Baaghi TV

Tag: بلیغ الرحمن

  • پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اعلیٰ‌سطحی وفد کی گورنرپنجاب سے ملاقات

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اعلیٰ‌سطحی وفد کی گورنرپنجاب سے ملاقات

    لاہور:پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یوجے)کے سیکرٹری جنرل ارشد انصاری اورپنجاب یونین آف جرنلسٹس (پی یوجے )کے صدرابراہیم لکی کی قیاد ت میں14رکنی وفد کی گورنرپنجاب محمدبلیغ الرحمن سے تفصیلی ملاقات میں آزادی اظہاررائے ،آزادی صحافت کے تحفظ اورمیڈیاورکرزکے حقوق کے تحفظ وحل کیلئے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا،وفدنے گورنرپنجاب کو11نکاتی چارٹرآف ڈیمانڈ بھی حوالے کیاجس پرگورنرپنجاب نے وفاقی حکومت کیساتھ ملکرصحافیوں کودرپیش پیشہ وارانہ مسائل سمیت مختلف امورکوحل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقعہ سیکرٹری جنرل ارشد انصاری نے صحافیوں(میڈیاورکرز)کی ادارو ں سے چھانٹیوں،تنخواہوں میںکٹوتی سمیت مختلف امورپرتبادلہ خیال کیا،اورآئی ٹی این ای کے چیئرمین کی عدم تقرری سمیت جملہ مسائل پرگورنرپنجاب کوبریف کیا۔

     

    اس موقعہ پرگورنرپنجاب محمدبلیغ الرحمن کاکہناتھاکہ مسلم لیگ (ن)نے حکومت سنبھالتے ہی پیکاآرڈیننس اورپاکستان میڈیاڈیویلپمنٹ اتھارٹی(پی ایم ڈی اے)جیسے کالے قوانین کوختم کردیا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے قوانین میں جن میں حقیقی سٹیک ہولڈرزکے ساتھ مشاورت نہیں کی جاسکتی اس وقت تک ایسے قوانین نہیں بنائے جاسکتے ،اس لئے ہم نے ان قوانین کوفوری ختم کیا جن کے خلاف میڈیا(آپ لوگ)سٹرکوں پراحتجاج کررہے تھے،مسلم لیگ ن اوراتحادی میڈیا کے حوالے سے قوانین آ پ سے مشاورت کے بعد بنائے گی ،کیونکہ ہم میڈیا اورآزادی صحافت پرمکمل یقین رکھتے ہیںاورکامل یقین ہے کہ ریاست کے اس اہم ستون کی آزادی اظہاررائے کی آزادی کے بغیرجمہوریت نہیں پنپ سکتی ،انہوں نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ بہت جلد آئی ٹی این ای کے چیئرمین کاتقررعمل میں لایاجارہاہے جس پروفاقی حکومت نے کام شروع کردیاہواہے ۔

    وفد میں نعیم حنیف (نائب صدرپی ایف یوجے / بیوروچیف سماءنیوز)،ارسلان رفیق( بیوروچیف /جی ٹی وی )خواجہ نصیر(اے آروائی نیوز)،سینئرکارسپانڈنٹ کاشف سلیمان(نیونیوز)،اخلاق احمدباجوہ(دنیانیوز/صدرپنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی)،سینئرصحافی جاوید فاروقی(سابق سینئرنائب صدرلاہورپریس کلب/جی این این )،افضال طالب(ایکسپریس نیوز/سابق صدرپنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی)،سالک نواز(جوائنٹ سیکرٹری لاہورپریس کلب/نیوزون)،پرویزالطاف (سینئرفوٹوجرنلسٹ)،عمران شیخ(نئی بات میڈیا گروپ /سینئرفوٹوگرافر)،وحید بٹ(صدرپاکستان الیکٹرانک کیمرہ مین ایسوسی ایشن)،خاوربیگ (جنرل سیکرٹری پی یوجے/پنجاب ٹی وی) شامل تھے۔ملاقات کے آخرمیں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدرابراہیم لکی اورجنرل سیکرٹری خاورنے گورنرپنجاب کوصحافیوں کے مسائل کے حل کے حوالے سے گیارہ نکاتی چارٹرآف ڈیمانڈ حوالے کیا۔جس پرانہوں نے ہمدردانہ غورکرکے وفاق کوبجھوانے اوراس کا فالواپ رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

  • صوبہ پنجاب میں ایک اور آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    صوبہ پنجاب میں ایک اور آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    لاہور:پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم صوبے پنجاب میں ایک بار پھر آئینی بحران پیدا ہونے جارہاہے ، یہ بحران اس وقت بہت ہی زیادہ شدت اختیار کرنے لگا ہے ، اطلاعات ہیں کہ پنجاب کےموجودہ گورنر بلیغ الرحمان وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہٰی کی کابینہ سے حلف نہیں لیں گے۔

    گورنرپنجاب نےآرڈیننس جاری کرکےنہایت غیرقانونی کام کیا ہے:چوہدری پرویز الٰہی

    پنجاب کے حوالے سے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگریہ صورت حال برقرار رہی تومعاملات حد سے زیادہ بگڑسکتےہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے گورنر بلیغ الرحمان کی منظوری کے بغیر پنجاب کابینہ کی تشکیل مکمل نہیں ہوسکے گی۔

    قائم مقام گورنرپنجاب،پرویزالہی کی قانونی ماہرین سے مشاورت

    دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان وزیراعلیٰ پرویزالہٰی کی کابینہ سے حلف نہیں لیں گے، جب کہ کابینہ کی تشکیل گورنرکی منظوری کے بغیر مکمل نہیں ہوسکے گی۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اسمبلی کی آئینی دستاویز کے مطابق صوبائی وزراء گورنر پنجاب سےعہدے کا حلف لینے کے پابند ہوتے ہیں، اور آئین کے تحت گورنر ہی وزیراعلیٰ کی تجویز پر کابینہ کے نام فائنل کرتا ہے، اور گورنر کےعلاوہ کسی کے پاس صوبائی وزراء سے حلف لینے کا اختیار نہیں۔

    ‘گورنرپنجاب کوئی درباری اوتھ کمشنرنہیں’:کسی دباوپرغیرآئینی کام نہیں‌

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پنجاب میں آئینی بحران پیدا ہوا تھا جب پنجاب میں پہلی بار دو الگ الگ بجٹ اجلاس طلب کئے گئے تھے

    موجودہ وزیراعلیٰ پرویز الٰہی جو کہ اس وقت اسپیکرپنجاب اسمبلی تھے ، انہوں نے بلڈنگ میں بلائے گئے اجلاس میں حکومت کا کوئی رکن شریک نہیں ہواتھا ۔ اجلاس میں اسپیکرکے حکم پر سیکرٹری پارلیمانی امورعنایت اللہ لک نے پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا، پینل آف چیئرمین میں نوابزادہ وسیم خان باروزئی،میاں شفیع محمد، ساجد احمد خان بھٹی اور شازیہ عابد شامل تھے۔

    اس کے ساتھ ساتھ ایک آور آئینی بحران بھی پیدا ہوا تھا جب پنجاب میں گورنرشپ کا معاملہ حل کرن کے لیے وزیراعظم شہبازشریف کو بھی میدان میں آنا پڑا ،عمرسرفراز چیمہ کے بعد جب بلیغ الرحمن نے گورنرپنجاب کا حلف اٹھایا تو یہ بحران وقتی طورپرٹل گیا تھا