Baaghi TV

Tag: بلاگ

  • اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے

    ازقلم غنی محمدد قصوری

    آج 25 دسمبر کا دن ہے اور پوری دنیا میں سرکاری چھٹی ہےیہ دن عیسائیوں کے ہاں خاص دن ہے کیونکہ آج ان کی عید ہے جسے وہ Happy Christmas Day بھی کہتے ہیں-

    اسلام جہاں مسلمانوں کو پوری آزادی سے زندگیاں گزارنے کا اختیار دیتا ہے وہیں غیر مسلموں کو بھی اختیار ہے کہ پوری آزادی سے رہیں بشرطیکہ دین اسلام پر کھلا وار نا کریں جس کی مثال قرآن نے ایسے بیان کی ہے

    تمہارا دین تمھارے ساتھ اور میرا ( دین ) میرے ساتھ
    (سورۃ الکافرون آیت 6)

    دین اسلام میں جبر بھی نہیں ہے کیونکہ یہ دین کامل ہے اسلام میں جبر کی ممانعت قرآن میں ایسے کی گئی ہے –

    لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ
    قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ
    فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى لَاانْفِصَامَ لَہَا
    وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ﴿256﴾

    "دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہو کر واضح ہوچکا اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا ، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے-”

    اس آیت سے ثابت ہوا دین اسلام کا نام لے کر کسی پر سختی بھی نہیں کی جا سکتی مگر حدیث رسول نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرنے سے بھی بڑی سختی سے منع فرمایا ہے

    حدیث رقم ہے کہ عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم. من تشبہ بقوم فہو منہم

    جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے-
    (سنن أبي داؤد)

    غور کیجئے کفار کے مشابہت اختیار کرنے ان کو مبارکباد دینے پر اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ ایسا کرنے والا مسلمان انہی میں سے ہے
    آخر یہ آج کا دن یعنی عیسائیوں کی عید ہے کیا ؟ اس بارے جانتے ہیں Happy Christmas Day کا معنی ہے میلاد عیسیٰ مبارک ہو-

    حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے دن کو عیسائی ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اس دن عیسائی ایک دوسرے کو ایسے مبارکباد دیتے ہیں جیسے ہم مسلمان اپنی عیدین پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اس دن Merry Christmas کہہ کر مبارکباد دی جاتی ہے یعنی ولادت عیسی علیہ السلام مبارک ہو-

    عیسائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہمارے مسلمان بھی اس دن ان کو خوب مبارکباد دیتے ہیں جس کا جواز اکثر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ بھی ہمیں مبارکباد ہماری عیدین پر دیتے ہیں-

    ہماری عیدین پر ان کی طرف سے عید مبارک کہا جاتا ہے جس میں کوئی ایسے ٹکراؤ کے الفاظ موجود ہی نہیں جبکہ جب ہم ان کی عید کی مبارک باد ان کو دیتے ہیں تو ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور آج ان کا جنم دن ہے

    اس بابت قرآن نے سورہ مریم آیت 88 تا 92 میں بڑی سختی سے ایسے تردید کی ہے

    "یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے(ایسی بات کہنے والو) حقیقت یہ ہے کہ تم نے بڑے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے
    کچھ بعید نہیں کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین پھٹ جائے، اور پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں، کہ لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو-”

    معاذاللہ کتنے سخت الفاظ میں قرآن اس عقیدے کی ممانعت کر رہا ہے جبکہ ہم دنیاوی دکھلاوے کی خاطر آج ان عیسائیوں کو مبارکبار پیش کرکے اپنا عقیدہ خراب کر رہے ہیں

    خداراہ اقلیتوں کا احترام ضرور کیجئے مگر آج کے دن کی ان کو مبارکباد دے کر اپنا عقیدہ خراب نا کیجئے
    اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • ناکام دشمن کے ناکام وار، ازقلم :غنی محمود قصوری

    ناکام دشمن کے ناکام وار، ازقلم :غنی محمود قصوری

    ناکام دشمن کے ناکام وار

    حضرت انسان کی آمد زمین کے کچھ عرصہ بعد ہی ایک دوسرے سے دشمنی شروع ہو گئی تھی جس کی وجہ بغض،حسد و تکبر ہے اور اسی باعث ہمارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کے مابین جھگڑا اور پھر کرہ ارض پہ پہلا قتل ہوا-

    یہ حسد مخالفین کے لئے بہت کچھ کرواتا ہے مگر کامیابی تب ہی مانی جاتی ہے جب آپ کسی کو مات دیں اور اگلا دب جائے اور دوبارہ ابھر نا پائے بصورت دیگر آپ ناکام ہیں بس اگلا آزمائش سے گزرا ہےاگر حقیقت جائے تو بغض و حسد میں وار کرنے والا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ناکام و ذلیل ہوتا ہے-

    جس طرح انسانوں میں آپسی بغض و حسد ہوتا ہے ایسے ہی ملکوں و ریاستوں میں بھی بغض و حسد کی بنیاد پہ دشمنیاں ہوتی ہیں ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو بھی ہم سے بڑا بغض اور حسد ہے اور اسی بغض میں اس نے اپنا پیسہ و توانائی خرچ کرکے پاکستان کو کئی بار مات دینے کی کوشش کی مگر بفضل ربی پاکستان نا دبا،جھکا،نا ڈرا،نا ٹوٹا بلکہ پہلے سے مذید طاقتور ہو کر ابھرا-

    ہندوستان کی پاکستان مخالف بغض اور عملی وار پہ اگر لکھنا شروع کیا جائے تو کئی جامع کتابیں لکھی جا سکتی ہیں سو اس سب کو چھوڑ کر میں اس کے ایک وار پہ لکھتا ہوں-

    ہندوستان کا پاکستان کے خلاف ایک وار تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کی شکل میں بھی ہے اس ٹولے میں بظاہر تو لمبی داڑھیوں اونچی شلواروں والے باعمل لوگ ہیں مگر درحقیقت دین محمدی سے ناواقف ظاہری مسلمان ہیں کہ جن کو معلوم ہی نہیں کہ اللہ کے فرمان کے مطابق ایک مومن مسلمان کی شان بیت اللہ سے زیادہ ہے اور اس کو تکلیف دینا بہت بڑا گناہ نا کہ جہاد –

    2009 آپریشن راہ نجات میں اس بات کی تصدیق ہو گئی تھی کہ یہ ٹی ٹی پی نامی ٹولہ ہندوستانی پے رول پہ کام کر رہا ہے جن سے دوران آپریشن پکڑے جانے پہ امریکی و ہندوستانی اسلحہ و کرنسی برآمد ہوئی اور ان کے روابط بھی کنفرم ہوئے-

    نائن الیون کے بعد امریکی بدمعاشی سے پاکستان متاثر ہوا تو پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے بھارت نے قوم پرست لوگوں کو ڈھونڈا اور ریاست پاکستان کے خلاف فتوے جاری کروائے 2004 میں جاری ہونے والے پاکستان مخالف ان فتوؤں میں کلیدی کردار مفتی نظام الدین شامزئی کے فتویٰ نے کیا اور 30 سے زائد مسلح ریاست مخالف جتھوں نے یک جان ہو کر تحریک طالبان پاکستان کے نام سے بیت اللہ محسود کی قیادت میں اعلان جنگ کیا اور پاکستانی فوج اور عوام پاکستان پہ حملے شروع کئے-

    اس سے قبل یہ مختلف گروہوں میں افواج پاکستان سے لڑ رہے تھے مگر اب بھارت نے ان کو یکجان کیا اور اسے گولہ بارود مہیا کیا تاکہ یہ لوگ جہاد کے نام پہ فساد مچا کر ایک طرف جہاد کو بدنام کریں تو دوسری طرف خودکش حملے کرکے افواج و عوام پاکستان کو خوفزدہ کرکے مایوسی پھیلا کر اپنے عزائم پورے کریں-

    حتی کہ بھارت نے اس تنظیم کو کرائے کے مفتی بھی فراہم کئے کہ جنہوں نے میر جعفر و صادق کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستانی فوج اور عوام پاکستان کے قتل کے فتوے جاری کئے اور اسے عین شرعی قرار دیا-

    2004 سے اس کالعدم تنظیم نے بہت نقصان پہنچایا مگر اس کا ایک نقصان نا قابل تلافی اور نا قابل بھول نقصان آرمی پبلک سکول پہ حملہ ہے-

    16 دسمبر 2014 کو جب قوم 16 دسمبر 1971 کا سقوط ڈھاکہ کا غم دل میں محسوس کئے بھارت سے نفرت میں اضافہ کر رہی تھی تب اس خارجی دہشت گرد تنظیم نے آرمی پبلک سکول پشاور میں سکول میں داخل ہو کر 140 سے زائد افراد بمعہ معصوم نہتے بچوں کو شہید کر دیا اورفخرسےاس حملے کی ذمہ داری قبول کی یہ دن جب بھی آتا ہےقوم کے دوزخم تازہ ہوجاتے ہیں جو بھارت نے پہنچائے ہیں اول سقوط ڈھاکہ ،دوم سانحہ اے پی ایس پشاور-

    دشمن نے ان دونوں سانحات پہ گمان کر لیا تھا کہ اب پاکستان ٹوٹ جائے گا اور یہ قوم بکھر جائے گی مگر ناکام دشمن نے یہ دن دیکھا کہ پاکستانی قوم پہلے سے زیادہ متحد ہوئی اور اس کے عزائم کے آگے آہنی دیوار بن گئی اور ان شاءاللہ قیامت تک ہمارے اس ازلی دشمن کو ناکامی ہی ہو گی کیونکہ الحمدللہ اتنے بڑے سانحے کے بعد آج بھی معصوم بچے آرمی پبلک سکول میں بغیر کسی خوف و خطر کے جاتے ہیں اور بلند آواز میں دشمن کو للکارتے ہیں-

    مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
    مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

    دشمن کے بچوں کو یہ پڑھانا ہے کہ جتنا مرضی حسد و بغض کر لو اپنی قوت خرچ کر لو اپنا پیسہ خرچ کر لو یہ پاکستانی قوم مغلوب نہیں ہو گی کیونکہ ایک اللہ کو ماننے والے صرف ایک اللہ کے سامنے ہی جھکتے ہیں تمہاری طرح ہر چوکھٹ پہ نہیں کیونکہ تم ہندو دنیا کے نجس ترین لوگ ہو جن کے تین ارب سے زائد خدا ہیں اور اسی لئے تمہیں ہر چوکھٹ پہ جھکنے کی عادت ہے –

    پاک فوج کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف کئے گئے اپریشن رد الفساد،راہ نجات،ضرب عضب اور دیگر آپریشنز کے بعد یہ خارجی ٹولہ بڑی حد تک ٹوٹ گیا مگر اب گزشتہ ماہ سے ایک بار پھر یہ ٹولہ یک جان ہو رہا ہے اور اب اس کی افرادی قوت 40 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ نئی شامل ہونے والے دہشت گرد گروپوں سے اب 40 کے قریب گروپ تحریک طالبان پاکستان کا حصہ بن گئے ہیں مگر ان شاءاللہ ماضی کی طرح اب ایک بار پھر ناکامی ان کا مقدر بنے گی کیونکہ اللہ کے فضل سے افواج پاکستان اور عوام پاکستان ان کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہیں اب کی بار ان کا مکمل خاتمہ یقینی ہے ان شاءاللہ

  • معروف شاعر اطہر نفیس کا یوم وفات

    معروف شاعر اطہر نفیس کا یوم وفات

    کنور اطہر علی خاں کی پیدائش علی گڑھ کے قصبہ پٹل کے ایک معزز خاندان میں22 فروری سنہ 1933کو ہوئی تھی ان کی ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں ہی ہوئی۔علی گڑھ کے قصبہ پٹل سے ہجرت کر کے وہ سنہ 1949میں کراچی چلے گئے تھے او روہاں مشہور اخبار ” جنگ “ کے انتظامی شعبے سے وابستہ ہوئے او رترقی کر کے چیف اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر پہنچے۔

    اطہر نفیس نے ایک منفرد شاعر کی حیثیت سے ادب میں اپنا مقام بنایا۔ اطہر نفیس کو کم وقت ملا اور صرف 47برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی زندگی میں تو ان کا شعری مجموعہ شائع نہیں ہو سکا لیکن انتقال کے بعد احمد ندیم قاسمی نے اسے”کلام“ کے نام سے شائع کیا۔کم عرصے میں ہی انہوں نے اپنی منفرد آواز کے نقوش چھوڑے۔

    اطہر نفیس صرف شاعر نہیں بلکہ صحافی بھی تھے۔ انہوں نے پاکستان کے مشہور اخبار ”جنگ“ میں کالم اور حالاتِ حاضرہ پر مضامین بھی لکھے۔ لیکن اطہر نفیس پر اس اخبار میں انتظامی ذمہ داریاں بھی تھیں ا س لیے وہ لکھنے، پڑھنے پر بہت زیادہ وقت نہیں دے سکے۔ یہ حقیقت ہے کہ اطہر نفیس کے اندر ایک منفرد شاعر موجودتھا۔ جس کی فکر الگ تھی، محسوسات الگ تھے، سوچنے کا انداز الگ تھا اور ادائیگی بھی الگ تھی۔ وہ منفرد اسلوب کے مالک تھے۔ ان کے احساسات ہی نہیں، لفظیات بھی الگ تھیں اور انہوں نے اپنے احساسات کا اظہار بھی الگ انداز میں کیا ہے:

    اب میری غزل کا بھی تقاضا ہے یہ تجھ سے
    انداز و ادا کا کوئی اسلوب نیا ہو
    یا پھر اپنی انفرادیت کا احساس وہ کچھ یوں دلاتے ہیں:

    ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
    بے جذبہٴ شوق سنائیں کیا کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا

    اطہر نفیس جس دور میں شاعری کر رہے تھے اس زمانے میں کئی ایسے شعرا موجود تھے جو اپنے اسلوب کے لحاظ سے منفرد انداز رکھتے تھے۔ ان میں ا ن سے فیض احمد فیض، منیر نیازی، حبیب جالب وغیرہ تھے تو ہم عصروں میں ابن انشا،مصطفیٰ زیدی، شکیب جلالی، اقبال ساجد اور عزیز حامدمدنی وغیرہ تھے۔ لیکن اطہر نفیس نے ان کے درمیان سے ایک نئی راہ نکالی۔ ان کے یہاں بہت سادگی ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام اہم گلوکاروں نے ان کی غزلوں کو اپنی آواز دی ہے۔ کیوں کہ یہ اشعار بہت آسانی سے سامعین کے ذہن میں اتر جاتے ہیں اور دل پر اثر کرتے ہیں۔ ا ن کی مشہور غزلوں میں:

    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
    کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں کوئی سچا شعر سنائیں کیا
    اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے تادیر اسے دہرائیں کیا
    وہ زہر جو دل میں اتار دیا پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا
    پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں یہ شمعیں بجھنے والی ہیں
    ہم خود بھی کسی سے سوالی ہیں اس بات پہ ہم شرمائیں کیا

    اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
    جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا

    اطہر نفیس کی اس غزل میں جو کیفیت موجود ہے اس کی تفسیر بیان کرنا آسان نہیں ہے۔ ان کے غزلیات میں کوئی مشکل لفظ کم ہی آتا ہے۔ جو ترسیل میں دشواری پیدا کرے۔ اس لیے اطہر نفیس کا ہر شعر اپنی کیفیت خود بیان کر دیتا ہے۔

    در اصل اطہر نفیس صرف ایک حساس شاعر ہی نہیں، صحافی بھی تھے اور انہوں نے چیزوں کو ان کی جزئیات کے ساتھ دیکھا اور پرکھا ہے۔ اس لیے جب وہ انہیں اشعار میں بیان کرتے ہیں تو ان کی لفظیات تبدیل ضرور ہو جاتی ہیں لیکن ان کے پرکھنے کا انداز نہیں بدلتا:

    تو ملا تھا اور میرے حال پر رویا بھی تھا
    میرے سینے میں کبھی اک اضطراب ایسا بھی تھا
    زندگی تنہا نہ تھی اے عشق تیری راہ میں
    دھوپ تھی، صحرا تھا اور اک مہرباں سایہ بھی تھا
    عشق کے صحرا نشینوں سے ملاقاتیں بھی تھیں
    حسن کے شہر نگاراں میں بہت چرچا بھی تھا
    ہر فسردہ آنکھ سے مانوس تھی اپنی نظر
    دکھ بھرے سینے سے ہم رشتہ مرا سینہ بھی تھا
    تھک بھی جاتے تھے اگر صحرا نوردی سے تو کیا
    متصل صحرا کے اک وجد آفریں صحرا بھی تھا

    یا پھر یہ غزل لے لیجئے، جس کے اندر ایک اضطراری اور اضطرابی کیفیت کروٹیں لے رہی ہے:

    پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو
    اس دل کی خبر لے جو تجھے بھول چلا ہو
    اب دل میں سرِ شام چراغاں نہیں ہو تا
    شعلہ مرے دل کا کہیں بجھنے نہ لگا ہو
    کب عشق کیا کس سے کیا جھوٹ ہے یارو
    بس بھول بھی جاؤ جو کبھی ہم سے سنا ہو

    اطہر نفیس کے یہاں عصری مسائل تو موجود ہیں ہی جن کو انہوں نے اپنے احساسات میں تپا کر نیا اسلوب بخشا ہے، لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے تصوف کے مسائل بھی بیان کیے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا معرفت سے گہرا لگاؤ تھا۔ احمد حسین صدیقی ’دبستانوں کا دبستان کراچی‘ میں لکھتے ہیں کہ اطہر نفیس کو بابا ذہین شاہ تاجی سے بے حد عقیدت تھی۔ مذہب سے بھی ان کا گہرا لگاؤ تھا۔

    اطہر نفیس کا کلاسیکی شاعری سے بھی بہت لگاؤ تھا۔ حالانکہ وہ جدید اسلوب کے شاعر ہیں، مگر اس کے باوجود ان کے یہاں کلاسیکی روایات کا التزام ملتا ہے اور اس نے ان کی شاعری کو نفاست عطا کی ہے۔

    ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی لکھتے ہیں ”اطہر نفیس کی غزل میں ذائقہ اورنیا آہنگ ملتا ہے۔ ان کے لہجے میں گد اختگی ہے، زبان کی سادگی ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے ان کی عصری حسیات نے نئے شاعرانہ وجدان کی تشکیل کی ہے۔ احساس کی شکست و ریخت سے ان کو حظ ملتا ہے اور اس کی ادائیگی ان کی شاعری کو ایک منفرد آہنگ عطا کرتی ہے:

    سکوتِ شب سے اک نغمہ سنا ہے
    وہی کانوں میں اب تک گونجتا ہے
    غنیمت ہے کہ اپنے غم زدوں کو
    وہ حسنِ خود نگر پہچانتا ہے
    بہت چھوٹے ہیں مجھ سے میرے دشمن
    جو میرا دوست ہے مجھ سے بڑا ہے
    مجھے ہر آن کچھ بننا پڑے گا
    مری ہر سانس میری ابتدا ہے

    اطہر نفیس نئے پیکر تراشتے ہیں، نئی لفظیات کی تشکیل کر تے ہیں اور ادائیگی کا منفرد التزام کرتے ہیں:

    اطہر تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا
    کوئی نیا احساس ملا یا سب جیسا احوال ہوا
    راہ وفا میں جاں دینا بھی پیش روں کا شیو ہ تھا
    ہم نے جب سے جینا سیکھا جینا کا رِ مثال ہوا
    عشق افسانہ تھا جب تک اپنے بھی بہت افسانے تھے
    عشق صداقت ہو تے ہوتے کتنا کم احوال ہوا
    راہ وفا دشوار بہت تھی تم کیوں میرے ساتھ آئے
    پھول سا چہرا کمہلایا اور رنگِ حنا پامال ہوا

    اطہر نفیس بھیڑ میں بھی اکیلے نظر آتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی آواز میں انفرادیت اور نیا پن ہے۔ وہ اپنے اظہا رکے لیے نئی زمینیں تلاش کر کے لاتے ہیں:

    دم بد م بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا شہر والو سنو
    جیسے آئے دبے پاؤں شہرِ بلا شہر والو سنو
    خاک اڑاتی نہ تھی اس طرح تو ہوا اس کو کیا ہوگیا
    دیکھو آواز دیتا ہے اک سانحہ شہر والو سنو
    عمر بھر کا سفر جس کا حاصل ہے اک لمحہٴ مختصر
    کس نے کیا کھو دیا کس نے کیا پا لیا شہر والو سنو
    اس کی بے خو ف آنکھوں میں جھانکوں کبھی اس کو سمجھوں کبھی
    اس کو بیدار رکھتا ہے کیا واقعہ شہر والو سنو

    21نومبر سنہ 1980کو صرف 47سال کی عمر میں اطہر نفیس کا کراچی میں انتقال ہو گیا اور وہیں سخی حسن قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی۔ انہوں نے عشق میں ناکامی پر زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ ان کی قبر کے کتبے پر ان کا اپنا شعر کندہ ہے-

    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال سنائیں کیا
    کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کا یوم وفات

    برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کا یوم وفات

    برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کو نیا سے رخصت ہوئے 4 سال بیت گئے-

    برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض 28 جولائی 1945 کو ہندوستان کے شہر میرٹھ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام ریاض الدین اور والدہ محترمہ کا نام حسنہ بیگم ہے۔

    تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر کے حیدر آباد سندھ میں آباد ہوا۔ فہمیدہ نے ابتدائی تعلیم حیدر آباد سے اور ایم اے سندھ یونیورسٹی جام شورو سے کیا۔ دوران تعلیم وہ ڈی ایس ایف کے پلیٹ فارم سے ایوب خان کے خلاف تحریک میں سرگرم عمل رہیں۔1967 میں شادی کے بعد وہ لندن منتقل ہو گئیں۔ وہاں سے انہوں نے تیکنیکی تعلیم میں ڈپلومہ کیا۔ اس دوران بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس میں بھی کام کیا۔

    1973 میں لندن سے وطن واپس آئیں۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں انہوں نے ایک اردو ادبی رسالہ” آواز” جاری کیا جس میں وہ حکومت کی غیر جمہوری پالیسیوں پر تنقیدی مضامین لکھتی رہیں جس پر ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے گئے اور ان کے رسالے کو بند کر دیا گیا تھا جس کی بناء پر وہ پاکستان سے جلاوطنی اختیار کر کے ہندوستان چلی گئیں ۔

    1981 سے 1987 تک ہندوستان میں قیام پذیر رہیں۔اس دوران وہ جامعہ ملیہ۔اسلامیہ دہلی سے وابستہ رہیں ۔ وہاں ان کا ایک شعری مجموعہ” کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے” شائع کیا گیا جبکہ اس سے قبل پاکستان میں ان کے دو شعری مجموعے ” بدن "دریدہ اور ایک دوسرا شعری مجموعہ شائع ہو چکا تھا ۔ جنرل ضیا کی وفات کے بعد وہ اپنی جلاوطنی ختم کر کے اپنے وطن واپس آ گئیں۔

    محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں انہیں نیشنل بک کونسل کی چیئر پرسن مقرر کیا گیا تھا ۔ فہمیدہ ریاض نے جمہوریت کی بحالی، انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی محرومی کے حوالے سے بھرپور جدوجہد کی۔ فہمیدہ ریاض کی نصف درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئیں جن میں "حلقہ مری زنجیر کا” ہم رکاب، ادھورا آدمی، میں مورت ہوں ، اپنا جرم ثابت ہے، اور ” آدمی کی زندگی” شامل ہیں ۔

    فہمیدہ نے دو شادیاں کی تھیں پہلی شوہر سے ایک بیٹی اور دوسرے شوہر سے ایک بیٹی اور ایک بیٹا کبیر پیدا ہوا۔ کبیر 2007 میں امریکہ میں ایک حادثے میں فوت ہو گئے جس کا فہمیدہ کو شدید صدمہ ہوا ۔ 21 نومبر 2018 میں فہمیدہ ریاض کا انتقال ہوا۔

    فہمیدہ ریاض کی شاعری سے انتخاب

    اب سو جاؤ

    اور اپنے ہاتھوں کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
    تم چاند سے ماتھے والے ہو
    اور اچھی قسمت رکھتے ہو
    بچے کی سو بھولی صورت
    اب تک ضد کرنے کی عادت
    کچھ کھوئی کھوئی سی یادیں
    کچھ سینے میں چھبھتی یادیں
    اب انہیں بھلا دو سو جاؤ
    اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
    سو جاؤ تم شہزادے ہو
    اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو
    اچھا تو کوئی اور بھی تھی
    اچھا پھر بات کہاں نکلی
    کچھ اور بھی یادیں بچپن کی
    کچھ اپنے گھر کے آنگن کی
    سب بتلا دو پھر سو جاؤ
    اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
    یہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کی
    یہ جھلمل کرتی خاموشی
    یہ ڈھلتی رات ستاروں کی
    بیتے نہ کبھی تم سو جاؤ
    اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو

    اس گلی کے ہر موڑ پر

    اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نے
    میرے اشک پونچھ کر
    آج مجھ سے یہ کہا
    یوں نہ دل جلاؤ تم
    لوٹ مار کا ہے راج
    جل رہا ہے کل سماج
    یہ فضول راگنی
    مجھ کو مت سناؤ تم
    بورژوا سماج ہے
    لوٹ مار چوریاں اس کا وصف خاص ہے
    اس کو مت بھلاؤ تم
    انقلاب آۓ گا
    اس سے لو لگاؤ تم
    ہو سکے تو آج کل کچھ مال بناؤ تم
    کھائی سے نکلنے کی آرزو سے پیشتر
    دیکھ لو ذرا جو ہے دوسری طرف ہے گڑھا
    آج ہیں جو حکمراں ان سے بڑھ کے خوفناک ان کے سب رقیب ہیں
    دندنا رہے ہیں جو لے کے پاتھ میں چھرا
    شکر کا مقام ہے
    میری مسخ لاش آپ کو کہیں ملی نہیں
    اک گلی کے موڑ پر
    میں نے پوچھا واقعی
    سن کے مسکرا دیا کتنی دیر ہو گئی
    لیجیۓ میں اب چلا اس کے بعد اب کیا ہوا
    کھڑکھڑائیں ہڈیاں
    اس گلی کے موڑ سے وہ کہیں چلا گیا

    پچھتاوا

    خداۓ ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دی
    بہشت سے جب اسے نکالا
    تو اس کو بخشا گیا یہ ساتھی
    یہ ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی آدمی کے قریں رہا ہے
    تمام ادوار چھان ڈالو
    روایتوں میں حکایتوں میں
    ازل سے تاریخ کہہ رہی ہے
    کہ آدمی کی جبیں ہمیشہ ندامتوں سے عرق رہی ہے
    وہ وقت جب سے کہ آدمی نے
    خدا کی جنت میں شجر ممنوعہ چکھ لیا
    اور
    سرکشی کی
    تبھی سے اس پھل کا یہ کسیلا ذائقہ
    آدمی کے کام و دہن میں ہر پھر کے آ رہا ہے
    مگر ندامت کے تلخ سے ذائقے سے پہلے گناہ کی بے پناہ لذت

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • ارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں، ازقلم:  غنی محمود قصوری

    ارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں، ازقلم: غنی محمود قصوری

    ارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بڑے دنوں بعد میرے بچپن کے ایک دوست کی کال آئی مجھے اس کی کال آنے کی بہت بہت خوشی ہوئی کیونکہ وہ ایک انتہائی نفیس اور درد دل رکھنے والا شحض ہے سلام دعا کے بعد دریافتگی حال احوال کہنے لگا یار نئی نسل تو بلکل برباد ہو رہی ہےکوئی حالات ہی نہیں رہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے پتہ نہیں کیا ہو گا-

    میں نے پوچھا کیسے اور کیا ہوا ہے ؟-

    کہنے لگا ہر چوک چوراہے میں مانگنے والی عورتیں موجود ہیں جو لوگوں سے پیسے مانگتی ہیں اور ساتھ موقع ملنے پہ نوجوانوں کی ہوس کی تسکین بھی بنتی ہیں میں نےاسکی بات سنتے ہی کہاارے صاحب قصور وار تو ہم بھی ہیں ہماری ہی کمیوں کوتاہیوں کےباعث وہ عورتیں آج سڑک پہ ہیں

    وہ تعجب سے کہنے لگا یار ہمارا کیا قصور؟ میں نے کہا جناب ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اور ہمیں اپنی مرضی کا رخ ہی نظر آتا ہے
    میں اسے بتانے لگا کہ مجھے معلوم ہے ان عورتوں میں بہت سی جوان خوبرو دوشیزائیں بھی ہیں اور بوڑھی بھی کچھ تو انتہائی کھاتے پیتے گھرانے کی بھی لگتی ہیں مجھے یہ بھی معلوم ہیں کہ ان میں بیشتر مجبور عورتیں ہیں تو کچھ شارٹ کٹ مالی حصول کی خاطر بغیر محنت کئے بھیک مانگنے والیاں بھی-

    مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ان میں سے چند ایک اپنے حسن و جمال کو ڈھال بنا کر جسم فروشی کرتی ہونگی مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ان کے باقاعدہ گینگ ہونگے اور ضلعی و تحصیل انتظامیہ سے اوپر تک ان کی پہنچ ہو گی سب باتیں درست ہیں مگر کیا ہم نے کبھی ان سے ان کے دکھ درد جانے؟ کیا ہم نے کبھی کوئی کوشش کی ان کی داستان سننے کی کہ بی بی،بہن،محترمہ آپ کو کیا مسئلہ ہے ؟ گھر میں کوئی کمانے والا مرد نہیں یا پھر مالی حالات زیادہ برے ہوگئے کہ آپ کو اپنا گھر چھوڑ کر سڑک پہ آنا پڑا؟ مختلف سوالات ہیں جن کے جوابات بھی مختلف ہونگے-

    میں دوبارہ اس سے گویا ہوا کہ یار دیکھو جس طرح یہ کئی طرز کی ہیں اسی طرح ہم بھی کئی طرز کے ہیں کچھ ہم میں سے کھاتے پیتے گھرانوں سے ہیں تو گزر بسر واجبی والے ہیں کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ ایسا تو نہیں کہ ان میں سے وہ عورتیں بھی ہو کہ جو رسم و رواج اور جہیز کی بھینٹ چڑھنے کے باعث بالوں میں چاندی لئے پھرتی سڑک پہ آ گئی ہو؟

    کیا ایسا نہیں کہ بڑی بہن کی شادی ذات،پات،رسم و رواج کے باعث نا ہو سکی اور اس نے اسی دکھ میں خودکشی کر لی اب بوڑھے ماں باپ کا سہارا بننے کی خاطر یہ سڑک پہ ہے ؟

    ہو سکتا ہے ان کا باپ،بھائی کماتا تو ہو مگر شدید مہنگائی کے باعث ان کے گھر کا گزارہ نا ہوتا ہو اور اسی محلے کے لوگ ان کو ایک کماؤ گھرانے سے جان کر اپنے صدقے خیرات محلے سے باہر کسی اور کو دینے لگ گئے ہو حالانکہ اسلام نے سب سے پہلا حق اپنوں و محلہ داروں کا رکھا ہے-

    یہ بھی ہو سکتا ہے کسی دل پھینک عاشق نے سبز باغ دکھائے ہو اور وہ نکاح کی خاطر اس کیساتھ بھاگ کھڑی ہوئی ہو اور اس کی ہوس کی تسکین بن کر اب ٹشو پیپر کی طرح ناکارہ ہو گئی ہے اور گھر واپس اس لئے نہیں جا رہی کہ اب اس کے ورثاء اسے قتل کر دیں گے
    کہیں ایسا تو نہیں کسی سنگدل باپ نے اس کی ماں کو بیٹا پیدا نا کرنے پہ چھوڑ دیا ہو اور اب یہ اپنی بوڑھی بے سہارہ ماں کی سانسوں کو بحال رکھنے کی خاطر بھیک مانگ رہی ہو کیونکہ اکثر و بیشتر مردوں کو ہی محنت مشقت کے کاموں پہ رکھا جاتا ہے تاکہ اجرت کے باعث کام پورا ملے-

    خیر اور بھی بہت سی باتیں ہوئیں تو ہم دونوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر یہ عورتیں آج سڑک پہ بھیک مانگنے کیساتھ خدانخواستہ کسی کی جنسی ہوس کا نشانہ پیسوں کے عیوض بن رہی ہیں تو واللہ ہم بھی مجرم ہیں-

    ہمیں چائیے اپنے صدقے خیرات دیتے وقت ان کمزور گھرانوں کو دیکھیں کیونکہ جس طرح مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینا ثواب ہے بلکل اسی طرح بھوکے کو کھانا کھلانا اس کی ضروریات زندگی پوری کرنا بھی ثواب ہے-

    ہم رشتہ طے کرتے وقت اگر جہیز کو بائیکاٹ کریں اور خوبصورتی کی بجائے خوب سیرتی ،مال کی بجائے اعمال کو ترجیح دیں تو اللہ گواہ کتنے ہی غریب گھرانوں کی سڑک پہ مانگتی عفت مآب عورتیں آج اپنے گھروں میں ہوتیں بسا اوقات ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ جی یہ تو صحت مند ہیں کما سکتی ہیں ان کو خیرات کیوں دیں؟ تو ارشاد باری تعالی بھی سن لیں-

    انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے ، تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا، سورة البقرة 272

    اس آیت کی رو سے ہم صدقہ دیں ساتھ ان کو دعوت دیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کریں کہ ان کی بحالی کے زیادہ سے زیادہ مراکز بنائے جائیں جہاں ان کو حق حلال کمانے کی ٹریننگ دے کر ہنر مند بنایا جائے تو ان شاءاللہ کبھی نا کبھی یہ سڑکوں کی بجائے ایک کماؤ فرد بن کر ملک و ملت کا بوجھ بانٹ لیں گیں-

  • ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم ، ازقلم : غنی محمود قصوری

    ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم ، ازقلم : غنی محمود قصوری

    ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم

    ازقلم غنی محمود قصوری

    غالباً 31 اکتوبر 2018 کا دن تھا اور میرا فیملی ٹور تھا سوات کیلئےہم دو سگے بھائی اور دو کزن گاڑی میں بیٹھے اور انتہائی مشکلات کیساتھ لاہور ٹھوکر نیاز بیگ انٹرچینج پہ پہنچے کیونکہ ہمارے نکلنے سے تھوڑی دیر پہلے ہی ایک مذہبی سیاسی جماعت کی طرف سے احتجاج شروع ہو چکا تھا جو کہ دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر چکا اور جلاؤ گھیراؤ تک بات پہنچ چکی تھی-

    قصور سے ٹھوکر نیاز بیگ پہنچنے تک محض چار پولیس ناکے تھے مگر آج وہ پولیس ناکے تو نا تھے مگر کم و بیش 47 رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا راستہ گلیوں بازاروں کے بیچ سے طے کیا اور محض 50 منٹ کا راستہ 5 گھنٹوں میں طے ہوا خیال یہی تھا کہ موٹر وے محفوظ ترین ٹریک ہے وہ بند نا ہوا ہو گا مگر جب انٹرچینج پہ پہنچے تو صورتحال انتہائی گھمبیر اور پریشان کن تھی جلاؤ گھیراؤ جاری تھا اور آوازیں سنائی دے رہی تھیں-

    مسافر گاڑیوں میں ڈرے سہمے بیٹھے تھے کیونکہ پیچھے کی جانب جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا کیونکہ شہر لاہور کی قسمت کہ زیادہ تر جلاو گھیراؤ یہی سے شروع ہوتا ہےیعنی ہمارے گلے میں وہ ہڈی پھنس چکی تھی جسے نا تو نگل سکتے تھےنا ہی اگلی رات 8 بجے موٹر وے پہ پہنچے تو موٹر وے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا جس سے کچھ تحفظ کا احساس ہوا-

    میں اپنی گاڑی سے نکل کر موٹر وے پولیس کی گاڑی کے پاس پہنچا جہاں وائرلیس سیٹ پہ ہوئی گفتگو سے صورتحال کا اندازہ ہو رہا تھا جس سے پریشانی بڑھتی ہی جا رہی تھی خیر اب تو سوائے صبر کے کچھ نا ہو سکتا تھارات تقریباً ایک بجے کے قریب پولیس وائرلیس سیٹ سے آواز سنی کہ 22 ونگ رینجرز از موونگ ٹورڈ بابو صابو انٹرچینج یعنی رینجر کی 22 ونگ صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے موٹر وے پہ پہنچ رہی ہے یہ الفاظ سن کے دل کو قرار آیا کہ چلو اب بات بنے گی-

    خیر صبح فجر سے کچھ دیر پہلے رینجرز نے کنٹرول کرکے موٹر وے پولیس کو منتقل کیا تو موٹر وے پولیس نے سفر کی اجازت دی ہم جب بابو صابو انٹرچینج پہ پہنچے تو کلیجہ منہ کو آ گیا مسافر گاڑیوں،بسوں کو آگ لگی ہوئی تھی اور گاڑیاں چیخ چیخ کہ بتا رہی تھیں کہ ان پہ خوب زور آزمائی ہوئی ہےموٹر وے پہ ایک جانب مظاہرین کا ساؤنڈ سسٹم بمعہ چنگچی رکشہ اور موٹر سائیکلیں بکھری ہوئی پڑی تھیں اور سڑک کے ایک جانب بہت سارے جوتے بھی جو کہ غالباً رینجرز کے پہنچنے پہ مظاہرین چھوڑ بھاگے تھے-

    ہم نے رک کر ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو پنجاب پولیس نے بڑی سختی سے آگے بڑھنے کو کہا گجرانوالہ،و چکری انٹر چینج پہ بھی جلتی گاڑیاں بتا رہی تھیں کہ ان پہ خوب غصہ نکلا ہے ہم نے برق رفتاری سے اپنا سفر جاری کیا اور مردان سے انٹرچینج لیا کیونکہ اس وقت سوات تک موٹر وے ابھی زیر تعمیر تھی-

    مردان شہر میں داخل ہوئے تو سارا شہر بند تھا مجبوراً گاڑی تخت بھائی شہر میں لے گئے جہاں تخت بھائی کے مین بازار کو بند کیا گیا تھا مجبوراً واپس مڑے اور تخت بھائی کے کھیتوں کھلیانوں سے سفر کرتے ہوئے مینگورہ ( سوات) شہر پہنچے اور ہلکی پھلکی کشیدگی کی بو پا کر گاڑی کالام کی جانب موڑ لی مگر زیادہ دیر ہونے کے باعث وادی بحرین میں قیام کیا صبح سویرے کالام کیلئے روانہ ہوئے کیونکہ
    سوات میں برف باری شروع ہو چکی تھی اور کالام کا ٹمپریچر منفی 3 تک گر چکا تھا –

    تقریباً 40 کلومیٹر کی چڑھائی والا سفر طے کرکے ہم کالام پہنچے اور ہوٹل لے کر کالام ہوٹل کے ٹیرس پہ باربی کیو شروع کیا تاکہ تھکاوٹ بھی دور ہو اور گرمائش بھی ملےمیں نے ساتھیوں سے کہ کہا کہ نماز عشاء پڑھ لوں اور پھر آکر کر کھانا کھاؤں گا میں ہوٹل سے نکل کر کالام میں واقع کئی دہائیوں سال پہلے بنی تاریخی لکڑی سے بنی مسجد میں میں نماز پڑھنے چلا گیا جہاں مولانا سمیع الحق کی شہادت کی اطلاع ملی-

    مولانا صاحب کی شہادت کی خبر سن کر آنکھیں نمک ناک ہوئیں اور مجھے 2016 میں اسلام آباد کے ایک جلسے میں ان سے ہاتھ ملانے کا منظر یاد آ گیامیں نے بڑے پیار سے مولانا صاحب کی جانب ہاتھ بڑھایا تو مولانا صاحب نے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیا تھا اور بلکل بھی احساس نا ہونے دیا کہ وہ ایک بہت بڑے عالم دین و سیاست دان ہیں-

    پورا صوبہ خیبرپختونخوا خاص کر مینگورہ سوات مکتبہ دیوبند کا گڑھ ہے سو مولانا سمیع الحق کی شہادت پہ یہ گمان ہوا کہ اب یہاں بھی حالات کشیدہ ہونگے مگر بفضل ربی کوئی واقعہ پیش نا آیا-

    مولانا کی شہادت پہ میں سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ ان کی شہادت سے قبل معروف سیاستدان و سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی وفات پہ پاکستان کا برا حال کیا گیا تھا اور اب کی بار اگر مولانا سمیع الحق کی جگہ کوئی معروف سیاستدان ہوتا تو یقیناً ان کی وفات پہ بہت بڑا ہنگامہ کھڑا کیا جاتا کیونکہ ہمارے ہاں یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ اپنے لیڈر کی ایک کال پہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی ہے اور اگر کوئی پارٹی کارکن حکم ربی سے طبعی موت بھی مر جائے تو اس پہ سیاست کرتے ہوئے ملک کے امن و امان کو برباد کرکے عوام کا نقصان کیا جاتا ہے –

    ماضی قریب و موجودہ ہنگاموں کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا ہے اور مذہبی منافرت نے کم مولانا سمیع الحق رحمتہ اللہ کی چوتھی برسی پہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے آمین-

  • دوسروں کو خریدوفروخت کا طعنہ دینے والے طارق جمیل، عمران خان بارے چپ کیوں؟

    دوسروں کو خریدوفروخت کا طعنہ دینے والے طارق جمیل، عمران خان بارے چپ کیوں؟

    گزشتہ دنوں ملک میں آڈیوز ٹیپ لیکس کی بھرمار رہی تھی اور آئے روز ہیکرز کی جانب سے نئی نئی آڈیوز لیک کی جارہی تھی انہی میں سے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بھی آڈیو ٹیپ جاری کی گئیں جس میں عمران خان کسی کو خریدنے کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں۔ اب اس بات کی صحیح تصدیق تو فرانزک اور تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلیں گی کہ آیا یہ اصلی ہیں یا نقلی لیکن میں نے مختلف سینئر صحافیوں اور سیاسی پنڈتوں سے اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ یہ جو عمران خان بارے آڈیوز آئی ہیں تقریبا اصلی ہی محسوس ہوتی ہیں۔

    بہرحال اس بحث کو فلحال ہم آنے والے وقت پر چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ اس کا فیصلہ اسی نے کرنا ہے لیکن یہاں پر مجھے خریدوفروخت بارے مولانا طارق جمیل کا وہ انٹرویو یاد آرہا ہے جو بول نیوز کے اینکر امیر عباس کو عیدلاالضحی کے موقع پر دیا گیا تھا جس میں غالبا پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل نے فرمایا تھا کہ "کس طرح انسانوں کو خریدا گیا اور ایک دھوکے سے حکومت بنائی گئی” صرف اتنا ہی نہیں حتکہ مولانا صاحب نے موجودہ حکمرانوں کو طعنہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ "کیا یہ اللہ اور اس کے نبی ص کے سامنے کھڑے ہوسکتے ہیں؟” اور پھر آپ ﷺ سے منسوب کرتے ہوئے کہا "کم بختو میں نے اولاد ذبح کروا دی مگر تم نے چند ٹکوں کی خاطر بائیس کروڑ عوام کو ذلیل و خوار کرکے رکھ دیا۔” معروف مذہبی اسکالر طارق جمیل نے اسی انٹرویو میں مزید یہ بھی کہا تھا کہ "پاکستان کی ماوں نے اچھے ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنس دان اور اسکالر پیدا کیئے ہیں لیکن ایسے سیاستدان پیدا نہیں کیئے جو کہیں کہ مجھے اپنے نبی ﷺ کے طریقہ پر یہ نظام چلانا ہے۔” دراصل اس آخری بات کا واضح اشارہ عمران خان کی طرف تھا کیونکہ انہوں نے ہی حکومت میں آنے سے قبل اور بعد میں ریاست مدینہ کا دعوی بلند کیئے رکھا تھا۔

    لیکن سوال اب یہ ہے کہ عمران خان کی ہارس ٹریڈنگ یا اراکین کی خریدوفروخت بارے آڈیوز آنے کے بعد کیا مولانا طارق جمیل انہیں اللہ، رسول ﷺ کے سامنے کھڑا ہونے اور خریدوفروخت جیسا گھناؤنا کام کرنے کا طعنہ دیں گے؟ جیسا کہ انہوں نے عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے نکالنے والی پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت پر خریدوفروخت کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا؟ لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے.

    لیکن جو کچھ وہ عمران خان بارے کررہے یا انہیں مسیحا بنانے کی کوشش کرتے رہتے اس کا اثر مولانا کے ماننے والوں پر ضرور پڑتا ہے اور یہ ایسے کہ میرے ایک بھائی تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک کٹر قسم کے مولوی ہیں جن سے بحث و مباحثہ ہوا. انہوں نے مجھے کہا آپ کو بطور مصنفہ عمران خان کے حق میں لکھنا چاہئے. میں نے وجہ پوچھی تو کہا کہ آپ اس حکومت کو جائز سمجھتی جو خریدوفروخت کرکے بنائی گئی؟ میں نے انہیں جواب دیا بھائی اول تو میں کسی حکومت کے بننے کے حق یا مخالفت میں نہیں اور دوئم بطور صحافی میرا کام حقیقت پر مبنی خبریا تبصرہ دینا ہے اور سوئم عدم اعتماد بارے ہمارے آئین میں واضح درج ہے لہذا آپ اسے پڑھنے کی زحمت کرلیں۔ لیکن انہوں نے میری بات مکمل سنے بغیر کہا پھر تو آپ حق و سچ کے ساتھ کے ساتھ نہیں (ان کا اشارہ عمران خان کی حمایت کرنے کی طرف تھا) انہیں جواب دیا کہ آپ بجائے مولانا فضل الرحمن یا کسی مذہبی جماعت کی حمایت کے بار بار عمران خان کی طرف داری کیوں کررہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ "مولانا طارق جمیل جو اس دور حاضر کا ولی ہے وہ عمران خان کی کھلے عام حمایت کررہا ہے یہی وجہ ہے کہ میں عمران خان کو ایماندار شخص سمجھتا ہوں کیونکہ انہیں ایک بہت بڑا عالم دین اس قوم کا مسیحا سمجھتا ہے، ان کے لئے دعائیں کرتا ہے۔ مولانا طارق جمیل کے پیروکار کے بقول "یہ میں نے مولانا صاحب کے منہ سے سنا کہ کوئی ایسا رہنماء نہیں گزرا جس نے ریاست مدینہ کی بات کی ہو ماسوائے عمران خان کے۔”

    قارئین اب آپ خود اندازہ لگائیں جو سادہ لوح عوام ان علماء یا مشہور شخصیات کے ہارڈ کور قسم کے فین ہوتے ہیں ان پر ان کی ہر ایک بات کس قدر اثر انداز ہوتی ہے لہذا مولانا طارق جمیل سے عاجزانہ التماس ہے کہ یا تو مکمل طور پر کھل کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوجائیں یا پھر سادہ مزاج لوگوں کے ذہن خراب یا انہیں گمراہ کرنا بند کردیں کیونکہ ان میں اتنی جرات تو ہے نہیں کہ لاپتہ افراد، جبری مذہب کی تبدیلی، مظلوموں کے بے گناہ قتل و غارت اور جنید حفیظ جیسے قیدیوں کے بارے کھل کر بات کریں یا مذمت کردیں لیکن انہیں عمران خان جو واقع ایک لیڈر ہے اور اس کے ماننے والے بھی لاکھوں میں ہیں لیکن جب وہ وزیر اعظم بنے تو ان کے دور کو میڈیا کیلئے آمر دور سے بھی برا کہا گیا صرف اتنا ہی نہیں مہنگائی آسمان کو چھونے لگی تھی اس وقت مولانا طارق جمیل کو تو خیال نہیں آیا کہ عمران خان کے دور میں اغوا ہونے والے صحافی مطیع اللہ جان، گولی لگنے والے سابق چیرمین پیمرا ابصار عالم اور نو ماہ تک بغیر کسی قانون کی خلاف ورزی کے سنسرشپ کا شکار رہنے والے حامد میر بارے مذمت ہی کردیتے لیکن اچانک تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد طارق جمیل صاحب کو مہنگائی بھی نظر آنے لگی تھی اور ووٹوں کی خریدوفروخت بارے اللہ کا عذاب بھی یاد آگیا۔ لہذا میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ چاہے عمران خان ہو، مولانا طارق جمیل یا پھر کوئی شخصیت ان کی اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے ہاں اگر ہم کسی کے کارناموں کے مداح ہوتے بھی تو ہم میں ان کے غلط کاموں پر تنقید کرنے اور سہنے کی جرات بھی ہونی چاہئے اور آج تک وطن عزیز کی ترقی میں یہی چیزیں حائل ہیں کہ جو جس کا پیروکار ہے وہ اسی کو ہی نعوذ باللہ ولی اللہ سمجھتا ہے جو کہ بہت بڑا المیہ ہے۔

  • مافیا راج ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    مافیا راج ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    مافیا راج ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    صوبہ سندھ بالخصوص روشنیوں کا شہر بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے موت کا شہر بن چکا ہے۔ حکومت پیپلزپارٹی اور اتحادی ایم کیو ایم کی۔ پنجاب کا ہر دوسرا شہر سہراب گوٹھ بن چکا ہے، حکومت ق لیگ اور پی ٹی آئی کی۔ اسلام آباد قبضہ مافیا اور ڈاکوئوں کی زد میں، حکومت پی ڈی ایم کی۔ اسی طرح کی صورتحال دوسرے صوبوں کی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ ملک اور قوم کی حفاظت کون کرے گا؟ کھوکھلے نعرے اور دعوے کرنے والے سیاستدانوں کو اس ملک کی سالمیت اور عوام کے مسائل نظر کیوں نہیں آتے؟ آج اسلام آباد اور راولپنڈی دوسرا کراچی بنتا جا رہا ہے لیکن کیا کہا جائے جب پولیس کے اعلیٰ افسران کے یارانےجرائم پیشہ اورمافیا سےہوں اورپشت پناہی سیاستدان کرتےہوں تو پھرملک وقوم کی حفاظت کون کرے گا؟ کراچی میں سیاستدانوں کو جگانے کے لئے اور کتنی لاشیں درکار ہیں؟ اسلام آباد کے شہریوں کو قبضہ مافیا اور ڈاکوئوں سے نجات دلوانے کے لئے اعلیٰ پولیس افسران کو کون سمجھائے گا؟ اسلام آباد پولیس کے دفاتروں میں قبضہ مافیا کا راج ہے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی اور آئی ایس آئی کے سربراہ کی تحصیل سہراب گوٹھ بن چکی راولپنڈی شہر منشیات فروشوں اور قبضہ مافیا کے نرغے میں ہے۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود پنجاب میں زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹیز کا دھندہ اپنے عروج پر ہے۔ سول انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیراعظم ہائوس ریاست کا دفتر ہے وہاں سے آڈیو لیک ہو رہی ہیں۔ کیا کوئی ادارہ ہے جو اس ریاست اور عوام کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار اداکرے؟ دنیا تبدیل ہو رہی ہے-

    تیز رفتار دنیا کی اس دوڑ میں ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ہم بے گناہ شہریوں کو بچانے، مصائب کے خاتمے، قدرتی آفات اور دیگر انسانی بحرانوں کے خاتمے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ قائد کے پاکستان اور اس بے گناہ عوام سے کیا غلطی ہو گئی جس کی یہ سزا بھگت رہے ہیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم جذبات اور احساسات کے قبرستان میں زندگی گزار رہے ہیں۔ حکمران اور سیاستدان اور ملک کی رولنگ ایلیٹ بے حس ہو چکی ہے۔ جمہوریت، قانون کی بالادستی، پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین کی حکمرانی، طاقت کا سرچشمہ عوام کا نعرہ لگانے والوں سے سوال ہے کہ کیا یہ طرز حکمرانی ہے؟ ایسے طرز حکمرانی کو مافیا راج تو کہا جا سکتا ہے جمہوری دور نہیں۔

  • جہاد و رباط      ازقلم: غنی محمود قصوری

    جہاد و رباط ازقلم: غنی محمود قصوری

    جہاد و رباط کے چور

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بسا اوقات انسان اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے چوری کرتا ہے چوری کرنا ہر مذہب میں گناہ ہے اور چوری کئی طرح کی ہوتی ہے
    آجکل جہاں جلد امیر ہونے کیلئے شارٹ کٹ طریقے سے چوری ڈکیتی کرکے مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کیا جاتا ہے وہاں مذہبی امور میں بھی چوری کرکے دکھلاوے کی کوشش کی جاتی ہےویسے تو مذہبی امور میں کئی طریقوں سے چوریاں کی جاتی ہیں مگر معروف چوری رقم کرنا چاہتا ہوں-

    تمام ارکان اسلام بڑی عزت و تکریم والے ہیں مگر جو عزت و تکریم جہاد و رباط کو ہے اس کی شان ہی الگ ہےاسی شان و شوکت جہاد کے باعث کفار نے بھی لفظ جہاد اور شہادت کا استعمال شروع کر دیا ہے تاکہ ان کے پیروکار بھی مسلمانوں کی طرح اس عمل کو محبوب ترین جان کر لڑیں اور دفاع مضبوط ہو-

    مثال ہمارے قریب میں واقع دنیا کے سب سے بڑے مشرک ہندو کی ہی لے لیجئے وہ اپنے فوجیوں کو شہید اور کشمیری مجاھدین کو ہلاک لکھتا و پکارتا ہےخیر وہ تو بے دین لوگ ہیں ان سے کیا گلہ شکوہ کرنا-

    بعض اپنے پڑھے لکھے باشعور مسلمان بھی اس چوری میں ملوث ہیں جہاد و رباط کی چوری بہت عام ہو چکی ہے جو کہ دراصل جہاد و رباط میں جان،مال دیئے بغیر دکھلاوے کی شان و شوکت لینے کی کوشش ہے-

    لفظ جہاد کے معنی کوشش کے ہیں یعنی وہ کوشش جو راہ خدا میں مظلومین کی مدد کے لئے کی جائے اور کفار کیساتھ لڑا جائےیہ عمل جہاد اتنا پیارا ہے کہ نبی کریم نے خود کرکے دکھلایا اور حکم دیا جہاد بارے حدیث ہے-

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا للہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں نکلے، اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو-

    (تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں، یا اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس منزل تک لوٹا دوں جہاں سے وہ گیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑ جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی سریہ (لشکر) کا جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کی سواری کا انتظام کر سکوں، نہ لوگوں کے پاس اتنی فراخی ہے کہ وہ ہر جہاد میں میرے ساتھ رہیں، اور نہ ہی انہیں یہ پسند ہے کہ میں چلا جاؤں، اور وہ نہ جا سکیں، پیچھے رہ جائیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں

    رباط کے معنی اسلامی سرحدات پہ پہرا دینا ہے اور یہ انتہائی افضل اور اہم ترین فریضہ ہے رباط بارے حدیث شریف ہے

    سیدنا سلمان الخیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں ایک دِن اور رات سرحدوں پر ڈٹے رہنا ایک ماہ کے قیام و صیام سے زیادہ افضل ہے،اگر کوئی حالت رِباط میں فوت ہو جائے تو وہ جو عمل زندگی میں کرتا تھا وہ اللہ کے ہاں قیامت تک جاری و ساری رہے گااور وہ فتنہ میں مبتلا کرنے والے سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے-

    دونوں احادیث نبویہ ملاحظہ فرمائیں اور دونوں کاموں کا اجرو ثواب ملاحظہ فرمائیں اور یہ بھی غور کریں کہ دونوں کام یا تو ایک مجاھد سر انجام دیتا ہے یا پھر فوجی اب اسی اجرو ثواب کو چرانے اور مجاھدین کی شان و شوکت کو چرانے کی خاطربعض لوگوں نے سیاست اور کھیلوں خاص کر کرکٹ میں جہاد کی آیات کا استعمال شروع کرکے لوگوں کو ورغلانا شروع کر دیا-

    جیسا کہ ایک معروف آیت نصر من اللہ و فتح قریب کو جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے کرکٹ و سیاست پہ فٹ کیا جاتا ہے اور اجرو ثواب چوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے

    اب بھلا بندہ ان لوگوں سے پوچھے بھئی ٹھیک ہے یہ کرکٹ تم کافروں کےخلاف بطور کھیل کھیلتےہو مگر کیا اس سے مظلوموں کو انصاف ملتا ہے۔کافروں کے ہاتھوں شہید ہونے والے لواحقیقن کو انصاف ملتا ہے ایسے ہی ہمارے جمہوری لوگ ہیں جو جہاد کی الف ب سے بھی واقف نہیں مگر دعوے اس جمہوریت سے جہاد کے کرتے ہیں کہ جو خود قرآن و حدیث کی رو سے کفریہ نظام ہے-

    ایسے لوگ ذہن نشین کر لیں جہاد و رباط اور مجاھدین کے لئے رب کی طرف سے نازل ہوئی آیات کو کرکٹ و جمہوریت پہ فٹ کرنا جہاد و رباط کی چوری ہے اور ان آیات کے نزول کے مقصد سے انکار ہے اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ کتے لڑانے والوں،کبوتر بازوں و دیگر کئی قبیح کھیلوں میں جہادی آیات کو بطور فتح استعمال کیا جاتا ہے-

    حالانکہ ایسے کاموں کی اسلام میں سخت ممانعت بھی ہے اللہ تعالی ہم کو جہاد و رباط جیسے عظیم فریضوں کی چوری سے محفوظ فرمائے آمین

  • نور الہی عرف دیوا  ،  ازقلم: غنی محمود قصوری

    نور الہی عرف دیوا ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    نور الہی عرف دیوا

    ازقلم غنی محمود قصوری

    پچھلے زمانے میں روشنی کیلئے چراغ ( اردو میں دیا،پنجابی میں دیوا کہتے ہیں) استعمال کیا جاتا تھا،جس پہ کئی مثالیں بنی ہوئی ہیں خاص کر ایک مثال بہت مشہور ہے کہ چراغ تلے اندھیرا، یعنی دوسروں کو روشنی دینا اور خود اس روشنی سے محروم رہنا-

    اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ بڑے بڑے دعوے کرنا اور ان دعووں سے خود بھی محروم رہنا اور دوسروں کو بھی محروم رکھنا یعنی لمبی لمبی چھوڑنا،خیر آپ کو ایک دیوے کی کہانی سناتا ہوں-

    کافی پرانی بات ہے کسی گاؤں میں ایک نور الہی نامی نوجوان رہتا تھا جو سارا دن بڑی لمبی لمبی چھوڑتا اور لوگوں کو نت نئے قصے سناتا تھا تاکہ اس کی واہ واہ اور بلے بلے ہو مگر لوگ تو سب جانتے تھے اور اس کی اسی عادت کے باعث لوگ اسے ،دیوا، کہنے لگے-

    جب بھی وہ بازار سے گزرتا لوگ اوئے دیوے،دیوا آیا جیسے جملے کسنا شروع کر دیتےنور الہی عرف دیوا اپنے بگڑے نام اور تضحیک پر سخت پریشان تھا اس نے سوچا کچھ عرصہ شہر رہا جائے تاکہ اس نام سے جان چھڑوائی جائے-

    نور الہی عرف دیوا شہر پہنچ گیا اور پریشانی کے عالم میں شہر کے میں چوک میں گھوم پھر رہا تھا تانگے گزر رہے تھے مگر نور الہی سارے شور شرابے سے بے فکر سڑک کے وسط میں چلا جا رہا تھا تانگے والے نے آواز دی کہ پیچھے ہٹ جاؤ گزرنے دو-

    نور الہی نے نا سنی تانگے والے نے پھر اسے آواز دی اس نے نا سنی تو پھر تانگے والے نے کہا ،اوئے دیوے پیچھے ہٹ جا اور گزرنے دے،یہ الفاظ نور الہی عرف دیوے کے کانوں میں دھماکہ بن کر لگےاس نے جھٹ سے تانگے والے کا گریبان پکڑا اور بولا سچ سچ بتا میرا نام تجھے کس نے بتا؟-

    تانگے والے نے کہا جناب مجھے نام کس نے بتانا ہے تمہاری حرکتیں ہی دکھائی دے رہی ہیں کہ تم دیوے ہی ہو،خیر نور الہی عرف دیوے کے ساتھ آگے جو ہوا اس کو چھوڑیں اور نور الہی کی جگہ پاکستانی سیاستدانوں کا تصور ذہن میں لائیں کہ کیا یہ سب بھی دیوے نہیں؟

    آئے روز نت نئے دعوے ،نت نئے نعرے مگر عمل زیرو ،چراغ تلے اندھیرا اور نور الہی عرف دیوے کی مثال ان پہ مکمل فٹ ہوتی ہے
    ہمارے یہ دیوے مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگا کر یہ دیوے آتے ہیں اور مہنگائی کا طوفان مچا کر جاتے ہیں-

    تعلیم کو عام کرنے کا نعرہ لگا کر آتے ہیں اور لوگوں کو تعلیم سے محروم کرکے چلے جاتے ہیں بجلی سستی کرنے کا شور ڈال کر آتے ہیں اور لوگوں کو بے علم کرکے جاتے ہیں ان دیوں کی کرتوتیں ہی ایسی ہیں کہ فوری پتہ چل جاتا ہے کہ یہ سارے دیوے ہی ہیں-

    ان کے بڑے بڑے نعرے مگر یہ خود بھی ان دعوؤں سے محروم ہیں آپ سیلاب زدہ علاقوں کو ہی دیکھ لیجئے فوری پتہ چلے گا کہ ان کی ساری باتیں چراغ تلے اندھیرا ہی تھا لوگ دو وقت کی روٹی کو ترستے رہے اور یہ دیوے لمبی لمبی چھوڑتے رہےاللہ ان سے ہمیں محفوظ رکھے آمین-