Baaghi TV

Tag: بچہ اغواء

  • اغواء کار رنگے ہاتھوں پکڑا گیا،بچہ بازیاب

    قصور
    گزشتہ دن بچہ اغواء کی کوشش عوام نے ناکام بنا دی،ملزم پکڑ لیا،ویڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل،نئے ڈی پی او سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن قصور شہر میں سبزی منڈی میں عوام نے بچہ اغواء کرکے لیجانے والے شحض کو پکڑ لیا اور اس کی خوب دھلائی کی
    سبزی منڈی میں ایک خاتون نے اپنے چھوٹے بچے کو رکشہ میں بٹھایا اور خود خریداری کیلئے چلی گئی یہ منظر قریب کھڑا ملزم دیکھ رہا تھا جس نے بچے کو بڑی مہارت سے بوری میں ڈالا اور رفو چکر ہونے لگا تاہم بچے کے رونے کی آواز سن کر قریبی لوگوں نے مشکوک شحض کو گھیر لیا اور اس سے بچہ بازیاب کروایا لیا
    عوام نے ملزم کی خوب دھلائی کی اور سوشل میڈیا پہ اس کی ویڈو وائرل کر دی
    ملزم نے اعتراف کیا کہ اس کے تین ساتھی بھی اس کے ساتھ تھے جو موقع سے بھاگ گئے ہیں
    واضع رہے کہ کچھ عرصہ سے قصور سے کئی بچے غائب ہوئے ہیں جن کا کوئی سراغ نا مل سکا ہے
    شہریوں نے نئے تعینات ہونے والے ڈی پی او قصور سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • بچہ اغواء کرنے والی خاتون رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

    بچہ اغواء کرنے والی خاتون رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

    قصور
    تحصیل پتوکی میں خاتون 3 سالہ بچے کو اغواء کرکے لیجاتی رنگے ہاتھوں گرفتار،گروہ بچے اغواء کرکے فروخت کرتا ہے،ملزمہ کا اعتراف جرم

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن قصور کی تحصیل پتوکی میں
    بچوں کو اغواء کرنے والی خواتین کے گروہ کا انکشاف ہوا ہے
    گزشتہ دن نامعلوم خاتون نے کاشف چوک پتوکی سے 3 سالہ بچے علی کو اغواء کیا اور فرار ہو گئی جس کی اہلیان علاقہ نے دیکھ لیا
    واقعہ کی خبر پا کر اہلیان علاقہ نے ریلوے اسٹیشن پر خاتون کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

    وقوعہ کی اطلاع پا کر فوری طور پہ پولیس پہنچی اور خاتون کو حراست میں لیا گیا جس نے انکشاف کیا کہ یہ گروہ بچوں کو اغواء کر کے فروخت کرنے کا دھندہ کرتا ہے
    چوکی انچارج سٹی پتوکی محمد امین نے ملزمہ کو حراست میں لے کر اس کے دیگر ساتھی ملزمان کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں ترتیب دی ہیں اور کہا ہے کہ جلد پورے گروہ کو گرفتار کر لیا جائے گا

  • اغواء ہونے والے بچے کے والدین کی وزیر اعظم سے اپیل

    اغواء ہونے والے بچے کے والدین کی وزیر اعظم سے اپیل

    قصور
    31 اگست 2020 کو قصور ڈی ایچ کیو ہسپتال سے اغواء ہونے والا ایک دن کا بچہ بازیاب نا ہو سکا،اغواء کار ملزمہ جیل میں ،بچے کے والدین شدت غم سے نڈھال،وزیراعظم سے داد رسی کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال سے گزشتہ سال 31 اگست 2020 کو کوٹ فتح دین قصور کے رہائشی عبدالرحمن کے ایک دن کے بچے کو ملزمہ شاہدہ بی بی زوجہ خان محمد نے گائنی وارڈ سے اغواء کر لیا تھا جس نے گرفتار ہونے پر دوران تفتیش بچے کو اغواء کرکے فروخت کرنے کا اعتراف بھی کیا تھا مگر تاحال ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی بچے کا سراغ نہیں لگایا جا سکا جس پر بچے کے والدین شدت غم سے نڈھال ہیں ملزمہ جوڈیشل کسٹڈی پر جیل میں ہے
    بچے کے والدین نے وزیراعظم پاکستان سے بچے کی بازیابی کی اپیل کی ہے

  • قصور سے اغواء ہونے والے بچے کیلئے پورا پاکستان میدان میں

    قصور سے اغواء ہونے والے بچے کیلئے پورا پاکستان میدان میں

    قصور
    پانچ ماہ قبل اغواء ہونے والے ایک دن کے بچے کیلئے پورا پاکستان میدان میں آگیا ،ڈی پی او ،آر پی او ،وزیر اعلی و وزیراعظم پاکستان کو مینشن کرکے بچے کی بازیابی کیلئے ٹویٹس
    #RecoverOurKindappedKid
    کل کا ٹاپ ٹین ٹرینڈ بنا رہا
    تفصیلات کے مطابق 30 اگست 2020 کو قصور ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کی لیبر وارڈ سے ایک دن کے اغواء ہونے والے بچے کی آواز سارا پاکستان بن گیا پاکستانیوں نے ڈی پی او قصور،آر پی او شیخوپورہ،آئی جی پنجاب،کمشنر لاہور ڈویژن،وزیراعلی پنجاب و وزیراعظم پاکستان کو مینشن کرکے اپنی ٹویٹس کے ذریعے بچے کی جلد بازیابی اور ملزمہ شاہدہ بی بی کی گرفتاری کا مطالبہ کیا کل ٹویٹر پر
    #RecoverOurKindappedKid
    ٹاپ ٹین ٹرینڈ بنا رہا ملک بھر کے سوشل میڈیا ایکٹیویٹیس نے مطالبہ کیا کہ ایک دکھی ماں کی فریاد جلد سے جلد سن کر اسکا بچہ بازیاب کروایا جائے اور قصور کے بچوں کو محفوظ بنایا جائے
    واضع رہے کہ ملزمہ پولیس کسٹڈی سے عبوری ضمانت لے کر گھوم رہی تھی جبکہ 23 جنوری کو قصور کے جج عمران شیخ صاحب نے اس کی ضمانت کینسل کی تو وہ کمال ہو شیاری سے کمرہ عدالت سے بھاگ نکلی اور تاحال مفرور ہی ہے پولیس اسے گرفتار نہیں کر سکی نیز اس سے قبل بھی ملزمہ شاہدہ بی بی زوجہ خان محمد حالیہ مقیم سکنہ دفتوہ قصور مقدمہ میں مطلوب ہے
    ملزمہ کے خلاف تھانہ صدر قصور میں مقدمہ درج ہے

  • بچہ فروخت کرنے والی ملزمہ ضمانت پر رہا

    بچہ فروخت کرنے والی ملزمہ ضمانت پر رہا

    قصور
    30 اگست کو اغواء ہونے والے نومولود کو پولیس تاحال بازیاب نا کروا سکی پکڑی جانے والی ملزمہ عدالت سے ضمانت پر ،والدین سخت پریشان
    تفصیلات کے مطابق رواں سال 30 اگست کو حافظ عبدالرحمن ولد قاری حفیظ اللہ سکنہ کوٹ فتح دین کے ہاں شادی کے 20 سال بعد بیٹا پیدا ہوا جسے ڈی ایچ کیو ہسپتال کی گائنی وارڈ سے شاہدہ بی بی زوجہ خان محمد سکنہ دفتوہ نے اغواء کر لیا تھا اور اسے پولیس اور ورثاء نے تمام ثبوتوں سمیت اس کے گھر سے گرفتار کیا تھا مگر بچہ بازیاب نا ہوا تھا جس سے اپنے بیانات قلم کرواتے ہوئے شاہدہ بی بی نے بچے کو اغواء کرکے فروخت کرنے کا اعتراف کیا تھا مگر 4 ماہ گزرنے کے باوجود پولیس بچے کو بازیاب کروانے میں مکمل ناکام ہے اور شاہدہ بی بی اس وقت قصور کی مقامی عدالت سے ضمانت کروا کر 2 جنوری 2021 تک ضمانت پر ہے
    بچے کے عدم بازیابی کے باعث سخت پریشان ہیں اور وزیراعظم پاکستان،وزیراعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب سے بچے کو جلد سے جلد بازیاب کروانے کی دہائی کر رہے ہیں

  • ایک ماہ بعد بھی بچہ بازیاب نا ہو سکا

    ایک ماہ بعد بھی بچہ بازیاب نا ہو سکا

    قصور
    ایک ماہ ایک دن گزرنے اور اغواء کار ملزمہ گرفتار ہونے کے باوجود بھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور سے اغواء ہونے والے بچے کا سراغ نا مل سکا،والدین سخت پریشان
    تفصیلات کے مطابق قصور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال سے 30 اگست کو دن کے اجالے میں نامعلوم اغواء کار عورت عبدالرحمان ولد قاری حفیظ اللہ سکنہ کوٹ فتح دین کا شادی کے سال 15 سال بعد پیدا ہونے والا ایک دن کا بچہ اغواء کرکے لے گئے جسے قصور تھانہ صدر پولیس نے دن رات ایک کرکے دو ہفتوں بعد گرفتار کر لیا جو کہ ابھی بھی قصور پولیس کی تحویل میں ہے تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ بچے کو اغوا ہوئے ایک ماہ ہو چکا جبکہ ملزمہ کو گرفتار ہوئے دو ہفتے مگر ابھی تک پولیس بچے کو بازیاب کروانے میں مکمل ناکام ہے جس پر اہلیان قصور اور بچے کے والدین سخت پریشان ہیں کہ ملزمہ پولیس کے ہتھے چڑھنے کے باوجود بھی خاموش کیوں ہے اور بار بار اپنے بیان کیوں بدل رہی ہے واضع رہے قصور شہر سے اس طرح ہسپتال سے اغواء ہونے والے بچے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اگر یہ حل نا ہوا تو بچوں کے اغواء ہونے کا ایک خطرناک سلسلہ چل نکلنے کا خدشہ ہے

  • 11 دن قبل اغواء ہونے والا بچہ

    11 دن قبل اغواء ہونے والا بچہ

    قصور
    11 دن قبل اغواء ہونے والے ایک دن کے بچے کو پولیس تاحال بازیاب نا کروا سکی،والدین شدت غم سے نڈھال،علاقے بھر میں بے چینی اور خوف کی لہر
    تفصیلات کے مطابق 30 اگست کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصور کے لیبر روم سے 12:38 منٹ پر ایک نامعلوم عورت لیڈی ڈاکٹر بن کر آئی اور عبدالرحمان ولد قاری حفیظ اللہ رہائشی کوٹ فتح دین کے ایک دن کے بچے کو اغواء کرکے لے گئی جس پر ایکشن لیتے ہوئے ڈی پی او قصور زاہد نواز کی خصوصی ہدایت پر ایس ایچ او تھانہ صدر میاں غلام فرید نے سی سی ٹی فوٹیج سے عورت کو ٹریس کر لیا اور آخری لوکیشن تک اس کا پیچھا بھی کیا مگر عورت بار بار سواریاں بدلتی ہوئی پولیس کی نظر سے اوجھل ہو گئی
    آج بچے کو 11 دن ہو گئے اغواء ہوئے مگر نامعلوم عورت و مغوی بچے کا کوئی سراغ نہیں ملا
    لواحقین کا کہنا ہے کہ شادی کے پندراں سال بعد اکلوتا بیٹا پیدا ہوا تھا اسے ہسپتال انتظامیہ کی ملی بھگت سے اغواء کروایا گیا ہے اور ابھی تک ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کوئی بھی کاروائی نہیں کی گئی
    لواحقین کا کہنا ہے کہ ہمیں ہمارا بچہ ڈھونڈ کا واپس دیا جائے بصورت دیگر بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا کیونکہ چند دن قبل ہمارے احتجاج کرنے پر ہمیں تسلیاں دے کر ٹرخا دیا گیا تھا مگر اب ہمارا احتجاج بچے کی بازیابی تک جاری رہے گا

  • قصور میں احتجاج جاری

    قصور میں احتجاج جاری

    قصور
    ڈسٹرکٹ ہسپتال کے باہر احتجاج جاری بھاری تعداد میں لوگ جمع
    تفصیلات کے مطابق کل ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور سے ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث شیر خوار بچہ اغواء ہو گیا جس پر ورثاء اور شہری اس پر سراپا احتجاج ہیں اور ڈسٹرکٹ ہسپتال کے باہر احتجاج کر رہے ہیں
    احتجاج میں بہت زیادہ شہریوں نے شرکت کی اور ڈی پی او قصور مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور شیر خوار بچے کو بازیاب کروایا جائے اور عملہ ہسپتال کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ اس طرح دیدہ دلیری سے بچے کا اغواء ہسپتال انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر ناممکن ہے نیز قصور پولیس بھی تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے جلد سے جلد اغواء کار عورت کو گرفتار کرکے بچہ برآمد کرے بصورت دیگر احتجاج جاری رہے گا

  • قصور ہسپتال سے بچہ اغواء ورثاء کا احتجاج

    قصور
    ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی کی بدولت کل لیبر روم سے اغواء ہونے والا بچہ بازیاب نا ہو سکا
    ورثاء کی احتجاج کی کال
    تفصیلات کے مطابق کل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور کے لیبر روم سے ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت سے ماں باپ کے ہاں 15 سال بعد پیدا ہونے والا اکلوتا بیٹا اغواء ہو گیا
    حافظ عبداللہ حفیظ نائب ناظم شعبہ نشر و اشاعت مرکزی جمعیت اہلحدیث کے بڑے بھائی عبدالرحمان کے ہاں شادی کے 15 سال بعد بیٹا پیدا ہوا
    کل دوپہر 12 بجے کے قریب زچہ و بچہ لیبر روم میں تھے کہ ایک لیڈی ڈاکٹر نما عورت آئی اور ماں سے بچے کو چیک کروانے کے بہانے اغواء کرکے لے گئی جس کی پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں سے ہسپتال سے کوٹ رکندین ، دربار بابا بلہے شاہ،ریلوے روڈ سے بذریعہ رکشہ ٹولو والا بائی پاس تک کھوج لگائی مگر تاہم ابھی تک اغواء کار عورت کا سراغ نہیں مل سکا
    اس پر پولیس نے آج صبح 9 بجے تک کا ٹائم دیا تھا جو کہ گزر گیا اب ورثاء کی طرف سے ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی اور بچے کی بازیابی کے لئے تھوڑی دیر بعد احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا

  • بچہ اغواء کی کوشش ناکام

    قصور
    کوٹ رادہاکشن میں 10 سالہ بچے کو اغواء کرنے کی کوشش ناکام
    تفصیلات کے مطابق کوٹ رادہاکشن کے نواحی گاؤں اولکھ اوتاڑ کا رہائشی 10 سالہ بچہ محمد اصغر 6 نمبر چونگی کوٹ رادہاکشن میں موٹر سائیکل مکینک کا کام سیکھنے اپنی دکان پر جا رہا تھا کہ صبح سویرے ہندال چوک کے قریب ایک کار اس کے قریب آ کر رکی جس میں سے ایک شخص نے نکل کر اسے کہا کہ کہاں جانا ہے بیٹھ جاءو تمہیں پہنچا دینگے اصغر نے انکار کیا تو اس شحض نے اسے کار میں دھکیلنے کی کوشش کی تو اضغر نے شور مچا دیا جد پر کار میں پہلے سے موجود ایک بچے نے بھی شور مچانا شروع کر دیا شور سنتے ہی کار سوار اصغر کو چھوڑ کر بھاگ گئے اصغر نے جلدی جلدی اپنی دکان پر پہنچ کر سارا واقعہ اپنے مکینک استاد کو بتلایا
    خیال کیا جا رہا ہے کہ کار میں پہلے سے موجود شور مچانے والا بچہ بھی کار سوار اغواء کرکے لیجا رہے تھے جسے وہ لیجانے میں کامیاب ہو گئے اور اصغر کی جان شور مچانے پر بچ گئی
    لوگوں نے آئی جی پنجاب اور وزیر اعلی پنجاب سے اغواء کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے