Baaghi TV

Tag: بل

  • صحافیوں کے احتجاج کے بعد  پیمرا ترمیمی بل واپس

    صحافیوں کے احتجاج کے بعد پیمرا ترمیمی بل واپس

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب بھی شریک ہوئیں

    صحافیوں کے احتجاج کے بعد ن لیگی رہنما وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیمرا ترمیمی بل 2023ء واپس لینے کا اعلان کر دیا، مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پیمرا کے پرانے سیاہ قانون کو ختم کرنا چاہتے تھے 4 سال اپوزیشن میں رہتے ہوئے میڈیا کے ساتھ کام کیا مخلصانہ سوچ اور بڑی محنت سے یہ بل تیار کیا تھا بعض شقوں کے حوالے سے آنے والے تحفظات کا احترام کرتے ہیں آئینی اور جمہوری سوچ پر کبھی سمجھوتہ کیا اور کبھی کر سکتے ہیں جبر،آمریت اور فسطائیت کیخلاف میڈیا کے ساتھ مل کر جدوجہد کی۔

    کامران مائیکل نے کہا کہ پیمرا (ترمیمی) بل 2023ء میں صحافیوں اور ورکرز کی بہبود کے لئے اقدامات منظور کرنے چاہئیں، سرمد علی، صدر اے پی این ایس نے کہا کہ بل کی ایک ایک شق پر مشاورت ہوئی، ہم اس بل کی حمایت کرتے ہیں، اجلاس میں صحافیوں، رپورٹرز نے کھڑے ہو کر بل کی حمایت کا اعلان کر دیا ،مریم اورنگزیب نے کہا کہ پیمرا آرڈیننس 2002ءپرویز مشرف کا کالا قانون تھا، آرٹیکل 19 کو پیمرا بل میں ڈالنے کا مطلب آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانا ہے،بل پر تمام اراکین اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے کا احترام کرتے ہیں، بل میں ادھر چھوڑ کر جا رہی ہوں جو حکومت بھی آئے گی وہ بل پر بحث کرلے گی،میں اپنا کردار ادا کرونگی بل کو آگے لے کر جانے کی اگلی حکومت جو بھی آئے۔

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

    پارلیمنٹ کے دو دن، اب بل پاس نہیں ہو سکتا، اسلئے واپس لیا، مریم اورنگزیب
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے بعد وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بارہ مہینے صحافیوں کی تحفظ کے لیے قانون سازی پر صرف کئے، میں تنقید سے نہیں ڈرتی، آزادی اظہار رائے کو اس قانون کی شقوں میں ڈالا ہے، اے پی این ایس، سی پی این ای، پی پی اے، ایمنڈ اور پی ایف یو جے سے مشاورت کی، یہ کہنا شروع کر دیا گیا کہ اس بل میں کالے قانون ڈال دیئے گے، میں نے صحافیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر آزادی صحافت کی جنگ لڑی، میری قیادت نے سنسر شپ سے لیکر ان کی آواز بندی تک جنگ سڑکوں پر لڑی، گزشتہ حکومت میں پی ایم ڈی اے آرہا تھا ہم نے اس کے لیے دھرنے دیے،کہا گیا کہ میں یہ کام عجلت میں کررہی ہوں اور کسی کہ کہنے پر کر رہی ہوں، میں نے ہمشہ ورکرز کا ساتھ دیا ہے،میڈیا ورکرز کی ہیلتھ انشورنس کرائی کیونکہ مجھے پتہ کہ وہ کن مشکلات کا شکار ہیں، ہم نے بل میں ورکرز کی دو ماہ کے اندر تنخواہوں کی ادائیگی کے شقیں ڈالیںانہوں کہاں کہ میں نے لیبر لاز اور حقوق کی خلاف ورزی کی ہے، میں نے چئیرمین پیمرا کے سارے اختیار لیکر اتھارٹی کو دیئے،کالا قانون بنانے کے لیے 12 ماہ کی محنت درکار نہیں ہوتی،میری نیت پر الزام لگایا گیا تو میں نے بل واپس لینے کا فیصلہ کیا،اس قانون میں کافی ترامیم کی تجویز دی گئی جن پر مشاورت کے لیے وقت چاہیے، پارلیمنٹ کے دو دن رہ گئے ہیں اس صورت حال میں بل پاس کروانا مشکل ہے،نیا پارلیمان اور نیا مینڈیٹ آئے گا تو تمام قیمتی آر کو بل کا حصہ بنایا جائے گا، اینکرز نے اپنی رائے دی ہے میں نہیں سمجھتی کہ وہ کوئی اعتراض ہیں،ورکنگ جرنلسٹ نے اس بل میں محنت کی جو بہت بڑا کام تھا، میرے پاس دو دن ہیں اس دروان طویل مشاورت مشکل ہیں،

  • قومی اسمبلی میں  29 بل کثرت رائے سے منظور

    قومی اسمبلی میں 29 بل کثرت رائے سے منظور

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا ۔قومی اسمبلی میں حکومت اوراپوزیشن کے مختلف ارکان کے 29 بل کثرت رائے سے منظور کر لیے گئے۔ منظور ہونے والے اہم بلوں میں تحفظ خاندانی زندگی و ازدواج بل2023 اور پاکستان میں داخلے کے مقامات صحت عامہ بل شامل ہیں۔ آج کی قانون سازی کی اہم بات اجلاس میں 26 نئی یونیورسٹیوں اور مختلف تعلیمی انسٹیٹیوٹ کے قیام کے بلوں کی منظوری دینا شامل تھا۔ اجلاس کے دوران ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری سعد وسیم نے کہا کہ ملک میں قدرتی گیس کی کمی ہے، خیرپور اقتصادی زون کو قدرتی گیس کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید شاہ نے اجلاس میں ای او بی آئی کے متاثرہ ملازمین کو مستقل نہ کرنے کا معاملہ اٹھایا۔تاہم نورعالم خان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔وقفہ سوالات میں گیلری میں سرکاری اداروں کے حکام کی عدم موجودگی پر اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا اور رولنگ دی کہ وقفہ سوالات میں تمام سرکاری اداروں کے حکام گیلری میں موجود رہیں۔قومی اسمبلی کا اجلاس 31 جولائی شام 5 بجے تک کے لیے ملتوی ہوگیا۔

  • اتنی مہنگی بجلی ہوگی تو لوگ چوری نہیں کریں گے؟ نور عالم خان پھٹ پڑے

    اتنی مہنگی بجلی ہوگی تو لوگ چوری نہیں کریں گے؟ نور عالم خان پھٹ پڑے

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو یہ بتائیں کہ اگر ملک میں بجلی آٹا اور دیگر اشیاء مہنگے کریں گے تو یہاں پہ لوگوں کا گزارا کیسے ہوگا ٹیکس نیٹ ضرور بڑھائیں مگر غریبوں اور متوسط طبقوں کا خیال رکھیں ، نور عالم خان کا کہنا تھا کہ کبھی تعلیمی نظام سے پوچھا گیا کہ بچوں کو سکھایا کیا جا رہا ہے؟ یونیورسٹیوں کے بل دھڑا دھڑ منظور کئے جا رہے ہیں،قومی اسمبلی کو کون سنجیدہ لیتا ہے؟ بجلی مہنگی ہو رہی ہے کسی نے مہنگائی پر بات نہیں کی، اتنی مہنگی بجلی ہوگی تو لوگ چوری نہیں کریں گے؟،صحت کا کیا حال ہے، جا کر دیکھیں کسی کو سوئی بھی لگانی آتی ہے؟ منشیات کا کاروبار کرنے پر سزائے موت ختم کر دی گئی،جب ہیروئن بیچی جاتی ہے تو آپ نسلیں ختم کر رہے ہیں،جو بندہ یہ کاروبار کر رہا ہے وہ آپ کی نسلیں برباد کر رہا ہے،کونسے قانون کے تحت یہ سزائیں ختم کی گئیں، منشیات کے کیس میں پھانسی کی سزا ہونی چاہیے ورنہ ملک کے کونے کونے میں منشیات کاروبار عام ہو گا اور پاکستان کا نام بدنام ہو گا ،شریعت کے خلاف کوئی بات نہیں کی جانی چاہئیے، مہنگائی کے باعث مشکل سے گزارا ہو رہا ہے،

    قومی اسمبلی نے مفتی اعظم یونیورسٹی اسلامی بل 2023 کی منظوری دے دی ،بل عالیہ کامران کی جانب سے پیش کیا گیا ، کلام بی بی بین الاقوامی ادارہ برائے خواتین بنوں ترمیمی بل 2023 بھی قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا،بل عالیہ کامران نے پیش کیا مقومی اسمبلی نے اسلام آباد بین الاقوامی یونیورسٹی بل 2023 منظور کرلیا ،بل طاہرہ اورنگزیب کی جانب سے پیش کیا گیا ،پاکستان میں داخلے کے مقامات (صحت عامہ) بل 2023 بھی منظور کر لیا گیا،بل جام عبد الکریم بجار کی جگہ طاہرہ اورنگزیب نے پیش کیا ،اسلام آباد ادارہ برائے جدید علوم بل 2023 بھی قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا، بل ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی کی جانب سے پیش کیا گیا،

    بطور وزیر احتجاج کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کو عزت دلوائی جائے،خورشید شاہ
    قومی اسمبلی اجلاس سے سید خورشید شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے آنے والی اسمبلی میں قانون سازی کو ذیادہ سنجیدہ لیا جائے گا، بطور وزیر احتجاج کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کو عزت دلوائی جائے، ان وزارتوں کے سیکرٹریز کے خلاف ایکشن لیں جنہوں نے پارلیمان کے احکامات نہیں مانے،خورشید شاہ نے برطرف ملازمین کی بحالی میں تاخیر پر اظہار تشویش اور سپیکر کو معاملے کا نوٹس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ 2010-11 میں اسی طرح کی کمیٹی کے تحت ہم نے 2 لاکھ 10 ہزار ملازمین کو بحال کیا اور ان کو تین سال کی تنخواہیں بھی دلوائیں ،مگر افسوس کہ وزیراعظم کی طرف سے قارد مندوخیل کی سربراہی میں برطرف ملازمین کی بحالی کے لیے جو کمیٹی بنائی گئی اس کے احکامات کی تکمیل نہیں ہو رہی باوجود اس کے کہ پارلیمان نے اس حوالے سے قرارداد بھی پاس کی اور بارہا عمل درامد کی ہدایات بھی جاری کی مگر افسوس ہے کہ ان پر عمل درامد نہیں ہو رہا

    گیس کی عدم دستیابی کا مسئلہ اس ایوان میں موجود سب اراکین کا ہے،سعد وسیم
    پارلیمانی سیکرٹری سعد وسیم نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آفس بورڈ آف انوسمنٹ اور وزارت توانائی پیٹرولیم ڈویژن نے 3.5 ایم ایم سی ایف ٹی قدرتی گیس سندھ کے شہر خیر پور کے لیے منظور کی ہے، جس سے 140 ایکڑ اور 85 انڈسٹری یونٹ مستفید ہوں گے، گیس کی کمی کی وجہ سے ایک خط جاری کیا گیا جس میں اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی کہ کس فارمولے کے تحت گیس مہیا کی جائے گی، گیس کی عدم دستیابی کا مسئلہ اس ایوان میں موجود سب اراکین کا ہے،

    ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ،ایوان کی توجہ ضلع خیرپور میں گیس کی عدم دستیابی کی طرف دلاتے ہوئے کہا کہ خیر پور اکنامک زون ایک انڈسٹریل زون ہے جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری ہے خیر پور ضلع ایک خوش قسمت ضلع ہے جس نے پورے ملک کو ایندھن فراہم کیا پورے ملک میں جتنی گیس جا رہی ہے اس کا بہت بڑا حصہ ضلع خیر پور پورا کر رہا ہے ،ہمارا مطالبہ ہے کہ ضلع خیر پور کو جو گیس وہ پورے ملک کو دے رہا ہے اس میں سے 1فیصد دیں تاکہ انڈسٹریز بند نہ ہوں اور نوجوان نقل مکانی نا کریں۔

    آبادی کا 67 فیصد حصہ نوجوان،35 فیصد سے 40 فیصد نوجوان بے روزگار
    قومی اسمبلی کے اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ بہت افسوس ہے کہ ہماری آبادی کا 67 فیصد حصہ نوجوان ہیں،35 فیصد سے 40 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں،سابقہ حکومت نے ملک کے نوجوانوں کے ساتھ مذاق کیا تھا،نوجوان کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے منصوبوں کو لایا گیا،میرا سوال ہے کہ سابقہ حکومت نے نوجوانوں کو جو خواب دیکھائے وہ کہاں تک پہنچے

    واقعہ کسی مدرسے میں ہوتا تو ہاؤس کا ہر بندہ چیخ چیخ کر بات کر رہا ہوتا،عالیہ کامران
    جمعیت علماء اسلام کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے بہاولپور یونیورسٹی کے واقعے پر میڈیا اور ممبران قومی اسمبلی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کو پروموٹ کرنے کے لئے انہیں ہراساں کیا گیا، لالچ دیا گیا اور غلط کام کیا گیا ، یہ انتہائی الارمنگ صورتحال ہے، اگر ایکشن نہ لیا تو مستقبل پرکاری ضرب ہے، تحقیقاتی رپورٹ منگوائی جائیں اور کاروائی بھی کی جائے، اگر یہ واقعہ کسی مدرسے میں ہوتا تو ہاؤس کا ہر بندہ چیخ چیخ کر بات کر رہا ہوتا، لیکن یہ یونیورسٹی کا معاملہ تو سب خاموش ہیں

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • خیبر پختونخوا کے عوام بھاری بل دینے کے باوجود بجلی  کی سہولت سے محروم

    خیبر پختونخوا کے عوام بھاری بل دینے کے باوجود بجلی کی سہولت سے محروم

    با غی ٹی وی کے رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بجلی کی شدید لوڈ شیڈنگ سے عوام سخت پریشان،ایک طرف شدید گرمی تو دوسری طرف بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کے زندگیوں کو اجیرن کر کے رکھ دیا،باغی ٹی وی کے مطابق ضلع مردان،چارسدہ،صوابی،پشاور،اور مضافاتی علاقہ جات واپڈا کے غیر علانیہ شدید لود شیڈنگ کا شکار ہے،سخت گرمی کے ستائے ہوئے عوام کا کہنا ہے کی جب لوڈ شیڈنگ کے حوالے شکایات درج کرنے کے لئے واپڈا کے دفاتر میں کال کرنے کی کوشش کرتے ہے تو وہاں پہ کوئی فون اٹھانے والا بندہ موجود نہیں ہوتا ، دوسری جانب 14 سے 18گھنٹوں تک بجلی غائب ہونے کے باوجود عوام کا بھاری بل موصول ہو رہے ہے جس نے عوام کے پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے،عوام نے حکومت سے سخت الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے تمام علاقوں میں طویل لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ ختم کر دیا جائے ورنہ شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا،

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل،وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ میں جواب جمع

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل،وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ میں جواب جمع

    وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل قانون کیخلاف درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا کردی

    وفاق نے درخواستیں کیخلاف آٹھ صفحات کا جواب سریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قانون کیخلاف درخواستیں انصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے،درخواست گزاروں کی قانون کو چیلنج کرنے کی نیت صاف نہیں، پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار پر کوئی قدغن نہیں،ماسٹر آف روسٹر کے تصور کو قانونی تحفظ حاصل نہیں،قانون سے چیف جسٹس کا آئین کے آرٹیکل 184/3 کا اختیار ریگولیٹ ہوگا، قانون سے عدلیہ کے اختیارات میں کمی نہیں ہوگی،قانون میں آرٹیکل 184/3 کے اختیار میں اپیل کا حق دیا گیا ہے، آئین کا آرٹیکل10A فئیر ٹرائل کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 184/3میں نظر ثانی کا اختیار بڑا محدود ہے،فئیر ٹرائل کیلئے اپیل کا حق ضروری ہے،

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے سے متعلق درخواست دائر کر دی گئی ،سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے آرٹیکل 3/183 اختیارات کے ریگولیٹ کا قانون کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ،دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کو سنگین خطرہ ہے، سیاسی لیڈر شپ کے اسمبلی کے اندر، باہر بیانات 3 رکنی بینچ کیلئے دھمکیوں کے مترادف ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے، پارلیمنٹ کے قانون کو غیر آئینی قرار دیکر کالعدم کر دیا جائے۔

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • سپریم کورٹ فیصلوں اور آرڈرز پر نظر ثانی بل سینیٹ میں منظور

    سپریم کورٹ فیصلوں اور آرڈرز پر نظر ثانی بل سینیٹ میں منظور

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ فیصلوں اور آرڈرز پر نظر ثانی بل سینیٹ میں منظور کرلیا گیا

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا ، سینیٹ میں سپریم کورٹ فیصلوں اور آرڈرز پر نظر ثانی بل عرفان صدیق نے پیش کیا بل پیش کرنے کی تحریک کے حق میں 32 اور مخالفت میں 21 ووٹ آئے،بل منظور ہونے کے بعد اپوزیشن اراکین کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کا گھیراؤ کرلیا گیا ہے اور شور شرابہ بھی کیا گیا ،اس موقع پر اپوزیشن لیڈر شہزاد وسیم نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل سوداگروں کا ہے، ہم تسلیم نہیں کرتے ہیں حکمران توہین پارلیمنٹ کے مرتکب ہو رہے ہیں پارلیمنٹ کی بالادستی پر تقاریر کرتے تھکتے نہیں اور ادھر خلاف ورزی کرتے ہیں۔

    شہزاد وسیم نے کہا کہ ہمیں یہ بتایا جائے کہ دکاندار کون ہے؟ آج دکان میں کیا سودا بیچنے آئے ہیں؟ حکمرانوں نے تو پہلے ہی اپنے کرپشن کے کیسز معاف کروائے ہیں ۔ بل کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ کے پاس پارلیمنٹ کے قانون کے تحت نظر ثانی کا اختیار ہوگا ۔ نظر ثانی میں لوگوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔ آئین آرٹیکل 188 میں نظر ثانی پاور کا ذکر بھی کیا گیا ہے

    بلاول کا دورہ، بھارتی حکومت کے رویہ میں حیران کن تبدیلی

     شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کیلئے گوا آمد 

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف کیس کی سماعت کل دو مئی منگل کو ہوگی،

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بنچ سماعت کرے گا ۔سماعت کل دن ساڑھے بارہ بجے ہوگی .سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل کو نوٹس جاری کررکھے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف سمیت 9 سیاسی جماعتوں کو بھی نوٹس جاری کیئے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل سے متعلق دیگر تین درخواستوں کی سماعت بھی کل ہی ہوگئی رجسٹرار آفس کی جانب سے آج دیگر تینوں درخواستوں کو بھی نمبر الاٹ کر دیے گئے ہیں ۔اظہر صدیق ایڈووکیٹ ، زمان وردگ سمیت غلام محی الدین بھی درخواست گزار ہیں

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

  • سرکاری فلیٹ پر قابض رہنے والے فواد چودھری کو شرم آنی چاہیے،عطا تارڑ

    سرکاری فلیٹ پر قابض رہنے والے فواد چودھری کو شرم آنی چاہیے،عطا تارڑ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما، وزیراعظم کے مشیر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک میں نظام عدل و انصاف کی بالادستی چاہتے ہیں اور قانون کی بالادستی کیلئے بل کا آنا ضروری تھا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا ضروری ہے طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، پارلیمان سپریم ادارہ ہے، پارلیمان آئین میں تبدیلی کا اختیار رکھتی ہے، عدلیہ پارلیمان کے اختیارات اور قانون سازی میں مداخلت نہیں کرسکتی، صدر دستخط کریں یا نہ کریں، بل 10 دن بعد قانون بن جائے گا، عمران خان جیلوں سے بھاگے ہوئے، ضمانتوں پر پھر رہے ہیں،سرکاری فلیٹ پر قابض رہنے والے فواد چودھری کو شرم آنی چاہیے،ہمارے دستخط بھی اصلی ہیں اور حکومت بھی اصلی ہے، آپ کا لیڈر جعلی ہے، الیکشن ہوںگے لیکن ایک ساتھ ہونگے

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی 3 رکنی کمیٹی کے قیام سے جج صاحبان بینچز کی تشکیل کے حوالے سے مشاورت سے فیصلے کیا کریں گے تاکہ اس ون مین شو کا خاتمہ ہوسکے.سوموٹو کی پاور پسے ہوئے طبقات کیلیے تھی اقلیتوں کیلیے تھا اور ان لوگوں کیلیے تھا جن کی آواز نہیں سنی جاتی.یہ اس لیے نہیں تھا کہ سیاسی پارٹیوں کی سہولتکاری اور سپورٹ کیلیے ازخود نوٹس لیا جائے

    دوسری جانب سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری کا معاملہ ،قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور بل صدر عارف علوی کو دوبارہ بھجوا دیا صدر نے دس دن میں دستخط نہ کیے تو بل از خود قانون بن جائے گا ،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل کثرت رائے سے ترامیم کے ساتھ منظور ہوا تھا نئے قانون کے تحت از خود نوٹس کا چیف جسٹس کا اختیار ختم ہو جائے گا تین سینیر ترین ججز از خود نوٹس سے متعلق فیصلہ کرینگے صدر نے اب بھی دستخط نہ کیے تو بیس اپریل کی شام کو بل کے قانون بننے کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023،سپریم کورٹ میں چیلنج

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023،سپریم کورٹ میں چیلنج

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 ،میاں محمد حسین ایڈوکیٹ نے ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ایکٹ کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کوہی حاصل ہے، قانون سازی بدنیتی پر مبنی ہے، آرٹیکل 70 کے تحت ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود نہیں کیے جا سکتے

    دوسری جانب وکیل سعید آفتاب نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کو چیلنج کیا ہے دائر درخواست میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو کالعدم قراردینےکی استدعا کی گئی ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بنیادی مطالبہ صرف آرٹیکل 184کے تحت فیصلوں کے خلاف حق اپیل کا تھا اپیل کا حق چیف جسٹس کے اختیارات میں کمی لائے بغیر دیا جاسکتا تھا ہائیکورٹ کی طرز پر انٹرا کورٹ اپیل کا حق دیا جاسکتا تھا

    دوسری جانب سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری کا معاملہ ،قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور بل صدر عارف علوی کو دوبارہ بھجوا دیا صدر نے دس دن میں دستخط نہ کیے تو بل از خود قانون بن جائے گا ،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل کثرت رائے سے ترامیم کے ساتھ منظور ہوا تھا نئے قانون کے تحت از خود نوٹس کا چیف جسٹس کا اختیار ختم ہو جائے گا تین سینیر ترین ججز از خود نوٹس سے متعلق فیصلہ کرینگے صدر نے اب بھی دستخط نہ کیے تو بیس اپریل کی شام کو بل کے قانون بننے کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • قومی اسمبلی میں عدالتی اصلاحات کا بل پیش

    اسلام آباد: قومی اسمبلی میں ’سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت‘ کے خلاف قرارداد منظور کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی:وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں عدالتی اصلاحات ترمیمی بل ’سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت کا مسودہ منظور کیا گیا۔

    وفاقی حکومت کا عدالتی اصلاحات کیلئے فوری قانون سازی کا فیصلہ

    سیاسی معاملات میں عدلیہ کی بے جا مداخلت کا بل وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیش کیا ان کا کہنا تھا کہ ایوان عدالیہ کی مداخلت کو سیاسی عدم استحکام کا باعث سمجھتا ہےیہ ایوان چار ججزکے فیصلے پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے توقع کرتا ہے اعلیٰ عدلیہ سیاسی و انتظامی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن خودمختار ادارہ ہے اس کے آئینی اختیارات میں مداخلت نہ کی جائے’یہ ایوان سمجھتا ہے کہ تمام اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت غیر جانبدار نگران حکومتوں کے تحت ہونے چاہییں وہ دستوری معاملات جن میں اجتماعی دانش درکار ہو اور اس کا مطالبہ بھی ہو، اس کی سماعت عدالت عظمیٰ کا فُل کورٹ کرے۔

    پہلی ششماہی میں 10.21 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں. سٹیٹ بنک

    دوسری جانب حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کے اختیارات کم کرنے کیلئے عدالتی اصلاحات کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جس میں تجویز پیش کی گئی کہ چیف جسٹس کےہمراہ 2 سینئر ترین ججز پر مشتمل کمیٹی از خود نوٹس لینے کا فیصلہ کرے بل میں ایک اور تجویز پیش کی گئی کہ 3ججز پر مشتمل کمیٹی بینچزکی تشکیل اور کیسز تفویض کرنے کا فیصلہ بھی کرے گی جن میں چیف جسٹس بھی شامل ہوں گے-

    وفاقی وزیر قانون سینیٹراعظم نذیر تارڑ کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے انتظامی معاملات پر ایک دن میں 4 ازخود نوٹس لیے، سپریم کورٹ کے قواعد سے متعلق بہت تنقید ہوتی رہی ہے، ماضی میں بعض ازخود نوٹس ادارے کی تکریم میں اضافے کا باعث نہیں بنے، کئی نوٹس کے تحت ایسے فیصلے ہوئے جس سے نقصان ہوا، ادارے کا تقدس متاثر ہوا۔

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے3 سینئر ترین جج از خود نوٹس لینے کا فیصلہ کریں گے، از خود نوٹس کے فیصلے پر 30 روزمیں اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا ہے ، اپیل دائر ہونے کے14 روز کے اندر سماعت کیلئے مقرر کرنا ہوگی ازخود نوٹس کے استعمال سے سپریم کورٹ کے وقار کو نقصان پہنچا، گزشتہ روز 2جج صاحبان کا موقف سامنے آنے سے تشویش پیدا ہوگئی تھی ۔

    ڈیجیٹل مردم شماری،خواجہ سراؤں کی حقیقی تعداد کا تعین مشکل

    انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بل پیش ہونے کے بعد ارکان اسمبلی نے بل کو اجلت میں منظور کرنےکی مخالفت کی اور تجویز پیش کی گئی کہ تمام آئینی اداروں کو ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے ، سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف ارکان اسمبلی کی تجویز پر عدالتی اصلاحات کا بل متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا ہے-

    اس کے بعد ایوان میں بل پر بحث کی گئی، بعدازاں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشزف نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھیج دیا اور کہا کہ آرڈر آف دی ڈے یہ تھا کہ سپریم کورٹ سے متعلق بل آج ہی پاس کیے جائیں، ایوان کی رائے کے مطابق دونوں بل لاء اینڈ جسٹس کمیٹی کو بھیجے جارہے ہیں انہوں نے رولنگ دی کہ سپریم کورٹ سے متعلق دونوں ترمیمی بل کمیٹی کو بھیجے جاتے ہیں اور کمیٹی سے درخواست ہے کہ رپورٹ جلد ایوان میں پیش کرے۔

    مریم نواز بھائی کی مقروض،کیپٹن ر صفدر دوستوں کے مقروض

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس کل صبح ہوگا جس کی صدارت چیئرمین محمود بشیر ورک کریں گے قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کل ہی بل منظور کرکے ایوان میں رپورٹ دے گی، قومی اسمبلی کل عدالتی اصلاحات ترمیمی بل کی حتمی منظوری دے گی اور پھر مجوزہ بل جمعرات کو سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔