Baaghi TV

Tag: بل

  • حکومت پاکستان کا غریب عوام پراحسان:لیسکونےصفریونٹ پرصارف کو6424 روپے بل بھیج دیا

    حکومت پاکستان کا غریب عوام پراحسان:لیسکونےصفریونٹ پرصارف کو6424 روپے بل بھیج دیا

    لاہور: حکومت پاکستان کا غریب عوام پراحسان:لیسکونےصفریونٹ پرصارف کو6424 روپے بل بھیج دیا، ساتھ اس مہینے کی 29 تاریخ تک ادا کرنے کا حکم بھی دے دیا ، ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اگرمقررہ تاریخ پربل ادا نہ کرسکے تو پھر دیر کی صورت میں مزید رقم ادا کریں

    یہ ہے اس وقت اس ملک کی غریب عوام کی بے بسی اورحکمرانوں کی بے حسی ، غریب عوام اپنے کھانے پینے ، چلنے پھرنے اور اب تو مرنے جینے کا بھی ٹیکس کی صورت میں ادا کررہی ہے لیکن مجال ہے کہ حکومت کو غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھینتے ہوئے ترس آتا ہو

    ویسے تو اس ملک کے چپے چپے میں اس ملک کے باسیوں کے ساتھ ایسے ہورہا ہے ، مہنگی ترین بجلی مگر وہ بھی میسر نہیں ،

    پچھلے دو ماہ سے جس طرح‌بجلی کے بل آرہے ہیں تو ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملے کہ غریب لوگوں نے قرض لے کربل ادا کیے ، بعض نے اپنے گھر کی کوئی نہ کوئی چیز بیچ کر بل ادا کیا ، بعض نے گھر میں‌ پڑی گندم بیچ کربل ادا کیا اور اکثر نے اپنے موبائلز اور دیگر استعمال کی قیمتی چیزیں بیچ کر بجلی کے بل اد اکیے

     

    یہ بدنصیب جس کا ذکر کررہا ہوں یہ بیچارہ لاہور کا رہائشی ہے جس نے بل ادا نہ کرنے کی سکت ہونے کی وجہ سے بجلی استعمال کرنا ہی چھوڑ دی ہے، پتہ نہیں بیچارہ کس طرح گزارہ کرتا ہے ، یہ محمد شفیق نامی شہری ہیں جو بھگوان پورہ لاہور نئی آبادی کے رہائشی ہیں ، ان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی گئی ہے،

    لیسکونے جو ریڈنگ اس ماہ کی ہے اس کے مطابق محمد شفیق نے ایک یونٹ بھی استعمال نہیں کیا اور ریڈنگ صفر ہے لیکن اس کے باوجود محمد شفیق کولیسکو کی طرف سے 6424 روپے بل بھیج دیا گیا ہے اورساتھ یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ دی گئی مقررہ تاریخ تک ادا کردیں‌ ورنہ لیٹ ہونے کی پاداش میں مزید پیسے ادا کرنے ہوں گے

    صرف محمد شفیق ہی نہیں بلکہ اس ملک کا ہر شہری حکومت کے جی کو رورہا ہے کہ ہمارا قصور کیا ہے کہ ہم کھانے پینے حتی کہ سانس لیتے ہوئے بھی ہر سانس کے بدلے ٹیکس ادا کررہے ہیں تو اب کون سی کسر باقی تھی کہ اب کوئی جرم بھی نہیں کیا لیکن بغیر کی مصرف کے ہزاروں روپے بل آگیا ہے ، یہ ظلم کے ضابطے کب تک مسلط کیے جاتے رہیں گے ، ہے کوئی جو حکمرانوں کو عوام پر اس قدر ظلم و ستم سے روک لے ،

  • پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ بل 2021 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ بل 2021 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود بلدیاتی حکومت (لوکل گورنمنٹ) بل 2021 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایوان کے اجلاس میں بل صوبائی وزیر برائے پارلیمانی امور راجہ بشاور نے پیش کیا، جس پر اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کی البتہ اسپیکر نے اجلاس کو جاری رکھا۔اسپیکر کی جانب سے اجلاس جاری رکھنے پر اپوزیشن اراکین بینچوں پر کھڑے ہوئے اور شور شرابہ کیا اس دوران ایوان نے کثرت رائے سے لوکل گورنمنٹ بل 2021 کو منظور کرلیا۔اپوزیشن اراکین نے الزام عائد کیا کہ لوکل گورنمنٹ بل 2021 پیش کرنے کے لئے قوانین معطل کیے گئے، جو غیرآئینی اور غیر قانونی اقدام ہے۔

    سمبلی سے منظور ہونے والے بلدیاتی بل کے مطابق پنجاب میں آئندہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے، صوبے میں پچیس ضلع کونسل اور گیارہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن ہوں گی، میٹروپولیٹن کارپوریشن کا سربراہ مئیر ہوگا اور عوام براہ راست ووٹ سے مئیر کا انتخاب کر سکیں گے۔

    بل کے مطابق دیہاتوں اور شہروں میں یونین کونسل بنیں گی، تحصیل کونسل اور ٹاونز نئے بلدیاتی ایکٹ میں ختم کردئیے گئے، پنجاب کے ہر گاؤں میں ایک ویلج پنچائت کونسل ہوگی، ہر ضلع میں ضلعی کابینہ ہوگی جبکہ تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، واسا، پی ایچ ایز میٹرو پولٹین کے میئر کےماتحت ہوں گی۔

    قبل ازیں پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ الیکشن تک پارٹی قائد نواز شریف پاکستان واپس آجائیں گے اور انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ لوگ سیلاب کا شکار ہیں، ایوان وزیراعلیٰ میں تیتر اور بٹیر اُڑائے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی کے پاس بنی گالہ جانے کا وقت ہے سیلاب زدہ علاقوں کے لیے نہیں۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ جو وزیراعلیٰ زمینوں پر قبضے کرے گا اسے ڈاکو ہی کہنا چاہیے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ایل ڈی اے میں اپنے بندے لگا کر زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں، ایک صوبائی وزیر زمینوں پر قبضے کی سرپرستی کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی، شیخ رشید، شیریں مزاری، فرح گوگی کو کلین چٹ دے دی گئی۔
    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں یک جنبشِ قلم دہشت گردی کے مقدمات ختم کر دیے گئے، ہمارے ارکان اپنی ضمانتیں کروا کر شامل تفتیش ہو رہے ہیں۔

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پرویز الہٰی سے زیادہ انتقامی شخص زندگی میں نہیں دیکھا۔

    ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پنجاب میں اختیارات کے ناجائز استعمال کا نوٹس لے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ چوہدری پرویز الہٰی کو صرف دو ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے، ہماری پارٹی نے ابھی پنجاب حکومت گرانے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس ،گورنر کو بھجوائے گئے بل ایوان سے دوبارہ منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس ،گورنر کو بھجوائے گئے بل ایوان سے دوبارہ منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 50 منٹ کی تاخیر سے سپیکر محمد سبطین خان کی زیرِ صدارت شروع ہوا۔ وقفہ سوالات میں محکمہ جنگلات، جنگلی حیات و ماہی پروری سے متعلق سوالات پوچھے گئے جن کے جوابا ت صو بائی وزیر علی عباس رضانے دیے۔

    گزشتہ اجلاس میں پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف وومن بل 2022 لاہور، سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2022 او ر راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2022 گورنر پنجاب کو منظوری کے لیے بھجوائے گئے تھے۔تاہم گورنر پنجاب نے بل منظور کیے بغیر واپس بھیج دیے تھے۔

    آج کے اجلاس میں مذکورہ تمام بلز دوبارہ پیش کیے گئے جسے ایوان نے کثرت رائے سے دوبارہ منظور کر لیے۔بعد ازاں ملک احمد خان نے سپیکر کی اجازت سے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے خلاف ایوان میں قرارداد پیش کی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان حلیم عادل شیخ پر امپورٹڈ حکومت کے ایما پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتا ہے۔ وفاقی حکومت حلیم عادل شیخ پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ یہ ظلم کی رات ختم ہونے کے قریب ہے۔ایوان حلیم عادل شیخ پر جھوٹے مقدمات واپس لے کررہا کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ قرارداد کو ایوان نے منظور کر لیا۔

    بعدازاں رکن اسمبلی عمر فاروق نے ایوان میں بول نیٹ ورک کے لائسنس منسوخ کے خلا ف قراردادپیش کی۔ قراردادمیں کہا گیا کہ ”پنجاب اسمبلی کایہ ایوان پیمراکی جانب سے بول نیٹ ورک کے لائسنس منسوخ کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتاہے۔ ایوان سمجھتاہے کہ بول نیوزکی بندش کے پیچھے ہزاروں صحافیوں کامعاشی قتل عام کرنے کامنصوبہ ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا۔

    وفاقی حکومت نے بول نیوزکوبندکرکے آزادی صحافت پرگھناؤناوارکیاہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ ایوان وفاقی حکومت اورپیمراسے فوری طورپر بول نیوزکی بندش کاحکم نامہ فوری واپس لینے کامطالبہ کرتاہے۔” ایوان نے قراردادکثرت رائے سے منظور کرلی۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکرمحمد سبطین خان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 12 ستمبر بروز سوموار سہ پہر تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

  • صارفین کو بجلی بلوں سے  فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ختم کرکے نئے بل جاری کئے جارہے ہیں۔لیسکو چیف

    صارفین کو بجلی بلوں سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ختم کرکے نئے بل جاری کئے جارہے ہیں۔لیسکو چیف

    لیسکو چیف چوہدری محمد امین کا کہنا ہے کہ لیسکو کے 21 لاکھ سے زائد گھریلو اور زرعی صارفین کو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 3 ارب اٹھاسی کروڑ روپے کا ریلیف دے دیا گیا ہے۔

    لیسکو چیف چوہدری محمد امین نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی ہدایات کے مطابق لیسکو ریجن میں صارفین کے بجلی بلوں سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو ختم کرکے انہیں نئے بل جاری کئے جارہے ہیں۔ یہ بات لیسکو چیف چوہدری محمد امین نے آج لیسکو ہیڈکوارٹر میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے دوران کہی۔

    لیسکو چیف ایگزیکٹو نے بتایا کہ گورنمنٹ کی جانب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی کٹوتی کی سہولت 200 یا 200 سے کم یونٹس استعمال کرنے والے گھریلو اور زرعی صارفین پر لاگو ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ 200 سے زائد یونٹس استعمال کرنے والے صارفین پر اس سہولت کا اطلاق نہیں ہوگا۔

    لیسکو چیف چوہدری محمد امین نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صارفین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام بینکوں کو ہدایات جاری کردی گئیں ہیں کہ وہ تاحکم ثانی مینوئل طریقے سے تصیح شدہ بل کی وصولی کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے 200 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین جنہوں نے اس ماہ اپنے بل جمع کروادیئے ہیں ان کے اگلے ماہ کے بل سے یہ رقم نکال دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام صارفین کے ترمیم شدہ بلز کی تاریخ میں 31اگست تک کی توسیع کردی گئی اور یہ ترمیم شدہ بلز لیسکو کی ویب سائٹ پر بھی اپلوڈ کردیئے گئے ہیں۔

    لیسکو چیف چوہدری محمد امین کا کہنا تھا کہ لیسکو اسٹاف صارفین کی سہولت کے لئے ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران بھی کام کرئے گا تاکہ صارفین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین کو بہتر سے بہتر سروسز فراہم کرنا ہی ہمارا بنیادی مقصد ہے۔

  • وزیراعظم صاحب:لوگ پانیوں میں گھرے ہوئےہیں،بجلی کے بلوں کا کیا بنےگا:کچھ تو خیال کریں

    وزیراعظم صاحب:لوگ پانیوں میں گھرے ہوئےہیں،بجلی کے بلوں کا کیا بنےگا:کچھ تو خیال کریں

    لاہور:وزیراعظم صاحب:لوگ پانیوں میں گھرے ہوئےہیں،بجلی کے بلوں کا کیا بنےگا:کچھ تو خیال کریں ، ایک طرف پاکستان بھر میں طوفانی بارشوں اورشدید ترین سیلابوں کا سلسلہ شروع ہے تو دوسری طرف متاثرین بھی ایک وقت مئی کئی مسائل سے دوچار ہیں ، اس سلسلے میں اس وقت ایک نئی صورت حال جو سامنے آئی ہے وہ واقعی قابل غور ہے

    عوام الناس کی طرف سے وزیراعظم شہبازشریف سے ایک درخواست کی گئی ہے کہ حکومت کی طرف سے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ واپس لینے کا جواعلان کیا گیا ہے وہ قابل عمل بھی ہونا چاہے ، صارفین کا کہنا ہے کہ وہ تو پانیوں میں گھرےہوئے ہیں ، لوگ اپنی ،اپنے اہل وعیال کی زندگیاں بچانے لیے پانیوں کی لہروں سے کھیل رہے ہیں اس اثنا میں وہ کیسے دفاتر کے چکرلگا کر فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم کی کٹوتی کروائیں گے ، یہ کیسے ممکن ہے

     

    صارفین کا کہنا ہے کہ یہ تو کسی بھی صورت ممکن نہیں لٰہذا مہربانی کرکے کوئی سسٹم ڈویلپ کریں‌ لوگوں‌ کو مزید مشکلات میں نہ ڈالیں بلکہ فی الفور متعلقہ حکام کو حکم جاری کریں کہ بجلی کے بل ادا کرنے کی صورت میں‌ وہ بجلی کے بلوں‌ میں قابل واپسی فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم کو اگلے بل میں صارف کی طرف سے ایڈوانس جمع کرلیں یا اسے ریفنڈ کردیں‌ تاکہ لوگوں کو دفتروں کے چکر نہ لگانا پڑیں ،

    وزیراعظم سے کہا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں بجلی کے بل ادائیگی کی مقررہ تاریخ سے ایک دو دن پہلے آتے ہیں تو لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ دفتروں میں جاکراس عزاب سے جان چھڑا لیں‌، ویسے بھی ایک عام صارف کو دفتروں میں کون داخل ہونے دیتا ہے اورخاص کر ان حالات میں جب بہت زیادہ رش ہو اور آخری تاریخ‌ہو ، اس لیے مہربانی کرکے بیان کئے گئے فارمولے کواپلائی کرکے لوگوں کے آسانیاں پیدا کریں،

    وزیراعظم سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ تین سو یونٹ کے استعمال تک فیول ایڈجسٹمنٹ رقم کی ایڈجسٹمنٹ کا حکم فی الفور جاری کریں ، واپڈا دفتروں والے صارفین کو بہت پریشان کررہے ہیں

    یاد رہے کہ چند دن پہلے وزیراعظم شہبازشریف نے بجلی کے بلوں میں 300 یونٹ کے استعمال تک فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا ، جس پر عمل درآمد کے لیے صارفین کو بہت زیادہ مشکلات آرہی ہیں‌

  • پنجاب اسمبلی میں نجی قرض پر سود کی پابندی کا بل متفقہ طورپر منظور

    پنجاب اسمبلی میں نجی قرض پر سود کی پابندی کا بل متفقہ طورپر منظور

    پنجاب اسمبلی میں نجی قرض پر سود کی پابندی کا بل متفقہ طورپر منظور کرلیا
    ایم پی اے خدیجہ عمر نے دی پنجابProhibation آف انٹرسٹ آن پرائیویٹ لون بل 2022 پیش کیا.

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کابل کی منظوری کے بعد صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ اوراللہ کے رسولؐ کے احکامات کی تعمیل میں پرائیویٹ طورپر سود کے کاروبار پر پابندی لگارہے ہیں۔سود کا کاروبار ایک لعنت ہے جسے اللہ کے رسولؐ نے بھی منع فرمایاہے۔سود کا کاروبار کرنے والوں کو روزقیامت کالے منہ کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔سودکے کاروبارپرپابندی کا کریڈٹ پورے ایوان اورخاص طورپرقائد عمران خان کو جاتا ہے۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ آج تمام ایوان،حکومت اور خاص طورپرعمران خان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتاہوں۔جو دین کا کام اس اسمبلی میں کیاگیا اس کی مثال نہیں ملتی۔دین کا کام جس شخص کے ہاتھوں ہورہا ہے اس کا نام عمران خان ہے۔دینی تعلیم کی مانیٹرنگ کا سلسلہ شروع کرنے پر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرتا ہوں ،سول ججز متعلقہ سکولوں میں جاکردینی تعلیم کی تحصیل کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    چودھری پرویز الٰہی کا کہناتھا کہ سکولوں میں طلباء کو سپارے بغیر کسی ہدیے کے فراہم کیے جائیں گے۔سب سے پہلے میٹرک اوراب بی اے تک تعلیم مفت کررہے ہیں،کتابیں بھی دیں گے۔گرائمر سکولوں میں بھی دین کے حوالے سے کام شروع کردیا ہے۔دینی تعلیم کے فیصلے کا کریڈٹ اوردعائیں ہر وقت ملتی رہیں گی۔دینی تعلیم دے کر نئی نسل کو بے راہروی سے بچانا چاہتے ہیں۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے بچے ناقابل تسخیر نسل ہوں گے۔ملک کو ”پاکستان کا مطلب کیا،لا الہ الااللہ“ کی عملی تفسیرکاکام شروع ہوچکا ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی اپ گریڈ اورادویات فری دیں گے۔ سابقہ دور میں ڈاکٹروں کی بھرتی اوردوائیوں کی فراہمی بجائے کمیشن طے ہوتے رہے۔ ایمرجنسی ڈاکٹرز کی تنخواہ تین گنا کررہے ہیں،آئندہ ہفتے تک نوکریوں سے پابندیاں اٹھارہے ہیں۔

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ والے سانپ بن کر نوکریوں پر بیٹھے رہے۔ سابق دور میں نابینا افراد کو لاٹھیاں ماری گئیں،ہم نے گھر بلا کر چائے پلائی اورمعافی مانگی۔ نابینا افراد کا بند الاؤنس بحال کرکے 10ہزار تک کردیاہے۔ ٹیچرز کی تنخواہیں بھی بڑھائیں گے۔نابینا افراد کیلئے نہ صرف ٹیچر ٹریننگ پروگرام شروع کرینگے بلکہ ٹیچرز کی تعدابھی بڑھائیں گے۔ ارکان اسمبلی کو اتنے فنڈز دیں گے کہ ان کے حلقوں میں ڈویلپمنٹ نظر آئیگی اورنوکریاں پیدا ہونگی۔ رجسٹری کی فیس کو ایک فیصد کررہے ہیں۔ ہم نیک نیتی سے دین کا کام کررہے ہیں،پیسے کبھی کم نہیں ہوں گے۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ میں سابق دور میں 100ارب کیش چھوڑ کرگیا،شہبازشریف نے پنجاب کو ایک ہزار ارب کا مقروض چھوڑا۔ ہم قانون کے مطابق گردن سے پکڑیں گے،یہ گرفت سے باہر نہیں آسکیں گے۔یہ معاشرے،صوبے اورقوم کو تقسیم کررہے ہیں۔ یہ لوگ خود کو مغل اعظم سمجھتے ہیں،مگر جان لیں اب مغل اعظم کے گوائیے باقی ہیں.

  • بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    پیٹرولیم مصنوعات، آٹا، چینی، کھانے کا تیل، سبزیاں پھل و دیگر روز مرہ استعمال کی اشیاء کی روزبروز بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہیں پر بجلی و گیس کے بلوں نے بھی جینا اجیرن کر دیا ہے۔

    بجلی جہاں عام عوام کے لئے ضروری ہے وہیں پر ملک میں صنعتوں کا پہیہ چلنے میں بھی عضو خاص کا مقام رکھتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اتار چڑھاو جہاں لوگوں کی جیبوں پر بھاری پڑتا ہے وہیں پر اشیاء کی پیداواری لاگت میں اضافہ بھی اشیاء کو عوام کی پہنچ سے دور کرتی جا رہی ہیں۔

    اگرچہ یہ تو ہماری حکومتوں کا وطیرہ ہی رہا ہے کہ جب چاہیں اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لئے نت نئے ٹکسسز لگا دیتی ہیں لیکن حالیہ حکومت کی اگر بات کی جائے تو رہتی سہتی کسر انہوں نے پوری کر دی ہیں ، جولائی کے مہنے میں بجلی کے بلوں میں تقریبا 8 روپے فی یونٹ کا فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے طور پر ڈالے گئے جن کی منظوری پیمرا نے دے دی۔

    تحریک انصاف کی حکومت نے پیٹرول و ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کے ساتھ بجلی پر بھی پانچ روپے فی یونٹ سبسڈی کا اعلان کیا تھا تاہم نئی حکومت آنے کے بعد اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی کی شرائط کے تحت بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا بھی خاتمہ کیا گیا جس کی وجہ سے بیس ٹیرف میں اضافہ ہوا اور جولائی کے بلوں میں سبسڈی کے خاتمے کا بعد کا اثر نظر آیا۔

    یاد رہے کہ مارچ میں سابقہ حکومت کی جانب سے بجلی پر سبسڈی کے بعد بیس ٹیرف 16 روپے فی یونٹ سے گر کر گیارہ روپے فی یونٹ ہو گیا تھا۔

    بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی اصل مسلہ تو تب شروع ہوتا ہے جب ان تمامتر ٹیر ف اضافہ کے بعد اسپر سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس لگتا ہےمطلب سونے پر سوہاگا۔۔۔

    موجودہ مالی سال کے بجٹ میں ریٹیلر ٹیکس کا اعلان کیا گیا تھا جو اب جولائی کے مہینے میں لگ کر آیا جس کی وجہ سے کمرشل میٹروں پر بجلی کے بل میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

    جبکہ اگر دیکھا جائے تو حکومت 36000 روپے سالانہ اور تین ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ریٹیل سطح پر فل اینڈ فائنل ٹیکس لینا چاہتی ہے جس کی شروعات جولائی کے بل میں کی گئی ہے۔

    جون کے مہینے کا فیول ایڈجسٹمنٹ ابھی وصول کرنا باقی ہے جو آنے والے مہینے میں ہو گا تاہم اس کے ساتھ اب بجلی کے بیس ٹیرف یعنی بنیادی نرخ میں بھی اضافہ اگلے چند مہینوں میں بلوں میں اضافی رقم کی صورت میں نکلے گا۔

    26 جولائی سے 3.50 روپے فی یونٹ بیس ٹیرف کا اطلا ق ہو گیا ہے جو اگست کے بلوں میں نظر آئے گا اسی طرح 3.50 روپے فی یونٹ کے ایک اور اضافے کا اطلاق اگست کے مہینے میں ہو گا جو ستمبر کے بلوں میں نظر آئے گا۔

    پھر ایک اور اضافہ ستمبر، اکتوبر میں ہو گا جس سے ملک میں بیس ٹیرف میں اضافہ ہو گا اور یہ بجلی کے بل میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اس کے ساتھ 17 فیصد کے حساب سے لگنے والا سیلز ٹیکس بھی نئے اضافی ٹیرف کی وجہ سے صارفین کے لیے بجلی کو مہنگا کرے گا۔

    فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کا اثر اکتوبر تک نظر آئے گا جب صارفین سے فیول کی لاگت بڑھنے کی وجہ سے زیادہ بل وصول کیا جائے گا۔

    حالیہ دنوں میں اس ہوشربا اضافہ کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئی اور خصوصا تاجر برادری جو کے پہلے ہی کمرشل ریٹس پر بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں انپر فکس ٹیکس کی شکل میں ایک اور بوجھ لاد دیا عوام کی اس حالت زار پر کسی بھی حکومتی ادارے یا حکومتی ترجمان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

  • کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کا لازمی منشیات ٹیسٹ بل اسمبلی میں پیش

    کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کا لازمی منشیات ٹیسٹ بل اسمبلی میں پیش

    قومی اسمبلی میں قومی یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز کے قیام کا بل پیش کر دیا گیا

    رکن اسمبلی حامد حمید نے کہا کہ ملک میں جرائم کے بعد جائے وقوعہ سے سائنسی بنیادوں پر ثبوت اکٹھے کرنے کا کوئی نظام نہیں، پوری دنیا میں لوگ آرٹیفشل انٹیلی جینس کی طرف چلے گئے ہیں ،ہمارے ہاں اس موضوع پر ڈگری دینے والی یونیورسٹی موجود نہیں، مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ یہ بڑا اچھا آئیڈیا ہے معزز رکن ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے پراسیس کروا لیں ،حامد حمید نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جو بھی ضروریات ہیں ہم پوری کریں گے،

    قومی اسمبلی،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کا لازمی منشیات ٹیسٹ بل 2022 پیش کر دیا گیا بل مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی شکیلہ لقمان نے پیش کیا،حکومت نے بل کی مخالفت کر دی، وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ بل پر غور کیا جا رہا ہے اسے واپس لیا جائے،ایوان میں بل پیش کرنے کیلئے رائے شماری کرائی گئی اکثریت نے مخالفت کر دی، اکثریت نے بل پیش کرنے کیخلاف ووٹ دیا جس کے بعد بل کو مسترد کر دیا گیا

    کالا جادو کرنے والوں کے لئے سزا بڑھانے سے متعلق بل ایوان میں پیش کر دیا گیا، بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا بل مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی چوہدری فقیر احمد کی جانب سے پیش کیا گیا ,قومی اسمبلی میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تشکیل نو کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا بل پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی مہرین رزاق بھٹو کی جانب سے پیش کیا گیا

    قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلیوں سے استعفی دینے کا طریقہ کار ہے جن حضرات نے استعفے دیے ہیں ان کے دستخط نہیں ملتے وہ ہاتھ سے لکھ دیں سیکرٹریٹ نے استعفی دینے والوں کی تنخواہیں اور مراعات روکی ہیں کچھ لوگ آئے اور کچھ نہیں کچھ لوگوں نے براہ راست رابطہ کیا ہے

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    ٹرائل کورٹس میں زیرالتواء منشیات کیسز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب

  • خیبرپختونخوا اسمبلی میں  خواجہ سراؤں کی مالی معاونت کا بل پیش

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواجہ سراؤں کی مالی معاونت کا بل پیش

    پشاور: صوبائی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا خواجہ سرا ویلفئیر انڈونمنٹ فنڈ بِل 2022 اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مجوزہ بل میں کہا گیا کہ مالی مشکلات سے دو چار خیبرپختونخوا کے خواجہ سراؤں کے لیے انڈونمنٹ فنڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    بل میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ فنڈز کے ذریعے حکومت خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود،مالی معاونت اور روزگار فراہم کرنے کی کوشش کرے گی جبکہ خواجہ سراؤں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرضے بھی دیئے جائیں گے۔

    بل کے تحت 6 ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کا مقصد خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود سے متعلق فیصلوں کی تعمیل کو یقینی بنانا ہوگا جس میں بالخصوص خواجہ سراؤں کی معاشی ضروریات بھی شامل ہیں۔

    مجوزہ بل میں کیا گیا کہ حکومت کا مقصد خواجہ سراؤں کو مالی لحاظ سے مستحکم بنانا اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا ملک کا وہ پہلا صوبہ ہے جہاں خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس جیسے اہم اور بنیادی دستاویز جاری کیے گئے تھے-

    پاکستان کی حکومت نے مئی سنہ 2018 میں خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لیے قانون منظور کیا تھا جس کے تحت انھیں شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ بنوانے کا حق دینے کے ساتھ ساتھ گھر یا عوامی مقامات پر ہراساں کرنے کی ممانعت، تعلیم، خصوصی طبی سہولیات، زبردستی بھیک منگوانے پر پابندی اور جیلوں میں الگ بیرک میں رکھنے کا کہا گیا تھا۔

    اس قانون کے تحت خواجہ سراؤں کو اپنی مرضی سے قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ریکارڈ میں اپنی جنس کی تبدیلی کا اختیار بھی دیا گیا تھا تاہم مذکورہ قانون میں جنس کےتبدیلی کی شق پرنہ صرف ملک میں مذہبی جماعتوں نے اعتراضات اُٹھائے بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس کو اسلام کے منافی قرار دیاموجودہ وقت میں یہ کیس وفاقی شریعت عدالت میں زیر سماعت ہے جس کے وجہ سے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔

    خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کی پالیسی مرتب کرنے کے لیے سنہ 2015 میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی۔

    خواجہ سراؤں کو بااختیار بنانے کی 47 صفحات پر مشتمل پالیسی 2021 کے مجوزہ مسودے میں صحت، تعلیم، معاشی، سماجی و معاشرتی تحفظ اور سیاسی عمل میں بلاامتیاز حصہ لینے کی بات کی گئی۔

    حکومتی پالیسی کا مسودہ چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں اسلامی و تاریخی پس منظر، کل آبادی معلوم کرنا، شناخت، متعلقہ ادارے کے ساتھ رجسٹریشن، رہائش، تشدد سے بچاؤ اور مفت صحت اور تعلیم کی بلا امتیاز سہولت فراہم کرنے کے ساتھ قانونی مسائل کے حل میں مفت مدد فراہم کرنا شامل ہے۔

    اس مجوزہ پالیسی میں خواجہ سراؤں کو ہنر سکھانے، چھوٹے پیمانے پر کاروبار کے لیے بلاسود قرضے، سرکاری نوکریوں میں دو فیصد کوٹہ، بیمار اور بزرگ خواجہ سراؤں کو اشیائے خوردو نوش کی فراہمی کے ساتھ ماہانہ نقد وظائف شامل ہیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں کو ووٹ کے استعمال اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق بھی دیا گیا۔ اس پالیسی کے تحت انھیں سیاسی اور سماجی اُمور کے لیے دفتر قائم کرنے کی اجازت شامل ہے۔

  • ضمنی ترامیمی بل پراپوزیشن کوشکست پرشکست:لندن میں زلزلہ:چھوٹےمیاں‌ کی ڈیل پربڑے میاں بیمار

    ضمنی ترامیمی بل پراپوزیشن کوشکست پرشکست:لندن میں زلزلہ:چھوٹےمیاں‌ کی ڈیل پربڑے میاں بیمار

    اسلام آباد:سابق اسپیکرکی بولتی بند:ضمنی ترامیمی بل پراپوزیش کو شکست پرشکست:لندن میں زلزلہ ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کی گیڈربھبکیاں اس وقت دم توڑ گئیں جب قومی اسمبلی میں کپتان کے وفادار کھلاڑیوں نے لندن والوں کی خواہشات پرپانی پھیردیا،

    ادھر اطلاعات کے مطابق آج جب قومی اسمبلی میں کپتان کے کھلاڑیوں نے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپوزیشن کی تمام سازشوں کو مسل دیا تو سُنا ہے کہ لندن میں سیاسی شکست نے زلزلہ برپا کردیا ہے ، جس پر میاں نوازشریف کی طبعیت خراب ہوگئی ہے

    دوسری طرف مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ میاں شہبازشریف کی طرف سے حکومت کودرپردہ حمایت حاصل تھی جو کہ ہراہم موقع پر پہلے بھی ملتی رہی ہے ،

    اسلام آباد سے اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن راستہ روکنے میں ناکام ہو گئی، ضمنی مالیاتی بل پر اپوزیشن کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

    قومی اسمبلی ایوان اس وقت 342 ارکان پر مشتمل ہے، حکومت کے پاس 182 ارکان جبکہ اپوزیشن کے پاس 160ارکان ہیں، اپوزیشن کے 12 اور حکومت کے 12 ارکان ایوان سے غیر حاضر ہیں۔ حکومت کو اس وقت ایوان پر 18 ارکان کی برتری حاصل ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔ ان کی آمد پر ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا جبکہ اپوزیشن نے وزیراعظم کیخلاف نعرے لگائے۔

    اجلاس کے دوران ضمنی بجٹ پر پیپلز پارٹی نے ترمیم پیش کی جبکہ سپیکر نے ترمیم پر زبانی رائے شماری دی جسے اپوزیشن نے چیلنج کیا، سپیکر کی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کو کھڑے ہونے کی ہدایت کی، سپیکر کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کی ترمیم پر گنتی کی گئی ہے۔ ترمیم کےحق میں 150 جبکہ مخالفت میں 168 ووٹ پڑے۔

    اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ شوکت ترین بتائیں منی بجٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی،

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ شاہد خان عباسی اور دیگر اراکین نے پوچھا کہ یہ بل کیوں لے کر آ رہے ہیں تو میں انہیں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں جب آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ ان پٹ اور آؤٹ پُٹ کو میں توازن لائیں، اگر آپ نہیں کرے گیں تو جی ایس ٹی پورا نہیں ہو گا، ہم اس کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری 18 سے 20 ٹریلین کی ریٹیل سیلز ہیں، اس میں سے صرف ساڑھے تین ٹریلین کو دستاویزی شکل دی جاتی ہے، جب بھی دستاویزی شکل دینے کی بات کی جاتی ہے تو شدید واویلا مچ جاتی ہے کیونکہ سب نے بندر بانٹ کی ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 343ارب میں سے 280ارب ری فنڈ ہوجانا ہے اور بقیہ صرف 71 ارب رہ جاتا ہے تو یہ ٹیکس کا طوفان نہیں بلکہ اس کو دستاویزی شکل دینا ہے لیکن اس سے سب بھاگتے ہیں کیونکہ ان کی آمدن کو دستاویزی شک دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں آمدن اور کھپت پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن یہاں انکم پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا اور وہ اس لیے نہیں ہورہا کیونکہ یہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آ رہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ انہوں نے کیا طوفان مچایا ہوا ہے کہ غریب کو کیا ہو جائے گا، یہ دودھ اور ڈبل کی بات کررہے ہیں لیکن ہم نے ان پر سے ٹیکس ختم کردیا ہے، ہماری حکومت تو صرف تین سال سے ہے، پچھلے 70سال سے کیا ہوا ہے، جی ڈی پی کی مناسبت سے ٹیکس کب 18 سے 19فیصد پر گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم ٹیکس کو 18 سے 19 فیصد نہیں کریں گے اس وقت تک چھ سے آٹھ شرح نمو نہیں دکھا سکتے، یہ سب جانتے ہیں لیکن شتر مرغ بنے ہوئے ہیں۔

    اجلاس میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کیوں جاری نہیں ہوئے، اپوزیشن نے مشترکہ طور پر پروڈکشن آرڈر کیلئے درخواست دی تھی، آپ نے وزیرستان کو ایوان میں حق سے محروم رکھا۔

    احسن اقبال اور اسپیکر اسد قیصر میں ایوان میں گنتی کے معاملے پر بحث ہوئی لیکن اسپیکر قومی اسمبلی نے دوبارہ گنتی کرانے سے انکار کردیا۔

    احسن اقبال دیگر اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو ووٹنگ کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا البتہ وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کردہ ترمیم منظور کر لی گئیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیرخزانہ کہتے ہیں کیوں اتنا شورہورہا ہے، شوکت ترین کو خود سمجھ نہیں آرہی کہ مہنگائی کیوں ہو رہی ہے، وہ خود کو کراچی کا نمائندہ کہتے ہیں، وزیرصاحب کراچی میں گھومیں اورعوام سے اس منی بجٹ بارے پوچھیں، عوام سے پوچھیں وہ کیوں شور مچا رہے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ ہم نے یہ ترمیم پاکستان میں کاروبار اور صنعتی ریل پیل کو بڑھانے کے لیے تجویز کی ہے، کسٹمز ایکٹ پہلے بینک گارنٹی دی جاتی تھی لیکن اب اس کی جگہ کارپویٹ گارنٹی مانگ رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ امپورٹر کے کیش فلو پر اثر پڑے گا۔

    اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا تنویر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بنیاد ٹھیک کررہے ہیں لیکن یہ کیسی بنیاد ٹھیک کررہے ہیں جو اپوزیشن اور حکومت دونوں میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔

    سابق سپیکر ایاز صادق نے بھی ووٹنگ نہ کرناے پر اعتراض کیا جس پر سپیکر نے جواب دیا کہ آپ کے دور کا ریکارڈ بھی نکال لیں گے تاہم وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ سپیکر تھے تو آپ نے کئی مرتبہ ووٹنگ کو بلڈوز کیا لہٰذا اسپیکر صاحب آپ رولنگ دیں، ان کا کام وقت ضائع کرنا ہے، جس پر سابق اسپیکر کی بولتی بند ہوگئی ہے