Baaghi TV

Tag: بلدیہ عظمی کراچی

  • کراچی کی کچی آبادیوں میں غیرقانونی بلند عمارتوں پرکے ایم سی متحرک

    کراچی کی کچی آبادیوں میں غیرقانونی بلند عمارتوں پرکے ایم سی متحرک

    کراچی شہر کی کچی آبادیوں میں بغیر منظوری کے بلند و بالا عمارتوں کی بھرمار پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فوری کارروائی کے لیے خط لکھ دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، کے ایم سی کی جانب سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھیجے گئے خط میں کچی آبادیوں میں غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی ہائی رائز بلڈنگز پر فوری ایکشن لینے کی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ان عمارتوں کا کوئی باقاعدہ نقشہ موجود نہیں، جس سے شہریوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔سینیئر ڈائریکٹر ے ایم سی کے مطابق صرف زمین کا قبضہ ریگولرائز کیا جا سکتا ہے، لیکن بغیر نقشے کے بلند عمارتیں تعمیر کرنا خطرناک اور غیرقانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمارتیں انسانی جانوں کے لیے براہ راست خطرہ بن چکی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں گنجائش سے زیادہ تعمیرات کی جا چکی ہیں۔

    خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بلند عمارتوں کے نقشے کی منظوری دینا صرف سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اختیار ہے، اس لیے ایسے تمام غیرقانونی منصوبوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی جائے۔ذرائع کے مطابق کے ایم سی نے اپنے افسران کو بھی ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ ان تعمیرات کی نشاندہی کریں تاکہ سندھ حکومت کی ہدایت پر شہر بھر میں خطرناک اور غیرقانونی عمارتوں کے خلاف یکساں کارروائی کی جا سکے۔

    سینیٹ انتخابات: ناراض امیدواروں کی ضد سے ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

    پاکستانیوں کی آن لائن شاہ خرچیاں: 2023 میں 10.42 ارب ڈالر خرچ

  • اگلے سال شہر  میں مزید300 اسکیمیں مکمل کریں گے، میئر کراچی

    اگلے سال شہر میں مزید300 اسکیمیں مکمل کریں گے، میئر کراچی

    میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ اگلے سال مزید 300 اسکیمیں مکمل کریں گے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کے ایم سی ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضی وہاب نے کہا کہ جون 2023 میں عہدہ سنبھالا تھا، ڈیڑھ سال بعد خود کو آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ مالی اعتبار سے کے ایم سی میں ڈیڑھ سال میں بہتری آئی ہے، اختیارات کا نہیں نیت کا معاملہ تھا۔ 2.14 ارب روپے اس وقت ہمارے اکاؤنٹ میں آ چکے ہیں جبکہ 300 فیصد آمدنی میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے اضافہ کیا ہے۔میئر کراچی نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی کی آمدن میں 300 گنا اضافہ ہوا ہے، یہ وہی اختیارات اور وہی قانون ہے جس سے لینڈ ڈپارٹمنٹ کی ریکوری بہتر ہو رہی ہے۔ بہت سارے ٹاؤنز ہمیں تنگ کرتے ہیں، ٹاؤنز وہ کام نہیں کر رہے تو بلدیہ عظمی کراچی یہ کام کروا رہی ہے لیکن پھر بھی ہماری ریکوری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمی کراچی751 اسکیموں پر کام کر رہی ہے اور 30 جون تک اگلے 5 ماہ میں 430 اسکیموں کو پورا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کچی آبادی میں پلازہ اور پیٹرول پمپ بن رہے ہیں، کے ایم سی کچی آبادی میں ڈیولپمنٹ کر رہی ہے۔مرتضی وہاب نے کہا کہ ڈبل ملازمین کی نشاندہی ہوئی جو ہم سے بھی تنخواہ لے رہے تھے، 2019 میں ملازمین کو مستقل کیا گیا جس کا سلسلہ 2018 میں شروع ہوا اور یہ وہ غلط فیصلے ہیں جن کی وجہ سے آج تکلیف کا سامنا ہے۔

    میئر کراچی نے کہا کہ ایسے ایسے ملازمین ملے جو 2018 میں 18 سال کے ہی نہیں تھے، 10 سال کے بچے کو بھی ملازم بنا دیا گیا، اس سب سے 36 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی انسان دوست جماعت ہے کسی کا روزگار نہیں چھیننا چاہتی۔ مرتضی وہاب نے یہ بھی کہا کہ تمام ریکارڈ جمع کر رہے ہیں تاکہ کونسل میں یہ معاملہ لے کر جائیں، کونسل کا ہی فیصلہ ہو گا کہ ان ملازمین کا کیا کرنا ہے، وسائل کی کمی کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

    پاک بحریہ کی نویں کثیر القومی بحری مشق امن کا آغاز

    پیٹرول، چینی، نمک مہنگا ٹماٹر، پیاز، مرغی سستی ہوئی، ہفتہ وار رپورٹ

    بیٹے کی شادی پر گوتم اڈانی کاسماجی فلاح و بہبود کے لیے 10,000 کروڑ روپے کا عطیہ

    بیٹے کی شادی پر گوتم اڈانی کاسماجی فلاح و بہبود کے لیے 10,000 کروڑ روپے کا عطیہ

    پانی کی لائن ڈالنے پر لڑائی، فائرنگ سے2 افراد جاں بحق،3زخمی

    بوتل بند پانی فروخت کرنیوالے 28 برانڈز غیر محفوظ قرار

  • بلدیہ عظمیٰ کراچی کا شہر میں نئے پروجیکٹس بنانے کا فیصلہ

    بلدیہ عظمیٰ کراچی کا شہر میں نئے پروجیکٹس بنانے کا فیصلہ

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی قیادت نے شہر میں نئے پروجیکٹس بنانے کا فیصلہ کیا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق ضلع کورنگی میں مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ضلع کورنگی میں روایتی طور پر پیپلز پارٹی کو روکا گیا، پیپلزپارٹی کو اس علاقے سے کبھی سیٹیں نہیں ملیں مگر ہم نے اس علاقے کیلئے کروڑوں روپے کی چھ اسکیموں کو منظور کروایا، کورنگی کازوے پر تعمیر ہونے والے نئے پل کا اسی سال افتتاح کردیا جائے گا، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری صاحب بار بار پوچھتے ہیں بتاؤ منشور میں جو وعدے کئے ہیں ان پر کیسے عمل کیا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر جو پروپیگنڈاہوتا ہے اس کا جواب دو، کوشش کررہے ہیں کہ جو کام ہو رہا ہے اسے عوام کو دکھایا جائے، تیر کے نشان والے کام کر رہے ہیں،پتنگ اور ترازو والے نہیں.

    اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمداور دیگر مقامی رہنماء بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پیپلزپارٹی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، میں اور ڈپٹی میئر کراچی، پیپلز پارٹی کے اراکین، پی ٹی آئی کے سٹی کونسل کے اراکین کے ساتھ آج یہاں ضلع کورنگی کی اس یوسی میں موجود ہیں، یہاں سے کونسلر کی سیٹ ہمیں ملی،اس علاقے کی بہتری کے لئے ہم نے اپنے بجٹ میں مختلف پروجیکٹس کو منظور کروایا ہے، یہاں نالوں کی موجودگی کے سبب نالے آمدورفت کے لیے لوگ پلیا کا استعمال کرتے ہیں لہٰذا چار پلیا تعمیر کرنے کے علاوہ زیر زمین بیس ہزار رننگ فٹ سیوریج کے کام کو مکمل کیا گیا ہے ساتھ ہی آٹھ ہزار رننگ فٹ پانی کی لائنوں کی مرمت کی گئی ہے اور علاقے کی سڑک اور گلیوں میں ایک لاکھ باسٹھ ہزار اسکوائر فٹ ٹف پیور ٹائلز کا کام کیا گیا ہے، جہاں جہاں سڑکوں پر کارپیٹنگ کرنے کی ضرورت تھی وہاں کام کروایا گیا تاکہ علاقہ مکینوں کو سہولت فراہم ہو، یہ وہ گلی محلے کی خدمت ہے جو پیپلزپارٹی کراچی کے لوگوں کے لئے کررہی ہے.

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں کورنگی کازوے پل مکمل ہونے کے بعد کورنگی اور اطراف کے علاقوں کے رہائشی اس پل سے مستفید ہوں گے، کورنگی ندی سے گزرنے والے پل کو بڑھایا جارہا ہے اور ایک نیا آٹھ لین والا پل بنایا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ مرغی خانے کے پل کی تعمیر ومرمت کا کام بھی جلد مکمل ہوگا، پورٹ قاسم اور لاٹی جانے والوں کے لئے یہ پل تحفہ ثابت ہوگا، اس سوچ کی نفی کرنے کی ضرورت ہے کہ پیپلزپارٹی کام نہیں کرتی کیونکہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ اس شہر کی اصل خدمت کون کر رہا ہے، پیپلز پار ٹی اس بات پر متفق ہے کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں،میئر کراچی نے کہا کہ عمران خان کی رہائی صرف عدالت کے ذریعے ہوگی،آئین بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے،حافظ نعیم کو کہوں گا کہ سیاسی نعرے کیا ادارہ نورحق میں لکھیں گے،جس طرح آپ اپنے ادارے اپنے گھر کو اون کرتے ہیں ویسے ہی شہر کو بھی اون کرنا چاہئے، کراچی کی بہتری کے لئے Eسب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔

    شمالی کوریا کااسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ

    پاکستان میں پہلی بار شعبہ صحت میں اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال

    حکومت سندھ کی ترجمان کا وزیر اعلیٰ کے خلاف ہرزہ سرائی پر ردعمل

    اساتذہ کا احتجاج، سندھ میں 2 روز تدریسی عمل معطل رکھنے کا اعلان

    سال 2025، قومی شناختی کارڈ اور بی-فارم کی قیمت برقرار

  • پی ٹی آئی کے ہم خیال گروپ کا بلدیہ عظمی کراچی بلڈنگ میں احتجاج

    پی ٹی آئی کے ہم خیال گروپ کا بلدیہ عظمی کراچی بلڈنگ میں احتجاج

    بلدیہ عظمی کراچی میں پی ٹی آئی کے ہمخیال گروپ کی جانب سے کے ایم سی کی ناقص کارکردگی، ادارے میں افسران کی کرپشن اور میئر کراچی کی شہر کی ترقی میں عدم دلچسپی کے خلاف ہم خیال گروپ کے پارلیمانی لیڈر اسد امان کی قیادت میں کے ایم سی بلڈنگ پر پر امن احتجاج کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق احتجاج میں ہمخیال گروپ کے 28 منتخب یوسی چیئرمینوں نے اپنے حلقے کے عوام کے ہمراہ شرکت کی۔احتجاج کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی لیڈر اسد امان کا کہنا تھا کہ میئر کراچی کو منتخب ہوئے دو سال ہونے کو ہیں کہ لیکن شہر میں اب تک ترقی کے نام پر صرف روڈ پر پیچز لگائے گئے ہیں۔ شہر کی تباہ حالی کے ایم سی کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہم نے میئر کراچی کے آگے متعدد بار اپنے مطالبات رکھے لیکن ہمیں ان کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔یہ مطالبات ہمارے ذاتی نہیں بلکہ شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج تک کونسل ممبران کو فنڈ کے نام پر ایک اسٹریٹ لائٹ تک مہیا نہیں کی گئی۔ ہماری یونین کونسلز کے عوام کے ساتھ میئر کراچی کا سوتیلا سلوک کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ کے ایم سی میں بیٹھے افسران نے ادارے میں کرپشن کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ راشی افسران کے خلاف متعدد شکایتوں کے باوجود کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جارہی۔اسد امان نے مزید کہا کہ ہم نے سٹی کونسل کے گزشتہ اجلاس کا احتجاجا بائیکاٹ کیا اور آج ہم یہاں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے آئے ہیں۔ ہم میئر کراچی کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ ہمارے مطالبات سنے جائیں ورنہ آج ہم یہاں بلڈنگ کے اندر احتجاج کررہے ہیں اسکے بعد ہم عوام کے ہمراہ سڑکوں پر نکلیں گے۔ اسکے باوجود بھی مسائل حل نہ ہوئے تو ہم اس ایوان سے مستعفی ہو جائیں گے جہاں عوام مسائل کی کوئی سنوائی نہیں۔اس موقع پر ڈپٹی پارلیمانی لیڈر صلاح الدین یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بجلی کے بلوں کی مد میں حاصل ہونے والے کے ایم سی چارجز کا پیسہ کہاں جارہا ہی کے ایم سی کے ریونیو میں مسلسل اضافے کے باوجود ارکان کونسل کو فنڈز جاری نہیں کیے جارہے۔ ملک کو 70 فیصد سے زائد ریونیو دینے والے شہر میں ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بلدیاتی نظام نہیں ہے۔ جن کاموں کو میئر کراچی ترقیاتی کام کہتے ہیں وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہفتے میں میئر کراچی کی طرف سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی تو ہم اپنے احتجاج کو مزید وسیع کریں گے۔

    نان فائلرز پرحکومت نے سخت پابندیاں لگا دیں

    یونان کشتی حادثہ، جاں بحق پاکستانیوں کی تعدادبڑھنے کا خدشہ