Baaghi TV

Tag: بلوچستان اسمبلی

  • بلوچستان اسمبلی سے 896 ارب روپے کا بجٹ منظور،  بڑی اسکیموں کا اعلان

    بلوچستان اسمبلی سے 896 ارب روپے کا بجٹ منظور، بڑی اسکیموں کا اعلان

    بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2025-26 کے لیے 896 ارب 47 کروڑ 46 لاکھ روپے سے زائد کے 94 مطالباتِ زر کی منظوری دے دی، جبکہ بجٹ میں متعدد اہم ترقیاتی اور سیکیورٹی منصوبوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

    اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے نئے مالی سال کے لیے 94 مطالباتِ زر ایوان میں پیش کیے، جن میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 660 ارب 83 کروڑ 43 لاکھ روپے اور ترقیاتی اخراجات کے لیے 289 ارب 64 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

    اپوزیشن کی جانب سے مطالباتِ زر میں کٹوتی کے لیے 11 تحاریک پیش کی گئیں، جو ایوان نے رائے شماری کے ذریعے مسترد کر دیں۔بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایوان کو بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران 16 ہزار نئی بھرتیاں کی گئیں، 3200 بند اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا گیا، اور ترقیاتی بجٹ کا 100 فیصد استعمال یقینی بنایا گیا۔

    وزیراعلیٰ نے آئندہ مالی سال میں درج ذیل منصوبوں کا اعلان بھی کیا

    صوبے کے 10 شہروں میں سیف سٹی پروجیکٹ

    چاغی میں انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام

    کوئٹہ کے لیے پیپلز ٹرین سروس

    ایک ماہ کے اندر پیپلز ایئر ایمبولینس کا آغاز

    امن و امان کی بہتری کے لیے حکومت نے:

    سی ٹی ڈی کو مزید فعال بنانے کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے

    100 تھانوں کی ازسر نو قلعہ نما تعمیر کا منصوبہ

    دہشت گردی میں شہید ہونے والے سرکاری و سول شہداء کے لواحقین کے لیے امدادی رقم میں اضافہ بھی اعلان کیا.وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی بجٹ سرپلس ہو گا، اور مالیاتی نظم و ضبط کے ساتھ صوبے میں ترقیاتی و فلاحی منصوبوں پر بھرپور عمل درآمد کیا جائے گا۔

  • بولان میڈیکل کمپلیکس میں 4.15 ارب روپے کی بے قاعدگیاں بے نقاب

    بولان میڈیکل کمپلیکس میں 4.15 ارب روپے کی بے قاعدگیاں بے نقاب

    کوئٹہ کے بولان میڈیکل کمپلیکس میں 4 ارب 15 کروڑ روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جو 2017 سے 2022 کی اسپیشل آڈٹ رپورٹ میں درج ہے۔

    دستاویزات کے مطابق وظائف کی مد میں ایک ارب 16 کروڑ روپے کی غیر شفاف ادائیگی کی گئی ہے جبکہ لیب ٹیسٹ کے بغیر ایک ارب 93 کروڑ روپے کی ادویات کی خریداری کی گئی۔ آڈٹ ٹیم کو 38 کروڑ 22 لاکھ روپے کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ ادویات کی خریداری میں 28 کروڑ 13 لاکھ روپے کے بے قاعدہ اخراجات سامنے آئے ہیں، جبکہ اینٹی ربیز ویکسین کی مہنگی خریداری سے ساڑھے 12 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

    اسپتال فیس کی مد میں 5 کروڑ روپے قومی خزانے میں جمع نہیں کروائے گئے۔ بولان میڈیکل کمپلیکس کی پانچ سالہ خصوصی آڈٹ رپورٹ بلوچستان اسمبلی میں پیش کی گئی ہے، جسے مزید تحقیقات کے لیے پبلک اکاونٹس کمیٹی کے حوالے کیا گیا ہے۔

    الیسٹر کک کی پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف، ایرن ہالینڈ نے پاکستانی پاسپورٹ مانگ لیا

    ملی یکجہتی کونسل کا کم عمری کی شادی کے خلاف قانون مسترد کرنے کا اعلان

    غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن میں تیزی

    حماس کا جنگ بندی معاہدے پرجواب ، غزہ سے مکمل انخلا اور مستقل سیز فائر کا مطالبہ

  • سانحہ خضدار: بلوچستان اسمبلی میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد منظور

    سانحہ خضدار: بلوچستان اسمبلی میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد منظور

    بلوچستان اسمبلی نے سانحہ خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک مشترکہ قرارداد منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق قرارداد میں 21 مئی کے المناک واقعے کو "بزدلانہ، انسانیت سوز اور سفاکانہ” قرار دیا گیا ہے۔یہ قرارداد رکن اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے پیش کی، جس میں کہا گیا کہ 21 مئی 2025 کو آرمی پبلک اسکول خضدار کے بچوں کی بس پر خودکش حملے میں 8 نہتے اور معصوم طلبہ شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ایوان اس بہیمانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور شہدا کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرتا ہے۔”

    زرک مندوخیل نے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف ظلم و بربریت کی انتہا ہے بلکہ پاکستان کے روشن مستقبل، نئی نسل اور علم کے نور پر حملہ ہے۔”فرح عظیم شاہ نے دعویٰ کیا کہ "اب ثبوت کے ساتھ واضح ہو چکا ہے کہ المناک واقعے کو "بزدلانہ، انسانیت سوز اور سفاکانہ” قرار کرنے والے بھارت کے آلہ کار ہیں۔سلیم کھوسہ (مسلم لیگ ن) نے کہا کہ "بچوں کی شہادت نے بلوچستان کو توڑنے کے خواب دیکھنے والوں کے عزائم خاک میں ملا دیے ہیں۔ ان کے چپٹر کو بند کر دیا گیا ہے۔”

    یاد رہے کہ 21 مئی کو خضدار میں آرمی پبلک اسکول کی بس کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ابتدائی طور پر 5 افراد شہید ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں مزید دو طالبات زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔بلوچستان اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان، خصوصاً بلوچستان میں بیرونی مداخلت اور دہشتگردی کا نوٹس لے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قرارداد بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے عوامی نمائندوں کے اتفاق رائے اور دشمن قوتوں کے خلاف قومی بیانیے کی عکاس ہے۔

    نوشکی آئل ٹینکر حادثہ، جاں بحق افراد کی تعداد 34 ہوگئی

    بھارت، لالو پرساد یادیو نے بیٹے کو خاندان اور پارٹی سے نکال دیا

    بھارت، لالو پرساد یادیو نے بیٹے کو خاندان اور پارٹی سے نکال دیا

    مورو احتجاج: شرجیل میمن نے مظاہرین کے تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کی ویڈیوز پیش کردیں

    وزیراعظم کی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات

  • بلوچستان اسمبلی میں ان ہاؤس تبدیلی کی کوششیں ناکام

    بلوچستان اسمبلی میں ان ہاؤس تبدیلی کی کوششیں ناکام

    پی پی قیادت اور ایم پی ایز نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کردیا۔

    پی پی ذرائع کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں ان ہاؤس تبدیلی کی کوششیں ناکام بناتے ہوئے پی پی قیادت اور ایم پی ایز نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔علی حسن زہری بلوچستان میں ان ہاؤس تبدیلی کے لئے سرگرم تھے اور انہوں نے قیادت کو سرفراز بگٹی کے خلاف شکایات لگائیں تھیں۔بلوچستان کے ایم پی ایز نے علی حسن زہری کی شکایات سے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے قیادت کو بلوچستان میں ایڈونچر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔پی پی ذرائع نے کہا کہ علی حسن کی شکایات پر بلوچستان ایم پی ایز نے پی پی قیادت سے ملاقات کی اور وزراء سمیت ایم پی ایز نے پارٹی قیادت کو بلوچستان کی صورت حال پر بریفنگ دی۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ وزراء اور بلوچستان کے ایم پی ایز نے علی حسن زہری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علی حسن بلوچستان میں پارٹی کی نیک نامی کی وجہ نہیں بن رہے ہیں۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ دوران ملاقات وزراء اور اراکین اسمبلی نے مشورہ دیا کہ بلوچستان کی سیاست کو سندھ کی طرح ڈیل کرنا نقصان دہ ہوگا۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ایم پی ایز نے علی حسن پر مبینہ طور پر دیگر وزارتوں اور اضلاع میں مداخلت کا الزام لگایا جب کہ پی پی قیادت نے ایم پی ایز کو بلوچستان حکومت کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی۔واضح رہے کہ علی حسن زہری بلوچستان کے ضلع حب سے رکن اسمبلی منتخب ہیں جب کہ وہ بلوچستان کے وزیر زراعت ہیں۔

    متحدہ نے میتوں کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا ہے،شرجیل میمن

    بلوچستان اسمبلی میں ان ہاؤس تبدیلی کی کوششیں ناکام

    بلوچستان اسمبلی میں ان ہاؤس تبدیلی کی کوششیں ناکام

    ملک کے کچھ علاقوں میں بارشیں ہونے کا امکان

  • بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، وزیراعلٰی بلوچستان

    بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، وزیراعلٰی بلوچستان

    کوئٹہ: وزیراعلٰی بلوچستان سرفرازبگٹی کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف تقریریں کرکے اپنی شناخت بناتے ہیں جو مناسب رویہ نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے بلوچستان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قلات میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کی اوراس حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت کی، سرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے جسے تشدد کے ذریعے نہیں توڑا جا سکتا ریاست سیاست سے زیادہ اہم ہے اور ہمیں ان عناصر کے خلاف اقدام کرنا ہوگا، جو بندوق کی زبان بولتے ہیں۔

    بلوچستان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں سچ بولنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئیے، مگرسیاسی مجبوریوں اور فائدوں کی وجہ سے اکثرحقائق بیان نہیں کئے جاتے، کچھ لوگ سوشل میڈیا پراداروں کے خلاف تقریریں کرکے اپنی شناخت بناتے ہیں جو منا سب رویہ نہیں ہے۔

    مظفر گڑھ میں پیکا قانون کے تحت پہلا مقدمہ درج ، ملزم گرفتار

    وزیراعلٰی بلوچستان نے بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی صرف بلوچستان کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہےانہوں نے بلوچستان کو آئینی حقوق دیئے جانے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ترقی پورے ملک کا مسئلہ ہے جس پر سب کو مل کر کام کرنا ہوگاسرفراز بگٹی نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ ارکان بلاخوف اپنی بات کہہ سکیں۔

    خاتون نے بھینسوں کا گوبر چوری کرنے پر مقدمہ درج کروا دیا

  • بلوچستان اسمبلی میں پی ٹی آئی پر پابندی کی قرارداد پیش

    بلوچستان اسمبلی میں پی ٹی آئی پر پابندی کی قرارداد پیش

    کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کی مشترکہ قرارداد منظور کر لی ہے۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی مشترکہ قرارداد میرسلیم احمد کھوسہ، میر محمد صادق عمرانی، میر محمد عاصم کرد، راحیلہ حمید خان درانی، اور دیگر صوبائی وزراء نے مشترکہ طور پر پیش کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ایک بار پھر پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں، اور یہ سیاسی انتشاری ٹولے کی شکل اختیار کر چکی ہے، اس کے انتشار نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہےبلوچستان اسمبلی کا اجلاس اب غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    قرارداد پر پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے اراکین اسمبلی کے دستخط ہیں،پی ٹی آئی پر پابندی کی قرارداد صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈ
    ے میں بھی شامل ہے،قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت پی ٹی آئی پر فوری پابندی لگائے۔

    قراردادکے متن کے مطابق پی ٹی آئی کی اس قسم کی انتشاری ایجنڈے نے عدلیہ ، میڈیا اور ملک کی اکانومی کو بری طرح متاثر کیا ہے، ایک صوبے کے آئینی وزیر اعلی کے وفاق اور فیڈ ریشن کے خلاف محاز آرائی کی باتیں ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا کے مترادف ہے، کے پی حکومت کا سرکاری مشینری اور وسائل کے ساتھ وفاق پر چھتوں کی صورت میں اعلانیہ حملہ کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کے غیر سیاسی ایجنڈے کی واضح ثبوت ہے-

    قراردادکے متن کے مطابق اپنی سیاسی ساتھ کو بچانے کے لئے کے پی اسمبلی کا سیکورٹی فورسز کے خلاف قرارداد جس میں فورسز کو ٹارگٹ کرنا حقائق کے بالکل منافی ہے، یہ ایوان انتشاری پارٹی کی طرف سے سیکورٹی فورسز کو ٹارگٹ کرنے، میڈیا اور وفاق پر حملہ آور ہونے اور مملکت پاکستان میں انتشار کے عمل کو فروغ دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے –

    قراردادکے متن کے مطابق اپنی فورسز اور مسلح افواج کی خدمات اور مسلسل دی جانے والی قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے پاک فوج ہمیشہ مشکل وقت میں قوم کی توقعات پر پورا اتری ہے اور ہمیشہ قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے، ایوان اپنی فورسز اور افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کا عزم کرتا ہے، ملک میں انتشار پھیلانے ، افواج پاکستان اور سیکورٹی فورسز کو عوام کے ساتھ براہ راست لڑانے کی کوشش کرنے پر پی ٹی آئی پر فوری طور پر پابندی لگا نے کویقینی بنائے، پی ٹی آئی کی وجہ سےعوام میں پائی جانے والی بے چینی اور تکالیف کا خاتمہ ممکن ہو سکے-

  • بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے  پہنچے

    بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے پہنچے

    کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے پہنچے ہیں، 69 فیصد ایسے اراکین ہیں جو دوسری سے آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کا حصہ بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 41 فیصد نومنتخب ارکان 2018 کی بلوچستان اسمبلی کا بھی حصہ تھے،عام انتخابات 2024 میں بلوچستان اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں پر انتخاب ہوا ہے جبکہ 14 مخصوص نشستیں بعد میں پارٹی پوزیشن کے حساب سے تقسیم کی جائیں گی۔

    اعداد و شمار کے مطابق 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں 16 ارکان ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کا حصہ بنیں گے،نئے چہروں میں تین کا تعلق جے یو آئی، تین کا پیپلز پارٹی اور دو کا مسلم لیگ ن سے ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام کے سید ظفرآغا، فضل قادر مندوخیل، ڈاکٹر محمد نواز کبزئی، پیپلزپارٹی کے سردار زادہ فیصل جمالی، صمدخان گورگیج اور عبیداللہ گورگیج، ن لیگ کے زرک خان مندوخیل اور برکت علی رند پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، نیشنل پارٹی کے خیر جان بلوچ، جماعت اسلامی کے عبدالمجید بادینی، حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمان، تین آزاد امیدوار بخت محمد کاکڑ، ولی محمد نورزئی اور لیاقت لہڑی بھی پہلی مرتبہ ایوان کا حصہ بنے ہیں، ان میں فیصل جمالی، صمد خان گورگیج، زرک خان مندوخیل اور برکت علی رند کا تعلق سیاسی خاندانوں سے ہیں اور ان کے بھائی، والد، سسر یا دوسرے قریبی رشتہ دار ایوانوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔

    بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور سینیٹر پرنس احمد عمر زئی اگرچہ ایوان بالا کا حصہ ہیں مگر وہ پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، بلوچستان اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین میں سے 35 لوگ یعنی 69 فیصد پرانے چہرے ہیں ان میں 15 ارکان دوسری، سات ارکان تیسری، سات چوتھی، دو ارکان پانچویں بار، دو ارکان چھٹی بار اور دو ارکان آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔

    دوسری بار بلوچستان اسمبلی پہنچنے والوں میں پیپلز پارٹی کے سرفراز احمد بگٹی، میر نصیب اللہ مری اور علی مدد جتک، اور مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان اور شعیب نوشیروانی شامل ہیں، جمعیت علمائے اسلام کے زابد علی ریکی، اصغر ترین، یونس عزیز زہری، خلیل الرحمان دمڑ، غلام دستگیر بادینی، بلوچستان عوامی پارٹی کے ضیاء اللہ لانگو، عوامی نیشنل پارٹی کے ملک نعیم بازئی، آزاد امیدوار اسفند یار کاکڑ، عبدالخالق اچکزئی اورمولوی نور اللہ دوسری بار بلوچستان اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے سردار سرفراز ڈومکی، ظہور احمد بلیدی اور میر اصغر رند، ن لیگ کے محمد خان طور اتمانخیل، جمعیت علمائے اسلام کے ظفراللہ زہری اور نیشنل پارٹی کے رحمت بلوچ تیسری بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں، سات ارکان چوتھی بار بلوچستان اسمبلی پہنچے ہیں ان میں سابق وزیراعلیٰ جمعیت علمائے اسلام کے نواب محمد اسلم رئیسانی، مسلم لیگ ن کے سردار عبدالرحمان کھیران، محمد سلیم کھوسہ اور سردار مسعود لونی، پیپلز پارٹی کے محمد صادق عمرانی، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی ) کے اسد بلوچ اور عوامی نیشنل پارٹی کے انجینیئر زمرک خان اچکزئی شامل ہیں۔

    نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل پانچویں مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی کے نوابزادہ طارق مگسی اور مسلم لیگ ن کے میر عاصم کرد گیلو چھٹی بار بلوچستان اسمبلی میں اپنے حلقوں کی نمائندگی کریں گے۔

    بلوچستان اسمبلی کے سب سے سینیئر ارکان میں سابق وزیراعلیٰ پیپلز پارٹی کے نواب ثناء اللہ زہری اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سردار محمد صالح بھوتانی شامل ہیں دونوں آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ نواب ثناء اللہ زہری 1988 سے اب تک صرف 1997 میں بلوچستان اسمبلی سے باہر رہے، تاہم اس عرصے میں وہ سینیٹ کے رکن رہے۔

    سردار صالح بھوتانی 1985 سے اب تک صرف 2002 اور2008 کی اسمبلیوں سے باہر رہے اور ان کی جگہ ان کے چھوٹے بھائی محمد اسلم بھوتانی نے انتخاب لڑا اور دو مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن رہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں 21 افراد یعنی 41 فیصد پچھلی ( 2018 کی) بلوچستان اسمبلی کا بھی حصہ تھے۔

    ان میں جام کمال، نواب اسلم رئیسانی، زمرک خان اچکزئی، اسد بلوچ، ثناء اللہ زہری، عبدالرحمان کھیتران، طارق مگسی، ملک نعیم بازئی، زابد علی ریکی، صالح بھوتانی، سرفراز ڈومکی، محمد خان طور اتمانخیل، اصغر علی ترین، نصیب اللہ مری، سردار مسعود لونی، ضیاء اللہ لانگو، محمد خان لہڑی، یونس عزیز زہری، مولوی نور اللہ، محمد سلیم کھوسہ، ظہور احمد بلیدی شامل ہیں۔

    بلوچستان اسمبلی میں نو منتخب ارکان میں نواب ثنا اللہ زہری اور ظفر اللہ زہری آپس میں بھائی ہیں، نومنتخب رکن عبیداللہ گورگیج کے والد ملک شاہ گورگیج 8 فروری 2024 کے انتخابات میں این اے 259 کیچ کم گوادر سے رکن قومی اسمبلی، جبکہ نوابزادہ طارق مگسی کے بھائی نوابزادہ خالد مگسی حالیہ انتخابات میں این اے 254 جھل مگسی کم کچھی کم نصیرآباد سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ آٹھ نومنتخب ارکان ایسے ہیں جن کے والد بھی ماضی میں بلوچستان اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں ان میں جام کمال خان، نواب اسلم رئیسانی، سردار اختر مینگل، سرفراز ڈومکی، عبدالرحمان کھیتران، سردار مسعود لونی، خلیل الرحمان دمڑ اور شعیب نوشیروانی شامل ہیں، سردار صالح بھوتانی، فیصل جمالی، محمد خان لہڑی، ضیاء اللہ لانگو کے بھائی، زرک مندوخیل کے سسر، سلیم کھوسہ اور پرنس عمر احمد زئی، ظہور احمد بلیدی، برک علی رند، میر اصغر رند کے کئی قریبی رشتہ دار ماضی میں بلوچستان اسمبلی کا حصہ رہ چکے ہیں۔

    ان میں پیپلز پارٹی کے ملک شاہ گورگیج، نوابزادہ جمال رئیسانی، جمعیت علمائے اسلام کے مولوی سمیع الدین، نیشنل پارٹی کے پھلین بلوچ، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عادل خان بازئی، آزاد امیدوار میاں خان بگٹی شامل ہیں، سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے بھتیجے 25 سالہ نوابزادہ جمال رئیسانی قومی اسمبلی کے سب سے کم عمر ارکان میں ایک ہیں۔

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پہلی بار بلوچستان سے قومی اسمبلی کا رکن بنے ہیں، تاہم وہ اس سے پہلے اپنے آبائی صوبے خیبر پشتونخوا سے پانچ مرتبہ ایوان زیریں کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری تیسری بار قومی اسمبلی پہنچے ہیں۔

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی چھ سال بعد قومی اسمبلی میں واپسی ہوئی ہے۔ وہ 2002،1997،1993،1990 اور 2013 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں سابق وفاقی وزیر مسلم لیگ ن کے سردار یعقوب خان ناصر پانچویں بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ وہ اس سے پہلے 1990، 1997، 2002 اور 2008 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

    بلوچستان عوامی پارٹی کے نوابزادہ خالد مگسی مسلسل تیسری بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں، مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان اور خان محمد جمالی، جمعیت علماء اسلام کے محمد عثمان بادینی دوسری بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل تیسری بار قومی اور صوبائی اسمبلی کا انتخاب بیک وقت جیتے ہیں۔ 1997 میں انہوں نے صوبائی اور2018 میں قومی اسمبلی کی نشست کو ترجیح دی۔

  • وزیراعلیٰ بلوچستان نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کردیئے

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کردیئے

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کردیئے

    وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائز پر دستخط کر دیئے ہیں، وزیراعلی کی ایڈوائز آج منظوری کے لیۓ گورنر بلوچستان کو بھجوا دی جائےگی

    وزیراعلئ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ تمام ایم پی اے، اتحادی پارٹنرز، اپوزیشن اراکین بیوروکریسی کا ان کی غیر متزلزل لگن پر تہہ دل سے شکریہ ۔ہم نے ایک ساتھ مل کر حقیقی جمہوری جذبے کی مثال دیتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کیا۔ سیلاب اور حکمرانی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے باوجود ہم مضبوط کھڑے رہے۔ معاشی چیلنجز کے باوجود ہم نے بلوچستان کے کونے کونے میں ترقی کو یقینی بنایا۔ پی ایس ڈی پی میں ہر حلقے کو مساوی نمائندگی ملی،یہ اقدام اتحاد اور ترقی کے لیے ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ دو سال سے بھی کم عرصے میں ہم نے صنفی مساوات کے فروغ کو یقینی بنایا ۔صوبے کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا،صحت کی دیکھ بھال، تعلیم کی سہولیات کو یقینی بنانے اور صوبے میں گڈ گورننس لانے کی ہر ممکن کوشش کی ،ہم نے صوبے کی معدنی دولت کو بروئے کار لا کر صوبے کی معیشت کو بہتر بنانے کی راہ ہموار کی عوام کی عزت نفس اور انکے روزگار کے تحفظ کے لیۓ غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا۔کاشتکاروں کو صوبے کے زرعی شعبے میں حصہ ڈالنے کے لیے عملی مدد فراہم کی۔ تاریخی ریکوڈک سیٹلمنٹ سے بین الاقوامی سرمایہ کیلئے راہ ہموار کی ۔صاف و شفاف اور پر امن بلدیاتی انتخابات کا کریڈٹ بھی ہماری حکومت کا ہے۔ہیلتھ کارڈ، پہلی پبلک ٹرانسپورٹ سروس، صوبے میں کھیلوں کی بحالی کی ۔نئی یونیورسٹیوں کا قیام، یونیورسٹیوں کے لیے گرانٹس میں اضافہ کیا گرلز کیڈٹ کالجز کا قیام، ملازمین کو مستقل کرنے کے ساتھ مزید ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی ۔طبی عملے کی کنٹریکٹ تقرری، ترقیاتی سکیموں کی ڈیجیٹلائزیشن کا نظام بنایا ۔ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کے لیۓ ای ٹینڈرنگ کا آغاز کیا ۔گرین ٹریکٹر سکیم اور سب سے بڑھ کر وفاق میں صوبے کی انتھک وکالت چند کامیابیاں ہیں۔ ہمارا سفر مشکل تھا، لیکن ہمارا عزم مضبوط تھا۔ جب ہم اس باب کو الوداع کررہے ہیں تو آئیے امید کے ساتھ آگے کی طرف دیکھتے ہیں ۔ہماری اجتماعی کوششوں نے ایک روشن بلوچستان کی راہ ہموار کی ہے۔ہم نے مل کر تاریخ لکھی ہے، اور مل کر ہم ایک خوشحال مستقبل کی تعمیر جاری رکھیں گے

    وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات آئندہ چوبیس گھنٹے میں متوقع کی جارہی ہے اور بلوچستان میں نگراں سیٹ اپ کے قیام پر اپوزیشن کی دونوں جماعتیں اپنے اپنے امیدوار کے نام پر ڈٹ گئی ہیں جس کی وجہ سے ڈیڈلاک برقرار ہے۔

    علاوہ ازیں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لئے بی این پی کی جانب سے میر حمل کلمتی اور جے یو آئی کی جانب سے عثمان بادینی اور شبیر مینگل کے نام ظاہر کیئے گئے ہیں تاہم بی اے پی کی جانب سے تین نام سامنے آئے ہیں جن میں کہدہ بابر، اعجاز سنجرانی اور نصیر بزنجو شامل ہیں۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ اس حوالے سے فیصلہ آج شام تک متوقع ہے۔ وزیر اعلی کوئٹہ پہنچنے کے فوری بعد اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کرکے نگراں وزیر اعلیٰ کے نام پر حتمی مشاورت کریں گے۔

  • بلوچستان اسمبلی میں بھارت میں حجاب پر پابندی کے خلاف قرارداد منظور

    بلوچستان اسمبلی میں بھارت میں حجاب پر پابندی کے خلاف قرارداد منظور

    کوئٹہ: بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے بھارت میں حجاب پر پابندی کے خلاف قرارداد منظور کرلی-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ڈپٹی اسپیکر بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی اجلاس ہوا جس میں بھارت میں حجاب پر پابندی اور مسکان خان کو ہراساں کرنے کے خلاف قرارداد منظور کی گئی –

    بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

    قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بھارت آر آر ایس کے مذہبی انتہا پسندوں کی آماہ جگاہ بن چکا ہے جبکہ مودی کے بھارت میں انسانیت اور اخلاقیات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے بھارت میں اقلتیں تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہیں، اقوام عالم انسانی حقوق کی پامالی پر بھارت سے باز پرس کرے۔

    دریں اثنا ایوان نے بلوچستان ٹریفک انجیرنگ کے مسودہ کا قانون بھی منظور کیا اجلاس میں رکن اسمبلی ثنا بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کا مائیک سسٹم درست اور دیگر جدید سہولیات فراہم کی جائیں۔

    بھارت میں سکھ لڑکی اور لڑکے کوپگڑی کے ساتھ اسکول آنے سے روک دیاگیا

    واضح رہے کہ بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر حال ہی میں ریاست بہارمیں ایک بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا تھا ریاست بہارکے ایک بینک میں کیشئیرنے حجاب پہننے والی خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا۔ کیشئیرنے خاتون سے کیش حاصل کرنے کے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا باحجاب خاتون نے حجاب اتارنے سے انکارکردیا خاتون اوران کے والد کے شدید احتجاج پربینک کوانہیں رقم دینے پرمجبورہونا پڑا۔

    حجاب کیس: عبوری پابندی صرف طلبا پر لاگو ہوتی ہے اساتذہ پر نہیں ، ہائی کورٹ

    دوسری جانب گیسٹ فیکلٹی کے طور پر کام کرنے والی ایک انگلش لیکچرر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے کیونکہ کرناٹک کے تماکورو ضلع میں پڑھاتے ہوئے انہیں حجاب سے پرہیز کرنے کو کہا گیا تھا انہوں نے کہا کہ یہ میری عزت نفس کا معاملہ ہے میں حجاب کے بغیر پڑھا نہیں سکتی تین سالوں سے میں جین پی یو کالج میں بطور گیسٹ لیکچرر کام کر رہی ہوں۔ ان تین سالوں میں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور میں نے آرام سے کام کیا۔ لیکن، کل میرے پرنسپل نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ کلاسز کا انعقاد حجاب یا کسی مذہبی علامت کے بغیر ہونا چاہیے۔-

    حجاب تنازع: عدالت سے رجوع کرنے والی طالبہ کےبھائی پر حملہ

  • مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف بلوچستان اسمبلی میں‌ اپوزیشن کا علامتی واک آوٹ

    مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف بلوچستان اسمبلی میں‌ اپوزیشن کا علامتی واک آوٹ

    کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان فلاحی وعطیاتی اداروں کی رجسٹریشن کا مسودہ قانون منظور کر لیا گیا، مبینہ غیر قانونی بھرتیوں پر کمیٹی نہ بنانے پر اپوزیشن اراکین نے علامتی واک آوٹ کیا۔بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت ایک گھنٹہ تیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔

    مرنے والے فقیر کی جھونپڑی میں‌بینک ، اور بھی بینک بیلنس ،فقیر بادشاہ سرکار

    پوئنٹ اف آرڈر پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن رکن ثناء بلوچ کا کہنا تھا کہ نیشنل کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام آئین کے خلاف ہے، ان کا کہنا تھا کہ سینڈک پروجیکٹ کے فیصلے پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

    زیابطس (شوگر) کے لیے انسولین سے بہت جلد جان چھوٹ جائے گی ،امریکی ماہرین

    سردار یار محمد رند کا کہنا تھا کہ ہماری تین نسلیں بھی ریکوڈک فیصلے کے پیسے نہیں دے پائیں گی، علاوہ ازیں محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں پر کمیٹی نہ بنانے پر اپوزیشن اراکین نے علامتی واک آوٹ کر دیا۔

    اسپیکر میرعبدالقدوس بزنجو کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں وزیر اعلی بلوچستان جام کمال نے پوائنٹ آف آرڈر پربات کرتے ہوئے کہا کہ سی ایم آئی ٹی ٹیم بے قاعدگیوں پر کام کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کچھ غلط ہوا تھا تو ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ بعد ازاں اسمبلی کا اجلاس دس اکتوبر سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

    ترکی کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیں‌گے ، ٹرمپ کی ترکی کو دھمکی