Baaghi TV

Tag: بلومبرگ

  • حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے،محمد اورنگزیب

    حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے،محمد اورنگزیب

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں بانڈ اجرا کے لیے عالمی مشیروں کے تقرر کا عمل شروع کرے گی۔

    محمد اورنگزیب نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران بلومبرگ کو بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں بانڈ اجرا کے لیے عالمی مشیروں کے تقرر کا عمل شروع کرے گی حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ڈالر بانڈ، یورو بانڈ یا سکوک میں سے کون سا مالیاتی آلہ زیادہ موزوں رہے گا پا کستا ن پہلی مرتبہ چینی کرنسی میں “پانڈا بانڈ” جاری کرنے کی تیاری بھی کر رہا ہے، یہ اقدام عالمی سرمایہ کاروں خصوصاً چینی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی فرا ہم کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

    وزیرِ خزانہ نے کہا کہ افراطِ زر جو ایک وقت میں تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب سنگل ڈیجٹ میں ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز، ایس اینڈ پی اور فچ نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر رواں مالی سال کے اختتام تک درآمدات کے تین ماہ کے برابر ہونے کی توقع ہے، حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے تاکہ ماضی کی طرح ادائیگیوں کے توازن کے بحران دوبارہ پیدا نہ ہوں۔

    بلومبرگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے باہر ہو چکا تھا تاہم آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور سبسڈی میں کمی نے اعتماد بحال کیا ہے، معاشی ماہرین بھی اس پیش رفت کو مثبت قرار دے رہے ہیں۔

    معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا واضح اشارہ ہے جو ملک کے لیے مالی استحکام فراہم کرے گی، پانڈا بانڈ کا اجرا پاکستان کو چین کی سرمایہ مارکیٹ سے براہِ راست رسائی دے گا جس سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا برآمدات پر مبنی ترقی طویل مدتی فوائد لائے گی، افراطِ زر میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اصلاحات کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔

    دوسری جانب ڈیووس میں سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی کامیاب نجکاری نے پاکستان کی طویل عرصے سے رکی ہوئی نجکاری کی مہم میں نئی روح پھونک دی ہے، کیونکہ مقامی سرمایہ کاروں کی نمایاں دلچسپی نے غیر ملکی شراکت داروں کی توجہ حاصل کرنے اور ملک کو سرمایہ کاری میں مد د دی ہے-

    محمد اورنگزیب نے بتایا کہ انہوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہم منصبوں سے ملاقات کی ہے انہوں نے دونوں ممالک کو پاکستان کا دیرینہ شراکت دار قرار دیا ان دونوں ممالک نے نجکاری پروگرام کو سراہا ہےپاکستان کا نجکاری پروگرام، جو تقریباً ایک دہائی سے بڑی حد تک غیر فعال پڑا تھا، اب دوبارہ فعال ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت کے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا مشکل رہتا ہےپی آئی اے کی حالیہ نجکاری نے کئی اہم اہداف پورے کیے ہیں، کیونکہ دو بڑے مقامی کاروباری گروپس کی شرکت نے عالمی سرمایہ کاروں کو ایک مضبوط پیغام بھیجا ہے۔

    گزشتہ ماہ عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی سربراہی میں ایک کنسورشیم پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی خریداری کے لیے کامیاب بولی دہندہ کے طور پر سامنے آیا انہوں نے 135 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی جمع کرائی، جو حکومت کی ابتدائی کم از کم قیمت 100 ارب روپے اور اس بنیادی قیمت 115 ارب روپے سے کہیں زیادہ تھی جس پر نیلامی کا آغاز ہوا تھا۔

    دریں اثنا محمد اورنگزیب نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کے اس نئے اعتماد سے زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کان کنی سمیت اہم شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے اور آنے والے وقت میں سرمایہ کاری کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان ہےہم مزید بہت سی سرمایہ کاری پاکستان آتے ہوئے دیکھیں گے۔

    محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ورلڈ اکنامک فورم میں حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی کا محور پاکستان کے بڑے معاشی شعبوں میں موجودہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرنا اور اس کے ساتھ ممکنہ نئے سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل کرنا ہےاس سلسلے میں وزیراعظم آئی ٹی ، مصنوعی ذہانت ، کان کنی اور دیگر ترجیحی شعبوں سے وابستہ عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ گول میز ملاقاتیں کریں گے، جس میں حکومت کی جانب سے تعاون اور ہر ممکن امداد کی فراہمی کا اشارہ دیا جائے گاماضی میں درپیش بہت سے ڈھانچہ جاتی چیلنجز کو بڑی حد تک حل کر لیا گیا ہے اور اب پاکستان زیادہ فیصلہ کن اور وسیع پیمانے پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہےپاکستان کاروبار کے لیے تیار ہے۔

  • بلومبرگ نے تازہ ترین ارب پتیوں کی فہرست جاری کردی

    بلومبرگ نے تازہ ترین ارب پتیوں کی فہرست جاری کردی

    نیویارک: بلومبرگ نے تازہ ترین ارب پتیوں کی فہرست جاری کر دی ، ایلون مسک بدستور پہلے نمبر پر براجمان ہیں-

    باغی ٹی وی : بلومبرگ کی جانب سے جاری ارب پتیوں کی فہرست میں ایلون مسک 249 ارب ڈالر کی ملکیت کے ساتھ بدستور پہلی پوزیشن پر اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ کمائی کی بات کی جائے تو میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ ٹاپ پر ہیں زکربرگ نے اس سال ایلون مسک کے مقابلے میں تین گنا زیادہ کمائی کی ہے ایلون مسک نے اپنے نٹ ورتھ میں اس سال جہاں 20 ارب ڈالر کا اضافہ کیا ہے وہیں مارک زکربرگ نے 62.4 ارب ڈالر اضافہ کے ساتھ سبھی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے،جبکہ مارک زکربرگ 190 ارب ڈالر کی ملکیت کے ساتھ دنیا کے سب سے تیسرے رئیس شخص ہیں ، دوسرے نمبرپر ایمازون کے بانی جیف بیزوس ہیں جن کی ملکیت 209 ارب ڈالر ہے۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ نے ویرات اور گھمبیر کو آمنے سامنے بٹھا دیا

    بیٹے اننت امبانی ک شادی میں اندھا دھند اخراجات کے باعث مکیش امبانی اب 112 ارب ڈالر کی کُل جائیداد کے ساتھ 12 ویں نمبر پر آ گئے ہیں گوتم اڈانی 16ویں سے 15ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔

    امانسیو اورٹیگا دنیا کے ارب پتیوں کی فہرست میں 113 ارب ڈالر کی جائیداد کے ساتھ 11 نمبر پر پہنچ گئی ہیں، اس سال کمائی کے معاملے میں دوسرے نمبر پر این ویڈیا کے مالک جین ہوانگ ہیں، ان کی دولت میں اس سال 57.4 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، وہ دنیا کے 14ویں سب سے امیر شخص ہیں، این ویڈیا کی کُل کمائی 101 ارب ڈالر ہے۔ اس کے بعد لیری ایلسن نے 55.5 ارب ڈالر کی کمائی کی ہے ان کی کمائی 178 ارب ڈالر ہے اور یہ دنیا کے 5ویں سب سے بڑے امیر ہیں۔

    دنیا کی معمر ترین بلی انتقال کر گئی

  • عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

    عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

    گیمبیا اور ازبکستان میں بھارت سے درآمدی کھانسی کے سیرپ سے سیکڑوں بچوں کی موت کے بعد اب عراق میں دستیاب بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : عراق میں دستیاب بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف عالمی نشریاتی ادارہ ’’بلومبرگ نیوز‘‘ نے کیابلومبرگ نیوز کے مطابق عراق میں فروخت ہونے والے ’’سردیوں کے سیرپ میں زہریلے کیمیکلز‘‘ موجود ہیں رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک آزاد امریکی لیبارٹری ’’والیسور ایل ایل سی‘‘ کے مطابق مارچ میں بغداد کی ایک فارمیسی سے سردیوں میں استعمال ہونے والے بچوں کے سیرپ کی ایک بوتل خریدی گئی تھی جس میں 2.1 فیصد ایتھیلین گلائکول کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مذکورہ کیمیکل عالمی سطح پر منظور شدہ مقدار سے 21 گنا زیادہ ہے جبکہ اس کی معمولی مقدار بھی انسانوں کے لیے مہلک ہے اور اسی ایک کیمیکل کی وجہ سے گزشتہ برس گیمبیا اور ازبکستان میں بھارتی ساختہ کھانسی کے شربت سے ہونے والی بڑے پیمانے پر بچوں کی اموات میں کردار ادا کیا۔

    عالمی منڈی میں چاول کی قلت شدت اختیار،متحدہ عرب امارات میں چاول کی برآمد پرپابندی

    بلومبرگ نے 8 جولائی کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ عراقی اور بھارتی حکام کے ساتھ ٹیسٹ کے نتائج کا تبادلہ کیا۔ ڈبلیو ایچ او نے بلومبرگ کو بتایا کہ اسے امریکی لیبارٹری کے ٹیسٹ کے نتائج “قابل قبول” ہیں اور اگر عراقی حکومت بھارتی سیرپ سے متعلق تصدیق کرتی ہے تو وہ الرٹ جاری کرے گا کیونکہ عراق میں ابھی تک کسی عوامی الرٹ یا واپسی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    عراق کی وزارت صحت کے ترجمان سیف البدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وزارت کے پاس "دواؤں کی درآمد، فروخت اور تقسیم کے لیے سخت ضابطے ہیں۔” انہوں نے کولڈ آؤٹ کے بارے میں مخصوص سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

    ایک سال میں یہ پانچواں موقع ہے کہ جانچ میں کسی ہندوستانی برآمد کنندہ کی دوائیوں میں ایتھیلین گلائکول کی ضرورت سے زیادہ مقدار پائی گئی ہے۔ گیمبیا اور ازبکستان کے پھیلنے کے علاوہ، سرکاری لیبارٹریوں کی جانچ نے مارشل جزائر اور لائبیریا میں دیگر آلودہ مصنوعات کی نشاندہی کی ہے، حالانکہ ان دوائیوں سے منسلک کسی بیماری کی اطلاع نہیں ہے۔

    کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل …

    کولڈ آؤٹ لیبل اشارہ کرتا ہے کہ اسے Fourrts (India) Pvt. لمیٹڈ، چنئی میں قائم ایک صنعت کار جو برطانیہ، جرمنی اور کینیڈا سمیت 50 سے زائد ممالک کو ادویات برآمد کرتا ہے۔ وہاں کے ایک نائب صدر بالا سریندرن نے کہا کہ بلومبرگ کی پوچھ گچھ کے بعد، فورٹس نے کولڈ آؤٹ کے ایک نمونے کا تجربہ کیا جو اس کے ہاتھ میں تھا اور اسے بے داغ پایا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی ریگولیٹرز نے شرون کے پلانٹ سے دیگر نمونے قبضے میں لیے ہیں اور فورٹس کو ان ٹیسٹوں کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ نیشنل ڈرگ ایجنسی کے حکام اور دو مقامی ریگولیٹرز نے یا تو تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا یا کہا کہ ان کے پاس شیئر کرنے کے لیے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ شارون کے ایگزیکٹوز نے تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    قصور میں کل ہونے والا ن لیگ کا جلسہ ملتوی

    گیمبیا میں گزشتہ سال پھیلنے والی وباء سے 60 سے زائد بچے ہلاک ہوئے تھے، اور ازبکستان میں ہونے والے ایک بچے نے سمیت 20 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے نے بھارت سے منشیات کی برآمدات کے معیار پر تازہ سوالات اٹھائے ہیں، جو کہ دنیا کا سب سے بڑا عام منشیات بنانے والا ملک ہے اور خود کو دنیا کی "فارمیسی” کہتا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے اس ماہ کہا تھا کہ اس سال کیمرون میں 12 بچوں کی موت کا ذمہ دار کھانسی کے شربت میں ڈائیتھیلین گلائکول کی غیر محفوظ سطح موجود تھی، جو کہ ایک ایسا ہی زہریلا مرکب ہے۔ اس صورت میں، دوائیوں کی پیکیجنگ میں کسی بنانے والے کا نام نہیں ہوتا ہے لیکن کسی اور ہندوستانی کمپنی کا مینوفیکچرنگ لائسنس نمبر ہوتا ہےکھانسی کے شربت اور دیگر مائع ادویات زہریلے صنعتی سالوینٹس سے آلودہ پائی گئی-

    انٹر نیشنل کر کٹ کونسل نے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ 2024 کی تاریخ دے دی

  • پاکستان کو جون کے آخر تک آئی ایم ایف کی رقم فائدہ دے گی،بلومبرگ اکنامکس

    پاکستان کو جون کے آخر تک آئی ایم ایف کی رقم فائدہ دے گی،بلومبرگ اکنامکس

    غیر ملکی جریدے بلومبرگ اکنامکس نے پیر کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ ایسا لگتا ہے پاکستان آئندہ 6 ماہ میں ڈیفالٹ سے بچ جائے گا لیکن پاکستان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔

    باغی ٹی وی : بلومبرگ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو جون کے آخر تک آئی ایم ایف کی رقم فائدہ دے گی، پاکستان میں سرمایہ کاروں کو ڈالرز میں بڑے قرض کی واپسی کی فکر ہے اور یہ قرض کی واپسی اپریل 2024 میں ہونی ہے۔

    پاکستان ڈالر کا ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کےمطابق کرے،آئی ایم ایف

    "لیکن سرمایہ کار اب اپریل 2024 میں ایک بڑے ڈالر کے قرض کی واپسی کے بارے میں فکر مند ہیں، اور وہ ان بانڈز کی قیمتیں پریشان کن سطح پر رکھ رہے ہیں،رپورٹس بتاتی ہیں کہ بانڈ 46% ڈسکاؤنٹ پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو مزید بیرونی امداد چاہیے ہوگی، آئی ایم ایف پاکستان کی باقی ماندہ قسط روک سکتا ہے تاہم سیلاب اور پاکستان کی ضروریات کے باعث ایسا نظر نہیں آتا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ضروریات میں اندازاً 8.8 ارب ڈالرز کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ شامل ہے، ان ضروریات میں 2.2 ارب ڈالرز کی غیرملکی قرضوں کی ادائیگی شامل ہے، ان میں اپریل 2024 میں ایک ارب ڈالرز بانڈکی میچورنگ بھی شامل ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ رسک اسسمنٹ کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف یا دیگر قرض دہندگان سے مزید بیرونی امداد کی ضرورت ہو گی-

    سال 2022ء میں 49,89833 لوگوں نے وائلڈ لائف پارکس اور چڑیا گھروں کی سیر کی

    پاکستان کے پاس اب 5.6 بلین ڈالر کے زرمبادلہ کےذخائر ہیں، جو اگلے پانچ ماہ کی فنڈنگ ​​کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ بیرونی امداد سے اس تعداد کو 14.9 بلین ڈالر تک بڑھانا چاہیے۔ یہ صرف مارچ 2024 تک ڈالر کی ادائیگیوں کا احاطہ کرے گا –

    پاکستان اس وقت تیزی سے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر، روپے کی کمزوری اور بگڑتے معاشی اشاریوں کے درمیان معاشی بدحالی سے دوچار ہے۔ اس نے ہفتے کے آخر میں تقریبا$ 1 بلین ڈالر کی ادائیگی کی، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے کا امکان ہے جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اس ہفتے اپنا ڈیٹا جاری کرے گا۔

    بلومبرگ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف اب بھی 2.6 بلین ڈالر کی بقیہ قرض کی قسطیں روک سکتا ہے لیکن ہمارے خیال میں پچھلی موسم گرما کے سیلاب کے تناظر میں ملک کی اشد ضرورت کے پیش نظر اس کا امکان نہیں ہے۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ تعطل کا شکار آئی ایم ایف پروگرام کا دوبارہ آغاز ملک کے لیے انتہائی اہم ہے آئی ایم ایف کی فنڈنگ ​​قرض دینے والے ممالک سے متوقع 5 بلین ڈالر اور ورلڈ بینک سے 1.7 بلین ڈالر کی امداد کو کھولنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

    چونیاں،الہ آباد،چھانگامانگا میں آٹا بحران شدت اختیار کر گیا

    یہ فنڈز جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام تک قرضوں کی ادائیگیوں اور تخمینہ شدہ کھاتوں کے خسارے میں $5.9 بلین کو پورا کرنے میں مدد کریں گے اور، ایک بار پھر، ہمارے خیال میں یہ فنڈز مکمل ہو جائیں گے۔

    لیکن اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اس کے بعد 12 ماہ کیسے پورا کرے گا، جب اس کی ڈالر کی مالیاتی ضروریات کم از کم 11 بلین ڈالر ہوں گی۔”

    آئی ایم ایف کا وفد جنیوا کانفرنس کے موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کرے گا جس میں تصفیہ طلب امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    جنیوا کانفرنس، جو اس وقت جاری ہے، پاکستان کی حکومت اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر منعقد کی جا رہی ہے، جس میں ممالک، تنظیموں اور کاروباری اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے طویل مدتی بحالی اور لچک کے منصوبے کی جانب مالی اور دیگر مدد کے ساتھ قدم بڑھائیں۔ ملک نے گزشتہ سال تباہ کن سیلاب دیکھا۔

    پاکستان کے ریسیلینٹ ریکوری، بحالی اور تعمیر نو کے فریم ورک کے مطابق، جسے وہ باضابطہ طور پر کانفرنس کے دوران پیش کرے گا، مجموعی طور پر 16.3 بلین ڈالر کی ضرورت ہوگی پاکستان کی حکومت اس نصف رقم کو "ملکی وسائل” سے پورا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، بشمول اس کے ترقیاتی بجٹ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے۔

    جنیوا کانفرنس: اسلامی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان

  • پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائرتیزی سے کم ہونےلگے،حالات بہت نازک ہیں:بلومبرگ

    پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائرتیزی سے کم ہونےلگے،حالات بہت نازک ہیں:بلومبرگ

    واشنگٹن :پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائرتیزی سے کم ہونے لگے،حالات نازک ہیں:بلومبرگ کی رپورٹ نے خطرے کی گھنٹیاں بجادیں ،اطلاعات کے مطابق عالمی معاشی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے عالمی ادارے بلومبرگ نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 10 بلین ڈالر سے نیچے آگئے، جس سے خطرہ ہے کہ اگر پالیسی ساز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرض حاصل نہیں کرتے توپاکستان معاشی بحران میں پھنس جائے گا۔

    مرکزی بینک نے جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر27 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں 366 ملین ڈالر کم ہو کر 9.72 بلین ڈالر رہ گئےہیں ۔ یہ اگست سے تقریباً 50 فیصد کمی ہے اور دو ماہ سے کم درآمدات کی ادائیگی کے لیے کافی ہے۔

    بلومبرگ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں ڈالر کی کمی مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ یہ حکومت کی طرف سے پیش گوئی کی ہے کہ اس کا تجارتی خسارہ جون میں ختم ہونے والے سال میں ریکارڈ 45 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ حکام نے ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جو کہ کثیر الجہتی قرض دہندہ کے موجودہ قرض کے بقیہ $3 بلین کو حاصل کرنے کی ایک اہم شرط ہے۔

     

    بلومبرگ نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ دیوالیہ ہونے کے قریب پاکستان کے قرض کی بیمہ کی لاگت گزشتہ ہفتے ایک دہائی کے دوران سب سے زیادہ ہونے کے بعد بلند ہے۔ بلومبرگ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی کرنسی نے گزشتہ ہفتے ریکارڈ کم 202 فی ڈالر تک پہنچنے کے بعد کچھ کچھ پیسے واپسی کی ہے لیکن یہ ناکافی ہے،بلومبرگ کا کہنا ہےکہ اس سال اس میں تقریباً 10 فیصد کمی ہے۔

    عالمی معاشی معاملات کو مانیٹر کرنے والے ادارے بلومبرگ کا کہنا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بدھ کو پاکستان میں افراط زر کی شرح دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور اس سال اسٹاک میں تقریباً 5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ قبل ازیں جمعرات کو، Moody’s Investors Service نے IMF امداد کی بحالی میں تاخیر سمیت مالی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں معاشی گراوٹ کا سلسلہ شروع ہوگیا جو سابقہ حکومت میں معیشت کو مستحکم کرچکے تھے

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • کپتان کی لیڈرشپ دنیامان گئی:اکانومسٹ نارملسی انڈیکس میں پاکستان مسلسل تیسری بار ٹاپ تھری

    کپتان کی لیڈرشپ دنیامان گئی:اکانومسٹ نارملسی انڈیکس میں پاکستان مسلسل تیسری بار ٹاپ تھری

    اسلام آباد : کپتان کی لیڈرشپ دنیامان گئی:اکانومسٹ نارملسی انڈیکس میں پاکستان مسلسل تیسری بار ٹاپ تھری ،اطلاعات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دنیا میں کسی اور ملک نے یہ کامیابی حاصل نہیں کی،پاکستان نے حاصل کی

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ مالی سال 2021 میں 5.37 فیصد جی ڈی پی گروتھ سے اس کی عکاسی ہوتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 14 سال میں یہ دوسری بلند ترین شرح نمو ہے

    شوکت ترین نے کہا کہ بلوم برگ نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان پائیدار ترقی کی دہائی میں داخل ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ اگلے دس سال آمدن میں فرق کم کرنے میں مدد ملے گی روزگار میں اضافہ اور انسانی ترقی میں بہتری آئے گی.

    ادھر وزیراعظم عمران خان نے وزیر خزانہ شوکت ترین اور ان کی ٹیم کو تین سالوں میں 5.37 فیصد کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) حاصل کرنے پر مبارکباد دی ہے جس سے روزگار کے خاطر خواہ مواقع پیدا ہوئے اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا.

    شوکت ترین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلومبرگ اور دی اکانومسٹ جیسی بین الاقوامی معاشی تنظیموں نے پاکستان کی کووڈ کے دوران ملازمتوں اور زندگیوں کو بچانے کے لیے کی گئی کامیاب معاشی اصلاحات اور اقدامات کو تسلیم کیا ہے.

    وزیر اعظم نے وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ متوسط اور معاشی طور پر کمزورطبقے کی معاشی بہتری کے لیے اقدامات شروع کریں جو درآمدی مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ مسلسل جاری عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے پر تبادلہ خیال کرتے رہے ہیں جس نے پاکستان میں مہنگائی اور تجارتی خسارے کو بری طرح متاثر کیا ہے.

    وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ مقامی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں دسمبر سے کم ہو رہی ہیں جیسا کہ ایس پی آئی سے ظاہر ہوتا ہے تاہم وہ پرامید ہیں کہ جیسے ہی بین الاقوامی سطح پر قیمتیں کم ہوں گی درآمدی اشیا پر دباو بھی کم ہو جائے گا وزیرِ اعظم نے مجموعی طور پر ٹیکس وصولی، برآمدات اور ترسیلات زر پر اطمینان کا اظہار کیا.