Baaghi TV

Tag: بم ڈسپوزل یونٹ

  • کراچی میں پٹاخوں کا گودام  خطرناک قرار ، سیل کرنے کی ہدایت

    کراچی میں پٹاخوں کا گودام خطرناک قرار ، سیل کرنے کی ہدایت

    بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی ایس) نے کراچی کے علاقے صدر میں واقع ایک پٹاخوں کے گودام کو انتہائی خطرناک قرار دے کر فوری طور پر سیل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    بی ڈی ایس نے ایم اے جناح روڈ پر واقع اس گودام کی رپورٹ جاری کی، جس میں بتایا گیا کہ گودام میں ڈھائی سو سے زائد کارٹن میں تقریبا 2,500 کلوگرام آتشبازی کا سامان رکھا گیا ہے، اور یہ تمام مواد بغیر کسی حفاظتی انتظام کے موجود ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کے نتیجے میں 300 میٹر کے دائرے میں بڑی تباہی پھیل سکتی ہے، اور اسی وجہ سے گودام کو انتہائی غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔
    بی ڈی ایس کے ماہرین نے ہدایت دی ہے کہ گودام کو فوری طور پر سیل کیا جائے، پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔ مزید یہ کہ موجودہ آتشبازی کے سامان کو محفوظ مقام پر تلف کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 21 اگست کو اسی گودام میں دھماکے اور آگ لگنے کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے کے اثر سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    اس واقعے کے بعد، 22 اگست کو پولیس نے پریڈی تھانے میں گودام کے مالک حنیف اور ایوب کے خلاف سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا، جس میں قتل بالسبب، دھماکا خیز مواد، آتش گیر مادے اور غفلت برتنے کی دفعات شامل ہیں۔ مقدمے کے مطابق ایک ملزم زخمی ہو کر ہسپتال میں زیر علاج ہے جبکہ دوسرا ملزم فرار ہو چکا ہے۔

    اسرائیل کا صنعاء پر فضائی حملہ، 2 افراد جاں بحق، 35 زخمی

    اڈیالہ کی بلی اور بابا کوڈا اکاؤنٹس علیمہ خان کے بیٹے چلاتے تھے،شیر افضل مروت
    محسن نقوی کا بحرینی ہم منصب سے رابطہ، سیلابی تباہ کاریوں پر گفتگو

    محسن نقوی کا بحرینی ہم منصب سے رابطہ، سیلابی تباہ کاریوں پر گفتگو

  • کراچی دھماکہ، بم ڈسپوزل یونٹ نے رپورٹ جاری کردی

    کراچی دھماکہ، بم ڈسپوزل یونٹ نے رپورٹ جاری کردی

    کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دھماکے سے متعلق بم ڈسپوزل یونٹ نے رپورٹ جاری کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دھماکے میں 70 سے 80 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، دھماکے میں 10 سے زائد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، دھماکہ گاڑی میں نصب وی بی آئی ای ڈی ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔دھماکے کی جگہ سے جمع کئے گئے تمام شواہد متعلقہ تھانے کے حوالے کردیئے گئے۔ یاد رہے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دھماکے میں 3 غیر ملکی جاں بحق جبکہ 17 شہری زخمی ہوگئے، تین گاڑیاں اور چار موٹر سائیکلیں تباہ ہوگئی، ایئرپورٹ سگنل کے قریب آئل ٹینکر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کی آواز دور تک سنی گئی، اطراف میں رہنے والے لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔رینجرز اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ کر آگ بھجانے میں مصروف ہوگئیں۔ ائیرپورٹ دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں خاتون، پولیس اور رینجرز اہلکار بھی شامل ہیں۔تحقیقاتی اداروں نے ابتدائی تفتیش مکمل کرلی۔ قافلہ قریب پہنچتے ہی دہشت گرد نے کار غیرملکیوں کی گاڑی سے ٹکرا دی۔ خودکش حملہ آور قافلے کے نکلنے کا انتظار کررہاتھا۔کار میں ممکنہ طور پر بارود تھا جس سے گاڑی مکمل تباہ ہوگئی۔ کار کی نمبر پلیٹ، چیسس نمبر حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جائے وقوعہ کے قریب جھاڑیوں سے ایک دھڑ ملا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا دھڑ ممکنہ طور پر خودکش بمبار کا ہوسکتا ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ کو سیل کرکے تحقیقات شروع کر دیں۔پولیس حکام کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والے تین غیر ملکیوں کی شناخت کر لی گئی جاں بحق ہونے والوں میں لی جون ، وہ چون زن اور لی زہااو شامل ہیں۔ایس ایس پی ملیر کے مطابق کراچی میں ائیرپورٹ سگنل کے قریب زودار دھماکا ہوا جس کے بعد گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔بتایاگیا ہے کہ ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد ٹینکر اور گاڑیوں کی آگ بجھادی گئی۔ دھماکے کے بعد شارع فیصل ایئر پورٹ کے اطراف میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔ٹریفک پولیس بحال کرانے کی کوشش میں مصروف ہوگئی۔آگ لگنے سے تین گاڑیاں اور چار موٹر سائیکلیں تباہ ہوگئی۔دھماکے کے بعد شارع فیصل کے اطراف میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ڈی آئی جی ایسٹ نے بتایا کہ دھماکے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 17 زخمی ہوگئے۔ جاں بحق اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں میں خاتون، 3 سکیورٹی، 2 رینجرز اور ایک پولیس اہلکار، غیر ملکی اور دیگر افراد شامل ہیں۔دھماکے کے بعد جائے واقعہ کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ اظفر مہیسر کا کہنا تھا کہ کرائم سین پر کچھ سمجھ نہیں آرہا۔کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک آئل ٹینکر میں آگ لگی اور پھر دھماکے سے نقصان ہوا۔ دھماکے سے کئی گاڑیاں تباہ ہوئیں، دھماکے کی شدت بہت زیادہ تھی۔سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تحقیقات جاری ہے۔ واقعے میں دہشتگردی اور تخریب کاری کا عنصر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سی ٹی ڈی اور بم ڈسپوزل سکواڈ کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کئے۔ریسکیو ٹیم کا کہنا ہے غیر ملکی کو نجی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ واقعہ دہشت گردی کا نتیجہ ہے دہشت گردوں نے نشانہ ایک کار کو بنایا ہے جس میں غیر ملکی سوار تھا جو زخمی ہوا ہے۔ دہشت گردوں کا ہدف غیر ملکی گاڑی تھی جسے نشانہ بنانا تھا، واقعے کے بعد صوبائی وزیرداخلہ، آئی جی سندھ ودیگر افسران موقع پر پہنچ گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس چیف سے رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلیٰ نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کے بھی احکامات دئیے ہیں۔

    چینی آفیشل کا کراچی دھماکےکے جائے وقوع کا دورہ

    20 کلو آٹے کے تھیلے میں 1000 روپے کمی