Baaghi TV

Tag: بوسنیا

  • بچپن میں لارڈ آف دی رنگزاورہوبٹ فلموں سے متاثرچار بہنوں نے ایک گاؤں تعمیر کر لیا

    بچپن میں لارڈ آف دی رنگزاورہوبٹ فلموں سے متاثرچار بہنوں نے ایک گاؤں تعمیر کر لیا

    بوسنیا : بچپن میں لارڈ آف دی رنگز اور ہوبٹ فلموں سے متاثر ہوکر اپنی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے بوسنیا کی ایک سرسبز پہاڑی پر ایک گاؤں نما قصبہ تعمیر کیا ہے۔ یہاں اجنبی دنیا کے پتھریلے گھر دیکھے جاسکتے ہیں جو طلسم کدے کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق لارڈ آف دی رنِگز کتابوں کو پڑھنے کے بعد یہاں رہنے والی چار بہنیں ، میلیسوچ سسٹرز، اس کے سحر میں گرفتار ہوگئیں۔ انہون نے جب فلموں میں اس کے جادوئی مکانات دیکھے تو انہوں نےاس علاقے کو سیاحتی مقام بنانے کا ارادہ کیا۔

    اس پہاڑی علاقے کے پاس ایک ندی بہتی ہے جبکہ اوپر سے پوری وادی نظر آتی ہے جو بہت ہی خوبصورت بھی ہےچاروں بہنوں میں سب سے بڑی بہن ملیجانا نے بتایا کہ ہم اکثر اس علاقےمیں آتے رہے اور سوچتےتھےکہ اسےسیاحوں کے لیے مزید پرکشش کیسے بنایا جاسکتا ہے؟-

    اس گاؤں کو’کریسووو ہوبٹون‘ کا نام دیا گیا ہے۔ پھر دوسری بہنوں، ودرانااورویلنٹینا نےمل کر اس کی تعمیر شروع کی اوردائرے نما سوراخ والا پہلا گھر تعمیر کیا۔ اب دو گھر بن چکے ہیں اور مزید تین گھر زیرِ تعمیر ہیں تعمیر ہوئے دو گھر کے دروازے اور کھڑکیاں لال رنگ میں رنگیں گئی ہیں تعمیر میں انہیں لارڈ آف دی رنگز جیسے مکانات کی شکل دی گئی ہے اندر سے مکان کو اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ اس پرغار کا گمان بھی ہوں۔

    ملیجانا نے کہا کہ پورے خطے اور دیگر یورپی ممالک سے سیاحوں نے پہلے ہی آنا شروع کر دیا ہےمثال کے طور پر بیڈم (جس کے کونوں پر ٹاورز ہیں) کا نام اس قلعے کے نام پر رکھا گیا ہے جہاں بوسنیا کی آخری ملکہ، کترینا قیام کے دوران ٹھہری تھیں۔

  • بوسنیا کے مسلمانوں پر اسانیت سوز مظالم اور قتل عام کو 27 برس بیت گئے۔

    بوسنیا کے مسلمانوں پر اسانیت سوز مظالم اور قتل عام کو 27 برس بیت گئے۔

    سربرینیکا: بوسنیا کے مسلمانوں پر اسانیت سوز مظالم اور قتل عام کو 27 برس بیت گئے۔تفصیلات کے مطابق11 جولائی سن 1995 میں سربین فوجیوں نے بوسنیا کے سربرینیکا کے قصبے پر قبضہ کرلیا، جس کے بعد دو ہفتوں کے دوران فورسز نے منظم انداز میں 8 ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کی سرزمین پر بدترین اجتماعی قتل و غارت تھی، یہ سلسلہ 10 دنوں تک جاری رہا۔ خود کار اسلحے سے لیس اقوام متحدہ کے امن فوجیوں نے پناہ گاہ قرار دیئے گئے اس علاقے میں جاری تشدد کو روکنے کیلئے کچھ نہ کیا۔

    بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی کی خون آلود تاریخ 90 کی دہائی سے شروع ہوتی ہے، 1990 کی دہائی میں جب یوگوسلاویہ کے ٹکڑے ہوئے تو کئی مسلح تنازعات نے جنم لیا، بوسنیائی جنگ بھی ان تنازعات میں سے ایک تھی۔

    بوسنیا ہرزیگووینا نے 1992 میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے اپنی آزادی کا اعلان کیا کچھ ہی عرصے بعد اسے امریکی اور یورپی حکومتوں نے تسلیم کر لیا، بوسنیائی سرب آبادی نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا ، جلد ہی سربیا کی حکومت کی حمایت یافتہ بوسنیائی سرب فورسز نے اس نئے ملک پر حملہ کردیا۔

    یہ حملہ گریٹر سربیا منصوبے کا حصہ تھا جس کی تکمیل کیلئے بوسنیائی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ ابتدائی طور پر بوسنیائی سرب فورسز نے 1992 میں سربرینیکا پر قبضہ کیا، جسے بوسنیائی فوج نے جلد ہی چھڑا لیا تھا۔ چھ جولائی 1995 کو بوسنیا کی سرب فورسز نے سربرینیکا پر بھرپور حملہ کیا، اقوام متحدہ کی افواج نے ہتھیار ڈال دیے اور جب نیٹو فورسز کو فضائی حملے کے لیے بلایا گیا تو انہوں نے بھی کوئی مدد نہ کی یوں سربرینیکا نامی یہ علاقہ پانچ دنوں میں ہی سرب فورسز کے قبضے میں آ گیا۔ مسلمان پناہ گزین جب علاقے کو چھوڑنے کیلئے بسوں پر سوار ہوئے تو مردوں اور لڑکوں کو ہجوم سے الگ کیا اور انھیں دور لے جا کر گولیاں مار دی گئیں، ہزاروں افراد کو پھانسی دے دی گئی اور پھر بلڈوزروں کے ذریعہ ان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دھکیل دیا گیا۔