Baaghi TV

Tag: بلتستان

  • 2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    دنیا کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی اور وسیع ہو چکی ہے، اور یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔ جدید ہوائی جہاز نیو یارک سے سنگاپور یا لندن سے کیپ ٹاؤن تک محض چند گھنٹوں میں لوگوں کو پہنچا سکتے ہیں، جبکہ پہلے یہ سفر کئی ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہوتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر ایسا لگتا ہے کہ آپ کے تمام دوست اور جاننے والے کسی نہ کسی عجیب و غریب مقام پر تعطیلات گزار رہے ہیں۔ تو پھر ہم کس جگہ کا انتخاب کریں؟سی این این ٹریول کا ماننا ہے کہ ہر جگہ کا اپنا جواز ہے جو اسے دیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ تاہم، ان کے عملے نے 2025 میں سفر کے لیے ان 25 مقامات کی فہرست تیار کی ہے جو خاص طور پر ملاحظہ کرنے کے قابل ہیں۔ان 25 مقامات میں سے پاکستان کا علاقہ گلگت بھی شامل ہے جسے 2025 کے خوبصورت ترین مقامات میں 9ویں نمبر پر رکھا گیا ہے

    1970 کی دہائی میں پاکستان ایک ایڈونچر ٹریول ہاٹ سپاٹ تھا، اس کی بلند و بالا پہاڑی مناظر "ہپی ٹریل” کے راستے پر یورپ سے جنوبی ایشیا جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم اسٹاپ تھے۔ لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ دن چلے گئے۔ پھر بھی، ان بلند پہاڑوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔گلگت بلتستان کا علاقہ جو قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع ہے، وہاں تک پہنچنا آسان نہیں ہے — پروازوں کے شیڈول غیر متوقع ہو سکتے ہیں، سڑکیں موسم کی بنا پر بند ہو سکتی ہیں — لیکن اس علاقے میں ایسے بلند پہاڑ ہیں جو کسی بھی مٹھائی سے زیادہ لذیذ اور دلکش ہیں۔

    oplus_2

    یہاں دنیا کے 14 "آٹھ ہزاربلند” پہاڑوں میں سے پانچ پہاڑ واقع ہیں، جن میں کے 2 شامل ہے، جو دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے، مگر دشواری اور خطرے کے اعتبار سے اسے پہلی پوزیشن حاصل ہے۔

    سیاحت اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے، اس علاقے میں ہائیکنگ اتنی آسان نہیں ہے کہ آپ اسے ہمالیہ کے مشابہ سمجھیں، جہاں ایک ہلکا سا سفر ممکن ہو۔ اس علاقے میں ٹریکنگ کرنا ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ تجربہ ہو سکتا ہے، اور اس لیے یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جہاں آپ اکیلے سفر کریں۔

    گلگت بلتستان میں موجود قدرتی مناظر اور بلند پہاڑ سیاحوں کے لیے ایک خواب کی مانند ہیں۔ یہاں کی ٹریکنگ، برف پوش پہاڑ، اور گلیشیئرز دنیا کے سب سے دشوار گزار لیکن خوبصورت سفر کا حصہ ہیں۔ آپ اگر اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو اس میں بہترین ٹور آپریٹرز کی مدد سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے، تاکہ آپ اس کے قدرتی حسن اور چیلنجز کو بھرپور طریقے سے محسوس کر سکیں۔

    پاکستان کے ان پہاڑی علاقوں کی خوبصورتی اب بھی غیر دریافت شدہ اور کم معلوم ہے، اور یہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین منزل ہے جو خود کو قدرتی مناظر اور انتہائی چیلنجنگ ہائیکنگ کے تجربے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

  • گلگت بلتستان کا یوم آزادی،عام تعطیل،چنارباغ میں تقریب

    گلگت بلتستان کا یوم آزادی،عام تعطیل،چنارباغ میں تقریب

    گلگت بلتستان کا 77 واں جشن آزادی آج قومی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے، یوم آزادی کے موقع پر پر آج گلگت بلتستان میں عام تعطیل ہے

    گلگت بلتستان میں جشن آزادی کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، مرکزی تقریب یادگار شہدائے چنارباغ میں ہوئی جس میں گورنر گلگت بلتستان، وزیر اعلیٰ بلتستان اور فورس کمانڈر گلگت بلتستان نے پرچم کشائی کی، پولیس کے چاک وچوبند دستے نے سلامی دی،آرمی ہیلی پیڈ میں بھی جشن آزادی کی خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔

    وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو گلگت بلتستان کا یوم آزادی کی مبارکباد دیتا ہوں.ہمارے آباؤ اجداد نے رنگ نسل سے بالا تر ہو کر ایک قوم کا ثبوت دیا. گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے.یکم نومبر1947 کو گلگت اور دیگر علاقے آزاد ہوئے.گلگت بلتستان کے لوگ محب وطن اور جفا کش ہیں.آج ہم اپنے شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں.آج ہم گلگت بلتستان کو عظیم سے عظیم بنانے کا عزم کریں.آج غازیان آزادی نے شریک ہو کر تقریب کو رونق بخشی،

    یکم نومبر 1947ء وہ دن جب گلگت بلتستان کو ڈوگرا راج سے آزادی ملی، گلگت بلتستان کے عوام کی جدوجہد کا مقصد پاکستان کے ساتھ الحاق تھا، گلگت اسکاؤٹس اور مقامی جانبازوں نے ڈوگرا راج کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مہاراجہ کے کنٹرول کا خاتمہ کر دیا،ڈوگرا راج کے خاتمے کے بعد گلگت کی فضاؤں میں پہلی بار پاکستانی پرچم لہرایا گیا، 1948ء میں ایک سال کی جدوجہد کے بعد بلتستان کو ہندوستان کے تسلط سے بھی آزاد کرا لیا گیا، گلگت بلتستان سیاحتی، معاشی اور ثقافتی اعتبار سے بھی اہم مقام ہے

    1947 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانوں کی خواہشات کے برعکس گلگت بلتستان کو ہندوستان سے ملانے کا اعلان کیا۔ گلگت بلتستان کے عوام نے مہاراجہ کے خلاف عَلَمِ بغاوت بلند کیا،گلگت سکاؤٹ اور نوجوانوں نے ڈوگرہ کمانڈر گھنسارا سنگھ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ گلگت سکاؤٹ اور غیور عوام نے گلگت، ہنزہ اور نگر میں سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا،گلگت کی عوام نے پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کا اعلان کیا اور بلتستان کے عوام نے بھی ڈوگرہ راج کے خلاف عَلَمِ بغاوت کی،گلگت سکاؤٹ اور نوجوانوں نے 72 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ آزاد کروا کے پاکستان سے ملایا۔ یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان نے اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کیا،

    یکم نومبر کو گلگت بلتستان کا ڈوگرا راج سے آزادی کے موقعے پر ایک خوبصورت ملی نغمہ ریلیز کیا گیا ہے،ملی نغمہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مقامی گلوکاروں ذیشان حمزہ ، اور ہاشمی کی آواز میں ہے،ملی نغمہ نہ صرف گلگت بلتستان کی دلکش قدرتی مناظر کو پیش کرتا ہے بلکہ وہاں کے لوگوں کی بہادری ، ثقافت اور روایات کو بھی اجاگر کرتا ہے،یہ ملی نغمہ اپنی دھنوں کے ذریعے ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کس طرح اس خطے کے لوگوں نے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ڈوگرہ راج کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا،یکم نومبر 1947 کو شروع ہونے والی اس عظیم جدوجہد کا مقصد پاکستان کے ساتھ الحاق تھا۔ 14 اگست 1948 کو ڈوگرہ راج کے خاتمے کے بعد ، گلگت کی فضاؤں میں پہلی بار پاکستانی پرچم لہرایا گیا،بے کار کبھی نہ جائے گی ، اجداد کی جو قربانی ہے ، رکھتے ہیں شہادت کا جزبہ ، یہ عشق ہماری دولت ہے،نغمہ کے یہ بول وطن سے محبت کے جزبہ کی عکاسی کرتے ہیں جو گلگت بلتستان کے لوگوں کے خون میں شامل ہے،یہ ملی نغمہ اتحاد ، محبت ، اور امن کا پیغام دیتا ہے ، جو کہ جی بی کے لوگوں کی روح کا حصہ ہے،آئیے اس خوبصورت لمحے کا حصہ بنیں اور اس نغمے کے ذریعے گلگت بلتستان کے غیور عوام کی آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو سراہیں۔

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • گلگت بلتستان میں ٹیکسز   نہیں، آج کل بھی گندم 20روپے کلو  ہے، وفاقی سیکرٹری

    گلگت بلتستان میں ٹیکسز نہیں، آج کل بھی گندم 20روپے کلو ہے، وفاقی سیکرٹری

    اسلام آباد(محمداویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان کا اجلاس چیئرمین کمیٹی پروفیسر ساجد میر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی اجلاس میں وزات امور کشمیر وگلگت بلتستان کے کام کے طریقہ کار کارکردگی کے امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے اراکین کمیٹی نے وفاقی وزیر برائے امور و کشمیر کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سا بقہ قائمہ کمیٹی برائے امور و کشمیر نے اپنے 28فروری کو منعقدہ اجلاس میں متعلقہ وفاقی وزیر کی عدم شرکت اور وزارت کے اعلیٰ حکام کے غیر سنجیدہ رویے پر برہمی کا اظہار کیا تھا قومی فنکشن کا بہانا بنا کر کمیٹی اجلاس کی تاریخ کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جاتی تھی اور قائمہ کمیٹی کے آزاد جموں کشمیر کے دورے کے حوالے سے بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا تھا ۔جس پر سیکرٹری امور کشمیر نے کہا کہ میں نے چند دن پہلے ہی چارج لیا ہے اور پہلے کے رویے کی معذرت چاہتا ہوں آئندہ ان امور کا خیال رکھا جائے گا آج بھی چار میٹنگز تھی لیکن پھر بھی ہم حاضر ہوئے ہیں ۔

    سیکرٹری وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ یہ وزارت چھوٹی سی ہے اور اس کے نیچے پانچ ادارے کام کررہے ہیں وزارت امور کشمیر کا بجٹ 1388.77ملین روپے ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس سال وزارت امور کشمیر کا پی ایس ڈی پی میں کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں ہے ۔وزارت امور کشمیر کا بنیادی کام گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کےلئے پالیسی اور پلاننگ کی تشکیل ہے گلگت بلتستان کےلئے فنڈز وفاق سے گرانٹ کی صورت میں ملتے ہیں ۔ پی ایس ڈی پی کےلئے سو فیصد پیسہ وفاق دیتا ہے اے ڈی پی کا بڑا حصہ بھی وفاقی حکومت کا ہے ۔ اس لئے وزارت کمیٹی کی رہنمائی بھی درکار ہے کہ مانیٹرنگ کا اختیار وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان کے پاس ہونا چاہیے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کا اپنا کوئی آمدن کا ذریعہ نہیں ہے گلگت بلتستان میں ٹیکسز بھی نہیں ہیں آج کل بھی گندم 20روپے کلو ملتی ہے۔ گلگت بلتستان کونسل اور آزاد کشمیر کونسل کا مقصد وفاق اور دونوں علاقوں میں روابط بڑھانا ہے گلگت بلتستان کے لوگوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے این ایف سی کے تحت 240ارب کا حصہ مانگتے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو آزاد کشمیر کونسل اور گلگت بلتستان کے فنکشنز بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔ سینیٹر ندیم بھٹونے کہا کہ دنیا میں سیاحت کے شعبے سے بہت سی آمدن ہوتی ہے پاکستان کو قدرتی مناظر کی دولت سے مالا مال ہے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔سیاحت سے متعلق ایک الگ اجلاس ہونا چاہیے۔

    چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر ساجد میر نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے غیر قانونی تسلط اور ظلم جاری رکھنے کےلئے بہت زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اس کو گلگت بلتستان کے لوگ دیکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کی دلجوئی کےلئے بجٹ میں زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے اگر ایسا نہ کیا تو وہ بھارتی زیر قبضہ کشمیر کا موازنہ کرتے ہیں، سیکرٹر ی وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کونسلز لیجسلیٹو ادارے ہیں وزیراعظم دونوں کونسلز کے سربراہ ہیں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں قوانین کے نفاذ,فورسز کی تعیناتی اور ہنگامی صورتحال کے اعلان کیلئے وزارت کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ کشمیر ایشو کو کمیٹی اپنے اختیار سے باہر نہیں سمجھتی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومتوں کا وجود ضروری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں منصوبوں کو فائنل کرتی ہیں۔گلگت بلتستان میں سیاحت سمیت معدنیات میں بھی وسیع مواقع ہیں۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان میں وزارت کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے صرف تعاون کرتے ہیں قائمہ کمیٹی نے گلگت بلتستان کے ڈویلپمنٹ کے صوبوں کا علیحدہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اراکین کمیٹی نے کہا کہ گلگت بلتستان کےلئے کتنا بجیٹ طلب کیا تھا اور کتنا فراہم کیا گیا ہے ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آزاد جمعوں کشمیر کونسل کے تمام ممبران منتخب ہو چکے ہیں اگر ان ممبران میں سے بھی کچھ ممبران کو کمیٹی اجلاس میں دعوت دی جائے تو ان کے علاقوں کے مسائل موثر طور پر اجاگر ہونگے کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی کل آبادی 17لاکھ کے قریب ہے جن کےلئے حکومت ان کو 140ارب روپے کا فنڈ دیتی ہے جب کہ آزاد جموں کشمیر کی کل آبادی 42لاکھ ہے ۔سینیٹر حامد خان نے کہا کہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ نہیں ہے اس کو آزاد کشمیر سے الگ کرنے کی ضرورت ہے تاریخی طور پر اس علاقے کو برطانوی حکومت نے 1935میں لیز پر 50سال کےلئے دیا تھا مہاتماگاندھی نے مہاراجہ کو 1947میں لیز کینسل کرنے پر قائل کیا ۔ہمارے بہترین مفاد میں ہے کہ اس کو پانچویں صوبے کا درجہ دیا جائے پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کیلئے بھی یہ بہتر ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ قومی ایشو ہے اس کو توجہ کی ضرورت ہے ۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز ندیم احمد بھٹو ،دوست محمد خان ، فلک نازاور حامد خان کے علاوہ وزیر اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان سیکرٹری امور کشمیر و دگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

  • گلگت بلتستان:کھرفق پرائمری سکول:مفت تعلیم کےباوجود بچوں سےزبردستی ماہانہ100روپےفیس ہتھیانےکاسلسلہ

    گلگت بلتستان:کھرفق پرائمری سکول:مفت تعلیم کےباوجود بچوں سےزبردستی ماہانہ100روپےفیس ہتھیانےکاسلسلہ

    گلگت بلتستان :کھرفق پرائمری سکول:مفت تعلیم کےباوجود بچوں سے زبردستی ہرمہینے100روپے فیس ہتھیانے کا سلسلہ جاری ہے جہاں ایک طرف پاکستان میں مفت تعلیم کے سرکاری سطح پردعوے کیے جاتے ہیں،مگروہاں بعض سکولوں میں بچوں سے زبردستی ماہانہ 100 روپے فیس کے نام سے بٹورے جارہے ہیں مگرحکام کو اس کی پرواہ تک نہیں ہے ، ایسا ہی ایک پرائمری سکول گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کے گاوں کھرفق ہے جہاں بچوں سے ہر ماہ فیس کی مد میں 100 روپے لیا جاتا ہے

    باغی ٹی وی کو گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کے کھرفق گاوں سے ملنے والی مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہاں ایک پرائمری اسکول ہے جہاں مقامی بچے زیرتعلیم ہیں اوریہاں کا عملہ حکومت کی طرف سے مفت تعلیم کے باوجود بچوں سے فیس کے نام سے ہرمہینے 100 روپے ہتھیا رہا ہے ، دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سکول میں تعینات عملے کی طرف سے بچوں کے والدین کودھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے اوراس قسم کے تاثرات پیش کیے جاتے ہیں کہ جن سے ثابت کیا جاسکے کہ یہ 100 روپے حکومت کی طرف سے وصول کرنے کا حکم ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ضلع گانچھے کا کھرفق گاوں اورگردونواح میں انتہائی غریب اورمفلوک الحال خاندان مقیم ہیں‌ جن کے لیے اپنے بچوں کوہرمہینے 100 روپے فیس کی ادائیگی بہت مشکل ہوجاتی ہے ،لیکن والدین کی مجبوری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے ہر مہینے 100 روپے فیس کی مد میں جمع کرواتے ہیں

    اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ کیا واقعی بچوں سے ہر مہینے وہاں کے اساتذہ 100 روپے فیس کی مد میں لیتے ہیں تو مقامی لوگوں‌ نے اس بات کی تصدیق وتائید کی اوراس خبرکو درست قرار دیا کہ واقعی بچوں سے 100 روپے زبردستی وصول کیا جاتاہے

    مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں میٹرک تک تعلیم مفت ہے ،ایسے ہی گلگت بلتستان میں بھی میٹرک تک تعلیم مفت ہے مگرپھر ہمارے بچوں سے کس بات کے ہر مہینے فیس کی مد میں سو روپے لیے جاتے ہیں ،مقامی آبادی نے باغی ٹی وی کے توسط سے حکام سے اپیل کی ہے کہ اس واقعہ کی انکوائری کی جائے اور اس واقعہ میں ملوث عملے کے خلاف کارروائی کی جائے

    کھرفق گاوں اورارد گرد کے دیہات کے باسیوں نے اس سلسلے میں‌ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اوروزیرتعلیم گلگت بلتستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعہ کا نوٹس لیں اور مقامی بچوں کو ان کامفت تعلیم حاصل کرنے کا حق واپس کریں تاکہ والدین اپنے بچوں کو بغیرفکروفاقہ تعلیم دلواسکیں

  • سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے وزیر اعلی خالد خورشید کی پریس کانفرنس پرردعمل دےدیا

    سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے وزیر اعلی خالد خورشید کی پریس کانفرنس پرردعمل دےدیا

    اسلام آباد:سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے سلیکٹیڈ وزیر اعلی خالد خورشید کی پریس کانفرنس کا رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹیڈوزیر اعلی گلگت بلتستان کی پریس کانفرنس جھوٹ کے پلندے کے سوا کچھ نہپں وزیر اعلی کے اپنی کابینہ کے ممبران اس کے ساتھ پریس کانفرنس میں بیٹھنے کے لئے تپار نہیں اور دو وفاقی جھوٹوں مراد سعید اور علی امین گنڈا پور کے ساتھ بیٹھ کر جھوٹ بولے گئے وزیر اعلی کا منصب ایک زمہ دارمنصب ہے اس کا تقاضہ ہے کہ عوام کو حقائق پہنچآئیں جائیں نہ کہ عوام تک باجماعت جھوٹ کا پرچار کیا

    سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ وزیر اعلی خالد خورشید نے سراسر سفید جھوٹ بولا کہ گلگت بلتستان کا پچاس فیصد ترقیاتی بجٹ کاٹا گیا ہے وزیر اعلی کا یہ جھوٹ بھی عمران نیازی کے جھوٹ سیرئز کی طرح ایک سیریئز ہے حقیقت تو یہ ہے کہ جو بجٹ عمران خان کے دور میں گلگت بلتستان کو مل رہا تھا وہی بجٹ اب بھی مل رہا ہے سلیکٹیڈ وزیر اعلی خالد خورشید ہمت کریں اور عوام کو سچ بتائیں کہ گلگت بلتستان کے بجٹ میں کٹوتی عمران خان دور میں ہوئی گلگت بلتستان کے پی ایس ڈی پی منصوبوں کو عمران خان کے دور حکومت میں التوا میں ڈالا گیا میاں نواز شریف نے گلگت بلتستان کے سات ارب کے ترقیاتی بجٹ کو اکیس ارب تک پہنچایا تھا عمران خان نے بر سر اقتدار آتے ہیں اس بجٹ کو کاٹ کر چورہ ارب کر دیا میاں نواز شریف کے دور میں گلگت شںدور ایکسپریس وے کا منصوبہ ستائیس ارب کا تھا اسے پی ایس ڈی پی سے خارج کیا گیا دو سال کے بعد اب وہی ستائس ارب کا منصوبہ اکیاون ارب تک پہنچایا گیاہینزل پاور پراجیکٹ کا منصوبہ ہمارے دور میں ساڈھے نو ارب کا ٹینڈر ہوا تھا گنڈا پور نے اسے روک کر اب چودہ ارب کا ٹینڈر کر دیا ہمارے دور میں اگر سات ارب کے بجٹ کو اکیس ارب تک پہنچایا گیا تو اس کی وجہ بجٹ کا سو فیصد استعمال تھا بجٹ کے صحیح استعمال پر میاں نواز شریف نے پہلے تیرہ ارب کیا پھر اکیس ارب تک پہنچا دیا پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت جب ختم ہوئی تو اکیس ارب بجٹ تھا جیسے ہی عمران خان کی حکومت آئی اسے چودہ ارب کر دیا اب کس منہ سے بجٹ کٹوتی کا الزام موجودہ وفاقی حکومت پر لگا رہے ہیں

    حافظ حفیظ الرحمن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اتنی نا اہل ہے کہ اسے بجٹ کے استعمال کا ادراک ہی نہیں اور سات ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ واپس ہو چکا ہے بجٹ تو انہیں ملتا ہے جنہیں عوام پر خرچ کرنے کا طریقہ معلوم ہو اور ان کی ترجیع عوام ہو نہ کہ کواڈینٹروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج رکھنے وفاق کے خلاف مہم جوئی کے لئے کروڑوں خرچ کرنے اور پی ٹی آئی کے وفاقی وزرا کو گلگت بلتستان کی سیر کرانے کے لئے خرچ کرتے ہوں اور مبینہ طور پر بنی گالہ کے لئے کروڑوں کا آٹا اور بکرے خرید کر پہنچانے کی زمہ داری ہو۔حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ سلیکٹیڈوزیر اعلی خالد خورشیدپریس کانفرنس کر کے سفید جھوٹ بولنے سے پہلے ان سوالوں کا جواب بھی عوام کو دیں کہ آپ کے دور میں حکومتی اخراجات کے لئے گیارہ ارب روپے مختص تھے وہ کہاں خرچ کئے جبکہ ہمارے دور میں صرف تین ارب روپے تھے انہیں بھی ہم نے بچا کر ویسٹ منیجمنٹ 1122 جیسے ادارے اور اضلاع بنائے آپ نے کیا بنایا سوائے کواڈینٹروں کی فوج بھرتی کرنے کے؟ہم نے بجٹ کا پورا استعمال کیا تو ہمارا بجٹ سات ارب سے اکیس ارب تک پہنچ چکا تھا آپ کے بجٹ سے سات ارب کیوں واپس ہوئے کیا یہ آپ کی نا اہلی نہیں آپ کو کیسے ادراک ہو کہ گلگت بلتستان کے مسائل کیا ہے دو سال میں بارہ مہینے تو آپ اسلام آباد اور دبئی میں رہے گلگت بلتستان دورے پر آتے رہے جس اسمبلی کے آپ قائد ایوان ہیں اس اسمبلی کی بے توقیری کا یہ عالم ہے کہ رول آف بزنس میں اسمبلی کارروائی کےلئے جتنے دن مختص ہیں اس کا ایک فیصد وقت بھی اسمبلی کی کارروائی نہیں ہوئی کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہوئی اس کے باوجود تیس کروڑ روپے کا بجٹ اسمبلی اخراجات کی مد میں پھونک دیئے جس اسمبلی کی کارروائی آپ کا اپوزیشں کا سامنا نہ کرنے کی وجہ سے چل نہیں رہی تو سوال بنتا ہے کہ اسمبلی کے نام پر تیس کروڑ کہاں خرچ ہوئے وفاق پر الزام لگانے اور تحریک انصاف کے وفاقی جھوٹوں کے ساتھ پریس کانفرنس کے نام پر جھوٹ کی منڈی سجانے سے قبل ان سوالوں کے جواب دیں

    حافظ حفیظ الرحمن نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں گزشتہ دو سال سے ایفاد جیسے عوامی فلاح کےمنصوبے جس کی مدد سے ہم نے دو لاکھ کنال زمین آباد کر کے عوام کو دی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے کیا یہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ؟ اس کا جواب کون دے گا انہوں نے کہا کہ سلیکٹیڈوزیر اعلی خالد خورشید نے کتنا بڑا جھوٹ بولا کہ 2005سے اب تک گلگت بلتستان میں پولیس میں بھرتیاں نہیں ہوئیں عجیب بات ہے کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں سپیشل پولیس یونٹ کے نام سے سات سو بھرتیاں کیں اور پانچ سال میں مجموعی طور پر دو ہزار کے قریب پولیس میں بھر تیاں ہوئیں وہ انہیں کیوں نظر نہ آئیں اتنے بڑے جھوٹ بولنے سے قبل انہیں سوچنا چاہئے کہ رسوائی ہوگی لیکن افسوس کہ تحریک انصاف کے وفاقی رہنماوں کی طرح انہیں بھی منہ کی بواسیر کا عارضہ لاحق ہے ورنہ سوچ سمجھ کر بات کرتے۔

  • گلگت بلتستان سی پیک کا دروازہ:وفاق کی طرف سےبجٹ میں50فیصدکٹوتی کی گئی:وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید

    گلگت بلتستان سی پیک کا دروازہ:وفاق کی طرف سےبجٹ میں50فیصدکٹوتی کی گئی:وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید

    اسلام آباد:وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا دروازہ ہے، ٹیکس فری زون ہونے کے باوجود واپڈا سے ایک میگاواٹ بجلی بھی نہیں مل رہی، بجٹ میں بھی 50 فیصد کٹوتی کی گئی، موجودہ حکومت نے ترقی کا سفر روک دیا ہے۔

    ہم بتاتے ہیں کہ رانا شمیم کیا چیز ہےاوراس کے کارہائے نمایاں کیا ہیں:گلگت بلتستان…

    اسلام آباد میں سابق وفاقی وزرا مراد سعید اور علی امین گنڈاپور کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے خالد خورشید نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے گلگت بلتستان کو ترقیاتی پیکج دیا تھا، اس سال ہمارا 45 فیصد ترقیاتی بجٹ بڑھنا تھا، وفاقی حکومت نے ہمارا بجٹ آدھا کر دیا، نواز شریف کی حکومت میں دو بلین کا خصوصی فنڈ دیا گیا تھا، عمران خان نے گلگت بلتستان کے 4 سو ارب کا خصوصی پیکج اناؤنس کیا تھا۔

     

    ہماری حکومت کا بجٹ کئی طرح سے بہت بہتر ہے: وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ اس سال 4 بڑے منصوبوں کو منظوری کے باوجود وفاقی بجٹ میں نہیں رکھا گیا، گلگت بلتستان اپنا کوئی ٹیکس نہیں لگاتا، صرف وفاق سے ملنے والی رقم سے نظام چلاتا ہے، گلگت بلتستان میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سکردو میں دو گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے، فنڈز کی دستیابی کی وجہ سے ہم لوگ سوشل سکیورٹی کی جانب جا رہے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ بجٹ میں جان بوجھ کر جی بی کا بجٹ 23 بلین لیکر آئے ہیں، اس سال کم از کم جی بی کیلئے 50 بلین روپے رکھے جانے تھے، گلگت بلتستان کے ترقیاتی بجٹ میں 50 فیصد کٹوتی کی گئی ہے، پورے ملک میں بجلی دی جارہی ہے لیکن گلگت بلتستان کو بجلی نہیں دی جارہی، گلگت بلتستان ٹیکس فری زون ہے، واپڈا سے ایک میگاواٹ بجلی نہیں مل رہی، جس پانی سے بجلی بنائی جاتی ہے اس کی اکثریت گلگت بلتستان سے آتی ہے، عمران خان نے جی بی کو انٹرنیشنل ایئرپورٹ دیا، پہلے سال میں عمران خان نے ہمیں 200 میگاواٹ بجلی دی تھی، سابق وزیراعظم نے ہمارے لیے آئینی حقوق کے دروازے کھولے تھے، اب ہمارا ملک دشمنوں کی نذر ہوگیا، سازش کے تحت حکومت گرائی گئی، ترقیاتی منصوبے گلگت بلتستان کا حق ہے، امپورٹڈ حکومت ایک مشن پر آئی ہوئی ہے، امپورٹڈ حکومت چھوٹے یونٹس کو تباہ کر رہی ہے۔

    مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں،وزیر خزانہ

    سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کے آنے کے بعد ملک میں مہنگائی آگئی ہے، امپورٹڈ وزیر خزانہ کہتا ہے پٹرول اور بجلی کی قیمتیں مزید بڑھیں گی، عمران خان کی معاشی پالیسیوں کی دنیا نے تعریف کی، 45 دن میں انہوں نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے ملک میں مہنگائی کی لہر ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے، لیکن سی پیک کا دروازہ گلگت بلتستان ہے، انہوں نے جی بی اور ضم شدہ اضلاع کا بجٹ کم کر دیا، موجودہ حکومت نے ترقی کا سفر روک دیا ہے، جی بی کا بجٹ اتنا رکھا جتنا شہباز شریف کے چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں آرہے تھے، پی ڈی ایم امریکی سازش کے تحت حکومت میں آئی ہے، گلگت بلتستان کو مقصود چپڑاسی سے بھی کم پیسے دیئے جا رہے ہیں، امپورٹڈ حکومت خطرناک راستے پر ہے، یہ مودی کی سوچ اور وژن کی تکمیل کیلئے آئے ہیں۔

    سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کو ان کا حق دلوائیں گے، موجودہ حکومت کے اقدامات سے گلگت بلتستان کے عوام خوش نہیں، گلگت بلتستان کو اس کا حق نہ دیا گیا تو سخت اقدام اٹھائیں گے، ماضی میں کسی نے جی بی کی محرومیوں کے ازالے کیلئے کام نہیں کیا، عمران خان نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بغیر کسی کٹ کے بجٹ کا اعلان کیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے خود لڑائی کر کے آزادی حاصل کی، لوگوں کی پاکستان کیلئے بہت قربانیاں ہے، ہمیں فخر ہے ہمارا لیڈر عمران خان ہے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا فنڈ ہم نے بڑھایا، بجٹ میں کم رقم کی وجہ سے گلگت کے جاری منصوبے مکمل نہیں ہوسکتے، اس سب سے صرف مودی خوش ہوا ہے جو ہمارا دشمن ہے، ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کیساتھ کھڑے ہیں، سیاستدان الیکشن کا سوچتا ہے اور لیڈر قوم کا، عمران خان نے گلگت اور کشمیر میں ن لیگ کی حکومت کے باوجود بجٹ بڑھایا، اس زیادتی سے گلگت کے عوام خوش نہیں۔

  • گلگت بلتستان پی ٹی آئی اختلافات:عمران خان نے سب کوپشاورطلب کرلیا

    گلگت بلتستان پی ٹی آئی اختلافات:عمران خان نے سب کوپشاورطلب کرلیا

    پشاور:گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی حکومت میں شدید اختلافات، پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب،اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی حکومت کے اندر اختلافات سامنے آنے پر سابق وزیراعظم کی جانب سے پی ٹی آئی گلگت بلتستان کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج پشاور میں طلب کر لیا گیا ہے۔

    وفاق میں عدم اعتماد اور آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کے بعد گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی حکومت تقسیم کا شکار ہوگئی ہے۔پی ڈی ایم جماعتوں کے ممکنہ عدم اعتماد کے خلاف حکمت عملی اور پارٹی اختلافات ختم کرنے کیلئے چئیرمین تحریک انصاف عمران خان متحرک ہوگئے ہیں۔

    گلگت بلتستان کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج پشاور میں طلب کرلیا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی زیر صدارت اجلاس میں ناراض وزراء اور ممبران شرکت کریں گے۔ناراض اراکین کے مطابق عمران خان کو تمام تر تحفظات سے کو آگاہ کرینگے. ناراض وزراء اور ممبران نے کچھ روز قبل پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل اسد عمر کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔

    یاد رہے کہ پرسوں صوبائی صدر تحریک انصاف گلگت بلتستان وزیر اعلیٰ خالد خورشید چیئرمین عمران خان کی کال پر حقیقی آزادی مارچ میں شرکت کے بعد گلگت بلتستان پہنچ گئےتھے۔مختلف مقامات پر پی ٹی آئی ذمہ داران و کارکنان بالخصوص انصاف یوتھ کی جانب سے ان کا والہانہ و پرتپاک استقبال کیا گیا ۔چیئرمین عمران خان، پی ٹی آئی اور صوبائی صدر کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کئے گئے۔

    وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں مختصر خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ خالد خورشید نے کہا کہ جماعت کے تمام ذمہ داروں اور کارکنوں کو اکٹھا کرکے باہمی اتفاق اور نظم و ضبط کے ساتھ پی ٹی آئی کو گلگت بلتستان کی مضبوط ترین سیاسی قوت بنائیں گے۔ انہوں نے والہانہ استقبال پر تمام ذمہ داران و کارکنان اور یوتھ کا شکریہ ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ رایئونڈ کے ڈوگروں نے گلگت بلتستان کا بجٹ کاٹا ہے گندم کی سبسڈی میں کٹوتی کی ہے اگر اس کو واپس نہ لیا گیا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو گلگت بلتستان کے کونے کونے میں ہر سطح پر منظم کریں گے۔رانا ثناء اللہ کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کیلئے کورٹ کا فیصلہ خوش آئندہ ہے۔ رانا ثناء اللہ نے بدترین ہتھکنڈے استعمال کئے۔پی ٹی آئی کو گلگت بلتستان میں منظم کرنے کے حوالے سے سابق رہنما حشمت اللہ خان، راجہ جلال مقپون ، مرحوم جسٹس(ر) سید جعفر شاہ اور فتح اللہ خان کا کردار لائق تحسین ہے۔

  • گلگت بلتستان:جشن نوروزجوش و خروش سے منانے کا سلسلہ جاری

    گلگت بلتستان:جشن نوروزجوش و خروش سے منانے کا سلسلہ جاری

    گلگت بلتستان:جشن نوروزجوش و خروش سے منانے کا سلسلہ جاری ،اطلاعات کے مطابق مختلف سماجی اور ادبی تنظیمیں بھی رنگارنگ تقریبات منعقد کررہی ہیں، اسی سلسلے میں بہت سے تقریبات جاری ہیں اور اس تہوار کو منانے والے بڑے پرُجوش نظرآتے ہیں‌

    ایران، تاجکستان، افغانستان اور دنیا کے دیگر مختلف مقامات کی طرح جشن نوروز آج بلتستان بھر میں شایان شان اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ مختلف مقامات پر جشن نوروز کے سلسلے میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے، بچے رنگ برنگے انڈے لڑانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جبکہ بڑے عمدہ لباس زیب تن کر کے عزیزوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں عید ملنے میں مگن ہیں۔

    جشن نوروز کے موقع پر اسکردو میں تقریبات کا اہتمام بھی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف سماجی اور ادبی تنظیمیں بھی رنگارنگ تقریبات منعقد کررہی ہیں، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے۔

    اس سے پہلے کل نئے سال ‘نوروز’ کی تقریبات کے سلسلے میں موسم بہار کو منانے کے لیے، PNCA نے بروشاسکی ریسرچ اکیڈمی کے تعاون سے 17 مارچ 2022 کو ایک رنگا رنگ شام کا اہتمام کیا۔

    تقریب جی بی کے مختلف باصلاحیت فنکاروں کی طرف سے جشن کے گانوں اور ڈانس پرفارمنس پر مشتمل تھی۔ تقریب کو مزید پروقار بنانے کے لیے PNCA کے لان میں کھانے اور دستکاری کے کچھ روایتی اسٹالز بھی تھے۔

    سامعین نے PNCA میں ایک انتہائی رنگا رنگ اور خوشگوار شام کا مشاہدہ کیا کیونکہ یہ تقریب گلگت بلتستان کے فنکاروں اور فنکاروں کے ساتھ تہوار، روایتی لباس اور جشن بہاراں سے بھرپور تھی۔