Baaghi TV

Tag: بلیک ہول

  • ہماری کہکشاں کے وسط میں بڑے بلیک ہول کی نئی تصویر جاری

    ہماری کہکشاں کے وسط میں بڑے بلیک ہول کی نئی تصویر جاری

    سائنسدانوں نے ہماری کہکشاں کے وسط میں واقع بہت بڑے بلیک ہول کی نئی تصویر جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : لندن کالج یونیورسٹی کے ماہرین نے اس تصویر کو جاری کیا ہے جس میں بلیک ہول کے مقناطیسی میدان کے اسٹرکچر کا عندیہ ملتا ہے،اس تحقیق کے نتائج The Astrophysical journal latters میں شائع ہوئےSagittarius A نامی اس بلیک ہول کی پہلی تصویر 2022 میں سامنے آئی تھی مگر نئی تصویر زیادہ واضح ہےیہ بلیک ہول زمین سے 27 ہزار نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ہے-

    اس سے قبل ایم 87 نامی بلیک ہول کے گرد موجود روشنی پر ہونے والی پرانی تحقیقی رپورٹس رپورٹس میں مقناطیسی میدانوں کا انکشاف ہوا تھا اور نئی تحقیق میں ایسا ہی Sagittarius A کے بارے میں بتایا گیا دونوں بلیک ہولز کے حجم میں فرق ہے مگر پھر بھی وہ دیکھنے میں ایک جیسے نظر آتے ہیں۔

    راولپنڈی،اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مقناطیی میدان بلیک ہولز کے اردگرد موجود گیس اور مادے سے تعلق کے لیے انتہائی ضروری ہوتے ہیں محققین نے کہا کہ ہماری کہکشاں کے قلب میں واقع بلیک ہول کی اولین تصاویر کو دیکھنا بہت پرجوش کر دینے والا تجربہ ہے، ان مشاہدات سے بلیک ہول کے گرد موجود مقناطیسی میدانوں کے بارے میں کافی کچھ معلوم ہوا ہے۔

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں …

    اس سے قبل مئی 2022 میں عالمی ریسرچ ٹیم ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ (ای ایچ ٹی) کی ٹیم نے اس بلیک ہول کی تصویر جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس تصویر میں نظر آنے والی روشنی سے بلیک ہول کی طاقتور کشش ثقل کا عندیہ ملتا ہے جو کہ ہمارے سورج سے 40 لاکھ گنا زیادہ ہے، اس سے قبل ای ایچ ٹی کی ٹیم نے ہی 2019 میں انسانی تاریخ میں بلیک ہول کی پہلی تصویر بھی جاری کی تھی جو ایک کہکشاں ایم 87 میں واقع ہے۔

    ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ

  • اب تک کا سب سے بڑا بلیک ہول دریافت

    اب تک کا سب سے بڑا بلیک ہول دریافت

    امریکا اور یورپ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نظامِ شمسی سے باہر دو بڑے سیاروں کا تصادم ہوا ہے،جس کے نتیجے میں دونوں سیارے مکمل طور پر پگھل گئے اور گیس کا بہت بڑا بادل پیدا ہوا۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق دونوں سیاروں کا مرکزی حصہ برقرار ہے اور گیس کے بادل میں چھپا ہوا ہےماہرین نے یہ بھی بتایا کہ یہ واقعہ بہت پہلے کا ہے جو ریکارڈ اب ہوا ہے دونوں سیاروں کے تصادم کے نتیجے میں جو روشنی پیدا ہوئی وہ ہزار دن برقرار رہی۔

    ماہرین نے بتایا کہ دونوں سیاروں کا حجم زمین سے دسیوں گنا تھا کائنات کی وسعتوں میں ستارے تباہ ہوتے رہتے ہیں اور سیاروں کے درمیان تصادم رونما ہوتا رہتا ہے جب کوئی بڑا ستارہ ٹوٹ جاتا ہے تو اس کی قوتِ تجاذب انتہائی بڑھ جاتی ہے اور پھر وہ بلیک ہول میں تبدیل ہوتا ہے، کسی بھی بلیک ہول سے کوئی چیز نہیں بچ سکتی، روشنی بھی نہیں، بلیک ہولز جو کچھ بھی اپنے اندر جذب کرتے ہیں اس کا کیا بنتا ہے یہ سائنس دانوں پر واضح نہیں کیونکہ روشنی کے عدم وجود کے باعث بہت کچھ دیکھ پانا اور سمجھ پانا ممکن نہیں۔

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کب کروائے گی ،تاریخ اور شیڈول جاری

    دوسری جانب ایک اور تحقیق میں ماہرینِ فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اب تک کا سب سے بڑا بلیک ہول دریافت کر لیا ہے نیچر آسٹرونومی نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین فلکیات نے چلی میں بہت بڑی ٹیلی اسکوپ کی مدد سے خلا میں اب تک کا سب سے بڑا بلیک ہول دریافت کیا ہے غیر معمولی طاقت کے حامل اس بلیک ہول کو J0529-4351 کا نام دیا گیا ہے، جو ہمارے سورج سے 17 بلین گنا بڑا ہے۔

    یہ بلیک ہول بنیادی طور پر کہکشاں کا مرکزی حصہ ہے، فلکیات کی اصطلاح میں اسے ’ایکٹیو گیلیکٹک نیوکلیئس‘ (AGN ) کہا جاتا ہے،محققین کے مطابق یہ انتہائی وسیع بلیک ہول ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر ہمارے سورج کے مساوی مواد نگل رہا ہے اس بلیک ہول کا پتہ برسوں پہلے لگایا گیا تھا تاہم اس کی تفصیلات حال ہی میں ایک مکمل مطالعے کے بعد سامنے آئی ہیں۔

    اڈیالہ جیل انتظامیہ کا بشری بی بی کو جیل منتقل کرنے سے انکار

    آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے محقق کرسچین ولف نے بتایا ہے کہ کسی بھی بلیک ہول کے غیر معمولی تجاذب سے چیزیں پھٹ جاتی ہیں اور یوں غیر معمولی روشنی پیدا ہوتی ہے، J0529-435 کی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں 12 ارب سال لگے ہیں،اس بلیک ہول کا قطر 7 نوری سال ہے، جس سے خارج ہونے والی روشنی ہمارے سورج سے خارج ہونے والی روشنی سے 500 کھرب گنا زیادہ ہے J0529-435 کا درجۂ حرارت 10 ہزار سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے اور اس کے دائرے میں چلنے والی ہواؤں کی رفتار اتنی ہے کہ ایک سیکنڈ میں زمین کا چکر لگا سکتی ہیں۔

    کے پی کی نگران حکومت نے آئندہ 4 ماہ کا بجٹ تیار کر لیا

  • کائنات کا قدیم ترین بلیک ہول دریافت

    کائنات کا قدیم ترین بلیک ہول دریافت

    نیویارک: ناسا کے سائنسدانوں نے جیمز ویب اور چندرا آبزرویٹری ٹیلی اسکوپس استعمال کرکے اب تک کا قدیم ترین بلیک ہول دریافت کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی :جرنل آسٹرونومی میں شائع تحقیق کے مطابق ناسا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بلیک ہول کو امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اور چندرا آبزرویٹری ٹیلی اسکوپس استعمال کرکے دریافت کیا گیا سائنسدانوں کا تخمینہ ہے کہ یہ بلیک ہول بگ بینگ کے 47 کروڑ سال بعد وجود میں آیا تھا، کائنات کی ابتدا میں تشکیل پانے والے بلیک ہول کا مشاہدہ پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا، جس کی عمر 13 ارب 20 کروڑ سال ہو سکتی ہے۔

    اس بلیک ہول کو UHZ1 نامی کہکشاں میں دریافت کیا گیا یہ بلیک ہول ہمارے سورج سے 10 سے 100 کروڑ گنا زیادہ بڑا ہو سکتا ہے یہ کائنات کا سب سے بڑا بلیک ہول تو نہیں مگر ابتدائی عہد میں بننے والے بلیک ہول کا اتنا بڑا حجم غیر معمولی ہے کائنات کی ابتدا میں اتنے بڑے بلیک ہول بننے سے کافی کچھ معلوم ہوتا ہےیہ بلیک ہول گیس کے بہت بڑے بادل کے پھٹنے سے بنا بلیک ہول کے پھیلنے کا دورانیہ بہت مختصر ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بلیک ہول بہت تیز رفتاری سے پھیلا یا شروع سے ہی وہ اتنا بڑا تھا۔

    روس کا غزہ پر ایٹمی حملے سےمتعلق اسرائیلی وزیر کے بیان پرتحقیقات کا مطالبہ

    بابا وانگا کی سال 2024 کے حوالے سے 7 پیشگوئیاں

    اسرائیل نے کرائے کے فوجیوں کی بھرتی شروع کر دی،ہسپانوی اخبار کا دعویٰ

  • جیمیز ویب ٹیلی اسکوپ نے سُپر سائز کا ایک بلیک ہول دریافت کر لیا

    جیمیز ویب ٹیلی اسکوپ نے سُپر سائز کا ایک بلیک ہول دریافت کر لیا

    جیمیز ویب ٹیلی اسکوپ نے سُپر سائز کا ایک بلیک ہول دریافت کرلیا ہے جو آج سے 13 ارب سال پہلے وجود میں آیا۔

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے دریافت ہونے والا یہ اب تک کا قدیم ترین بلیک ہول ہے، جو ایک انتہائی عمر رسیدہ کہکشاں کی گہرائی میں واقع ہے یہ کہکشاں بِگ بینک کے 570 ملین سال بعد وجود میں آئی۔ اس سُپر سائز بلیک ہول کا حجم ہمارے سورج سے کوئی 9 ملین گنا پڑا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی مدد سے 2 دیگر بیلک ہولز اور 11 نئی کہکشائیں بھی دریافت ہوئی ہیں ایکٹو بلیک ہول جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے بگ بینگ سے 570 ملین سال بعد بننے والی CEERS 1019 نامی گیلکسی کی گہرائیوں میں دریافت کیا گیا ہے۔

    2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دورریکارڈ ہوگا،اقوم متحدہ

    ناسا سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اب تک کی دریافتوں اور مستقبل کی امکانی دریافتوں کے بعد ستاروں اور کہکشاؤں کو بننے اور فنا ہونے کے بارے میں مزید گھری معلومات حاصل ہو سکے گی اور ممکن ہے کہ اس سے فلکیات کے تحقیقی مطالعات کیلئے ہماری سوچنے اور سمجھنے کے طریقے ہی تبدیل ہو جائیں-

    قبل ازیں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے لی گئی کائنات کی پہلی رنگین تصویر 12 جولائی 2022 کو جاری کی تھی جیمز ویب کی جانب سے تصاویر کھینچنے کے سلسلے کو ایک سال مکمل ہونے پر ناسا کی جانب سے اب تک کی ایک بہترین تصویر اور ویڈیو جاری کی گئی ہے۔

    واٹس ایپ نے بھارت میں مزید 65 لاکھ واٹس ایپ اکاؤنٹس پر پابندی لگادی


    اس تصویر میں سورج جیسے ستاروں کو جنم لیتے دکھایا گیا ہے جبکہ ویڈیو میں 50 ننھے ستاروں کو ایک بادل میں دکھایا گیا ہے،یہ تصویر اور ویڈیو زمین سے 390 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع مقام Rho Ophiuchi کی ہےخلا کا یہ حصہ گیسوں اور گرد سے جگمگا رہا ہے جو کہ مزید ستاروں کے آغاز کی جانب اشارہ ہے۔

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ستاروں کی پیدائش کو دیکھیں،ناسا کی ایک اور عہدیدار پامیلا میلوری نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایک سال ہوگیا اور ایڈونچر تو ابھی شروع ہوا ہے۔

    ویڈیو اور تصویر میں دکھائے جانے والے ستارے ہمارے سورج سے زیادہ بڑے نہیں اور سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس سے ایک ستارے کی زندگی کے ابتدائی مرحلے کی واضح عکاسی ہوتی ہے ناسا کے مطابق ہمارا سورج بھی بہت پہلے اس مرحلے سے گزرا تھا اور اب ہمارے پاس کسی ستارے کی کہانی کے آغاز کو دیکھنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔

    کائنات کے دو بڑے معموں کا مشاہدہ کرنے یوکلیڈ ٹیلی سکوپ روانہ

  • سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    ڈرہم: برطانوی ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ انہوں نے اب تک کے دریافت ہونے والے بلیک ہولز سے بڑا بلیک ہول دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانیہ میں ماہرین فلکیات نے سورج کی کمیت سے تقریباً 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت کیا ہےڈرہم یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کہا کہ بہت بڑا بلیک ہول اب تک کا سب سے بڑا دریافت ہے۔ ٹیم نے اپنے نتائج کو، جو کہ رائل فلکیاتی سوسائٹی کے ماہانہ نوٹسز میں شائع ہوا، کو "انتہائی دلچسپ” قر ار دیا۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    ماہرین کے مطابق اس بلیک ہول کا حجم ہمارے سورج کے حجم سے 30 ارب گُنا زیادہ ہے جبکہ اس کا وجود ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود سیگِیٹیریس سے 8000 گُنا بڑا ہےانتہائی دلچسپ دریافت گریویٹیشنل لینسنگ کے مظہر کے سبب ممکن ہوئی ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس تکنیک سے کوئی بلیک ہول دریافت کیا گیا ہو۔ گریویٹیشنل لینسنگ کا معاملہ تب وقوع پذیر ہوتا ہے جب آگے موجود کہکشاں اپنی پشت پر موجود دور دراز اجرامِ فلکی سے آنے والی روشنیوں کو موڑ دیتی ہے اور بڑا کر دیتی ہےاس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ڈرہم یونیورسٹی کے محققین نے کہکشاں کے مرکز میں زمین سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود دیو ہیکل بلیک ہول کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

    تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر جیمز نائٹِنگیل کا کہناتھا کہ یہ بلیک ہول، جس کا حجم ہمارے سورج سےاندازاً 30 ارب گُنا زیادہ ہے، دریافت ہونے والے اب تک کے سب سے بڑے بلیک ہولز میں سے ایک ہے یقین ہے کہ بلیک ہولز نظریاتی طور پر بن سکتے ہیں، اس لیے یہ ایک انتہائی دلچسپ دریافت ہے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    یہ بلیک ہول کتنا بڑا ہے اس کااندازہ لگانے کے لیے ڈاکٹر جیمز نائٹِنگیل کے مطابق اگررات میں آسمان کیجانب دیکھا جائے اور تمام ستاروں اور سیاروں کو ملا کر ایک جگہ جمع کر دیا جائے تب بھی یہ سب مل کر اس بلیک ہول کے سائز کا عشرِ عشیر بھی نہیں بھر پائیں گے۔

    الٹرا میسیو بلیک ہولز نایاب اور مضحکہ خیز ہیں، اور ان کی اصلیت واضح نہیں ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ وہ اربوں سال پہلے بڑے پیمانے پر کہکشاؤں کے انتہائی انضمام سےتشکیل پائےتھےجب کائنات ابھی بنی ہی تھیسائنسدانوں نےاس کے سائز کی تصدیق کے لیے یونیورسٹی میں سپر کمپیوٹر سمیلیشنز اور ہبل خلائی دوربین کے ذریعے لی گئی تصاویر کا استعمال کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا بلیک ہول تھا جو کشش ثقل لینسنگ کا استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تھا۔ ڈاکٹر نائٹنگیل نے کہا کہ "زیادہ تر سب سے بڑے بلیک ہول جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں وہ ایک فعال حالت میں ہیں، جہاں بلیک ہول کے قریب کھینچا جانے والا مادہ گرم ہوتا ہے اور روشنی، ایکس رے اور دیگر تابکاری کی شکل میں توانائی خارج کرتا ہے-

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    تاہم، کشش ثقل لینسنگ غیر فعال بلیک ہولز کا مطالعہ ممکن بناتی ہے، جو کہ دور دراز کہکشاؤں میں فی الحال ممکن نہیں ہے۔ اس نقطہ نظر سے ہم اپنی مقامی کائنات سےآگے بہت سے بلیک ہولزکا پتہ لگا سکتےہیں اور یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ کائناتی وقت میں یہ غیر ملکی اشیاء مزید کیسے تیار ہوئیں۔

    محققین نے کہا کہ ان کے کام نے اس "ٹینٹالیزنگ امکان” کو کھول دیا ہے کہ ماہرین فلکیات پہلے کی سوچ سے کہیں زیادہ الٹرماسیو بلیک ہولز دریافت کر سکتے ہیں اس تحقیق کو یو کے اسپیس ایجنسی، رائل سوسائٹی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی سہولیات کونسل، یو کے ریسرچ اینڈ انوویشن کا حصہ، اور یورپی ریسرچ کونسل نے تعاون کیا۔

    شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

  • سائنسدانوں نے زمین کے سب سے زیادہ قریب بلیک ہول دریافت کرلیا

    سائنسدانوں نے زمین کے سب سے زیادہ قریب بلیک ہول دریافت کرلیا

    سائنسدانوں نے زمین کے سب سے زیادہ قریب موجود بلیک ہول دریافت کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جریدے نوٹسز آف دی رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ سورج سے 10 گنا زیادہ بڑے پیمانے پرایک خوابیدہ خول ہے، جو اپنے ستارے سے اتنا ہی دور گردش کر رہا ہے جتنا کہ زمین ہماری طرف سے ہے۔

    محققین کے مطابق یہ بلیک ہول زمین سے 1600 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ہے اور سورج سے 10 گنا زیادہ بڑا ہےاس بلیک ہول کو Gaia BH1 کا نام دیا گیا ہے جس کی شناخت اس کے مدار میں گھومنے والے ستارے سے ہوئی۔

    یہ ایک خوابیدہ بلیک ہول ہے جس کے باعث اس کو دریافت کرنا مشکل تھا مگر سائنسدان ایسا کرنے میں کامیاب رہے سائنسدانوں کے مطابق یہ ایک ستارہ تھا جو اربوں سال تک زندہ رہنے کے بعد بلیک ہول میں بدل گیا۔

    زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق

    اس بلیک ہول کی شناخت یورپین اسپیس ایجنسی کے Gaia اسپیس کرافٹ سے ہوئی، جس کے بعد دنیا بھر میں 6 مختلف ٹیلی اسکوپس سے اس مقام کا مشاہدہ کیا گیا اس طرح سائنسدان یہ تصدیق کرنے کے قابل ہوگئے کہ یہ ایک خوابیدہ بلیک ہول ہے یہ پہلی بار ہے جب ہماری کہکشاں میں سورج جیسے ایک ستارے کو ایک بلیک ہول کے مدار میں گھومتے دریافت کیا گیا۔

    ایک بلیک ہول کو خوابیدہ اس وقت تصور کیا جاتا ہے جب وہ زیادہ مقدار میں ایکسرے ریڈی ایشن کو خارج نہیں کررہا ہوتا، جن کے ذریعے ہی عموماً بلیک ہولز کو شناخت کیا جاتا ہےخوابیدہ بلیک ہولز کو دریافت کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے اردگرد سے رابطے میں نہیں ہوتے۔

    برج اوفیچس میں اگلا قریب ترین معلوم بلیک ہول مونوکیروس برج میں تقریباً 3,000 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ اس نئے بلیک ہول کو جو چیز ہماری کہکشاں میں پہلے سے شناخت شدہ 20 یا اس سے زیادہ دوسرے لوگوں سے الگ کرتی ہے، اس کی قربت کے علاوہ، یہ ہے کہ یہ کچھ بھی نہیں کر رہا ہے کشش ثقل سے قریب کی ہر چیز کو استعمال نہیں کر رہا ہے۔ بلکہ، بلیک ہول غیر فعال ہے-

    انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت

    بلیک ہولز اتنی گھنی چیزیں ہیں کہ آئن سٹائن کے عمومی اضافیت کے نظریہ کے مطابق روشنی بھی ان سے بچ نہیں سکتی۔ یہ انہیں فطرت میں سب سے زیادہ دلچسپ اور پرتشدد مظاہر بناتا ہے وہ کائنات کی سب سے زیادہ شاندار اشیاء بن سکتے ہیں، کیونکہ گیس، دھول اور یہاں تک کہ چھوٹے ستارے پھٹ جاتے ہیں-

    زیادہ تر ہر کہکشاں میں سورج سے لاکھوں یا اربوں گنا زیادہ بڑا بلیک ہول ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کو یقین نہیں ہے کہ وہ کہاں سے آتے ہیں. چھوٹے بلیک ہولز کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ وہ بڑے ستاروں سے بنتے ہیں جو اپنی تھرمونیوکلیئر زندگی کے اختتام تک پہنچ چکے ہیں اور منہدم ہو گئے ہیں کہکشاں میں شاید لاکھوں بلیک ہولز ہیں وہ عام طور پر اپنے آپ کو ایکس رے کے ذریعہ پہچانتے ہیں جب وہ اپنے ساتھیوں سے ڈبل اسٹار سسٹم میں گیس چھین لیتے ہیں۔

    ہارورڈ سمتھسونین سنٹر فار ایسٹرو فزکس کے ماہر فلکیات کے ماہر کریم البدری چار سال سے ایسے چھپےہولز کی تلاش کر رہے ہیں۔ اس نے یہ بلیک ہول یورپی خلائی ایجنسی کے GAIA خلائی جہاز کے ڈیٹا کی چھان بین کرتے ہوئے پایا گیا، جو کہکشاں میں موجود لاکھوں ستاروں کی پوزیشنوں، حرکات اور دیگر خصوصیات کو انتہائی درستگی کے ساتھ ٹریک کر رہا ہے۔

    11 ہزار سال قبل پھٹنے والے ستارے کی باقیات کی تصویر جاری

    ڈاکٹر ال بدری اور ان کی ٹیم نے ایک ستارے کا پتہ لگایا، جو ہمارے سورج سے تقریباً مماثلت رکھتا ہے، جو عجیب طرح سے ہل رہا تھا، جیسے کسی غیر مرئی ساتھی کے کشش ثقل کے زیر اثر۔ مزید تحقیق کرنے کے لیے، محققین نے ہوائی میں مونا کییا کے اوپر جیمنی نارتھ دوربین کی کمانڈ کی، جو اس کے ڈوبنے کی رفتار اور مدت کی پیمائش کر سکتی ہے یہ تکنیک اس عمل سے مماثل ہے جس کے ذریعے ماہرین فلکیات ستاروں کے گھومنے کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ مدار میں گھومنے والے exoplanets کی موجودگی کا پتہ لگایا جا سکے-

  • زمین سے پراسرار شعلوں نے دنیا میں خوف پیدا کردیا

    زمین سے پراسرار شعلوں نے دنیا میں خوف پیدا کردیا

    واشنگٹن : زمین کے قریبی بلیک ہول سے عجیب و غریب شعلے نکل رہے ہیں اس خبر نے ہر طرف خوف کی فضا پیدا کردی .۔ہماری کہکشاں کے وسط میں واقع عظیم بلیک ہول (جس کا نام سیجی ٹیریئس اے ہے) سے تابکاری کے اتنے طاقتور شعلے نکل رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔

    یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ آج تک سائنس دانوں کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، حالانکہ انہوں نے اس کا براہِ راست مشاہدہ کیا ہے۔ سیجی ٹیریئس اے ہمارے سورج سے 40 لاکھ گنا زیادہ وزنی ہے۔سائنس دانوں نے ایک نئے تحقیقی مقالے میں کہا ہے کہ ان شعلوں کا کہکشاں میں دور تک سفر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس مقالے میں انہوں نے ان شعلوں کا شماریاتی ماڈل شائع کیا ہے , محققین کے مطابق رات کو ان شعلوں کے نظر آنے کا امکان ہزار میں سے تین ہے۔