Baaghi TV

Tag: بلاگ

  • اردو کے عظیم کہانی نویس، الیاس سیتا پوری کا تعارف

    اردو کے عظیم کہانی نویس، الیاس سیتا پوری کا تعارف

    الیاس سیتا پوری ، اردو کے عظیم کہانی نویس کی کہانی

    اردو کے عظیم کہانی نویس محمد الیاس خان المعروف الیاس سیتاپوری 30 اکتوبر 1934 کو لکھنؤ (اترپردیش) ہندوستان کے ضلع سیتاپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے آبا و اجداد کا تعلق فارسی، پشتو اور داری بولنے والے پٹھان یوسف زئی قبیلے سے تھا جو کابل (افغانستان) سے ہجرت کر کے شاہجہاں پور (اترپردیش) میں آباد ہوئے تھے۔ الیاس سیتاپوری نے اپنی ابتدائی تعلیم سیتاپور میں حاصل کی اور لڑکپن ہی سے کہانیاں لکھنا شروع کر دیں۔ ان کی پہلی تاریخی کہانی جس نے شہرت و قبولیت عامہ حاصل کی وہ ”خانِ اعظم کا تحفہ“ تھی جو ماہنامہ "سب رنگ” ڈائجسٹ کے 1971 کے ایک شمارے میں شائع ہوئی تھی۔

    حرم سرا، راگ کا بدن، اندر کا آدمی، چاند کا خدا، بالاخانے کی دلہن، پارسائی کا خمار، آوارہ گرد بادشاہ ۔۔۔ ان کی مقبول ترین کہانیاں باور کی جاتی ہیں جو پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں شمع بکڈپو (نئی دہلی) نے شائع کیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایم کیو ایم پاکستان نے بھی سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی درخواست واپس لینےکا فیصلہ کرلیا
    ایم کیو ایم پورے شہر سے الیکشن لڑے گی. مصطفی کمال
    گرفتار ملزم نے اب تک 328 گردوں کے آپریشن کئے ہیں. نگران وزیراعلی پنجاب
    نواز شریف کا استقبال؛ زیادہ بندے لانے پر ہونڈا 125 بائیک مگر پٹرول اپنا
    پرینکسٹر یوٹیوبر کو گولی مارنے والے کو عدالت نے رہا کردیا
    انقرہ میں دھماکہ کی تحقیقات شروع
    ن لیگ کا انتقامی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کا فیصلہ
    کہا جاتا ہے کہ الیاس سیتاپوری نے اپنی اہلیہ ضیا تسنیم بلگرامی کے نام سے مذہبی شخصیات اور پیشواؤں کے واقعات بھی تحریر کیے چاہے وہ انبیائے کرام کے حالات زندگی ہوں یا صحابہ کرام کی تبلیغ، مجدّدین کی جدوجہد یا اولیائے کرام اور مجاہدین کے کارنامے۔
    یکم اکتوبر 2003 کو الیاس سیتاپوری کراچی (پاکستان) میں انتقال کر گئے۔ ان کی اولاد میں بیٹا کاشف اور بیٹیوں زنوبیا اور آسنا کے نام سے میں واقف ہوں۔

  • محسن بھوپالی  کا جنم دن

    محسن بھوپالی کا جنم دن

    چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری
    لوگوں کا کیا سمجھانے دو ان کی اپنی مجبوری

    اردو کے معروف شاعر محسن بھوپالی ک 29 ستمبر 1932ء میں بھوپال کے قریب ضلع ہوشنگ آباد کے قصبے سہاگپور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عبدالرحمان تھا۔ 1947ء میں وہ اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آگئے اور لاڑکانہ میں سکونت پذیر ہوئے۔ این ای ڈی انجینئرنگ کالج کراچی سے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کرنے کے بعد وہ 1952ء میں محکمہ تعمیرات حکومت سندھ سے وابستہ ہوئے۔

    اس ادارے سے ان کی یہ وابستگی 1993ء تک جاری رہی۔ اسی دوران انہوں نے جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ محسن بھوپالی کی شعر گوئی کا آغاز 1948ء سے ہوا۔ ان کی جو کتابیں اشاعت پذیر ہوئیں ان میں شکست شب، جستہ جستہ، نظمانے، ماجرا، گرد مسافت، قومی یک جہتی میں ادب کا کردار، حیرتوں کی سرزمین، مجموعہ سخن، موضوعاتی نظمیں، منظر پتلی میں، روشنی تو دیے کے اندر ہے، جاپان کے چار عظیم شاعر، شہر آشوب کراچی اور نقد سخن شامل ہیں۔

    محسن بھوپالی کویہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ 1961ء میں ان کے اولین شعری مجموعے کی تقریب رونمائی حیدرآباد سندھ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت زیڈ اے بخاری نے انجام دی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کتاب کی پہلی باقاعدہ تقریب رونمائی تھی جس کے کارڈ بھی تقسیم کئے گئے تھے۔ وہ ایک نئی صنف سخن نظمانے کے بھی موجد تھے۔

    محسن بھوپالی اردو کے ایک مقبول شاعر تھے ۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کئی قطعات اور اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کرگئے تھے خصوصاً ان کا یہ قطعہ توان کی پہچان بن گیا تھا اور ہر مشاعرے میں ان سے اس کے پڑھے جانے کی فرمائش ہوتی تھی۔ تلقین صبر و ضبط وہ فرما رہے ہیں آج راہ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
    17 جنوری 2007ء کو محسن بھوپالی دنیا سے رخصت ہوئے اورکراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا
    پھر اس کے بعد مرا شہ سوار ابھرے گا
    سفینہ ڈوبا نہیں ہے نظر سے اوجھل ہے
    مجھے یقیں ہے پھر ایک بار ابھرے گا
    پڑی بھی رہنے دو ماضی پہ مصلحت کی راکھ
    کریدنے سے فقط انتشار ابھرے گا
    ہمارے عہد میں شرط شناوری ہے یہی
    ہے ڈوبنے پہ جسے اختیار ابھرے گا
    شب سیہ کا مقدر شکست ہے محسنؔ
    در افق سے پھر انجم شکار ابھرے گا
    (محسن بھوپالی)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری
    لوگوں کا کیا سمجھانے دو ان کی اپنی مجبوری
    میں نے دل کی بات رکھی اور تو نے دنیا والوں کی
    میری عرض بھی مجبوری تھی ان کا حکم بھی مجبوری
    روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
    کچی مٹی تو مہکے گی ہے مٹی کی مجبوری
    ذات کدے میں پہروں باتیں اور ملیں تو مہر بلب
    جبر وقت نے بخشی ہم کو اب کے کیسی مجبوری
    جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے سب اپنے ہیں
    وقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری
    اک آوارہ بادل سے کیوں میں نے سایہ مانگا تھا
    میری بھی یہ نادانی تھی اس کی بھی تھی مجبوری
    مدت گزری اک وعدے پر آج بھی قائم ہیں محسنؔ
    ہم نے ساری عمر نباہی اپنی پہلی مجبوری

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
    وہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا
    ہے تار تار مرے اعتماد کا دامن
    کسے بتاؤں کہ میں بھی امین رکھتا تھا
    اتر گیا ہے رگوں میں مرے لہو بن کر
    وہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا
    گزرنے والے نہ یوں سرسری گزر دل سے
    مکاں شکستہ سہی پر مکین رکھتا تھا
    وہ جوہری نہ رہا اب اسے کہاں ڈھونڈیں
    جو لفظ لفظ میں در ثمین رکھتا تھا
    وہ عقل کل تھا بھلا کس کی مانتا محسنؔ
    خیال خام پہ پختہ یقین رکھتا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ضبط کر اے دلِ مَجرُوح کہ اِس دُنیا میں
    کون سا دل ہدفِ گردشِ ایّام نہیں
    غمِ محبوب و غمِ دَہر و غمِ جاں کی قسم
    ایسے غم بھی ہیں یہاں جن کا کوئی نام نہیں

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈکپ کے لئے کمینٹیٹرز کے پینل کا اعلان
    سانحہ جڑانوالہ پر جے آئی ٹی نہیں بنائی جائے گی,محسن نقوی
    آئی ایم ایف کا انرجی سیکٹر میں اصلاحات میں بہتری کا مطالبہ

  • سیاسی جماعتیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے کیوں ڈرتی ہیں؟ تجزیہ شہزاد  قریشی

    سیاسی جماعتیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے کیوں ڈرتی ہیں؟ تجزیہ شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ ہائوس کو ہی جمہوریت کی فتح قرار دیتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی طرف سے قومی انتخابات آئین کے مطابق کروانے کامطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ حیرت ہے ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب جہاں بلدیاتی انتخابات کی صدا کوئی بھی سیاسی جماعت بلند نہیں کرتی۔ بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے آخر جمہوریت کی دعویدار آئین کی دعویدار جماعتیں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے سے کیوں راہ فرار ہیں؟ کیا ملک کی سیاسی جماعتیں قوم کو بتا سکتی ہیں کہ آخر پنجاب کو بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔ بلاشبہ ملک میں مہنگائی ہے عام آدمی کا گزارا مشکل سے ہورہا ہے جبکہ دوسری طرف لاہور‘ راولپنڈی‘ اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹلز‘ بیوروکریسی‘ اشرافیہ‘ صنعتکار‘ تاجر ‘ سرمایہ دار‘ شام کا ڈنر ان مقامات پر کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ بلا شبہ پٹرول مہنگا ہے مگر سڑکوں پر قیمتی گاڑیوں سے لیکر چھوٹی گاڑیاں دوڑتی نظر آتی ہیں۔ ملک کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں شاپنگ پلازوں میں عوام کا رش نظر آتا ہے۔ آخر سوشل میڈیا‘ الیکٹرانک میڈیا‘ پرنٹ میڈیا‘ سیاسی بونے‘ اس وطن عزیز کو عالمی سطح پر غربت غربت کرکے اس ملک سے کون سے بدلہ لے رہے ہیں۔

    الیکٹرانک میڈیا اور دیگر میڈیا پاکستان کا مثبت چہرہ کیوں نہیں دکھاتا؟ غربت کے مارے لوگوں کو ضرور دکھایئے مگر خوبصورت شاپنگ پلازوں ‘ بڑے بڑے ہوٹلز‘ فوڈ اسٹریٹ‘ بڑی بڑی سڑکیں‘ خوبصورت مقامات کو بھی دکھایا جائے۔ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے گلیشیئر‘ پہاڑ‘ دریار‘ سمندر‘ ریگستان‘ گلگت کا سرد ریگستان باعث کشش ہے۔ پاکستان کی ثقافت تاریخ‘ ہنرمندی‘ خوبصورت مذہبی ہم آہنگی اور جدید پاکستان کو اجاگر کیا جائے۔ پاکستان دنیا کے چند ممالک میں ہے جہاں صحرا‘ پہاڑ‘ ریگستان‘ میدان‘ نخلستان اور چٹیل میدان موجود ہیں۔ پاکستان سرمایہ کاری کو فروغ دے سکتا ہے اپنی بندرگاہیں موجود ہیں لاکھوں ایکڑ رقبے موجود ہیں۔ پاکستان کے کھانے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ پاکستان کے پھلوں کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ ملک کی کپاس بہترین کپاس ہے۔

    پاکستان کی کاٹن انڈسٹری دنیا کو لیڈ کرسکتی ہے۔ عالمی دنیا کو پاکستان کا مثبت چہرہ دکھانے کی ضرورت ہے سفارتخانے‘ بیوروکریٹ اور دیگر ادارے اگر مثبت کردار ادا کریں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں نوجوانوں کی بڑی تعاد پڑھی لکھی ہے ان نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا ان پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ ملک کے نوجوانوں کو صنعتی شعبے میں استعمال کرکے انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو گمراہ نہ کریں اپنے اقتدار اور اختیارات حاصل کرنے کے لئے خدارا ابھی بھی وقت ہے۔

  • اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت

    اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت

    اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت
    کیا ایسے میں کوئی باندھا ہوا بستر کھولے

    تحریر ۔ آغا نیاز مگسی ۔

    تاریخ پیدائش :14 ستمبر 1951ء
    تاریخ وفات:24 اکتوبر 2017ء

    اردو شاعر 14 ستمبر 1951 کو کوئٹہ میں قاضی مظفر الحق ظفر کے ہاں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم بھی کوئٹہ ہی میں حاصل کی میٹرک 1968ء میں کیا۔ شاعری آپ کو باپ دادا سے وراثت میں ملی آپ نے آغا صادق حسیں نقوی سے اصلاح لی پھر ان کی وفات کے بعد اخگر سہارنپوری سےبھی اصلاح لی آپ نے شناختی کارڈ کے محکمے سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر ریٹائرمنٹ لی پھر صحافت کے میدان کو چنا آپ روزنامہ زمانہ کوئٹہ۔اس کے بعد روزنامہ جنگ کوئٹہ اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں جنگ میگزین کے انچارج تھے آپ کانعتیہ کلام دریائے نور 2011ء میں منظر عام پر آیا اسکے بعد دوسرا شعری مجموعہ جو غزلیہ شعری مجموعہ ہے سیل جنوں 2015ء میں شائع ہوا۔ آپ کی پہلی شادی 1971ء میں ہوئی۔ اس شادی سے آپ کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں پہلی اہلیہ کی وفات کے بعد آپ نے دوسری شادی ممتاز شاعرہ تسنیم صنم صاحبہ سے کی۔ آپ کو استاد الاساتذہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔ آپ پختہ گو شاعر تھے۔ حمد۔نعت۔غزل۔نظم۔رباعی۔گیٹ۔ ہائیکو جیسی اصناف سخن پر مکمل عبور حاصل ہونے کے ساتھ قطعہ تاریخ میں خصوصی مہارت حاصل تھی۔ ان کا انتقال24 اکتوبر 2017ء میں ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کولمبو ، پاکستان بمقابلہ سری لنکا،میچ میں ایک بار پھر بارش کی انٹری
    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا
    پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،نگران وزیر داخلہ
    ڈیفالٹرز سے ریکوری مہم ،لیسکو نے دوسرے روز21.26ملین کی وصولی کرلی
    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا
    غزل
    ۔۔۔
    دیوار میں امکان کا اک در کوئی کھولے
    اوجھل ہے جو آنکھوں سے وہ منظر کوئی کھولے
    اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت
    کیا ایسے میں باندھا ہوا بستر کوئی کھولے
    رقصاں ہو تو پھر نیند سے اٹھنے نہیں دیتی
    اس بادِ صبا کی ذرا جھانجھر کوئی کھولے
    جب ان سنی ہر بات کے ہونے کا یقیں ہو
    کیوں اپنی شکایات کا دفتر کوئی کھولے
    آسیب کے آجانے سے کچھ پہلے عزیزو
    ممکن ہو تو اس دل کا ہر اک گھر کوئی کھولے
    اب شہر کے ہر شخص کی خواہش ہے یہ صائمؔ
    جو باندھ کے رکھا ہے سمندر کوئی کھولے

  • 30؍اگست  یوم پیدائش شیلیندر

    30؍اگست یوم پیدائش شیلیندر

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    شیلیندر

    30؍اگست 1923: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کے نامور فلمی نغمہ نگار شنکر داس کیسری لال المعروف شیلیندر 30؍اگست 1923ء کو پنجاب کے شہر راولپنڈی (پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھا۔ ملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔
    اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے میں ہی گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھے۔ انہوں نے بالی وڈ میں دو دہائی تک تقریباً 170 فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہررنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں۔ ان کے نغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں۔
    انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے۔
    شیلیندر 14؍دسمبر 1966ء کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    آندھی میں اِک دیپ جلایا
    اور پانی میں آگ لگائی

    ہے درد ایسا کہ سہنا ہے مشکل
    دنیا والوں سے کہنا ہے مشکل
    گِھر کے آیا ہے طوفان ایسا
    بچ کے ساحل پہ رہنا ہے مشکل

    دل کو سمبھالا نہ دامن بچایا
    پھیلی جب آگ تب ہوش آیا
    غم کے مارے پکاریں کسے ہم
    ہم سے بچھڑا ہمارا ہی سایہ

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کھویا کھویا چاند
    کھلا آسمان
    آنکھوں میں ساری رات جائے گی
    تم کو بھی کیسے نیند آئے گی

    کھویا کھویا چاند.

    مستی بھری ہوا جو چلی
    کھل کھل گئی یہ دل کی کلی
    من کی گلی میں ہے کھلبلی
    کہ ان کو تو بلاؤ

    کھویا کھویا چاند.

    تارے چلے نظارے چلے
    سنگ سنگ مرے وہ سارے چلے
    چاروں طرف اشارے چلے
    کسی کے تو ہوجاؤ

    کھویا کھویا چاند.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایسے میں کس کو
    کون منائے ؟

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

    پیار میں جن کے
    سب جگ چھوڑا
    اور ہُوئے بدنام
    اُن کے ہی ھاتھوں
    حال ہوا یہ
    بیٹھے ہیں دل کو تھام
    اپنے کبھی تھے
    اب ہیں پرائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    ایسی ہی رِم جِھم
    ایسی پُھواریں
    ایسی ہی تھی برسات۔۔۔۔
    خود سے جُدا اور
    جگ سے پرائے
    ہم دونوں تھے ساتھ۔۔۔۔
    پھر سو وہ ساون
    اب کیوں نہ آئے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دِل کے میرے
    پاس ہو اتنے
    پِھر بھی ہو کتنی دور
    تم مجھ سے
    میں
    دِل سے پریشاں
    دونوں ہیں مجبور۔۔۔۔
    ایسے میں کس کو
    کون منائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • 29 اگست یوم وفات؛ قاضی نذر الاسلام

    29 اگست یوم وفات؛ قاضی نذر الاسلام

    قاضی نذر الاسلام ایک بنگالی شاعر، مصنف، موسیقی کار اور تحریک پسند تھے۔ انہیں بنگلہ دیش کا قومی شاعر قرار دیا گیا ہے وہ 24 مئی 1899 میں پیدا ہوئے

    جبکہ نذر کے نام سے شہرہ یافتہ نذرالاسلام، بھارتی اسلامی نشاة ثانیہ کے لیے اپنی تحریک چلائی، اور فاشزم اور اپریشن کے خلاف کام کیا۔ سماجی مساوات کے لیے دم بھرنے والے نذر کو باغی شاعر کے خطاب عوام سے نوازا گیا۔ چونکہ نذر موسیقی کے بھی دلدادہ تھے، انہوں نے اس پر بھی کام کیا اور شہرت یہاں تک ہوئی کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے انہیں اپنا قومی شاعر کا اعلان کیا۔

    نذر مغربی بنگال کے شہر کلکتہ میں ایک عالم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ عالم گھرانہ قاضی گھرانہ تھا۔ نذر دینی علوم سے فارغ ہوکر، موذن کے کام سے وابستہ ہوگئے۔ شاعری سیکھی، ڈراما، ادب اور ٹھئیٹر آرٹ سیکھے۔ مشرق وسطیٰ میں پہلی عالمی جنگ کے دوران میں برطانوی افواج کے لیے بھی کام کیا۔ بعد اذیں، بھارت میں مقیم ہوئے۔ شہر کلکتہ میں اخبار کے لیے صحافت کا کام کیا، باغی شاعر یا بدروہ کوی کہلائے۔ بدروہ کوی، بھانگر دان، دھوم کیتو جیسے فنی تخلیقات کیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    تحریک آزادی میں حصہ لیا، جیل بھی گئے۔ ان کی شاعری اور ادبی کارنامے جنگ آزادی بنگلہ دیش تحریک میں ماثر رہے. 29 اگست 1976 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • سلمی لغاری المعروف امر سندھو  کا یوم پیدائش

    سلمی لغاری المعروف امر سندھو کا یوم پیدائش

    پھندوں میں لٹکتی ہوئی گردنوں سے
    میں خوابوں کا مطلب پوچھتی ہوں
    لغاری بلوچ قبیلے سے تعلق رکھنے والی نامور ترقی پسند ادیبہ_ مصنفہ، شاعرہ ، ماہر تعلیم اور انسانی حقوق کی جدوجہد کے حوالے سے فعال کردار ادا کرنے والی سلمی لغاری المعروف امر سندھو 28 اگست 1968 میں میرپور خاص کے ایک نواحی گاؤں دودو لغاری میں حسین بخش لغاری کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔

    انہوں نے ابتدائی تعلیم میر پور خاص میں حاصل کرنے کے بعد سندھ یونیورسٹی جام شورو سے ڈبل ایم اے اور ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد محکمہ تعلیم سندھ میں لیکچرر مقرر ہوئیں ۔ امر سندھو اس وقت سندھ یونیورسٹی جام شورو میں شعبہ فلسفہ کی پروفیسر اور چیئرپرسن ہیں ۔

    وہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے بھی فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے ڈاکٹر عرفانہ ملاح کے ساتھ مل کر 2008 ویمن ایکشن فورم کا قیام عمل میں لایا ۔ ان کی ایک سندھی کتاب” اوجاگیل اکھین جا سپنا” (جاگتی آنکھوں کے خواب)شائع ہو کر بہت پذیرائی حاصل کر چکی ہے۔ 10 جولائی 2012 میں امر سندھو پر حملہ کیا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی تھیں وہ اس وقت ڈاکٹر عرفانہ ملاح کے ساتھ سفر کر رہی تھیں ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر 302 روپے کا ہوگیا
    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ
    نوازشریف ہی عوام کومہنگائی، بجلی کے بلوں میں اضافے سے بچائیں گے،مریم نواز
    امر سندھو قومی و بین الاقوامی کانفرنسز میں بھی شرکت کر کے مقالے پڑھتی اور پیش کرتی رہتی ہیں ۔

    امر سندھو کی دو نظمیں قارئین کی نذر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں۔۔!!
    اپنے دیس کی تنہائیوں کو
    اپنا ساتھ پیش کرنا چاہتی ہوں
    مگر، گیت جو بھگت کنوررام کے گلے میں ذبح کیا گیا
    میرے جسم کا عنوان
    بن نہیں سکتا۔
    اس کے سینے پر
    سر رکھ کر میں نے رونا چاہا
    لیکن اماں نے بتایا کہ
    میرے آنسو اور آہوں سے
    رخصتی کا گیت لکھ رہی ہیں
    اور ۔۔۔۔۔ پھر
    اپنے حصے میں آئے،
    تمام سوالات
    میں نے اپنے جسم میں بو دیے۔
    سمندر کے کنارے
    جوانی جو گیت گنگناتی ہے
    میں نے،
    وہ گیت گانے کی کوشش کی تو
    الفاظ مٹی،
    اور مٹی میری موت بن گئی
    اس کی ہر سسکی سے
    میں نے اک نعرے کو جنم دیا ہے
    نعرہ۔۔۔۔۔ جس کے مستقبل میں سینکڑوں کائناتیں اور
    حال میں گندھک کی گولیاں اور
    پھانسی کے پھندے لٹک رہے ہیں
    پھندوں میں لٹکتی ہوئی گردنوں سے
    میں خوابوں کا مطلب پوچھتی ہوں
    جن کے بیٹے!
    گندھک کی گولیاں نگل جائیں
    اس گاؤں کے باسیوں کے بجائے
    میں نے ان دیواروں کو
    (جو گولیوں کے لیے ڈھال نہ بن سکیں)
    بھی روتے ہوئے دیکھا ہے
    ’’ان کے خون سے
    روٹیاں کب پھوٹیں گی؟‘‘
    میرے خواب باربار مجھ سے پوچھتے ہیں۔

    (مزاحمتی شاعری )

    مزاحمتی شاعری میں جاگنے کے بعد
    بغاوت۔۔۔۔!
    میری رگوں میں دوڑتی
    میری آنکھوں میں بھر جاتی ہے
    میری بھیچی ہوئی مٹھیوں میں سانس لیتی
    میرے ہونٹوں پر جاگتی ہے
    بغاوتوں سے بوسہ
    اور راستوں سے چھالے لے کر
    میرے ہونٹ اور پیر
    اجنبی زبان میں لکھی ہوئی تاریخ کی کتاب کے
    خالی اوراق میں، بغیر عنوان کے ہی
    پرنٹ ہوجاتے ہیں
    میری آنے والی نسل، ان پرنٹس سے
    نعروں کو جنم دے گی۔۔۔؟
    یا جاڑوں کی سرد راتوں میں
    یہ پرنٹ جلاکر اپنے ہاتھ سینکے گی
    مجھے کیا معلوم؟

  • یوم وفات محمود تيمور؛ معروف مصری ادیب

    یوم وفات محمود تيمور؛ معروف مصری ادیب

    محمود تيمور معروف مصری ادیب اور افسانہ نگار ہیں۔ انھیں دور جدید کے عربی افسانے کا بابا آدم، مختصر عربی کہانیوں کا پیشوا، عرب کا موپاساں اور عرب کا شیکسپیر بھی کہا جاتا ہے۔

    محمود تیمور نے 16 جولائی 1894ء کو مصر میں شہر قاہرہ کے قدیم قصبے درب سعادۃ کے ایک ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ محمود تیمور کے دادا ترک نژاد مصری رئیس اسماعیل پاشا تیمور کتابوں کے شیدا تھے۔ محمود تیمور کے والد ادیب علامہ احمد توفیق تیمور پاشا، پھوپھو شاعرہ عائشہ تیمور اور بھائی محمد تیمور بھی اپنے عہد کے معروف ادیب تھے اور عربی ادب میں اپنا مقام رکھتے تھے۔ محمود تیمور نے زراعی اسکول میں تعلیم حاصل کی لیکن ٹائیفائیڈ کے باعث تعلیم مکمل نہ کرسکے اور کئی ماہ بستر پر گزارے۔ اس دوران میں گھر میں موجود کتابوں کو پڑھ کر عربی ادب سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ خاندان کی طرف سے ادبی ذوق تو ورثے میں ملا تھا لہٰذا کم عمری میں ہی ان کا رجحان ادب کی طرف ہوگیا۔ ان کے بھائی محمد تیمور نے ادب میں ان کی خوب مدد کی۔

    نوجوانی میں وزارت خارجہ میں ملازم ہوئے اور یورپ کا سفر کیا جہاں مغربی ادب کا مطالعہ کیا۔ وہ موپاساں، چیخوف اور خلیل جبران کی تحریروں سے متاثر ہوئے اور مصر واپس آکر جدید اور حقیقت پسند عربی ادب کی بنیاد رکھی اور عربی افسانے کو بین الاقوامی معیار دیا۔
    محمود تیمور القصۃ نامی رسالے کے مدیر بھی رہے جس میں ان کی کئی مختصر کہانیاں شائع ہوئیں۔ 1925 ء میں انھوں نے اپنی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ ‘‘ما تراہ العيون’’ شائع کیا۔ اس کے بعد انھوں نے مختصر کہانیوں کے تقریباً 15 مجموعے لکھے۔

    محمود تیمور کی مقبول کہانیوں میں رجب افندی، الحاج شلبۃ، زامر الحي، فلب غانيۃ، فرعون الصغير، الشيخ سيد العبيط، مکتوب علی الجبين، شفاۃ غليظۃ، أبو علی الفنان، إحسان للہ اور کل عام وأنتم بخير شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 7 عدد ناول (نداء المجہول، سلوی فی مہھب الريح، المصابيح الزرق)، سفرنامے(أبو الہول يطير، شمس وليل، جزيرۃ الحب)، ڈرامے (عوالي، سہاد أو اللحن التائہ، اليوم خمر، حواء الخالدۃ، صقر قريش) اور ادبی مضامین (فن القصص، مشکلات اللغۃ العربيہ)بھی تحریر کیے۔ ان کے کئی افسانوں پر مصر میں ڈرامے اور فلمیں بنائی گئیں۔ محمود تیمور کے کہانیوں کے ترجموں کو بھی کافی مقبولیت ملی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر پہنچ گیا
    انہوں نے کئی بین الاقوامی ادبی کانفرنسوں میں شرکتیں کیں جن میں بیروت، دمشق کے علاوہ، جامعہ پشاور، پاکستان میں بھی شامل ہے۔ انھیں دور جدید کے عربی افسانے کا بابا آدم، مختصر عربی کہانیوں کا پیشوا، عرب کا موپاساں اور عرب کا شیکسپیر بھی کہا جاتا ہے۔ 25 اگست 1973ء کو 80 برس کی عمر میں محمود تیمور کا انتقال سوئزرلینڈ کے شہر لوزان میں ہوا۔

  • محمد حسين ہيكل   کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل مصری شاعر، ادیب اور سیاست دان ہیں۔ ایک اعلی پائے کے سیرت نگار؛ جن کی سب سے بہترین تالیف "حیات ِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم” ہے۔ محمد حسین ہیکل کی پیدائش 20 اگست 1888ء بمطابق 12 ذو الحج 1305ھ میں حنين الخضراء مصر میں ہوئی۔ انہوں نے قاہرہ میں لا اسکول الخدویہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1909ء میں گریجویشن مکمل کی 1912ء میں فرانس میں سوربون یونی ورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 10 سال تک ایک وکیل کے طور پر کام کیا۔ صحافت میں بھی رہے۔ احمد لطفی کے خیالات سے متاثر تھے۔

    1923 ء میں اس قانون ساز اسمبلی کے وزیرِ تعلیم رہے۔ جس نے صدارتی نظام کا قانون تیار کیا جو مصر کا پہلا آئین شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد 1940 ء سے 1942ء تک دوبارہ وزیر رہے اور 1945ء میں سماجی امور کی وزارت دی گئی۔ لبرل پارٹی کے ڈپٹی اور صدر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سعودی عرب میں جب عرب ریاستوں کی لیگ کے چارٹر پر دستخط کیے گئے تو اقوام متحدہ میں مصری وفد کے سربراہ کے طور پر شامل تھے۔
    محمد حسین ہیکل کی وفات سوموار 5 جمادى الاول 1376ھ بمطابق 08 دسمبر 1956ء میں ہوئی۔
    تالیفات

    روايۃ زينب۔
    روايۃ سہيلہ فی الظلمۃ – 1914.
    سير حياة شخصيات مصريۃ وغربيۃ – 1929.

    حياتِ محمد – 1933.
    فی منزل الوحى – 1939.
    مذكرات فی السياسۃ المصريہ – 1951 / 1953.
    الصديق ابو بكر۔
    الفاروق عمر – 1944 / 1945.
    عثمان بن عفان – 1968.
    ولدی۔
    يوميات باريس۔
    الامبراطوريہ الإسلاميہ والأماكن المقدسہ – 1964.
    قصص سعوديہ قصيرہ – 1967.
    فی اوقات الفراغ،
    الشرق الجديد

    محمد حسین ہیکل کا نام تاریخ میں سیرت طیبہ کے مولف کی حیثیت سے زندہ و جاوید رہے گا۔ یہ ذکرِ محمد کا اعجاز ہے۔۔ انہوں نے عربی میں شاہکار کتابیں لکھیں۔انہوں نے حیات محمدﷺ کتاب1933ء میں لکھی اور اسی نہج پر حضرت عمر فاروق ؓ کی سیرت مبارکہ1944میں لکھی۔ حیات محمد ﷺ کا اردو ترجمہ ابویحیٰ امام خان نے کیا۔ اور اردو میں اس کتاب کو مقبولیت دوام حاصل ہوا۔

    ”حیات محمد ﷺ‘‘ کا اردو ترجمہ ہندوستان میں تاج کمپنی دہلی نے شائع کیا۔ اس کتاب کے تعارف میں یوں لکھا گیا۔’’ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب دنیا کی مختلف اقوام نے سیرت پاک ﷺ کا مطالعہ شروع کیا تو تہذیب عالم کی اس عظیم شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے میں انہیں کافی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے مسلمانوں کے ہاں سیرت نگاری کا ایک خاص اسلوب پیدا ہوا۔ جس پر کلامی انداز غالب تھا۔ عہد جدید میں سیرت مبارکہ پر جن تحریروں کو سند کا درجہ دیا جاتا ہے ان میں محمد حسین ہیکل کی ”حیات محمد ﷺ‘‘ صف اول کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔عربی زبان میں یہ کتاب کلاسیک کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔ عہد جدید میں سیرت نبوی ﷺ پر حوالے کی اس بنیادی کتاب کا ترجمہ مولانا ابویحی امام خاں نوشہروی نے اس خاص اسلوب میں کیا جس کی پختگی فن ترجمہ میں انہیں ایک بلند حیثیت دیتی ہے۔ عربی اسالیب کی بلاغت پوری صحت کے ساتھ ترجمے میں منتقل کی گئی ہے۔ اور اس اعتبار سے اردو میں سیرت نبوی ﷺ کے ذخیرہ ادب میں ایک اہم اور قابل قدر اضافہ ہے۔(ناشر ”حیات محمد ﷺ‘‘ دہلی)
    کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ جس عقیدت و احترام سے لکھی گئی اس کا اندازہ کتاب کے آغاز میں لکھے گئے مولف کے مقدمہ اول کے ابتدائی جملوں سے ہوتا ہے جب وہ کہتے ہیں:
    ’’ حضرت محمد علیہ الصلوۃ السلام یہ ہے وہ مبارک نام جو ہر روز کروڑوں لبوں پر آتا اور کروڑوں دلوں کو سرور و تازگی سے مالا مال کرتا ہے۔ ہمارے لب اور ہمارے یہ دل اسی نام سے ساڑھے تیرہ سو برس سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ یہی نہیں لبوں اور دلوں کی بہرہ مندی قیامت تک جاری رہنے والی ہے۔اذان پنچگانہ میں:ادھر صبح صادق نے رات کی سیاہی پر نور چھڑکا موذن نے الصلوۃ خیر من النوم پکار کر بنی آدم کو اللہ تعالی کے سامنے سجدے میں سر رکھنے کی تلقین کی اور اس کے ساتھ ہی کرہ ارض کے چپے چپے پر کروڑوں انسانوں نے درود و سلامتی کے تحفے پیش کئے۔۔ آں حضرت سے مسلمانوں کی محبت و عقیدت کا یہ حال ہے کہ نمازوں میں جب بھی آں حضرت کا ذکر آیا دل فرط مسرت سے پہلو میں اچھل پڑا۔ آں حضرت کی ذات کے ساتھ احترام و محبت کے یہ جذبات ہمیشہ وابستہ رہے ہیں۔ اور آئیندہ بھی اسی طرح وابستہ رہیں گے۔ یہاں تک کہ اسلام دنیا کے ذرے ذرے پر غالب آجائے‘‘۔ ( ”حیات محمد ﷺ‘‘ محمد ہیکل۔ ص۔ 3 دہلی۔ پہلا ایڈیشن 1988)
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    کتاب کے مقدمے میں محمد ہیکل نے ابتدائے آدم سے زمانہ جاہلیت کے مختلف ادوار کا ذکر کیا۔ اور پس منظر کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وصلم کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد مستشرقین کی جانب سے اسلام اور آپ ﷺ سے متعلق پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات اور ان کے ازالے کے لیے مستند کتب سیرت کی ضرورت اجاگر کی۔ اس تصنیف کی وجہ تالیف بیان کرتے ہوئے محمد ہیکل لکھتے ہیں:
    ’’علمی زندگی طے کرنے کے بعد میں نے عملی دور میں قدم رکھا ہی تھا کہ دنیا کے ہر گوشے میں بسنے والے مسلمانوں کو ان مسائل سے متاثر دیکھا جو اسلام اور اس کے بانی کے متعلق پیدا کیے جاچکے تھے۔ کیا اسلامی ممالک اور کیا ان ملکوں کے اندر جہاں مسلمان رعایا کی حیثیت سے زیر نگیں تھے میں ان مسائل کی تحقیق میں ڈوب گیا۔ جن کی غلط بیانی اور فریب دہی کے چکر میں آکر مسلمان اور مشرق دونوں پریشان تھے۔ مغرب کے عیار اہل قلم اور اسلام کے جامد علماء کی اس کج روی سے صرف دین ہی کو خطرہ نہ تھا بلکہ یہ علمی حادثہ تمام عالم کے لیے مصائب کا پیش خیمہ تھا۔ کیوں کہ مسلمان جو صدیوں تک دنیا کے ہر خطے میں علم و تمدن کے نقیب رہے اگر انہی کے عقائد اور ان کے بانی کے اطوار و کردار میں ظلم و جہالت کی تیرگی ثابت ہوجائے تو جن قوموں نے ان کی برکت سے علم و دانش کے خزانے حاصل کیے وہ تہذیب و فنون میں کس حد تک کامیاب ہوئیں۔ تو میں اپنا فرض سمجھ کر ان مسائل کی تحقیق و مطالعے میں منہمک ہوگیا۔حتی کہ کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ کی تدوین پر میری توجہ مرکوز ہوگئی۔( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔ 23)

    مولف کتاب محمد ہیکل نے اس کتاب کو ترتیب دینے کے دوران قرآان و احادیث کتب اور دیگر حوالوں کو جس انداز میں مطالعہ کیا اور اسے اختیار کیا اس کی تفصیلات اس مقدمے میں دی ہیں۔ مقدمہ ثانی میں انہوں نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔ وحی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
    وحی کا تجزیہ موجودہ آلات سے نہیں ہوسکتا:حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نزول وحی کے زمانے میں جو مسلمان موجود تھے جب کوئی آیت قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر نازل ہوتی تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا۔ اس دور کے مسلمانوں میں بعض افراد نہایت دیدہ ور اور صاحب فراست بھی تھے۔یہود و نصاری میں سے بھی کچھ ایسے علماء مسلمان ہوچکے تھے جو ایمان لانے سے قبل پیغمبر اسلام کے ساتھ مناظرہ کرتے رہتے۔مگر مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے بھی قرآن کے وحی ہونے سے انکار کا دامن نہیں چھوڑا۔۔ان تمام صورتوں کی موجودگی میں علم گوارا نہیں کرسکتا کہ وحی کو اس کی اصلیت سے ہٹا کر کسی اور نام سے پکارا جائے( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔45)
    مقدمے کے آخر میں محمد حسین ہیکل نے سیرت نبوی ﷺ کی جانچ کا حتمی پیمانہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ:’’قرآن مجید کی تعلیم اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ وہ معجزہ ہے۔ جو حضرت محمد ﷺ کو دیا گیا۔ اس کے انداز اور ہمہ گیری سے ثابت ہوتاہے کہ وہ اپنے زمانہ نزول سے لے اس وقت تک دنیا میں جلوہ آرا رہے گا۔ جب تک یہ نظام مربوط ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ کی سیرت کو قرآن مجید پر عرض(پیش) کریں اور آپ ﷺ کے متعلقہ روایات میں جو چیز قرآن مجید کے موافق ہو اسے قبول کرنے میں تامل نہ کریں۔ مگر قرآن کے سوا دوسرے ذرائع سے جو ایسے امور آنخصرت ﷺ کی سیرت کے متعلق منقول ہوں کہ وہ قرآن کے معیار پر پورتے نہ اتر سکیں ان سے انکار میں انہیں تردد نہ کرنا چاہئے( ص۔68)

    کتاب حیات محمد کے آخر میں اسلامی تمدن اور اسلامی تمدن اور مستشرقین کے عنوان سے آپ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعددنیا کے حالات پیش کئے۔مجموعی طور پر محمد حسین ہیکل کی کتاب’’ حیات محمد ﷺ‘‘ سیرت النبی ﷺ پر عربی میں لکھی ہوئی شاہکار کتاب ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا اردو ترجمہ بھی اسی قدر شاہکار ہے۔ اس کتاب کا اسلوب رواں سلیس اور دل کو چھو لینے والاہے ۔ ذکر رسول ﷺ کو انہوں نے ادب و احترام اور واقعات کی سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

  • بین الاقوامی شہرت یافتہ جاسوس ماتا ہری

    بین الاقوامی شہرت یافتہ جاسوس ماتا ہری

    بین الاقوامی شہرت یافتہ جاسوس اور خوب صورت و ماہر رقاصہ (ڈانسر) مارگریٹ ذیلی المعروف ماتا ہری 17 اگست 1876 میں نیدر لینڈ ہالینڈ میں ہیدا ہوئی۔ وہ بہت خوب صورت ، بہادر اور سیر و سیاحت کی شوقین تھی ۔ اپنے شوق کی بدولت وہ جلد ایک ماہر ڈانسر بن گئی جس کی وجہ سے اس کی شہرت ،دولت اور تعلقات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ وہ دنیا کے مختلف ممالک کی سیر و سیاحت کرتے ہوئے فرانس پہنچ گئی اور پھر یہیں کی ہو کر رہ گئی ۔

    جبکہ ماتا ہری کی بھرپور جسمانی کشش اور سحر انگیز رقص کی وجہ سے بڑے بڑے فوجی جرنیل ، وزرا اور ارکان پارلیمان اس کے چاہنے والے افراد کی فہرست میں شامل رہے اور یہیں سے خفیہ اداروں کے عہدے داران نے اس کو اپنے ملک کیلئے دشمن ممالک میں جاسوسی کرنے پر آمادہ کر لیا۔ ماتا ہری نے فرانس کے شہر پیرس میں رہائش اختیار کی ۔ اس دوران پہلی جنگ عظیم میں فرانس کیلئے جرمنی کی جاسوسی کرنے لگی جبکہ کچھ عرصے بعد وہ جرمنی کیلئے فرانس کی جاسوسی بھی کرنے لگ گئی ۔

    اس طرح وہ دونوں ملکوں کے لیے جاسوسی کرنے لگی آخر ایک روز فرانس کی خفیہ ایجنسیوں ایک سینیئر آفیسرز نے ماتا ہری کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ۔ یہ پہلی عورت تھی جس نے فلمی کہانیوں کی بجائے حقیقی دنیا میں ” ڈبل ایجنٹ ” کا کردار ادا کیا۔ 15 اکتوبر 1917 میں پیرس میں جاسوسی کا جرم ثابت ہونے پر ماتا ہری کو اسکواڈ کے سامنے گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا لیکن ماتا ہری نے کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے نہیں دی بلکہ مسکراتے ہوئے اپنی جان دے دی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    اس کی لاش کو لاوارث قرار دے کر اس کا جسد خاکی ہسپتال میں میڈیکل کالج کے طلبہ کے تجربات کیلئے استعمال کیا گیا اس کی گردن کو فرانس کے میوزیم میں رکھا گیا لیکن بعد میں وہ گردن چوری ہو گئی۔ ماتا ہری کی زندگی پر 250 کے لگ بھگ ناول اور سوانح حیات لکھی گئی ہیں اس کے علاوہ اس موضوع پر دنیا کے متعدد ممالک میں فلمیں اور اسٹیج ڈرامے بھی بنائے گئے ہیں ۔