اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بلوچستان کے وزیراعلی سرفراز بگٹی کی زرداری ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے،
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعلی سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر اور اس پر قابو پانے کے اقدامات سے متعلق بریفنگ دی،ملاقات کے دوران سیاسی سیاسی صورتِ حال پر بات چیت ہوئی۔پی پی پی کے چیئرمین بلاول زرداری کو سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں بارشوں کے بعد کی سیلابی صورتِ حال اور اس پر قابو پانے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ مقدس پاکستانیوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا،پنجاب کے معصوم شہریوں کو بسوں سے اُتارکر شہید کیا گیا، کسی بلوچ نے نہیں دہشت گردوں نے پاکستانی شہید کیے، دہشت گردوں کا کوئی مہذب نہیں، بلوچ روایات میں بچوں اور خواتین کا احترام کیا جاتا ہے۔ ریاست مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے، دہشت گردوں سکیورٹی رعایت نہیں ہو گی۔ بی ایل اے نے9 مقامات پرحملے کیے تھے، شہداء کے لواحقین کو 20 لاکھ دیں گے، گاڑیوں کے نقصانات بھی حکومت بلوچستان پورا کرے گی، یہ ناراض بلوچ نہیں ان کو دہشت گرد کہا جائے، بلوچستان میں ہر صورت حکومت کی رٹ برقرار رکھیں گے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچائیں گے بلوچستان میں کوئی آرمی آپریشن نہیں ہو رہا، ایف سی، پولیس، لیویز اپنا کام کر رہی ہے، سوات طرز کے آپریشن کی ضرورت ہو گی تو ضرور کیا جا سکتا ہے۔
بلوچستان میں شدید بارشیں، سیلاب نے تباہی مچادی، مکانا ت تباہ ہو گئے، شہری کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں،بلوچستان میں طوفانی بارش کے بعد مختلف واقعات میں 29 افراد جاں بحق اور 15 افراد زخمی ہوئے ہیں
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے کہیں مکانات کو نقصان پہنچا تو کہیں برساتی ندی نالوں کو اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق قلعہ سیف اللہ، ہرنائی، دکی، زیارت، سنجاوی، لورالائی، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، کوژک ٹاپ، شیلاباغ، گلستان اور خواجہ عمران میں موسلادھار بارشیں ہوئیں جس دوران قلعہ سیف اللہ کےعلاقے تلری اور موسیٰ زئی میں بڑے پیمانے پر مکانات کو نقصان پہنچا،شدید بارشوں کے باعث دیگر مختلف شہروں کے پہاڑی برساتی ندی نالوں میں اونچے درجے کاسیلاب ہے جب کہ دکی، قلعہ سیف اللہ اور لورالائی میں 6 افراد ریلوں میں بہہ گئے جن کی تلاش جاری ہے،شدید بارشوں کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں3 گاڑیاں بہہ گئیں تاہم لوگ محفوظ رہے،
جھل مگسی میں مسافر گاڑی سیلاب میں بہہ گئی جس کے بعد گاڑی میں سوار 5 افراد نے درختوں پر پناہ لی جنہیں بعد میں ریسکیو کر لیا گیا،جھل مگسی میں ہی کار ریلےمیں بہہ گئی جس دوران ڈرائیور کو بچالیاگیا، ہرنائی کی کھوسٹ ندی کے ریلے میں 2 افراد پھنس گئے، سیلابی ریلوں کی وجہ سےہرنائی کوئٹہ روڈ پر ٹریفک معطل ہوگیا
بلوچستان کے علاقے نصیرآباد میں ڈیرہ مراد جمالی سول اسپتال اور پولیس تھانہ بارش کے بعد زیرِ آب آ گئے ،ڈیرہ بگٹی سے آنے والا 1500 کیوسک سیلابی پانی پٹ فیڈر میں داخل ہو چکا، سندھ بلوچستان سرحد سنٹ کے مقام پر لیویز چیک پوسٹ سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہے، ضلع نصیر آباد میں 36 گھنٹے کی مسلسل بارش میں تقریباً 20 مکانات گر گئے ہیں،شاہ پور گاؤں میں تقریباً 20 مکانات گر کے تباہ ہو گئے ہیں،ڈیرہ مراد جمالی ریلوے اسٹیشن پر ریلوے ٹریک بارش کے پانی میں ڈوب گیا، پنجگور میں گزشتہ کئی گھنٹوں سے موبائل اور لینڈ لائن فون سروس معطل ہے لیکن اس کے برعکس انتظامیہ اس معاملے کا نوٹس لینے میں ناکام رہی ہے
صوبائی حکومت نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیموں کی روانگی، متاثرین کے لیے عارضی رہائش گاہوں کا قیام، اور خوراک و دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی شامل ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق وہ ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
بلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کی ہیں، جن میں 5 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے ہیں
سیکورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقوں ژوب اور پنجگور میں کاروائیاں کی ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں میں پانچ دہشت گرد جہنم واصل ہوئے ہیں جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں،دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں 26 اگست کو بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی تناظر میں کی گئیں ہیں،
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کو کٹہرے میں لانے تک فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی پاکستان کی سیکیورٹی فورسز قوم کے شانہ بشانہ ہیں،بلوچستان کا امن و ترقی سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پُر عزم ہیں
بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں پر پاکستانی قوم نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اورسیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانا ضروری ہوچکا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم کابچہ بچہ پاک فوج کے ساتھ ہے.
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں نفرت کے بیج بونے والوں کو کوئی جگہ نہیں ملے گی،
وفاقی کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کوئٹہ کا دورہ کیا اور امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لیا، ہم نے شہدا کے لواحقین سے ملاقات کی، شہدا کے ورثاء بہت حوصلے میں تھے، بلوچستان کے چیلنجز پر کور کمانڈر کوئٹہ نے بریفنگ دی،بلوچستان میں جو کچھ ہوا وہ دہشت گردی کی انتہا تھی، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، دہشت گرد اور کچھ خارجی عناصر مل کر بلوچستان میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں، دہشت گردوں کو باہر سے مدد مل رہی ہے، بلوچستان میں نفرت کے بیج بونے والوں کو کوئی جگہ نہیں ملے گی،پاکستان کے دشمنوں سے بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دشمنان پاکستان کو عبرت کا مقام بنائیں گے، دہشت گرد پاک چین دوستی میں دراڑ ڈالنا چاہتے ہیں، پاک فوج کے جوان دن رات دہشت گردوں کا پیچھا کررہے ہیں،بلوچستان میں سرفراز بگٹی کی حکومت کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان نے یوتھ کیلئے بہت اچھے پروگرام مرتب کئے ہیں،
وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 26 تاریخ کو ایسا ماحول پیدا کیا گیا جیسے بلوچستان میں علیحدگی کی تاریخ چل رہی ہے، بلوچستان کے لوگ محبت وطن ہیں وہ چاہتے ہیں ترقی کا پہیہ تیزی سے چلے، ہم نے دورے کے دوران تمام لوگوں کے مشوروں کو سنا ہے بعض سیاسی زعما نے کہا نوجوانوں کو مختلف بیانیوں کے ذریعے بھٹکایا جا رہا ہے، چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور سے بلوچستان بہت زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے، دورہ کوئٹہ کے دوران یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر پوچھی کہ کیا چین پاکستان کا دوست ہے یا نہیں، سب نے کہا چین پاکستان کا دوست ہے، دہشتگرد سی پیک کو عوام کی ترقی کیلئے پروموٹ نہیں کرنا چاہتے،جلد وزیراعلیٰ بلوچستان سے میٹنگ کروں گا، وفاقی حکومت جو کچھ کر سکتی ہے وہ کریں گے، ایک بات طے ہے دشمنان پاکستان کو مل کر مقام عبرت بنائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر بلوچستان پہنچ گئے ہیں
وزیراعظم شہباز شریف کوئٹہ پہنچے تو وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور دیگرحکام نے انکا ایئر پورٹ پر استقبال کیا، وزیراعظم کے ہمراہ کوئٹہ جانے والے وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزراء احسن اقبال، محسن نقوی ،عطا تارڑاور جام کمال بھی شامل ہیں،
کوئٹہ میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ26 اگست کو دلخراش واقعہ بلوچستان میں ہوا، جس سے پاکستان کے عوام میں تشویش کی لہر دوڑی، سبھی اس واقعہ سے غمزدہ ہیں، اس لمحے ہمیں اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اجتماعی ارادے کے ساتھ بلوچستان میں دہشت گردی کا ًمکمل خاتمہ کریں گے، انتہائی اہم اور بہت خوبصورت صوبہ پاکستان کا ہے، اسکی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹیں دور کرنی ہیں، خارجی پاکستان کے دشمن ہیں، اندر جو گھس بیٹھیے ہیں سب نے ملکر منصوبہ بنایا اور پاکستانی شہید ہوئے، پاک فوج، ایف سی کے جوان،لیویز کے جوان، عام شہری شامل ہیں،ان کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا، اللہ کے فضل و کرم سے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان سے دہشتگردی کا سر کچلا جائے گا، وفاقی حکومت دہشت گردی کےخاتمے کے لئے بلوچستان حکومت کے ساتھ ہے، خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گرد سر اٹھا رہے کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مل کر کامیابی حاصل کریں گے،بلوچستان واقعے پر سب غمزدہ ہیں، پاکستان کے خوبصورت صوبے کی ترقی کی راہ میں تمام رکاوٹیں دور کریں گے،پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے بعد اپنا مقام حاصل کرے گا، ترقی و خوشحالی کی راہ پر قائد، اقبال کے راہ پر چلیں گے، جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گے، مصمم ارادے کے ساتھ جمع ہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا ان شاء اللہ
لاپتہ افراد کے نام پر بلوچ لبریشن آرمی کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا،دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کی ملکی اداروں کو بدنام کرنے کی ایک اور سازش بے نقاب ہو گئی،رواں سال اپریل میں جس شخص کے نام سے مسنگ پرسن کی ایف آئی آر درج کرائی گئی آج اسی شخص کی شناخت ہوئی،دہشتگرد تنظیم بی ایل اے نے طیب بلوچ عرف الیاس لالا ولد مولا بخش کو لاپتہ شخص قرار دے کر ایف آئی آر درج کرائی تھی، بیلہ میں ایف سی کیمپ پر خودکش حملے میں طیب بلوچ کی شناخت ہو گئی،طیب بلوچ عرف الیاس لالا نوشکی کا رہائشی تھا،بلوچ لبریشن آرمی کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ اپنے سرکردہ دہشتگردوں کو لاپتہ افراد کی فہرست میں ڈال کر اپنے مکروہ مقاصد حاصل کرتی ہے،اس سے قبل بھی بی ایل اے لاپتہ افراد کے نام پر اپنی سیاست چمکا چکی ہے،دہشتگرد کریم جان ولد فضل بلوچ تربت کا رہائشی تھا جو 25مئی 2022کو لا پتہ بتایا گیا،وہی دہشت گرد کریم جان گوادر حملے میں دہشت گردی کرتے ہُوئے مارا گیا ،اس سے قبل بھی دہشتگرد امتیاز احمد ولدرضا محمد بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا جو سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مارا گیا ،عبدالودود ساتکزئی جس کی بہن 12اگست2021سے بھائی کی گمشدگی کا راگ الاپ رہی تھی، وہ بھی مچھ حملے میں مارا گیا،لاپتہ افراد کے نام پر سیاست کرنے والے عناصر بیرونی قوتوں کی ایماء پر ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلا رہے ہیں ،بلوچستان کی دہشتگرد تنظیمیں بلوچ عوام اور نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہی ہیں ،ملک دشمن عناصر کے مکروہ چہرے سے پردہ اب ہٹ چکا ہے لہٰذا دہشتگردوں کو اب ملک میں امن و امان کی صورتحال کو سبوتاز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،ان اجراتی قاتلوں کی شناخت اب ہو چکی ہے ، اب یہ بات آشکار ہو گئی ہے کہ مسنگ پرسن کا ڈرامہ رچا کر یہ اجراتی قاتل دہشت گردی کرتے ہیں
لسبیلہ اپریشن میں جہنم واصل ہونے والا دہشت گرد طیب بلوچ مسنگ پرسن نکلا ۔طیب بلوچ جو 5اپریل 2024 سے لاپتہ تھا اس کی ایف ائی آر بھی کرائی گئی تھی وہ 26 اگست بیلہ ایف سی کیمپ حملے میں ملوث نکلا ،بی ایل اے کا دہشت گرد طیب بلوچ کو ایک طرف مسنگ پرسن میں لکھا گیا جبکہ دوسری طرف ان کو دہشت گرد تنظیم بی ایل اے میں بھرتی کر کے معصوم شہریوں کے قتل کرنے کے لیے پہاڑوں پرلے جایا گیا ۔ دہشت گرد طیب بلوچ کے لاپتا ہونے پہ ایف آئی ار بھی درج کی لیکن اس کے باوجود لواحقین کو کوئی خبر نہیں دی گئی بلکہ ماہرنگ بلوچ اور انکی تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک طرف طیب بلوچ کو دہشت گرد تنظیم کے پاس بھیجا دوسری جانب ریاست مخالف پروپگینڈا کرنے کے لیے ان کو لاپتا بتا کے مزید ڈرامہ رچایا گیا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پر انسانی حقوق کے علمبردار جواب دینا پسند کریں گےجس دہشت گرد کو مظلوم بتا کر ریاست کے خلاف جھوٹ بول رہے تھے حقیقت میں وہ معصوم شہریوں کاقاتل نکلا ۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ یہ ماہ رنگ بلوچ کون ہے، 31 سالہ ماہ رنگ بلوچ ،بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لیڈر ہے،قتل اور لاپتہ افراد کے حوالہ سے لوگوں کو ساتھ ملا کرریاستی اداروں کے خلاف تحریک چلاتی ہے، اس پر الزام ہے کہ بیرونی معاونت سے یہ ملک کے خلاف تحریک چلا رہی ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ حقیقت کیا ہے،یہ کیوں ہتھیار اٹھائے بغیر ہتھیار سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے ماہ رنگ کا تعلق بلوچستان کے قلات ضلع کے لانگو قبیلے سے ہے، لانگو قبائل کوئٹہ،خضدار کچھ سندھ میں رہتے ہیں،ماہ رنگ کے والد واپڈا کے ملازم تھے اور کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے رکن تھے،انہیں 2006 میں پہلی بار اٹھایا گیا پھر وہ واپس آئے، 2011 میں پھر لاپتہ ہوئے اور ایک کاروائی میں مارے گئے، مسخ شدہ لاش ملی، وہ بی ایل اےکا سرغنہ او ر ریاستی اداروں کے خلاف حملوں میںملوث تھا، ماہ رنگ بلوچ اس واقعہ پر زیادہ نہیں بولتی،والد کے مارے جانے کے بعد ماہ رنگ خاندان کے ساتھ کراچی چلی گئی،یونیورسٹی میں داخلہ ملا تو ماہ رنگ کوئٹہ آ گئی، 2016 میں اسکے بھائی کو اٹھایا گیا تو ماہ رنگ نے نقاب اتارا اور احتجاج شروع کر دیا،بھائی تو واپس آ گیا لیکن ماہ رنگ نے سیاست شروع کر دی وہ بھی ملک کے خلاف، جون 2020 میں کوئٹہ میں طلبا کے احتجاج کے دوران بولان میڈیکل کالج کی طالبہ ماہ رنگ سب کی توجہ کا مرکز بن گئی، طلبا کے احتجاج میں شامل ہونا ماہ رنگ کے اس انداز کو کئی صارفین نے سراہا تھا وہاں سے وہ مشہور ہوئی، ماہ رنگ نے کہا تھاکہ میں نے ڈاکٹر بننا اور سیاست کرنی، میری نظر دور تک ہے، سیاست لازمی کروں گی کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں، دسمبر 2023 میں اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کونسل کا دھرنا زیر بحث تھا جو ماہ رنگ کی زیر قیادت تھا، دھرنے کا مطالبہ لاپتہ افراد کی بازیابی تھی، بالاج نامی ایک نوجوان سی ٹی ڈی کی کاروائی میں مارا گیا، اہلخانہ نے بالاج کی لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کیا،یہیں سے مارچ شروع ہوا اور اسلام آباد پہنچا، بالاج کو سی ٹی ڈی نے مارا اسلئے وہ اداروں کے خلاف مہم چلانے لگ گئی،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس حکام کے مطابق بالاج اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے قتل ہوا تھا، سی ٹی ڈی نے اس ضمن میں پریس ریلیز بھی جاری کی تھی جس میں حقائق سے آگاہ کیا گیا تھا کہ اس کاروائی میں 8 دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا، بالاج کو 5 کلو بارودی مواد کے ساتھ گرفتار کر کے عدالت پیش کیا گیا، اس نے اعتراف کیا کہ بارودی مواد ساتھیوں کے لئے لے کر جا رہا تھا جنہوں نے تربت میں کاروائی کرنی تھی، بالاج کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا اس نے کئی کاروائیوں کا اعتراف کیا، سی ٹی ڈی کی چھاپہ مار ٹیم نے 22 اور 23 نومبر کی شب بالاج کی نشاندہی پر چھاپہ مارا تو بالاج کے ساتھیوں نے حملہ کیا اس دوران ملزم بالاج ہلاک ہو گیا، فائرنگ کا تبادلہ 15 بیس جاری رہا، شرپسند اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے، تین لاشیں ملیں جس پر مقدمہ درج کیا گیا،
مبشر لقما ن کا مزید کہنا تھا کہ مسلسل اداروں پر ماہ رنگ کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی، ماہ رنگ بلوچ پر مقدمے درج ہوئے،انوارالحق کاکڑ نے کہا تھا کہ یہ لوگ دہشت گردی کی جدوجہد کرتے ہیں، انکی سپورٹ نہیں کریں گے مجھ پر تنقید کرنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں، بھارت کی فنڈنگ سے یہ چل رہے ہیں، ماہ رنگ نے جن لوگوں کو مسنگ پرسن بتایا وہ ایران میں مارے گئے، ماہ رنگ ناروے گئی وہاں کس نے بلایا،یہ انسانی ھقوق کے لئے ایک پروگرام میں گئی تھی، اس تقریب کی صدارت نوبیل انعام کمیٹی کے سربراہ نے کی تھی وہاں ملک دشمنی پر نام نہاد بلوچ رہنما نے تقریر کی اور مسنگ پرسن کا جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے پاک فوج پر ملبہ ڈالنے کی کوشش کی،
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ریاست پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں، ان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو کچھ بھی ہوا اس پر ہر پاکستانی رنجیدہ ہے، بلوچستان ہمارے دل کے قریب ہے لیکن ہمیں مل کر آگے بڑھنا چاہیے ،وزیر داخلہ بلوچستان پہنچ گئے ہیں ، وزیر اعظم بھی کل جا رہے ہیں، کبھی سیاسی عدم استحکام پیدا کیا جاتا ہے تاکہ پاکستان معاشی طور پر آگے نہ بڑھ سکے ، ہمیں سیاست سے بالا تر ہو کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے،ناراضگی کے نام پر بات تب ہوگی جب پاکستان کے جھنڈے کو تسلیم کرنا ہوگا،ناراضگی کے نام پر دہشتگردی کرنے والوں کو ریاست کو تسلیم کرنا ہوگا،یہ کونسی ناراضگی ہے جس میں ریاست نہیں ہے،یہ ملک ہم سب کا ہے ، ہم سب نے ہی اس کو بچانا اور مضبوط بنانا ہو گا،
شبلی فراز کاکہنا تھا کہ بلوچستان بدل چکا ہے، بلوچستان میں نوجوان ہیں انکی مختلف ڈیمانڈ ہیں، آج کل کی ینگ جنریشن بلیک اینڈ وائیٹ کو دیکھتی ہے، ہم جیسے لوگ گرے ایریاز میں پھرتے تھے،عوام کے مسائل کے حل کیلئے عوام سے بات کرنی چاہیے، بلوچستان میں جو ماحول بن گیا ہے وہ بلوچستان نہ پاکستان کے حق میں ہے،بلوچستان میں الیکشن کا کچھ اور ہی لیول تھا اسی لیے وہاں اضطراب پایا جاتا ہے،
ایک بلوچی کے طور پر میرا چہرہ بری طرح مسخ ہوا ،سینیٹر کامران مرتضیٰ
سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جس طرح 25 اور 26 کی رات نسل اور زبان کی بنیاد پر قتل عام ہوا ہے یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ ایک بلوچی کے طور پر میرا چہرہ بری طرح مسخ ہوا ہے اور یہ طعنہ آنیوالے برسوں تک میرے ساتھ جڑا رہے گا کہ رنگ نسل اور زبان کی بنیاد پر لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر مارا گیا۔ میں اس تکلیف کو نہیں بھول سکتا،یہ ایک بہت بڑا ظلم ہوا ہے، میرا خیال تھا کہ ہاؤس اس پر بات کرے گا لیکن قومی اسمبلی میں کسی نےبات نہیں کی،یہاں سینیٹ میں بھی بات نہیں ہو رہی،کیا یہ وقت آ گیا ہے ، ہم کتنے گرگئے ہیں کہ ایسے واقعات پر خاموش رہیں، جو مزدوری کرنے گئے تھے وہ مار دیئے گئے، ہم نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی، جب اس طرح قتل عام ہو گا تو وہاں کوئی کاروبار نہیں کرنے جائے گا ،وفاقی ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں.
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری امتیاز کو کل اسمبلی لایا گیا، انکے پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے تھے، ان پر مقدمہ بھی اینٹی کرپشن کا ہے،بڑے ادب سے کہہ رہا ہوں کہ ہم جیسے پڑھیں گے ویسے پڑھائیں گے ایسی بات بالکل نہیں، اس ایوان کا وقار،اراکین کا تحفظ ہونا چاہئے،
موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان متحرک ہو گئے،مولانا فضل الرحمان کی لاہور میں سربراہ ق لیگ چوہدری شجاعت حسین کی رہائشگاہ آمد ہوئی ہے،ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے تفصیلی ملاقات ہوئی،ملاقات میں صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین بھی موجود تھے.
چوہدری شجاعت نے 22اگست کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خوشی میں ہمیں حلوہ کھلایا۔مولانا فضل الرحمان
ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ
چوہدری شجاعت حسین ہمارے بزرگ اور دوست ہیں ۔ ہم چوہدری شجاعت حسین کی عیادت کیلئے آئے تھے ۔
لیکن چوہدری شجاعت حسین نے 22اگست کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خوشی میں ہمیں حلوہ کھلایا۔بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی معلومات میرے پاس نہیں ہیں، سیکیورٹی ایجنسیاں بہتر بتاسکتی ہیں،آصف زرداری ضرور تشریف لائے ہیں ہم نے بھائیوں کی طرح ان سے ملاقات کی ہے، آصف زرداری کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے،نو مئی کے حوالے سے ریاستی اداروں کو فیصلہ کرنا ہے، حکومت پانچ سال پورے کرے گی یا نہیں میں نجومی نہیں ہوں،اس پارلیمان کو عوام کا نمائندہ نہیں سمجھتا، تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے 12 سال ہماری مخالفت رہی ہے، دنوں کے اندر معاملات بہتر نہیں ہو سکتے،
سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے پیش نظر پارلیمنٹ کا مشترکہ بند کمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا
رضا ربانی نے بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور سویلینز پر حالیہ حملے ملک میں عدم استحکام کے لیے کیے گئے، ایسی کارروائیاں کامیاب نہیں ہوں گی،حکومت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرے، بند کمرہ اجلاس میں پارلیمنٹ کو دہشت گردی بڑھنے سے متعلق بریفنگ دی جائے،قوم تمام اقسام کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، قوم اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیز کے ساتھ کھڑی ہے، قوم کی مدد سے دہشت گردی کو شکست دی جائے گی۔
ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ دہشت گردوں کا اصل ہدف بلوچستان کی ترقی ہے۔ سی پیک کے ترقیاتی پراجیکٹس کی بحالی ملک دشمن عناصر کو کھٹک رہی ہے۔ جیسے جیسے سی پیک منصوبہ تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے دہشت گردانہ کارواٸیاں تیز ترین ہوتی جا رہی ہیں۔ بولان کے ریلوے ٹریک کا پل تباہ کرنا بھی دہشت گردوں کے مذموم عزاٸم واضح کرتا ہے۔ ماہ رنگ باز کا مسنگ پرسنز اور بلوچی حقوق کا رنڈی رونا تو بس ایک بہانہ ہے۔ بلوچستان کو ان دہشت گردوں نے کھنڈرات بنانا ہے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جس طرح 25 اور 26 کی رات نسل اور زبان کی بنیاد پر قتل عام ہوا ہے یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ ایک بلوچی کے طور پر میرا چہرہ بری طرح مسخ ہوا ہے اور یہ طعنہ آنیوالے برسوں تک میرے ساتھ جڑا رہے گا کہ رنگ نسل اور زبان کی بنیاد پر لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر مارا گیا۔ میں اس تکلیف کو نہیں بھول سکتا،یہ ایک بہت بڑا ظلم ہوا ہے، میرا خیال تھا کہ ہاؤس اس پر بات کرے گا لیکن قومی اسمبلی میں کسی نےبات نہیں کی،یہاں سینیٹ میں بھی بات نہیں ہو رہی،کیا یہ وقت آ گیا ہے ، ہم کتنے گرگئے ہیں کہ ایسے واقعات پر خاموش رہیں، جو مزدوری کرنے گئے تھے وہ مار دیئے گئے، ہم نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی، جب اس طرح قتل عام ہو گا تو وہاں کوئی کاروبار نہیں کرنے جائے گا ،وفاقی ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں.