Baaghi TV

Tag: بچہ

  • بچہ والدین کو گھر سے نکالے گا تو کتنی ملے گی سزا؟

    بچہ والدین کو گھر سے نکالے گا تو کتنی ملے گی سزا؟

    بچہ والدین کو گھر سے نکالے گا تو کتنی ملے گی سزا؟

    لاہور ہائیکورٹ کا تحفظ والدین آرڈیننس 2021 کے قانون پر اہم فیصلہ سامنے آیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ بچہ کرائے پر ہو یا گھر کا مالک، والدین کو گھر سے نکالے تو جرم ہے والدین کو گھر سے نکالنے پر بچے کو ایک سال قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے،والدین بچے کو اپنے سے گھر سے کبھی بھی نکال سکتے ہیں،بچہ کرائے کے گھر میں رہ رہا ہویا مالک، والدین کو گھر سے نکالے تو جرم ہے، والدین کے نکالنے پر بچہ 7 دن میں گھر خالی کرے ورنہ ایک ماہ کی سزا ہو سکتی ہے،والدین کے نکالنے پر بیٹا یا بیٹی 7 دن میں گھر خالی کرے ورنہ ایک ماہ کی سزا ہو سکتی ہے،

    قبل ازیں لاہورہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اور اپلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم کر دیئے ،عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کر دی.

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    مبشر لقمان کو ظاہر جعفر کا نوٹس تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ ،

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

  • 10 سالہ بچہ ڈھونڈ کر والدین کے سپرد

    10 سالہ بچہ ڈھونڈ کر والدین کے سپرد

    قصور پولیس کا بچھڑوں کو اپنوں سے ملانے کا سلسلہ جاری,10 سالہ بچے ہو ڈھونڈ کر والدین کے حوالے کر دیا
    تفصیلات کے مطابق قصور پولیس تھانہ بی ڈویژن نے ڈی پی او قصور عمران کشور ڈی ایس پی سٹی محمد یقوب اعوان کی خصوصی ہدایت پر پر عمل کرتے ہوئے قصور پولیس تھانہ بی ڈویژن کے کرائم فائٹر ایس ایچ او افتخار احمد جوئیہ اور ہمراہی ٹیم نے قصور باگڑ کوٹ کا رہائشی 10 سالہ حسنین جو کہ گورنمنٹ پرائمری سکول کوٹ مولوی عبدالقادر میں پڑھنے کے لیے گیا پر گھر واپس نہ پہنچا محمد حسین ولد محمد آصف قوم ملک کو ایس ایچ او تھانہ بی ڈویژن افتخار احمد جوئیہ اور ان کی اشپیشل ٹیم نے انتہائی قلیل وقت میں تلاش کرکے اس کے والد محمد آصف کے حوالے کردیا جس پر اہل علاقہ نے پولیس کو خراج تحسین پیش کیا اور پولیس کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا جس پر ڈی پی او قصور عمران کشور نے او ڈی ایس پی سٹی محمد یعقوب اعوان نے ایس ایچ او افتخاراحمد جوئیہ اور ان کی ٹیم کو شاباش دی

  • ضمانت کینسل ہونے پر ملزمہ کمرہ عدالت سے فرار

    ضمانت کینسل ہونے پر ملزمہ کمرہ عدالت سے فرار

    قصور
    پانچ ماہ قبل ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور سے بچہ اغواء کرنے والی خاتون ضمانت کینسل ہونے پر کل کمرہ عدالت سے بھاگ گئی
    تفصیلات کے مطابق 30 اگست 2020 کو ملزمہ شاہدہ بی بی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور سے عبدالرحمن کا ایک دن کا نومود بچہ اغواء کیا تھا جس پر اس نے گرفتار ہونے سے ابتک پانچویں مرتبہ عبوری ضمانت کروا رکھی تھی جس کی
    کل جج عمران شیخ صاحب کی عدالت میں پیشی تھی جج نے کل اس کی ضمانت کینسل کرکے جیل بیجھنے کے احکامات جاری کئے مگر مکار عورت کمال ہوشیاری سے کمرہ عدالت سے بھاگ گئی
    کل شام نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بچے کے والدین نے کہا کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا قصور پولیس جلد سے جلد ملزمہ کو گرفتار کرے نیز ڈی ایس پی انویسٹیگیشن و ایس پی انویسٹیگیشن قصور نے بھی شاہدہ بی بی کو مجرم ٹھہرایا ہے کیس کی پیروی کرنے والے وکیل میاں محمد اسلم ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے نمائندہ باغی ٹی وی کو بتایا کہ کیس پولیس کی طرف سے خراب کیا گیا ہے اس ملزمہ پر 364 اے اور 780 اے لگنی تھی جو کہ نان بیل ایبل ہے تاہم پولیس نے کیس خراب کرنے کیلئے ملزمہ پر دفعہ 363 لگائی ہے جس کی باعث عدالت اسے عبوری ضمانت دیتی رہی ہے نیز ان کا کہنا ہے کہ یہ عورت ضلعی جھنگ کی رہائشی ہے مگر اس وقت گاؤں دفتوہ قصور میں رہائش پذیر ہے اس پر پہلے بھی 7 نومبر 2019 کو ایسا ہی ایک بچہ اغواء کرنے کا مقدمہ ہے
    بچے کے والدین و اہل علاقہ نے ڈی پی او قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہدہ بی بی کو جلد سے گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے

  • بچے کیساتھ زیادتی کرنیوالادرندہ صفت شخص مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ بعد بھی گرفتار نہ ہوسکا۔ متاثرین کی دہائی

    بچے کیساتھ زیادتی کرنیوالادرندہ صفت شخص مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ بعد بھی گرفتار نہ ہوسکا۔ متاثرین کی دہائی

    اوکاڑہ(علی حسین) معصوم بچے کیساتھ زیادتی کرنیوالادرندہ صفت شخص مقدمہ درج ہونیکے تین ماہ بعد بھی گرفتار نہ ہوسکا۔ بچے کے والدین سراپا احتجاج ۔ تفصیلات کے مطابق صدر گوگیرہ بستی مصطفیٰ آباد کے رہائشی مبارک علی کا9 سالہ بیٹا محمد حسنین رمضان المبارک میں مورخہ 1 جولائی2020روزے کی حالت میں قریبی مسجد میں نماز ادا کرنے کرنے جارہا تھا ۔ راستے میں مٹھو ولد یعقوب سکنہ بستی مصطفیٰ آباد نے محمد حسنین کو زبردستی پکڑ لیا اور ایک ویران کمرے میں لے گیا جہاں اس نے نو سالہ محمد حسنین کیساتھ نازیبا حرکات و سکنات شروع کردیں اور حرامکاری کی کوشش کرنے لگا۔ بچے کے مزاحمت کرنے پر اسکو مارنے پیٹنے لگا۔ جس کی وجہ سے بچہ زخمی ہوگیا۔ اطلاع ملنے پر بچے کے ورثاء جب جائے واقعہ پر پہنچے تو مٹھو ولد محمد یعقوب کو بچے کیساتھ زیادتی کرتے پایا۔ ملزم سنگین نتائج کی دھکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگیا۔ پولیس نے بچے کے والد مبارک علی کی مدعیت میں تھانہ گوگیرہ میں ملزم مٹھو کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ کو درج ہوئے تین ماہ بیت چکے ہیں لیکن مقامی پولیس نے اب تک ملزم مٹھو کو گرفتار نہیں کیا۔ بچے کے والدین کے بقول ملزم مٹھو علاقہ میں موجود ہے جبکہ پولیس اسکو گرفتار کرنے سے قاصر ہے۔ بچے کے والدین نے ڈی پی او اوکاڑہ ، آر پی او ساہیوال ، انسپکٹر جنرل لاہور اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی درخواستیں دی ہیں لیکن کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ بچے کے والدین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو فی الفور گرفتار کرکے قانونی کاروائی کی جائے۔

  • تھانہ اے ڈویژن سب آفس مقرر

    تھانہ اے ڈویژن سب آفس مقرر

    قصور
    8 سالہ معصوم بچے کے قاتل کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائیگا
    سفاک ملزم کی گرفتاری تک تھانہ اے ڈویژن کو سب آفس قرار دے دیا گیا ہے جہاں پر پولیس ٹیموں کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جائے گا
    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور نے بتایا کہ تھانہ اے ڈویژن کے علاقہ نفیس کالونی میں 8 سالہ معصوم بچے کے افسوسناک واقعہ کی اطلاع پاکر آر پی او شیخوپورہ ریجن اوربمیں فوری موقع پر پہنچے اور پنجاب فرانزک لیب اور کرائم سین یونٹ کی ٹیموں کو طلب کیا گیا جنہوں نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے اور 8 سالہ معصوم محمد بوٹا کی نعش پوسٹمارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کی گئی تاہم پوسٹمارٹم رپورٹ میں بدفعلی کا عنصر نہیں پایا گیا ڈی پی او قصور کے مطابق سفاک ملزم کی گرفتاری کیلئے پیشہ ور پولیس افسران پر مشتمل 5 سپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں۔جیوفینسنگ، سی ڈر آر انالسز، سی سی ٹی وی کیمروں اور ہیومن انٹیلی جنس جیسے جدید اور سائنسی طریقوں کو اپنایا جا رہا ہے۔سفاک ملزم کی گرفتاری تک تھانہ اے ڈویژن کو سب آفس قرار دے دیا گیا ہے جہاں پر پولیس ٹیموں کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جائے گا۔انشاء اللہ بہت جلد سفاک ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا

  • سات سالہ بچے سے زیادتی کی کوشش، قصور میں ایک اور واقعہ پیش آگیا

    سات سالہ بچے سے زیادتی کی کوشش، قصور میں ایک اور واقعہ پیش آگیا

    قصور
    الہ آباد میں سات سالہ بچے سے بدفعلی کی کوشش ملزم فرار مقدمہ درج
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد میں سات سالہ بچے سے زیادتی کی کوشش کرنے والا ملزم فرار ہقگیا
    جبکہ پولیس نے مقدمہ درج تفتیش شروع کر دی الہ آباد کے نواحی گاؤں سریسر ہٹھاڑ کے رہائشی شبیر احمد نے الہ آباد پولیس کو درخواست دی کہ ملزم غفار نے میرے سات سالہ بیٹے کو دوپہر تین بجے کے قریب ورغلا کر اپنے قریبی خالی مکان میں لے گیا اور لڑکے کی شلوار اتار کر فحش حرکات کرتا رہا اور زیادتی کی کوشش کی الہ آباد پولیس نے مقدمہ نمبری 452/20 درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے تاہم ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے پولیس نے ملزم کے بھائی کو حراست میں لے لیا ہے

  • اوکاڑہ حویلی لکھا میں گٹر میں گر کر مرنے والے بچے کی لاش تاحال نہ نکل سکی

    اوکاڑہ(علی حسین مرزا) حویلی لکھا میں چھ روز قبل گٹر میں گرنے والا 10 سالہ بچے حسین کی لاش تاحال نہ مل سکی۔لواحقین کے مطابق انتظامیہ کی طرف سے احتجاج کرنے پر دباو ڈالا جارہا ہے۔

  • اڑھائی سالہ بچے پر کتے کا حملہ

    اڑھائی سالہ بچے پر کتے کا حملہ

    قصور
    الہ آباد میں آوارہ کتوں کی بھرمار اڑھائی سال کے بچے کو منہ اور ہاتھ پر کاٹ کر لہو لہان کر دیا ہسپتال میں ویکسین موجود نہیں ڈیوٹی ڈاکٹر نے بچے کو چیک کرنا بھی گوارا نا کیا تفصیلات کے مطابق الہ آباد میں آوارہ کتوں کی بھر مار نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے گزشتہ روز بھی بچوں کو کاٹنے کے تین کیس سامنے آئے ہیں مولا پور روڑ کے رہائشی اڑھائی سالہ اذان گھر کے باہر کھیل رہا تھا کہ آوارہ کتے نے منہ اور ہاتھ بری طرح نوچ ڈالا جسے فوری طور پر آر ایچ سی الہ آباد میں لیجایا گیا یہاں ڈاکٹرز نے چیک کرنا بھی گوارہ نہ کیا اور ویکسین نا ہونے کا کہہ کر چونیاں ریفر کر دیا والدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی سی قصور اور دیگر باعلی حکام سے فوری ویکسین کی دستیابی اور آر ایچ سی الہ آباد میں تعینات بدتمیز عملے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    شکارپور کے گاؤں داؤد ابڑو کے رہائشی محنت کش صفدر ابڑو کا 10 سالہ بیٹا میر حسن ویکسین نہ ملنے پر کمشنر آفیس کے سامنے فرش پر تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہار گیا۔بچے کی موت پر غم سے نڈھال والد کا کہنا تھا کہ بچے کو شکارپور، سلطان کوٹ اور دیگر مقامات پر لے کر گئے لیکن داد رسی نہ ہو سکی۔ دوسری جانب اے آر وی سینٹر کے انچارج ڈاکٹر نور الدین قاضی کا کہنا تھا کہ شکارپور، جیکب آباد سمیت ڈویژن بھر میں ویکسین کی کمی ہے، ویکسین نہ ملنے سے مرض بگڑ چکا تھا اس نے اب دو دن ہی زندہ رہنا تھا کیوں کہ اس کا اثر10 سالہ میر حسن کے دماغ پر ہو چکا تھا۔

    ویسے تو دس سالہ میر حسن نے تو بڑے ہو کر بھی مر ہی جانا تھا . اسی لیے گزشتہ روز بلاول کو پریس کانفرنس میں خورشید شاہ کا رونا تو یاد رہا ۔ جمہوریت میں خطرے پڑ چکی ہے یہ بتانا تو یاد رہا ۔ مگر وہ یہ ضرور بھول گئے کہ ان کی اس لولی لنگڑی ، کرپٹ اور نکمی حکومت کی بدولت میر حسن جیسے بچوں کی زندگیا ں داو پر لگی ہوئی ہیں ۔ بلاول ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ سندھ میں ان کی بادشاہت دہائیوں سے چلتی آرہی اور اسی حکومت کی بدولت عوام کی زندگیاں خطرے میں ہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    لوگ کہتے ہیں کہ کیسا صوبہ اور کیسی حکومت ہے جہاں لوگ اس لئے مر جاتے ہیں کہ کتا کاٹ لے تو ہسپتالوں میں ویکسین نہیں ملتی۔ مگر لوگوں کو کیا پتہ جمہوریت کیا ہوتی ہے ۔ جمہوریت کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے خون دینا پڑتا ہے ۔کل کو جب بلاول اس ملک کے وزیر اعظم بنیں گے تب عوام کو پتہ چلے گا کہ جمہوریت بہترین انتقام کیوں ہے ۔ سندھ میں لبرل سیکولر ترقی پسند پروگریسو پیپلزپارٹی کی دہاییوں سے حکومت ہے۔ مگر سندھ اور سندھیوں کے حالات زندگی بدلنے میں پیپلز پارٹی بری طرح ناکام رہی ہے ۔ مگر تمام جیالے لیڈروں نے اپنی قسمت ضرور بدل لی ہے ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس کی دبئی میں پراپرٹی نہ ہو ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس پر کرپشن کا الزام نہ ہو ۔ معذرت کے ساتھ جس طرح پیپلز پارٹی نے بھٹو کا نام زندہ رکھا ہوا ہے اس سے تو بہتر تھا بھٹو پیدا ہوتے ساتھ ہی مر جاتا ۔ کیونکہ تھر میں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں ۔ مگر بھٹو زندہ رہتا ہے ۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    سندھ چاہے ایڈز زدہ ہو جائے مگر بھٹو اور بھٹو خاندان کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے ۔ کیونکہ جمہوریت کے لیے بھٹو خاندان نے قربانیاں دیں ہیں ۔ یہ صرف ان کا ہی حق ہے کہ سندھ پر وہ حکومت کریں ۔ چاہیے سندھی سسک سسک کر مرجائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اس ملک کو فیصلہ کرنا ہوگا ۔ کب تک بھٹو ، شریف ، زرداری ، فضل الرحمان ، اچکزئی ، باچا خان ، ان جاگیرداروں اور وڈیروں کی اولادوں کی غلامیاں کرتے رہیں گے ۔ ان غلامی کی زنجیروں کو توڑیں اور ان خاندانوں اور لیڈروں کو نشان عبرت بنا دیں ۔ سندھیوں اور اس ملک کی غریب عوام کے پاس اب صرف کھونے کے لیے غلامی کی زنجیریں باقی رہ گئیں ہیں ۔ یہ غلامی کی زنجیریں توڑیں ۔ اور اس اشرفیہ کو غارت کردیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں