Baaghi TV

Tag: بول نیوز

  • شعیب شیخ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    شعیب شیخ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سیشن جج کو رشوت دینے کے کیس میں ایف آئی اے نے شعیب شیخ کو پیش کیا ،

    عدالت سے ملزم کے ریمانڈ کی استدعا کی گئی ،کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم شعیب شیخ کا تین روز ہ ریمانڈ منظورکر لیا، پراسیکیوٹر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپیشن جج پرویز قادر کا بیان اسلام آباد ہائیکورٹ میں جاری اپیل کا حصہ تھا ہائیکورٹ کے دو ججز کے سامنے سیشن جج نے رشوت لینے کا اعتراف کیا دیگر شریک ملزمان کے ساتھ ٹرائل کورٹ نے شعیب شیخ کو مجرم قرار دیا تھا پراسیکیوٹر کے دلائل کے دوران وکیل صفائی لطیف کھوسہ نے بار بار بولنے کی کوشش کی تاہم عدالت نے انہیں روک دیا،

    بعدازاں وکیل صفائی لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے کہ انکوائری 2018 میں ہوئی، پانچ سال بعد کیس کا خیال آیا زبانی کلامی بیان اعترافی بیان نہیں مانا جا سکتا، عدالت نے ملزم کو تین روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا

    واضح رہے کہ شعیب شیخ کو گزشتہ روز اسلام آباد ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، ایگزیکٹ جعلی ڈگری سکینڈل کیس میں جج نے مبینہ طور پر شعیب احمد شیخ کو بری کرنے کے لیے 50 لاکھ روپے رشوت لینے کا اعتراف کیا تھا،

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    سرسید پولیس نے خفیہ اطلاع پر کاروائی ماموں بھانجا اسٹریٹ کریمنلز گرفتار کر لئے

  • سینئر صحافی سمیع ابراہیم کو ایف آئی اےکا نوٹس، صحافیوں کا بھرپور احتجاج

    سینئر صحافی سمیع ابراہیم کو ایف آئی اےکا نوٹس، صحافیوں کا بھرپور احتجاج

    اسلام آباد:کراچی:لاہور:کوئٹہ:پشاور:::سینئر صحافی سمیع ابراہیم کو ایف آئی اےکا نوٹس، صحافیوں کا بھرپور احتجاج،اطلاعات کے مطابق بول نیوز کے صدر اور سینئر صحافی سمیع ابراہیم کو ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے خلاف ملک بھر میں صحافتی تنظیموں کا بھرپور احتجاج جاری ہے۔

    صحافتی برادری کی جانب سے اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں صحافیوں، شہریوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر پی ایف یو جے کے صدرشہزادہ ذوالفقار اور دیگر نے مظاہرے سے خطاب کیا۔

    پی ایف یو جے کے صدرکا کہنا تھا کہ سینئر صحافی سمیع ابراہیم کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی سچ کی آوازکو دبانے کی کوشش ہے، سمیع ابراہیم کے سوالوں کے جوابات دئیے جانے چاہیئے۔ ایف آئی اے کس قانون کے تحت سمیع ابراہیم کو ہراساں کررہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگران کارروائیوں کو نہیں روکا گیا تو پھرملک بھر میں شدید احتجاج کیا جائے گا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر ثاقب بشیرکی جانب سے بھی سمیع ابراہیم کو ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس بھیجنے کی پرزورمذمت کی گئی۔ثاقب بشیر کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے ارشد شریف کوبھی ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی، آزاد آوازیں دبانے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے، آزادی رائے کے لیے کل بھی آوازاٹھائی آج بھی اٹھائیں گے۔

     

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف آئی اے کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بند کیا جائے اورسینئر صحافیوں کو بھیجے گئے نوٹسزفوری واپس لیے جائیں۔

    لاہورپریس کلب پرہونے والے احتجاجی مظاہرے میں صدرپریس کلب اعظم چوہدری، سیکرٹری جنرل فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے راجا ریاض، پی یو جے کے صدرابراہیم لکی نے سمیع ابراہیم کے خلاف کارروائی کو آزادی اظہار پر پابندی قرار دیتے ہوئے اس کی پُرزور مذمت کی۔

    اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ کوٹری، سکھر، کراچی اورخیبر پختون خوا کی صحافتی تنظیموں اور پریس کلبس نے سینئر صحافی سمیع ابراہیم کو نوٹس جاری کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایف آٸی اے کو لگام دی جاٸے، ہم سمیع ابراہیم کے ساتھ سیسہ پلاٸی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ یہ حکومتی اقدام آزادی صحافت پرکاری ضرب لگانے کے مترادف ہے۔

    صحافی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ صحافیوں کوحق وسچ بولنے سے نہیں روکا جاسکتا، آزادی صحافت کےلٸے جدوجہد جاری رہے گی۔

  • کیا نئے پاکستان میں آزادی صحافت کی کوئی جگہ نہیں؟ صحافیوں کا احتجاج

    کیا نئے پاکستان میں آزادی صحافت کی کوئی جگہ نہیں؟ صحافیوں کا احتجاج

    صحافتی فنڈز کی بندش اور بول چینل پر بے جا پابندی کی وجہ سے ہزاروں صحافیوں کے بیروزگار ہونے کا خدشہ اور آزادی صحافت پر حملہ ہے ۔ جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان اور دیگر صحافتی تنظیموں کا مشترکہ اعلامیہ –

    اسلام آباد میں جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی اور چیئرمین جناب ایس ۔اے۔ صہبائی ‘ صدر جناب مجیب شامی سرپرست اعلی جناب ڈاکٹر شاہد مسعود ‘ چیف آرگنائزر جناب مبشر لقمان سیکرٹری جنرل جناب قاسم منیر کی طرف سے ایک واضح پیغام کے مطابق آزادی صحافت پر حملے کسی صورت بھی قابل قبول نہیں – جنرل سیکرٹری جرنلسٹس ایسوسی ایشن پاکستان قاسم منیر ‘ قاسم جمشید’ غلام نبی کشمیری ‘ سدھیر کیانی ‘ ابوبکر’ بابر خان ناصر خان ،واجد جدون دیدار اور کبری بی بی کے علاوہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے دیگر صحافیوں نے مظاہرے میں شرکت کی اور آزادی صحافت پر حملے کی بھر پور مذمت کی-

    سیکرٹری جنرل قاسم منیر نے چیرمین جناب ایس۔ اے۔ صہبائی کا پیغام قلمبند کراتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے ظالمانہ اقدامات اور میڈیا ورکرز کے فنڈز کی بندش اپنی ناکامی چھپانے کے لئے آزادی صحافت پر حملہ ہیں- حکومتی گٹھ جوڑ اور پیمرا کی ملی بھگت سے سچ کی آواز کو دبانے کی نا ممکن کوشش کی گئی- بول نیوز کی جبری بندش اور پانچ ہزار ملازمین کا بے روزگار ہونے کا امکان آزادی صحافت پر سنگین حملہ ہے- جس کے پیچھے حکومتی ناقص پالیسی اور پیمرا چیئرمین کا گٹھ جوڑ شامل ہے – حقائق کو دبانے کے لئے ہر دور میں آزادی صحافت پر حملے کیے گئے ہیں -آزادی صحافت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتا قابل قبول نہیں ہے –

    حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے – حکومت مکمل طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے جس کی وجہ سے وہ ملک کے چوتھے ستون کے ساتھ ناروا برتاؤ کر رہی ہے- آج اسلام آباد اور راولپنڈی سے بڑی تعداد میں پیمرا آفس کے باہر صحافیوں نے احتجاج کیا – جس میں انہوں نے واضح موقف اختیار کیا آزادی صحافت پر حملے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی بے روزگاری کے خلاف ہم خون کے آخری قطرے تک پر امن احتجاج کرتے رہیں گے – حقائق اور سچ کی آواز کو کسی بھی صورت دبنے نہیں دیں گے
    موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اگر مصلحت سے کام نہ لیا تو اپنی ہی ہارس ٹریڈنگ کے جال میں پھنس کر حکومتی کرسی سے محروم ہو جائیں گے۔ موجودہ حکومت بڑے بحران کے ساتھ ساتھ بڑے مسائل کا شکار ہوجائے گی – حکومت کو اپنی ساخت بہتر بنانے کے لئے فوری طور پر احسن اقدامات کرنے ہوں گے – تاکہ ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے-