلی ذمہ دار ہے۔ کیونکہ شادی کے آٹھ سال بعد اس نے خلاء لے لی۔ طیبہ کے مطابق، گھریلو ضروریات نہ پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسکا سابق خاوند مذہبی انتہا پسندی ، شک اور تشدد پسند بھی تھا۔ وہ کہتی یے کہ اسکا شوہر اکثر شہر سے باہر رہتا میں نے سسرال اور میکے والوں کو بہت بار کہا کہ اس کو نفسیات کے کسی ڈاکٹر کو دکھائیں شاید زندگی میں کچھ بہتری آجائے۔ لیکن! ہم سب اپنا علاج کرنے کی بجائے دوسروں کو پاگل بنانے کو ترجیح دیتےہیں۔ طیبہ کہتی ہے کہ وہ شدید کرب، لاچاری اور ذہنی اذیت سے دوچار ہو کر علحیدہ ہوئی تو اس کے بچوں کو وراثت سے آک کر دیا گیا۔ کئی مہینے ماں باپ کے گھر میں خود کو قید کر لیا۔ اور پھر اپنی ایک کلاس فیلو کے تعاون سے اس نے اپنے آپ سے لڑنا چھوڑا اور اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

    کچھ منٹ ہم سب خاموش رہے ، طیبہ اٹھ کر جا رہی تھی اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ ٹاسک ریلیشن کتنی بڑی اذیت ہیں۔پاکستان میں ناجانے کتنی خواتین روزآنہ ایسے ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتی ہوں گی۔ نہ صرف خواتین بلکہ مرد بھی جس دباؤ سے گزرتے ہیں اس کا اظہار ایک ٹیبو ہے۔ جہاں وہ خاموشی سے اپنے مسائل سے لڑتے ہی رہتے ہیں۔ان سارے سوچوں کے ساتھ میں اپنے ایک جاننے والی پروفیسر کے پاس پہنچی جو کہ آٹھ سال تک ذہنی امراض کے ایک کلینک میں کام کرتی رہیں ہیں اور اب نمس یورنیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں پڑھا رہیں ہیں۔ ڈاکٹر عظمی نے بتایا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے ہماری کمیونٹیز کی ذہنیت مریضوں کی صحت کو کس طرح نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہا کہ پرانی نسل کی اقدار کو برقرار رکھنے والے والدین ، اکثر اپنے بچوں کے لیے اضطراب کا باعث بنتے ہیں۔ جس سے ان کی اولاد میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ (پاکستانی والدین) اس طرح کی بیماریوں کے بارے میں حساس اور آگاہ بھی ہیں کو نہیں سمجھتے ۔

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    ہم میں سے اکثر والدین پدرانہ نظام کا حصہ رہے ہیں جس میں خواتین کے جذبات بمشکل ہی بحث کا موضوع ہوتے ہیں۔ خواتین کے جذبات، احساسات اکثر معاشرے میں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ کیونکہ خاندان اور رشتے داروں کے نزدیک وہ قابل ذکر نہیں ہوتے، کم عمری میں شادی ، بے جوڑ رشتے اور بعض اوقات لوگوں کے مطابق ایک عمر تک شادی نہ ہونے یا کرنے کی صورت میں خواتین کو اکثر طعنے سننا پڑتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں تک کہ انھیں مجبوریوں کا واسطہ دے کر ایک اور تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتاہے ۔

    وہ کہہ رہیں تھی کہ صرف ہم نہیں بلکہ سارا ملک ہی ایسے بہت سے کرب میں مبتلا ہے، بے سکونی، نیند نہ آنا، غربت و افلاس، تعلیم اور شعور کی کمی اور مذہبی و معاشرتی جنون ہم سب کے لیے ایک بڑا المیہ ہیں ۔ ہم نفسیاتی کے متعلق بیماریوں کو جاننا یا حل تلاش کرنے کو پاگل پن سمجھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دماغی صحت کا مسئلہ پاکستان باقی رہے گا اگر پاکستانی نوجوان اپنے بزرگوں سے مختلف ذہنیت کو ترجیح دینے میں ڈٹے رہے تو ذہنی بیماریوں کی شناخت نہ صرف آسان ہوجائے گی بلکہ نوجوانوں خاص طور پر خواتین کی پر اعتمادی میں اضافہ ہوگا ۔

    حال ہی میں جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت یے یہ ان کی تولید صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ جو ملک میں خواتین کی صحت کی بہترین پر کام کرے گا وہاں زیادہ ترقی ہو گی۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کی سطح دنیا میں سب سے کم ہے اور اس کا موازنہ ہمسایہ جنوبی ایشیائی ممالک کی خواتین کے مقابلے میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر 38 میں سے ایک عورت حمل سے متعلق وجوہات کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہے جبکہ سری لنکا میں یہ شرح 230 میں سے ایک ہے۔

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    کمسن بچوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک ملزم اہل محلہ نے پکڑ لیا،فحش ویڈیوز بھی برآمد

    شہر قائد کراچی کی منی بسوں میں فحش ڈانس کی ویڈیوز چلنے لگی

    ماضی کی رپورٹس بھی کچھ ایسا ہی احوال پیش کرتی ہیں۔کراچی کی آغا خان یونیورسٹی/ہسپتال میں یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں ایک اور 5 سالہ سروے (1992-1996) یہ ظاہر کرتا ہے کہ سائیکو تھراپی حاصل کرنے والے 212 مریضوں میں سے 65% خواتین تھیں، جن میں سے 72% شادی شدہ تھیں۔ مشورے کے محرک میاں بیوی اور سسرال والوں کے ساتھ تنازعات تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 50% خواتین میں کوئی نفسیاتی تشخیص نہیں تھی اور انہیں ‘پریشان خواتین’ کا لیبل لگایا گیا تھا۔ 28 فیصد خواتین ڈپریشن یا اضطراب کا شکار تھیں، 5-7 فیصد شخصیت یا ایڈجسٹمنٹ کی خرابی تھی اور سترہ فیصد کو دیگر امراض تھے۔

    تحقیقات سے یہ بھی پتا چلتا یے کہ پاکستان میں بیس سے چالیس سال کی عمر زیادہ ذہنی امراض کا شکار ہے۔ گویا پالیسی بنانے والوں کو اس عمر کی خواتین کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا تاکہ ان کی ذہنی اور تولیدی صحت کس کم سے کم متاثر کیا جائے اور ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو۔

  • بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی سیاست میں تبدیلی کے نقارے بج اٹھے ہیں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار کو لے کر کشیدہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر اوپیکس ممالک نے امریکی صدر کے انتباہ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس وقت امریکہ اور شاہی خاندان کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ خدشہ ہے کہ عالمی دنیا کی معیشت پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کے اثرات عرب ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان، بھارت سمیت اس خطے پر بھی پڑیں گے۔ تاہم عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کی خبر رکھنے کے باوجود ہمارے حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدان حلال ہے یا حرام ہے کی بحث میں پڑے ہیں،

    حکمران عمران کا مارچ کدھر سے آئے گا کدھر جائے گا کی بحث کر رہے ہیں جبکہ عمران خان خفیہ لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے کیا ہونے جا رہا ہے اس سے بے خبر ہمارے سیاستدانوں نے وطن عزیز کو کن بین الاقوامی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے پس پشت ڈال دیا ہے۔ معذرت کے ساتھ وطن عزیز کے راہزنوں اورر قزاقوں نے اپنی تجوریاں اپنے ذاتی خزانے بھرنے کے لئے ملک اور عوام کے مسائل سے آنکھیں بندکر لی ہیں۔حیرانگی کی بات ملک بحرانوں کا شکار ہے ہمارے سیاستدان اس بحث میں پڑے ہیں نیا آرمی چیف کون ہوگا کون ہونا چاہئے کیسا ہونا چاہئے ؟ ایسے کاموں میں ہاتھ ڈال رہے ہیں جو ان کا کام ہی نہیں ۔

    ملک کا آئین کیا کہتا ہے آئین کے مطابق اور سنیارٹی کے مطابق کون نیا آرمی چیف ہوگا اور پھر یہ معاملہ خالصتاً خود آرمی کا ہے کسی سیاسی جماعت کا نہیں اور نہ ہی ہونا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں وسیع تر ملکی اور قومی مفاد میں مل کر ماضی میں اپنے تئیں غلطیوں کا اعتراف کریں مکمل منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کی راہ ہموار کریں۔ کرپشن، بدعنوانی ،ذاتی مفادات ،اقربا پروری کو بالائے طاق رکھ کر قومی خدمت کا تہیہ کریں تمام آئینی ادارے اپنی حدود میں رہ کر قائداعظم کے تصور کردہ اصولوں کے مطابق ملکی نظام کو چلائیں ۔ ملک آج بھی بحرانوں کے گرداب سے نکل سکتا ہے۔ پرانی پنجابی فلموں کی طرح مرکزی حکومت اور اپوزیشن بڑھکیں مارنا چھوڑ دیں۔ ملک اور قوم کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ریاست بھی تھک چکی ہے ریاست اب اس طرز سیاست کرنے والوں کی بڑھک بازی کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہے۔

  • سیلاب ، بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت،تجزیہ :شہزاد قریشی

    سیلاب ، بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت،تجزیہ :شہزاد قریشی

    خدا نہ کرے ہم پر قہر نازل ہو قرآن پاک کا مطالعہ کریں جن قوموں پر قہر نازل ہوا وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ دنیا بھر میں بارشیں ہوتی ہیں حکومتیں اور متعلقہ ادارے منصوبہ بندی کرتے ہیں حکومتیں، انتظامیہ فلڈ وارننگ پر نظر رکھتی ہیں۔ ایک ایک انسان کی حفاظت کی جاتی ہے انسانوں کو انسان سمجھا جاتا ہے۔ دعائیں دینے والے اور بددعائیں دینے والے حضرات سے معذرت کے ساتھ پاکستان میں یہ آفت کا قہر کیا غریب اور بے بس لاچار عوام پر ہی آتا ہے۔ کیا یہ قہر مخصوص طبقے کے لئے رہ گیا ہے ہر گز نہیں ۔ یہ خدا پاک کا قہر نہیں بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے خدا پاک اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ ان سیلابی ریلوں کو روکا جا سکتا ہے ملک میں ڈیم بنا کر روکا جا سکتا ہے۔

    بھارت نے پانچ ہزار ڈیم بنا دیئے۔ بنگلہ دیش نے سینکڑوں ڈیم بنا دیئے اور اس طرح کے طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ جنگلات اور پانی دو ایسی قدرتی طاقتیں ہیں جو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں دنیا بھر میں جنگلات کے تحفظ کے لئے ادارے موجود ہیں مگر بدقسمتی سے ہم نے پورا ملک بڑے بڑے لینڈ مافیا کے حوالے کر دیا وہ جنگلات کاٹ کاٹ کر ہائوسنگ سوسائٹیز بنا رہے ہیں۔ دوسری طرف دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں پر بحث کی جا رہی ہے جبکہ برطانیہ کی رکن پارلیمنٹ کلاڈیا نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ گرین ہائوس کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے لیکن پاکستان کا شمار ماحولیاتی تبدیلیوں کا بدترین سامنا کرنیوالے سرفہرست دس ممالک میں ہوتا ہے ۔ کلاڈیا ویب نے لکھا ہے کہ قطب شمالی کے بعد سب سے زیادہ گلیشیرز پاکستان میں پگھل رہے ہیں۔ کلاڈیا ویب نے کہا اس کے ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک ہیں ملک کی سیاسی قیادت، جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں، صنعتکاروں کے ہاتھوں میں ہے کیا کہا جائے جنہوں نے اپنے محل تو محفوظ کر لئے مگر پاکستان جو بائیس کروڑ عوام پر مشتمل ہے اس گھر کو محفوظ بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا نہ ڈیم بنانے کی طرف توجہ دی نہ جنگلات کے تحفظ کے لئے کچھ کیا۔

    سیاسی قیادت نے یارانے لینڈ مافیا اور ٹمبر مافیا کے ساتھ ہیں بیورو کریسی اور سول انتظامیہ خاموش تماشائی ہے قانون کی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ اس وقت ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف غداری اور سازشی اور اب دہشت گردی جیسے الزامات لگا کر ملک و قوم کی کون سی خدمات سرانجام دے رہی ہیں؟ ایک دوسرے کو سیاست سے آئوٹ کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اس ملک کو سنوارنے اور عوام کو ایسی آفات سے بچانے کی منصوبہ بندی کون کرے گا؟ ڈیم کون بنائے گا؟ جنگلات کا تحفظ کون کرے گا ؟ اگر آج بھی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جائیں گے۔

  • اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے قریب کیوں ہوتا ہے ؟ — ثمینہ کوثر

    اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے قریب کیوں ہوتا ہے ؟ — ثمینہ کوثر

    ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ: اے میرے رب عزوجل میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟ تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ : مجھے ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس تلاش کرو ۔

    اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت داود علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے اللہ عزوجل! اگر میں تجھے تلاش کروں، تو تو مجھے کہاں ملے گا ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (میں) ان لوگوں کے پاس ملوں گا، جن کے دل میرے خوف سے شکستہ (ٹوٹے ہوئے ) ہوں۔

    یہ تھیں وہ روایات جن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوتا ہے یا پھر اللہ ٹوٹے ہوئے دلوں میں بستا ہے ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا مسکن ٹوٹے ہوئے دلوں کو ہی کیوں بنایا ہے ۔ آخر ان ٹوٹے ہوئے دلوں میں کیا خوبی ہے کہ اگر ہم اللہ کو تلاش کریں گے تو وہ ہمیں ان ٹوٹے ہوئے دلوں میں ہی ملے گا ۔ تو آج ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالی ان ٹوٹے ہوئے دلوں میں بستا ہے ۔

    دراصل اللہ تعالی ہر پاکیزہ اور صاف ستھرے دل میں رہتا ہے ، جو دل ایمان کی روشنی سے منور ہوتے ہیں ، اللہ تعالی انہی دلوں میں اپنا بسیرا بنا لیتا ہے لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں کوئی ایسا شخص ، کوئی ایسی چیز ، کوئی ایسی خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ ہم اسی میں کھو جاتے ہیں ، ہم اس چیز میں ، اس انسان ان میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ اس چیز ، اس انسان اور اس خواہش کی تمنا اور محبت ہمارے دلوں میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ، جس سے آہستہ آہستہ ہمارے دلوں سے اللہ تعالی کی محبت کم ہونے لگتی ہے اور ہمارے دل آہستہ آہستہ نفاق ، خود غرضی ، ہٹ دھرمی اور منافقت سے بھر جاتے ہیں ۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہم ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور ہم اپنی خواہش ، اپنی محبت اور اپنی تمنا کو پانے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جانے کو تیار ہوتے ہیں اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ہم اس خواہش ، اس تمنا اور اس محبت کی وجہ سے ریزہ ریزہ کر دیے جاتے ہیں ۔ ہم جن چیزوں کے لئے اللہ تعالی کی نافرمانی شروع کر چکے ہوتے ہیں ، جن کاموں کی وجہ سے گناہوں کی دلدل میں گرتے چلے جارہے ہوتے ہیں ، جس دل میں ہم نے اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو بسا لیا ہوتا ہے ، پھر اسی چیز ، اسی محبت ، اسی انسان کے ذریعے ہمارا دل ریزہ ریزہ کیا جاتا ہے ۔ ریزہ ریزہ بھی ایسا کہ اگر ساری کائنات بھی اس ٹوٹے ہوئے دل کی کرچیاں جمع کرنے کی کوشش کرے کرے تو یہ کسی کے بس کی بات نہیں رہتی اور جب یہ دل ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے تو تب ایک دفعہ پھر سے اس تمناء ، اس خواہش ، اس محبت کے ساتھ ساتھ ہمارے دل سے نفرتیں ، نفاق ، خود غرضی ، جھوٹ ، فریب اور ہوس سب نکل جاتا ہے ۔ جب دل ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں تو یہ تمام برائیوں اور گناہوں سے پاک کر دیے جاتے ہیں ۔ پھر اس کو جوڑنے والا اگر کوئی ہوتا ہے تو صرف ایک اللہ ۔ جب یہ ریزہ ریزہ دل نفرت ، حسد اور لالچ سے پاک ہوتا ہے تو اللہ تعالی کو یہ دل پھر سے محبوب ہو جاتا ہے ۔

    وہ دل جس میں ہم نے ایسے شخص کو بسایا تھا جس کی محبت کو ہم نے اللہ تعالی کی محبت سے زیادہ اہمیت دی تھی پھر وہی دل دوبارہ سے ہر غیر کی محبت سے پاک ہو چکا ہوتا ہے اور جب ٹوٹا ہوا دل ہر قسم کے شرک سے پاک ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی دوبارہ سے اسی دل کو اپنا مسکن بنا لیتا ہے ۔ اللہ تعالی اس پاکیزہ ٹوٹے ہوئے دل کو اپنا مسکن بنا لیتا ہے ۔ اسی دل میں اپنا ڈیرہ جما لیتا ہے اور پھر وہ ٹوٹا ہوا دل بے حد مطمئن اور پرسکون ہو جاتا ہے اور پھر نہ صرف یہ کہ وہ خود سکون میں ہوتا ہے بلکہ اس دنیا جہان میں جتنے بھی بے سکون اللہ سے ملنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اللہ تعالی ان سب کو اس ٹوٹے ہوئے دل کا پتہ بتا دیتا ہے اور پھر یہی کہتا ہے کہ مجھے شکستہ دلوں کے پاس ، ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس تلاش کرو میں وہی ملوں گا ۔ بس اتنا یاد رکھیں کہ اگر دل ٹوٹ گیا ہو اور اس کو جوڑنے والا کوئی نظر نہ آ رہا ہو تو سمجھ لیں کہ یہ اللہ تعالی کی امانت تھی اور اللہ تعالی نے ہی اسے بنایا تھا ، اب پھر سے وہی ایسا کاریگر ہے کہ اس ٹوٹے ہوئے دل کو صرف وہی جوڑ سکتا ہے ۔ یقین جانیں کہ اللہ تعالی اس ٹوٹے ہوئے دل کو اس طرح سے دوبارہ جوڑے گا کہ کہیں کوئی پیوند نظر نہیں آئے گا کہیں کوئی جوڑ نظر نہیں آئے گا ۔ یہاں تک کہ یہ ٹوٹے ہوئے دل جڑ جانے کے بعد بھی کبھی بھی نفرت حسد اور گناہ کی آماجگاہ نہیں بنیں گے لہذا جب بھی دل ٹوٹے تو اسے اس کے اصل مالک کے پاس لے جایا کریں اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر آپ کا دل نہیں بھی ٹوٹا تو بھی اپنے دل کو حسد ، جھوٹ اور منافقت جیسی بری صفات سے پاک کر لیجئے ۔ اللہ تعالی پھر بھی آپ کے دل کو اپنا مسکن بنا لے گا ۔ یاد رکھیے کہ اپنے دل کو کبھی بھی ایسی تمنا ، خواہش اور محبت میں مبتلا مت کیجئے جس سے اللہ کی ساتھ محبت میں کمی آجائے ۔