Baaghi TV

Tag: بلوچ یکجہتی کمیٹی

  • بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کا بظاہر سافٹ فیس، پراکسی کا منظم نیٹ ورک

    بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کا بظاہر سافٹ فیس، پراکسی کا منظم نیٹ ورک

    بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر کام کر رہی ہے-

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں، خصوصاً فتنہ الہندوستان کے لیے بظاہر ایک سافٹ فیس کے طور پر کام کر رہی ہے اور بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں فعال کردار ادا کر رہی ہےیہ مؤقف قیاس آرائی نہیں بلکہ 2025 سے مسلسل سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے، جس کی توثیق اب ٹھوس شواہد سے بھی ہوچکی ہے۔

    مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی اور دہشتگردوں کی حمایت کے لیے پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے منظم پروپیگنڈا مہم چلائی جاتی ہے اسی تناظر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے ماہرنگ بلوچ کی قیادت میں اسپتالوں سے ہلاک دہشتگردوں کی لاشیں زبردستی تحویل میں لینے کی کوشش کی، جسے ذرائع ابلاغ نے شناخت اور قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی مجرمانہ کوشش قرار دیا۔

    مریم نواز کا صوبے میں نئے اسپتالوں کی جلد تکمیل کا حکم

    حکام کے مطابق دہشتگردوں کی ہلاکتوں کو فوری طور پر ’لاپتا افراد‘ کے بیانیے میں شامل کرکے حقائق، شناخت اور وابستگی سامنے آنے سے پہلے ہی متاثرہ ہونے کا تاثر قائم کیا جاتا ہے 23 مئی 2025 کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت دہشتگرد نیٹ ورکس کی پراکسی اور سہولتکار کے طور پر کام کر رہی ہے اور جبری گمشدگیوں کے بیانیے کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

    حالیہ دنوں میں سی ٹی ڈی، پولیس اور دیگر اداروں نے تربت کے رہائشی ساجد احمد کو گرفتار کیا، ڈی آئی جی اعتزاز گورایا کے مطابق ساجد احمد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے سوشیالوجی میں ماسٹرز ہے اور سرکاری کالجوں سمیت یونیورسٹی آف تربت میں لیکچرار رہ چکا ہے حکام کے مطابق وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی سے مسلسل رابطے میں رہا اور قیادت سے قریبی تعلق رکھتے ہوئے دہشتگرد نیٹ ورکس کی سہولتکاری میں ملوث تھا، جس کا اس نے اعترافی بیان میں بھی اقرار کیا۔

    احسن اقبال کی لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے سے متعلق وضاحت

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید 3 سہولتکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انٹیلیجنس یا دہشتگردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد کا بلوچ یکجہتی کمیٹی سے سابقہ تعلق سامنے آیا ہے ان میں خاران کا 18 سالہ سرفراز شامل ہے، جسے پولیس اور پولیو ٹیموں کی ریکی کی ذمہ داری دی گئی تھی سرفراز کو پہلے بلوچ یکجہتی کمیٹی میں شامل کیا گیا جہاں اس نے احتجاجی مظاہروں اور سڑکوں کی بندش میں کردار ادا کیا۔

    حکام کے مطابق سرفراز کو جہانزیب عرف مہربان نے بھرتی کیا، جس نے بعد میں ایک اور 18 سالہ نوجوان بیزن کو بھی پہلے بی وائی سی میں شامل کروایا۔ بیزن کا بھائی شفقت یار خَد کوچہ میں لیویز فورس پر حملے میں مارا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتاہے کہ خاندانی نقصان اور محرومی کے جذبات کو نوجوانوں کی بھرتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق فتنہ الہندوستان کے دعوؤں کے برعکس شواہد موجود ہیں کہ نابالغوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ابتدائی بھرتی کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس کے بعد نوجوانوں کو دہشتگردی کی سرگرمیوں کی طرف دھکیلا جاتا ہےاس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں نفسیاتی مشاورت، والدین سے رابطہ اور سماجی بحالی پر توجہ دی جائے گی۔

    پشاور 9 مئی واقعات میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی

    ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کے نام پر ایک حفاظتی پردہ فراہم کرتی ہے، جو دہشتگرد واقعات کے فوراً بعد متحرک ہو کر حملہ آوروں کو متاثرین کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ سمیت بین الاقوامی سطح پر بی وائی سی کی پروپیگنڈا سرگرمیاں بیرونی سرپرستی اور منظم حکمت عملی کی عکاس ہیں۔

    ماہرین کے مطابق مارچ 2025 کے جعفر ایکسپریس واقعے، مارچ اور مئی 2025 میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے انکشافات اور جنوری 2026 میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی شواہد پر مبنی بریفنگ مل کر ایک مسلسل اور ہم آہنگ سرکاری ریکارڈ تشکیل دیتے ہیں، جس کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک آزاد انسانی حقوق کی تنظیم کے بجائے فتنہ الہندوستان کا سافٹ فیس، بھرتی کا ذریعہ، بیانیاتی ڈھال اور بین الاقوامی رابطہ کاری کا متحرک ونگ بن چکی ہے۔

    باغی ٹی وی،کھری صحافت کا امین،تحریر: جان محمد رمضان

  • نبیل احمد کی گمشدگی، بی وائی سی اور بی ایل ایف کے بیانات میں تضاد

    نبیل احمد کی گمشدگی، بی وائی سی اور بی ایل ایف کے بیانات میں تضاد

    بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف سرگرم تنظیم "بلوچ یکجہتی کمیٹی نے حالیہ دنوں نبیل احمد کی مبینہ گمشدگی کی تفصیلات جاری کیں، جن کے مطابق نبیل احمد کو 23 مارچ 2025 کو صبح 5 بجے گوادر کے علاقے "دو بست و پنجہ” سے فوجی انٹیلیجنس (ایم آئی) نے اغوا کیا۔

    بی وائی سی نے نبیل کو ایک طالبعلم اور شاعر قرار دیا، اور اس واقعے کو "بلوچ نسل کشی” کی ایک کڑی کہا۔تاہم، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک متنازعہ پوسٹ نے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے۔ معروف صارف بہرام خان (@behram_91khan) نے ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ نبیل احمد دراصل بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) کا سرگرم رکن تھا، جسے تنظیمی اصطلاح میں "سرمچار” کہا جاتا ہے۔ بہرام خان نے بی ایل ایف کی ایک پریس ریلیز کا حوالہ دیا، جس میں نبیل احمد کی عسکری وردی میں تصویر بھی شامل ہے۔

    اس تضاد نے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی جدوجہد اور عسکریت پسندی کے بیانیوں کے درمیان موجود پیچیدگیوں کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ ایک طرف بی وائی سی جیسے گروہ جبری گمشدگیوں کو ریاستی جبر قرار دیتے ہیں، تو دوسری طرف بعض افراد ان دعوؤں کو عسکری وابستگیوں سے جوڑ کر متنازعہ بناتے ہیں.

    ایرانی سرحد پر فائرنگ، روزگار کی تلاش میں گئے 10 افغان نوجوان جاں بحق

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، سات دہشت گرد ہلاک

    افغانستان میں طالبان دھڑوں کی خانہ جنگی،خطے میں نیا بحران

  • ماہ رنگ بلوچ کی درخواست  ضمانت  مسترد، محفوظ فیصلہ جاری

    ماہ رنگ بلوچ کی درخواست ضمانت مسترد، محفوظ فیصلہ جاری

    بلوچستان ہائیکورٹ میں دو رکنی بینچ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کی نقاص امن اور 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری کیخلاف دائر آئینی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست مسترد کردی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہ رنگ بلوچ کے وکیل کامران مرتضیٰ نے بتایا ہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کیخلاف دائر آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔بلوچستان ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس اعجاز سواتی اور جسٹس محمد عامر رانا پر مشتمل بینچ نے گزشتہ جمعرات کو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کیخلاف دائر آئینی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کیخلاف آئینی درخواست کی سماعت میں دلائل مکمل ہونے پر جمعرات کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، مذکورہ آئینی درخواست میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو رہا کرنے اور 3 ایم پی او کے تحت احکامات کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

    امریکا کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز بھی ہوسکتے ہیں اور بے نتیجہ بھی، ایرانی سپریم لیڈر

    مالدیپ میں اسرائیلی پاسپورٹ کے حامل افراد کے داخلے پر پابندی عائد

    اوچ شریف کی اُمِ ایمن کا تاریخی کارنامہ، نیشنل آرٹ مقابلے میں پہلی پوزیشن اپنے نام کرلی

  • بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ رہا

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ رہا

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کو کراچی کی جیل سے ایک ہفتے بعد رہا کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سمی دین بلوچ کو عوامی نظم و نسق آرڈیننس (ایم پی او) کے تحت ایک ہفتے کی حراست کے بعد رہا کر دیا گیا۔ سمی دین بلوچ اور پانچ دیگر افراد کو 24 مارچ کو نافذ کردہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔اقوام متحدہ کے ماہرین سے لے کر ایمنسٹی انٹرنیشنل، سول سوسائٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور اراکین نے نہ صرف ان کی رہائی بلکہ دیگر زیر حراست بلوچ حقوق کے لیے آواز بلند والے کارکنوں، بشمول بی وائی سی کے منتظم ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

    عدالتی مجسٹریٹ کی جانب سے کارکنوں کو رہا کرنے اور اگلے دن ان کی رہائی کا حکم دینے کے باوجود، سمی دین بلوچ کو ایم پی او کے تحت 30 دنوں کے لیے حراست میں لے لیا گیا تھا۔تاہم محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے آج جاری کردہ ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ سمی دین کا نام سابقہ ایم پی او حراستی حکم سے واپس لے لیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ نے کراچی سینٹرل جیل کے سینئر سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا کہ اگر سمی دین کسی اور کیس میں مطلوب نہ ہوں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔

    کراچی، عیدالفطر کے دوسرے روز بھی شہریوں نےبھرپور عید منائی

    پاکستان میں بھارتی دہشت گردی اور بڑھتا ہوا سیاسی و معاشی بحران

    پنجاب میں سکولوں کےاوقات کارکا نیا شیڈول جاری

    عید کا دوسرا روز، ملک میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا

  • کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا احتجاج ، 15 مظاہرین گرفتار

    کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا احتجاج ، 15 مظاہرین گرفتار

    کراچی پولیس نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی احتجاجی کال پر کراچی پریس کلب کے قریب جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرتے ہوئے 15 افراد کو حراست میں لے لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی اور سول سوسائٹی نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت اپنے اہم رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کے خلاف آج کراچی پریس کلب پر احتجاج کی کال دی تھی۔مظاہرین جیسے ہی پریس کلب کے قریب پہنچے تو پولیس نے تمام راستے سیل کرتے ہوئے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔اس موقعے پر کمیٹی کی رہنما سیمی بلوچ اور دیگر مظاہرین نے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے سیمی دین بلوچ سمیت متعدد مظاہرین کو گرفتار کر کے مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا۔

    اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور احتجاج کے باعث ایک اور ہولناک ٹریفک جام، ہزاروں افراد کئی گھنٹے سڑکوں پرپھنس رہے.احتجاج کے پیش نظر پولیس نے پریس کلب کے اطراف کی سڑکوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا تھا جس کے باعث صدر، شارع فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ سمیت ملحقہ سڑکوں پر شدید ٹریفک جام رہا اور لوگ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔ ٹریفک میں پھنسے افراد افطاری بھی سڑک پر کرنے پر مجبور ہوگئے۔

    پیپلزپارٹی سندھ کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، شرجیل میمن

    سندھ میں 78 لاکھ بچے سکولوں سے باہر

    پاکستان نرسنگ کونسل انسانی سمگلنگ میں ملوث، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    صحافی فرحان ملک کے دفترپر چھاپہ، کمپیوٹر اور یو ایس بی ضبط

    صحافی فرحان ملک کے دفترپر چھاپہ، کمپیوٹر اور یو ایس بی ضبط