Baaghi TV

Tag: بلاگ

  • رمیش چندر دت ایک ہندوستانی سول سرونٹ اور  معاشی مورخ

    رمیش چندر دت ایک ہندوستانی سول سرونٹ اور معاشی مورخ

    رمیش چندر دت (13 اگست 1848ء –- 30 نومبر 1909ء) ایک ہندوستانی سول سرونٹ، معاشی مورخ، مصنف اور رامائن و مہابھارت کے مترجم تھے۔

    رمیش چندر دت کی پیدائش ایک ممتاز کائستھ بنگالی خاندان میں ہوئی۔ اس خاندان کے افراد اپنے ادبی و علمی اکتسابات کی بنا پر خاصے معروف تھے۔ ان کی والدہ کا نام تھکامنی اور والد کا ایسام چندر دت تھا۔ ان کے والد بنگال میں ڈپٹی کلکٹر تھے اور رمیش اکثر دفتری فرائض میں ان کے ساتھ ہوتے۔ ابتدا میں انھوں نے متعدد بنگالی اسکولوں میں پڑھا، پھر کلکتہ کے ہیئر اسکول میں داخل ہوئے۔ سنہ 1861ء میں ان کے والد مشرقی بنگال میں ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ والد کی بے وقت موت کے بعد ان کے چچا اور معروف مصنف شوشی چندر دت ان کی کفالت کرنے لگے۔ رمیش انیسویں صدی عیسوی کے بنگال کی انتہائی مشہور شاعرہ تورو دت کے عزیزوں میں تھے۔

    رمیش سنہ 1864ء میں کلکتہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ سنہ 1866ء میں آرٹس کے پہلے امتحان میں دوسرے نمبر سے کامیاب ہوئے اور وظیفہ پایا۔ ابھی وہ بی اے کے طالب علم ہی تھے کہ سنہ 1868ء میں اپنے خاندان کی اجازت کے بغیر اپنے دو دوستوں بہاری لال گپتا اور سریندرناتھ بنرجی کے ساتھ لندن چلے گئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    اُس وقت تک محض ایک اور ہندوستانی ستیندر ناتھ ٹیگور ہی انڈین سول سروس کے اہل سمجھے گئے تھے۔ دت نے ان کی ہمسری کا ارادہ کیا۔ یونیورسٹی کالج لندن میں رمیش دت نے برطانوی مصنفین کا مطالعہ جاری رکھا۔ سنہ 1869ء میں وہ انڈین سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہوئےاور تیسرا مقام حاصل کیا۔ 06 جون 1871ء کو آنریبل سوسائٹی آف دی مڈل ٹیمپل نے انھیں بار کاؤنسل میں مدعو کیا۔
    ابھی رمیش چندر دت بر سر منصب ہی تھے کہ بڑودا میں 30 نومبر 1909ء کو 61 برس کی عمر میں وفات پائی۔

  • مشہور زمانہ نعت اور گمنام شاعر

    مشہور زمانہ نعت اور گمنام شاعر

    پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

    ولی صاحب

    تاریخ پیدائش : 10 اگست 1908

    شاعری کی دنیا میں کچھ افسوسناک پہلو بھی واقع ہوتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کافی ایسے شعرا گزرے ہیں جن کی شاعری یا ان کا کلام قومی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور ہوتے ہیں کہ وہ زبان زد خاص و عام ہوتے ہیں مگر شاعر کا نام کسی کو معلوم نہیں ہوتا یا پھر وہ شاعری کسی اور شاعر کے نام سے منسوب ہو کر مشہور ہو جاتی ہے ایسے ہی شعراء کی فہرست میں برصغیر کے گیت نگار اور فلم پروڈیوسر و ڈائریکٹر ولی محمد خان المعروف ولی صاحب ہیں جن کا نعتیہ کلام دنیا بھر میں مشہور ہوا جس کا بول ہے

    پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
    ایا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

    اس نعتیہ کلام کو سب سے پہلے گانے کی سعادت 1937 میں گلوکارہ شمشاد بیگم کو حاصل ہوئی جس کی دھن مشہور موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے تیار کی تھی اس کے بعد نیرہ نور سمیت بہت سے گلوکاروں اور نعت خوانوں نے گایا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ میں نے فیس بک اور گوگل پر بہت سرچ کیا مگر شاعر کا نام کہیں بھی اس کلام کے ساتھ لکھا ہوا نظر نہیں آیا۔ ولی صاحب نے 36 اردو فلموں کیلئے 200 کے لگ بھگ گیت لکھے ہیں ۔ ولی صاحب 10 اگست 1908 میں پونا ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1956 میں وہ ہندوستان سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان میں آباد ہوئے مشہور شاعر ناظم پانی پتی ان کے بھائی تھے۔ ولی صاحب نے معروف اداکارہ ممتاز شانتی سے شادی کی۔ 1997 میں لاہور میں ان کی وفات ہوئی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ
    چین:سیاحتی مقام پر دریا میں اچانک سیلابی ریلا آگیا،کئی افراد بہہ گئے
    ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھراضافہ
    گیسٹ ہاؤس کی آڑ میں قحبہ خانہ،5 خواتین سمیت 11 ملزمان گرفتار
    نئے چئیرمین نیپرا نے چارج سنبھال لیا
    پشاور ہائیکورٹ میں اے پی ایس واقعے کے متعلق کیس کی سماعت
    انجرڈ پرسنز میڈیکل بل؛ مریض کو پوچھا تک نہیں جاتا. سینیٹر مہر تاج
    مشہور زمانہ نعت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    بھاتی نہیں ہمدم مجھے جنّت کی جوانی
    سنتا نہیں زاہد سے میں حوروں کی کہانی

    عاشق ہوں مجھے عشق ہے دیوار نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    واللہ رازدار ہیں طیبہٰ کے باب کے
    بکھرے ہوئے ورق مری دل کی کتاب کے
    مجھ کو سنبھالیئے مجھے اپنی جناب سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    ہر آہ گئی عرش پہ یہ آہ کی قسمت
    ہر اشک پہ اک خُلد ہے ہراشک کی قیمت
    تحفہ یہ ملا ہے مجھے دربار نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

    حاضر گدائے در ہے شہنشاہ ! السلام
    مولا سلام سرورِذی جاہ ! السلام
    دونوں جہاں کے قبلہ ء حاجات ! السلام

    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے
    پیغام صبا لائی ہے گلزارِ نبی سے
    آیا ہے بلاوا مجھے دربارِ نبی سے

  • 23 جولائی نادیہ عنبر لودھی کا  یوم پیدائش

    23 جولائی نادیہ عنبر لودھی کا یوم پیدائش

    تجسس کی نظر سے دیکھتا ہے وقت بھی مجھ کو
    میں کھلتی ہی نہیں اس صاحب اسرار کے آگے

    اردو کی معروف پاکستانی ادیبہ، شاعرہ ، صحافی اور کالم نگار نادیہ عنبر لودھی 23 جولائی 1980 میں کراچی سندھ پاکستان میں پیدا ہوئیں ۔ ابتدائی تعلیم کراچی میں جبکہ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادب میں ایم اے کیا ہے ۔ شادی کے بعد وہ اسلام آباد منتقل ہو گئیں ۔ نادیہ اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی شاعری کرتی ہیں ۔ وہ اردو شاعری کی غزل، نظم، رباعی اور گیت وغیرہ میں طبع آزمائی کرتی ہیں تاہم نظم ان کی پسندیدہ صنف ہے ۔

    2017 میں انہیں برطانیہ کے ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ وہ زیادہ تر بچوں اور خواتین کے مسائل پر لکھتی رہتی ہیں اور مختلف اخبارات میں کالم بھی لکھتی ہیں۔ برطانوی اردو اخبار ” خبریں ” مانچسٹر کی ریزیڈنٹ ایڈیٹر بھی ہیں جبکہ وہ اردو زبان و ادب کی ترویج اور ترقی کیلئے ایک یوٹیوب چینل بھی چلا رہی ہیں ۔

    نادیہ عنبر لودھی کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تجسس کی نظر سے دیکھتا ہے وقت بھی مجھ کو
    میں کھلتی ہی نہیں اس صاحب ِ اسرار کے آگے

    فروزاں ہے ہر اک لذت سے لطفِ وصل کی ساعت
    کہ ساقی خود سبُولاۓ شب بیدار کے آگے

    سیم وزر کی کوئی تنویر نہیں چاہتی میں
    کسی شہزادی سی تقدیر نہیں چاہتی میں

    مکتبِ عشق سے وابستہ ہوں کافی ہے مجھے
    داد ِ غالب ، سند ِ میر نہیں چاہتی میں

    عشق کی کوئی تفسیر تھی ہی نہیں
    واسطے میرے تقدیر تھی ہی نہیں

    کس لئے ہو کے مجبور تم آۓ ہو
    بیچ دونوں کے زنجیر تھی ہی نہیں

    عالم رنگ و بُو کو سجایا گیا
    اس تماشے میں تقصیر تھی ہی نہیں

    بس چند ہم خیال ہیں عنبر مجھے عزیز
    بےحس جم ِغفیر نہیں چاہیے مجھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تجلی حسن یوسف کی سمجھنا دیکھ لی میں نے
    اگر مجھ میں بھی خو کوئی زلیخا دکھائی دے

    اسے حاصل ہوئی ہیں شہرتیں ایسی محبت میں
    حقیقت ہو کے بھی وہ شخص افسانہ دکھائی دے

  • سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست بیزاری کا باعث، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتیں ان دنوں الیکشن کے بارے گفتگو کر رہی ہیں۔ اس وقت یہی دعا کی جا سکتی ہے ہمارے سیاستدان جمہوری بن جائیں۔ جمہوریت کو مستحکم کریں ۔ آئین پر عمل کریں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ زبانی جمع خرچ سے باہر نکلیں بھڑکیں نہ ماریں ۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے میں بھی کردار ادا کریں۔ حیرت ہے بعض سیاستدانوں پر آئین میں صاف لکھا ہے کہ الیکشن کب ہوں گے پھر بھی کہیں سے آواز آتی ہے کوئی حتمی نہیں الیکشن لیٹ بھی ہو سکتے ہیں ۔

    پنجاب میں آج بھی نگران حکومت ہے اور خیبر پختونخوا میں یہ نگران کب تک رہیں گے ۔ آئین میں سب کچھ لکھا ہے ۔ کیا اب وفاقی نگران حکومت جو بنے جا رہی ہے اُ س کی معیاد بھی پنجاب اور خبیر پختونخوا کی طرح بڑھائی جائے گی ؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیسی جمہوریت اور کیسا آئین ؟ سیاسی گلیاروں میں پیپلزپارٹی جو رونق جیالے لگاتے ہیں وہ رونق پی ٹی آئی والے بھی لگانا سیکھ چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ، قیلولہ میں چلی گئی سیاسی جلسوں میں رونق مریم نواز اور نواز شریف ہی لگا سکتے ہیں مگر(ن) لیگ کی قانونی ٹیم کہاں تک پہنچی ہے نواز شریف کا راستہ ہموار کرنے کے لیے اس کا جواب تو شہباز شریف ہی دے سکتے ہیں۔ اس وقت اصل مسئلہ سیاست ، جمہوریت اورمعیشت کا ہے ۔

    ان مسائل سے نکلنے کے لئے نواز شریف کا پاکستان میں ہونا ضروری ہے۔الیکشن جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں ۔(ن) لیگ کا الیکشن مریم نواز اور بالخصوص نواز شریف کے بغیر ادھورا ہو گا ۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی ریڈ لائن سے گرین لائن تک پہنچ چکی ہے ۔ آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ آئندہ ملک کے وزیراعظم بلاول بھٹو بنیں اس سلسلے میں وہ اپنے تیر نشآن کو لے کر بلوچستان سے لے کر پنجاب اور خیبر پختونخوا تک چلا رہے ہیں۔ نئی سیاسی جماعت بھی پیپلزپارٹی کے لئے غنیمت ثابت ہو ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خطرناک اشتہاری ملزم کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا
    چیئرمین تحریک انصاف سے 13 مقدمات میں 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش
    آئی ایم ایف کی عمران خان سے ملاقات سیاسی عمل کا حصہ ہے،مریم اورنگزیب
    افغانستان کر کٹ ٹیم نے تین میچز کی سیریز اپنے نام کر لی
    یونان کشتی حادثہ؛ جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی شناخت
    بے اولادی کے طعنے پر 3 پڑوسیوں کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار
    محمد رضوان کو سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کھلانے پر غور
    آصف علی زرداری سیاسی چال چلتے ضرور ہیں مگر وہ قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی نظریات وغیرہ دفن ہو چکے ہیں۔ آئین پر عمل بھی ایک خوا ب لگتا ہے۔ عوام کی اکثریت رو رہی ہے اور سیاسی تماشے بھی دیکھ رہی ہے۔ سیاست اور سیاستدان عام انسانوں کے لئے بیزاری بنتے جا رہے ہیں۔

  • قرآن کریم ہی امن اور انسانیت کا آئین، تجزیہ، شہزاد قریشی

    قرآن کریم ہی امن اور انسانیت کا آئین، تجزیہ، شہزاد قریشی

    قرآن کریم ہی امن اور انسانیت کا آئین، تجزیہ، شہزاد قریشی

    سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں 37سالہ عراقی پناہ گزین نے قرآن پاک کی بے حرمتی اور پھر نذر آتش نے مسلم ممالک سمیت یورپی یونین نے بھی شدید الفاظ میں اس شیطانی عمل کی مذمت کی ہے۔ یورپی یونین نے اس عمل کو جارحانہ بے عزتی پر مبنی اشتعال انگیزی کا واضع عمل قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق یہ عمل کسی بھی طرح یورپی یونین کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔

    اس شیطانی عمل پر دنیا بھر کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ او آئی سی نے بھی ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ روسی صدر نے بھی اسے جرم قرار دے دیا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو مسلمانوں کے لئے تمام مذاہب قابل احترام ہیں تمام پیغمبروں اور آسمانی کتابوں پر ایمان لانا لازم ہے۔ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کے لئے اسلام مخالف قوتیں شرپسندوں کو اکساتی ہیں کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروع کریں تاکہ فتنہ فساد پھیلے ہنگاموں اور مسلمانوں کے احتججاج کو دہشت گردی کا نام دے کر طاقت کے بل پر انہیں جانی و مالی نقصان پہنچائیں۔ افسوس صد افسوس یہ بات کڑوی ہے اگر آج کے دور کو فتنوں کا دور کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔

    زندگی کے تمام معاملات میں برائیاں پنپ رہی ہیں تمام عالم اسلام قرآن پاک کی بے حرمتی غلیظ حرکت پر بھرپور پرامن مظاہرے جاری رکھے اور پاکستان میں خانقاہوں میں موجود پیر اور ان کے گدی نشینوں کو چاہئے کہ اپنی خوابگاہوں اور علماء دین کو بھی اپنی درسگاہوں سے نکل کر اﷲ کے دین اور اﷲ کے کلام کی ناموس کے لئے بھرپور پرامن مظاہرہ کریں۔ مسلمان اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اپنے قول و فعل پر قرآن کریم کی تعلیمات نافذ کرکے ثابت کریں کہ قرآن کریم ہی انسانیت اور امن کا آئین ہے جس پر عمل کرکے انسان اپنی اور معاشرے میں خوبصورت تبدیلی لاسکتا ہے اور خالق کائنات کی حقیقی آگاہی حاصل کرسکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا

    قرآن پاک کی سورۃ یونس میں اﷲ پاک فرماتے ہیں ’’لوگو تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اٹھالو پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے‘‘۔

  • اوول کے ہیرو   فضل محمود  کا یوم وفات

    اوول کے ہیرو فضل محمود کا یوم وفات


    ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ایوا گارڈنر 50 کی دہائی میں فلم ’’بھوانی جنکشن‘‘ کی شوٹنگ کے لیے لاہور آئی تھی ، ایک کلب میں اس نے فضل محمود کو دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی اور پھر خواہش ظاہر کی کہ فضل اس کے ساتھہ رقص کرے 1954ء کے دورۂ انگلینڈ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے ملکہ برطانیہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ ملکہ الزبتھہ نے فضل محمود کو دیکھہ کر فوراً کہا کہ آپ پاکستانی نہیں لگتے، آپ کی آنکھیں نیلی کیوں ہیں؟

    پاکستان نے فضل محمود کی 12 وکٹوں کی بدولت اوول ٹیسٹ جیتا تو اگلے دن برطانوی اخبار نے سرخی لگائی
    ENGLAND FAZZALED OUT
    اس کے بعد فضل محمود ’’ اوول کے ہیرو‘‘ کہلاتے رہے۔
    1955میں وزڈن نے انہیں سال کے 5 بہترین کھلاڑیوں میں شمار کیا ۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی تھے۔

    ان دنوں صرف فلمی اداکارائیں اشتہارات میں اپنے حسن کا راز بتایا کرتی تھیں۔ پھر جب اس نوجوان کرکٹر کی شہرت کے ساتھہ اس کے حسن وجمال کا چرچا شروع ہوا۔ گورا چٹا نیلی آنکھوں والا فضل محمود لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گیا۔ تواشتہاری کمپنیوں نے بھی فضل محمود کی شہرت سے فائدہ اٹھانا چاہا اور یوں فضل محمود برل کریم کے اشتہار میں آکر پاکستان کے پہلے کھلاڑی ماڈل بن گئے۔

    فضل محمود 18 فروری 1927 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج سے گریجویشن کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا۔ انہوں نے1943 سے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ دس ٹیسٹوں میں کپتانی بھی کی. پاکستان کو 1952ء میں ٹیسٹ کھیلنے کا درجہ ملا اور پاکستان نے پہلا مقابلہ ہندوستان کے خلاف دہلی میں کھیلا جہاں اسے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم کے کھلاڑی بوجھل دل کے ساتھہ میدان سے لوٹ رہے تھے کہ باؤنڈری لائن پر کھڑی ایک لڑکی نے کہا
    "اچھا کھیلے، لیکن ہندوستان سے جیت نہیں سکتے!”۔
    یہ لڑکی تھی اس وقت کے وزیراعظم ہندوستان جواہر لعل نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی ، جو بعد میں خود بھی وزیراعظم بنیں اور اس جملے کے مخاطب تھے پاکستان کے نائب کپتان فضل محمود ، جنہوں نے اپنی آپ بیتی”From Dusk to Dawn” میں اس کا ذکر کیا ہے۔

    فضل نے اس طعنے کا جواب لکھنؤ میں کھیلے گئے اگلے ٹیسٹ میں دیا، پہلی اننگز میں 5 اور دوسری اننگزمیں 7 یعنی کل 12 وکٹیں لے کر، جس کی بدولت پاکستان نے ایک اننگز اور 43 رنز کے بڑے مارجن سے مقابلہ جیت لیا ۔
    پھر فروری 1959 میں کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میں گیری سوبرز کو آؤٹ کرکے فضل محمود ٹیسٹ کرکٹ میں 100 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔

    شاعر تک فضل محمود کی شہرت اور مقبولیت سے متاثر ہوئے۔ مجید امجد کی 1955 کی نظم ’’ آٹو گراف ‘‘ کی یہ سطریں فضل محمود کے بارے میں ہی ہیں۔۔۔

    وہ باؤلر ایک ، مہ وشوں کے جمگٹھوں میں گھر گیا
    وہ صفحۂ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری
    حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری
    ۔
    فضل محمود نے کیرئر میں 34 ٹیسٹ کھیلے اور 139 وکٹیں حاصل کیں ۔
    فضل محمود پولیس میں ملازم ہوئے اور ڈی آئی جی کے عہدے تک پہنچے۔
    ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک منہاج القران میں شامل ہوگئے۔ اس کے سیاسی بازو پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے الیکشن بھی لڑا۔

    آخری عمر میں جانے کیا جی میں آئی کہ بیوی کو طلاق دے دی۔ اس کے بعد عشأ سے فجر تک کا وقت داتا دربار پر گزارتے رہے۔ اپنے محلے کی مسجد میں اذان بھی دیتے تھے۔
    فضل محمود کا 30 مئی 2005 کو لاہور میں انتقال ہوا، اور قبرستان مسافر خانہ، گڑھی شاہو میں سپردخاک ہوئے۔

  • ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    میرے لیئے ضیاء الدین یوسفزئی کا تعارف ذرا مختلف ہے ان لوگوں سے جنہوں نے افسانوی، پراسرار، متنازع یا غیر فطری قصے سن رکھے ہیں کیونکہ جہانزیب کالج میں ملالہ کے والد ضیاءالدین یوسفزئی مجھ سے سینئر تھے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے تمام ہمدردیوں کے باوجود ایک غیر تحریری نسل پرستانہ قوم پرستی کے غالب جزبات پر میرے شدید تحفظات تھے. کیونکہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا خاصہ رہا ہے کہ بہترین جزباتی تقریر اور بہترین شاعری کا بہاؤ ہر رہنما میں مشترک رہا مگر ساتھ ہی مجالس و مکالمے میں دلیل کی جگہ زور اور "پرتشدد” الفاظ کی ادائیگی تقریر و شاعری کو محض طاقت کا اظہار بنا دیتی تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی نے طلبہ تنظیم کی سربراہی سنبھالی تو ایک فرق نے مجھے فورا متوجہ کیا کیونکہ میری نظر میں وہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن میں فٹ نہیں تھے اس لیئے کہ وہ دلیل سے بات کرتے تھے اور عدم تشدد کے قائل تھے جبکہ یہ اے این پی کے آئین کے عین مطابق اور عمل کے برعکس تھا. دوسرا ضیاء الدین کی ادائیگی میں لکنت تھی ہکاہٹ تھی مگر جب شعر ادا کرتے تھے تو اس روانی سے کہ پن ڈراپ خاموشی ہوتی اور پہلی دفعہ میں نے دیکھا کہ غیر سیاسی اساتذہ کرام دروازوں ، برآمدوں میں کھڑے ہوکے مدلل مقرر اور برجستہ شاعری سنانے والے کو سنتے تھے اور میری عقیدت ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ ان کی شخصیت کی عجیب پراسراریت کی وجہ سے تھی جس کو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کیونکہ وہ انتہائی انکساری اور تہذیب سے رہتے جس کو میں ان کی عظمت یا احساس کمتری میں کوئی ایک سمجھنے سے قاصر رہا.

    وہ اساتذہ میں غیر معمولی مقبولیت اور پذیرائی رکھتے تھے جو کسی طالب علم رہنما کے لیے میں نے نہیں دیکھی تھی
    وہ بہت ترقی پسند اور لبرل تھے جبکہ تھیوکریسی کے مخالف تھے مگر روحانیت پسند ضرور سے تھے۔ وہ مذہب پر بات نہیں کرتے تھے مذہب پر تنقید نہیں کرتے تھے مگر تنقید کے بارے میں ہمیشہ غیر جانبدار رہتے چونکہ بائیں بازو کی سیاست زندہ اور سر گرم تھی اور ریاست کی طرف سے مذہبی استعمال اور اس استعمال میں استحصال غالب تھا اس لیے بائیں بازو کے نظریات کے عامل افراد کا استعمار کے ساتھ مذہبی تنقید فیشن کے اندر تھا. ضیاء الدین یوسفزئی ایک روایت پسند مذہبی شخص اور ایک حق تنقید کے حامی دوہری شخصیت کی طرح نظر آتے اور وہ مذہبی انتہا پسندی اور لا دینی انتہا پسندی کے دور میں اعتدال پر تھے جو اس کی جیسی شخصیت سے امید نہیں کی جا رہی تھی اور وہ خود شاعر اور لطیف احساسات کے مالک تھے .

    انگریزی ادب اور پشتو ادب پر ایک قابل ذکر عبور رکھتے تھے علاوہ ازیں سب سے بڑھ کر وہ ایک بہت اچھے سامع تھے جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اور پھر وہ ہمارے محلے میں بھی آکر رہنے لگے تھے جہاں کسی عام محلے دار کی طرح اسی لہجے میں گفتگو کرتے وہ نوجوانوں اور عام محلے داروں میں بہت مقبول تھے لہذا میں نے ایک چھٹی والے دن ضیاء الدین کو دیکھا جن کے ہاتھ میں چھوٹی سی سیڑھی ایک بورڈ تھا میں دور سے دیکھ رہا تھا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ضیاء الدین ہی ہے میرے ساتھ جو لڑکے تھے وہ ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے تھے جو جانتے تھے شانگلے والا نیا کرایے دار اچھا لڑکا سے زیادہ شناسائی نہیں رکھتے تھے لہذا ہم خوڑ پار کرکے ان کے پاس پہنچے وہ کچھ شرمائے کچھ خوش ہوئے میں نے پوچھا کیا کر رہے ہیں ؟

    بورڈ دیکھاتے ہوئے کہنے لگے ساجد ایک کوشش سی ہے "خوشحال پبلک سکول لنڈیکس” میں نے پوچھا کیا آپ واقعی انگلش میڈیم سکول کھولنے میں سنجیدہ ہو جس کا کوئی اچھا سٹینڈرڈ بھی ہوگا ؟ انہوں نے اعتماد سے جواب دیا یقیناً
    میں نے کہا نام کا انتخاب قطعی غلط ہے بورڈ کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیوں ؟ میں کہا اگر انگلش میڈیم سکول کھولنے کا اردہ ہے تو خوشحال خان ، رحمان بابا قسم کا نام رکھنے کی جگہ شیکسپیئر ، سینٹ، لارنس ، کوین یا جان ، مارٹن ٹائپ نام رکھیں اور میں واقعی سنجیدہ تھا . وہ کھل کر ہنسے اور گلے لگے جس کا مطلب تھا وہ قطعی طور پر متفق نہیں ہے. وہ بورڈ ہم نے ملکر نصب کیا یہ تشہیری مہم تھی سکول کی جس کو ایک لمبے عرصے تک وہاں سے گزرتے ہوئے ہمدردی سے دیکھتا .

    انعام ہمارا دوست تھا اور اس نے نشاط چوک میں ایک کتابوں کی دوکان کھول لی۔ جس میں روایتی کتابوں کے علاوہ ترقی پسند ادب پر کتابیں اور رسائل بھی موجود ہوتے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کئی لوگوں کے لیے ایک جائے اطمینان اور پاک ٹی ہاؤس جیسی اہمیت حاصل کر گیا ۔ ضیاء الدین یوسفزئی بھی گاہے بگاہے وہاں آتے جہاں میں ، عثمان اولس یار اور دیگر نظام سے مایوس موجود ہوتے جزباتیت تو تھی ان دنوں میں چودہ اگست کی کاروباری سطح پر منانے کی کوئی روایت نہیں تھی۔ میری یاد میں پنجاب بیکری والے اپنی بیکری سجا کر کچھ اظہار کرتے ورنہ سکولوں میں ہی چودہ اگست کے نغمے سن کر چھٹی اور نہ چھٹی کا سا ماحول ہوتا ایک چودہ اگست کو بغیر کسی پیشگی مشورے کے ہم نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ لی۔ ضیاء الدین آیا تو ان کے بازو پر باندھ دیا اور ہم خود غیر اہم تھے ہمارے احتجاج کی اہمیت ہمارے علاؤہ کسی نے محسوس نہیں کی اور ہم خود نہیں جانتے تھے ہمارا کیا مقصد ہے ہاں نظام پر عدم اعتماد ایک وجہ ضرور تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی کے خلاف پچھلے سالوں میں چودہ اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا الزام لگا پڑھا تو بے اختیار ہنس دیا، ضیاء الدین یوسفزئی کی نظریات سے زیادہ ان کی شرافت اور دوستی کا احترام سیاہ پٹی کو ان کے بازو پر لے آیا تھا جو دہائی سے اوپر گزرنے کے بعد ان کے لیے طعنہ بن گیا جبکہ انعام اور ہم کئی پشتوں سے پڑوسی تھے عثمان اولس یار رشتہ دار ، کلاس فیلو ، دوست اور ہم نظریہ اور باقی دو تین دوست بھی ایسے ہی تھے عبداللہ یوسف زئی ، واجد علی خان کا بھی گزر ہوتا اور حوصلہ افزائی کرتے. ضیاء الدین یوسفزئی نے ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز کر لیا تھا اور روخان صاحب و فضل ربی راہی صاحب کی قربت مل گئی تھی جس کی مجھے توقع بھی تھی اور ان کے اندر اہلیت تو تھی ہی کہ اس محفل تک پہنچتے۔

    ضیاء الدین یوسفزئی ایک با اعتماد ماہر تعلیم کی صورت میں ابھرنا شروع ہوئے ساتھ ہی ادبی سرگرمیوں کے سماجی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے جبکہ انکی خواہش تھی کہ تعلیم سائنسی بنیادوں پر آسان ،سستی اور پر کشش ہو دوئم کمزور اور بے آسرا لوگوں کی مالی مدد کا مستقل کوئی سلسلہ بھی بنائے اسی میں ہی سرگرم رہے اور میں بھی عملی زندگی میں آ کر سوات چھوڑ چکا تھا مگر ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ رابطہ تھا جسکی وجہ ایک پچھلا تعلق دوسرا میرے بہنوئی احمد شاہ کے ساتھ ان کی دوستی ، میرے والد صاحب کے ساتھ ان کا تعارف اور اچھے الفاظ میں ذکر سمیت متعدد ۔۔

    دو ہزار آٹھ یا نو میں ضیاء الدین یوسفزئی کا ایک میسج آیا کہ وہ بیرونی ملک کسی ادبی سلسلے میں جا رہا ہے اور کچھ
    میں نے اس کا میسج ویسے ہی فیس بک پر لگا دیا میرے ایک فیس بک دوست اور سوات کے ایک رہائشی نے تبصرہ لکھا کہ وہ بہت خوش ہوگا اگر ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کروں اور اگر میں ان کا نمبر فراہم کر سکوں میں نے یوسفزئی سے پوچھا انہوں نے ہنس کر کہا نیکی اور پوچھ پوچھ اور پھر ضیاء الدین نے واپسی پر میرا بڑا شکریہ ادا کیا کہ میری وساطت سے جو میزبانی ملی اس نے کافی مدد کی اور بہت کچھ دیکھنے سیکھنے سمجھنے کا موقع ملا چونکہ ضیاء الدین کو میں ایک خوددار ، شکر گزار اور قناعت پسند شخص کے طور پر بھی جانتا تھا مجھے بہت اچھا لگا۔ مذید باہر سے دوست کی جانب سے ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کا موقع فراہم کرنے اور تنگی وقت ملاقات کے ذکر نے اور بھی خوشی فراہم کی جو دراصل میزبان کی مہمان کے لیے خراج تحسین تھا.

    مجھے فخر ہوا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے ان کو گرویدہ کر لیا تھا 2009 میں جب حالات بہت خراب ہونے لگے تو مجھے ضیاء الدین کی بڑی فکر ہوتی تھی اور رابطہ بھی بہت رکھتا تھا ان کا احتجاج اور رد عمل میرے خیال میں ضرورت سے زیادہ تھا شعوری آگاہی کی ان کی تمام کاوشیں بہت ہی خطرناک ہو سکتیں تھیں جس سے وہ متفق نہیں تھا یا آنے والے واقعات کا سب لوگوں کی طرح ان کو بھی صحیح ادراک نہیں تھا جبکہ ایک وقت آیا جب مجھے لگا کہ شاید میں ان کو زندہ پھر کھبی نہیں دیکھ پاونگا اور سوات سے ابادی کے انخلاء سے کچھ پہلے وقت پہلے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سوات چھوڑ رہے ہیں مگر دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    میں نے فون پر رابطہ کیا تو سفر میں تھے دل برداشتہ تھے دو ہزار نو میں ہی نشاط چوک میں سیدوشریف کی طرف گاڑی موڑتے ہوئے وہ سٹرک کنارے چلتے ہوئے نظر آیا ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا گاڑی پارک کرکے میں ان کو گلے ملا اور کہا کہ مجھے یقین تھا ہم کھبی دوبارہ زندہ نہیں مل پائیں گے سوات کا تاریخی ہجرت کا دور ختم ہو چکا تھا۔
    وہ مگر پر عزم تھا اور سوات کے حالات کو خراب کرنے کو منظم کوشش اور مجرمانہ فعل برملا کہہ رہا تھا اور ان کے عزم میں اور پختگی تھی شاید ہی کچھ لوگ اس طرح اظہار کرتے ہونگے جیسے وہ کر رہا تھا انخلا سے پہلے اور اب بعد میں وہ سوات قومی جدوجہد اور قومی بیداری پر زور دے رہا تھا جبکہ بعد میں سوات قومی جرگے کا اہم رکن بھی بن گیا.

    دہشت گردی ، کرفیو کی طوالت اور ریاستی ردعمل کی مایوس اظہار کا بہت بڑا ناقد تھا
    2009 کے واقعات اور ناخوشگوار تجربات کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اعتدال پسند اور استقامت پسند ضیاء الدین کے اندر یہ دونوں صفات کم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک طرف وہ دہشت گردوں کے خلاف شدید مزاحمت اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے دوسری طرف ریاستی اداروں اور ریاست کی لاپرواہی اور غیر ضروری تاخیر کو بھی حدف تنقید بنا رہے تھے ساتھ ہی ان کے امدادی کاموں میں بھی باقاعدگی اور تیزی آ رہی تھی ایک طوفان تھا جو ان کے اندر ابل رہا تھا
    2010 کے سیلاب میں انہوں نے رابطہ کیا اور مجھے ایک بڑی رقم عطیہ کرنے کا مطالبہ کیا. میں چونکہ ہمیشہ مالی غیر ہمواری اور معاشی بے ترتیبی کا شکار رہا ہوں مالی امداد سے معزرت کی۔ جس پر انہوں نے متاثرین کی فہرستوں کو مرتب کرنے میں مدد کی درخواست کی اور پھر انکے امداد دینے کا طریقہ بہت ہی عجیب تھا ۔ میڈیا اور شہرت سے پردہ کرکے گھر گھر جاکر امداد پہنچائی وہ گراؤنڈ پر موجود رہا 2011 میں موثر طور پر وہ سوات کا کیس پیش کر رہا تھا ۔ مذاکرے ، سیمینار اور پریس کالموں کے ذریعے سوات میں استحصال کے خلاف ایک موثر آواز بنے رہے مسلسل دھمکیوں اور سیکورٹی رسک کے باوجود وہ اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں تھے اور واقعی ان کی فکر بہت بڑھ گئی تھی۔

    اکتوبر 2012:میں کم سن ملالہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا سمیت سب نے ملالہ کے احتجاج اور ڈائری کو وجہ قرار دیا مگر نجانے کیوں مجھے اب بھی لگ رہا ہے کہ ضیاء الدین کو چھپ کرانے کے لیے سافٹ ٹارگٹ چنا گیا. بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں سے بات کرتے ہوئے دہشت گردوں نے یہ موقف دیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی ’’پشتون ثقافت کے برعکس نا صرف مغربی اقدار کی حامی ہے بلکہ اس نے صدر اوباما کو بھی اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے‘‘ اس وقت سوات قومی جرگہ پوری طرح سرگرم تھا اور تمام سربراہ ٹارگٹ کیے جا رہے تھے۔ اور اس ٹارگیٹنگ پر کھل کر جرگے کا موقف آ رہا تھا

    اس دن میں راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں میٹنگ میں تھا چائے کے وقفے میں ٹی وی آن کیا تھا تو ملالہ یوسفزئی پر حملے کی خبریں چل رہی تھیں میں نے انتہائی پریشانی میں اپنے بہنوئی احمد شاہ کو فون کیا انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا میں ساتھ ہوں وہ ہسپتال میں ہے اور ضیاء الدین پہنچ رہا ہے بعد میں ملالہ یوسفزئی کو شفٹ کرنا پڑا خیبرپختونخواہ کے ماہر نیورو سرجنوں کی ٹیم کی مدد کے لیے ملٹری ہسپتال کے نیورو سرجن پہنچے مگر زندگی اور موت کی جنگ جاری رہی اور ملالہ یوسفزئی کے لیے جدید علاج فوری طور پر فراہم کرنے کا فیصلہ ہوا. پہلے سے سوات بین الاقوامی میڈیا دہشت گردی کے شکار کے طور پر نمایاں تھا سکول کے بچیوں پر حملے نے مغربی سول سوسائٹی کو کھل کر طالبان کی مذمت اور ملالہ کو فوری طور پر صحت کے بہترین مواقع دینے کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ ہوگیا۔

    اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس کو دہشت گردی کا بزدلانہ فعل قرار دیا اور ملالہ کو بہترین طبعی امداد دینے کا وعدہ اور اپیل کی اور ایک آئر ایمبولینس میں ملالہ کو انگلستان منتقل کیا گیا اور دنیا بھر سے لاکھوں بچوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ضیاء الدین یوسفزئی پاکستان میں رہ گیا وہ ، اس کے جزبات اور حثیت ثانوی ہوگیے
    مالی طور پر وہ اتنا مستحکم نہیں تھا کہ وہ برطانیہ کا سفر اور وہاں رہائش کا بندوست کر سکے ساتھ ہی دیگر قانونی لوازمات کی تیاری میں موت سے لڑنے والی ایک بچی کے بے بس باپ کا درد روح پرور تھا ملالہ کے ایک سے اوپر ایک آپریشن کیے جا رہے تھے متفرق خبریں مل رہی تھی زندگی کے مطالق شہبات کا اظہار کیا جا رہا تھا تو کہیں مستقل معزوری کی نوید دی جا رہی تھی.

    اور پھر وہ دن آیا کہ ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ ایک مہذب ملک پہنچ گیا جہاں اظہار تحریر و تقریر کی آذادی کے ساتھ بہترین طبی سہولیات حاصل تھے ملالہ رو بہ صحت ہوتی گئی مگر وہ چہرے کے ایک سائڈ کے اعصابی نظام کی مفلوجی کا شکار بحرحال ہوگئی۔ سپیچ تھراپسٹ اور فزیوتھراپسٹ نے ملکر نیورولوجی کے شعبے کے ساتھ ملکر طبی کرشمہ انجام دیا. ملالہ بولنے کی لائق ہوئی تکلیف سے ہی سہی مگر اس کی آواز نے ضمیروں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس نے اپنے باپ کی جدوجہد کو جاری رکھنے اور دہشت گردی کی مخالفت اور سختی سے کرنے کا اعلان کیا۔
    آصف علی زرداری صاحب نے دورہ انگلستان کے موقع پر خصوصی ملاقات کی اور پاکستانی ہائی کمیشن کی ملکیتی ایک مکان بھی رہنے کو دیا.

    ضیاء الدین نے حکومت پاکستان کو درخواست دی کہ یہ مکان ان کی ضرورت سے کہیں بڑا ہے اور ویسے ہی دہشت گردی زدہ ملک پر بوجھ ہے اس لیے ان کو انکی چھوٹی فیملی کے حساب سے مکان دیا جائے 2014 تک ملالہ کی آواز دنیا کے ساتھ ارب سے زیادہ لوگوں تک پہنچ گئی تھی اور اسی سال ان کو امن کے لیے عالمی ایوارڈ اور اگلے سال انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ نے تعلیم کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا واحد موثر ہتھیار قرار دیا کروڑوں لوگوں نے براہ راست انکی تقریر سنی اقوام متحدہ نے اپنے ایک فنڈ جو دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم اور بہتر صحت کے لیے سرگرم تھا کا نام تبدیل کرکے ملالہ فنڈ رکھ دیا برطانیہ میں ہی ضیاء الدین یوسفزئی کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام تعلیم کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے میں ملازمت مل گئی مگر وہ ایک طویل عرصے مالی دشواری کا شکار رہے.

    ملالہ ملنے والی انعامی رقم ملالہ نے پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دی۔ سوات اور شانگلہ میں کئی پبلک و پرائیویٹ سکولوں کو فنڈز کی فراہمی شروع کر دی بے شمار طلباء تعلیمی وظائف حاصل کرنے لگے تور پکئ ایک گھریلو ناخواندہ خاتون نے پڑھنا شروع کیا اور ان کی شاعری وطن سے محبت ، یاد اور امن کے پیغام پر مبنی میڈیا پر سامنے آنے لگی عملی طور پر ایک وطن پرست اور محب وطن ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ وطن بدر ہوگیا ہے
    پچھلے سال ان کے لنڈیکس والے گھر پر کام کرنی والی خاتون کے لیے انہوں نے میرے نام پر کچھ امدادی رقم بجھوائی جو بینک کے قانونی ضابطے پورے کرتے ہوئے نکالے گیے اور پھر مجھے ایف آئی اے سے انکوائری کے سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔

    مجھے کہا گیا کہ میرا نام کا اضافہ پہلے سے موجود مالی امداد لینے والوں کی فہرست میں ہوگیا ہے اور کہ میرا ضیاء الدین کے ساتھ کیا رشتہ ہے میں نے بتایا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے یہ امداد میرے توسط سے ایک پرانی جاننے والی بزرگ خاتون کو بھجوائی ہے جو میں نے اسی دن ادا کر دی تھی اور بینک سے کئی مہینے بعد وصول کی ۔ بڑی مشکل سے ثبوتوں اور گواہیوں کے بعد یقین دلایا ہم نے ضیاء الدین یوسفزئی کو تسلیم نہیں کیا ان معنوں میں ہرگز نہیں جس کا وہ حق رکھتا تھا ۔

    ہم نے باچا خان کو تسلیم نہیں کیا، ہم نے بھگت سنگھ کی آذادی کی تحریک کا مذہب جائزہ لیکر مسترد کیا۔ ہم زمینی حقائق کے ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ نیا کچھ نہیں کیا ۔۔
    دنیا بھر کے آذاد و مہذب ممالک نے ان کے سامنے سر نگوں کیے ۔ ضیاء الدین یوسفزئی آج بھی طالبان حاکمیت کے خلاف سرگرم ہے۔ افغانستان میں خواتین کے تعلیم پر پابندی کے دن گن رہا ہے وہ شاید واحد موثر آواز ہے جو بلند ہے
    بے انصافی ، دہشت گردی ، لاقانونیت اور ریاستی عدم تعاون کے خلاف ، ریاستی نظر اندازی اور سرد مہری کے خلاف، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے مجھے یقین ہے ضیاء الدین یوسفزئی تاریخ میں صحیح سمت کھڑا ہے وہ مختلف قسم کی جدوجہد میں ہے جس میں باچا خان، بھگت سنگھ ، رابندرناتھ ٹیگور ، مولانا عبیداللہ سندھی ، سبھاش چندر بوس اور مولانا آزاد کی مشترکہ جھلک نظر آتی ہے ۔

  • ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملکی مفاد کہاں گیا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    جس ملک میں الیکشن کمیشن کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہو۔ پارلیمنٹ بے سود، الیکشن کمیشن مشکوک، سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، دہشت گرد، غیرملکی ایجنٹ قرار دینے میں ایڑھی چوٹی کا زولگاتے ہوں وہاں جمہوریت کیسی؟ پانامہ لیکس میں سینکڑوں شخصیات ملوث تھیں ۔ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص فرد واحد کو تاحیات نااہل کر دیا گیااور سزا سنا دی گئی۔ اب ملک کے ایک اور سابق وزیراعظم عمران خان کو غدار اور دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا پانامہ لیکس میں دوسرے افراد پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟ سیاستدان کب سمجھیں گے ؟-

    اس وقت مسئلہ جمہوری نظام کے مستقبل کا ہے۔ اس وقت کوئی ایسا سیاستدان نظر نہیں آرہا جو جمہوریت کا دفاع کرے ۔شہبازشریف جو اس وقت ملک کے وزیراعظم بھی ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر بھی ہیں نے نوازشریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دفن کر کے ایسے راستوں کا انتخاب کیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو عوام میں وہ پذیرائی نہیں مل رہی جو نوازشریف کے بیانیے کو مل رہی تھی۔ لاہور، پنجاب جو کسی زمانے میں بھٹو کا تھا پھر نوازشریف پنجاب میں سیاسی طاقت بن گئے اور اب عمران خان لاہور میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔

    روزانہ کی بنیاد پر پنجاب کے مختلف تھانوں میں غداری اور دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے سے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی اب پی ڈی ایم سے الگ سیاست کر رہی ہے ۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ،ملک اس وقت انتہائی مشکل معاشی صورتحال سے نبرد آزما ہے مہنگائی کا بے لگام گھوڑا عوام کی لاشوں کو بے دردی سے سڑکوں پر گھسیٹ رہا ہے ۔ایک طرف آٹے کی لائنوں میں لگے بے بس مرد و زن کی لاشیں گر رہی ہیں اور دوسری طرف سیاستدان انتقامی سیاست کی حدود کو کراس کر رہے ہیں۔

    یہ وطن کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں ،یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے ۔عوام کے بنیادی اور ریاست کے مسائل کو حل کرنے میں عمران خان سمیت پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی اپنا کردار ادا کرے ۔کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی معاشی قاتلوں کے جال میں گھر چکا ہے اور ہمارے سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو غدار اور دہشت گرد قرار دینے کی فرصت ہی نہیں کہ وہ ملکی مفاد کے بارے میں بھی سوچیں۔

  • شہر چھوڑو پیسے لو،ازقلم :غنی محمود قصوری

    شہر چھوڑو پیسے لو،ازقلم :غنی محمود قصوری

    شہر چھوڑو پیسے لو

    ازقلم غنی محمود قصوری

    پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس کا سب سے بڑا مسئلہ مس مینجمنٹ یعنی انتظام میں نقص ہے جس کے باعث ہم ترقی کی بجائے تنزلی کیجانب جا رہے ہیں یہ مس مینجمنٹ ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے اسی لئے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے علاوہ ہمارے گھروں تک میں مس مینجمنٹ دیکھنے کو ملتی ہے

    ٹوکیو چھوڑو، پیسے لو اور لکھ پتی بن جاؤ
    جی ہاں یہ نعرہ ہے جاپان گورنمنٹ کا

    جاپان کی حکومت نے دارالحکومت ٹوکیو چھوڑنے پر رقم کی پیشکش تین لاکھ ین ( جاپانی کرنسی) سے بڑھا کر دس لاکھ پن کر دی ہے
    شہر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں بسنے والے خاندانوں کو فی بچہ دس لاکھ ین دیے جائیں گے-

    جاپان حکومت نےیہ اقدام شہرکی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنےکےپیش نظر کیا ہےتاکہ لوگوں کو صحیح طوربنیادی ضروریات زندگی مل سکیں اور ان کی صحت متاثر نا ہوٹوکیو شہر کی آبادی ایک کروڑ تیس لاکھ سےبڑھ چکی ہے اور یہ جاپان کی کل آبادی کا دوفیصد ہے-

    ٹوکیو کو تئیس تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہےتاکہ لوگوں کو اچھا متنظم نظام ملے اور ان کی صحت درست رہےاوروہ اسی صحت و تندرستی سے ملک کی ترقی میں کردار ادا کرتے رہیں جب لوگوں کو اچھی اور جائز ضروری سہولیات ملیں گی تو لوگ تندرست و توانا ہونے کیساتھ جرائم سے دور بھی رہیں گےجرائم سے دور رہیں گے تو امن و امان ہو گاامان و امان ہو گا تو فائدہ گورنمنٹ کے ساتھ عوام کا بھی ہو گا
    مگر ہمارے ہاں نا تو فائدہ گورنمنٹ کا کیا جاتا ہے اور نا ہی عوام کا بلکہ فائدہ صرف خالصتاً اشرافیہ، بیورو کریسی و سیاستدان کا کیا جاتا ہے-

    ہمارے ہاں مینجمنٹ کا شدید فقدان ہے ملک میں بہت زیادہ غیر زرعی زمینیں بنجر پڑی ہیں کہ جہاں گھاس پھوس و جڑی بوٹیاں تو بغیر محنت کئے اگتی ہیں مگر ہم تھوڑی سی محنت کرکے اسی زمین سے فصل نہیں لے سکتے شہروں کی آبادیاں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے
    کراچی کی آبادی پونے تین کروڑ سے زائدلاہور کی آبادی پونے دو کروڑ سے زائد اور فیصل آباد کی آبادی پون کروڑ سے زائد ہو چکی ہے مگر اس کے باوجود بلڈنگوں کے اوپر بلڈنگیں بنائی جا رہی ہیں تھوڑی بہت بچی ہوئی زرعی زمینوں پہ رہائشی کالونیاں بنائی جا رہی ہیں مگر افسوس کہ بنجر زمینوں پہ نا تو نئے شہر بسائے جا رہے ہیں نا ہی انہیں قابل کاشت کیا جا رہا ہے کیونکہ ہمیں شارٹ کٹ کمانے کی عادت پڑ چکی ہے اور یہی عادت جرائم میں اضافے کا سبب بننے کے ساتھ بیماریوں کی بھی وجہ بن رہی ہے-

    ہمارے ہاں شہروں کی بہت زیادہ آبادی ہونے کے باعث لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں اور آلودگی پھیلنے سے ان کی صحت بری حد تک متاثر ہوئی ہے جس سے صحت کی بحالی کی مد میں گورنمنٹ کیساتھ ساتھ عوام کا اپناروپیہ پیسہ بھی ضائع ہو رہا ہے اور شرع اموات غیر معمولی طور پہ بڑھ گئی ہے-

    اب حالات یہ ہیں کہ ہمارےشہروں میں قبل ازعمربالوں میں سفیدی،گھٹنوں میں درد ودیگرخطرناک امراض پائےجانےلگےہیں جب یہ امراض جوانوں میں موجود ہو تو جوان کام کیا کریں گے اور ملک ترقی کیسے کرے گا ؟

    واضع رہے کہ جاپان دنیا کا وہ ملک ہے کہ جہاں غریب سے غریب تر فرد کے پاس بھی اپنی اچھی سواری ہے پہننے کو اچھے کپڑے اور کھانے کواعلی خوراک میسرہے مگراسکے باوجود بھی گورنمنٹ شہریوں کی صحت اورانہی کی سہولیات کےپیش نظران کو پیسے دے کر نقل مکانی کروا رہی ہے تاکہ ٹوکیو کی آبادی نا بڑھے بلکے دیگر چھوٹے شہر پرونق ہو جائیں یا پھر نئے شہر بسائے جائیں-

    یہ ساری مینجمنٹ ہمیں دین اسلام سکھلاتا ہے مگر ہم نے اسلام سے دوری رکھی اور اسی رولز آف اسلام سے ڈائریکٹیلیشن کرکے غیر مسلم ترقی کر رہے ہیں یہ بات ہمارے لئے ایک بہت بڑا پیغام ہے کہ نئے شہر بسائے جائیں غیر زرعی زمینوں کو قابل کاشت کیا جائے اور لوگوں کے رہنے کے مناسب اقدامات کئے جائیں تاکہ لوگ اچھی صحت کیساتھ دیر پا زندگی بغیر بڑی بیماریوں کے جئیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں-

    کیونکہ فرمان مصطفی ہےکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے-

    تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیونکہ ،اگر، ( کاش) شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے ۔۔مسلم

    اللہ کے نبی نے ہمیں واضع بتا دیا کہ طاقتور بنو وہ طاقت جسمانی بھی ہے اور ایمانی بھی جسمانی و مضبوط ایمانی طاقت اللہ کو بہت پسند ہے اور اسی سے خیر کا دروازہ کھلتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ اپنے پیٹ کی آگ کیساتھ عوام کی مینجمنٹ کے بارے بھی سوچ سکیں، آمین

  • نیا سال اور پھر سیاستدانوں کے نئے عزائم، تجزیہ: شہزاد قریشی

    نیا سال اور پھر سیاستدانوں کے نئے عزائم، تجزیہ: شہزاد قریشی

    نئی عیسوی سال 2023ء کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اہل مغرب خاص طور پر اس موقع پر دو کام کرتے ہیں ایک دوسرے کو مبارکباد اور نئے سال کے لئے عزائم، عرب ممالک میں بھی تبدیلی شروع ہو چکی بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سعودی عرب مشرقی اور مغرب کے درمیان ایک دوسرے سے جڑا ہوا مرکز بن چکا ہے دوسری طرف قطر نے یورپی دنیا میں عربوں کی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔ چین کے صدر نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ بن سلیمان کی پالیسیوں کی وجہ سے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ امن اور استحکام کا مرکز بن چکا ہے۔ ہم نے نئے سال کا جشن تو منایا مگر تادم تحریر ہمارے سیاسی رہنمائوں نے ایک دوسرے کو غدار، چور، ڈاکو، کرپٹ، نااہل، بدکار، ثابت کرنے میں وقت ضائع کر دیا۔ ملک و قوم دونوں کو لاغر کر دیا۔ ملک و قوم کو بے بس، لاچار، بے چارہ دوسروں کے رحم و کرم پر پہنچا دیا۔ خون خرابہ، دہشت گردی، تمام صوبوں میں ایک ہنگامہ برپا ہے۔ پاک فوج اور پولیس اپنے شہید ہونیوالے جوانوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں حکمران اور اپوزیشن والے بتائیں اب نئے سال کے کیا عزائم ہیں؟ کس سیاستدان کس جماعت کو عبرت کا نشان بنانا ہے؟ امریکہ سمیت کس مغربی ممالک کو گالیاں دے کر اپنی سیاست کو زندہ رکھنا ہے۔ کس کو بھارتی ایجنٹ اسرائیلی ایجنٹ قرار دینا ہے۔ کارکردگی کا عالم تو یہ ہے ملک میں نہ گیس ہے نہ بجلی۔ دنیا ترقی کے منازل طے کر رہی ہے ایک دوسرے پر ایک دوسرے پر آئی ایم ایف سے قرض لینے کا الزام لگانے والے سیاستدانوں کو اور فیصلہ ساز اداروں کو یاد نہیں کہ جس سیاستدان نوازشریف نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اپنے ایک دور حکومت میں جس میں موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے پالیسی بنائی تھی اس کو غدار، کرپٹ ترین، مودی کا یار، ملک دشمن قرار نہیں دیا؟ ایک دور میں نوازشریف نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے صوابدیدی فنڈ سے دستبرداری کا اعلان نہیں کیا تھا؟ کیا حکومتی برآمدات بڑھانے ، درآمدات جو کہ غیر ضروری ہیں ان کو کنٹرول کرے؟ ملک اپنے وسائل پرانحصار کرے۔ اگر 1990ء کے دور حکومت میں نوازشریف کی معاشی اصلاحات پر کام جاری رہتا تو آج ہم کب کا کشکول توڑ چکے ہوتے۔ بدقسمتی سے ہماری کسی حکومت کو مدت پوری کرنے نہیں دی گئی جس کا خمیازہ ملک اور قوم دونوں بھگت رہے ہیں۔ پاکستان کو معاشی اصلاحات دینے والا نوازشریف آج بھی اپنے ایک بھائی اور مسلم لیگی ورکر شہبازشریف کے دورحکومت میں جلاوطن ہی ہے۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)