Baaghi TV

Tag: بلوچ

  • لیاقت بلوچ کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم

    لیاقت بلوچ کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم

    نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    اپنے بیان میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ عالم اسلام کے اتحاد کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے پوری امت کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ عالم اسلام ملتِ اسلامیہ کے لیے متحد ہو، مکہ دفاعی معاہدہ مسلم ممالک کے دفاع، سفارتکاری، صنعت اور تجارت کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔

    لیاقت بلوچ نے تجویز دی کہ اس معاہدے میں وسعت لاکر قطر، ایران، انڈونیشیا، ملائشیا اور بنگلہ دیش کو بھی شامل کیا جائے تاکہ اتحاد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے، امریکی اڈے مسلم ممالک کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ امریکی عزائم کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ہیں-

    دوسری،جانب،پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ میں ہونے والے دفاعی معاہدے کی خوشی میں کراچی کی سرکاری و تاریخی عمارتوں کو برادر اسلامی ممالک کے قومی پرچموں اور خصوصی روشنیوں سے سجا دیا گیا،کراچی کی اہم سرکاری عمارتیں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے رنگوں سے جگمگا اٹھیں، سندھ اسمبلی کی عمارت پر تینوں ممالک کے قومی پرچم آویزاں کیے گئے جبکہ سندھ سیکریٹریٹ کو بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے جھنڈوں کی مناسبت سے خصوصی لائٹنگ سے سجایا گیا۔

    شہر کی تاریخی عمارت فریئر ہال بھی پاک سعودی ترک دفاعی معاہدے کی مناسبت سے خصوصی روشنیوں سے روشن کردی گئی، عمارت پر کی جانے والی خوبصورت لائٹنگ نے شہریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔

  • بلوچوں کی نسل کشی جاری، بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    بلوچوں کی نسل کشی جاری، بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچوں کی نسل کشی جاری ہے بھارتی پراکسیز کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکاہے۔

    بلوچ عوام فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے بیانیہ کو مسترد کر کے بلوچ نسل کشی کیخلاف آواز اٹھانے لگےفتنہ الہندوستان کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلیدہ کے نوید ہاشم کے اہلِ خانہ نے تربت میں اہم پریس کانفرنس کی ہےجس میں فتنہ الہندوستان کے سفاک دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوید ہاشم کی ماں نے دکھ بھری داستان سناتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے میرے بیٹے کو اغوا کر کے 26 دن تک لاپتہ رکھا۔

    انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے میرے بیٹے پر تشدد کیا اور اذیتیں دےکر شہید کر دیا شہید کرنے کے بعد میرے بیٹے کی لاش کو پیرکین میں پھینک دیا گیا کوئی بلوچ اپنے بھائیوں کے ساتھ ایسا کر ہی نہیں سکتا،ماؤں کے دل مت توڑیں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے معصوم بچوں کو یتیم کر دیا دہشتگردوں نے تین معصوم بچوں سے ان کے باپ کا سایہ چھین لیایہ بات فتنہ الہندوستان کی طرف سے کی گئی ہے کہ ہم نے مارا ہے اور پھینک دیا ہےاگر اس طرح فتنہ الہندوستان بے گناہ لوگوں کو مار کر پھینک دیتی ہے تو یہ بلوچ قوم کی دوست نہیں۔

  • ہر میدان میں کامیاب اور باہمت،بلوچ خواتین،اک مثال

    ہر میدان میں کامیاب اور باہمت،بلوچ خواتین،اک مثال

    بلوچ خواتین نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کا فخر ہیں کیونکہ انہوں نے ہر میدان میں خود کو منوایا ہے۔ ان خواتین نے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی خواتین کو مردوں کی طرح قابل بنانے کا ماحول فراہم کر رہی ہیں تاکہ وہ مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔ بلوچ خواتین نے اس ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے مختلف میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

    اے ایس پی پری گل ترین: ایک مثالی رہنما
    پشین سے تعلق رکھنے والی اے ایس پی پری گل ترین ایک سی ایس پی آفیسر ہیں جنہوں نے 2020 میں اعلیٰ خدمات سرانجام دیں۔ اس وقت وہ کوئٹہ میں خواتین اور نوجوانوں کے سہولت کاری مرکز کی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی محنت اور عزم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ خواتین کسی بھی شعبے میں پیچھے نہیں ہیں۔

    جسٹس طاہرہ صفدر: بلوچستان کی پہلی خاتون چیف جسٹس
    جسٹس طاہرہ صفدر بلوچستان ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس تھیں، جنہوں نے اپنی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ان کی کامیابی نے بلوچستان اور پاکستان بھر میں خواتین کے حقوق اور ان کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

    بتول اسدی: بلوچستان کی پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر
    بتول اسدی بلوچستان کی پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر (AC) کوئٹہ تھیں۔ انہوں نے سرکاری انتظامیہ میں اپنی محنت اور قابلیت کے ذریعے ایک نئی راہ ہموار کی، جو بلوچستان کی دیگر خواتین کے لیے ایک نمونہ ہے۔

    سائرہ بتول: بلوچستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ
    بلوچ خواتین مسلح افواج میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ سائرہ بتول بلوچستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ ہیں، جنہوں نے پاک فضائیہ میں اپنی محنت اور لگن کے ساتھ نئی تاریخ رقم کی ہے۔

    ذکیہ جمالی: پاکستان کی پہلی خاتون کمیشنڈ نیول آفیسر
    ذکیہ جمالی نے پاکستان کی پہلی خاتون کمیشنڈ نیول آفیسر کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے بحریہ میں اپنے کام کے ذریعے خواتین کی مضبوط موجودگی کو ثابت کیا۔

    شازیہ سرور: بلوچستان کی بہادر خاتون پولیس افسر
    پی ایس پی افسر شازیہ سرور جو لیہ پنجاب میں ڈی پی او رہ چکی ہیں، ایک مضبوط بلوچ خاتون ہیں جن کا تعلق بولان سے ہے۔ شازیہ سرور نے اپنی بہادری اور عزم کا مظاہرہ کیا، اور مچھ حملے میں بی ایل اے کا نشانہ بنی تھیں۔

    دوسری طرف، بلوچ خواتین کا استحصال کرنے والے گروہ بھی موجود ہیں۔ ان گروپوں میں شری بلوچ، سمیہ قلندرانی، محل بلوچ، گنجتون اور دہشت گردوں کے ہمدرد جیسے نائلہ قادری اور ماہ رنگ بلوچ شامل ہیں۔ یہ گروہ بلوچ خواتین کو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں استعمال کرتے ہیں اور انہیں آسان ہدف بناتے ہیں۔ ایک مثال کے طور پر، مہروش بلوچ (خودکش بمبار شری بلوچ کی بیٹی) BLA کی تحویل میں ہے۔بلوچ خواتین دہشت گرد تنظیموں کی سازشوں کا آسان ہدف بن جاتی ہیں۔ فروری 2023 میں، محل بلوچ کو خودکش جیکٹ لے جانے کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ لیفورسمنٹ ایجنسیز کے شبہات سے بچا جا سکے۔ان تمام چیلنجز کے باوجود، بلوچ خواتین ترقی، تعلیم اور خود مختاری کی راہ پر گامزن ہیں۔ منفی عناصر انہیں گمراہ نہیں کر سکتے، اور یہ خواتین اپنی کامیابی کے سفر میں ثابت قدم ہیں۔

    بلوچ خواتین نے ہر میدان میں اپنی محنت، عزم اور ہمت کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ان کا سفر ایک روشن مثال ہے جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے۔

    خواتین کا عالمی دن، صبا قمر دیہی خواتین کے پاس پہنچ گئیں

  • محنت کشوں کے قتل میں مطلوب بی ایل اے کا مفرور دہشتگرد بشیر جہنم واصل

    محنت کشوں کے قتل میں مطلوب بی ایل اے کا مفرور دہشتگرد بشیر جہنم واصل

    گوادر کے علاقے سربندر میں 7 مظلوم محنت کشوں کے قتل میں مطلوب بی ایل اے کا مفرور دہشتگرد بشیر جہنم واصل کر دیا گیا

    دوران پیشگی ملزم بشیر کے مہرنگ ، بلوچ یکجہتی کمیٹی ، سوشیل میڈیا کے استعمال اور دہشتگرد تنظیموں سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے، بشیر نامی دہشتگرد نے بتایا کے کس طرح بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دہشتگرد تنظیمیں بلوچ نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکساتی اور جرم کرنے پر مجبور کرتی ہیں ،مزید براں مہرنگ بلوچ جیسی خواتین کا کردار محض دہشتگرد کارروائیاں اور لوگوں کو جھوٹ ، نفرت اور فریب کے جال میں پھنسانا ہے- بشیر کوسٹل ہائیوے پولیس کا ملازم بھی تھا ،

    8 اور 9 مئی 2024 کی شب سربندر، گوادر میں کام کرنے والے پنجابی محنت کشوں کو بشیر نامی بی ایل اے کمانڈر نے اپنے ساتھیوں سمیت بے رحمی سے قتل کیا تھا ،10 مئی کو زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے سربندر میں اس سفاکانہ قتل ، بلوچ یکجتی کمیٹی اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خلاف بہت بڑی احتجاجی ریلی نکالی تھی،31 مئی کو تعینات وزیر داخلہ ضیاء لانگو صاحب نے بشمول سی ٹی ڈی ، سانحہ سربندر کے 2 ملزم گرفتار ہونے کے متعلق ہنگامی پریس کانفرنس منعقد کی ،31 مئی سے 10 نومبر 2024 تک ملزم دہشتگرد بشیر جوڈیشل لاک اپ میں زیر حراست تھا اور مختلف دفعات میں کورٹ میں پیش ہو چکا تھا- دوران پیشگی ملزم نے اعتراف جرم کے ساتھ بی ایل اے سے تعلق کا بھی اعتراف کیا

    10 نومبر کی رات ملزم بشیر لاک اپ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا- چنانچہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس بارے میں اطلاع کر دیا گیا تھا ،21 نومبر کی رات خفیہ اطلاعات ملتے ہی،اور مقامی لوگوں کی نشاندہی پر گرینڈ آپریشن کیا گیا – 21 نومبر کوسیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران آپریشن میں بشیر ہلاک ہوگیا ،بشیر کے اعتراف جرم کی خبر دہشتگرد تنظیم کو ہو چکی تھی – بشیر کو فرار کرانے میں کالعدم تنظیم بی ایل اے پس پردہ ہے،ہمیشہ کی طرح دہشت گردوں کے سہولت کار اس بار بھی بشیر جیسے خطرناک دہشت گرد کو معصوم بنا کر پیش کرنے اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں

    دہشتگردوں کی سہولت کار،ملک دشمنوں کی ایجنٹ،ماہ رنگ بلوچ پر مقدمہ درج

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • ماہ رنگ بلوچ کا نام سفری پابندی فہرست سے نکلوانے کی درخواست،نوٹس جاری

    ماہ رنگ بلوچ کا نام سفری پابندی فہرست سے نکلوانے کی درخواست،نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی نام سفری پابندی کی فہرست سے نکلوانے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے وزارتِ داخلہ کے مجاز افسر کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے سماعت کی،ماہ رنگ بلوچ اپنے وکلاء ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے ہمراہ عدالت پیش ہوئی، عدالت نے کیس کی سماعت اگلے ہفتہ تک ملتوی کر دی،ماہرنگ بلوچ کا نام سفری پابندی سے ہٹانے کے کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وکیل ایمان مزاری کیساتھ ماہ رنگ بلوچ بھی روسٹرم پر پہنچیں،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق برہم ہوئے اور کہا انھیں کہیں واپس بیٹھ جائیں، اپنی کلائنٹ کو کہیں کہ نشست پر تشریف رکھیں، میں وکلا کے علاوہ کسی کو بھی یہاں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دیتا،ایمان مزاری نے کہا انھوں نے کچھ نہیں بولنا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ کو روسٹرم سے ہٹا دیا.

    اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ماہ رنگ بلوچ کی وکیل ایمان مزاری سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنی درخواست میں آئی ایس آئی کو کیوں فریق بنا دیا ہے؟ وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ نو فلائی لسٹ کو ایجنسیز بھی دیکھتی ہیں، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نہیں، ایسا نہیں ہے، آپ نے ایسے ہی اُنہیں فریق بنا دیا ہے،

    دہشتگردوں کی سہولت کار،ملک دشمنوں کی ایجنٹ،ماہ رنگ بلوچ پر مقدمہ درج

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • انہیں نہیں معلوم ایسے اقدامات سے ریاست کیخلاف نفرت پیدا ہوتی ،جسٹس محسن اختر کیانی

    انہیں نہیں معلوم ایسے اقدامات سے ریاست کیخلاف نفرت پیدا ہوتی ،جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد ہائیکورٹ، بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پرسماعت کی، درخواست گزار ایمان مزاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دوگل اور اسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن بھی عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ” آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی، سی ٹی ڈی اور ایف آئی اے عہدیدران پر مشتمل کمیٹی بنادی تھی، کیا اس کمیٹی نے کوئی ورکنگ کی ہے ؟”. اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر عدالت عید کے بعد کا وقت دے دے، جس پر جسٹس محسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لاپتہ ہیں انہوں نے بھی عید کرنی ہے۔

    ایمان مزاری ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ میں واضح کرنا چاہتی ہوں ادھرکوئی بیان دیا جاتا ہے بلوچستان میں کچھ اور ہوتا ہے گزشتہ سماعت کے بعد مسنگ پرسنز کے نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں انیس الرحمان کو 5 جون کو خضدار سے جبری طور پر لاپتا کیا گیا، انیس الرحمان ابھی مسنگ ہے باقی طالب علم بازیاب ہوئے ہیں.جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب لانگ ٹرم مسنگ کا معاملہ شارٹ ٹرم مسنگ کی شکل اختیار کررہا ہے، کسی لیول پر پالیسی میکرز سے کسی نے سوال کیا؟ وہ محسوس نہیں کر رہے کہ ریاست کے خلاف کس طرح نفرت بڑھ رہی ہے، ہوں گے ضرور ان میں دہشتگرد بھی لیکن جو بھی ہونا ہے قانون کے مطابق ہونا ہے،ایمان مزاری نے کہا کہ پہلے لاپتہ کرتے ہیں پھر سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیتے ہیں، اب یہ معاملہ پورے ملک میں بڑھ رہا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر ایکشن کا ایک ری ایکشن ہوتا ہے ،انہیں نہیں معلوم ایسے اقدامات سے ریاست کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے، عدالتوں نے بھی ابھی تک صرف لاپتا افراد کی ریکوری پر فوکس کیا، ہم کبھی لاپتا افراد کی ریکوری سے آگے نہیں گئے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ "95 میں سے 91 افراد لاپتہ ریکور ہوئے جس دن ان کے بیانات ہم نے ریکارڈ کر لئے آپ کی آدھی حکومت آفیشلز پراسیکیوٹ ہو جائیں گی ” عالمی سطح پر ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار بھی یہاں نہیں آ رہے،وئی سفیر پاکستان آنے کو تیار نہیں، میں نے بازیاب افراد کو بلا کر بیانات ریکارڈ کروا لئے تو آپ کے افسران کیخلاف کارروائی ہوگی۔عدالتیں فرسٹریٹ ہو کر کیس بند نہیں کر دیتیں، وہ فیصلہ دیتی ہیں،

    بلوچ طلباء کی بازیابی سے متعلق عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی،اس حوالے سے تفصیلی آرڈر پاس کروں گا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری کے والد کو 30 لاکھ روپے معاوضہ دینےکا حکم

    لاپتہ افراد کی بازیابی کیس:وفاقی حکومت اور دیگر اداروں سے رپورٹ طلب

    رپورٹ آ گئی، لاپتہ افراد کہاں ہیں، کہانی کھل گئی

    لڑکی سمیت 9 لاپتہ افراد کی بازیابی کا کیس، پیشرفت نہ ہونے پرعدالت برہم

    آٹھ برس سے لاپتہ شہری بازیاب کیوں نہ ہوا،عدالت برہم،رپورٹ طلب

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • جب تک مسنگ پرسنز کے کیسز ہوتے رہیںگے یہ عدالتیں کام کرینگی،جسٹس محسن اختر کیانی

    جب تک مسنگ پرسنز کے کیسز ہوتے رہیںگے یہ عدالتیں کام کرینگی،جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ طلبا کی بازیابی سے متعلق قائم کمیشن کی سفارشات پرعملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی نے سماعت کی،گمشدہ بلوچ طلبا کی جانب سے وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے،اٹارنی جنرل نے لاپتہ افراد کیلئے قائم کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت نے ایک کمیٹی بنائی تھی،اس کمیٹی کے کچھ ٹی او آرز تھے،گزشتہ 10سال میں بلوچ طلبا کیخلاف دہشتگردی کے کتنے کیسز درج کئے گئے؟ کوئی بھی جج، وکیل،صحافی، پارلیمنٹیرینز ایجنسیوں کو کام سے روکنے کی بات نہیں کرتے، صرف خلاف قانون کام کرنے سے روکنے کی بات کرتے ہیں، ایجنسیزکا کام کرنے کا طریقہ کارواضح ہو جائے تو اچھا ہوگا، قانون میں ایف آئی اے اور پولیس تفتیش کر سکتی ہیں,،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایجنسیز تفتیش میں معاونت کرسکتی ہیں،ہمیں قانون کے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا چاہئے،یہ 21ویں سماعت ہورہی ہے،آپ کی محنت سے کئی سٹوڈنٹس بازیاب ہوئے ہیں

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ بہت سے لوگ ایجنسیوں کی تحویل میں ہوتے ہیں، وہ کھاتے پیتے بھی ہونگے، خرچ سرکاری خرانے پر آتا ہے؟ایجنسیوں کے فنڈز کا کوئی سالانہ آڈٹ ہوتا ہے؟ہم نے پولیس، سی ٹی ڈی اور ایف آئی اے کو موثر بنانا ہے،یہی تین ادارے ہیں جنہوں نے تفتیش کرنی ہوتی ہے باقی ایجنسیاں انکی معاونت کر سکتی ہیں،”ایجنسیوں کے کام پر کسی کو اعتراض نہیں، اعتراض ماورائے قانون کام کرنے پر ہے،ہم سب نے قانونی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے،جنگ میں بھی سفید جھنڈا لہرا کر سیز فائر کی جاتی ہے بات چیت کر کے حل نکالا جاتا ہے”،جب تک مسنگ پرسنز کے کیسز ہوتے رہیں گے یہ عدالتیں کام کرینگی،وزیرِ اعظم شہباز شریف کو عدالت میں طلب کیا، انہوں نے بھی یہی کہا، ہم سب نے قانونی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے اس ملک نے دہشت گردی میں 70 ہزار جانیں گنوائی جا چکی ہیں، قانونی دائرے میں جو اختیار ملتا ہے اس پر عمل درآمد کریں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سیاسی طور پر اس مسئلے کے حل تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ مطلب آپ یہ مانتے ہیں کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے؟ ہم نے باہر سے کسی کو نہیں بلانا کہ آ کر مسئلہ حل کرے، غلطیاں ہوتی ہیں غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہوتا ہے، یہ 21 ویں سماعت ہے، آپ کی محنت سے کئی اسٹوڈنٹس بازیاب ہوئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے لاپتہ افراد کیسز میں بہت کام کیا، جو رہ گیا وہ بھی کریں گے، تھوڑا وقت دے دیں، لاپتہ افراد سے متعلق سیاسی حل بھی تلاش کیا جا رہا ہے، ہماری بھی یہی استدعا ہے کہ تھوڑا وقت دے دیا جائے۔

    اٹارنی جنرل کی کاوشوں سے بہت سے لاپتہ افراد اپنے گھروں کو پہنچ گئے ،جسٹس محسن اختر کیانی
    ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ لواحقین کو ڈرایا دھمکایا گیا، لاپتہ افراد پر کمیٹی بنائی گئی، کمیٹی میں سے کوئی بھی لواحقین سے ملنے نہیں گیا، کمیشن بنا دیا گیا لیکن کوئی بھی پروگریس نہیں ہے، لاپتہ افراد کے لواحقین کو کوئی بھی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق جو معلومات عدالت میں دی گئیں وہ درست نہیں ہیں، اس معاملے میں اٹارنی جنرل کی کاوشوں کو سراہنا ہو گا، اٹارنی جنرل کی کاوشوں سے بہت سے لاپتہ افراد اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں، جب تک مسنگ پرسنز کے کیسز آتے رہیں گے یہ کورٹس کام کرتی رہیں گی، ایک کیس نہیں ہے کہ اس پر آرڈر کریں اور بات ختم ہو جائے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ کابینہ کے آئندہ 2 اجلاسوں میں اٹھایا جائے گا، عدالت ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی آئی بی کی کمیٹی میں تبدیلی کرے، اس کمیٹی میں ڈی جیز لیول سے نیچے کے لوگ ڈالیں تاکہ کوآرڈی نیشن آسان ہو،عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایمان مزاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں آرڈر جاری کروں گا وہ آپ دیکھ لیں، اٹارنی جنرل صاحب یہ بتائیں کہ آپ جیسے لوگ کہاں پر ہیں جو مسائل کو حل کرتے ہیں،اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سر یہ بہت مشکل سوال ہے، اس معاملے کو اگر حل نہیں کیا تو مسائل بڑھیں گے،عدالت نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایک اور لاپتہ فرد کا کیس ہے، اس میں بھی آپ آئیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اس کیس میں ضرور آؤں گا،عدالت نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت 14 جون تک ملتوی کر دی۔

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

  • دہشت گرد ہے تو پرچہ دیں کاروائی کریں لیکن ماورائے عدالت کاروائی نہ کریں،عدالت

    دہشت گرد ہے تو پرچہ دیں کاروائی کریں لیکن ماورائے عدالت کاروائی نہ کریں،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

    اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ بازیاب ہونے والے لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کے سامنے پیش کی،جسٹس محسن اخترکیانی نے استفسار کیا کہ اس پٹیشن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی تھی یہ واضح ہے کہ اسٹیٹ عدالتیں کسی دہشت گرد کی پروٹیکشن نہیں کریں گی، سوال تب اٹھتا ہے جب قانون سے ماورا کوئی اقدام ہوتا ہے، پولیس جیسی بھی کاروائی کرتی ہے اس کو تو ہم دیکھ لیتے ہیں ٹھیک ہوئی یا نہیں،ایمان مزاری نے عدالت میں کہا کہ جس دن نگران وزیراعظم اس عدالت کے سامنے پیش ہوئے تھے اسی روز ایک بلوچ سٹوڈنٹ اٹھایا گیا تھا، اگلے دن اس مسنگ سٹوڈنٹ کو راولپنڈی سے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس والوں کو تو آرام سے معطل کر دیتے ہیں کیونکہ وہ جو کرتے ہیں سب کے سامنے کرتے ہیں۔ کیا ایجنسیز میں کوئی جواب دہ ہے خود احتسابی کہاں پر ہے جو نظر آئے؟ میری رائے جبری گمشدگی کمیشن کے خلاف اسی لئے ہے کیونکہ یہ انہی کے ساتھ بیٹھ کر کام کر رہے ہوتے ہیں جن پر الزام ہوتا ہے، جو ادارے قانون کے ماتحت ہیں وہ تو ریگولیٹ ہو جاتے ہیں۔ جو قانون سے ماورا کارروائی کرتے ہیں ان کی ریگولیشن کیا ہے؟ جن کا کوئی پیارا لاپتہ ہے وہ کوئی عام آدمی وکیل یا جج کا رشتہ دار ہو یہ عمل ان کے اندر نفرت پیدا کرتا ہے، پولیس تمام اداروں سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ وہ کارروائی سب کے سامنے کرتے ہیں ٹھیک ہو یا غلط، وفاقی حکومت وزارت دفاع سے پوچھ کر بتا دیں ایجنسیز کے اندر کیا خود احتسابی کا عمل ہے؟ ٹھیک ہے ورکنگ میں غلطی ہو سکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں وہ جواب دہ نہیں۔ اگر کوئی دہشت گرد ہے تو پرچہ دیں کاروائی کریں لیکن ماورائے عدالت کاروائی نہ کریں، ایجنسیز کا کردار کسی قانون کے تحت ہوگا؟ جس طرح ایف آئی اے اور دیگر اداروں کا ہے، ہر ادارے نے اپنے اختیار کے اندر رہ کر کام کرنا ہے عدالت نے بھی اپنے اختیار کے اندر رہ کر کام کرنا ہے۔ قانون کے مطابق کسی بھی معاملے کو حل کرنے کے ہزار ایشوز ہیں، ایک گھر کا مرد ہے اس کا بھائی لاپتہ ہے اس کی ماں بہن بیٹی پر کیا گزر رہی ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ایک کمیٹی بنائی جس میں ڈی جی آئی ایس آئی ، ڈی جی آئی بی ، ڈی جی ایم آئی تھے ان سے متعلق بتائیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کے حوالے سے ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ جو آرڈر میں ترمیم کرانا چاہتے ہیں متفرق درخواست دائر کریں عدالت کو مطمئن کریں، ہم نے لاپتہ افراد کے اس معاملے کو حل کرنا ہے، کمیٹی بنانے کے حوالے سے کوئی اعتراض ہے تو وجوہات بتا کر عدالت کو مطمئن کریں۔ پٹشنرز کی وکیل بتا رہی ہیں جس دن وزیر اعظم یہاں بیان دے کے گئے اسی روز ایک بندے کو اٹھا لیا گیا اس سے پتہ چلتا ہے وزیراعظم کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں،بلوچ طلباء کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت 21 مئی تک ملتوی کردی گئی۔

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

  • پاکستانی حملے میں ایران میں جہنم واصل ہونیوالے دہشت گردوں کی تفصیلات

    پاکستانی حملے میں ایران میں جہنم واصل ہونیوالے دہشت گردوں کی تفصیلات

    ایران کی جانب سے پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا تو پاکستان نے بھی فوری جوابی کاروائی کی اور ایران کے میزائل حملوں کا جواب دیا، پاکستان کی کاروائی کے دوران ایران میں بلوچ لبریشن فرنٹ کے دہشت گرد جہنم واصل ہوئے، پاکستانی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی ابتدائی تفصیلات سامنے آگئی ہیں.
    baloch

    دوستہ عرف چیئرمین
    پاکستان کے حملے میں ایرانی سرزمین پر ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں دوستہ عرف چیئرمین، ساحل عرف شفق، محمد وزیرعرف وازو، سرور ولد اصغر اور بجرعرف سوغات شامل ہیں،پاکستانی حملے میں ہلاک ہونے والا دہشت گرد دوستہ عرف چیئرمین ضلع پنجگور کا رہائشی تھا جس نے 2013 میں بلوچ لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی، یہ بی ایل ایف کے کمانڈر فضل شیر عرف طاہر گروپ کا رکن تھا،دوستہ عرف چیئرمین زامران سیکٹر میں منشیات فروشی اور لوٹ مار میں ملوث تھا،
    دوستہ کی بیوی اور تین بچے یعنی ہانی دوست، بابر دوست اور چراغ دوست ایران کے شہر شماسر میں آباد ہیں۔ وہ بی این ایم کی مرکزی کونسل کے رکن بھی تھے۔یہ پروم سیکٹر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد حملوں میں ملوث رہا، اس کے علاوہ 20 ستمبر 2019 کوپروم میں اسکول اور ایف سی پوسٹ، 23 مئی 2020 کو پروم کے علاقے میں ایف سی کی پوسٹ اور 4 ستمبر 2022 کو یوسف پوسٹ پرہونے والے بارودی سرنگ کے دھماکے میں بھی دہشتگرد دوستہ عرف چیئرمین ہی ملوث تھا،پاکستان کے حملے میں ہلاک ہونے والادہشتگرد دوستہ عرف چیئرمین 19 جنوری 2023 کو اخلاق عرف شوکت کے اغوا میں بھی ملوث تھا، اس نے گزشتہ سال 12 اپریل 2023 کو ایف سی کے قافلے کو نشانہ بنایا

    سرور بھی جہنم واصل
    ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں اصغر عرف بشام کا بیٹا سرور بھی شامل ہے جو ضلع پنجگور کا رہائشی تھا، اس نے 8 جون 2021 کو فرنٹیئر کور کی پیٹرولنگ پارٹی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، فروری 2023 میں اصغر بشام نے پنجگور کے بس اسٹینڈ پر فائرنگ کرکے محمد انصر کو شہید کیا اور 21 نومبر 2023 کو اصغر بشام کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک سپاہی نے جام شہادت نوش کیا۔ 20 جولائی 2021 کو پنجگور کی تحصیل پاروم میں اس کے شرپسندوں نے سڑک کی تعمیر کرنے والی پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک ڈرائیور زخمی ہو گیا تھا، فروری 2023 میں، اس نے پنجگور میں حاجی یاسین مارکیٹ کے قریب بس ٹرمینل پر ہنڈائی شہزور پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کی وجہ سے سپاہی محمد انصار شہید ہوئے،

    محمد وزیر عرف وازو بھی انجام کو پہنچا
    ہلاک ہونے والا دہشتگرد محمد وزیر عرف وازو ابتدائی طور پر 2013/14 میں بلوچ ریپبلکن آرمی میں شامل ہوا اور اس نے 2019 میں بلوچ لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی، دہشتگرد محمد وزیر عرف وازو بی ایل ایف کے دہشتگرد عابد عرف چاکر کا بھائی تھا، دہشتگرد پروم، گوارگو اور ضلع پنجگور میں متعدد دہشتگردانہ سرگرمیوں کا حصہ تھا،محمد وزیر عرف وازو نے ضلع پنجگور کے احمد اللہ اور عامر کو ٹارگٹڈ حملے میں شہید کیا، دہشتگرد نے4 مارچ 2023 کو پل ناکہ پوسٹ پر گرنیڈ حملہ کیا، یکم مئی 2023 کوکسٹم آفس ایریا کے قریب ایف سی کانوائےکو بارودی سرنگ کا نشانہ بنایا۔ 14 ستمبر 2020 کو اس نے پنجگور کے علاقے واشبود میں ایک شہری معصوم احمد اللہ کو قتل کر دیا۔وزیر نے مارچ 2022 میں عزیز نامی ایک معصوم شخص کی ٹارگٹ کلنگ کی، 26 مئی 2023 کو، وہ گرڈ اسٹیشن پر دہشت گردانہ حملے میں ملوث تھا۔ وزیر شامیسر، ایران میں دہشت گردوں کے لیے رہائش کا انتظام کرنے کا ذمہ دار تھا۔

    علی عرف عطا بھی جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں میں شامل ہے، جس کا تعلق آواران کی تحصیل مشکی کے گاؤں گجلی سے ہے، وہ عبید عرف ڈوڈگپ گروپ کا حصہ تھا اور بعد میں اس نے خود کو سرور کے گروپ سے اتحاد کر لیا، علی ذاکر کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا۔▪️ اس نے مشکے قلعے پر آتشزدگی کے حملے کی قیادت کی جس میں وزیر نامی ایک بے گناہ آدمی مارا گیا تھا، 21 جولائی 2022 کو، اس نے مشکے میں ایک فوجی قافلے پر آئی ای ڈی دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ فوجی زخمی ہوئے۔

    ہلاک ہونے والا ایک دہشتگرد بجر عرف سوغات 2016 سے بی ایل ایف کا حصہ تھا، بجر عرف سوغات پروم سیکٹر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر متعدد دہشتگردانہ حملوں میں ملوث تھا، اس نے 7 مارچ 2023 کو نذیر ولد بہرام کو اس کی رہائش گاہ سے اغوا کیا، 4 مارچ 2023 کو پل ناکہ پوسٹ پر گرنیڈ حملہ کیا۔

    ہلاک دہشتگردوں میں ساحل لنگ عرف شفق بھی شامل تھا جو معصوم پاکستانیوں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف متعدد دہشتگرد حملوں میں ملوث رہا، ساحل لنگ دہشتگرد بلبل کا بھائی تھا جو مارگٹ اور ہرنائی کے علاقے میں بھتے اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔

    ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں ایک اعظم بھی شامل ہے، جو ابا مشکے کے گاؤں قندہاری کے رہنے والا تھا، اس نے 2010 میں بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی جبکہ اس کے تین بھائی محمد علی عرف جہانیز، نیاز محمد اور علی مبارک بی ایل ایف کے سرگرم عسکریت پسند ہیں۔ ان کے خاندان نے 2012/13 میں مشکے چھوڑ دیا۔ وہ لیاقت سجنا گروپ کا حصہ تھا اور بعد میں سرور عرف درک کے گروپ سے منسلک ہو گیا،وہ ستمبر 2023 میں سرور کے گروپ سے مشکے پر قبضہ کرنے کے لیے ایران سے منتقل ہونے کا منصوبہ بنا رہا تھا لیکن منصوبہ بدل گیا اور اس نے سرور کے سیکنڈ ان کمانڈ کے طور پر ایران سے کام جاری رکھا۔وہ بہت سے دہشت گرد حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا اور ایران کی طرف سے تمام لاجسٹک سپورٹ کا ذمہ دار تھا۔

    مختصر یہ کہ ایران میں فوجی حملوں میں بی ایل ایف کے اہم کمانڈروں کی ہلاکت بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی،اسکے بعد پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہ,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ، ایرانی سفیر کو واپس بھیجا،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

  • بلوچ یکجہتی کونسل  کی  ماہ رنگ بلوچ کا ریاست مخالف پروپیگنڈہ بے نقاب

    بلوچ یکجہتی کونسل کی ماہ رنگ بلوچ کا ریاست مخالف پروپیگنڈہ بے نقاب

    اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دھرنا ایکسپوز ہوگیا ۔ پاکستانی ریاست کے خلاف بلوچ عسکریت پسندوں کی سازش اپنی موت آپ مر گئی۔ماہ رنگ بلوچ نے فرط جذبات میں خود ہی اپنی پاؤں پر کلہاڑی مار لی۔ اعتراف کیا کہ ایران میں مرنے والوں کے لواحقین دھرنے میں موجود ہیں ۔ دہشت گردوں کو معصوم بنا کر ٹسوے بہانے کی ریاست مخالف سازش خود ہی بے نقاب کر دی۔

    پاکستان نے ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جمعرات کی صبح حملہ کیا تھا ۔ اب ماہ رنگ اعتراف کر رہی ہے کہ ان کے لواحقین دھرنے میں موجود ہیں ۔ یہی تو ریاست کہہ رہی تھی کہ دھرنا دینے والے دہشت گردوں کے ساتھی ہیں۔

    امن دشمن بھارت طویل عرصے سے پاکستان بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کر کے اپنے مذموم عزائم کے حصول کے لئے استعمال کر رہا ہے،اسی تناظر میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خاتون ماہ رنگ بلوچ ہے جو کہ بلوچوں کے حقوق اور مظلومیت کالبادہ اوڑھ کر مخالف دھرنے میں شریک ہے،تازہ ترین ویڈیو میں دیکھا اور سنا جاسکتا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ ایران میں کئے جانے والے سٹرائیک میں ہلاک بلوچ دہشتگردوں کے حوالے سے دھرنے سے خطاب میں اقرار کر رہی ہے کہ ”آپ سب کو اس بات کا اندازہ ہے کہ ایران میں جولوگ مارے گئے ہیں ان کے لواحقین دھرنے میں موجود ہیں“

    ماہ رنگ بلوچ کا یہ بیان اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشتگرد ایران میں روپوش ہیں جہاں سے پاکستان کیخلاف دہشتگردانہ کارروائیاں کرتے ہیں،کچھ عرصہ قبل ہلاک کئے جانے والے دہشتگرد بالاچ اور اس جیسے بہت سے دہشتگردوں کی نمائندگی کرنے والی ماہ رنگ بلوچ بالاخر سچ زبان پر لے ہی آئیں،ریاست کا روز اول سے یہی موقف ہے کہ یہ دہشت گرد عناصر گھروں سے بھاگ کر بیرون ممالک بالخصوص ایران اور افغانستان میں روپوش ہیں،ایسے میں پاکستان دشمن دہشتگردوں کے لئے ”بلوچ یکجہتی کمیٹی“ کا احتجاجی مظاہرہ عام فہم سے بالاتر ہے،بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہ رنگ بلوچ جو عبدالغفار لانگو کی بیٹی ہے، جو بی ایل کا سرغنہ اور ریاستی اداروں پر لاتعداد حملوں میں ملوث تھا،ماہ رنگ بلوچ نے نہ صرف ریاستی وظیفے پر تعلیم حاصل کی بلکہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سے اب تک وہ سرکاری تنخواہ کے ساتھ ساتھ متعدد مراعات سے بھی استفادہ حاصل کر رہی ہیں،ماہ رنگ بلوچ ملک دُشمن عناصر کی ایما ء پر جو ریاست مخالف پروپیگنڈہ کر رہی ہے آج وہ آشکار ہو گئی ہے،سوال یہ ہے کہ ”مسنگ پرسن کے نام پر جو پروپگینڈا کیا جا رہا ہے وہ تمام افراد براستہ بلوچستان ایران بھاگ کر روپوش ہو گئے ہیں؟“یہ تمام افراد پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو کر پاکستان بالخصوص بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ان حالات میں ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر لوگوں کا احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے؟

    جھوٹ کا بازار مسنگ پرسنز کے سنجیدہ اور ہم مسئلے پر لگانا بند کر دیجئے،غریدہ فاروقی
    صحافی و اینکر غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ واہ جی، ماہرنگ بلوچ صاحبہ۔۔ واہ ؛ شکریہ ریاست کے ہی بیانیے کو اپنانے کا اور خود ہی ثابت کرنے کا کہ ریاست سچ کہہ رہی تھی اور یہ کہ میرے سوالات اور میرا بیانیہ مبنی برحق تھا۔ “ایران میں جو لوگ مرے ہیں اٗن کے لواحقین یہاں دھرنے میں موجود ہیں” ؛ ماہ رنگ بلوچ،یہی تو ریاست کہہ رہی ہے کہ وہ عسکریت پسند اور شدت پسند ہیں جو گھر سے بھاگ کر باہر ممالک خصوصاً ایران اور افغانستان میں بیٹھے ہیں۔۔۔ اور یہ کہ یہ لوگ مسنگ پرسنز نہیں ہیں—!!! یہی تو کہا تھا، یہی تو بتایا تھا کچھ ہی عرصہ قبل ۔۔ اب ماہرنگ بلوچ صاحبہ کے اس اعتراف کے بعد یہ دھرنا تو برائے مہربانی لپیٹ دیجیے اور جھوٹ کا بازار مسنگ پرسنز کے سنجیدہ اور ہم مسئلے پر لگانا بند کر دیجئیے۔

    ہائی کورٹ نے بلوچ مظاہرین کی گرفتار ی کا کیس نمٹا دیا

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت