Baaghi TV

Tag: بلڈ پریشر

  • سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا  علاج دریافت

    سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا علاج دریافت

    ساؤ پاؤلو: سائنسدانوں نے سانپ کے زہر سے بلڈ پریشر کا علاج دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں نے ایک ایسی قسم کے سانپ کا زہر دریافت کیا ہے جو انسان کو بلڈ پریشر کے مسائل میں مدد فراہم کر سکتا ہے جرنل بائیو کیمی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں کو جنوبی امریکی سانپ کی ایک قسم بوتھروپس کوٹیارا کے زہر میں ایسا پروٹین ملا ہے جو اپنے اندر کم یا زیادہ بلڈ پریشر کے مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    برازیل کی فیڈرل یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو کے میڈیکل اسکول سے تعلق رکھنے والے محققین نے سانپ کے زہر میں بی سی-7 اے نامی ایک پروٹین دریافت کیا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کر سکتا ہے یہ پروٹین بالکل انہی پروٹینز کی طرح کام کرتا ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرنے کی دوا کیپٹوپرل بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    چاند پر امریکی خلائی مشن روانہ ،ناسا نے ماؤنٹ ایورسٹ کے ٹکڑے چاند پر بھیج …

    سائنسدانوں کے مطابق سانپ کے زہر میں موجود اس پروٹین کو اگر مناسب خوراکوں میں استعمال کیا جائے تو یہ ایک دن مطبی علاج کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا کیپٹوپرل اور دیگر ادویات اینجیوٹینسن-کنورٹنگ انزائم (اے سی ای) نامی خامروں کی سرگرمی روک کر کام کرتی ہیں، جو جسم میں خون کے دباؤ کو قابو کرنے کے لیے اہم ہوتا ہے۔

    بھارت کا شمسی خلائی مشن سورج کے مدار میں داخل

    تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ایلگزینڈر تاشیما نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ زہر ہمیں حیران کرنے سے کبھی نہیں چوکتے، اتنی معلومات کے باوجود تازہ دریافتیں ممکن ہیں تمام دستیاب ٹیکنالوجی کے باوجود ان زہروں میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کا مطالعہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا مشرق وسطیٰ کادورہ، اردن کے بعد قطر پہنچ گئے

    ماہرین کے مطابق یہ دریافت اے سی ای سے بچانے والی نئی اقسام کی ادویات کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرتی ہیں سانپ کے زہر میں 197 قسم کے پروٹین دریافت ہوئے جن میں 189 پروٹینز پہلی بار دیکھے گئے ہیں۔

  • تمبا کو نوشی کے صحت پر پڑنے والے اثرات و نقصانات.تحریر:ام سلمیٰ

    تمباکو نوشی چھوڑیں اگر آپ کی صحت پر پڑنے والے اثرات کو آپ جان جائیں گے تو آپکے لیے مدد گار ہوگا کے آپ تمبا کو نوشی چھوڑ سکیں.

    تمباکو نوشی جسم کے تقریباً ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ان میں سے کچھ بہت زیادہ نقصان دہ اور منفی اثرات فوری طور پر ہوتے ہیں۔ اپنے جسم کے مختلف حصوں پر سگریٹ نوشی کے صحت کے اثرات کی معلومات ضرور رکھیں.

    سگریٹ سے نکلنے والی نکوٹین ہیروئن کی طرح نشہ آور ہے۔ نکوٹین کی لت کو شکست دینا مشکل ہے کیونکہ یہ آپ کے دماغ کو بدل دیتا ہے۔ دماغ تمباکو سے نیکوٹین کی بڑی مقدار کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اضافی نکوٹین ریسیپٹرز تیار کرتا ہے۔ جب دماغ نیکوٹین حاصل کرنا بند کر دیتا ہے جس کی وہ عادت تھی، نتیجہ نکوٹین کا اخراج ہوتا ہے۔ آپ فکر مند، چڑچڑے، اور نیکوٹین کی شدید خواہش محسوس کر سکتے ہیں۔
    آپکی سماعت کے لیے نقصان دہ ہے تمباکو نوشی.

    تمباکو نوشی کا ایک اثر کوکلیا کو آکسیجن کی فراہمی میں کمی ہے، جو اندرونی کان میں گھونگھے کی شکل کا عضو ہے۔ اس کے نتیجے میں کوکلیا کو مستقل نقصان آپکی سماعت کو نقصان پہنچا سکتا ہے.

    تمباکو نوشی آنکھوں میں جسمانی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے جو آپ کی بینائی کو خطرہ میں ڈال سکتی ہے۔ سگریٹ سے نکلنے والے نکوٹین کے اثرات میں سے ایک ایسے کیمیکل کی پیداوار کو محدود کرتا ہے جو آپ کو رات کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، تمباکو نوشی آپ کے موتیابند اندھے پن کا باعث بن سکتے ہیں.

    تمباکو نوشی آپ کے منہ سے ایک ٹول ٹیکس لیتی ہے. تمباکو نوشی کرنے والوں کو غیر تمباکو نوشی کرنے والوں سے زیادہ منہ کی صحت کے مسائل ہوتے ہیں، جیسے منہ کے زخم، السر اور مسوڑھوں کی بیماری۔ چھوٹی عمر میں آپ کو گہا ہونے اور دانتوں سے محروم ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ آپ کو منہ اور گلے کے کینسر ہونے کا بھی زیادہ امکان ہے۔

    تمباکو نوشی آپ کی جلد کو خشک کرنے اور لچک کھونے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے جھریاں اور اسٹریچ مارکس ہو سکتے ہیں۔ آپ کی جلد کا رنگ پھیکا اور خاکستری ہو سکتا ہے۔ آپ کے 30 کی دہائی کے اوائل تک، آپ کے منہ اور آنکھوں کے گرد جھریاں آنا شروع ہو سکتی ہیں،

    تناؤ کا شکار دل
    تمباکو نوشی آپ کے بلڈ پریشر کو بڑھاتی ہے اور آپ کے دل پر دباؤ ڈالتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، دل پر دباؤ اسے کمزور کر سکتا ہے، جس سے یہ آپ کے جسم کے دوسرے حصوں میں خون پمپ کرنے کے قابل نہیں ہوتا ہے۔ سانس لینے والے سگریٹ کے دھوئیں سے کاربن مونو آکسائیڈ بھی آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے، جس سے دل کا کام مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے دل کے دورے سمیت امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    تمباکو نوشی آپ کے خون کو گاڑھا اور چپچپا بنا دیتی ہے۔ خون جتنا گاڑھا ہوگا، آپ کے دل کو اسے آپ کے جسم کے ارد گرد منتقل کرنے کے لیے اتنا ہی سخت کام کرنا پڑے گا۔ گاڑھے خون کے جمنے کا بھی زیادہ امکان رکھتا ہے جو آپ کے دل، دماغ اور ٹانگوں میں خون کے بہاؤ کو روکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، گاڑھا خون آپ کی خون کی نالیوں کی نازک استر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ نقصان آپ کے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

    چربی کے ذخائر
    تمباکو نوشی خون میں گردش کرنے والے کولیسٹرول اور غیر صحت بخش چربی کو بڑھاتی ہے، جس سے غیر صحت بخش چربی کے ذخائر آپ کے جسم میں پیدا ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ، کولیسٹرول، چکنائی اور دیگر ملبہ آپ کی شریانوں کی دیواروں پر جمع ہو جاتا ہے۔ یہ بلڈ اپ شریانوں کو تنگ کرتا ہے اور دل، دماغ اور ٹانگوں میں خون کے عام بہاؤ کو روکتا ہے۔ دل یا دماغ میں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ ہارٹ اٹیک یا فالج کا سبب بن سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی آپ کے پھیپھڑوں کے چھوٹے ایئر ویز اور ٹشوز میں سوزش کا پیدا کرتی ہے۔ آپ کی طبعیت میں گھرگھراہٹ کا سبب بن سکتی ہے یا آپ سانس لینے میں تکلیف محسوس کر سکتے ہے۔ مسلسل سوزش سے داغ کے ٹشو بنتے ہیں، جو آپ کے پھیپھڑوں اور ایئر ویز میں جسمانی تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں جو سانس لینے میں مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔ پھیپھڑوں کی جلن اور آپ کو بلغم کے ساتھ دائمی کھانسی ہو سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی پھیپھڑوں میں ہوا کے چھوٹے تھیلے یا الیوولی کو تباہ کر دیتی ہے جو آکسیجن کے تبادلے کی اجازت دیتے ہیں۔ جب آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں، تو آپ ان میں سے کچھ ہوا کے تھیلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ الیوولی واپس نہیں بڑھتے ہیں، لہذا جب آپ انہیں تباہ کرتے ہیں، تو آپ نے اپنے پھیپھڑوں کا ایک حصہ مستقل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ جب کافی مقدار میں الیوولی کو تباہ کر دیا جاتا ہے، تو بیماری ایمفیسیما تیار ہوتی ہے۔ ایمفیسیما سانس کی شدید قلت کا باعث بنتا ہے اور موت کا باعث بن سکتا ہے۔

    سیلیا اور سانس کے انفیکشن
    آپ کے ایئر ویز پر چھوٹے برش جیسے بال ہیں، جسے سیلیا کہتے ہیں۔ سیلیا بلغم اور گندگی کو صاف کرتا ہے تاکہ آپ کے پھیپھڑے صاف رہیں۔ تمباکو نوشی عارضی طور پر مفلوج کردیتی ہے اور یہاں تک کہ سیلیا کو مار دیتی ہے۔ اس سے آپ کو انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ تمباکو نوشی غیر تمباکو نوشیوں کے مقابلے میں زیادہ نزلہ زکام اور سانس کے انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔

    آپ کا جسم ایسے خلیوں سے بنا ہے جن میں جینیاتی مواد، یا DNA ہوتا ہے، جو سیل کی نشوونما اور کام کے لیے "ہدایت دستی” کے طور پر کام کرتا ہے۔ سگریٹ کا ہر ایک پف آپ کے ڈی این اے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جب ڈی این اے کو نقصان پہنچتا ہے، تو "ہدایت دستی” میں گڑبڑ ہو جاتی ہے، اور خلیہ کنٹرول سے باہر ہونا شروع کر سکتا ہے اور کینسر کا ٹیومر بنا سکتا ہے۔ آپ کا جسم اس نقصان کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے جو تمباکو نوشی آپ کے ڈی این اے کو کرتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، تمباکو نوشی اس مرمت کے نظام کو ختم کر سکتی ہے اور کینسر (جیسے پھیپھڑوں کا کینسر) کا باعث بنتی ہے۔ کینسر کی تمام اموات میں سے ایک تہائی تمباکو کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    پیٹ اور ہارمونز
    پیٹ
    تمباکو نوشی آپ کے لیے خراب کیوں ہے ایک اور وجہ کی ضرورت ہے؟ بڑا پیٹ۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں بڑے پیٹ اور کم عضلات ہوتے ہیں۔ ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، چاہے وہ ہر روز سگریٹ نوشی نہ کریں۔ تمباکو نوشی بھی ذیابیطس پر قابو پانا مشکل بنا دیتی ہے جب آپ اسے پہلے سے ہی پکڑ لیتے ہیں۔ ذیابیطس ایک سنگین بیماری ہے جو اندھے پن، دل کی بیماری، گردے کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔

    ایسٹروجن کی کم سطح
    تمباکو نوشی خواتین میں ایسٹروجن کی سطح کو کم کرتی ہے۔ ایسٹروجن کی کم سطح خشک جلد، پتلے بالوں اور یادداشت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو حاملہ ہونے اور صحت مند بچہ پیدا کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ تمباکو نوشی بھی جلدی رجونورتی کا باعث بن سکتی ہے، جس سے آپ کو بعض بیماریوں (جیسے دل کی بیماری) ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    چھوڑنے کے فوائد
    تمباکو نوشی چھوڑنے سے آپ کے جسم کے بیشتر بڑے حصوں میں مدد مل سکتی ہے آپ کے دماغ سے لے کر آپ کے ڈی این اے تک۔کوشش کریں گے ہمت کریں گے تو ضرور اسکو چھوڑ سکیں گے۔سوچ ضروری ہے اتنے نقصانات جاننے کے بعد کوئی کیسے تمبا کو نوشی کر سکتا ہے کون اپنے آپ کو اتنا نقصان دے سکتا ہے کوئی عقلمند انسان نہں.

    Twitter handle
    @umesalma_

  • موٹاپا بلڈ پریشر سانس دل کے امراض ۔فالج کینسر کا باعث، سیکرٹری پناہ

    موٹاپا بلڈ پریشر سانس دل کے امراض ۔فالج کینسر کا باعث، سیکرٹری پناہ

    راولپنڈی: پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن” پناہ” کے زیر اہتمام نجی ہوٹل میں سیمینار منعقد ہوا جس میں فاسٹ و ہائی جینک فوڈ شوگری ڈرنکس موٹاپے کے بنیادی اجزاء قرار دیے گئے۔
    سیکرٹری پناہ ثناء اللہ گھمن کا کہنا ہے کہ موٹاپا خود بیماریوں کی جڑ اور دل کے امراض کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن پناہ نے حالیہ سروے رپورٹ جاری کردی ہے۔موٹاپا بلڈ پریشر سانس دل کے امراض ۔فالج کینسر کا باعث ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق 68 فیصد اموات کی وجہ شوگری ڈرنکس اور موٹاپے سے پیدا امراض ہے۔ اسلام آباد میں حالیہ سروے میں 80 فیصد لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے، 72 فیصد لوگ موٹاپے کی وجہ سے پر یشان ہیں،
    حکومت کو اس معاملہ پر سنجیدگی اختیار کرنی ہوگی،
    کلوگوز کی اضافی مقدار کی وجہ سے بینائی اور دماغی امراض کا باعث ہے، شوگری ڈرنکس کے استعمال سے دل کی شریانیں سکڑنے سے ہارٹ اٹیک ہوتا ہے، شوگری ڈرنکس کے روزانہ استعمال سے بھی دل کے دورے کا امکان بڑھ جاتا ہے. اسکول کے 46 فیصد بچے روزانہ شوگری ڈرنکس استعمال کرتے ہیں ۔ڈبلیو ایچ او کی تجویز ہے کہ شوگری ڈرنکس سگریٹ اور دیگر اشیاء پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی جائے۔ میکسیکو نے شوگری ڈرنکس ٹیکس میں دس فیصد اضافہ کرکے استعمال میں کمی کی.

  • 30 سے 40 برس کی عمر کے افراد میں ہائی بلڈ پریشر انتہائی خطرناک قرار ، احتیاط سے کام لیں‌

    30 سے 40 برس کی عمر کے افراد میں ہائی بلڈ پریشر انتہائی خطرناک قرار ، احتیاط سے کام لیں‌

    لندن :بلڈ پریشر کے معاملے پر محتاط رہیں ، طبی ماہرین نے 30 سے 40 برس کی عمر کے افراد میں ہائی بلڈ پریشر کو دماغی صحت کے لیے انتہائی خطرناک قرار دے دیا ہے ۔اس تحقیق کے سربراہ یونیورسٹی کالج لندن کے کوین سکوائر انسٹیٹیوٹ آف نیورولجی کے پروفیسر جوناتھن سکاٹ ہیں۔

    برطانوی محقیقین کی تازہ تحقیق کے مطابق 35 برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بلڈ پریشر پر نظر رکھیں کیونکہ یہ بعد کی زندگی میں دماغی صحت کے لیے بہت ضروری ہے ، دماغی صحت کو محفوظ رکھنے کے لیے امید کی کرن 30 کے وسط سے شروع ہوتی ہے اور 50 کے اوائل تک چلتی ہے۔

    کوین سکوائر انسٹیٹیوٹ آف نیورولجی کے پروفیسر جوناتھن سکاٹ کا کہنا ہے کہ 1946 میں پیدا ہونے والے 500 افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں دیکھا گیا ہے کہ زندگی کے وسطی سالوں میں زیادہ بلڈ پریشر کی وجہ سے بعد میں خون کی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور دماغ سکڑ جاتا ہے۔

    کوین سکوائر انسٹیٹیوٹ آف نیورولجی کے پروفیسر جوناتھن سکاٹ مزید کہتے ہیں‌کہ43 اور 53 سال کی عمر کے درمیان زیادہ بلڈ پریشر کا تعلق بھی 70 سال کی عمر میں پہنچنے کے بعد لوگوں کی خون کی شریانوں کو نقصان پہنچنے اور ’منی سٹروک‘ سے دیکھا گیا ہے ,

    اس تحقیق کے سربراہ یونیورسٹی کالج لندن کے کوین سکوائر انسٹیٹیوٹ آف نیورولجی کے پروفیسر جوناتھن کہتے ہیں کہ ہماری 30 کی عمر میں ہونے والے بلڈ پریشر کے چار دہائیاں بعد بھی دماغ صحت پر برے اثرات نظر آتے ہیں۔ عمر کے بعد کے حصوں میں دماغی صحت کو بہتر بنانے کے لیے مانیٹرنگ اور علاج کا اصل ہدف مِڈ لائف ہی ہونی چاہئے۔