Baaghi TV

Tag: بلدیاتی قانون

  • سندھ کا بلدیاتی قانون:مصطفیٰ کمال کا 30 جنوری کو فوارہ چوک پر دھرنے کا اعلان

    سندھ کا بلدیاتی قانون:مصطفیٰ کمال کا 30 جنوری کو فوارہ چوک پر دھرنے کا اعلان

    پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ پی ایس پی بلدیاتی ترمیمی قانون کے خلاف 30 جنوری کے معرکے کے لئے بلکل تیار ہیں۔

    اغی ٹی وی :مصطفی کمال نے کہا کہ کراچی سے کشمور تک کی عوام کے وسائل اور اختیارات کے حصول کی جنگ لڑنے کراچی والے کثیر تعداد میں 30 جنوری کو فوارہ چوک پر جمع ہوں گے اور اپنی بات منوا کر آئیں گے۔ 23 جنوری کی پہلی ہی ملاقات میں ہماری 65 سے 70 فیصد تجاویز ماننے والے پیپلز پارٹی کے وفد پر واضح کردیا تھا کہ پی ایس پی 2013 اور 2021 کے بلدیاتی قانون کو نہیں مانتی۔

    انہوں نے کہ اکہ پی ایس پی 2001 کا بلدیاتی قانون مزید اختیارات اور وسائل کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ پی ایس پی کی بقایا 30 فیصد تجاویز پر پی ایس پی اور پیپلزپارٹی کی کمیٹی تشکیل دی گئی، پیپلزپارٹی کے وفد کو مذاکرات کے دوران اور پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے بتا دیا تھا کہ بلدیاتی ترمیمی قانون کیخلاف پی ایس پی 30 جنوری کو فوارہ چوک سے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کرئے گی، پی ایف سی کے اجراء کا زکر 2013 کے قانون میں بھی موجود تھا لیکن آج تک اجراء نہیں ہوا-

    کشمیر اور یمن میں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا احتجاج

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ حکومت پی ایف سی کا اجراء 1200 ارب روپے کی صوبے کی گراس رقم پر کرے، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اگر اپنے تمام اخراجات پورے کرنے اور بلدیاتی اداروں کی تعداد پر پی ایف سی کا اجراء کیا تو یہ فقط ڈرامے بازی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد تمام اختیارات صوبوں کو منتقل ہو گئے ہیں، یاد رہے کہ پاکستان کی کل آمدنی کا 56 فیصد صوبوں کو ملتا ہے جس میں سے 27 فیصد یعنی ایک ہزار ارب روپے سندھ کو ملتے ہیں، 200 ارب سندھ حکومت کی اپنی آمدنی ہے، پی ایف سی پر عمل درآمد کے لیے کمیشن بنانا ہوگا جسکی سربراہی سپریم کورٹ کے جج کریں۔

    یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ اجلاس سے غیر حاضری کی وجہ بتادی

    چئیرمین پی ایس پی نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے بلدیاتی ترمیمی قانون پر اتنی تفصیل اور باریک بینی سے بات اب تک کسی نے نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ تاحال 2021 کا قانون نافذ العمل ہے، یہ معاملہ کسی نوٹیفکیشن سے نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی میں قانون سازی سے ہی حل ہوگا۔ وفاق سے ملنے والے اختیارات اور وسائل صوبوں میں منجمد ہو گئے ہیں، گلی محلوں میں نہیں گئے۔اٹھارویں ترمیم اگر عوام کو فائدہ نہیں پہنچا رہی تو اسے ختم ہونا چاہیے۔ اٹھارویں ترمیم نے صوبوں میں کرپشن مزید بڑھا دی ہے۔ پی ایس پی وزیر اعلیٰ ہاؤس سے اختیارات اور وسائل نکال کر کراچی سے کشمور کی گلی محلوں تک لانا چاہتی ہے۔

    ہمارے تین اسپتالوں کا بجٹ خیبر پختونخوا کے صحت کارڈ سے زیادہ ہے،بلاول بھٹو

    انہوں نے کہا کہ پی ایس پی ایک پرامن جماعت ہے لیکن ہم وہ بھی نہیں کہ ایک گال پر تھپڑ مارو گے تو ہم دوسرا گال پیش کردیں گے، ہم اسی طرح جواب دیں گے جیسے بات کی جائے گی، میں لڑائی نہیں چاہتا کیونکہ یہ کراچی سے کشمور تک ہماری نسلوں کا مسئلہ ہے، ہمیں ہر حال میں اس مسئلے کو حل کرانا ہے، مجھے سیاست نہیں کرنی، ہم نے اس مسئلے کو کبھی لسانی نہیں بنایا میں مہاجر ہوں تو میرے ساتھ سندھی،بلوچ پٹھان پنجابی سرائیکی بنگالی سب ہیں،اس معاملے پر ہم نے شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، پرویز الہٰی، سراج الحق سمیت سب سے بات کی، ہم جماعت اسلامی کے پاس گئے یہاں تک پیشکش کردی کہ ہم جماعت اسلامی کے جھنڈے تلے بیٹھیں گے۔

    وزیرِ اعظم کا سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا دورہ :منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی.

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اسلام آباد جا کر آواز لگائی کہ پیپلز پارٹی کا بلدیاتی ترمیمی قانون قومی سلامتی کا مسئلہ ہے نہ کہ صرف ایک کراچی کا۔ پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی اگر انتظامی اور معاشی طور پر خودمختار نہیں کی گئی تو احساس محرومی بڑھے گی اور تباہی ہوگی۔ پیپلزپارٹی کو اگر یہ بلدیاتی ترمیمی قانون بہت بہتر لگتا ہے تو یہی قانون وفاق کو بھیج کر اسی فارمولے پر اختیارات اور وسائل کا معاہدہ کرنے کی ہمت کرئے۔ ہم نے پاکستان کے معاشی انجن اور سندھ کے دارالحکومت کے امن و امان کے لیے شہادتیں اس لیے نہیں دیں کہ پیپلز پارٹی کے ظالم اور متعصب حکمران اسے ذاتی جاگیر سمجھ کر تباہ کردیں۔ ہم الحمد لله تب کھڑے رہے جب سچ بولنے کی سب سے چھوٹی سزا موت تھی۔

    خواتین پرتشدد:پی پی حکومت قابل مذمت:وزیراعظم مریم نواز یانوازشریف: کیپٹن…

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پوری جدوجہد میں بلدیاتی ترمیمی قانون کے مسئلے کو لسانی مسئلہ نہیں بنایا، جو لوگ اس کالے قانون کو تحفظ دے رہے ہیں وہ لسانی فسادات چاہتے ہیں تاکہ اصل مطالبات پیچھے رہ جائیں اور سندھی مہاجر اور پٹھان کا مسئلہ آگے آجائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صدر پی ایس پی انیس قائم خانی سمیت دیگر مرکزی عہدیداران بھی موجود تھے۔

    مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ہم نے 2013 کے بلدیاتی قانون کے خلاف 2021 کے بلدیاتی ایکٹ آنے سے پہلے مظاہرہ کیا۔ مختلف ڈسٹرکٹ میں عوامی احتجاج کے بعد جب پیپلز پارٹی نے کان نہیں دھرے تو نور گراؤنڈ میں جنرل ورکرز اجلاس کیا۔اجلاس میں فیصلہ ہوا 30 جنوری کو وزیر اعلیٰ ہاؤس جا کر احتجاج کریں گے۔

    لاہور:علامہ اقبال ایئر پورٹ کے رن وے پر جدید نظام کی تنصیب:پاکستانی فضائی نظام…

    انہوں نے کہا کہ ہماری تیاریاں جاری تھیں اس دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے رابطہ کیا گیا، بات چیت کے دروازے کھلے ہیں ناصر حسین شاہ اور مرتضیٰ وہاب پاکستان ہاؤس آئے،پارٹی کے سینئر اراکین پر مبنی کمیٹی مشتمل دی گئی۔ 23 تاریخ کو پیپلز پارٹی کا وفد آیا جس نے ہمارے 60 سے 70 فیصد مطالبات تسلیم کیے۔جس کے بعد پیپلز پارٹی کے مہمانوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کی گئ، پیپلز پارٹی کی جانب سے مجھ پر زاتی حملے کیے گئے، ہم نے اسے سندھی مہاجر مسئلہ نہیں بننے دیا۔

    جماعتی بنیادوں پر الیکشن کیوں ؟ عثمان بزدار نے حقیقت بتا دی

  • سندھ حکومت نے جماعت اسلامی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے:29 روز سے جاری دھرنا ختم

    سندھ حکومت نے جماعت اسلامی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے:29 روز سے جاری دھرنا ختم

    کراچی: سندھ حکومت نے جماعت اسلامی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے:29 روز سے جاری دھرنا ختم ،اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی اور سندھ حکومت میں بلدیاتی قانون پر مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ جماعت اسلامی نے 29 روز سے جاری دھرنا ختم کر دیا۔

    سندھ میں بلدیاتی قانون پر محاذ آرائی ختم، صوبائی حکومت اورجماعت اسلامی میں مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی کے سامنے 29 روز سے جاری دھرنا ختم کر دیا۔

    وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے بلدیاتی قانون میں ترمیم پر اتفاق کے بعد تیار مسودہ بھی پیش کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان میئر کراچی کو با اختیار بنانے پر اتفاق ہوگیا۔ صوبائی فنانس کمیشن کے قیام، تعلیمی ادارے اور اسپتال بلدیہ کراچی کو واپس ملیں گے، میئر اور ٹاؤن چیئرمین کو کمیشن کا ممبر بنانے پر بھی اتفاق ہوگیا، بلدیہ کراچی کو ٹیکس سے بھی حصہ ملے گا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کامیابی پر آج یوم تشکر منایا جائیگا۔ حافظ نعیم الرحمان نے مختلف شاہراہوں پر آج دھرنوں کی کال بھی واپس لے لی۔ دونوں جماعتوں کے درمیان تحریری معاہدہ ہوا، چند نکات پر مذاکراتی عمل جاری رہیگا۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارا دھرنا کالے بلدیاتی قانون کے خلاف سب سے زیادہ مؤثر اور توانا آواز ثابت ہوا اور اس دھرنے نے ساڑھے تین کروڑ عوام کی حقیقی ترجمانی کا حق ادا کیا ہے ،دھرنے کے شرکاء اور عوام کی جانب سے دھرنے کو مسلسل پذیرائی پر ہم سب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی وسیاسی حقوق و مطالبات کے لیے پر امن جمہوری جدوجہد ہی ضروری ہے ،تشدداور جلاؤ گھیراؤ سے وقتی مقاصد کا حصول اور منفی جذبات تو بھڑکائے جاسکتے ہیں دیر پا نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے

  • پی پی کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج پروحشیانہ تشدد،آئی جی سندھ بھی ذمہ دار:حلیم عادل شیخ

    پی پی کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج پروحشیانہ تشدد،آئی جی سندھ بھی ذمہ دار:حلیم عادل شیخ

    کراچی:پی پی کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج پروحشیانہ تشدد،آئی جی سندھ بھی ذمہ دار:حلیم عادل شیخ ،اطلاعات کے مطابق سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پی کی بلدیاتی قانون کے خلاف نکالی گئی پرامن ریلی پر طاقت کا استعمال کیا گیا حالات خراب کرانے کے ذمہ دار وزیراعلیٰ سندھ ہیں وزیر اعظم نے نوٹس لے لیا ہے وزیر اعلیٰ سندھ کی انکوائری کمیٹی خود کو بچانے کے لئے بنائی ہے فوری طور پر آئی جی سندھ کو ہٹایا جائے

    ان خیالات کا اظہار قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے کہا پیپلزپارٹی اب وہ پارٹی نہیں جو شہید محترمہ بینظیر اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی تھی اس وقت پیپلزپارٹی ملک کے لئے سکیورٹی رسک بن چکے ہےسندھ اسمبلی میں ڈکٹیٹرشپ قائم ہے سندھ اسمبلی فلور پر کسی اپوزیشن کے ارکان کو بولنے نہیں دیا جاتا قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن کا کوئی نمائندہ نہیں مقرر کیا گیا ہے۔

    حلیم عادل شیخ نے پی پی قیادت کے جابرانہ رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ سندھ اسمبلی میں ناظم جوکھیو ، فہمیدا سیال اجئے لالوانی کے قاتل بیٹھے ہیں سندھ میں سویلین مارشلاء لگ چکی ہے پیپلزپارٹی کا سندھ پولیس کیڈر بنانا بھی اس طرح کی سیاسی پولیس بنانا تھا جو ان کی غلامی کرے کل ایک پلان کے تحت خواتین کو نشانہ بنایا گیا اگر کالے قانون پر سندھ اسمبلی میں بات کرتے تو آج ایسا نہیں ہوتا کل دنیا نے دیکھا ایک ایم پی اے کو ڈنڈے مارے گئے احتجاج میں اٹر کینن بھی نظر نہیں آیا ڈائریکٹ ڈنڈے اور شیلنگ کی گئی تین جنوری 2018 کو ہم نے بھی کسان ریلی نکالی تھی سی ایم ہائوس کے سامنے ہم پر تشدد کیا گیا تھا کل سی ایم ہائوس میں کوئی ٹیم نہیں تھی مراد علی شاہ نے پی ایس ایل کے خلاف سازش کی وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کل کے واقعے کے ذمہ دار ہی۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا ہم نے تمام جماعتوں کے ہمراہ متحدہ اپوزیشن کی صورت مین فوارہ چوک پر لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا تھا لیکن کسی نے ہماری نہیں سنی اس روز کوئی حملہ نہیں ہوا ہم سمجھ رہے تھے کہ ان کو احساس ہوگا اور بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کیا جائے گا لیکن ایسا نیں ہوا۔ بلدیاتی کالے قانون کے خلاف پوری سندھ جمع ہوئی تھی دوسری جانب کئی دنوں سے جماعت اسلامی بھی احتجاج کر رہی ہے بلدیاتی ایکٹ کے جاری احتجاج میں ہم تمام پارٹیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تمام جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں اگر ایم کیو نے چیف منسٹر ہائوس کے سامنے پرامن احتجاج کیا تو کچھ غلط نہیں کیا جب سندھ اسمبلی کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کیا جاسکتا ہے تو وزیر اعلیٰ ہائوس کوئی مقدس جگہ نہیں ہے پر امن مظاہرین سے بات چیت کے ذریعے بات کی جاتی پارلیامینٹرین اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی سخت مذمت کرتے ہیں ایک سازش کے تحت پیپلزپارٹی نے معاملے کو لسانی رنگ دینے کی کوشش کی ہے پی ایس ایل خراب کرنے میں مراد علی شاہ کی سازش ہے پرامن مظارین پر تشدد کے معاملے پر وزیر اعظم نے نوٹس لیا ہے جلد کارروائی بھی عمل میں آئے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی بنائی گئی انکوائری کمیٹی اپنے لوگوں کو بچانے کے لئے بنائی گئی ہے وزیر اعظم اپنے ذرائع سے انکوائری کریں گے اور ملوث پولیس افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سندھ پولیس کے افسران سیاسی غلام میں مصروف ہیں۔ کل کے واقعے میں سندھ کے پارلینینٹرین کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا جس پر آئی جی سندھ خود ساختہ استعفیٰ دینا چاہیے تھا وزیراعلیٰ مراد علی شاہ منشی ہیں بلاول ہائوس جائیں کرپشن کردہ نوٹوں کی گنتیاں کریں۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا سندھ اسمبلی نے پاکستان کی پہلی قرارداد پیش کی تھی لیکن آج اسی اسمبلی میں بیٹھ کر کچھ لوگ پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش کر رہے ہیں بلدیاتی قانون آئین کے آرٹیکل 140a کے خلاف ہے بلدیاتی ایکٹ 2013 میں متعدد شقیں آئین کے خلاف ہیں ہم سڑکوں پر اس کالے قانون کے خلاف آئے ہیں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں 21 شقیں آئین کے خلاف ہیں اگر سندھ میں عوام کے احتجاج کو نہیں سنا جائے گا تو عوام کہاں جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ کو معلوم ہے کہ ان کی کارکردگی زیرو ہے اس لئے سندھ کارڈ کھیل کر سازش کر رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ میں دیکھ رہا ہوں ایک بار پھر پیپلزپارٹی سازش کر رہی ہے جس طرف آگ سلگ رہی ہے کوئی ایک واقعہ بھی سینکڑوں حلاکتوں کا باعث بن سکتا ہے لسانی فسادات کرانا پ پ کا پرانہ انداز ہے ان سے تو آج تک بینظیر کے قاتل نہیں پکڑے گئے ٹنڈو الہیار میں دو گروپوں کا جھگڑا تھا لسانی رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہم کہتے جو ملزمان ہیں ان کو گرفتار کیا جائے جو قانون ہاتھ میں لے اس کو سزا ملنی چاہیے لیکن اس کی آڑ میں گھروں میں گھس کر خواتین پر تشدد غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ کل پر امن احتجاج میں خواتین پر تشدد کیا گیا پ پ پئٹرول پر آگ چھڑکنے کا کام کر رہی ہے۔

    حلیم عادل شیخ نے مزید کہا چاروں صوبوں کی زنجیر پ پ آج چار ڈویزن تک پہنچی ہے کراچی نہیں لاڑکانہ دادو تھرپارکر بھی تباہ کر دیا ہے ایم کیو ایم سے بھی کہتا ہوں احتیاط کریں پ پ لسانیت پھیلانا چاہتی ہے اسے روکنا ہوگا اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بتانا چاہتا ہوں ہم سب ایک ہیں پاکستان میں تمام ثقافتوں کی عزت کرنی چاہیے ہمارے جھنڈے میں بھی منارٹی کو عزت دی گئی ہے چند سیٹوں کی خاطر گند پھیلایا جارہا ہے پی ٹی آئی لسانی بنیاد پر کوئی بھی تقسیم نہیں چاہتی اگر اس بیچ کو کنٹرول نہیں کیا گیا بڑے تصادم کا خدشہ ہے اس وقت پئٹرول کی جگہ پانی کی ضرورت ہے۔

  • سندھ کے بلدیاتی قانون کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا دھرنا

    سندھ کے بلدیاتی قانون کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا دھرنا

    ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی سمیت سندھ کی دیگر اپوزیشن جماعتوں نے سندھ کے بلدیاتی قانون کے خلاف میٹروپول پر علامتی دھرنا دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کراچی میں اپوزیشن جماعتوں نے بلدیاتی قانون کے خلاف فوارہ چوک پر مشترکہ احتجاج کیا جس میں اپوزیشن لیڈر سندھ اور پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ، خرم شیر زمان، نصرت سحر عباسی، خواجہ اظہار ایم کیو ایم پاکستان کےسینئر ڈپٹی کنونیئر عامر خان سمیت دیگرنےشرکت کی اور خطاب کیا۔

    کوک اسٹوڈیو سیزن14: عابدہ پروین اور نصیبو لال کی وائرل ویڈیو ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان نے بلدیاتی قانون کے خلاف ابھی سے شارع فیصل میٹرو پول پر علامتی دھرنے کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل ساری جماعتیں، پی ٹی آئی، مسلم لیگ فنکشنل بھی ہمارے ساتھ بلدیاتی قانون کے خلاف دھرنے میں بیٹھیں گی۔

    اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ حکومت کا منہ بھی نئے بلدیاتی قانون کی طرح کالا ہے، یہ لاتوں کے بھوت ہیں جو باتوں سے نہیں مانیں گے، اب پارٹی شروع ہوچکی ہے، گھوٹکی سے کراچی تک کالے قانون کے خلاف احتجاج ہوگا۔

    میڈیکل کالج کی طالبہ کی خودکشی کا معاملہ:بلیک میلنگ میں ملوث ملزم گرفتار

    مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی خواجہ اظہار نے کہا کہ بلدیاتی قانون کے خلاف جب ہم آواز بلند کرتے ہیں تو پی پی اسے لسانی سیاست کا نام دیتی ہے مگر اب یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چلے گا کیونکہ اُن کا ظلم اور دور ختم ہونے والا ہے۔

    جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم ان سے وزیراعلیٰ ہاؤس اور سندھ واپس لیں گے بلدیاتی قانون کےخلاف احتجاج میں تمام قومیتوں کےلوگ شامل ہوئے آج کا احتجاج عوام کے اختیار کے لیے باہر نکلا ہے اگر یہ قافلہ چل پڑا تو وزیراعلیٰ ہاؤس زیادہ دور نہیں ہےمگر آج احتجاجی شرکا یہیں موجود رہیں گے-

    صدر مملکت نے فنانس ضمنی بل 2022 کی منظوری دے دی

    انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140 اے کا تقاضہ ہے کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں، بھٹو کے شہر لاڑکانہ کو دیکھیں کہ اسکی کیا حالت ہے، کوئی جاکر اندرون سندھ کے شہر دیکھے کہ وہاں کتنی ترقی ہوئی، جمہوریت میں جس کے پاس جتنا مینڈیٹ ہوتا ہے اس کے پاس اختیار بھی اتنا ہی ہوتا ہے۔

    خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی شہر پاکستان اور صوبے کے بجٹ کو ایک بڑا حصہ دیتا ہے، پیپلزپارٹی کی حکومت سے یہ شہر بہت بہتر تھا۔ ایم کیو ایم رہنما نے مزید کہا کہ ان سے وزیراعلی ہاؤس بھی اور سندھ دونوں واپس لیں گے ابھی ہمیں یہیں رک کر فیصلہ کرنا ہے کہ اگلا اعلان کیا کرنا ہے ، ابھی نوٹس دینے آئے تھے ، اب فیصلہ کرنا ہے تمام جماعتوں اور زبانیں بولنے والوں کا شکریہ۔

    ہائی کورٹ نے ریپ کیس میں متاثرہ کمسن بچی کا بیان بھی قابل تسلیم گواہی قراردیا

    پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہم مظلوموں پر 14 سال سے حکومت کررہے ہیں، آصف علی زرداری ایک مافیا ہے ، اس کے اکاؤنٹنٹ کا نام مردا علی شاہ ہے ، وہ سارے پیسے گنتا ہے یہ مظاہرہ تو ایک چھوٹا سا ٹریلر ہے ، اگر یہ گھوم گئے تو پھر تمہارا کیا ہوگا نا ان سےکچرا اٹھتا ہے ، نا یہ بس چلا سکتے ہیں ، ان سے اسپتال نہیں چلتے ہیں ، یہ 14 سال میں 1122 شروع نہیں کرسکے ، یہ نہ راشن کارڈ اور صحت کارڈ نہیں دےسکے۔

    برطانیہ بھی نوازشریف کو مزید پناہ دینے کو تیار نہیں،وزیر ہوا بازی

    وفاقی وزیر برائے بحری امور نے کہا کہ اب اعلان آیا ہے کہ 5 ہزار اسکول بند کرنے جارہے ہیں ، اسکولوں میں وڈیروں کی اوتاکیں بنائی ہوئی ہیں ، یہ پیسا پھر گیا کہاں؟ ایک اور لیڈر ہے یہاں پر اس سے اپنی بوتل بھی نہیں کھلتی ہے ، اس نے ڈھکن کھولنے کےلیے ایک وزیر رکھا ہے ، یہ ماں کے پاؤں تلے سے زمین ہی نکال کر کھا گئے ہیں ، ہم زرداری مافیا کے خلاف جنگ میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    علی زیدی نے کہا ہے کہ ہم 27 فروری کو گھوٹکی سے کراچی تک مارچ کریں گے ، ہم میر پور خاص، سکھر سب بند کردیں گے ، ہم سب ملکر اس کا تختہ پلٹ کر رہیں گے ، آصف زرداری تمہارا وقت پورا ہوچکا ہے۔

    افغانستان میں سخت انسانی بحران ہے:امریکا افغان اثاثوں کی بحالی پرعمل کرے:افغان…

    تحریک انصاف سندھ کے رہنما خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ آج کراچی کی جمہوریت پسند جماعتیں سڑکوں پر ہیں۔اس کالے قانون کے خلاف لوگ احتجاج کررہے ہیں، ہمارا مقصد بااختیار بلدیاتی نظام لانا ہے۔ ہم کسی صورت اس کالے قانون کو قبول نہیں کریں گے، یہ تحریک آج کراچی سے شروع ہوئی ہے۔ سندھ حکومت کے کالے قانون کو مسترد کرچکے ہیں۔

    گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس(جی ڈی اے) کی رہنما اور رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ سندھ میں ان کا راج رہے، پیپلز پارٹی نے کراچی سے کشمور تک مظالم ڈھائے، ڈاکے ڈالے، پیپلز پارٹی اس قانون کی آڑ میں ہم پر قابض ہونا چاہتی ہے، پیپلز پارٹی کی نظر میں دیگر جماعتوں اور اراکین کو ملنے والے ووٹوں کی اہمیت نہیں، کراچی سے کشمور تک کا فیصلہ ہے کہ یہ کالا قانون ہے۔

    آصف زرداری کی ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر ووفاقی وزیر علی زیدی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلدیاتی قانون کے خلاف 27 فروری کو گھوٹکی سے کراچی تک عوامی مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا

    اُن کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کی باتیں کرنے والے وزیراعلیٰ سندھ خود سب سے اختیارات چھین رہے ہیں، وہ ایک مافیا کے رکن ہیں جس کا گاڈ فادر آصف زرداری ہے، یہ حکومتوں میں رہنے کے باوجود بھی بی بی کے قاتلوں کو نہیں پکڑ سکتے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ میں کراچی نہیں بلکہ پورے سندھ سے مخاطب ہوں اور بتارہا ہوں کہ پی پی سندھ کے لوگوں کے تمام حقوق کھا جائے گی گےْ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ہر ڈویژن کی الگ اتھارٹی بنائیں گے مگر اب تک نہیں بنائی جاسکی۔

    شہر میں اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی بڑھتی وارداتیں:جرائم پرقابونہیں پاسکتے:کراچی…